Ishq Ka Qaaf Novel By Sarfaraz Ahmad Rahi – Episode 16

0
عشق کا قاف از سرفراز احمد راہی – قسط نمبر 16

–**–**–

“بس اتنی سی بابا کہ اگر کبھی سرمد لوٹ آیا تو۔۔۔ ؟” اس نے سر جھکا لیا۔
“تو۔۔۔ ” درویش نے سپاٹ لہجے میں کہا۔
” تو کیا ہو گا؟”
“یہی تو میری سمجھ میں نہیں آتا بابا۔ “
وہ اسی طرح بیٹھے ہوئے بولا۔
“تب کیا ہو گا؟”
“تب کیا ہو گا، یہ تو میں نہیں بتا سکتا تجھی۔ اجازت نہیں ہے مجھے۔۔۔ مگر ایک بات تجھے ابھی سمجھا سکتا ہوں میں۔ “
طاہر نے نظریں اٹھائیں۔ درویش اسے بڑی سرد نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔
“ایک پارسا تھا۔ ” اس نے کہنا شروع کیا۔
” اس کے گھر سے کھانا آتا تو وہ سالن میں پانی ملا کر کھایا کرتا تھا۔ کسی نے سبب پوچھا تو اس نے کہا کہ میں کھانے کی لذت ختم کر کے کھاتا ہوں تاکہ میرا نفس مزہ لینے کی عیاشی نہ کر سکے اور میں اس کے بہکاوے میں نہ آ جاؤں۔ میں نے سنا تو اتنے بڑے بڑے پھکڑ تولے میں نے۔ اسے گالیاں دیں میں نے۔ جانتا ہے کیوں ؟ “
درویش نے انگلی اس کی جانب اٹھائی اور اس کے جواب کا انتظار کئے بغیر کہا۔
“اس لئے کہ وہ میرے مالک کی نعمت کا کفران کر رہا تھا۔ میں نے کہا ارے بھڑوے۔ اگر لذت نہ دے کر نفس کو مارنا چاہتا ہے تو کھانا ہی پھیکا، بدمزہ اور بے لذت کیوں نہیں پکواتا۔ میرا رب تجھے اچھی نعمت دے رہا ہے اور تو اس میں خرابی پیدا کر کے کھاتا ہے۔
اس کی دی ہوئی چیز میں اپنی طرف سے مین میخ نکال کر، خود کو پارسا ظاہر کر رہا ہے تاکہ لوگ تجھے نیکو کار سمجھیں یا کم از کم تیرا نفس تجھے اس بھول میں رکھے کہ تو بڑا اچھا کام کر رہا ہے۔ اس سے تیرا رب تجھ سے راضی ہو گا لیکن اگر رب نے پوچھ لیا کہ پاگل۔
میں نے تجھے ایک نعمت دی کہ تو اس سے بہرہ ور ہو۔ اس سے لطف اٹھائے اور میرا شکر ادا کرے مگر تو نے اسے بد ہیئت اور بدمزہ کیوں کیا؟ تو تیرے پاس اس کا کیا جواب ہو گا؟ تلا جائے گا یا نہیں اس وقت؟ تو بھی اس پارسا کی طرح اللہ کی بخشی ہوئی نعمت کو آنے والے، نادیدہ، مستقبل کی دھند میں لپٹے وقت کا پانی ڈال کر بد مزہ کرنے کا گناہ کر رہا ہے۔
یہ ریا کاری ہے میرے بچے۔ اللہ نے تجھے پاکیزہ لباس عطا کیا ہے، اسے وہم کا پیوند نہ لگا۔ اسے پہن۔ اسے کھونٹی پر ٹانگے رکھے گا تو وہ بوسیدہ ہو جائے گا۔ اس پر بے توجہی کا غبار جم جائے گا۔ گزرتے وقت کی ٹڈیاں اسے جگہ جگہ سے کتر ڈالیں گی۔ اور جب تجھے اس لباس کی اہمیت کا اندازہ ہو گا تب تک وہ اس قابل نہیں رہے گا کہ تو اسے پہن سکے۔
پھر تجھ سے کفرانِ نعمت کا حساب لیا جائے گا۔ دے سکے گا تواس کا حساب؟ سیانا نہ بن۔ پگلا بنا رہ۔ کوتاہی اور غلطی کی معافی مانگ کر لوٹ جا اپنی پگلی کے پاس۔ اسے پہن لے جا کر۔ اسے بوسیدہ ہونے سے پہلے پہن لے۔ ایسے پاکیزہ لباس کسی کسی کو نصیب ہوتے ہیں۔ “
درویش خاموش ہو گیا۔
طاہر کے اندر آندھیاں سی چل رہی تھیں۔ اسے عشق کے عین نے چھو لیا تھا کہ صفیہ اسے کس بلندی پر رکھ کر دیکھتی ہے۔ عشق کے شین کا فہم عطا ہو گیا تھا۔ ادراک ہو گیا تھا اسے کہ اس کا عشق صفیہ کے لئے کس مقام پر پہنچا ہوا تھا۔
صفیہ کے بارے میں تو وہ جانتا تھا کہ وہ اس کے لئے کیا جذبات رکھتی ہے مگر آج اسے اپنے بارے میں جو احساس ہوا تھا اس نے اس کے لئے ایک نئے جہان کے در وَا کر دیے تھی۔ خودشناسی کے در کھلے تو اسے پتہ چلا کہ عشق ہوتا کیا ہے؟ عشق کا عین اور شین اس پر ادراک کے نئے نئے عالم آشکار کر رہے تھے۔
“کیا سوچ رہا ہے؟ ابھی کوئی الجھن باقی ہے کیا؟” درویش نے اس کی بدلتی ہوئی حالت دیکھ کر آہستہ سے پوچھا۔
“نہیں بابا۔ ” اس کے لبوں سے سرگوشی آزاد ہوئی۔ “اب کوئی الجھن نہیں۔۔۔ بس ایک خواہش چٹکیاں لے رہی ہے۔ “
“خواہش۔۔۔ ؟” درویش نے اسے غور سے دیکھا۔
“ہاں بابا۔ “
طاہر نے دونوں ہاتھوں میں اس کا ہاتھ تھام لیا۔
” عشق کا عین اور شین تو آپ نے سمجھا دئیے۔ عشق کا قاف ابھی باقی ہے۔ “
“توبہ کر توبہ۔ “
درویش نے تڑپ کر ہاتھ کھینچ لیا۔
ایک دم وہ خزاں رسیدہ پتے کی طرح لرزنے لگا تھا۔ چہرے پر زردی کھنڈ گئی اور آواز ایسی پست ہو گئی جیسے کسی کنویں سے آ رہی ہو۔
“بابا۔۔۔ ” طاہر نے کہنا چاہا۔
“سبق یاد ہو گیا تو چھٹی نہیں ملے گی۔ باز آ جا۔ اس بھید کو بھید ہی رہنے دے۔ “
درویش کانپے جا رہا تھا۔
“نہیں بابا۔ ” طاہر پر ضد سی سوار ہو گئی۔
“میں اس کائنات کی سب سے بڑی حقیقت کے بارے میں مکمل طور پر نہ جان سکوں ، یہ بات مجھے چین سے مرنے بھی نہ دے گی۔ “
“مکمل طور پر جاننا میرے تیرے لئے ممکن نہیں ہے پگلے۔ “
درویش نے اٹھ جانا چاہا۔
“ضد نہ کر۔ “
“میں ضد کہاں کر رہا ہوں بابا۔ “
طاہر بھی اس کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا۔
“میں تو عرض کر رہا ہوں۔ “
“مت بہکا مجھے۔ “
درویش نے اسے جھڑک دیا۔
” یوں چاپلوسی کرے گا تو میں پھسل جاؤں گا۔ چُپ ہو جا۔ “
“بابا۔ ” طاہر نے اس کا راستہ روک لیا۔
“اگر آپ نہیں بتائیں گے تو میں گھر نہیں جاؤں گا۔ “
“تو نہ جا۔ ” وہ بھڑک گیا۔
“میرے باپ کے سر پر کیا احسان کرے گا جا کر۔ پوچھ تجھ سے ہو گی۔ جواب دینا پھر اسے۔ “
اس نے کمرے سے باہر قدم رکھا۔
” میں تو کہہ دوں گا کہ میں نے اسے سمجھا دیا تھا۔ اب یہ جان بوجھ کر کفرانِ نعمت کرے تو اس میں میرا کیا قصور؟”
“میں بھی کہہ دوں گا کہ آپ نے مجھے آدھی بات بتا کر ٹال دیا تھا۔ “
“کیا۔۔۔ کیا۔۔ ؟”
درویش نے کچی زمین پر اتر کر قدم روک لئے۔
“میں نے تجھے آدھی بات بتائی۔ یہ کہا تو نے؟”
وہ غصے سے بولا۔
“ہاں تو اور کیا؟” طاہر بچوں کی طرح مچلا۔
” عشق کا تیسرا حرف کہاں سمجھایا آپ نے مجھے؟”
“تو سہہ نہیں پائے گا۔ “
ایک دم وہ طاہر کو جیسے بہلانے پر آ گیا۔
” ہر چیز کا ایک وزن ہوتا ہے پگلے۔ تو اٹھا نہیں سکے گا اس بوجھ کو۔”
“تو کیا ہو گا؟”
طاہر نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں۔
” زیادہ سے زیادہ یہ ہو گا کہ میں اس بوجھ تلے دب کر مر جاؤں گا۔ یہ منظور ہے مجھے مگر ۔۔۔ نہ جاننے کا ناسور دل میں پال کر میں زندہ نہیں رہنا چاہتا بابا۔ “
“تو پگلا کم اور سیانا زیادہ ہے۔ “
درویش نے ایک آہ بھر کر آسمان کی طرف دیکھا جہاں چاند مسکرا رہا تھا۔ چاروں طرف چاندنی پھیلی ہوئی تھی۔ بابا شاہ مقیم کا مزار کسی بھید کی طرح ان کے سامنے بُکل مارے کھڑا تھا۔
” آپ جو بھی سمجھیں بابا۔ “
طاہر نے امید بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
“ٹھیک ہے۔ “
کچھ دیر بعد درویش نے آسمان سے نظریں ہٹائیں اور طاہر کی طرف دیکھ کر پھر ایک سرد آہ بھری۔
” میں تجھے عشق کے قاف سے بھی ملا دوں گا مگر۔۔۔” اس نے رک کر طاہر کی جانب ہاتھ کھڑا کیا۔
“ابھی نہیں۔ “
“ابھی کیوں نہیں بابا؟” طاہر جلدی سے بولا۔
“ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے پگلے۔ “
درویش پھر جھلا گیا۔
“یہ امکانات کی دنیا ہے۔ مجھے یہ بھید تجھ پر کھولنے کا جب حکم ہو گا تو اس کے اسباب پہلے پیدا ہوں گے۔ اس کی تمثیل جنم لے گی۔ تیرے سامنے عین اور شین کی مثالیں موجود ہیں ناں۔ اسی لئے تجھے انہیں سمجھنے میں کوئی دقت نہیں ہوئی۔
اب اس تیسرے بھید کے لئے بھی کچھ تو ایسا ہو جو تجھ پر فہم اور ادراک کے دروازے کھول سکے۔ جب بھی ایسا ہو گا۔ جب بھی مجھے حکم ہو گا، میں تجھے ضرور آگاہ کر دوں گا۔۔۔ یہ میرا وعدہ ہے تجھ سے۔ “
“ٹھیک ہے بابا۔ “
کچھ دیر تک اس کی آنکھوں میں کھوئے رہنے کے بعد طاہر نے دھیرے سے کہا۔
“میں انتظار کروں گا۔ “
“بے صبرا نہ ہو۔ میں نے کہا ناں۔ وقت آنے پر تجھے ضرور بتاؤں گا۔ اب تو جا۔ رات اپنے آخری پہر میں داخل ہو گئی ہے۔ کہیں وہ پگلی تیری تلاش میں نہ نکل پڑے۔ “
درویش نے اس کے کندھے پر تھپکی دی۔
“اچھا بابا۔ ” طاہر نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دئیے۔ “میری گستاخی معاف کیجئے گا۔ “
“پگلا ہے تو۔ ” درویش ہنس پڑا۔
“گستاخی کیسی؟ یہ تو تیرے نصیب کی بات ہے۔ اگر اس میں لکھا ہے کہ تو مکتبِ عشق میں داخلہ لے لے تو میں کون ہوتا ہوں تجھے روکنے یا چھٹی دینے والا۔”
طاہر نے درویش کا دایاں ہاتھ تھاما۔ دل سے لگایا۔
ماتھے سے چھوا اور آہستہ سے چھوڑ دیا۔ پھر الٹے پاؤں اپنی گاڑی تک آیا۔ دروازہ کھول کر اندر بیٹھا اور گاڑی سٹارٹ کر دی۔
درویش اسے وہیں کھڑا تب تک دیکھتا اور دایاں ہاتھ ہلاتا رہا جب تک اس کی گاڑی وجاہت آباد جانے والے راستے پر نہ مڑ گئی۔ پھر وہ آہستہ سے پلٹا اور مزار کی طرف چل پڑا۔
“عشق کا قاف۔ عشق کا قاف۔ پگلا ہے بالکل۔ “
بڑبڑاتے ہوئے اچانک رک کر ایک دم اس نے مزار کی جانب نظر اٹھائی۔
“خود آرام سے تماشا دیکھتے رہتے ہو۔ ساری مصیبت میری جان پر ڈال دی ہے۔ “
وہ جیسے بابا شاہ مقیم سے لڑنے لگا۔
“اسے یہاں رکنے ہی کیوں دیا تھا؟ آیا تھا تو اس کا رخ گھر کی طرف کر کے روانہ کر دیتے۔ مگر نہیں۔ تم ایسا کیوں کرو گے۔ تمہیں تو مزا آتا ہے مجھے تنگ کر کے۔ “
اس نے پاؤں پٹخ کر کہا۔ پھر اس کی آواز بھرا گئی۔
“پگلا ہے وہ۔ بچوں کی طرح ضد کرتا ہے مجھ سے۔ کہتا ہے وہ اس سے کہہ دے گا کہ میں نے اسے پوری بات نہیں بتائی۔۔۔ پوری بات۔۔۔ “
ایک دم وہ جیسے روتے روتے ہنس پڑا۔
“پوری بات جاننا چاہتا ہے۔۔۔ پوری بات۔ “
اس کے حلق سے قہقہہ ابلا اور وہ ہنستے ہنستے بے حال ہو گیا۔
” پوری بات۔۔۔ “وہ کچی زمین پر گر پڑا۔
“پوری بات۔۔۔ دم نکل جائے گا اس پگلے کا پوری بات جان کر۔ “
وہ یوں خاک میں لوٹ پوٹ ہو رہا تھا جیسے پھولوں کے بستر پر مچل رہا ہو۔ رات کی تنہائی اس کی آواز سے گونج رہی تھی۔ سناٹا کان لگائے اسے سن رہا تھا۔ ہوا نے اپنے قدم آہستہ کر لئے کہ اس کی بات میں مخل نہ ہو۔ چاندنی اس کے گرد ہالہ بنائے ہاتھ باندھے دم بخود کھڑی تھی۔
ستاروں نے پلکیں جھپکنا چھوڑ کر دیا تھا اور چاند یوں ساکت ہو گیا تھا جیسے اپنا سفر بھول کر اس کے لبوں سے کسی انہونی واردات کا قصہ سننا چاہتا ہو۔
“پوری بات۔۔۔ عشق کا قاف۔۔۔۔ عشق کا قاف۔۔۔ “
درویش بڑبڑا رہا تھا۔ مچل رہا تھا۔ ہنس رہا تھا۔ رو رہا تھا۔ ایک سیانا، پگلا ہو گیا تھا۔
صبح صادق طلوع ہو رہی تھی جب طاہر نے گاڑی حویلی کے پورچ میں روکی۔ گیٹ کھولنے والا ملازم گیٹ بند کر کے مڑا تو طاہر گاڑی سے اتر رہا تھا۔ ملازم اس کے پھٹے ہوئے کرتے اور مٹی میں اٹے جسم کو دیکھ کر حیران ہوا۔ پھر اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا، مردانے سے ملک بلال نے باہر قدم رکھا۔
“چھوٹے مالک۔ کیا ہوا؟ “
وہ گھبرا کر اس کے قریب چلا آیا۔
“کچھ نہیں۔ “
طاہر نے مختصر سا جواب دیا اور اندر کو چلا۔
“مگر یہ۔۔۔ “
ملک نے اس کے کپڑوں کی جانب حیرت سے دیکھتے ہوئے کہا۔
“کیا کسی سے جھگڑا ہو گیا؟”
“نہیں۔ ” طاہر اس کے قریب سے گزر گیا۔
” آپ آ کہاں سے رہے ہیں چھوٹے مالک؟ سارے لوگ آپ کے انتظار میں جاگ رہے ہیں۔ مالکن اس قدر پریشان ہیں کہ میں آپ کو بتا نہیں سکتا۔ آپ تو بابا شاہ مقیم کا کہہ کر گئے تھے۔۔۔ “
“میں وہیں سے آ رہا ہوں۔ “
طاہر نے قدم برآمدے میں رکھا۔
“تو ساری رات آپ وہیں تھے؟”
ملک کی حیرت دوچند ہو گئی۔
“ہاں۔۔۔ اور اب بس۔ “
طاہر، ہال کمرے کے دروازے پر رکا۔ پلٹا اور ملک کی آنکھوں میں اس انداز سے دیکھا کہ ملک کو مزید کچھ کہنے کا یارا، نہ رہا۔
“اور کوئی سوال نہیں۔ تم نے جو دیکھا، سمجھو، نہیں دیکھا۔ سب کو سمجھا دو۔ دن میں ڈیرے پر ملاقات ہو گی۔ “
وہ اندر داخل ہو گیا۔
ملک خاموش، منہ پھاڑے کھڑا رہ گیا۔ اس کے ذہن میں بے شمار سوال مچل رہے تھے مگر اسے زبان بندی کا حکم دے کر طاہر جا چکا تھا۔ اسی وقت وہ ملازم تیز تیز قدموں سے اس کے پاس چلا آیا جس نے گیٹ کھولا تھا۔
“ملک صیب۔ ” وہ سرگوشی کے لہجے میں بولا۔
“کیا ہوا۔ چھوٹے مالک کا کسی سے جھگڑا ہو گیا کیا؟”
” آں۔۔۔ “
ملک چونکا۔ اس کی نظر ملازم پر پڑی تو جیسے ہوش میں آ گیا۔
“کیا کہا تو نے؟”
ملازم نے اپنی بات دہرائی تو ملک ایک دو لمحے اس کی جانب خالی خالی نظروں سے دیکھتا رہا، پھر اس کی تیوریوں پر بل پڑ گئے۔
“گیٹ تو نے کھولا تھا؟”
ملک کا لہجہ سخت پا کر ملازم گھبرا گیا۔
“ج۔۔ جی ہاں ملک صیب۔ ” وہ ہکلایا۔
“اور کس نے چھوٹے مالک کو اس حال میں دیکھا ہے؟”
“کسی نے نہیں جی ملک صیب۔ باقی ملازم ڈیرے پر ہیں۔ “
“تو بس۔ ” ملک نے ہاتھ اٹھا کر تحکم سے کہا۔
“چھوٹے مالک کو تو نے بھی نہیں دیکھا کہ وہ کس حال میں لوٹے ہیں۔ سمجھ گیا۔ “
“سمجھ گیا جی۔ بالکل سمجھ گیا۔ “
ملازم نے زور زور سے سر ہلایا۔
“زبان کو گانٹھ دے کر رکھنا۔ مجھے بات دہرانی نہ پڑے۔ “
کہہ کر ملک اندر جانے کے لئے پلٹا۔
“جی ملک صیب۔ “
ملازم کا رنگ بدل گیا۔ ملک اس کی دگرگوں حالت کو نظر انداز کرتا ہوا ہال میں داخل ہو گیا، جہاں اس کی توقع کے مطابق طاہر موجود نہیں تھا۔ وہ زنان خانے میں جا چکا تھا۔
“میرے مالک۔ ان کو اپنی امان میں رکھنا۔ انہیں ہر بلا سے محفوظ فرمانا۔ مجھے ان کا کوئی دُکھ نہ دکھانا۔ میرے معبود۔ انہیں حفاظت کے ساتھ گھر لے آ۔ ان کی آئی مجھے آ جائے۔ ان کی بلا مجھ پر پڑے۔ انہیں کچھ نہ ہو میرے مالک۔ انہیں کچھ نہ ہو۔ تجھے تیرے حبیب کا واسطہ۔ مجھے میرے حبیب سے خیر و عافیت کے ساتھ ملانا۔ “
سجدے میں پڑی صفیہ زار زار روئے جا رہی تھی۔ اس کی آواز ہچکیوں میں ڈوبی ٹوٹ ٹوٹ کر ابھر رہی تھی۔ اسے یوں بلکتا دیکھ کر دروازے میں کھڑا طاہر بے کل سا ہو گیا۔
کاریڈور میں قدم رکھا تو اس کی حالت پر حیرت زدہ فہمیدہ نے سلام کر کے کمرے کی طرف دوڑ لگانا چاہی۔ شاید وہ صفیہ کو طاہر کے آنے کی خبر سناناچاہتی تھی مگر طاہر نے اسے روک دیا۔
اسے خاموشی سے چلے جانے کا کہہ کر وہ کمرے کی جانب بڑھا اور آہستہ سے کھلے دروازے میں آ کھڑا ہوا۔ شاید وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ اس کی گم خبری پر صفیہ کا کیا حال ہے؟اور اب اسے یوں تڑپتا پاکر اس کا دل ہاتھوں سے نکلا جا رہا تھا۔
“صفو۔۔۔ “
آواز تھی یا نوید حیات۔ صفیہ کا خزاں رسیدہ پتے کی طرح کانپتا جسم ایک دم ساکت ہو گیا۔ ایک پل کو اسے لگا کہ یہ اس کی سماعت کا دھوکا ہے مگر دوسرے ہی پل اس نے سر سجدے سے اٹھایا اور دروازے کی جانب دیکھا۔
“طاہر۔۔۔ ” شبنم میں دھلتا ہوا اس کا چہرہ دودھ کی طرح سفید ہو رہا تھا۔ اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ دروازے میں کھڑے طاہر کی حالت دیکھ کر وہ سُن ہو گئی۔
“صفو۔۔۔ “
اب شبے کی گنجائش کہاں تھی؟
“طاہر۔۔۔ ” وہ تڑپ کر جائے نماز سے اٹھی اور بھاگتی ہوئی اس کے پاس آگئی ۔
“طاہر۔۔۔ طاہر۔۔۔ ” وہ سسک رہی تھی۔
“یہ آپ کو کیا ہوا؟ کہاں تھے آپ اب تک؟ کہاں تھے؟”
“شش۔۔۔ ” “
خاموش ہو جاؤ صفو۔ کچھ مت کہو۔ کچھ مت کہو۔ طاہر نے سرگوشی کی۔
بچوں کی طرح ہچکیاں لیتی ہوئی صفیہ اس کی باہوں میں جھول گئی۔ وہ غش کھا گئی تھی۔
“صفو۔۔۔ ” طاہر گھبرا گیا۔ اسنے اسے بستر پر ڈالا۔ کمبل اوڑھایا اور بیڈ کی پٹی پر بیٹھ کر اس کے چہرے کو والہانہ دیکھنے لگا، جو یوں پُرسکون تھا جیسے پریاں اس پر کہانیوں کے رنگ لے کر اتر رہی ہوں۔
چہرے کی سفیدی، سرخی میں بدلتے پا کر اسے کچھ حوصلہ ہوا۔ اس نے چاہا کہ فہمیدہ کو آواز دے۔ پھر نجانے کیوں اس کا جی چاہا کہ بس ایک ٹک صفیہ کو دیکھتا رہے۔ کسی بھی تیسرے کا اس وقت وہاں آنے کا خیال اسے اچھا نہ لگا۔ آنسوؤں نے صفیہ کا چہرے شبنم دھلے گلاب کا سا کر دیا تھا۔
یکبارگی صفیہ کا سارا جسم لرز گیا۔ اس نے ہولے سے حرکت کی۔
“طاہر۔۔۔ ” ہونٹ لرزے تو آہ نکلی۔
“صفو۔۔۔ ” طاہر نے اس کے ہاتھ تھام لئے جو برف کی طرح سرد ہو رہے تھے۔
“طاہر۔۔۔ ” آہستہ سے پلکوں کو حرکت ہوئی۔
“صفو میری جان۔۔۔ “
“طاہر۔۔۔ “
پلکیں وَا ہوئیں تو آنکھوں کے گوشوں سے آنسو ڈھلک پڑے۔
“بس۔۔۔ ” بس۔ اب نہیں۔ کبھی نہیں۔ “
اس کی دیوانگی صفیہ کو رُلا رہی تھی۔ کھلا رہی تھی۔ بتا رہی تھی کہ اس کا صبر رنگ لے آیا ہے۔ اس کا طاہر لوٹ آیا ہے۔
یہ وہ لمحے تھے جن کا وہ کب سے انتظار کر رہی تھی۔ بہار کے یہ پل جو اس کے لئے خواب ہو چکے تھے، خزاں ختم ہو جانے کی نوید لے کر لوٹے تو وہ سر تا پا گلاب ہو گئی۔ ایسا گلاب، جس کی شبنم قطرہ قطرہ، طاہر کا غبار دھو رہی تھی۔ یقین اور اعتماد کا غسل دے رہی تھی۔
عشق کا عین، عشق کے شین کا ہاتھ تھامے اپنی پوری وضاحتوں کے ساتھ طاہر پر نازل ہو رہا تھا۔
غسل کر کے طاہر باتھ روم سے نکلا تو صفیہ میز پر ناشتہ سجا چکی تھی۔
“جلدی آ جائیے۔ ایک دم بھوک حملہ آور ہو گئی ہے۔ ” وہ اس کے لئے کرسی سرکاتے ہوئے بولی اور گردن گھما کر اس کی طرف دیکھا۔
“طاہر۔۔۔ ” اس کے لبوں پر ایک لفظ مچلا اور وہ مسحور و حیراں اسے تکتی رہ گئی۔ سفید شلوار کرتے میں دھلا دھلایا طاہر اس کے سامنے کھڑا تھا۔ مگر نہیں۔ یہ وہ طاہر تو نہیں تھا جو کل تک اس کے سامنے رہتا تھا۔ یہ تو کوئی اور تھا۔
ایک عجیب سا نورانی ہالہ جس کے چہرے کو چوم رہا تھا۔ ایک ناقابلِ برداشت چمک جس کی آنکھوں میں لو دے رہی تھی۔ ایک ملکوتی مسکراہٹ جس کے لبوں پر مہک رہی تھی۔ اسے لگا جیسے طاہر اس کے سامنے نہیں ، بہت بلندی پر، بہت اونچی جگہ پر کھڑا اسے دیکھ رہا ہو۔
ایسی بلندی، جس کا اسے ادراک تو ہو رہا تھا، مگر جسے وہ کسی اور کو سمجھا نہ سکتی تھی۔ یہ سب کیا تھا؟ کیسے ہوا؟ کب ہوا؟ اس کا ذہن ریشمی تاروں میں الجھ کر رہ گیا۔
“کیا دیکھ رہی ہو؟”
طاہر اپنی جگہ سے اس کی طرف چل پڑا۔
“کچھ نہیں۔ “
وہ گڑبڑا سی گئی۔ گھبرا کر نظریں اس کے چہرے سے ہٹا لیں۔ اسے محسوس ہوا کہ اگر وہ مزید چند لمحے اسے یونہی دیکھتی رہی تو طاہر کو نظر لگ جائے گی۔ کرسی کی پشت پر ہاتھ ٹکا کر اس نے آنکھیں بند کر لیں اور ایک گہرا سانس لیا۔ جیسے وہ طاہر کی اس شبیہ کو اپنے دل میں ، اپنی سانسوں میں ، اپنی روح میں اتار لینا چاہتی ہو۔
تینوں ویکھیاں صبر نہ آوی
وے چناں تیرا گھُٹ بھر لاں
اس کے اندر سے ایک صدا ابھری اور سارے وجود پر سرور بن کر چھا گئی۔
“کہاں کھو گئیں ؟”
طاہر نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر اسے پوچھا۔
“یہیں ہوں۔ آپ کے قدموں میں۔ “
وہ نشے میں ڈوبی آواز میں بولی ۔
“میری طرف دیکھو۔ “
طاہر نے اس کی ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھا۔
” نہیں۔ ” صفیہ نے مچل کر کہا اور چہرہ پھیر لیا۔
“کیوں ؟” طاہر ہولے سے ہنسا۔
“نظر لگ جائے گی آپ کو۔ “
صفیہ نے اس کی جانب دیکھنے سے گریز کیا۔
“تمہاری نظر۔۔۔ ” طاہر نے مسکراتے ہوئے حیرت سے کہا۔ ” اور مجھے لگ جائے گی؟”
وہ کرسی پر بیٹھ گیا۔
اثبات میں سر ہلاتے ہوئے صفیہ اس کے ساتھ والی نشست پر بیٹھ گئی۔
” اور اب بس۔ خاموشی سے ناشتہ کیجئے۔ “
“جو حکم سرکار کا۔ “
طاہر نے سر خم کیا اور دونوں ناشتے میں مصروف ہو گئے۔
ناشتہ واقعی خاموشی سے کیا گیا۔ پھر فہمیدہ آئی اور برتن لے گئی۔
صفیہ نے اس کے پیروں سے چپل نکالی اور اسے بستر میں گھس جانے کا اشارہ کیا۔ اس نے کوئی ہچر مچر نہ کی۔ صفیہ نے کمبل اسے خوب اچھی طرح اوڑھایا اور خود اس کے پاس پیروں کی جانب بیٹھ گئی۔
“میں جانتی ہوں آپ تھکے ہوئے ہیں اور اس وقت آپ کے لئے سب سے زیادہ ضروری چیز نیند ہے لیکن میرا ضبط اور صبر اب ختم ہو رہا ہے۔ مجھے بتائیے کہ کل کا سارا دن اور آج رات آپ کہاں رہے؟ جس حالت میں آپ لوٹے، وہ کوئی اچھی خبر نہ دے رہی تھی۔ مجھے ایک ایک بات بتائیے۔ “
“ایک ایک بات۔ “
طاہر نے کہا اور اس کی جانب بڑی عجیب سی نظروں سے دیکھا۔
“کیوں ؟ بتانے کی بات نہیں ہے کیا؟”
صفیہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھنا چاہا۔ پھر نظر ہٹا لی۔ ان بلور آنکھوں کی چمک اس سے سہی نہ گئی۔
“نہیں۔ ایسی کوئی بات نہیں جو میں تم سے چھپاؤں۔ مگر صفو۔۔۔ “
وہ ایک پل کو رکا۔ سر جھکا کر آنکھیں بند کر لیں۔ پھر دائیں ہاتھ سے ماتھا سہلانے لگا۔
چند لمحے خاموشی کی نذر ہو گئے تو صفو نے زبان کھولی۔
“کیا سوچ رہے ہیں ؟”
“سوچ رہا ہوں۔ “
طاہر نے ایک گہرا سانس لیا اور ہاتھ ماتھے سے ہٹا لیا۔
” تمہیں کیا بتاؤں ؟ کیسے بتاؤں ؟ میں تو خود نہیں جانتا کہ میرے ساتھ ہوا کیا ہے؟ بس یوں لگتا ہے کہ میں کسی خواب میں گم ہو گیا تھا۔ جاگا ہوں تو سب کچھ یاد ہے مگر اسے بیان کرنا میرے لئے اتنا ہی مشکل ہے صفو، جتنا کسی کو یہ بتانا کہ ہم جس کی عبادت کرتے ہیں وہ کیسا ہے؟کہاں نہیں ہے؟”
“مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔” صفیہ نے اسے حیرت سے دیکھا۔
” آپ کل گھر سے بابا شاہ مقیم کے مزار پر گئے تھے۔ یہ کہہ کر کہ شام تک لوٹ آئیں گے۔ شام گئی۔ رات ہوئی۔ جب آدھی رات نے دم توڑا تو میرا حال برا ہو گیا۔ آپ کا موبائل بھی یہیں تھا۔ ملک نے بتایا کہ آپ سختی سے منع کر گئے ہیں کہ کوئی آپ کے پیچھے نہ آئے۔
حویلی کے سب لوگ پریشان تھی۔ سب جاگ رہے تھے۔ ملازم ڈیرے پر چلے گئے کہ جب بھی آپ لوٹے، وہ فوراً یہاں خبر کر دیں گے۔ ملک یہیں مردانے میں رک گیا۔ اس کی پریشانی میری وجہ سے دو چند ہو گئی تھی۔ جب مجھے کچھ نہ سوجھا تو میں نے مصلیٰ پکڑ لیا۔
پھر مجھے کچھ پتہ نہیں کہ کتنا وقت گزرا اور کیسے گزرا۔ آپ کے آنے سے کچھ دیر پہلے میرا بڑی شدت سے جی چاہ رہا تھا کہ میں آپ کی تلاش میں بابا شاہ مقیم کے مزار کی طرف چل پڑوں۔۔۔ “
“ہاں۔۔۔ تمہاری اس حالت کی خبر ہے مجھے۔ “
طاہر نے اس کی جانب نظر اٹھائی۔
“کیسے؟” وہ حیران ہوئی۔
“اس نے بتایا تھا۔ ” وہ کھوئے کھوئے انداز میں بولا۔ “اس نے مجھ سے کہا تھا کہ اب تو گھر چلا جا ورنہ وہ تیری تلاش میں نکل پڑے گی۔ “
“کس کی بات کر رہے ہیں آپ؟”
صفیہ نے اسے گھبرا کر دیکھا۔
“درویش کی۔ ” طاہر ایک گہرا سانس لے کر بولا۔
” وہ بابا شاہ مقیم کے مزار پر رہتا ہے۔ میں کل سارا دن اور آج رات اسی کے ساتھ تھا۔ “
“درویش کے ساتھ؟” صفیہ اچنبھے سے بولی۔
“ہاں۔ کل جب میں اس کے پاس پہنچا تو وہ مجھے حافظ عبداللہ اور سکینہ کے پاس لے گیا۔ “
“حافظ عبداللہ؟ سکینہ؟”
صفیہ اور الجھ گئی۔۔۔ مگر ان دو ناموں کے ساتھ ہی جیسے بات کا سِرا طاہر کے ہاتھ آ گیا۔
“ہاں۔ ” وہ نیم دراز ہو گیا۔
” میں تمہیں ان کی کہانی سناتا ہوں صفو۔ ایسی بات تم نے شاید اپنی زندگی میں کبھی نہ سنی ہو گی۔ “
پھر وہ ہولے ہولے بولتا رہا۔ کبھی اس کی آواز بھیگ جاتی تو کبھی لہجے میں تھکن اتر آتی۔ کبھی آنکھوں کے گوشے نم ہو جاتے تو کبھی چہرہ لرزہ بر اندام ہو جاتا۔ بُت بنی صفیہ، حافظ عبداللہ اور سکینہ کی داستان سنتی رہی اور ایک ایک پل، ایک ایک گھڑی میں یوں سانس لیتی رہی، یوں جیتی رہی جیسے وہ خود سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہو۔
“اب وہ دونوں نور پور کی مسجد کے حجرے میں یک جان دو قالب بنے بیٹھے ہیں۔ ایک سانس لیتا ہے تو دوسرا زندہ دکھائی دیتا ہے۔ ایک کا دل دھڑکتا ہے تو دوسرے کا سینہ متحرک لگتا ہے۔ درویش کہتا ہے یہ عشق کا عین ہے جس نے ان دونوں کو اپنی باہوں میں لے لیا ہے۔ عشق کا عین جو عاشقِ صادق کی عبادت سے شروع ہوتا ہے اور عقیدت تک پھیلا ہوا ہے۔ “
طاہر خاموش ہو گیا۔
صفیہ کتنی ہی دیر ایک کیف میں ڈوبی رہی۔ اس کا سارا جسم سنسنا رہا تھا۔ اس سنسناہٹ میں ایک لذت تھی۔ ایک سرور تھا۔ ایسی باتیں اس نے پہلے کب سنی تھیں مگر یوں لگتا تھا جیسے وہ ان باتوں سے ہمیشہ سے آگاہ ہو۔
ان کا مفہوم اسے قطعاً اجنبی نہ لگا۔ طاہر نے جو کہا، ایک ایک لفظ اس کے لئے آشنا نکلا۔ اس بات پر اسے حیرت بھی تھی مگر اس سے زیادہ وہ اس لذت میں گم تھی جس نے اس کے رگ و پے میں سفر شروع کر دیا تھا۔
“ارے۔۔۔ “
آہستہ سے اس نے نظر اٹھائی تو بے ساختہ اس کے لبوں سے نکلا۔
” آپ رو رہے ہیں طاہر؟”
آگے سرک کر وہ اس کے پہلو میں آ گئی۔
“کہاں ؟”
طاہر نے دھیرے سے اپنی آنکھوں کو چھوا۔ اس کے ہاتھ نم ہو گئے تو وہ مسکرا دیا۔
” ارے واقعی۔۔۔ مگر کیوں ؟ یہ آنسو کیوں بہہ رہے ہیں ؟”
“یہ آنسو نہیں ہیں۔ موتی ہیں۔ گوہر ہیں۔ “
صفیہ نے کہا
طاہر نے تھکے تھکے انداز میں آنکھیں موند لیں اور سر تکیے پر رکھ دیا
” یہ تو ہوئی دن کی بات۔ رات کی بات ابھی باقی ہے۔ اب وہ سنائیے۔ “
وہ پیار سے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی۔
“رات کی بات۔۔۔ ” طاہر آہستہ سے ہنسا۔
” اچھا کہا تم نے۔ رات کی بات۔ ” اس نے دہرایا۔
“کہتے ہیں رات گئی بات گئی۔۔۔ مگر صفو۔ لگتا ہے جو رات میں درویش کے ساتھ گزار کر آیا ہوں ، اس کی بات تو شروع ہی اب ہوئی ہے۔ ختم کب ہو گی، کون جانے۔ “
وہ خاموش ہو گیا۔
صفیہ کچھ دیر اس کے بولنے کا انتظار کرتی رہی۔ جب خاموشی طویل ہو گئی تو اس نے آہستہ سے طاہر کے چہرے کی جانب دیکھا۔ وہ تو سکون سے سو رہا تھا۔ صفیہ اس کے چہرے کو وارفتگی سے تکتی رہی۔ جی ہی نہ بھر رہا تھا اسے دیکھ دیکھ کر۔
صفیہ نے اسے بستر پر آرام سے لٹایا اور بیڈ سوئچ دبا کر لائٹ آف کر دی۔ وہ طاہر کو خوب سونے دینا چاہتی تھی۔ کمبل اس پر اچھی طرح اوڑھا کر کے وہ اس کے پاؤں کی طرف سمٹ کر یوں لیٹ گئی کہ طاہر کے پاؤں اس کے بازوؤں کے حلقے میں تھے اور ہونٹ تلووں کو چھُو رہے تھے۔
کمرے کے نیم اندھیرے میں سکون نے آہستہ سے آنکھ کھولی اور کسی پہرے دار کی طرح ان کی رکھوالی کرنے لگا۔
جدہ ایر پورٹ پر بیگم صاحبہ اعجاز اور ڈاکٹر ہاشمی بورڈنگ کارڈ حاصل کرنے کے بعد فلائٹ کی اناؤنسمنٹ کے انتظار میں لاؤنج میں چلے آئے۔
عمرہ کے بعد انہوں نے مدینہ شریف میں پورے دو ماہ گزارے تھے۔ اب مزید قیام بڑھوانا ممکن نہ رہا تو مجبوراً بیگم صاحبہ نے واپسی کی تیاری کر لی۔
طاہر اور صفیہ کے ساتھ ساتھ وسیلہ خاتون کو بھی واپسی کی اطلاع دو دن پہلے دی جا چکی تھی۔ فلائٹ کا وقت تین بجے کا تھا۔ ابھی دو بج کر چالیس منٹ ہوئے تھے۔
بیگم صاحبہ اعجاز اور ڈاکٹر ہاشمی آمنے سامنے گدیلے صوفوں پر بیٹھے تھے۔
بیگم صاحبہ کے ہاتھ میں تسبیح چل رہی تھی جبکہ ڈاکٹر ہاشمی ایر پورٹ کی گہما گہمی کو نظروں میں تولتے ہوئے کاؤنٹر پر انگوٹھا چلا رہے تھے۔ رہ گیا اعجاز تو وہ سوائے بتیاں دیکھنے کے اور کیا کرتا۔
“ارے۔۔۔ “
ایک دم بیگم صاحبہ کے ہونٹوں سے تحیر بھری آواز نکلی۔ وہ ڈاکٹر ہاشمی کے پچھلی طرف کسی کو دیکھ رہی تھیں۔
“کیا ہوا بیگم صاحبہ؟” ڈاکٹر ہاشمی چونکے۔
“ڈاکٹر صاحب۔ یہ اپنا سرمد یہاں کیا کر رہا ہے؟”
وہ جلدی سے بولیں۔
“سرمد۔۔۔ اور یہاں ؟”
ڈاکٹر ہاشمی نے حیرت سے کہا اور پلٹ کر دیکھا۔ “ارے ہاں۔ یہ تو سرمد ہی ہے۔ ” وہ اٹھ گئی۔
” آپ بیٹھئے۔ میں اسے لے کر آتا ہوں۔ “
وہ کہہ کر تیزی سے باہر جاتے سرمد کی طرف بڑھے جو احرام باندھے خارجی دروازے کی طرف چلا جا رہا تھا۔
“سرمد۔۔۔ ” انہوں نے اسے پیچھے سے آواز دی۔
سر جھکائے دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا سرمد رک گیا۔
بڑی آہستگی سے اس نے گردن گھمائی اور ڈاکٹر ہاشمی کی جانب دیکھا۔
ڈاکٹر ہاشمی کے ذہن کو ایک جھٹکا سا لگا۔ دونوں باپ بیٹا آمنے سامنے کھڑے تھے۔ سرمد کندھے پر سفری بیگ ڈالے بڑی سپاٹ سی نظروں سے انہیں دیکھ رہا تھا اور ڈاکٹر ہاشمی اس کے سُتے ہوئی، زرد اور بجھے بجھے چہرے کو حیرت سے جانچ رہے تھے۔
“ارے ابو آپ۔۔۔ “
بڑی آہستگی سے سرمد کی آنکھوں میں شناسائی جاگی۔ جیسے اس نے انہیں پہچاننے میں بڑی دقت محسوس کی ہو۔
“سرمد۔ “
ڈاکٹر ہاشمی اس کے کمزور سراپے کو نظروں سے کھنگالتے ہوئے بولے۔
“یہ تم نے اپنا کیا حال بنا رکھا ہے بیٹے۔ تمہاری صحت کو کیا ہوا؟”
انہوں سے سرمد کو گلے لگا لیا۔
“صحت کو کیا ہوا ابو۔ اچھی بھلی تو ہے۔ “
وہ پھیکی سی ہنسی ہنسا اور ان کے کندھے پر سر رکھ دیا۔
“خاک اچھی ہے۔ مجھے بے وقوف بنا رہے ہو۔ “
ڈاکٹر ہاشمی نے اسے بھینچ لیا۔ پھر اس کی گردن پر بوسہ دیتے ہوئے اسے خود سے الگ کیا۔
“مجھے کچھ نہیں ہوا ابو۔ آپ کو وہم ہو رہا ہے۔ “
نم آنکھوں سے باپ کو دیکھ کر سرمد نے کہا۔ اس کا جی چاہ رہا تھا وہ ماں جیسی شفقت لٹاتے باپ کے کندھے پر سر رکھ کر خوب روئے۔ اتنا روئے کہ اندر رکا ہوا سارا غبار دھل جائے۔ جل تھل ہو جائے۔۔۔ مگر اس نے خود پر قابو پا لیا۔
” آپ عمرے سے فارغ ہو گئے اور میں کرنے جا رہا ہوں۔ “
سرمد نے باپ کا ہاتھ تھام کر کہا۔
” آؤ۔ ادھر آؤ۔ بیگم صاحبہ سے ملو۔ “
وہ اسے لئے ہوئے بیگم صاحبہ کے پاس چلے آئے۔ سرمد نے انہیں ادب سے سلام کیا اور ان کے پاس بیٹھ گیا۔ اعجاز کو جیسے اس نے دیکھا ہی نہ تھا۔
“ارے بیٹے۔ یہ تمہاری صحت کو کیا ہو گیا؟”
بیگم صاحبہ نے سلام کا جواب دیتے ہوئے اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا۔
“یہی ابو بھی کہہ رہے ہیں آنٹی۔ ” وہ ہنسا۔
“مگر میں تو خود کو بالکل ٹھیک محسوس کر رہا ہوں۔ “
“ہم دونوں غلط کہہ رہے ہیں اور تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔” ڈاکٹر ہاشمی نے اپنی جگہ بیٹھتے ہوئے خفگی سے کہا تو سرمد نے سر جھکا لیا۔
“چلئے ابو۔ آپ ہی ٹھیک ہیں۔ “
“تو اب سیدھے سیدھے بتا دو کہ تمہاری اس کمزوری اور خراب صحت کا سبب کیا ہے؟”
ڈاکٹر ہاشمی نے تلخی سے کہا۔
“کچھ خاص نہیں ابو۔ بس بخار نے یہ حالت کر دی۔ چند دنوں میں ٹھیک ہو جاؤں گا۔ واپس جاتے ہی اپنا علاج باقاعدگی سے کراؤں گا۔ “
“واپس کہاں ؟” ڈاکٹر ہاشمی نے سختی سے کہا۔
” تم عمرہ کر کے سیدھے پاکستان آؤ گے۔ رزلٹ آ چکا ہے۔ اب واپس جانا ضروری نہیں ہے۔ “
“مگر ابو۔ مجھے ساری کاغذی کارروائیاں پوری کرنا ہیں۔ اپنے رزلٹ ڈاکومنٹس وصول کرنا ہیں اور۔۔۔ “
“کچھ نہیں سنوں گا میں۔ “
ڈاکٹر ہاشمی نے اسی لہجے میں کہا۔ ان کا دل تڑپ رہا تھا۔ پھول جیسا بیٹا سوکھ کر کانٹا ہو گیا تھا۔
لگتا تھا کوئی روگ اندر ہی اندر اسے چاٹ رہا ہے۔ انہوں نے بال دھوپ میں سفید نہیں کئے تھے۔ انہیں کچھ کچھ اندازہ ہو رہا تھا کہ بات کیا ہو سکتی ہے؟مگر وہ سرمد سے بات کئے بغیر کسی نتیجے پر پہنچنا نہ چاہتے تھے۔ اور بات کرنے کے لئے یہ جگہ مناسب تھی نہ یہ ماحول۔
بیگم صاحبہ بھی اندر ہی اندر کسی سوچ کے گرد خیالوں کا جال بُن رہی تھیں۔ باپ بیٹے کی گفتگو میں انہوں نے کوئی دخل نہ دیا۔ تاہم اتنا تو وہ بھی سمجھ ہی سکتی تھیں کہ بخار جینے کی امنگ چھین لیتا ہے نہ زندگی کو بے رونق کر دیتا ہے۔
سرمد کی آنکھوں میں زندگی کی وہ علامت مفقود تھی جو چمک چمک کر انسان کو حالات کے سامنے سینہ سپر رکھتی ہے۔ اسے دیکھ کر تو لگتا تھا وہ جینا ہی نہیں چاہتا۔ بس کسی مجبور کی طرح سانس لے رہا ہے کہ موت آنے تک زندہ کہلا سکی۔
ان کا جی چاہا ڈاکٹر ہاشمی سے کہیں کہ سرمد کی اس حالت کا سبب ضرور کوئی جذباتی حادثہ ہے۔ طاہر کی ماں ہونے کے ناطے وہ اچھی طرح جانتی تھیں کہ محبت کی چوٹ سے بڑا کوئی ایسا حادثہ نہیں ہے جو انسان کو نیم جان کر دے مگر پھر انہوں نے بھی اس بات کو پاکستان پہنچنے تک کے لئے موقوف کر دیا۔
“تم عمرہ کر کے فوراً وطن پہنچو۔ اور اگر تمہارا ارادہ کسی گڑ بڑ کا ہے تو میں کچھ بھی کر کے رک جاتا ہوں۔ تمہیں ساتھ لے کر ہی جاؤں گا۔ “
ڈاکٹر ہاشمی نے کہا تو سرمد گھبرا گیا۔
“کیسی باتیں کر رہے ہیں ابو۔ ” اس نے جلدی سے کہا۔
“میں وعدہ کرتا ہوں کہ یہاں سے لندن نہیں جاؤں گا۔”
“لندن نہیں جاؤ گے اور پاکستان آؤ گے۔ یوں کہو۔ ” ڈاکٹر ہاشمی نے لفظوں پر گرفت کمزور نہ ہونے دی۔
“جی ہاں۔ ایسا ہی ہو گا۔ ” وہ بیچارگی سے ہنس پڑا۔
“پیسے ویسے ہیں ؟”
انہوں نے جیب سے پرس نکالا۔
“وافر ہیں ابو۔ ضرورت ہوتی تو میں خود ہی کہہ دیتا۔ “
اس نے انہیں روک دیا۔
“پھر بھی یہ رکھ لو۔ “
انہوں نے ویزا کارڈ پرس سے نکال کر اسے تھما دیا۔
سرمد جانتا تھا، ضد کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس لئے اس نے خاموشی سے کارڈ، بیگ کھول کر اندر رکھ لیا۔
اسی وقت پاکستان جانے والی فلائٹ کی اناؤنسمنٹ کی جانے لگی۔
“اپنا خیال رکھنا۔ “
ڈاکٹر ہاشمی کے ساتھ ہی بیگم صاحبہ اور سرمد بھی اٹھ گئے۔ انہوں نے کھینچ کر اسے پھر گلے سے لگا لیا۔ وہ بھی باپ کے سینے سے لگا ایسے سکون میں ڈوب گیا جس نے اس کی آنکھیں نم کر دیں۔ کتنی ہی دیر گزر گئی۔ تب دونوں الگ ہوئی۔ ڈاکٹر ہاشمی نے چشمہ اتارا۔ رومال سے آنکھیں خشک کیں۔ سرمد کی آنکھیں پونچھیں۔
“ارے۔ آپ تو بچوں کی طرح جذباتی ہو گئے ڈاکٹر صاحب۔ “
بیگم صاحبہ نے صورتحال کو مزید گمبھیر ہونے سے بچانا چاہا۔
“یہ میرا اکلوتا بچہ ہے بیگم صاحبہ اور میں عمر کے اس حصے میں ہوں جب انسان ویسے ہی بچہ بن جاتا ہے۔ “
وہ پھیکے سے انداز میں مسکرائے تو سنجیدگی میں خاصی کمی آ گئی۔
“اچھا آنٹی۔ اللہ حافظ۔ “
سرمد نے سر جھکا دیا۔ بیگم صاحبہ نے اس کے سر پر پیار دیا اور پیشانی چوم لی۔
“جیتے رہو۔ جلدی پاکستان آ جانا۔ زیادہ انتظار نہ کرانا ہمارے ڈاکٹر صاحب کو۔ “
“جی آنٹی۔ “
اس نے مختصراً کہا اور باپ کا ہاتھ دونوں ہاتھوں میں تھام کر ہونٹوں سے لگا لیا۔
” اپنا خیال رکھئے گا ابو۔ میرا بھی اور کون ہے آپ کے سوا۔ “
“جلدی آ جانا۔ “
ڈاکٹر ہاشمی نے دوسرے ہاتھ سے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیریں اور ہونٹ دانتوں میں داب لیا۔ نجانے کیوں ابھی تک انہیں سرمد کے پاکستان چلے آنے کا یقین نہ ہو رہا تھا۔
“جی ابو۔ “
اس نے باپ کا ہاتھ چھوڑ دیا۔ تیزی سے پلٹا اور خارجی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ جب تک وہ باہر نہ نکل گیا، ڈاکٹر ہاشمی اسے ایک ٹک دیکھتے رہے۔ پھر جب وہ ان کی نظروں سے اوجھل ہو گیا تو بیگم صاحبہ کی طرف مڑے۔
“نجانے کیا ہو گیا ہے اسے؟”
وہ آنکھوں کی نمی چھپاتے ہوئے بڑبڑائے۔
“اسے پاکستان آ لینے دیں۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ فکر نہ کریں۔ “
بیگم صاحبہ نے انہیں تسلی دی لیکن نجانے کیوں یہ الفاظ کہتے ہوئے ان کا دل بڑے زور سے دھڑک اٹھا۔
” آئیے۔ چلیں۔ “
ڈاکٹر ہاشمی نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے رن وے کی جانب کھلنے والے گیٹ کا رخ کیا۔ بیگم صاحبہ نے ایک نظر پلٹ کر اس دروازے کی طرف دیکھا جہاں سے چند لمحے پہلے سرمد باہر گیا تھا۔ پھر اعجاز کے ساتھ ڈاکٹر ہاشمی کے پیچھے قدم بڑھا دئیے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: