Ishq Ka Qaaf Novel By Sarfaraz Ahmad Rahi – Episode 18

0
عشق کا قاف از سرفراز احمد راہی – قسط نمبر 18

–**–**–

“میرا نام سرمد ہاشمی ہے۔ پاکستانی ہوں۔ یہاں عمرہ کرنے آیا تو زندگی کا کوئی مقصد نہ تھا۔ واپس جا رہا تھا تو آپ دونوں کی باتیں کان پڑیں۔ لگا، جیسے راستہ مل گیا ہے۔ اب بے مقصد جینے سے جان چھوٹ جائے گی۔ “
“کیا مطلب؟” حمزہ نے حیرت سے پوچھا۔
“ہماری باتوں سے کیا جان لیا تم نے؟”
“یہ کہ آپ کسی بڑے مقصد کے لئے کام کر رہے ہیں۔ مجھے بھی اس میں شامل کر لیجئے۔ “
سرمد نے تمہیدیں باندھنے سے گریز کیا۔
“او بھائی۔ کیا سمجھ رہے ہو تم؟” حمزہ ہنسا۔
” ہم کسی خاص مقصد کے لئے کوئی بڑا کام نہیں کر رہے۔ ہم تو سیدھے سادے اردنی ہیں۔ “
“اردنی؟” اب سرمد کے حیران ہونے کی باری تھی۔ “مگر آپ تو بڑی روانی سے اردو بول رہے ہیں۔ “
“تو اس میں کیا ہے۔ کیا تم لوگ ہماری طرح عربی نہیں بول لیتے؟” حمزہ نے لاپرواہی سے کہا۔
“بہر حال۔ تم نے جو سمجھا غلط سمجھا اور یہاں آ کر اس سے بھی بڑی غلطی کی۔ اب جب تک ہم جدہ سے نکل نہیں جاتے، تم یہاں قید رہو گے۔ “
“بالکل نہیں۔ میں چاہوں گا کہ آپ طلال کی جگہ مجھے اپنے ساتھ لے چلیں۔ “
“طلال؟” حمزہ کے ساتھ حسین بھی اچھل پڑا۔
” اس کے بارے میں تم کیسے اور کیا جانتے ہو؟”
“صرف یہ کہ آپ دونوں اس کے نجف سے آنے کے منتظر تھی۔ اور آج بھی اس کے نہ آنے پر اب آپ اکیلے ہی انڈیا کے لئے روانہ ہو جائیں گے۔ “
بھک سے جیسے حمزہ کے دماغ کا فیوز اڑ گیا۔ اس نے ایسی نظروں سے حسین کی طرف دیکھا جن سے بے اعتباری مترشح تھی۔
“یہ تو ہماری ساری باتیں سن چکا ہے حمزہ بھائی۔ اب اس کا زندہ رہنا ٹھیک نہیں۔ “
اس نے جیب سے ریوالور نکال لیا۔
“رکو۔ “
حمزہ نے ہاتھ اٹھا کر اسے کسی بھی اقدام سے منع کر دیا۔ پھر اس نے سرمد کی جانب دیکھا۔
“تمہارا کیا خیال ہے کہ ہم لوگ کون ہیں اور کس کام میں لگے ہیں ؟”
“میرا اندازہ ہے۔ ” سرمد بازو سہلاتا ہوا بولا۔
” آپ لوگ انڈیا میں کسی ایسی تحریک سے وابستہ ہیں جو حربی کارروائیوں میں مصروف ہے۔ آپ کے پاس یہ اسلحہ اور آپ کی گفتگو میں کمانڈر اور سرینگر کا لفظ یہی بتاتا ہے اور۔۔۔ “
“اور۔۔۔ ” حمزہ کا سانس رکنے لگا۔
“اور یہ کہ۔۔۔ “
سرمد نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں۔
” انڈیا میں صرف ایک ہی حربی تحریک چل رہی ہے۔ کشمیر کی۔۔۔ “
“تمہارا کیا خیال ہے اس تحریک کے درست اور نادرست ہونے کے بارے میں ؟”
“میں اسے جہادی تحریک سمجھتا ہوں۔ “
سرمد نے بڑے اعتماد سے کہا۔
“حمزہ بھائی۔ اس کی باتوں میں نہ آئیے۔ یہ کوئی بڑی گیم کھیل رہا ہے۔ “حسین نے بیتابی سے بات میں دخل دیا۔
“ہوں۔ “
حمزہ نے ایک گہرا سانس لیا۔ اس کی تیز اور اندر تک چھید کرتی نگاہوں نے سرمد کا سر سے پاؤں تک ایک بار بھرپور جائزہ لیا۔ پھر اس کے چہرے پر رک گئیں۔
“تو تم ہمارے ساتھ اس لئے شامل ہونا چاہتے ہو کہ تم کسی مقصد کے لئے جینا چاہتے ہو؟”
اب حمزہ اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔
” مرنا بھی اسی مقصد کے لئے چاہتا ہوں۔ “
سرمد کے لہجے سے عجیب سا عزم جھلک رہا تھا۔
“اور تمہارا خیال ہے کہ ہمیں تمہاری بات پر یقین آ جائے گا؟” تمسخر سے حمزہ نے پوچھا۔
” آ تو جانا چاہئے۔ ” سرمد نے گھبرائے بغیر جواب دیا۔
“وہ کیوں ؟” حمزہ نے اسی لہجے میں پوچھا۔
“اس لئے کہ میں جس جگہ اپنی بے مقصد زندگی سے نجات کی دعا کر کے آ رہا ہوں ، وہاں جھوٹ کو اجازت ہی نہیں کہ پر مار سکے۔ “
“کہاں سے آ رہے ہو تم؟” حمزہ ایک دم حیران ہوا۔
“اپنے آقا و مولا کے درِ اقدس سے۔ “
اور حمزہ کا ہاتھ بے جان ہو کر نیچے ہو گیا۔ ریوالور چھوٹ کر فرش پر جا پڑا۔ ایسا لگا، کسی انجانی طاقت نے ایک جھٹکے سے اسے کرسی سے کھڑا کر دیا ہو۔ حسین کا ریوالور والا ہاتھ بھی جھک گیا۔ بالکل ساکت کھڑا حمزہ چند لمحے اسے خالی خالی نظروں سے دیکھتا رہا۔ پھر اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔
“میں قربان جاؤں اس نام پر۔ “
اس کی آواز لرز رہی تھی۔
“مجھے اب تک گناہ گار کیوں کر رہے تھے تم سرمد ہاشمی؟ ارے۔ تم آتے ہی بتا دیتے کہ تمہیں میرے آقا نے بھیجا ہے۔ آ جاؤ۔ سینے سے لگو۔ ٹھنڈی ڈالو۔ میرے آقا کے بھیجے ہوئے۔ میری پلکوں پر تشریف رکھو۔ میرے دل میں قیام کرو۔ میرے سینے پر اترو مرشد۔ “
حمزہ نے بازو پسار دئیے۔ سرمد آہستہ سے اٹھا۔ پھر لپک کر اس کے سینے سے جا لگا۔ حسین ان دونوں سے آ کر لپٹ گیا۔
وہ تینوں سسکیاں بھر رہے تھے۔ انہیں اپنی منزل پر اپنے آقا کی رحمت، رضا اور خوشنودی کا سایہ چھاؤں کرتا دکھائی دے گیا تھا۔
“ہم دونوں کشمیری ہیں سرمد۔ ” حمزہ بتا رہا تھا۔ “وہاں اس وقت جتنی بھی جماعتیں جہاد کے نام پر سرگرم عمل ہیں ، ہم ان میں سے کسی ایک سے بھی تعلق نہیں رکھتے۔ اس لئے کہ کہیں نہ کہیں ان کے سیاسی مفادات اصل مقصد سے ٹکراتے ہیں۔ کمانڈر کے نام سے ہم جسے پکارتے ہیں ، ایک اللہ کا بندہ ہے جس کے دل میں اپنے غلام وطن کا دردٹیس بن کر دھڑکتا ہے۔ اس کا کسی جہادی جماعت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ وہ گوریلا کارروائیوں سے جس طرح کا نقصان پہنچا رہا ہے، وہ دن بدن بھارتی فوجوں کے لئے ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے۔
ہم نہیں جانتے کہ اس مجاہد کا تعلق کس کس علاقے اور کس کس فرد سے ہے لیکن یہ جانتے ہیں کہ اس کے گروپ میں شامل ہونے والے لا وارث مرتے ہیں نہ ان کی لاشوں کے سودے کئے جاتے ہیں۔ ان کی شہادت کے بعد ان کی میتیں ان کے اپنے علاقوں میں پہنچائی جاتی ہیں۔ کیسے؟ یہ ہم نہیں جانتے۔
کمانڈر کے گروپ کا نام “عشاق” ہے۔ وہ اللہ کے عاشق ہیں۔ رسول اللہ کے عاشق ہیں اور بس۔ ان کا ایک ہی نعرہ ہے
” عزت کی آزاد زندگی یا شہادت۔ “
گروپ میں ہر شامل ہونے والے کے لئے بنیادی شرط یہ ہے کہ وہ عمرہ کرے۔ اللہ کے گھر میں حاضری دینے کے بعد اپنے آقا کے در پر پہنچے۔ اپنے تن من کو قبولیت کا غسل دے۔ اس کے بعد گروپ میں شمولیت کے لئے کمانڈر کے خاص آدمی سے رابطہ کرے۔ ایک ماہ کی گوریلا ٹریننگ کے بعد معرکوں میں شمولیت کے لئے ڈیوٹی لگ جاتی ہے۔ پھر یہ اپنا اپنا نصیب ہے کہ شہادت ملتی ہے یا مجاہدانہ حیات۔”
“تو آپ دونوں بھی یہاں۔۔۔ “
“ہاں۔ ” حمزہ نے سرمد کی بات اچک لی۔
“ہم پہلے کشمیری مجاہدین کی ایک جماعت کے ساتھ وابستہ رہ چکے ہیں۔ ٹریننگ کی ہمیں ضرورت نہیں ہے۔ ہم عمرہ کی شرط پوری کرنے کے لئے یہاں آئے تھے۔ “
“اور طلال کون ہے؟”
“یہ ہمارا عراقی ساتھی ہے۔ عشاق میں دنیا بھر سے جذبہ شہادت سے سرشارلوگ جوق در جوق شامل ہو رہے ہیں۔ ہمیں کل تک بہر صورت سرینگر پہنچنا ہے۔ طلال نہ آیا تو ہم دونوں اس کے بغیر رخصت ہو جائیں گے۔ “
“لیکن اب مجھے بھی آپ کے ساتھ جانا ہے۔ “
سرمد نے جلدی سے کہا۔
“تم عمرہ کر چکے ہو۔ اور نجانے کیوں مجھے تمہاری باتوں میں سچائی نظر آتی ہے۔ کیوں حسین۔ “
حمزہ نے گردن گھمائی۔ ” کیا خیال ہے؟”
“میں آپ سے متفق ہوں بھائی۔ “
حسین نے ان دونوں کی جانب دیکھا۔
“سرمد ہمارے آقا کے در پر حاضری دے کر آ رہا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ ہمیں اس کی نیت پر شک کرنا چاہئے۔ “
“لیکن سرمد۔ ” حمزہ اس کی جانب متوجہ ہوا۔
” تمہارے گھر والے۔۔۔ “
“ان کے علم میں نہیں ہے کہ میں کیا کرنے جا رہا ہوں۔ میں چاہتا بھی نہیں کہ ان سے بحث و تمحیص کے بعد اس راہ پر قدم رکھوں جو مجھے میرے آقا کے در سے تفویض ہوئی ہے۔ “
“شادی ہو چکی ہے تمہاری؟” حمزہ نے پوچھا۔
“عاشقوں کی شادیاں ان کے مقصد سے ہو چکی ہوتی ہیں حمزہ بھائی۔ ” سرمد نے گول مول جواب دیا۔ ایک پل کے لئے ایک معصوم سا چہرہ اس کے تصور میں ابھرا، جسے اس نے فوراً ہی تیز ہوتی دھڑکن کے پردے میں چھپا لیا۔
“یہ تو تم نے سچ کہا۔ “
حمزہ اس سے متاثر ہو چکا تھا۔
” پھر بھی عشاق کے منشور میں ہے کہ ساری معلومات سچی اور صاف صاف بہم پہنچائی جائیں۔”
“اس کے لئے میں تیار ہوں۔ میرا دنیا میں سوائے اپنے والد کے اور کوئی نہیں ہے۔ انہیں معاشی طور پر میری مدد کی ضرورت بھی نہیں۔ وہ بڑے نامور ڈاکٹر ہیں۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ انہیں میرے اس اقدام کے بارے میں تب پتہ چلے جب میں کچھ کر کے دکھاؤں تاکہ وہ مجھ پر فخر کر سکیں۔ “
“ہوں۔ ” حمزہ نے کچھ سوچتے ہوئے سر ہلایا۔
“اپنا پاسپورٹ دو۔ “
سرمد نے قالین پر پڑا بیگ کھولا۔ پاسپورٹ نکال کر حمزہ کے حوالے کیا، جسے وہ کھول کر دیکھنے لگا۔
“سرمد۔ آخری بار سوچ لو۔ اس کے بعد تمہیں یہ موقع نہیں ملے گا کہ تم اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر سکو۔ “
“سوچ لیا حمزہ بھائی۔ ” ایک عزم سے سرمد نے کہا۔
” فیصلہ تو میرے آقا نے فرما دیا۔ مجھے تو اس پر صرف عمل کرنا ہے۔ “
“تو ٹھیک ہے۔ ” حمزہ اٹھ گیا۔
“تم حسین کے ساتھ چلے جاؤ۔ اپنی تمام چیزیں جن سے تمہاری شناخت ہو سکے، یا تو ضائع کر دو، یا اپنے گھر پاکستان کوریئر کر دو۔ صرف یہ پاسپورٹ اور آئیڈنٹی کارڈ ہے جو تمہاری پہچان رہے گا، وہ بھی سرینگر تک۔ اس کے بعد یہ بھی تمہارے لئے بیکار ہو جائے گا۔ “
“میرے پاس ویزا کارڈ اور کریڈٹ کارڈ کے علاوہ سعودی کرنسی بھی ہے حمزہ بھائی۔ اس کا کیا کروں ؟”
سرمد نے بیگ سے چیزیں نکالتے ہوئے پوچھا۔
“اگر تم چاہو تو عشاق کو عطیہ کر سکتے ہو لیکن یہ تمہاری خوشی پر منحصر ہے۔ اس کے لئے کمانڈر کی طرف سے کوئی ڈیمانڈ نہیں ہے۔ “
“تو یہ لیجئے۔ یہ میری طرف سے عشاق کو عطیہ کر دیجئے۔ “
پسرمد نے اپنا کریڈٹ کارڈ، ڈاکٹر ہاشمی کا دیا ہوا ویزا کارڈ اور سعودی کرنسی حمزہ کے حوالے کر دی۔ بیگ سے اس نے تمام کاغذات نکال لئے۔ ان کا ایک پیکٹ بنایا۔ اس پر گھر کا پتہ لکھا اور حسین کے حوالے کر دیا۔
“حسین بھائی۔ یہ کوریئر کرا دینا۔ میرا جانا ضروری تو نہیں ہے اس کے لئے۔ “
“ٹھیک ہے۔ “
حمزہ نے حسین کو اشارہ کیا۔ اس نے پیکٹ لے لیا۔
” تم یہیں رکو۔ حسین کچھ دیر میں لوٹ آئے گا۔ مجھے واپسی میں تین چار گھنٹے لگیں گے۔ “
“ٹھیک ہے حمزہ بھائی۔ “
سرمد ان کے ساتھ دروازے تک آیا۔
“کسی بھی انجان شخص کے لئے دروازہ کھولنے کی ضرورت ہے نہ کسی سے بات کرنے کی۔ میں تمہارے لئے کافی اور کچھ کھانے کو بھجوا تا ہوں۔ “
جواب میں سرمد نے محض سر ہلا دیا۔ وہ دونوں کمرے سے نکلے تو اس نے دروازہ اندر سے لاک کر لیا۔
اچانک اسے کچھ خیال آیا۔ کچھ دیر وہ سوچ میں ڈوبا رہا پھر موبائل جیب سے نکال کر ایک نمبر ملایا۔
“ہیلو۔ ریحا از ہیئر۔ “
دوسری جانب سے وہ بیتابی سے چہکی۔
“اچھے تو ہو سرمد؟ “
“ہاں ہاں۔ ” وہ ہولے سے مسکرایا۔
“میں بالکل ٹھیک ہوں۔ تم سناؤ۔ “
“میں بھی ٹھیک ہوں۔ سنو سرمد۔ کیا تم یقین کرو گے آج صبح سے میں چاہ رہی تھی کہ تم مجھے فون کرو۔ اور دیکھو، تم نے فون کر دیا۔ “
وہ ہنسے جا رہی تھی۔ کھلی جا رہی تھی۔
“دل کو دل سے راہ ہوتی ہے ریحا۔ “
وہ بے اختیار کہہ گیا۔
“اچھا۔ ” حیرت سے اس نے کہا۔
“تمہارے دل کو بھی میرے دل سے راہ ہو گئی سرمد۔ “
“میں تو محاورتاً کہہ رہا تھا پگلی۔ “
سرمد کو اپنے الفاظ کی نزاکت کا احساس ہوا۔
“چلو۔ ہم محاورے ہی میں سہی، تمہارے دل کے قریب تو آئے۔ اچھا یہ کہو۔ خیریت سے فون کیا ؟” اس نے خود ہی بات بدل دی۔ شاید اس ڈر سے کہ سرمد کا اگلا فقرہ، حقیقت کا آئینہ دکھا کر اس سے یہ چھوٹی سی خوشی بھی چھین نہ لے۔
“ہاں۔ ” سرمد نے جھجک کر کہا۔
“ایک چھوٹا سا کام تھا ریحا۔ “
“تو کہو ناں۔ جھجک کیوں رہے ہو؟ سرمد۔ یقین کرو اگر مجھے زندگی میں تم سے کوئی کام پڑا ناں۔ تومیں تمہیں حکم دوں گی۔ درخواست نہیں کروں گی۔ ارے ہمارا ایک دوسرے پر جو حق ہے اسے کھل کر استعمال کرو یار۔ نفع نقصان، لینا دینا، تعلق کو ناپ تول کر کیش کرنا، یہ تو ہم ہندو ساہوکاروں کی بدنامیاں ہیں۔ تم مسلمان ہو کر اس چکر میں کیسے پڑ گئے؟”
وہ اس کے لتے لے رہی تھی۔
“نہیں۔ ایسی بات نہیں ریحا۔ ” وہ جھینپ گیا۔
“تو پھر جلدی سے کہہ ڈالو۔ کیا کام ہے؟”
“ریحا۔ “
اس نے سارے تکلفات بالائے طاق رکھنے کی ہمت کر ڈالی۔
“تمہیں ایک بار لندن جانا پڑے گا۔ “
“تم آ رہے ہو وہاں تو میں ہزار بار لندن جانے کو تیار ہوں سرمد۔ “
ھریحا ایک دم بے چین ہو گئی۔
“نہیں۔ میں نہیں آ رہا لندن۔ “
“تو پھر۔ ” وہ حیران ہوئی۔
“تم وہاں میرے فلیٹ پر چلی جانا۔ دروازے کے سامنے اوپر جاتی سیڑھیاں ہیں۔ ساتویں زینے کے کارپٹ کے نیچے فلیٹ کی چابی ہے۔ اندر میری رائٹنگ ٹیبل کے نچلے دراز میں میرے تمام ڈاکومنٹس، رزلٹ کارڈ اور ڈگری ایک لفافے میں بند پڑے ہیں۔ وہ میرے گھر کے پتے پر میرے پاپا کے نام کوریئر کر دینا پلیز۔ “
“مگر۔۔۔ “
“دو مہینے کا کرایہ میرے ایڈوانس میں ابھی باقی ہے۔ میرے لینڈ لارڈ سے مل کر میرا حساب چکا دینا۔ سامان جسے چاہے دے دینا۔ مجھے کسی چیز سے کچھ لینا دینا نہیں۔ “
اس نے ریحا کی بات کاٹ کر کہا۔
“وہ تو میں سب کر دوں گی۔ مگر تم ہو کہاں ؟”
“میں۔۔۔ ” ایک پل کو سرمد رکا۔ پھر بولا۔
“میں سعودی عرب میں ہوں ریحا۔ عمرہ کرنے آیا تھا یہاں۔ “
“تو واپسی کب تک ہے تمہاری؟”
“جلد ہے۔ ” اس نے بات گول کر دی۔
“وہاں سے پاکستان جاؤ گے کیا؟”
“شاید۔ ” اس کی آواز دھیمی ہو گئی۔
” ابھی کچھ کہہ نہیں سکتا لیکن لندن نہ جانے کا میں اپنے پاپا سے وعدہ کر چکا ہوں ریحا۔ اس لئے تمہیں تکلیف دے رہا ہوں۔ “
“وہ تکلیف تو میں اٹھا لوں گی سرمد لیکن مجھ سے وعدہ کرو تم جہاں بھی رہو گے مجھ سے رابطہ رکھو گے۔ “
“ہاں۔ ” کچھ سوچ کر سرمد نے کہا۔
ن” اگر ممکن ہوا تو۔۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں۔ “
“اور جب بھی ہو سکا مجھ سے ملو گے بھی۔ “
اس نے مزید پاؤں پھیلائے۔
“ہاں۔ ضرور۔ “
“تو ٹھیک ہے۔ ” وہ ایک دم خوش ہو گئی۔
“میں ایک دو روز میں لندن چلی جاؤں گی۔ پھر تمہیں بتاؤں گی کہ تمہارا کام ہو گیا۔ “
وہ اس سے رابطے کا بہانہ محفوظ کر رہی تھی۔
“میں خود تم سے بات کروں گا ریحا۔ تم فکر نہ کرو۔ “
“چلو۔ جو پہلے بات کر لی، وہی سکندر۔ “
ریحا کا موڈ بیحد خوشگوار ہو رہا تھا۔ وہ سرمد کے ہنس کر بول لینے ہی پر فدا ہوئی جا رہی تھی۔
“اچھا ریحا۔ اب اجازت۔ “
“کس دل سے کہوں کہ ہاں۔ ” وہ جذباتی ہو گئی۔
“مگر ہو گا تو وہی جو طے ہے۔ اس لئے گڈ بائی سرمد۔ آل دی بیسٹ۔ “
“خوش رہو ریحا۔ سلامت رہو۔ ” سرمد نے بٹن دبا دیا۔ وہ مزید اس پگلی کو باتیں کرنے کا موقع دے کر اس کے خواب کا دورانیہ طویل نہ کرنا چاہتا تھا۔ موبائل جیب میں رکھ کر اس نے ایک گہرا سانس لیا۔ پھر کسی گہری سوچ میں گم بیڈ پر نیم دراز ہو گیا۔
سوچتے سوچتے ریحا کی جگہ موجودہ صورتحال نے لے لی اور بے اختیار اس کے رگ و پے میں ایک سکون سا بھر گیا تھا۔ یوں لگتا تھا، وہ جس مقصد کے لئے یہاں آیا تھا وہ پورا ہو گیا ہے۔
“عشاق۔ “
اچانک اس کے ذہن کے پردے پر ایک لفظ ابھرا۔ کمانڈر نے کیسا با مقصد لفظ اپنے گروپ کے لئے چُنا تھا۔ اسے اپنے بارے میں خیال آیا تو لگا، یہ لفظ اس کے لئے ہی منتخب کیا گیا ہے۔
وہ جو ایک ناکام عاشق تھا۔ اسے ایک کامیاب راستے کی نوید دے کر اس کے آقا نے رخصت کر دیا تھا۔ صفیہ کے عشق نے، عشقِ مجازی نے اس کا ہاتھ عشقِ حقیقی کے ہاتھ میں دے دیا تھا۔
تقریباً ایک گھنٹے بعد حسین لوٹا۔ اس نے ڈاکٹر ہاشمی کے پتے پر سرمد کا پیکٹ کوریئر کرا دیا تھا۔ رسید سرمد کو دے کر وہ باتھ روم میں گھس گیا۔ سرمد رسید ہاتھ میں لئے کچھ دیر اسے غور سے دیکھتا رہا۔ پھر ایک طویل سانس لے کر اسے ٹکڑوں میں بانٹ دیا۔ حسین نے اسے ایسا کرتے ہوئے دیکھا اور خاموشی سے صوفے پر آ بیٹھا۔ دوپہر کا کھانا ان دونوں نے اکٹھے کھایا۔ حمزہ شام کے قریب لوٹا۔ وہ بہت تھکا ہوا لگ رہا تھا۔
“کام ہو گیا ؟” حسین نے بیتابی سے پوچھا۔
“ہاں۔ بڑی مشکل سے ہوا مگر ہو گیا۔ “
یحمزہ نے تین پاسپورٹ نکال کر اس کی طرف اچھالے اور خود بستر پر گر پڑا۔
“ویری گڈ۔ ” حسین نے تیسرا پاسپورٹ دیکھ کر حیرت بھرے تحسین آمیز لہجے میں کہا اور پاسپورٹ سرمد کے ہاتھ میں دے دیا۔
سرمد نے اپنا پاسپورٹ کھول کر دیکھا اور اب حیران ہونے کی باری اس کی تھی۔ “ارے” کہتے ہوئے اس نے حمزہ کی جانب دیکھا۔
“یہ کیسے ہوا حمزہ بھائی؟”
“بس ہو گیا۔ اب تم لوگ تیار رہو۔ ٹھیک ساڑھے آٹھ بجے ہم لوگ چیک آؤٹ کر جائیں گے۔ نو بجے کی فلائٹ ہے۔ میں ٹکٹ کنفرم کرا لایا ہوں۔ “
سرمد نے مزید کوئی سوال کرنا مناسب نہ سمجھا اور پاسپورٹ جیب میں رکھ لیا جس پر حمزہ نے بھارت کا ویزہ لگوا لیا تھا۔
ٹھیک پونے نو بجے وہ لوگ ایر پورٹ پر تھے۔ ان کے پاس سوائے ایک ایک ہینڈ بیگ کے اب کوئی سامان نہ تھا۔ ریوالور اور فالتو سامان ہوٹل کے کمرے ہی میں چھوڑ دیا گیا تھا۔ ہینڈ بیگز میں ان کا ایک ایک کپڑوں کا جوڑا، چند اشیائے ضرورت اور پاسپورٹ تھی۔
پورے نو بجے گلف ایر لائن کے طیارے نے دہلی کے لئے رن وے چھوڑ دیا۔ کھڑکی کے قریب بیٹھے سرمد نے جدہ ایر پورٹ کی جلتی بجھتی روشنیوں پر نظر ڈالی۔ پھر فضا میں جہاز سیدھا ہوا تو ان لوگوں نے سیفٹی بیلٹس کھول دیں۔ بے اختیار سرمد نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ اس کا دل بڑے زور سے پھڑپھڑایا۔
گنبدِ خضریٰ اس کی نگاہوں میں دمکا اور غیر اختیاری طور پر اس کے لبوں پر درود شریف مہک اٹھا۔ سارا جسم ایک بار تن کر یوں ٹوٹا جیسے ساری تھکان، ساری کلفتیں ، ساری اداسیاں ہوا ہو گئی ہوں۔ آنکھیں بند کرتے ہوئے اس نے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا لی۔ حمزہ اس کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھا کنکھیوں سے دیکھ رہا تھا کہ سرمد کے لب ہولے ہولے ہل رہے ہیں۔ اس نے کان لگا کر سنا اور عقیدت سے اس کا دل بھر آیا۔ وہ دم بخود رہ گیا۔ سرمد کے ہونٹوں پر خالقِ کون و مکاں کا پسندیدہ وظیفہ جاری تھا۔
“صلی اللہ علیہ وسلم۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ “
“عشاق” کے لئے اس سے بڑا ورد اور کیا ہو سکتا ہے۔ ” اس نے سوچا اور بے ساختہ اس کے ہونٹ بھی متحرک ہو گئے۔
“صلی اللہ علیہ وسلم۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ “
اور وہاں سے ہزاروں میل دور، نور پور گاؤں کے قریب، بابا شاہ مقیم کے مزار کے باہر کھڑے درویش نے آسمان کی طرف چہرہ اٹھایا۔ ہواؤں میں کچھ سونگھا اور پکار اٹھا۔
“صلی اللہ علیہ وسلم۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ ” پھر وہ مزار کی طرف بھاگا۔
“بابا۔ او بابا شاہ مقیم۔ دیکھ۔ وہ چل دیا ہے۔ اپنی منزل کی جانب۔ دیکھ۔ اسے میرے آقا نے قبول کر لیا ہے۔ اس کا عشق اسے مہکا رہا ہے بابا شاہ مقیم۔ اسے دہکا رہا ہے۔ اسے صلی اللہ علیہ وسلم کے پر عطا کر دیے گئے ہیں۔ وہ اڑ رہا ہے۔ اس کی پرواز شروع ہو گئی بابا۔ دیکھ۔ اس نے اپنے خالق، اپنے معبود کی رضا، اپنے مقصود، اپنی منزل کی جانب سفر شرو ع کر دیا ہے۔ دیکھ۔ دیکھ۔ بابا شاہ مقیم دیکھ۔ “
درویش پاگلوں کی طرح ادھر سے ادھر بھاگا پھر رہا تھا۔ آسمان کی جانب ہاتھ اٹھا اٹھا کر اشارے کر رہا تھا۔ مزار والے کو بتا رہا تھا۔ وہ بچوں کی طرح خوش تھا۔ قلقاریاں مار رہا تھا۔ ہواؤں میں اڑنے کو پر کھول رہا تھا۔ پھر ایسا ہوا کہ ایک دم وہ مزار کے باہر ایک جگہ رک گیا۔ بایاں بازو موڑ کر کمر پر رکھا۔ دایاں ہاتھ فضا میں بلند کیا۔ سر جھکا کر آنکھیں بند کر لیں اور دھیرے دھیرے ہلکورے لینے لگا۔
“صلی اللہ علیہ وسلم۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ “
وہ جھوم رہا تھا۔ گنگنا رہا تھا۔ رقص کر رہا تھا۔ چک پھیریاں لے رہا تھا۔ ہوا اس کے ساتھ محوِ رقص تھی۔ فضا اس کے ساتھ بے خود تھی۔ درختوں کے پتے تال دے رہے تھے۔ شاخیں سر دھُن رہی تھیں۔ مٹی سوندھی سوندھی خوشبو سے مستی پھیلا رہی تھی۔
آسمان پر فرشتے اپنے رب کے حضور گا رہے تھے۔ تارے چمک چمک کر صدائیں دے رہے تھے۔ کائنات وجد میں تھی۔ جلوت و خلوت کے لبوں پر ایک ہی گیت تھا۔ ہر طرف ایک ہی نغمہ سرور بانٹ رہا تھا۔
صلی اللہ علیہ وسلم۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔
ک
ڈاکٹر ہاشمی کے سامنے سعودی عرب اور لندن سے آنے والے دونوں پیکٹ کھلے پڑے تھے۔ ایک سے سرمد کے ضروری کاغذات اور دوسرے سے اس کی ایم بی اے کی ڈگری، رزلٹ کارڈ اور یونیورسٹی کے دیگر ڈاکومنٹس بر آمد ہوئے تھے۔ دونوں کے ساتھ ہی سرمد کے طرف سے کوئی خط یا دوسری تحریر نہ تھی۔
ان کی سمجھ میں نہ آ رہا تھا کہ سرمد نے انہیں یہ سب کچھ ارسال کیا تو کیوں ؟وہ خود کہاں ہے؟ اپنا ٹھکانہ نہ بتایا تو اس کا سبب کیا ہے؟ان کے حساب سے سرمد کو کئی دن پہلے واپس ان کے پاس لوٹ آنا چاہئے تھا مگر اس کے بجائے اس کے کاغذات آئے تھے اور بس۔ مزید نہ کوئی خیر خبر نہ اطلاع۔
سوچ سوچ کر ان کاسردرد سے پھٹنے لگا۔ اپنی الجھن دور کرنے کے لئے انہوں نے آخری بار پیکٹ کے ریپر کا جائزہ لیا۔ اس پر بھیجنے والے کا نام سرمد ہاشمی تحریر تھا۔ یہ پیکٹ جدہ سے بھیجا گیا تھا۔ جبکہ لندن سے آنے والے پیکٹ پر کسی لڑکی ریحا کا نام اور پتہ سرمد کے فلیٹ کا تحریر تھا۔
کچھ سوچ کر انہوں نے لندن یونیورسٹی کے انکوائری آفس کا نمبر ملایا۔ تھوڑی دیر بعد رابطہ ہو گیا مگر وہاں سے جو معلومات حاصل ہوئیں وہ اور بھی فکرمند کر دینے والی تھیں۔ آفس والوں نے بتایا کہ سرمد عمرے کے لئے گیا اور واپس نہیں آیا۔ انہیں جس لڑکی ریحا نے سرمد کے ڈاکومنٹس ارسال کئے، وہ سرمد کی کلاس فیلو تھی۔ بھارت کی رہنے والی اور واپس انڈیا جا چکی تھی۔ وہ دوبارہ کب لندن آئی؟ اور کب اس نے سرمد کے ڈاکومنٹس ڈاکٹر ہاشمی کو کوریئر کئی، اس سے یونیورسٹی والے لاعلم تھے۔
ڈاکٹر ہاشمی کا دل گھبرا گیا۔ ان کا اکلوتا بیٹا کہاں تھا، کیا کر رہا تھا اور کس حال میں تھا؟ انہیں اس بارے میں ایک فیصد بھی علم نہ ہو پایا تھا۔ یہ بے خبری ان کے لئے سوہانِ روح بنتی جا رہی تھی۔ اچانک انہیں کچھ خیال آیا۔ ایک دم انہوں نے سامنے پڑا موبائل اٹھایا اور سرمد کا نمبر ملایا۔ دوسری طرف سے موبائل سرمد نے رسپانڈ نہ کیا۔
وہ بار بار ٹرائی کرتے رہی۔ پہلے مسلسل۔ پھر وقفے وقفے سے مگر کوئی رسپانس نہ پا کر ان کی بے چینی آخری حدوں کو چھونے لگی۔ انہوں نے لندن کے پیکٹ سے ریحا کا کوئی رابطہ جاننا چاہا مگر اس پر ریحا نے اپنا فون نمبر نہ لکھا تھا اور پتہ وہ دیکھ چکے تھے کہ سرمد کے فلیٹ کا تھا۔
وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔
انہیں سرمد کی حالت یاد آئی۔ وہ جس دگرگوں حال میں انہیں جدہ ایر پورٹ پر ملا تھا وہ اس کی ذہنی پریشانی کا منہ بولتا ثبوت تھی مگر انہوں نے اس کے پاکستان آ جانے پر معاملہ چھوڑ کر غلطی کی، اس کا احساس انہیں اب ہو رہا تھا۔ انہیں چاہئے تھا کہ وہیں اس سے ساری بات جاننے کی کوشش کرتے یا اسے ساتھ لے کر لوٹتے۔ مگر اب کیا ہو سکتا تھا؟
ان کا دل جیسے کوئی مٹھی میں لے کر مسل رہا تھا۔ انہوں نے سرمد کو باپ بن کر کم اور ماں بن کر زیادہ پالا تھا۔ اس کی اچانک گمشدگی اور غیر خبری ان کے لئے ناقابل برداشت ہو رہی تھی۔
آج صبح سے انہوں نے کوئی مریض نہ دیکھا تھا۔ اپنے کمرے میں آتے ہی انہیں دونوں پیکٹ مل گئے اور انہوں نے چپراسی سے کہہ دیا کہ مریضوں کو ڈاکٹر جمشید کے کمرے میں بھجوا دی۔ ڈاکٹر جمشید کو انٹر کام پر مریض دیکھنے کی ہدایت دے کر انہوں نے پیکٹ کھولے اور اب چکر کھاتے ہوئے دماغ پر قابو پانے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔
ان کا دماغ کسی ایسے ہمدرد کو تلاش کرنے میں ناکام رہا جو اس صورتحال میں انہیں صحیح راستہ دکھا سکے یا ان کی پریشانی کم کرنے کے لئے کچھ کر سکی۔ سوچتے سوچتے انہیں طاہر کا خیال آیا۔ وہ ان سے کافی بے تکلف بھی تھا۔ اس کے زندگی بھر کے معاملات ان کے سامنے، اور اکثر انہی کے ہاتھوں طے ہوئے تھے حتی ٰ کہ اس کی شادی تک ان کی مرہون منت تھی۔ اس کے تعلقات ہر شعبہ حیات میں تھے۔ THE PROUDکے حوالے سے وہ دنیا کے کئی ممالک میں جانا جاتا تھا۔
انہوں نے ٹیلی فون سیٹ اپنی طرف کھسکایا اور تیزی سے طاہر کا نمبر ملایا۔ نمبر ملاتے ہوئے ان کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ نمایاں تھی۔
“یس۔ انکل۔ طاہر بول رہا ہوں۔ “
دوسری جانب سے آواز ابھری تو ڈاکٹر ہاشمی کا خشک ہوتا ہوا گلا درد سے بھر گیا۔
“طاہر۔۔۔ بیٹے۔ ” ان کی آواز بھرا گئی۔
“کیا بات ہے انکل؟” وہ چونک پڑا۔ ” خیریت تو ہے؟”
“پتہ نہیں بیٹے۔ ” وہ بے بس سے ہو گئے۔
” انکل۔ انکل۔ ” طاہر بیتابی سے بولا۔
“خیریت تو ہے ناں۔ کیا بات ہے آپ پریشان لگتے ہیں۔ “
“بیٹے۔ وہ سرمد۔۔۔ سرمد۔۔۔ ” ان کی آواز ٹوٹ گئی۔
“کیا ہوا سرمد کو؟”
طاہر کے ذہن کو جھٹکا سا لگا۔ “انکل۔۔۔ “
“پتہ نہیں بیٹے۔۔۔ “
وہ آنسو پینے کی کوشش کر رہے تھے۔
“سرمد کا کوئی پتہ نہیں چل رہا۔ “
“پتہ نہیں چل رہا؟” حیرت سے طاہر نے کہا۔
“انکل۔ وہ لندن میں ہے ناں۔۔۔ “
“نہیں۔ وہ وہاں نہیں ہے۔ جب ہم واپس آ رہے تھے تو وہ ہمیں جدہ ایر پورٹ پر ملا تھا اور بہت پریشان تھا۔ میں نے اسے عمرہ کر کے سیدھا واپس پاکستان آنے کو کہا تھا مگر ۔۔۔ “
ڈاکٹر ہاشمی کہہ رہے تھے اور طاہر بُت بنا ان کی بات سن رہا تھا۔ اس کے کانوں میں سیٹیاں سی گونج رہی تھیں۔ اسے ڈاکٹر ہاشمی کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ سب کچھ سمجھ میں بھی آ رہا تھا مگر جواب دینے کے لئے اس کی زبان سے کوئی لفظ نہ نکل رہا تھا۔ حواس جیسے پتھرا گئے تھے۔
“اب بتاؤ میں کیا کروں طاہر بیٹے۔ میرا سرمد کہاں ہے؟ کس حال میں ہے؟ کوئی نہیں بتاتا مجھے۔ “
وہ بچوں کی طرح رو پڑے۔
“انکل۔ ” ایک دم اسے ہوش آ گیا۔
” آپ۔۔۔ آپ گھبرائیے نہیں۔ میں آ رہا ہوں آپ کے پاس۔ فکر کی کوئی بات نہیں انکل۔ ہم مل کر سرمد کو ڈھونڈ نکالیں گے۔ آپ پریشان نہ ہوں۔ میں ابھی چند منٹ میں پہنچ رہا ہوں آپ کے پاس۔ “
اس نے ریسیور کریڈل پر ڈالا اور اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کے ذہن میں صرف ایک بار صفیہ اور سرمد کے واسطے سے خیال آیا، جسے سر جھٹک کر اس نے دور پھینک دیا۔ اس بارے میں درویش نے اس کا من یوں دھو ڈالا تھا کہ کیا کوئی تیزاب سنگ مرمر کو دھوتا ہو گا۔ وہ تیز تیز قدموں سے آفس سے نکلا اور چند لمحوں کے بعد اس کی گاڑی ڈاکٹر ہاشمی کے ہاسپٹل کی طرف اڑی جا رہی تھی۔
حمزہ، حسین اور سرمد دہلی ایر پورٹ پر اترے تو صبح کے سات بج رہے تھے۔ سردیوں کی صبح کا سورج طلوع ہونے کی جدوجہد کر رہا تھا۔
خاصی سخت چیکنگ کے بعد وہ عمارت سے باہر نکلے۔ حمزہ نے ایر پورٹ سے باہر کھڑی ٹیکسیوں میں سے کسی کو لفٹ نہ کرائی اور ان دونوں کو ساتھ لئے ہوئے ایر پورٹ کی حدود سے باہر نکل آیا۔ جونہی اس نے ایر پورٹ بس سٹاپ پر قدم روکے، ایک آٹو رکشا ان کے قریب آ رکا۔
“خاص گنج چلیں گے صاحب؟”
دبلے پتلے ڈرائیور نے گردن باہر نکالی۔
“ضرور چلیں گے بھائی۔ ” حمزہ نے خوشدلی سے کہا۔ “بیٹھو بھئی۔ ” اس نے حسین اور سرمد کو اشارہ کیا۔ تینوں پھنس پھنسا کر ہینڈ بیگز گود میں رکھے رکشا میں سوار ہوئے اور ڈرائیور نے رکشا آگے بڑھا دیا۔
“ناشتہ ؟”
اچانک ایک موڑ مڑتے ہوئے ڈرائیور نے پوچھا۔
“گھر چل کر کریں گے۔ ” حمزہ نے مختصر جواب دیا اور تب سرمد کو پتہ چلا کہ رکشا والا ان کا اپنا آدمی ہے۔
تقریباً بیس منٹ بعد رکشا خاص گنج کی گنجان آبادی میں داخل ہوا اور ایک دو منزلہ مکان کے سامنے رک گیا۔
حمزہ نے اتر کر دروازے پر دستک دی۔ حسین اور سرمد اس کے پاس آ کھڑے ہوئے۔ سرمد نے ایک طائرانہ نگاہ سے ارد گرد کا جائزہ لیا۔ پاکستان کے کسی اندرون شہر کی آبادی سے ملتا جلتا ماحول تھا۔ دکانیں اور مکان بھی ویسے ہی تھے۔ بھیڑ کا بھی وہی عالم تھا۔ ڈرائیور انہیں اتار کر رکشا وہیں چھوڑ کر کسی طرف نکل گیا۔ دوسری دستک پر دروازہ کھل گیا اور کسی نے انہیں اندر آنے کا راستہ دے دیا۔
وہ تینوں اندر داخل ہوئے۔ سرمد نے اندر قدم رکھا تو
دروازہ کھولنے والے باریش نوجوان نے دروازہ بھیڑ دیا۔
“قاسم کہاں ہے؟” اس نے حمزہ سے پوچھا۔
“شاید ناشتہ لینے گیا ہے۔ “
حمزہ نے بتایا اور وہ ڈیوڑھی سے گزر کر صحن میں آ گئے۔
“کب روانگی ہے؟”
بیٹھک نما کمرے کے دروازے پر جوتیاں اتار کر وہ اندر آئے تو فرشی نشست پر بیٹھتے ہوئے حمزہ نے پوچھا۔
“شام چھ بجے۔ “
نوجوان نے کہا۔ پھر اس کی نظر سرمد سے ہٹ کر حمزہ پر ٹھہر گئی۔
“یہ کون ہیں ؟”
“اپنے ہی ساتھی ہیں۔ عمرے کے بعد وہیں مل گئے تھے۔”
“داؤد کو خبر ہے؟”
“نہیں۔ میں خود بتا دوں گا۔ “
“ٹھیک ہے۔ “
نوجوان نے بات ختم کر دی۔ پھر اس نے سرمد کی طرف مصافحے کے لئے ہاتھ بڑھایا۔
“خالد کمال۔ “
“سرمد۔ ” اس نے گرمجوشی سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔
اسی وقت قاسم ناشتے کا سامان لئے ہوئے کمرے کے دروازے پر آ رکا۔
“خالد۔ یہ سنبھالو۔ میں ذرا داؤد کو خبر کر آؤں۔ “
خالد نے دونوں شاپر اس کے ہاتھ سے لے لئے تو وہ وہیں سے لوٹ گیا۔ خالد نے جب تک حلوہ پوڑی، چنے اور بالائی کے دونے پلیٹوں میں نکال کر رکھی، اتنی دیر میں ان تینوں نے باری باری اٹیچ باتھ روم میں جا کر رفع حاجت کی۔ منہ ہاتھ دھویا اور پھر ناشتے کے لئے بیٹھ گئے۔
“تم ناشتہ کر چکے کیا؟”حمزہ نے خالد سے پوچھا۔
“نہیں۔ تم لوگ کرو۔ میں اتنی دیر میں چائے بنا لوں۔ “وہ باہر نکل گیا۔
سرمد، ان دونوں کے ساتھ ناشتے میں مشغول ہو گیا۔ وہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ بات جتنی بھی تھی اس کی سمجھ میں آ رہی تھی اور جو نہ آ رہی تھی، اس کے بارے میں وہ سوال کرنا نہ چاہتا تھا۔ ناشتے کے بعد چائے کا دور چلا۔ کپ خالی ہوئے ہی تھے کہ قاسم لوٹ آیا۔
“داؤد کو خبر کر دی ہے میں نے۔ وہ ٹھیک چھ بجے ٹاٹا بس سٹینڈ آگرہ روڈ پر ہمارا انتظار کرے گا۔ “
حمزہ نے جواب دینے کے بجائے محض اثبات میں سر ہلانے پر اکتفا کیا۔
“اب تم لوگ آرام کر و۔ سرینگر تک کا سفر بڑا تھکا دینے والا ہے۔ “
قاسم، خالد کے ساتھ کمرے سے نکل گیا۔
حمزہ اور حسین نے تکیے سر کے نیچے رکھے اور کمبل اوڑھ لئے۔ سرمد نے تکیہ دیوار کے سہارے کھڑا کیا اور اس کے ساتھ ٹیک لگا کر نیم دراز ہو گیا۔ کمبل اس نے کمر تک کھینچ لیا۔
“سونے کی کوشش کرو سرمد۔ ورنہ سفر میں دشواری ہو گی۔ “
” آپ فکر نہ کریں حمزہ بھائی۔ ” سرمد مسکرایا۔
” میں جاگنے کا ایکسپرٹ ہوں۔ نیند آئی تو سو جاؤں گا۔ “
حمزہ نے اس سے بحث نہ کی۔ آنکھیں بند کر لیں۔ حسین اتنی ہی دیر میں خراٹے نشر کرنے لگا تھا۔
اب سرمد انہیں کیا بتاتا کہ سرینگر کا نام سنتے ہی اس کی آنکھوں میں ریحا اتر آئی تھی۔ وہ سرینگر میں جموں کشمیر روڈ پر رہتی تھی۔ انہیں بھی کشمیر جانا تھا۔ سوچیں گڈ مڈ ہونے لگیں۔ اس نے پلکیں موند لیں اور ایک دم ریحا کا تصور دھواں ہو گیا۔
اب گنبدِ خضریٰ سامنے تھا۔ سکون نے اسے باہوں میں لے لیا۔ ایک دم اسے کوئی خیال آیا اور سارے جسم میں سنسنی سی دوڑ گئی۔ اس کا دل بڑے زور سے دھڑکا۔ پھر یقین نے جیسے اس کے خیال پر مہر ثبت کر دی۔ وہ بے حس و حرکت پڑا رہ گیا۔ وہ خیال کیا تھا ایک خوشبو تھی جو اس کے رگ و پے میں سرایت کرتی جا رہی تھی۔
اس نے جان لیا تھا کہ جب سے جدہ ایر پورٹ سے روانہ ہوا تھا، وہ جب بھی آنکھیں موندتا، گنبدِ خضریٰ اس کے تصور کے پردے پر ابھر آتا اور زبان پر درود تو ہر وقت جاری رہنے لگا تھا۔ جب وہ زبان سے کوئی بات کرنے لگتا تو دل اس وظیفے کو چومنے لگتا۔
اس وقت بھی اس نے پلکیں موندیں تو گنبدِ خضریٰ سامنے آ گیا اور زبان، وہ تو جیسے
“صلی اللہ علیہ وسلم “
کے لئے وقف ہو چکی تھی۔ اس کے ہولے ہولے ہلتے ہونٹ بے آواز درود پڑھ رہے تھے اور دزدیدہ نگاہوں سے حمزہ اسے دیکھ کر رشک محسوس کر رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ سرمد ہر وقت درود شریف کے ورد میں محو رہتا ہے۔
اسے اس حال میں دیکھ دیکھ کر وہ خود بھی درود پڑھنے کا عادی ہوتا جا رہا تھا۔ اس وقت بھی جب اس نے سرمد کے ہونٹ ہلتے دیکھے تو بے اختیار خود بھی دل ہی دل میں درود پڑھنے لگا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ سرمد کو پتہ چلے کہ وہ اس کی تقلید کر رہا ہے۔ وہ اس مہک کو اپنے تک محدود رکھنا چاہتا تھا جس نے اس کے اندر عقیدت کا پودا لگا دیا تھا۔ وہ اس پودے کو چپ چاپ، خاموشی اور راز داری سے سینچنا چاہتا تھا۔
داؤد تیس بتیس سال کا ایک قوی الجثہ کلین شیو آدمی تھا۔ سادہ شلوار قمیض میں بھی وہ بیحد اچھا لگ رہا تھا۔
خالد کے گھر سے چلے تو ان تینوں نے بھی یہی لباس زیب تن کیا جو استعمال شدہ تھوڑے سے مسلے ہوئے شلوار قمیض اور گرم واسکٹوں پر مشتمل تھا۔۔ سروں پر گرم اونی ٹوپیاں پہن لی گئیں اور ہینڈ بیگز وہیں چھوڑ دیے گئے۔
ھٹاٹا بس سٹینڈ پر جب حمزہ نے سرمد کا تعارف داؤد سے کرایا تو اس نے چند لمحوں تک بڑی گھورتی ہوئی گہری نظروں سے اس کا جائزہ لیا۔ پھر نجانے کیا ہوا کہ ہنس کر اس نے سرمد کو گلے لگا لیا۔ سرمد نے محسوس کیا کہ جتنی دیر وہ اسے سر سے پاؤں تک دیکھتا رہا، اس کے جسم میں سوئیاں چبھتی رہیں۔ لگتا تھا اس کی نگاہوں سے ایکسریز خارج ہو رہی ہیں جو اس کے دل میں چھپا خیال تک جان لینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
ٹاٹا کی آرام دہ بس سے جب وہ چاروں سرینگر کے لئے روانہ ہوئے تو شام ہونے میں ایک گھنٹہ باقی تھا۔ حمزہ اور حسین کے بائیں ہاتھ دوسری جانب سرمد اور داؤد کی سیٹیں تھیں۔ راستے میں دو جگہ رک کر صبح سات بجے بس نے انہی سرینگر لا اتارا۔ سارا سفر بڑی خاموشی سے کٹا۔ ایک جگہ کھانے اور دوسری جگہ چائے کے دوران چند رسمی سی باتیں ہوئیں اور بس۔
اڈے سے نکل کر وہ چاروں ایک قہوہ خانے پر آ رکی۔ قہوہ خانے کا مالک ایک کشمیری تھا۔ سردی زوروں پر تھی اور پندرہ بیس لوگ گرم گرم قہوے سے شغل کر رہے تھے۔
وہ چاروں ایک خالی لمبے بنچ پر بیٹھ گئے، جس کے آگے ٹوٹی پھوٹی ایک میز نما شے پڑی تھی۔ دو تین منٹ گزرے ہوں گے کہ ایک بارہ تیرہ سالہ لڑکا ان کے لئے قہوہ کے گلاس لے آیا۔ لمبی قمیض گھٹنوں سے اونچی شلوار اور ہوائی چپل پہنے ہوئے ناک سے شوں شوں کرتا وہ انہیں دو پھیروں میں قہوہ سرو کر کے جانے لگا تو داؤد نے اس کی جانب دیکھا۔
” آدھ گھنٹے بعد ٹرک جا رہا ہے۔ “
اس نے میز صاف کرتے ہوئے جھک کر یوں کہا کہ شاید ہی کسی تیسرے نے سنا ہو۔
” کھائی پار موڑ پر۔ “
داؤد خاموشی سے قہوے کی چسکیاں لیتا رہا۔ اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہ ابھرا۔ قہوہ ختم کرتے ہی وہ اٹھ گئے۔ داؤد نے لڑکے کو چند چھوٹے نوٹ تھمائے اور وہ چاروں جیکٹوں کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے سرخ مٹی سے آلودہ راستے پر چل پڑے۔
تھوڑی دور سیدھا چلنے کے بعد وہ ایک موڑ پر پہنچے اور ایک دم داؤد انہیں لے کر نیچے سبزے میں اتر گیا۔ سڑک اوپر رہ گئی۔ لمبی لمبی گھاس میں ان کے جسم گم سے ہو گئے۔ تقریباً دس منٹ تک جھک کر چلتے رہنے کے بعد وہ پھر اوپر چڑھ کر دوسری جانب کی سڑک پر آ گئے۔ موڑ مڑے تو دیکھا سامنے سے ایک ٹرک چلا آ رہا تھا، جس پر آرمی سپلائی کی تختی دور سے نظر آ رہی تھی۔
وہ ایک سائڈ پر ہو کر کھڑے ہو گئے۔ ٹرک ان کے قریب آ کر رکا۔ ڈرائیور ایک بوڑھا مگر مضبوط بدن کا آدمی تھا۔
“جلدی کرو۔ ” اس نے ان چاروں پر نظر ڈالی۔
داؤد ان تینوں کے ساتھ ٹرک کے پچھلے حصے میں سوار ہوا اور ترپال گرا دی۔ وہ راشن کی بوریوں پر جگہ بنا کر بیٹھ گئے۔
خاموشی ان کے لئے یوں ضروری ہو گئی تھی جیسے وہ بولیں گے تو سزاملے گی۔ ٹرک اپنی رفتار سے چلتا رہا۔ موڑ کاٹتا رہا۔ جھٹکے کھاتا رہا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: