Ishq Ka Qaaf Novel By Sarfaraz Ahmad Rahi – Episode 17

0
عشق کا قاف از سرفراز احمد راہی – قسط نمبر 17

–**–**–

جس دن سرمد کی وسیلہ خاتون سے بات ہوئی، وہ اس کی زندگی میں مسکراہٹوں اور شگفتگی کا آخری دن تھا۔ ہنستا کھیلتا، زندگی سے بھرپور قہقہے لگاتا سرمد ایک دم مرجھا گیا۔ اس کے ساتھی لڑکے اور لڑکیاں اس کی حالت پر پہلے تو حیران ہوئے۔
اسے بہلانے اور کریدنے کی کوششیں کرتے رہے۔ اس کے لبوں سے چھن جانے والی ہنسی کی واپسی کے راستے ڈھونڈتے رہے لیکن جب انہیں اپنی ہر کوشش میں ناکامی ہوئی تو آہستہ آہستہ وہ اس سے دور ہوتے چلے گئے۔ لندن کی ہنگامہ خیز رُتوں میں کسی کے پاس اس پر ضائع کرنے کے لئے وقت نہ تھا۔
ایک انڈین لڑکی ریحا نے بڑے دنوں تک اس کا انتظار کیا۔ اس کے فلیٹ کے چکر کاٹے۔ دن رات کی پرواہ کئے بغیر اسے اپنے ماحول میں کھینچ لانے کے جتن کئے مگر جب سرمد کی اداسی بڑھتی ہی چلی گئی۔ صحت مسلسل گرنے لگی اور ہونٹوں پر سوائے آہوں کے کچھ نہ رہا تو وہ بھی مایوس ہو کر لوٹ گئی۔
رزلٹ کے بعد یہ مہینہ بھر کا وقت پارٹیوں ، ہاؤ ہو اور مستی کا تھا۔ سرمد کے گروپ کے سبھی سٹوڈنٹ کامیاب ہوئے تھے۔ واپس اپنے اپنے ملک جانے سے پہلے وہ آخری دنوں کو یادگار بنا دینا چاہتے تھے۔ سرمد ان سے کٹتا کٹتا بالکل اکیلا ہو گیا تو وہ اسے بھولنے لگی۔
پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ وہ پورا ایک ہفتہ اپنے فلیٹ میں پڑا بخار سے جنگ لڑتا رہا اور کوئی اسے ملنے بھی نہ آیا۔ اس دن کے بعد وہ خود ہی ان سب سے دور ہو گیا۔ وہ کرتا بھی کیا؟ اس نے اپنے حساب میں کوئی غلطی کی تھی نہ وقت ضائع کیا تھا۔
ہوا یہ تھا کہ اس نے ڈاکٹر ہاشمی کے ساتھ اپنے طور پر کی ہوئی کمٹ منٹ نبھانے کے لئے یہ فیصلہ کر لیا کہ اپنا رزلٹ آنے تک وہ ان سے کوئی بات نہیں کرے گا۔
جب اس کا رزلٹ نکلا تو اپنے آپ سے کئے ہوئے وعدے کے مطابق اس نے سب سے پہلے انہیں یہ خوشخبری سنانا چاہی مگر ساتھ ہی اس خیال سے کہ اس اچھی خبر کے بعد وہ انہیں صفیہ کے رشتے کے لئے اس کے گھر جانے کو کہے گا، وسیلہ خاتون سے پوچھ لینا مناسب سمجھا۔
اسے بظاہر اپنے لئے انکار کی کوئی وجہ نظر نہ آ رہی تھی، پھر بھی وہ ان کا عندیہ لے لینا چاہتا تھا۔ تاکہ کسی بھی قسم کی کوئی بدمزگی پیدا ہی نہ ہو۔ اس کی یہ احتیاط ایک طرف اگر اس کے لئے زندگی بھر کے زخم کا پیغام لے کر آئی تو دوسری طرف باپ سے اس بارے میں بات کر کے جو شرمندگی اس کے حصے میں آنے والی تھی، اس سے بچ گیا۔
سب باتیں اپنی جگہ ایک اٹل حقیقت تھیں مگر وہ اپنے دل کا کیا کرتا جو دھڑکنا ہی بھولتا جا رہا تھا۔ صفیہ کا خیال اب اس کے لئے شجرِ ممنوعہ تھا مگر وہ اس کے خیال سے دامن چھڑاتا تو کیسے؟ اس کی راتیں بے خواب ہو گئیں۔ دن بے رونق ہو گئے۔
وقت کا ایک ایک لمحہ ٹیس بنتا چلا گیا۔ سانس لیتا تو آہ نکلتی۔ آنکھ اٹھاتا تو ہر طرف اس دشمنِ جاں کی تصویر سجی نظر آتی جو کبھی اس کی تھی ہی نہیں۔ وہ اکیلا ہی اس آگ میں جلتا رہا تھا۔ اس نے صفیہ کے ساتھ گزرے ہوئے ایک ایک پل میں جھانکا۔
کسی جگہ اسے صفیہ کی جانب سے کوئی ہمت افزائی کا اشارہ نہ ملا۔ کہیں اس کی نظروں سے چھلکنے والا کوئی پیغام نہ تھا۔ وہ کس وہم کے سہارے زندگی میں اس کے تصور کو جینے کا بہانہ مان لیتا؟ اگر یہ عشق تھا تو یک طرفہ تھا۔ اگر یہ محبت تھی تو صرف اسی کی طرف سے تھی۔ اگر یہ پیار تھا تو اس میں صفیہ کی رضا کہیں نہ تھی۔
آہیں ، آنسو، پچھتاوا۔ یہی اس کا اوڑھنا بچھونا بن گیا۔ صفیہ کا خیال آتا تو آہ ہونٹوں پر مچل جاتی۔ اس کے طاہر کا ہو جانے کے بارے میں سوچتا تو آنسو دل کا دامن بھگو دیتی۔ اپنی طرف سے کی گئی دیر پچھتاوا بن کر دل مسل ڈالتی تو وہ تڑپ تڑپ جاتا۔
بڑی کوشش کی کہ کسی طرح خود کو سنبھال لے مگر عشق میں ناکامی کا داغ ایسی آسانی سے دھُل جانے والا ہوتا تو کوئی بات بھی تھی۔ یہ ناسور تو ایساتھاجو اندر کی جانب رِستا تھا۔ اس کا سارا زہر سوچوں اور خیالوں میں اترتا اور وہیں پڑا چرکے لگایا کرتا۔ وہ چند ہفتوں ہی میں سوکھ کر کانٹا ہو گیا۔
ایک دن فلیٹ کے پتے پر خط آیا۔ کھولا تویونیورسٹی کی طرف سے انوی ٹیشن تھا۔ یونیورسٹی والوں نے کامیاب طلبہ کے اعزاز میں ایک فنکشن ارینج کیا تھا جس میں انہیں ڈگریاں دی جانے والی تھیں۔ تب اسے خیال آیا کہ اس نے ابھی تک باپ کو اپنی کامیابی کی اطلاع ہی نہیں دی۔
خود کو سنبھالا کہ باپ کہیں اس کی آواز اور لہجے سے اس کے دُکھ کا بھید نہ جان لی۔ پھر اسے فون کیا۔ ڈاکٹر ہاشمی نے اس کی آواز سن کر بیتابی سے پوچھا کہ اتنے دنوں تک رابطہ کیوں نہیں کیا۔ بتایا کہ وہ اسے وقفے وقفے سے کنٹیکٹ کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں مگر اس کا موبائل نہ مل رہا تھا۔
سرمد نے بہانہ کیا کہ موبائل خراب تھا اور وہ رزلٹ آنے پر ہی انہیں بتانا چاہتا تھا اس لئے جان بوجھ کر رابطہ نہیں کیا۔ وہ اس کی کامیابی کا سن کر پھولے نہ سمائے۔ اس وقت سرمد کو پتہ چلا کہ وہ پاکستان میں نہیں ، ارضِ حجاز پر ہیں۔
تقسیمِ اسناد کی تقریب میں شرکت کے لئے وہ عین وقت پر گیا اور ڈگری وصول کر کے نکال آیا۔ ریحا نے اسے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر وہ لوٹ آیا۔
اب اس کا لندن میں کوئی کام نہ تھا۔ اہم امور نمٹانے میں زیادہ سے زیادہ ایک ہفتہ لگ جاتا۔
اس کے بعد وہ وطن جا سکتا
تھا مگر وہ وہاں نہ جانے کے بارے میں اپنا فیصلہ وسیلہ خاتون کو سنا چکا تھا۔ ویسے بھی وہ وہاں جا کر کیا کرتا؟ خود پر قابو نہ رکھ پاتا تو معمولی سی حرکت صفیہ کے لئے وبالِ جان بن سکتی تھی۔ اس نے عزم کر لیا کہ کبھی پاکستان نہیں جائے گا۔ ڈاکٹر ہاشمی کو کس طرح سمجھایا جاتا، اس بات کو اس نے آنے والے وقت پر چھوڑ دیا۔
پندرہ دن پہلے آخری بار اس کی بات ڈاکٹر ہاشمی سے ہوئی۔ ان کا ارادہ ابھی مزید مدینہ شریف میں رکنے کا تھا۔ تین مہینے کا وقت پورا کئے بغیر وہ واپس پاکستان جانا چاہتے تھے نہ بیگم صاحبہ۔
اب پہلی بار وہ سوچ میں پڑ گیا۔ پندرہ دن بعد جب ڈاکٹر ہاشمی کا ارضِ حجاز پر قیام ختم ہو جاتا تو وہ لازماً واپس چلے جاتے۔ پھر وہ لندن میں مزید رکنے کا کیا بہانہ کرتا؟
سوچ سوچ کر اس کا دماغ پھوڑا بن گیا۔ ایک طرف صفیہ سے دور رہنے کا ارادہ اور دوسری طرف تنہائی کا مارا باپ۔ جو اس کے لئے گن گن کر دن گزار رہا تھا۔
اس شام ریحا اس سے ملنے آئی۔ دونوں کتنی ہی دیر چُپ چاپ بیٹھے رہے۔ وہ اس کی حالت پر بیحد دُکھی تھی۔
“سرمد۔ “
خاموشی طویل ہو گئی تو ریحا نے لب کھولی۔
“ایک بات پوچھوں ؟”
“پوچھو۔ “
اس نے بجھی بجھی نظروں سے اس کے ملیح چہرے کو دیکھا۔
“مجھے تمہارے نجی معاملے میں دخل تو نہیں دینا چاہئے لیکن ہم نے ابھی تک بڑا اچھا وقت گزارا ہے۔ تم اسے دوستی کہہ لو مگر میں یہ کہنے میں کوئی باک نہیں رکھتی کہ میں تم میں انٹرسٹڈ تھی۔ آں ہاں۔۔۔ چونکو مت۔ “
ریحا نے ہاتھ اٹھا کراسے کچھ کہنے سے روک دیا۔
“اسی لئے میں اب تک تمہارے لئے خوار ہو رہی ہوں۔ بارہا ایسا ہوا ہے کہ تم مجھ سے بات نہیں کرنا چاہتے تھے مگر میں ڈھیٹ بن کر تمہارے ارد گرد منڈلاتی رہی۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہم دونوں کا مذہب جدا ہے۔ کلچر جدا ہے۔ رہن سہن جدا ہے، میں اس آس پر تمہیں مائل کرنے کی کوشش کرتی رہی کہ تم لندن کے آزاد ماحول میں پل بڑھ رہے ہو۔ ہم کسی نہ کسی کمپرومائز پر پہنچ کر ایک ہو جائیں گی۔
تمہاری ایک دم بدل جانے کی کیفیت نے مجھے تم سے قریب رکھا جب میں نے پوری طرح جان لیا کہ ہماری یونیورسٹی کی یا باہر کی کسی لڑکی میں تم انٹرسٹڈ نہیں ہو۔ مگر تمہارے گریزاں رویے نے مجھے بد دل کر دیا تو میں کچھ دنوں کے لئے تم سے دور چلی گئی۔ یہ سوچ کر کہ شاید میری دوری تمہیں میرے ہونے کا احساس دلائے اور تم مجھ سے ملنا چاہو مگر ۔۔۔ “
وہ پھیکے سے انداز میں مسکرائی۔
“یہ میری بھول تھی۔ تم آج بھی ویسے ہی ہو جیسے چند ماہ پہلے پتھر ہو گئے۔ بہرحال۔۔۔ “
اس نے اپنے بال جھٹکے سے چہرے سے ہٹائے اور اس کی حیران حیران آنکھوں میں جھانک کر کہا۔
” آج میں تم سے یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا تمہاری یہ حالت کسی لڑکی کی وجہ سے ہے؟”
سرمد نے اس سے نظریں چرا لیں۔ اس کے لب کانپے اور سر جھک گیا۔
“خاموش مت رہو سرمد۔ “
وہ اٹھی اور اس کے سامنے قالین پر گھٹنے ٹیک کر بیٹھ گئی۔ اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئے اور اسے والہانہ دیکھنے لگی۔
“یہ مت سوچو کہ تمہارے اقرار سے مجھے دُکھ ہو گا۔ ہو گا مگر اس سے زیادہ یہ ضروری ہے سرمد کہ میں حقیقت جان لوں تاکہ مجھے یہ پچھتاوا نہ رہے کہ میں نے تم سے اصل بات جاننے کی کوشش ہی نہیں کی۔ بولو سرمد۔ ویسے بھی جب تک تم اپنا دُکھ کسی کو بتاؤ گے نہیں ، تمہارے غم کا مداوا نہ ہو سکے گا۔ یہی سوچ کر بولو سرمد کہ شاید میں ، تمہارے کسی کام آ سکوں۔ “
بے اختیار سرمد کی آنکھوں سے آنسو ٹپکے اور ریحا کے ہاتھوں پر گری۔
“سرمد۔ ” ریحا بے چین ہوگئی
“میں کیا بولوں ریحا؟”
وہ یوں رو دیا جیسے اسے اب تک ریحا ہی کے کندھے کا انتظار تھا۔ ریحا اٹھی اور اس کے پاس صوفے پر بیٹھ گئی۔ سرمد نے دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا لیا اور بلکنے لگا۔ ریحا اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتی رہی اور اپنے آنسوپینے کی ناکام کوشش کرتی رہی۔
جی بھر کر رو لیا تو سرمد کا من ہلکا ہو گیا۔ ریحا نے اس کا منہ ہاتھ دھلوایا۔ اصرار کر کے شیو کرائی۔ کپڑے بدلوائے اور اپنی ننھی سی ٹو سیٹر میں اسے ہل پارک میں لے آئی۔
شام ہونے کو تھی۔ آمنے سامنے گھاس کے فرش پر بیٹھے جب چند منٹ سکوت کے عالم میں گزر گئے تو ریحا نے محبت سے اس کا ہاتھ تھام کر سہلاتے ہوئے کہا۔
“ہاں تو سرمد جی۔ اب کھل جائے۔ ذرا بتائیے تو کہ وہ کون مہ وش ہے جس نے ہمارے حق پر ڈاکہ ڈالا ہے؟”
“ڈاکہ؟”
سرمد نے نظریں اٹھائیں اور مسکراتی ہوئی ریحا کو دیکھ کر ہلکی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر بھی ابھری۔ پھر یہ مسکراہٹ ایک سرد آہ میں بدل گئی۔
“وہ مجھ سے ٹیوشن پڑھا کرتی تھی ریحا۔۔۔ “
ہولے ہولے اس نے کہنا شروع کیا۔ ریحا سنتی رہی اور جب سرمد نے بات ختم کی تو ریحا کو اداسی پوری طرح گرفت میں لے چکی تھی۔
سرمد خاموش ہو گیا۔
ریحا سر جھکائے تنکے توڑتی رہی۔ لگا، جیسے اسے سرمد کی بات ختم ہونے کا پتہ ہی نہیں۔ وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی۔ تب ہوا کے ایک سرد جھونکے نے انہیں کپکپا کر رکھ دیا۔
ریحا نے سر اٹھایا۔ شام اتر آئی تھی۔ پرندے چہچہانا ختم کر چکے تھے۔ پارک سے لوگ رخصت ہو رہے تھے۔
“تمہارا اداس ہونا سمجھ میں آتا ہے سرمد۔ “
ریحا نے ایک گہرا سانس لیا۔
“واقعی۔ بات ہی ایسی ہے کہ انسان اپنے قابو سے باہر ہو جاتا ہے، جیسے کہ تم۔۔۔ مگر اب کیا؟ ساری زندگی تو دُکھ کی یہ چادر اوڑھ کر نہیں گزاری جا سکتی۔ “
“گزاری جا سکتی ہے ریحا۔ “
پہلی بار سرمد کے لبوں پر بڑی جاندار مسکراہٹ بکھری۔
” آج سے پہلے مجھے بھی یہ زندگی بوجھل لگتی تھی۔ سانس جیسے سینے میں آرا بن کر چلتا تھا۔ چاہتا تھا کہ جیسے تیسے یہ جینا ختم کر کے دنیا سے چل دوں مگر ۔۔۔ “
اس نے بڑی محبت سے ریحا کا ہاتھ تھام لیا۔
” آج تمہارے سامنے رو لیا ہے تو لگتا ہے سانس لینا آسان ہو گیا ہے۔ میں تمہارا یہ احسان مرتے دم تک یاد رکھوں گا ریحا۔ تم نے میرا من دھو کر سارا غبار اپنے دامن میں سمیٹ لیا ہے۔ اب صفیہ کا دُکھ، دُکھ نہیں رہا۔ ایک نشہ بن گیا ہے۔ اس کی یاد اب نشتر نہیں چبھوتی، ٹیس بن کر درد جگاتی ہے۔
اس درد میں ایک لذت ہے ریحا۔ میں نے ایسی لذت کبھی محسوس ہی نہیں کی، جس سے آج گزر رہا ہوں۔ یاد ایسی مست بھی ہوتی ہے، مجھے اس سے تم نے آشنا کیا۔ یہ غم کا مزہ تمہاری دین ہے۔ صفیہ کے ساتھ تمہاری یاد جُڑ گئی ہے ریحا۔ اسے میں چاہوں بھی تو الگ نہیں کر سکتا۔ “
“میں ایسی گہری اور مشکل مشکل باتیں نہ کر سکتی ہوں نہ سوچ سکتی ہوں سرمد۔ “
ریحا نے مسکرا کر کہا۔
“بس یہ جان کر خوش ہوں کہ اب تم زندگی کی طرف لوٹ رہے ہو۔ ساری بات سمجھ کر ایک امید کی جوت دل میں جگا لی ہے میں نے کہ شاید ایک دن تم میرے پاس آ جاؤ اور کہو کہ ریحا۔ مجھے اپنی باہوں میں لے لو۔ میں بہت تھک گیا ہوں۔ آؤ مل کر ایک آشیانہ بنائیں جس میں۔۔۔ “
“بس۔ مجھ سے کوئی وعدہ نہ لینا ریحا۔ اگر تم میرا نصیب ہو تو ایسا ضرور ہو گا اور اگر میں تمہارا حصہ نہیں ہوں تو آرزو کا پودا پالنے سے کوئی کسی کو نہیں روک سکتا۔ “
“جانتی ہوں سرمد۔ میں جب تک ممکن ہو سکا تمہارا انتظار ضرور کروں گی۔ زندگی کے آخری سانس تک انتظار کا وعدہ اس لئے نہیں کر سکتی کہ ماں باپ کی نافرمان نہیں ہونا چاہتی تاہم کوشش کروں گی کہ اس وقت تک کسی کی سیج نہ سجاؤں جب تک تمہاری طرف سے نا امیدی کی خزاں کا جھونکا میرے یقین کے گلشن میں نہ در آئے۔ “
ایک عجیب سے وعدے اور امید کے دیپ دلوں میں جلا کر دونوں اٹھے اور چل پڑی۔ اسے فلیٹ پر چھوڑ کر ریحا نے باہر ہی سے رخصت چاہی تو سرمد کو پتہ چلا کہ وہ اگلے دن واپس انڈیا جا رہی ہے۔
“کبھی لوٹنا چاہو تو بڑا سیدھا سا پتہ ہے سرمد۔ سرینگر میں جموں کشمیر روڈ پر کوٹھی نمبر تین میرا گھر ہے۔ میرا موبائل نمبر تمہیں ازبر ہے۔ کوشش کرنا کہ یہ سیٹ تم بھی کبھی نہ بدلو جس کا نمبر میرے پاس ہے۔ اس پر میں اکثر تمہیں تنگ کرتی رہوں گی۔ “
“واپس جا کر کیا کرو گی؟”
سرمد نے اس کا بڑھا ہوا ہاتھ تھام کر پوچھا۔
“سب سے پہلے ماں سیتا کے مندر جاؤں گی۔ ان سے تمہیں مانگوں گی۔ فرقت کا دُکھ وہ خوب سمجھتی ہیں۔ مجھے یقین ہے اگر تم میرے نصیب میں نہیں بھی ہو تو وہ میرا نصیب بدل دیں گی۔ تمہیں ضرور میرے دامن میں ڈال دیں گی۔۔۔ اور جب تک ایسا ہو نہیں جاتا تب تک مجھے سکون اور سُکھ کا وردان ضرور دیں گی۔ “
ریحا نے اس کا ہاتھ ہونٹوں سے لگایا۔ آنکھوں سے مس کیا اور اس کی جانب دیکھے بغیر گاڑی میں بیٹھ کر رخصت ہو گئی۔ شاید اس میں جاتے ہوئے سرمد کو چھوڑ جانے کے احساس سے آنکھیں ملانے کی ہمت نہ تھی۔
ریحا چلی گئی۔
مگر۔۔۔ وہ اپنی جگہ بُت بنا کھڑا تھا۔ اس کے دماغ میں بگولے سے چکرا رہے تھے۔ کانوں میں سیٹیاں سی بج رہی تھیں۔ کیا کہہ گئی تھی ریحا؟ اس کا ایک بُت پر کیسا پختہ یقین تھا۔ اسے کیسا اعتماد تھا ایک پتھر پر کہ وہ اس کا مقدر بدل دے گا۔ اسے سکون اور اطمینان بخش دے گا۔ ہونی کو انہونی کر دکھائے گا۔
یہ ایک باطل مفروضے پر قائم مذہب نما ڈھکوسلے پر یقین رکھنے والی ریحا کا حال تھا اور وہ خود جو ایک آفاقی، ازلی و ابدی سچ کے حامل دین کا پیروکار تھا۔ جس کا ایمان ایک، اکیلے اور واحد اللہ پر تھا۔ اس کی سوچ اپنے معبود کی طرف گئی ہی نہ تھی، جو اسے سب کچھ دے سکتا تھا۔ انہونی کو ہونی کر سکتا تھا۔ سکون اور سُکھ کے لئے جس کی طرف رجوع کر لینا ہی کافی تھا۔ وہ اس کے بارے میں اب تک غفلت کا شکار تھا۔
ندامت سے اس کی پیشانی پر پسینہ آ گیا۔ جسم میں شرمندگی کی ایک لہر سی دوڑ گئی۔ صفیہ تو اب اس کی نہ ہو سکتی تھی مگر اس نے اپنے خالق سے اس زخم کا تریاق مانگا ہی نہ تھا۔ تنہائی اوڑھ لی تھی۔ اداسی پہن لی تھی۔ نا امیدی کے رستے پر تھکے تھکے قدم اٹھاتا وہ زندگی کا لاشہ گھسیٹ رہا تھا۔ بھول گیا تھا کہ ہر غم، ہر دُکھ، ہر زخم کا مداوا جس کے پاس ہے وہ اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اور اس کے پکار لینے کا ہر آن منتظر ہے۔
ایک بُت پرست نے اپنے دو فقروں سے اسے ملیا میٹ کر دیا۔ گرتا پڑتا وہ فلیٹ میں پہنچا اور قبلہ رخ ہو کر سجدے میں گر پڑا۔ کچھ نہ کہا۔ کچھ نہ بولا۔ بس، روتا رہا۔ ہچکیاں لیتا رہا۔ سسکتا رہا۔ اس کے حضور ندامت کی سب سے اعلیٰ زبان آنسو ہیں اور آنسو اسے جس قدر پسند ہیں ، اس کے بارے میں آنسو بہانے والا سب سے بہتر جانتا ہے۔ یہ آبگینے جب جب پھوٹتے ہیں تب تب اس کے دربار میں بیش قیمت ہوتے جاتے ہیں۔
دوسرے دن اس نے عمرے کے لئے ویزا اپلائی کر دیا۔ اس کے اندر ایک اور ہی شمع روشن ہو گئی تھی۔ اس کا جی چاہتا تھا اڑ کر حرم جا پہنچی۔ اپنے آقا کے حضور جائے اور پھر لوٹ کر نہ آئی۔ اسے شرم آتی تھی ریحا کے پتھر کے بے جان بھگوان کے بارے میں سوچ کر۔ جس کا ذکر کر کے ریحا نے اسے اس کے سچے خدا کی طرف رجوع کا ادراک بہم پہنچایا تھا۔ ریحا کا یہ دوسرا احسان اس کے پہلے احسان سے بھی بڑا تھا جو اس نے سرمد کی ذات پر کیا تھا۔
ڈاکٹر ہاشمی سے رخصت ہو کر وہ ایر پورٹ سے باہر نکلا اور مکہ کے لئے روانہ ہو گیا۔
ہوٹل میں سامان رکھ کر حرم پہنچا تو اس کی حالت غیر ہو گئی۔ جسم سے جان نکل گئی۔ ہاتھ پاؤں سرد پڑ گئی۔ وہ گرتا پڑتا صحنِ حرم میں داخل ہوا اور گر پڑا۔ اپنے رب کے گھر کے سامنے سجدے میں پڑا وہ سسک رہا تھا۔ کتنی ہی دیر گزر گئی۔ اس کا سر اٹھانے کو جی ہی نہ چاہتا تھا۔ پھر جیسے دل کو قرار سا آ گیا۔ سکون اس کا شانہ تھپک کر تسلی دیتا ہوا جسم و جان میں اتر گیا۔ آنسو خشک ہو گئے یا شاید ختم ہو گئی۔
اس نے سجدے سے سر اٹھایا۔ کعبہ، اپنے اللہ کے پہلے اور آخری گھر پر نظر ڈالی۔ اسے لگا، کعبہ اسے اپنی طرف بلا رہا ہے۔ باہیں پسارے اسے سینے سے لگانے کو اشارے کر رہا ہے۔ وہ آہستہ سے اٹھا اور عمرے کے ارکان ادا کرنے لگا۔ حجرِ اسود کو چومنے کے لئے جھکا تو ایک خیال برق کی طرح اس کے دل و دماغ میں روشنی دے گیا۔
“اسے میرے آقا نے بوسہ دیا ہے۔ “
اس کے لئے حجرِ اسود کا بوسہ لینا مشکل ہو گیا۔ جس پتھر کو اس کے آقا نے اپنے لبِ اطہر سے چوما تھا، وہ اسے کس ادب سے بوسہ دے؟ کس احترام سے ہونٹوں سے لگائے؟ لرزتے کانپتے ہوئے اس نے اس جنتی پتھر کو بوسہ دیا اور بادل نخواستہ پیچھے ہٹ گیا۔ طواف کرتے کرتے وہ جب بھی حجرِ اسودکے بوسے کے لئے رکا، اس کی یہی حالت ہوئی۔
وہ مکہ میں ارکانِ عمرہ سے فارغ ہو گیا۔ اب اسے مدینہ شریف جانا تھا۔ اپنے اللہ کے حبیب پاک کے حضور حاضر ہونا تھا۔ اپنے آقا و مولا کا خیال آتے ہی اس پر ایک کیف سا طاری ہو گیا۔ رات گزارنا اس کے لئے مشکل ہو گیا۔ ساری رات وہ حرم میں نفل پڑھتا رہا۔ اسے صبح صبح شہرِ نبی کے لئے روانہ ہو جانا تھا اور وہ چاہتا تھا کہ اس دوران نیند میں ایک لمحہ بھی ضائع نہ کرے۔
صبح آخری بار حرم کا طواف کر کے جب وہ رخصت ہوا تو اس کے ہاتھ دعا کے لئے اٹھے۔ دل سے ایک خوشبو کا جھونکا نکلا اور حرم کی جانب روانہ ہو گیا۔
“میرے معبود۔ اسے سُکھی رکھنا۔ “
آمین کے لفظ کے ساتھ اس نے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے حرم کو نگاہوں میں جذب کر لینا چاہا تو جدائی کا احساس، رخصت ہونے کا غم اس کی آنکھوں کو دھندلا گیا مگر جانا تو تھا۔ اس نے سر جھکا کر دونوں ہاتھ کسی غلام کی طرح باندھ لئے اور قدم وداع ہونے کے لئے اٹھا دیا۔
بیگم صاحبہ کا فون آیا تو طاہر نے صفیہ سے واپسی کی تیاری کرنے کا کہہ دیا۔ وہ دو دن بعد آ رہی تھیں۔
“طاہر۔ ” جھجکتے ہوئے صفیہ نے کہنا چاہا۔
“کہو ناں۔ رک کیوں گئیں ؟”
“واپسی سے پہلے ایک بار بابا شاہ مقیم کے مزار پر لے چلئے مجھے بھی۔ “
صفیہ نے اس کے سینے پر پیشانی ٹکا دی۔
“تو پھر آج ہی چلو۔ صبح واپس جانا ہے۔ وقت نہیں ملے گا۔ “
“تو چلئے۔ میں تیار ہوں۔ ” وہ کھل اٹھی۔
تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد وہ بابا شاہ مقیم کے مزار پر تھی۔ درویش برگد تلے دری بچھائے جیسے انہی کے انتظار میں بیٹھا تھا۔
“سلام کر کے ادھر ہی آ جانا اللہ والیو۔ “
اس نے وہیں سے صدا لگائی۔ صفیہ نے خود کو چادر میں خوب اچھی طرح ملفوف کر رکھا تھا۔ اس نے گاڑی سے اتر کر درویش کی جانب نظر اٹھائی جو سر جھکائے ہولے ہولے جھوم رہا تھا۔
” آ جاؤ۔ پہلے سلام کر لیں۔ “
طاہر اسے لئے ہوئے مزار کی جانب چل پرا۔
سادہ سے مزار کے اندر داخل ہوتے ہی صفیہ کو ایک عجیب سے سکون نے گھیر لیا۔ جتنی دیر وہ طاہر کے ساتھ اندر کھڑی دعا کرتی رہی اس کا سارا جسم کسی نامعلوم احساس سے لرزتا رہا۔ اس کپکپاہٹ میں ایک ایسا سرور تھا ، ایک ایسی لذت تھی، ایک ایسا کیف تھا، جسے وہ بیان نہ کر سکتی تھی۔
دعا کے بعد وہ دونوں باہر آئے اور درویش کے پاس دری پر جا بیٹھی۔ طاہر نے اس سے مصافحہ کیا اور اس کے چہرے پر کچھ تلاش کرنے لگا۔ کوئی پیغام۔ کوئی سندیسہ۔
“بیٹی آئی ہے۔ ” اس نے صفیہ کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
“جی بابا۔ ” صفیہ نے ادب سے جواب دیا۔
“جیتی رہو۔ تمہارے سُکھ کی دعا تو وہاں قبول ہوئی ہے جہاں۔۔۔
” کہتے کہتے درویش خاموش ہو گیا۔
“اس پگلے کا خیال رکھا کرو۔ “
اس نے بات بدل دی۔
“اپنی سی کوشش تو کرتی ہوں بابا۔ “
صفیہ نے آنکھ نہ اٹھائی۔
“کوشش ہی فرض ہے پگلی۔ اس کے بعد تو سب اس کی مرضی پر ہے۔ “
درویش نے آسمان کی جانب دیکھا۔
“اور کوشش کا پھل وہ ضرور دیتا ہے۔ “
صفیہ خاموش رہی۔
“بابا۔ کل صبح ہم واپس جا رہے ہیں۔ “
طاہر نے پہلی بار زبان کھولی۔
“خیر سے جاؤ اللہ والیو۔ خیر سے جاؤ۔ خیر سے رہو۔ ” وہ جھوم کر بولا۔
” آپ کو اپنا وعدہ یاد ہے ناں بابا؟”
“یاد ہے۔ یاد ہے۔ “
درویش نے اس کی جانب مسکرا کر دیکھا۔
“اتاولا نہ ہو۔ وقت آنے دے۔ وعدے سارے پورے ہوں گے اس کے حکم سے۔ “
پھر اس نے پاس پڑی ایک کاغذ کی پڑیا اٹھائی اور صفیہ کی جانب بڑھا دی۔
“یہ لے بیٹی۔ یہ بابے شاہ مقیم کا تبرک ہے۔ گھر جا کر دونوں چکھ لینا۔ “
” جی بابا۔ “صفیہ نے پڑیا لے کر پرس میں رکھ لی۔
“بس اب جاؤ۔ اللہ کی پناہ۔ رسول کی امان۔ “
درویش نے دونوں ہاتھوں سے صفیہ کے سر پر پیار دیا۔ طاہر سے ہاتھ ملایا۔ اس کی آنکھوں میں غور سے دیکھا۔ دھیرے سے مسکرایا اور دو زانو بیٹھا رہا۔
طاہر اور صفیہ اٹھے۔ الٹے پاؤں دری سے اترے۔ جوتے پہنے اور ایک بار پھر اسے سر خم کر کے سلام کر کے گاڑی میں آ بیٹھے۔ درویش آنکھیں بند کئے جھوم رہا تھا۔ طاہر نے گاڑی سٹارٹ کی تو درویش کے لبوں سے ایک مدھ بھری تان نکلی۔
پیلُو پکیاں وی۔ پکیاں نے وے
آ چُنوں رَل یار
وہ جھوم جھوم کر گاتا رہا۔ طاہر نے بڑی خوابناک نظروں سے صفیہ کی طرف دیکھا جو درویش کی تان میں گم پلکیں موندے اس کے شانے سے لگی بیٹھی تھی۔ جسم میں پھریریاں لیتے سرور نے طاہر کو مست سا کر دیا۔ بے خودی کے عالم میں اس نے ایکسیلیٹر پر پاؤں کا دباؤ بڑھا دیا۔ نور پور کی حدود سے نکلنے تک درویش کی تان ان کا یوں پیچھا کرتی رہی جیسے انہیں رخصت کرنے کے لئے ان کے ساتھ ساتھ محو سفر ہو۔
بیگم صاحبہ ڈاکٹر ہاشمی اور اعجاز کو طاہر، صفیہ، وسیلہ خاتون، نزدیکی رشتے دار اور طاہر کے آفس کے لوگ چھوٹے موٹے جلوس کی شکل میں کوٹھی لے کر آئی۔
یہاں طاہر نے نیاز کا اہتمام کر رکھا تھا جس کا انتظام پروفیسر قمر اور امبر کے سپرد تھا۔ عشا کے قریب فراغت ہوئی۔ رشتے داروں کے بعد ڈاکٹر ہاشمی اور وسیلہ خاتون رخصت ہو گئے تو پروفیسر قمر اور امبر نے بھی اجازت لی۔
رات کے آٹھ بجے تھے جب صفیہ اور طاہر بیگم صاحبہ کے کمرے میں ان کے دائیں بائیں بستر پر آ بیٹھی۔ بڑے سے ایرانی کمبل میں تینوں کا چھوٹاسا خاندان سما گیا۔ پھر مکہ اور مدینہ، حرم اور حرم والی۔ گنبدِ خضریٰ اور آقائے رحمت کی باتیں شروع ہوئیں تو وقت گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا۔
بیگم صاحبہ کا سارا طمطراق، سادگی اور عاجزی میں بدل چکا تھا۔ شہرِ نبی کی بات پر وہ بار بار پُر نم ہو جاتیں۔ ان کی باتوں سے لگتا تھا کہ اگر ان کے بس میں ہوتا تو وہ واپس ہی نہ آتیں۔ وہیں مر مٹ جاتیں۔ دیوار گیر کلاک نے رات کے گیارہ بجنے کا اعلان کیا تو بیگم صاحبہ نے انہیں جا کر سونے کو کہا۔
“بس بیٹی۔ اب تم لوگ بھی جا کر سو جاؤ۔ رات آدھی ہونے کو ہے۔ اور صبح اٹھ کر نماز بھی پڑھا کرو۔ “
“جی امی۔ “
صفیہ نے شرارت سے طاہر کی جانب دیکھا۔
“میں تو پڑھتی ہوں۔ انہیں کہئے۔ “
“طاہر۔ “
بیگم صاحبہ نے تسبیح تکئے تلے رکھتے ہوئے کہا۔
“نماز پڑھا کرو بیٹے۔ اب تم بچے نہیں رہے۔ “
“جی امی۔ “
اس نے چوری چوری صفیہ پر آنکھیں نکالیں۔
پھر دونوں انہیں سلام کر کے اپنے کمرے میں آ گئے۔
مسجدِ نبوی کے صحن میں بیٹھ کر گنبدِ خضریٰ کو تکتے رہناسرمد کا سب سے پسندیدہ عمل تھا۔ وہ جب سے اپنے آقا کے شہر میں آیا تھا اس نے نماز اور درود کے علاوہ اور کسی شے کی طرف دھیان ہی نہ دیا تھا۔ ہوٹل میں کپڑے بدلنے یا غسل کے لئے جاتا ورنہ اس کا سارا وقت وہیں گزرتا۔
اللہ کے حبیب کے حضور حاضر ہو کر اس نے جو کیف پایا تھا، اس کا اظہار لفظوں میں ممکن ہی نہ تھا۔ دل کی دھڑکنیں زبان کے ساتھ صدا دیتی ہوئی، د رود شریف کے ورد میں شامل رہتیں۔ ایک مہک تھی جو اسے ہر طرف رقصاں محسوس ہوتی۔ ایک نور تھا جو ہر شے پر محیط نظر آتا۔ ایک سکون تھا جو اسے ہواؤں میں تیرتا ملتا۔
آنکھیں بند کرتا تو اجالے بکھر جاتی۔ پلکیں وَا کرتا تو قوس قزح کے رنگ چھلک پڑتی۔ آقا کا خیال آتا تو نظر اشکوں سے وضو کرنے لگتی۔ واپس جانے کا خیال آتا تو جگر میں ایک ٹیس سی آنکھ کھول لیتی۔ مگر ، ہر ایک کیفیت میں مزا تھا۔ ایک لذت تھی۔ درد بھی اٹھتا تو سرور آمیز لگتا۔
آخری دن تھا جب وہ دربارِ نبوی میں ہدیہ درود و سلام پیش کرنے کے بعد دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے کھڑا تھا۔ زبان گنگ تھی۔ لب کانپ رہے تھے اور دعا کے الفاظ کہیں گم ہو چکے تھے۔
کتنی ہی دیر گزر گئی۔ اس کے آنسو تھم ہی نہ رہے تھے۔ ہچکی بندھ گئی تو وہ کھڑا نہ رہ سکا۔ آہستہ سے وہ اپنی جگہ بیٹھ گیا۔ چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا اور سسکنے لگا۔
“میرے آقا۔ میرے مولا۔ میں کیا مانگوں ؟ کوئی طلب ہی نہیں رہی۔ آپ کے در پر آ گیا۔ اب اور کیا چاہوں ؟ کس کے لئے چاہوں ؟”
اور “کس کے لئے ” کے الفاظ پر ایک دم اس کے تصور میں ایک چہرہ ابھرا۔
“ہاں۔ اس کے لئے سُکھ عطا کیجئے۔ “
دل سے ایک بار پھر مہک نکلی۔
“اپنے لئے بھی تو کچھ مانگ پگلے۔ “
ایک سرگوشی نے اسے چونکا دیا۔ اس نے ادھر ادھر نظر دوڑائی۔ جس کی صدا تھی، وہ کہیں نظر نہ آیا۔ لوگ اس سے دور دور تھی۔
“اس در پر آ کر کچھ نہ مانگنا بد نصیبی ہے۔ کچھ مانگ لے۔ کچھ مانگ لے۔ “
کوئی اسے اکسا رہا تھا۔ اسے سمجھا رہا تھا۔ مگر کون؟ اس نے بار بار تلاش کیا۔ کوئی دکھائی نہ دیا۔ تھک کر اس نے سر جھکا لیا اور آنکھیں موند لیں۔
“کیا مانگوں ؟”
اب وہ خود سے سوال کر رہا تھا۔
“کیا مانگوں ؟ کیا مانگوں ؟”
اس کا رواں رواں پکار رہا تھا۔ پھر جیسے یہ سوال جواب میں بدل گیا۔ اسے اپنی زبان پر اختیار نہ رہا۔ اپنی طلب پر اختیار نہ رہا۔ اپنے آپ پر اختیار نہ رہا۔
“میرے آقا۔ میں خام ہوں۔ ناکام ہوں۔ مجھے وہ دیجئے۔ وہ عطا کیجئے جو مجھے کامیاب کر دے۔ “
ان الفاظ کے ادا ہوتے ہی جیسے اس کی زبان پر تالا لگ گیا۔ اس کا سارا جسم ہلکا ہو گیا۔ ہوا سے بھی ہلکا۔ وہ بے وزن ہو گیا۔ اس نے بات ان کی مرضی پہ چھوڑ دی تھی جنہیں اللہ نے اپنا حبیب بنایا اور لوح و قلم پر تصرف عطا کر دیا۔ مانگے سے لوگ من کی مرادیں پاتے ہیں۔ بِن مانگے، اپنی مرضی سے وہ کیا عطا کر دیں ، کون جان سکتا ہے ؟
سرمد نے نفع کا سودا کر لیا تھا۔ ایسے نفع کا سودا، جس کے لئے اس کے پلے صرف اور صرف عشق کا زر تھا۔ عشق۔۔۔ جس سے اس کا ازلی و ابدی تعلق ظاہر ہو چکا تھا۔ عشق۔۔۔ جس نے اسے ہجر و فراق کی بھٹی میں تپا کر کندن بنانے کی ٹھان لی تھی۔
اپنے آقا و مولا کے در کے بوسے لیتا ہوا وہ مسجدِ نبوی سے رخصت ہوا۔ چوکھٹ کو چوم کر دل کو تسلی دی۔ حدودِ مدینہ سے نکلنے سے پہلے خاکِ مدینہ پر سجدہ کیا۔ اسے ہونٹوں اور ماتھے سے لگایا۔ پھر مٹھی بھر یہ پاکیزہ مٹی ایک رومال میں باندھ کر اپنی اوپر کی جیب میں رکھ لی۔ اس کے لئے یہ کائنات کا سب سے بڑا تحفہ تھا۔
ہوٹل کے کمرے سے اپنا مختصر سامان سمیٹ کر اس نے سفری بیگ میں ڈالا اور چیک آؤٹ کے لئے کاونٹر پر چلا آیا۔
ٹیکسی نے اسے جدہ ایر پورٹ کے باہر اتارا تو دن کے گیارہ بج رہے تھے۔ اچانک وہ ایر پورٹ کی عمارت میں داخل ہوتے ہوتے رک گیا۔
“کہاں جا رہا تھا وہ؟”
اس نے خود سے سوال کیا۔
اس کی لندن واپسی کی ٹکٹ کنفرم تھی مگر اس نے باپ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ عمرے کے بعد لندن نہیں جائے گا، پاکستان آئے گا۔ سوچوں نے اس پر یلغار کر دی۔ اس کے لئے فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا کہ وہ کیا کرے؟ پاکستان جانا تو اس کے لئے ممکن ہی نہیں تھا اور لندن جانے کا راستہ اس نے ڈاکٹر ہاشمی سے وعدے کی صورت میں بند کر لیا تھا۔ وہ خیالوں میں ڈوبا ہوا ایر پورٹ میں داخل ہوا اور پتھر کے ایک بنچ پر بیٹھ کر آنکھیں موند لیں۔
اس کی پشت پر دوسری جانب اسی بنچ پر دو نوجوان بیٹھے سرگوشیاں کر رہے تھے۔ انہوں نے سرمد کو بیٹھتے دیکھا تو خاموش ہو گئے۔ چند لمحے سر جھکائے رہے۔ پھر انہوں نے آہستہ سے گردن گھما کر سرمد کی طرف دیکھا جو دنیا و مافیہا سے بے خبر اپنے ہی خیالوں میں گم تھا۔
چند لمحے اس کا جائزہ لیتے رہنے کے بعداس نوجوان نے، جس کی عمر بائیس تئیس سال سے زیادہ نہ تھی، اپنے پچیس چھبیس سالہ ساتھی کی طرف دیکھا جو اس عرصے میں وہاں موجود باقی تمام نشستوں کا جائزہ لے چکا تھا۔ کوئی بھی جگہ خالی نہ پا کر اس نے دھیرے سے نفی میں سر ہلایا۔ پہلے نوجوان نے اسے آنکھوں ہی آنکھوں میں سرمد کی طرف سے اطمینان دلایا۔ چند لمحوں کے بعد وہ پھر سرگوشیاں کرنے لگے۔
” آج آخری دن ہے حسین۔ اگر آج بھی طلال نہ پہنچا تو ہم دونوں کو روانہ ہو جانا پڑے گا۔ مزید وقت نہیں ہے ہمارے پاس۔ “
“تم ٹھیک کہہ رہے ہو حمزہ بھائی مگر طلال اکیلا کیسے کمانڈر تک پہنچ پائے گا۔ “
چھوٹی عمر کے نوجوان نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
“وہ بعد میں دیکھیں گی۔ کل کے بعد ہمیں کمانڈر تک لے جانے والا شخص پھر ایک ماہ بعد مل پائے گا۔ اور یہ سارا عرصہ ہم سوائے دعائیں مانگنے کے اور کیسے گزاریں گے۔ ” حمزہ کی سرگوشی تیز ہو گئی۔
“ہوں۔ ” حسین نے کنکھیوں سے ادھر ادھر دیکھا۔
“تو پھر پروگرام کیا رہا؟”
“ابھی عراق سے آنے والی فلائٹ چیک کریں گے۔ اگر طلال آ گیا تو ٹھیک۔ ورنہ آج رات نو بجے صبح کی فلائٹ کے لئے ٹکٹیں کنفرم کرا لیں گے۔ “
“سیدھا دہلی اور وہاں سے سرینگر۔۔۔ “
“شش۔۔۔۔ ” حمزہ نے حسین کا ہاتھ دبا دیا۔
“نام مت لو کسی جگہ کا۔ “
اس کے لہجے میں سختی تھی۔
“سوری بھائی۔ “
حسین نے معذرت خواہانہ آواز میں کہا۔
“تمہاری یہ سوری کسی دن ایسا کام دکھائے گی کہ۔۔۔ ” حمزہ نے ہونٹ کاٹتے ہوئے سر جھٹکا اور دوسری طرف دیکھنے لگا۔
اسی وقت عراق کے شہر نجف سے آنے والی فلائٹ کی اناؤنسمنٹ ہونے لگی۔ حمزہ اور حسین ایک ساتھ اٹھے اور داخلی دروازے کی جانب بڑھ گئی۔ وہ بڑے اطمینان اور سکون سے قدم اٹھا رہے تھے۔ ان کی چال میں کسی قسم کا اضطراب نہ تھا۔
اضطراب تو وہ بُت بنے بیٹھے سرمد کی جھولی میں ڈال گئے تھے جو کہنیاں گھٹنوں پر رکھی، ہاتھوں پر چہرہ ٹکائے ان دونوں کو دزدیدہ نگاہوں سے جاتا دیکھ رہا تھا۔
ان کی گفتگو نے سرمد کے قلب و ذہن میں جوار بھاٹا پیدا کر دیا تھا۔ اسے فوری طور پر کوئی فیصلہ کرنا تھا۔ خشک ہوتے حلق کو اس نے تھوک نگل کر تر کیا اور جب نجف سے آنے والی فلائٹ کے پہلے مسافر نے کلیرنس کے بعد لاؤنج میں قدم رکھا تو اس نے اپنی نشست چھوڑ دی۔ اس کا رخ باہر کی جانب تھا۔
اسے کہاں جانا تھا، فیصلہ ہو چکا تھا۔ راستہ دکھایا جا چکا تھا۔ اب تو اسے صرف قدم بڑھانا تھا اور منزل تک پہنچنا تھا۔
آدھ گھنٹے بعد وہ جدہ کے ہوٹل الخامص کے دوسرے فلور پر کمرہ نمبر تین سو تیرہ کے باہر کھڑا تھا۔ سفری بیگ اس نے خوب سنبھال کر کندھے پر درست کیا۔ ادھر ادھر دیکھا۔ کاریڈور بالکل خالی تھا۔ اس کا ہاتھ دستک کے لئے اٹھا۔
“کون؟” اندر سے حمزہ کی آواز ابھری۔
جواب میں اس نے پھر ہولے سے دستک دی۔ فوراً ہی کسی کے دروازے کی طرف چل پڑنے کی آہٹ سنائی دی۔ پھر ایک جھٹکے سے دروازہ کھلا۔
“تم؟”
سامنے کھڑے حمزہ کا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا۔
“کون ہے حمزہ بھائی؟”
حسین نے پوچھا۔ پھر وہ بھی اس کے پیچھے آ کھڑا ہوا۔ سرمد کو دیکھ کر اس کا حال بھی حمزہ سے مختلف نہ رہا۔
“کیا آپ مجھے اندر آنے کے لئے نہ کہیں گے؟”
سرمد مسکرایا۔
“یہ تو وہی ہے جو۔۔۔ ” حسین نے کہنا چاہا۔
“جی ہاں۔ میں ایر پورٹ پر موجود تھا۔ “
سرمد نے اخلاق سے کہا۔
“اندر آ جاؤ۔ “
اچانک حمزہ نے کہا اور ایک جھٹکے سے اس کا ہاتھ پکڑ کر اندر کھینچ لیا۔ پھر جب تک سرمد سمجھ پاتا، دروازہ بند ہو گیا اور ایک سیاہ ریوالور کی نال اس کی پیشانی پر آ ٹکی۔ حسین نے دروازہ اندر سے لاک کر دیا۔
“کون ہو تم؟” حمزہ کا لہجہ بیحد سرد تھا۔
“اس کے بغیر بھی پوچھیں گے تو میں سچ سچ بتا دوں گا۔ “
سرمد نے اچھل کر حلق میں آ جانے والے دل کی دھڑکن پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے ریوالور کی طرف اشارہ کیا۔
“بکواس نہیں۔ ” حمزہ نے اسی لہجے میں کہا۔
” تم یہاں تک پہنچے کیسے؟”
“ٹیکسی میں آپ کا پیچھا کرتے ہوئے۔ “
سرمد نے بیگ کندھے سے فرش پر گرا دیا۔ اسی وقت حسین نے پیچھے سے آ کر اس کی گردن میں بازو ڈال کر گرفت میں لے لیا۔ دوسرے ہاتھ سے اس نے سرمد کا دایاں ہاتھ مروڑ کر کمر سے لگا دیا۔
“میرا پہلا سوال ابھی جواب طلب ہے۔ کون ہو تم؟” حمزہ نے اسے مشکوک نظروں سے گھورتے ہوئے پھر پوچھا۔
“ایک پاکستانی۔ ” سرمد نے مختصراً کہا۔
“فرشتے نہیں ہوتے پاکستانی۔ “
حمزہ نے تلخی سے کہا۔
” تم ہمارا پیچھا کیوں کر رہے تھے؟”
“یہ ذرا تفصیل طلب بات ہے اور اس حالت میں تو میں وضاحت نہ کر سکوں گا۔ “
سرمد نے آنکھ کے اشارے سے حسین کی جانب اشارہ کیا۔
“ہوں۔ “
حمزہ بڑی سرد نظروں سے چند لمحے اسے گھورتا رہا۔ پھر اس نے ریوالور اس کی پیشانی سے ہٹا لیا۔
“چھوڑ دو اسے۔ “
حسین نے ایک جھٹکے سے اسے چھوڑ دیا اور سرمد اس کے دھکے سے بستر پر جا گرا۔ حمزہ کرسی گھما کر اس کے سامنے بیٹھ گیا اور ریوالور اس پر تان لیا۔ اس کا انداز بتاتا تھا کہ وہ ایک سیکنڈ کے دسویں حصے میں اسے نشانہ بنا سکتا ہے۔
“حسین۔ باہر کا جائزہ لو۔ یہ اکیلا ہے یا۔۔۔ “
جواب میں حسین نے پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈال کر ریوالور پر ہاتھ جماتے ہوئے بڑی احتیاط سے دروازہ کھولا۔ دائیں بائیں گردن گھما کر دیکھا۔ پھر باہر نکل گیا۔ تقریباً دو منٹ بعد لوٹا تو اس کے چہرے کی وحشت غائب ہو چکی تھی۔
“لگتا ہے یہ اکیلا ہی ہے حمزہ بھائی۔ “
وہ دروازہ لاک کر کے دوسری کرسی پر آ بیٹھا۔
“ہوں۔ “
حمزہ نے سرمد کی جانب معنی خیز نظروں سے دیکھا۔
“اب کھل جاؤ بچے۔ کون ہو اور کیوں آئے ہو؟ اور بولنے سے پہلے یہ سمجھ لو کہ ہمارے پاس تمہارے سچ جھوٹ کو جانچنے کے لئے وقت ہے نہ کوئی جواز۔ اس سے کم وقت میں ہم تمہاری لاش کو باتھ روم میں بند کر کے نکل جائیں گے۔ اس لئے جلدی، کم اور سچ بولو۔ “

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: