Ishq Ka Qaaf Novel By Sarfaraz Ahmad Rahi – Episode 15

0
عشق کا قاف از سرفراز احمد راہی – قسط نمبر 15

–**–**–

“ارے بابا آپ۔۔۔ “
اسے جیسے یقین نہ آ رہا تھا۔ نظر طاہر پر پڑی تو وہ اور کھل گیا۔
” آئیے ناں بابا۔ آئیے۔ آپ بھی آئیے جی۔ باہر کیوں کھڑے ہیں۔ “
وہ انہیں راستہ دیتا ہوا ایک طرف ہٹ گیا۔
درویش اور طاہر آگے پیچھے اندر داخل ہوئے۔ کھلی کھڑکی سے آتی سورج کی روشنی سے منور کمرہ جیسے ان کے استقبال کے لئے مسکرا رہا تھا۔
“سلام بابا۔ “
چٹائی پر بیٹھی سکینہ اٹھ کھڑی ہوئی اور درویش کے آگے سر جھکا دیا۔
“کیسی ہے تو اللہ والیے؟”
درویش نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
“نہال ہوں بابا۔ سُکھ میں ہوں۔ “
وہ ہنس کر بولی۔
“سُکھی رہے گی تو۔ میرے رب کے حکم سے۔ “
وہ پیار سے بولا۔
“لگتا ہے تم لوگ کھانا پینا کر رہے تھے۔ “
درویش نے چٹائی پر برتن پڑے دیکھ کر کہا۔
“ہاں بابا۔ ناشتہ کر رہے تھے۔ آپ بیٹھئے ناں۔ میں آپ کے لئے بھی ناشتہ بناتی ہوں۔ “
اس نے اب تک ایک بار بھی طاہر کی جانب نہ دیکھا تھا۔
“بیٹھتے ہیں۔ بیٹھتے ہیں۔ “
درویش نے چپل اتار دی اور طاہر اس کی تقلید میں چٹائی پر دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ وہ سکینہ کو اچھی طرح دیکھ چکا تھا۔ سہاگ کی چادر سے خود کو ڈھکے، وہ اسے کوئی ایسا محل نظر آ رہی تھی جس میں غلیظ ہوا کے کسی جھونکے کے داخلے کے لئے کوئی روزن موجود نہ ہو۔ حافظ عبداللہ بھی دروازہ بھیڑ کر ان کے پاس آ بیٹھا۔
“لے بھئی پگلے۔ یہ ہے حافظ عبداللہ۔ اس کی کہانی تو
تجھے ہم بعد میں سنائیں گے پہلے اپنی بیٹی سے یہ کہہ دیں کہ ہمارے لئے صرف چائے بنائے۔ “
” اچھا بابا۔ “
سکینہ مسکرا کر دوسرے کمرے میں چلی گئی۔
حافظ عبداللہ نے کھانے کے برتنوں پر رومال دے کر انہیں ایک طرف سرکا دیا۔ درویش نے اس کے ہاتھ پر نظر ڈالی۔
“کیا حال ہے حافظ اس نشانی کا؟”
“بس۔ ٹھیک ہو گیا ہے بابا۔ اب اس سے تھوڑا بہت کام لینے لگ گیا ہوں۔ “
حافظ عبداللہ نے اپنے چُرمرائے ہوئے ہاتھ کو دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
“جانتا ہے، اس ہاتھ کے ساتھ کیا کیا میرے اوپر والے نے؟”
درویش نے اچانک طاہر کا رخ کر لیا۔
“کیا بابا؟”
حافظ عبداللہ کے ہاتھ کو دیکھتا ہوا طاہر ہمہ تن گوش ہو گیا۔
اور حافظ عبداللہ کا سر جھک گیا۔
درویش نے کہنا شروع کیا تو طاہر کے اندر روزن کھلتے چلے گئے۔ روشنی اور رنگوں کے فوارے چھوٹنے لگی۔ اس کی حیرت فزا آنکھیں حافظ عبداللہ کے چہرے کا طواف کرتی رہیں جہاں سوائے حیا کے کچھ نہ تھا۔ شاید وہ داستان میں اپنی تعریف پر خود کو شرمندہ شرمندہ محسوس کر رہا تھا۔
“یوں میری پگلی نے اس سیانے کو اپنے پلو سے باندھ لیا۔ اس کا یہ ہاتھ، جو بظاہر دیکھنے میں لنجا لولا لگتا ہے، میرے رب کی مہر کی وہ نشانی ہے، جس کے آگے دنیا کی ساری خوبصورتیاں ہیچ ہیں۔ کیوں پگلے، ٹھیک کہا ناں میں نے؟”
درویش نے اسے چمکتی آنکھوں سے دیکھا۔
“ہاں بابا۔ “
طاہر کے حلق سے بڑی چھلکتی ہوئی آواز نکلی۔
“ایسے ہاتھ نصیبوں والوں کے ہوتے ہیں۔ “
“ہاں۔ “
درویش بچوں کی طرح خوش ہو کر بولا۔
“یہی تو میں کہتا ہوں۔ ایسے ہاتھ نصیبوں والے کے ہوتے ہیں جنہیں کوئی دم دم بوسے دیتا رہے۔ چومتا رہے۔ “
“بابا۔ “
حافظ عبداللہ نے آبدیدہ ہو کر سر جھکا لیا۔
” سکینہ تینوں وقت مجھے اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاتی ہے۔ ہر نماز کے لئے وضو کراتی ہے۔ میرے اس ناکارہ ہاتھ کو سو سو بوسے دیتی ہے۔ مجھے ہر وہ کام کرنے سے روک دیتی ہے جو مجھے اس ہاتھ سے کرنا ہوتا ہے۔ وہ میرا دایاں ہاتھ بن گئی ہے بابا۔ “
حافظ عبداللہ کی آواز بھرا گئی۔
“وہ بھی تو اپنے اس بندے کا ہاتھ بن جاتا ہے۔ زبان بن جاتا ہے۔ کان بن جاتا ہے۔ آنکھ بن جاتا ہے جو اس کے لئے اپنا آپ تیاگ دیتا ہے۔ عاجز ہو جاتا ہے۔ عبودیت کی سیڑھی پر پاؤں رکھ دیتا ہے۔ عشق کے عین کے رستے پر چل پڑتا ہے۔ “
درویش نے وجد میں آ کر کہا۔
“کیا میں غلط کرتی ہوں بابا؟”
اسی وقت سکینہ چائے کے تین پیالے پلاسٹک کے پھولدار ٹرے میں رکھے آ گئی اور ٹرے ان کے سامنے چٹائی پر رکھ دی۔
درویش نے طاہر کی جانب نظر کی، جو حیران حیران سا ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں دیے سے جل رہے تھے۔ لو دے رہی تھیں اس کی آنکھیں۔
” کیا مجھے عبادت نہیں کرنی چاہئے ؟”
“کرنی چاہئے میری پگلی بیٹی۔ کرنی چاہئے۔ “
درویش کا حلق آنسوؤں سے بھرا ہوا تھا۔
” یہ اگر کبھی تجھے روکے ناں۔ تو اس کی بات کبھی نہ ماننا۔ اپنی سی کرتی رہنا۔ یہ سیانا ہے۔ کبھی اسے خیال آ گیا ناں کہ تیری نیکیاں بڑھتی جا رہی ہیں ، تیری عبادت پہ رنگ آ رہا ہے تو شاید رشک کے مارے تجھے روکنا چاہے مگر اس وقت اس کی نہ ماننا۔
اپنے اللہ کی کہی کرنا۔ وہ کہتا ہے ناں کہ جس کا مالک اس سے راضی، وہ بھی اس سے راضی۔ تو اپنے دونوں مالکوں کو راضی کرتی رہنا۔ ایک کی خدمت اور دوسرے کی عبادت میں بڑا گہرا تعلق ہے پگلی۔ تو نے یہ جان لیا ہے۔ بس اس بھید کا دامن نہ چھوڑنا۔ مضبوطی سے پکڑ ے رکھنا اسے۔ “
“جی بابا۔ “
“کیوں پگلے۔ عشق کے عین کی حقیقت پلے پڑی؟” درویش نے چائے کا پیالہ اس کے آگے سرکایا۔
“ہاں بابا۔”
وہ جلتی ہوئی آواز میں بولا۔
“تو پھر اس کی خدمت کو قبول کر کے بھی کیوں انجان بنا رہتا ہے؟ کیوں اس کی عبادت کو صبر کے کانٹوں پر ڈال دیتا ہے؟ وہ جو تیرا ماتھا چوم کر کمرے سے نکل جاتی ہے، اسے آنسوؤں سے وضو کرا کے تیرے من کو سکون ملتا ہے کیا؟”
“نہیں بابا نہیں۔ “
وہ جلدی سے بول اٹھا۔
“بس۔ اندر ایک پھانس سی چبھ گئی ہے۔ وہ نہیں نکلتی۔ “
وہ بے بسی سے بے حال ہو گیا۔
“نکل جائے گی۔ نکل جائے گی۔ “
درویش نے اس کے کندھے پر ہاتھ پھیرا۔
“ابھی یہ تبرک حلق سے اتار۔ “
بڑے ضبط سے کام لیتے ہوئے طاہر نے آنکھوں کو چھلکنے سے روکا۔ پھر آستین سے چہرہ صاف کیا اور چائے کا پیالہ اٹھا لیا۔ حافظ عبداللہ اور سکینہ بھی چٹائی کے ایک کونے پر بیٹھ گئے۔
“سکینہ بیٹی۔ ایک بات تو بتا۔ “
درویش نے طاہر کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“جی بابا۔ ” اس نے پلکیں اٹھائیں۔
“تو نے میرے ساتھ آئے اس مشٹنڈے سے پردہ کیوں نہیں کیا؟”
درویش کا اشارہ طاہر کی طرف تھا۔
“میں نے انہیں دیکھا ہی نہیں بابا۔ “
وہ سادگی سے بولی۔
” اور جو نظر ہی نہ آئے اس سے پردہ کیسا؟”
“اللہ۔۔۔۔ “
درویش نے بے اختیار ایک فلک شگاف نعرہ لگایا اور یوں جھومنے لگا جیسے اس پر جذب طاری ہو گیا ہو۔ “ٹھیک کہتی ہے پگلی۔ جو دکھائی نہ دے اس سے پردہ کیسا؟ وہ بھی تو دکھائی نہیں دیتا۔ اسی لئے تو اس سے بھی پردہ نہیں کیا جاتا۔ اس سے پردہ کیسا؟ اس سے پردہ کیسا؟”
وہ بڑبڑائے جا رہا تھا۔
“چل پگلے۔ آ جا۔ چلیں۔ “
ایک دم درویش اٹھ کھڑا ہوا۔
” یہ تو بہت آگے چلی گئی۔ اسے تو حافظ کے سوا کوئی دکھائی ہی نہیں دیتا۔ آ جا۔ چلیں۔ اس نے عبادت کی منزل کو چھو لیا ہے۔ عشق کا عین اس پر کھل گیا ہے بابا۔ عین کا در اس پر وَا ہو گیا ہے۔ ” درویش کہتا ہوا کمرے سے نکل گیا۔
طاہر اس کے پیچھے لپکا۔ درویش بڑبڑاتا ہوا مسجد سے باہر نکل چکا تھا۔ طاہر نے پلٹ کر دیکھا۔ حافظ عبداللہ اور سکینہ اپنے کمرے کے دروازے میں کھڑے اسی کی جانب دیکھ رہے تھے۔ اس کی نظریں حافظ عبداللہ سے ملیں تو دونوں بے اختیار مسکرا دئیے۔
لرزتا ہوا نچلا ہونٹ دانتوں میں داب کر اس نے حافظ عبداللہ کی جانب ہاتھ ہلایا۔ جواب میں اس نے بھی اپنے جلے ہوئے ہاتھ سے اس کی جانب اشارہ کیا تو وہ جلدی سے مسجد کا دروازہ پار کر گیا۔ آنکھوں میں چھا جانے والی دھند کے پار دیکھا تو درویش اس سے کتنی ہی دور بھاگتا ہوا گلی کا موڑ مڑ رہا تھا۔
طاہر نے خود کو تیز قدموں سے اس کی آواز کے تعاقب میں ڈال دیا، جو ہوا کے دوش پر لہرا لہرا کر رقص کر رہی تھی۔
“اس سے پردہ کیسا؟
اس سے پردہ کیسا؟
اس سے پردہ کیسا؟”
طاہر اسے ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گیا مگر درویش کو زمین نگل گئی تھی یا آسمان، اس کا پتہ نہ چلا۔ وہ پاگلوں کی طرح اسے تلاش کرتا ہوا بابا شاہ مقیم کے مزار پر آیا۔ درویش وہاں بھی نہیں تھا۔ طاہر کا حال عجیب ہو رہا تھا۔ اس کا دل اس کے قابو میں نہ تھا۔
جی چاہتا تھا وہ کپڑے پھاڑ کر جنگلوں میں نکل جائے۔ اس کا رنگ ایک دم سرخ ہو گیا۔ لگتا تھا ابھی رگیں پھٹ جائیں گی اور خون ابل پڑے گا۔ سینے میں ایک الاؤ سا دہکنے لگا تھا جس کی لپٹیں اسے جھلسائے دے رہی تھیں۔ سکون کس چڑیا کا نام ہے؟
وہ بھول گیا تھا۔ قرار کسے کہتے ہیں ؟ اسے یاد نہ تھا۔ بے کلی تھی کہ اسے آگ کے پالنے میں جھُلا رہی تھی۔
“بابا۔۔۔۔ “
اس نے بے بس ہو کر پورے زور سے صدا دی اور چررر چررر کی آواز کے ساتھ اس کا گریبان لیر لیر ہو گیا۔ چیتھڑے اڑ گئے۔ اس نے اپنے بال نوچ لئے۔ گھٹنوں کے بل وہ کچی زمین پر گرا اور دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر ہچکیاں لینے لگا۔
وہ دیوانوں کی طرح رو رہا تھا۔ آہیں بھر رہا تھا۔ اس کی سسکیوں میں کوئی فریاد بار بار سر اٹھاتی اور دم توڑ دیتی۔ وہ کیا کہہ رہا تھا؟ کس سے کہہ رہا تھا؟ کون جانے۔ ہاں ، ایک بابا شاہ مقیم کا مزار تھا جو روشن دھوپ میں سر اٹھائے اسے بڑے غور سے دیکھ رہا تھا۔ اس کی اس حالت کا گواہ ہو رہا تھا۔
دوپہر سے شام ہوئی اور شام سے رات۔ درویش نے آنا تھا نہ آیا۔
وہ کسی بے آسرا، بے سہارا، بے زبان کی طرح اپنی گاڑی سے ٹیک لگائے خاک کے فرش پر سر جھکائے بیٹھا رہا۔ اس کا ذہن سفید لٹھے کی طرح کورا ہو چکا تھا۔ کوئی سوچ، کوئی خیال، کوئی شبیہ اس پر ابھر ہی نہ پا رہی تھی۔ بالکل خالی الذہنی کے عالم میں وہ وہاں یوں بیٹھا تھا جیسے دنیا اور دنیا والوں سے اس کا تعلق ٹوٹ چکا ہو۔
گھٹنے کھڑے کئے، ان کے گرد دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے سے تھامے، سر جھکائے، آنکھیں بند کئے وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر بیٹھا تھا کہ ایک آہٹ نے اسے اپنا سُتا ہوا چہرہ اٹھانے پر مجبور کر دیا۔
آہستہ سے اس نے سر گھمایا۔ دائیں دیکھا۔ کچھ نہ تھا۔ بائیں دیکھا۔
خاموشی مہر بہ لب تھی۔ مگر یہ اس کا وہم نہیں تھا۔ اس نے کسی کے تیز تیز قدموں سے پتوں اور گھاس پر چلنے کی آواز سنی تھی۔ اسی وقت وہ آواز پھر ابھری۔ اب اس کے ساتھ کسی کی صدا بھی ابھری۔
وہ تڑپ کر کھڑا ہو گیا۔ اس آواز کو تو وہ لاکھوں میں پہچان سکتا تھا۔
“اس سے کیسا پردہ؟”
درویش کی آواز اب کے صاف سنائی دی۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا اور اسے آواز کی سمت کا اندازہ ہو گیا۔ بابا شاہ مقیم کے مزار کے عقب میں ایک چھوٹا سا قبرستان تھا، آواز اسی طرف سے آ رہی تھی۔ وہ دیوانہ وار اس طرف بھاگا۔
درویش قبرستان میں تیز تیز قدموں سے ٹہل رہا تھا۔ اسے کوئی ہوش نہ تھا کہ اس کے پاؤں تلے آنے والے کانٹے اسے زخم زخم کئے دے رہے ہیں۔ اس کے کپڑے تار تار ہو چکے تھے۔ بالوں میں خاک اور جسم پر مٹی نے تہہ جما دی تھی۔
وہ جذب کے عالم میں قبرستان کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک ہر شے سے بیگانہ ٹہل رہا تھا۔ کبھی کبھی آسمان کی طرف دیکھ لیتا۔ پھر اس کے ٹہلنے میں اور شدت آ جاتی۔ ہونٹوں پر ایک ہی فقرہ تھا جو کبھی نعرہ بن جاتا اور کبھی سرگوشی۔
“اس سے پردہ کیسا؟ اس سے پردہ کیسا؟ اس سے پردہ کیسا؟”
طاہر گرتا پڑتا اس کے قریب پہنچا اور پھر ایک بار جب وہ پلٹ کر قبروں کے درمیان سے دوسری جانب جانے کو تھا کہ وہ اس کے قدموں سے جا لپٹا۔
“بابا۔ “
“ارے۔۔۔ ” ایک دم درویش کی زبان تھم گئی۔
” پگلے۔ تو ابھی یہیں ہے؟”
وہ اسے حیرت سے دیکھ رہا تھا۔
“بابا۔ “
طاہر نے اس کے ہاتھ تھام کر اپنا ماتھا ان پر ٹکا دیا۔
“میں کہاں جاؤں اب؟”
اس کا بھیگا ہوا لہجہ تھکان سے لبریز تھا۔
“کہاں جاؤں سے کیا مطلب؟”
سسکتے ہوئے طاہر پر درویش کی نظریں جم سی گئیں۔
“ارے۔ واپس جا۔ “
“واپس کہاں بابا؟”
طاہر نے برستی ہوئی آنکھیں درویش کی جانب اٹھائیں۔ چٹکی ہوئی چاندنی میں وہ دونوں قبرستان کے خاموش ماحول میں دو روحوں کی طرح ہمکلام نظر آ رہے تھے۔
“مجھے تو کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا۔ کوئی راستہ سامنے نہیں ہے جس پر چل کر میں جہاں سے آیا تھا وہاں لوٹ کر جا سکوں۔ “
“پگلا ہوتا جا رہا ہے تو واقعی۔ “
درویش نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں۔
“اور یہ تو نے اپنا حال کیا بنا لیا ہے؟”
“پتہ نہیں بابا۔ مجھے کچھ پتہ نہیں کہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ کیا ہونے والا ہے؟”
“چل۔ ادھر چلتے ہیں۔ یہ تیری جگہ نہیں ہے۔ چل۔ ” درویش نے اس کے ہاتھوں سے اپنے ہاتھ نکالے۔ اسے اٹھایا اور دونوں ایک دوسرے کے سہارے کمرے میں چلے آئے۔ وہاں تک آتے آتے طاہر کی حالت کافی سنبھل گئی۔ طبیعت میں ٹھہراؤ سا آ گیا اور الاؤ کی دہک میں کمی بھی۔
کمرے میں داخل ہو کر چٹائی پر بیٹھتے ہی ایک دم طاہر گھبرا گیا۔ اس کی نظر درویش کے پیروں پر پڑی جو لہو لہان ہو رہے تھے۔ کانٹوں نے اس کی پنڈلیوں تک کو خون میں نہلا رکھا تھا۔ خون اور مٹی میں لتھڑے اس کے پاؤں دیکھ کر وہ تھرا گیا۔
“بابا۔ آپ تو زخمی ہیں۔ “
اس نے بے اختیار اس کے پاؤں چھو لئے۔
“اچھا۔ “
درویش نے حیرت سے اپنے پیروں کی جانب دیکھا۔
“یہ کیسے ہو گیا؟”
” آپ یہیں بیٹھئے۔ میں پانی لاتا ہوں انہیں دھونے کے لئے۔ “
طاہر اٹھا اور درویش کے روکتے روکتے کمرے سے نکل گیا۔ دوسرے کمرے میں بھی کچھ نہ ملا تو وہ مزار کے صحن میں چلا آیا۔ دروازے کے پاس ہی ایک میلا سا سٹیل کا جگ پڑا تھا۔ اس نے اس میں ہینڈ پمپ سے پانی نکالا اور واپس لوٹ آیا۔
درویش سرہانے بانہہ دھرے چٹائی پر آنکھیں بند کئے لیٹا تھا۔ طاہر نے اپنے پھٹے کرتے کے دامن سے ایک ٹکڑا پھاڑا اور درویش کے پاس بیٹھ گیا۔ کپڑے کو جگ کے پانی میں بھگو بھگو کر وہ درویش کے زخم صاف کرنے لگا اور بڑی نرمی سے تلووں سے کانٹے نکالنے لگا۔
درویش یوں بے حس و حرکت پڑا تھا جیسے بڑے آرام سے سو رہا ہو۔ طاہر اس کے کانٹے نکالتا رہا۔ خون اور مٹی صاف کرتا رہا۔ زخم برہنہ ہوتے چلے گئی۔ جگہ جگہ سے گوشت اڑ گیا تھا۔ اذیت کا احساس ہوا تو طاہر کا دل بھر آیا۔
“پگلے۔ ” اچانک درویش نے آنکھیں کھول دیں۔
” رات بہت جا چکی۔ اب گھر جا۔ “
“نہیں بابا۔ “
طاہر نے نفی میں سر ہلایا اور اس کے پیروں میں بیٹھ گیا۔
” اب کسی گھر کی یاد دل میں باقی رہی ہے نہ کہیں جانے کو جی چاہتا ہے۔ مجھے یہیں اپنے قدموں میں پڑا رہنے دیں۔ “
“نہیں رے۔ ” درویش نے پاؤں سمیٹ لئے اور اٹھ بیٹھا۔
“تو اکیلا نہیں ہے۔ کوئی اور بھی بندھا ہے تیرے نام سے۔ اس کا حق مارے گا تو وہ ناراض ہو جائے گا۔ ” درویش نے اوپر کی جانب دیکھا۔
“میں اسے آزاد۔۔۔ “
“بس۔ “
درویش نے سختی سے اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا۔
“ایک لفظ اور نکالا تو راندہ درگاہ ہو جائے گا۔ “
وہ بھڑک اٹھا۔
” اپنی مستی کے لئے اسے خود سے الگ کرنا چاہتا ہے۔ پگلے۔ اس کی تو اجازت ہی نہیں ہے۔ “
“تو پھر میں کیا کروں بابا؟”
وہ بے بسی سے نم دیدہ ہو گیا۔
” میں کیا کروں ؟ ایک پھانس ہے جو اس دل میں اٹک گئی ہے۔ نکلتی ہی نہیں۔ “
“نکالنا ہی پڑے گی۔ ” درویش آنکھیں موند کر بڑبڑایا۔ “تو نے ہمارے کانٹے نکالے ہیں۔ اب تیری پھانس بھی نکل ہی جانی چاہئے۔ “
اس نے جھٹکے سے آنکھیں کھول دیں۔
“ادھر دیکھ۔ ” وہ تحکم سے بولا۔
بے اختیار طاہر کی نظریں اٹھیں اور درویش کی نظروں میں مدغم ہو گئیں۔
“یہ جو تیرے اندر پھانس اٹکی ہوئی ہے ناں۔ یہ پھانس نہیں ہے، عشق کا دوسرا حرف ہے۔ شین۔ کیا سنا تو نے؟ عشق کا دوسرا حرف شین ہے یہ۔ جانتا ہے شین کس کی علامت ہے؟ مگر نہیں تو کیسے جانے گا؟ تو تو بس اسے دل میں اتار کر بے خبر ہو گیا۔ یہ نہ سوچا کہ یہ حرف تیرے دل میں اترا کیسے؟ کیوں اترا؟”
طاہر بُت بنا درویش کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔ اس کے اندر ایک عجیب سی ہلچل مچی ہوئی تھی۔ عشق کے عین نے اس کا یہ حال کر دیا تھا جو اس کے ساتھ بیتا بھی نہ تھا۔ اور عشق کا شین اس کے ساتھ کیا کرنے والا تھا جو اس کے اندر پھانس بن کر اٹکا ہوا تھا۔ اس کے دل میں اندر تک اترا بیٹھا تھا۔
اس کا جی چاہا، درویش سے کہے۔
“بابا، رکو مت۔ بولتے رہو۔ بولتے رہو۔ “
اس کے بولنے میں سُکھ تھا۔ سکون تھا۔ ٹھہراؤ تھا۔ فیض تھا۔ ایسا فیض جو طاہر کی بے کلی کو تسلی کی چادر سے ڈھانپ لیتا تھا۔ تشفی کے دامن میں سمیٹ لیتا تھا۔
“شین۔۔۔ “
درویش نے آنکھیں بند کر لیں اور ایک سسکی لی۔
” عشق کے پہلے حرف عین سے عبادت۔ عجز میں ڈوبے عبد کی عبادت اور عقیدت ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں۔ عبادت، جیسی سکینہ کر رہی ہے۔ جیسی تیرے گھر میں ہو رہی ہے۔ جیسی تیرے شہر میں داغدار قمر کے دامن میں پھول کھلا رہی ہے۔ اور اب عشق کادوسرا حرف شین۔ “
درویش ایک لمحے کو رکا۔ پھر اس کی آواز ابھری تو نشے میں ڈوبی ہوئی تھی۔ خمار آلود، بھرائی ہوئی۔ طاہر اپنے آپ سے بے خبر ہوتا چلا گیا۔ اسے صرف درویش کی خوشبو سے بوجھل، تپش سے لبریز آواز سنائی دے رہی تھی۔ نہیں۔ سنائی نہیں دے رہی تھی۔ بے خودی کا شہد تھا جو قطرہ قطرہ اس کے کانوں میں ٹپک رہا تھا۔ اس کے دل پر شبنم بن کر اتر رہا تھا۔
“عشق حقیقی تک پہنچنے کے لئے عشق مجازی ضروری ہے۔ جیسے کسی چھت تک پہنچنے کے لئے سیڑھی کی ضرورت ہوتی ہے۔ چھت پر پہنچ کر سیڑھی سے الگ ہو جانا ایک قدرتی امر ہے۔ سیڑھی کے بغیر چھت پر پہنچنا غیر فطری ہے۔
ہاں جو پیدا ہی چھت پر ہوا ہو اس کے لئے سیڑھی کی ضرورت نہیں پڑتی مگر ہم عام اور بے حیثیت انسانوں کے لئے وسیلہ اور حیلہ دونوں ضروری ہیں۔ کبھی سیڑھی کا وسیلہ۔ کبھی کمند کا حیلہ۔
عشق مجازی کے لئے ضروری ہے کہ کوئی دل کے دروازے پر آ کر دستک دے۔ اس میں آ کر مکین ہو جائے۔ دل کو اپنی جاگیر سمجھ کر اس پر قابض ہو جائے۔ اس میں اپنی مرضی کی دھڑکنیں جگائے۔ کبھی اسے توڑے۔ کبھی اسے جوڑے۔
کبھی اچانک غائب ہو جائے اور رلا رلا کر دل والے کو عاجز کر دے۔ کبھی ایسا مہربان ہو کہ نہال کر دے۔ پھر ایک ایسا وقت آتا ہے جب دل میں ایسا گداز پیدا ہو جاتا ہے کہ دل والا بات بے بات آبگینے کی طرح پھوٹ پڑتا ہے۔ آنسو اس کی پلکوں کی نوکوں پر موتیوں کی طرح اٹکے رہتے ہیں۔
وہ غم ملے تو روتا ہے۔ خوشی پائے تو روتا ہے۔ سوئے تو روتا ہے۔ جاگے تو روتا ہے۔ سوچے تو روتا ہے۔ سمجھے تو روتا ہے۔ یہ رونا اس کا اوڑھنا بچھونا بن جاتا ہے۔ اس وقت۔۔۔ “
درویش نے دھیرے سے پلکیں وَا کیں۔ طاہرسر جھکائے، بے حس و حرکت بیٹھا، ہر شے سے بیگانہ اس کی بات سن رہا تھا۔ اس نے طاہر کے چہرے پر نگاہیں جما دیں اور پھر گویا ہوا۔
“اس وقت اس کے دل میں اس قدر نرمی پیدا ہو جاتی ہے کہ وہاں رحمان آن بسیرا کرتا ہے اور اگر ذرا سا۔۔۔ “
درویش نے انگلی کی پور کے کونے پر انگوٹھے کا ناخن رکھ کر کہا۔
“اتنا سا بھی شیطان کو موقع مل جائے تو وہ چھلانگ مار کر دل کے سنگھاسن پر آ بیٹھتا ہے۔ تب گداز پر غیریت کا پردہ پڑ جاتا ہے۔ رحمانیت رخصت ہو جاتی ہے اور شیطانیت لوریاں دینے لگتی ہے۔ دوئی لپک کر آتی ہے اور وحدانیت سے بیگانہ کر دیتی ہے۔
پھر انسان، انسان صرف اس حد تک رہ جاتا ہے کہ اس کے ہاتھ پیر انسانوں جیسے ہیں اور بس۔ اس کے اندر دہکتا عشق کا الاؤ ہوس کی آگ بن جاتا ہے۔ لوگ اس کے ہاتھ پیر چومنے لگتے ہیں۔ اسے سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں۔
جوانیاں اس کے انگ لگتی ہیں تو وہ اسے نفس پر غلبے کا نام دے کر خوش ہوتا ہے جبکہ حقیقت میں وہ خود شیطان کو خوش کر رہا ہوتا ہے۔ عشق کے نام پر بھڑکنے والے شعلے پر ہوس کے چھینٹے پھوار بن کر برسنے لگتے ہیں اور پھوار میں بھیگنے کا تو ایک اپنا ہی مزا ہوتا ہے ناں۔
یہ مزا انسان کو عشق کی کسک سے دور لے جاتا ہے۔ اس چبھن سے دور لے جاتا ہے جس کا نام مجاز ہے۔ وہ دھیرے دھیرے اس رنگ میں ایسا رنگا جاتا ہے کہ اس کا اپنا رنگ، عشق کا رنگ ناپید ہو جاتا ہے۔ ہوش اسے تب آتا ہے جب آخری لمحہ اس کے سامنے اس کا کچا چٹھا لئے آن کھڑا ہوتا ہے۔۔۔
مگر اس وقت اس کا ہوش میں آنا بیکار ہو جاتا ہے۔ عشق کے نام پر پھیلائی ہوئی بربادی اسے اپنے پیروں تلے روندتی ہوئی گزر جاتی ہے اور اس کا وجود تو مٹ جاتا ہے تاہم اس کا نام ابد الآباد تک عبرت بن کر رہ جاتا ہے۔۔۔ اور اگر۔۔۔ “
درویش نے آنکھیں بند کر لیں۔ اس کا لہجہ گمبھیر ہو تا چلا گیا۔ آواز میں ایک عجیب سی نرمی پر کھولنے لگی۔۔۔
” اگر یہ گداز رحمانیت کو چھو لے تو عشق مجازی کا ہاتھ عشق حقیقی کے ہاتھ میں دے دیتا ہے۔ دل، اس کا گھر بن جاتا ہے جو ہر کافر کے دل میں بھی کبھی نہ کبھی پھیرا ضرور ڈالتا ہے۔ پھر جسے وہ چُن لے، وہ کافر رہتا ہے نہ مشرک، بس اس کا بندہ بن جاتا ہے اور جس کا دل اسے پسند نہ آئے وہ اس کے آنے کو یوں بھول جاتا ہے جیسے جاگنے پر خواب یاد نہیں رہتا۔۔۔
عشقِ مجازی کی پہلی منزل عشق کے پہلے حرف عین سے شروع ہوتی ہے۔ عبادت جہاں پھل پانا شروع کرتی ہے، وہاں سے عشق کے دوسرے حرف شین کے رخ سے پردہ اٹھتا ہے۔ شین۔۔۔ “
درویش نے ایک مستی بھری سسکی لی۔
“شین۔۔۔ شین سے شک ہوتا ہے پگلے۔ “
“شک۔۔۔ ؟”
ایک دم طاہر کا ذہن جھنجھنا اٹھا۔ سارے بدن میں ایک پھریری سی دوڑ گئی۔ لرز کر اس نے آنکھیں کھول دیں۔
“ہاں پگلے۔ “
درویش کی نگاہیں اسی کی جانب مرکوز تھیں۔ وہ درویش کی لو دیتی آنکھوں میں ڈوبتا چلا گیا۔ زبان کو مزید کچھ کہنے کا یارا ہی نہ رہا۔ وہ ایک بار پھر دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو گیا۔ درویش کہہ رہا تھا۔
“شک۔۔۔ عشق کو مہمیز کرتا ہے۔ اسے ایڑ لگاتا ہے۔ انسان جس سے عشق کرتا ہے اس کے بارے میں ہر پل، ہر لمحہ شک کا شکار رہتا ہے۔ کبھی اسے یہ شک چین نہیں لینے دیتا کہ اس کا محبوب کسی اور کی طرف مائل نہ ہو جائے تو کبھی یہ شک نیندیں اڑا دیتا ہے کہ کوئی اور اس کے محبوب پر کمند نہ ڈال رہا ہو۔
کبھی یہ شک بے قراری کی آگ کو ہوا دینے لگتا ہے کہ اس کے عشق میں کوئی کمی نہ رہ جائے کہ اس کا محبوب ناراض ہو جائے تو کبھی یہ شک کانٹوں پر لوٹنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ کسی اور کے جذبے کی شدت میرے محبوب کو متاثر نہ کر لے۔
شک کے یہ ناگ جب انسان کو ڈسنے لگتے ہیں تو وہ درد کی اذیت سے بے چین ہو ہو جاتا ہے۔ شک اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ ہر وقت اپنے محبوب کے آس پاس رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ رہے۔ اس پر کسی دوسرے کا سایہ نہ پڑنے دے۔
اسے دل میں یوں چھپا لے کہ کسی کی اس پر نظر نہ پڑے۔ کھو دینے کا یہ خوف اسے کچھ پا لینے کی منزل کی طرف ہانک دیتا ہے۔ جتنی شدت سے یہ شک کا خوف اس پر حملہ آور ہوتا ہے، اتنی ہی جلدی وہ عشق کی یہ دوسری منزل طے کر لیتا ہے۔
جب صدیق کو یہ شک ستاتا ہے کہ کوئی دوسرا اس کے محبوب کے حضور اس سے بڑھ نہ جائے تو گھر کی سوئی تک نچھاور کر دی جاتی ہے۔ جب عمر کو یہ شک مس کرتا ہے تو صدیق سے آگے بڑھ جانے کے لئے رشک کی آخری منزل تمنا بن کر دل میں جنم لیتی ہے۔
جب عبداللہ کو یہ شک بے قرار کرتا ہے تو وہ اپنے سگے باپ کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہو جاتا ہے کہ جب تک وہ اس کے محبوب سے معافی نہ مانگ لے گا وہ اسے مدینہ میں داخل نہ ہونے دے گا۔
جب یہ شک زید کی جان کو آتا ہے تو وہ اپنے باپ کے ساتھ عیش و آرام کی زندگی کو ٹھکرا کر اپنے آقا کے در پر ابدی غلامی کے لمحات کو چُن لیتا ہے۔ قیس کو یہ شک لیلیٰ کے کتے کو چومنے پر مائل کر لیتا ہے کہ وہ اس کتے سے بھی پیار کرتی ہے۔
یہ شک رانجھے کو کان پھڑوا کر جوگی بنا دیتا ہے تاکہ وہ کسی اور کو حالتِ ہوش میں ویسے دیکھ ہی نہ سکے جیسے ہیر کو دیکھتا تھا۔ یہ شک مہینوال کو ران کے کباب بنا کر سوہنی کے حضور پیش کرنے پر آمادہ کر لیتا ہے اور۔۔۔
یہی شک ہے جو اپنے پر پھڑپھڑاتا ہے تو ساری ساری رات سونے نہیں دیتا۔ انسان کروٹیں بدلتے بدلتے چپکے سے اٹھتا ہے۔ یخ بستہ پانی سے وضو کرتا ہے اور محبوبِ حقیقی کی آرزو میں نکل کھڑا ہوتا ہے۔ یہ دیکھنے کے لئے کہ وہ میرے علاوہ اور کس کس کی طرف مائل بہ لطف ہے؟
کون کون اس کی مِہر سے فیض یاب ہو رہا ہے؟ کس کس طرح کوئی اس کے حضور آہ و زاری کے نذرانے پیش کر رہا ہے؟ جن سے متاثر ہو کر وہ رونے والوں پر کیا کیا مہربانیاں کر رہا ہے؟ کیا کیا ناز دکھا رہا ہے کہ اپنے عشق کے مبتلاؤں کی طرف دیکھ ہی نہیں رہا؟
بندہ یہ سبب ڈھونڈتے ڈھونڈتے خود ناپید ہو جاتا ہے کہ جس کے باعث اس کا رب اوروں پر مہربان اور اس خام و ناکام کی طرف سے لاپروا ہوا بیٹھا ہے۔ بندہ اس شک میں مبتلا رہتا ہے کہ اس کا خالق، اس کا مالک اس کے علاوہ باقی سب پر مہربان ہے۔
اور ایسا ہے تو کیوں ؟ یہ “کیوں “اسے اپنے مالک کے حضور لرزہ بر اندام رکھتا ہے۔ اس “کیوں ” کا جواب پانے کے لئے یہ شک اسے ایسے قیام میں ڈبو دیتا ہے کہ اپنی خبر بھی نہیں رہتی۔ ایسے رکوع میں گم کر دیتا ہے کہ اس کی طوالت محسوس ہی نہیں ہوتی۔
سُوہ لینے کی اس حالت میں یہ شک رات رات بھر سجدے کراتا ہے۔ ایسے سجدے کہ سر اٹھانے کو جی ہی نہیں چاہتا۔ لگتا ہے کہ ابھی سجدے میں سر رکھا تھا کہ فجر کی اذان ہو گئی۔ محبوبِ حقیقی کی دبے پاؤں یہ تلاش اس شک ہی کی دین ہوتی ہے جس میں انسان یہ سوچ کر نکل کھڑا ہوتا ہے کہ:
کوٹھے تے پِڑ کوٹھڑا ماہی، کوٹھے سُکدیاں توریاں
ادھی ادھی راتیں جاگ کے میں نپیاں تیریاں چوریاں “
بڑی پُرسوز آواز میں درویش نے تان لگائی۔
طاہر کا دل ایک دم کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا۔ اس کی حالت ایسی غیر ہوئی کہ وہ بیقراری کے عالم میں سر مار کر رہ گیا۔ دونوں ہتھیلیاں پہلوؤں میں چٹائی پر ٹیکے وہ ہلکورے لے رہا تھا۔ جھوم رہا تھا۔ لوہا جانے کیسا گرم تھا کہ ایک ہی چوٹ نے اسے سانچے میں ڈھال دیا۔
“وہ جو سب کا محبوبِ حقیقی ہے۔ محبوبِ ازلی ہے۔ اسے اپنے علاوہ کسی اور کی طرف مائل دیکھنا بڑے دل گردے کا کام ہے۔ “
درویش نے ایک سرد آہ بھری۔ “مگر۔۔۔ ” اس کے ہونٹوں پر بڑی آسودہ سی مسکراہٹ نے جنم لیا۔
” وہ تو سب کا محبوب ہے ناں۔ سوائے ایک کے کسی اور ایک کا ہو کر رہنا اس کی سرشت ہی میں نہیں۔ جس ایک کا وہ ہے، اسے اس نے اپنا محبوب بنا لیا ہے۔ باقی سب کا وہ مشترکہ محبوب ہے۔ اسی لئے تو وہ ہر جگہ مل جاتا ہے۔ ہرجائی جو ہے۔۔۔ ہرجائی۔۔۔ ہر جگہ مل جاتا ہے۔ “
درویش کی آنکھوں کے سوتے ابل پڑے۔
“ہرجائی۔۔۔ وہ تیرا بھی ہے اور میرا بھی۔ اس کا بھی ہے اور اُس کا بھی۔ یہاں بھی ہے اور وہاں بھی۔۔۔ وہ سب کا ہے اور کسی کا بھی نہیں۔۔۔ ہرجائی۔ “
وہ بچوں کی طرح سسک پڑا۔
“مگرکیسا ہرجائی ہے وہ کہ ہر جگہ ہے اور کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ پھڑائی نہیں دیتا۔ لکن میٹی کھیلتا ہے ہمارے ساتھ۔ خود چھپا رہتا ہے اور ہمیں ڈھونڈنے پر لگا دیا ہے۔
پھر کہتا ہے میں تو تمہاری شہ رگ کے قریب ہوں۔ سرجھکاؤ اور مجھے پا لو۔ میں تمہارے دل میں رہتا ہوں۔ دل۔۔۔ جس میں اس کے عشق کے تینوں حرف اودھم مچائے رکھتے ہیں۔ شک ان میں سب سے زیادہ لاڈلا ہے۔ اسے کھل نہ کھیلنے دو تو یہ روٹھ جاتا ہے۔ منہ پھیر کر چل دیتا ہے۔
اسے کبھی دل سے جانے نہ دینا پگلے۔ اس کے ہونے سے ہی عشق کی سج دھج ہے۔ عشق کا الاؤ اسی چنگاری سے دہکتا ہے۔ یہ چنگاری سلگنا بند کر دے تو عشق کا شعلہ سرد پڑنے لگتا ہے۔ دم توڑنے لگتا ہے۔
یہ شک ہی ہے جو انسان کا ہاتھ پکڑ کر عشقِ مجازی کے راستے سے عشقِ حقیقی کی منزل تک لے جاتا ہے۔ محبوب کی نظروں میں ہلکا پڑ جانے کا شک انسان کو کبھی بے وزن نہیں ہونے دیتا۔ اسے محبوب سے دور نہیں جانے دیتا۔ دل میں پھانس بن کر اٹک جانے والا یہ شک۔۔۔ “
درویش رک گیا۔
“بولتے رہئے بابا۔ رکئے مت۔ “
طاہر نے مچل کر درویش کی جانب دیکھا۔ جان سمٹ کر جیسے لبوں پر آ گئی۔
طاہر کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے درویش کے لبوں پر بڑی عجیب سی مسکراہٹ ابھری۔ طاہر اس مسکراہٹ سے اور بے قرار ہو گیا۔
“یہی وہ شک ہے۔ وہ پھانس ہے۔ عشق کے شین کی یہی وہ شدت ہے جس نے کسی تیسرے کا خوف تیرے دل میں بٹھا دیا ہے۔ “
درویش نے اس کی جانب انگلی سے اشارہ کیا۔
طاہر کے دل کا بھید آشکار ہوا تو وہ حیرت سے سُن ہو گیا۔ اس نے کچھ کہنے کے لئے ہونٹ کھولے۔
“نہ۔۔۔ “
درویش نے انگلی اس کی جانب اٹھا دی۔ اسے بولنے سے روک دیا۔
“تجھے یہ شک نہیں ہے کہ تیری پگلی اور اس تیسرے میں کوئی واسطہ ہے۔ نہ نہ۔ تجھے تیرے عشق کی شدت نے ا س شک میں مبتلا کر دیا ہے کہ کسی روز وہ سامنے آ گیا تو اس کے عشق کی شدت تیری پگلی کو تجھ سے دور نہ لے جائے۔
وہ ایک پل کو بھی اگر اس کے بارے میں کچھ سوچ لے گی تو تیرا کیا حال ہو گا؟ اس کا خیال بھی تیرے اور تیری پگلی کے درمیان نہ آ جائے، یہ شک تجھے تیری پگلی کے قریب نہیں جانے دیتا۔ ایساہی ہے ناں پگلے؟”
درویش نے اس کی جانب مسکرا کر دیکھا۔
بے بسی سے ہونٹ کاٹتے ہوئے طاہر نے سر جھکایا اور اثبات میں ہلا دیا۔
“اسی لئے تو میں تجھے پگلا اور اسے پگلی کہتا ہوں جو دن رات تیری پوجا کرتی ہے۔ پگلا ہونے میں بڑا فائدہ ہے۔ سیانا ہو جائے ناں بندہ تو اس کے ہر ہر فعل کی جانچ ہوتی ہے۔ اس کا امتحان لیا جاتا ہے جیسے حافظ عبداللہ کا لیا گیا۔ اسے تو اس کی پگلی نے بچا لیا۔ تو بول۔ تیرے پاس کوئی پگلی ہے جو تجھے بچا لے؟”
جواب میں طاہر درویش کو درد بھری نظروں سے دیکھ کر رہ گیا۔ اس کے پاس درویش کے سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔
” ہے۔ تیرے لئے ہونی تو سیانی چاہئے تھی مگر اس کے رنگ نیارے ہیں۔ اس نے تجھ جیسے پگلے کو سیانی نہیں دی، پگلی ہی دی۔ وہ جو تیرے گھر میں پڑی ہے ناں۔ تیرے جیسی ہی پگلی ہے۔ پگلا اور پگلی۔ دونوں کو سمجھانے کے لئے میری جان عذاب میں آئی ہوئی ہے۔ اسے تو کیا سمجھاؤں گا، تو ہی اکیلا کافی ہے میرے لئے۔ “
وہ بگڑ گیا۔
“بابا۔ “
طاہر نے لجاجت سے کہتے ہوئے اس کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ دئیے۔
“دیکھ۔ ” درویش نرم پڑ گیا۔
” دیکھ پگلے۔ سیانے جو ہوتے ہیں ناں۔ انہیں سب معلوم ہو جاتا ہے اور یہ پھنس جاتے ہیں۔ جو جتنا سبق یاد کرتا ہے اسے اتنا ہی قابل سمجھا جاتا ہے۔
اور جو جتنا قابل ہوتا ہے اسے اتنی ہی بڑی ذمے داری نبھانا پڑتی ہے۔ پھر ان سیانوں کی کمر دوہری ہو جاتی ہے ذمے داری کے بوجھ سے۔ آزمائش اور امتحان کے کانٹوں بھرے طویل راستے پر احتیاط کا دامن پھٹنے نہ پائی، یہ احساس انہیں اس اکیلے کی طرح تنہا کر دیتا ہے جس کا عشق ان کے لئے سوہانِ روح بن جاتا ہے۔
پھر بھی یہ پتہ نہیں ہوتا کہ کب ان کا نتیجہ فیل ہونے کی صورت میں نکل آئے۔ اس کے مقابلے میں تجھ جیسے پگلے بڑے خوش قسمت ہوتے ہیں۔ اتنا ہی جانتے ہیں جس سے گزارا ہو جائے۔ بس خلوص اور نیک نیتی کے ساتھ سر جھکائے عشق کے سفر پر چل دیتے ہیں۔
دنیا بھی نبھ جاتی ہے اور مقصود بھی ہاتھ آ جاتا ہے۔ جہاں غلطی ہو جائے، کوتا ہی ہو جائے، وہاں معافی بھی مل جاتی ہے، پگلا ہونے کا یہ سب سے بڑا فائدہ ہے۔ جبکہ سیانا بیچارہ معافی کے لفظ سے ہی نا آشنا ہو جاتا ہے۔
مکتبِ عشق کا دستور نرالا دیکھا
اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا “
کہہ کر درویش قلقاری مار کر ہنسا۔ طاہر اسے یوں دیکھ رہا تھا جیسے اس کی ہر ہر بات ایک نیا بھید، ایک نیا راز آشکار کر رہی ہو اور اسے سمجھ نہ آ رہی ہو کہ وہ ان رازوں کو ان بھیدوں کو کہاں سنبھال کر رکھے کہ کسی اور کے ہاتھ نہ لگ سکیں۔
“اسی لئے کہا تھا میں نے کہ اس پگلی کو چھوڑنے کا خیال بھی کبھی دل میں مت لانا۔ اس پر، اپنے جذبے پر شک کر تو صرف اس لئے کہ تو اسے جی جان سے چاہتا ہے۔ اسے کھو دینے کا ڈر اس کے ساتھ کسی کا بھی نام آتا دیکھنا نہیں چاہتا، یہ اچھا ہے۔
اس طرح تیرا اس سے عشق کا تعلق “دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی “جیسا ہو جائے گا۔۔۔ مگر کبھی اس پر شبہ نہ کرنا۔ شک اور شُبے میں یہی بنیادی فرق ہے پگلی۔ عشق میں شک جائز بھی ہے اور ضروری بھی، اگر کھوٹ درمیان میں نہ آئے اور شُبہ۔۔۔ الامان الحفیظ۔۔۔ “
درویش نے کانوں کو لووں کو چھوتے ہوئے کہا۔
“عشق میں شُبہ در آئے تو پاک دامن بیوی بیسوا نظر آتی ہے۔ بستر کی شکنوں میں کسی باہر والے کا جسم لپٹا دکھائی دیتا ہے۔ اس کا بناؤ سنگھار کسی دوسرے کے لئے لگتا ہے۔ کاجل کی دھار، گناہ آلود راتوں کی طرح خیالات پر بال کھولے بین کرنے لگتی ہے۔ شُبے سے ہمیشہ بچنا۔ اسے کبھی دل میں جگہ نہ دینا۔ پھر تو بچا رہے گا برباد ہونے سے۔ “
” آپ روشن ضمیر ہیں بابا۔ “
طاہر کے حواس لوٹ رہے تھے۔
” آپ جانتے ہیں میں نے صفیہ کو کبھی شبے کی نظر سے نہیں دیکھا۔ جو پھانس تھی وہ کسی حد تک نکال دی ہے آپ نے۔ “
“یعنی ابھی اس کی ٹیس کچھ باقی ہے دل میں ؟” درویش نے بھویں سکیڑ کر اسے دیکھا۔
“بس اتنی سی بابا کہ اگر کبھی سرمد لوٹ آیا تو۔۔۔ ؟” اس نے سر جھکا لیا۔
“تو۔۔۔ ” درویش نے سپاٹ لہجے میں کہا۔
” تو کیا ہو گا؟”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: