Ishq Ka Qaaf Novel By Sarfaraz Ahmad Rahi – Episode 19

0
عشق کا قاف از سرفراز احمد راہی – قسط نمبر 19

–**–**–

ٹرک اپنی رفتار سے چلتا رہا۔ موڑ کاٹتا رہا۔ جھٹکے کھاتا رہا۔ سرمد کو جہاں جگہ ملی، وہاں سے کبھی کبھی ترپال ہلتے ہوئے ہٹ جاتی تھی اور سڑک کا منظر دِکھ جاتا تھا۔ وہ ہلتے ہونٹوں پر اپنا ورد سجائے باہر دیکھ رہا تھا۔ گیارہ بج رہے تھے جب ڈرائیور نے ٹھک ٹھک کی آواز کے ساتھ انہیں ہوشیار کیا۔
“خاموش بیٹھے رہنا۔ چیک پوسٹ ہے۔ “
داؤد نے سرگوشی کی۔ باقیوں کا تو پتہ نہیں ، سرمد کا سارا خون سمٹ کر اس کی کنپٹیوں میں آ گیا۔ دل یکبارگی زور سے دھڑکا۔ وہ اپنی حالت پر قابو پانے کی کوشش کرنے لگا۔ داؤد نے اس کا ہاتھ تھام کر زور سے دبایا اور شانہ تھپکا۔ اس سے آنکھیں ملتے ہی اسے حوصلہ سا ہوا۔ خشک لبوں پر زبان پھیر کر اس نے تھوک نگلا۔
“کسی کی طرف مت دیکھنا۔ بس سر جھکائے بیٹھے رہو۔ “
داؤد نے دھیرے سے کہا۔ جواب میں اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
اسی وقت ٹرک رک گیا۔ فوجی بوٹوں کی آہٹیں گونجیں اور ٹرک کو چاروں طرف سے سنگین آلود رائفلوں نے گھیر لیا۔ ایک جھٹکے سے کسی نے ترپال اٹھا دی۔ ان کے سامنے کتنے ہی فوجی رائفلیں تانے کھڑے انہیں گھور رہے تھے۔
“او رحیم خان۔ “
اچانک سب سے اگلے فوجی نے ان چاروں پر خشمناک نگاہ ڈال کر زور سے پکار کر کہا۔
“جی جی کیپٹن صاب۔ جی جی۔ “
بوڑھا ڈرائیور لپک کر اس کے پاس چلا آیا۔
“اس بار پھر تم چار مزدور لے کر آ گئے ہو۔ تم اپنی بے ایمانی سے باز نہیں آتے۔ “
وہ کڑک کر بولا۔
“بے ایمانی کیسی کیپٹن صاب۔ “
رحیم خان لجاجت سے بولا۔
“کام بھی جلدی ہو جاتا ہے اور ان بیچاروں کو دو وقت کی روٹی بھی مل جاتی ہے۔ آپ کا کیا جاتا ہے۔ “
“اچھا زیادہ بڑ بڑ نہ کر۔ “
وہ جھڑک کر بولا۔ پھر اس کے ہاتھ سے ایک بوسیدہ سی کاپی چھین لی۔
” میں دستخط کر رہا ہوں ان چاروں کے انٹری پاس اور تمہارے کلیرنس پیپرز پر۔ چلو تم لوگ۔ سب ٹھیک ہے۔ “
اس نے فوجیوں کو اشارہ کیا اور رائفلیں جھک گئیں۔ سپاہی انہیں کینہ توز نظروں سے گھورتے ہوئے پلٹ گئے۔
“مہربانی صاب جی۔ “
رحیم خان نے دانت نکال دئیے۔
“میری چیز لائے ہو؟”
کیپٹن نے بیحد آہستہ آواز میں پوچھا۔
“جی جی۔ “
آواز دبا کر رحیم خان نے کہا اور ادھر ادھر دیکھ کر واسکٹ کی سائڈپاکٹ سے ایک نیلا لفافہ نکال کر آہستہ سے کیپٹن کی جیب میں سرکا دیا۔
سرمد نے صاف دیکھا، کیپٹن کے چہرے کا رنگ ایک دم بدل گیا۔ اس کا سانولا پن سرخی میں ڈھل گیا۔ نچلا ہونٹ دانتوں میں دبا کر اس نے کاپی رحیم خان کو تھمائی اور اس سے نظر ملائے بغیر رخ پھیر لیا۔
“رحیم خان۔ “
بڑی آہستہ سے اس نے کہا۔
“میں تمہارا ہمیشہ آبھاری رہوں گا۔ “
اور تیز تیز قدموں سے آگے بڑھ گیا۔
رحیم خان نے ان کی جانب ایک نظر دیکھ کر ترپال نیچے گرائی اور ٹرک کے اگلے حصے کی جانب بڑھ گیا۔
ٹرک چل پڑا۔ سرمد نے ہلتی جلتی ترپال کے باہر دیکھا۔ چیک پوسٹ سے بیریئر ہٹا کر ٹرک کو کلیرنس دے دی گئی تھی۔ فوجی دوبارہ اپنی اپنی جگہوں پر جا کر کھڑے ہو گئے تھے، مگر ان کی نظروں میں چھلکتی نفرت سرمد سے پوشیدہ نہ رہ سکی۔ کیسی عجیب بات تھی کہ بھارتی فوج راشن سپلائی کے لئے انہی کشمیریوں کی محتاج تھی جن پر وہ سالوں سے بارود برسا رہی تھی۔
“جانتے ہو رحیم کاکا نے کیپٹن اجے کو کیا چیز دی ہے؟”
ٹرک کافی دور نکل آیا تو داؤد نے سوچ میں ڈوبے سرمد سے پوچھا۔
جواب میں اس نے داؤد کی طرف دیکھا اور نفی میں سر ہلا دیا۔
“بھارتی فوجیوں کو کشمیر میں ڈیوٹی دیتے ہوئے اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ دو ماہ میں ایک سے زیادہ خط اپنے گھر لکھ سکیں یا وہاں سے انہیں کوئی خط آ سکے۔ ڈاک پر سنسر بہت سخت ہے۔ کوئی ایسی بات ان تک نہیں پہنچنے دی جاتی جس سے وہ ڈیوٹی کے دوران ڈسٹرب ہو جائیں۔ واپس جانے کے لئے بیتاب ہو جائیں۔ یا چھٹی کی ڈیمانڈ شدت سے کرنے لگیں۔ کیپٹن اجے کے گھر سے رحیم کاکا اس کی بیوی کا دستی خط لایا ہے۔ ساتھ اس کی تین سالہ بچی کا فوٹو ہے، جسے اس نے دو سال سے نہیں دیکھا۔ “
سرمد سنتا رہا اور اس کا دل کانپتا رہا۔
“ہم کشمیریوں پر ان فوجیوں کے مظالم کی، ہم سے نفرت کی ایک یہ بھی بہت بڑی وجہ ہے کہ ہم جیسے بھی ہیں ، جس حال میں بھی ہیں ، اپنے گھر والوں کے پاس ہیں یا ہمارے ان سے ملنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ ہم پر ظلم کر کے یہ اپنی اس محرومی کا بدلہ بھی لیتے ہیں اور حکومت کی نظر میں قابل فخر بھی بن جاتے ہیں۔ “
سرمد نے کچھ کہنا چاہا مگر پھر نجانے کیا سوچ کر خاموش ہو رہا۔ کچھ دیر بعد اس نے داؤد کی جانب دیکھا جو حمزہ اور حسین سے کوئی بات کر کے سیدھا ہوا تھا۔
“ہم اب کہاں جا رہے ہیں ؟”
“کشمیر کے وسطی علاقے میں بھارتی فوج کی ایک بڑی چھاؤنی ہے جہاں رحیم کاکا راشن سپلائی کرتا ہے۔ وہاں ہم راشن کی یہ بوریاں اتاریں گے۔ واپسی پر ہم ایک جگہ رات گزارنے کے لئے رکیں گے۔ وہاں تم تینوں کو کمانڈر کے حوالے کر کے میں رحیم کاکا کے ساتھ لوٹ آؤں گا۔ “
“مگر واپسی پر آپ اکیلے ہوں گے تو چیک پوسٹ پر۔۔۔”
سرمد نے کہنا چاہا۔
“تمہاری جگہ تین ساتھی میرے ساتھ وہاں سے واپس آئیں گے، جن کے ذمے سرینگر اور دہلی میں مختلف کام لگائے گئے ہیں۔ “
بات سرمد کی سمجھ میں آ گئی۔ زیادہ جاننے کی خواہش ہی نہیں تھی۔ حمزہ اور حسین ہلکی آواز میں باتیں کر رہے تھے۔ داؤد بھی ان کے ساتھ شامل ہو گیا۔ سرمد خاموش ہو کر اپنے ورد میں لگ گیا۔
طاہر نے ڈاکٹر ہاشمی کے دُکھ کو یوں سینے سے لگا یا کہ وہ کسی حد تک سنبھل گئے۔ اس نے فوری طور پر سعودی عرب اپنے دو چار ملنے والوں سے رابطہ کیا۔ THE PROUDکے حوالے سے اس کا ایک نام تھا۔ اس نے اپنا نام کیش کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ امبر نے اپنے طور پر کوشش کی۔ اس ساری بھاگ دوڑ کے نتیجے میں انہیں یہ علم ہو گیا کہ سرمد سعودی عرب سے لندن واپس نہیں گیا بلکہ اس نے انڈیا کا ویزا لگوا یا اور دہلی کے لئے روانہ ہو گیا۔
“انڈیا؟”
ڈاکٹر ہاشمی طاہر کی زبان سے سن کر چونکی۔
“جی انکل۔ “
طاہر نے ملازم کو کافی کا مگ ان کے آگے رکھنے کا اشارہ کیا اور اپنا مگ تھام لیا۔
“میں بھی وہی سوچ رہا ہوں جو آپ سوچ رہے ہیں۔ “
“کہیں اس لڑکی ریحا کا کوئی تعلق تو نہیں اس سارے قصے سی؟”
وہ بیتاب ہو گئے۔
“ہو بھی سکتا ہے انکل۔ “
وہ سوچتے ہوئے بولا۔ مگر اس کا اندر نہیں مان رہا تھا کہ سرمد کسی لڑکی کے چکر میں پڑ سکتا ہے۔ اس کا جو کیریکٹر اس کے سامنے آیا تھا۔ اس نے جو کچھ صفیہ کے حوالے سے اس کی زبان سے سنا تھا۔ اس کے بعد سرمد کے لئے کسی اور طرف دیکھنا سمجھ میں آنے اور یقین کرنے والی بات نہ تھی۔
“اس کا مطلب ہے ہمیں انڈین ایمبیسی سے رابطہ کرنا پڑے گا۔ “
“ابھی نہیں انکل۔ ہمیں پہلے پورے طور پر پُر یقین ہو جانا چاہئے کہ سرمد اسی لڑکی یعنی ریحا کے چکر میں انڈیا گیا ہے۔ “
“بچوں جیسی باتیں کر رہے ہو طاہر۔ “
ڈاکٹر ہاشمی نے مگ کے کنڈے سے کھیلتے ہوئے اس کی جانب دیکھا۔
” سرمد کے ڈاکومنٹس ریحا نے مجھے بھیجے ہیں ، جو انڈین ہے۔ سرمد سعودیہ سے پاکستان آنے کے بجائے انڈیا چلا گیا ہے۔ ان دونوں باتوں کا تعلق بالواسطہ یا بلا واسطہ ریحا سے بنتا ہے یا نہیں ؟”
“بنتا ہے انکل لیکن یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ سرمد نے ہی ریحا سے کہا ہو کہ اس کے ڈاکومنٹس آپ کو بھیج دے کیونکہ آپ کے بقول آپ نے اسے لندن جانے سے منع کر دیا تھا اور اس نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ لندن نہیں جائے گا، پاکستان آئے گا۔ “
“تو پھر وہ یہاں آنے کے بجائے انڈیا کیوں چلا گیا؟” ڈاکٹر ہاشمی کا دماغ اور الجھ گیا۔
“یہی تو سوچنے کی بات ہے کہ جو لڑکا آپ سے کئے ہوئے وعدے کا اتنا پابند ہے کہ اس نے خود لندن جا کر ڈاکومنٹس لانے سے گریز کیا وہ آپ کے پاس لوٹ آنے کے بجائے انڈیا کیوں چلا گیا؟”
طاہر نے کہا اور ایک خیال اسے بے چین کر گیا۔ اسے وسیلہ خاتون سے سرمد کی گفتگو یاد آ گئی جس میں اس نے کبھی پاکستان نہ آنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ کیا وہ اپنی اسی بات کو نبھانے کے لئے غائب ہو گیا ؟ اس کے دل میں ایک کسک سی جاگی۔ بات جتنی سمجھ میں آتی تھی اس سے زیادہ سمجھ سے باہر ہوئی جا رہی تھی۔ کسی بھی حتمی نتیجے پر پہنچنا ناممکن ہوتا جا رہا تھا۔
ابھی تک یہ سارا معاملہ انہی دونوں کے بیچ تھا۔ صفیہ اور بیگم صاحبہ کو ان دونوں نے باہمی رضامندی سے اس معاملے سے الگ رکھنے کا فیصلہ کر لیا تھا تاکہ ان کے ساتھ وہ بھی پریشان نہ ہو جائیں۔ تیسری ہستی جو اس ساری الجھن سے واقف تھی وہ تھی امبر، جسے طاہر نے صاف منع کر دیا تھا کہ اس بات کا تذکرہ پروفیسر قمر سے بھی نہ کرے۔
امبر نے اس کے لہجے سے معاملے کی سنگینی کا اندازہ لگا لیا اور کرید کے بجائے اس کے ساتھ صورتحال کو سلجھانے میں شریک ہو گئی۔
“ابھی آپ انڈین ایمبیسی سے کنٹیکٹ کرنے کی بات کر رہے تھے۔ “
اچانک طاہر نے کسی خیال کے تحت کہا۔
“ہاں۔ “
ڈاکٹر ہاشمی نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کافی کا خالی مگ ٹیبل پر رکھ دیا۔
“میرا خیال ہے، اس کے بجائے ہم خود انڈیا چلیں گے اگر ضرورت پڑے۔ “
“تمہارا مطلب ہے ہمیں وہاں نہ جانا پڑے، ایسا بھی ممکن ہے؟”
امید بھرے لہجے میں انہوں نے پوچھا۔
“بالکل ممکن ہے انکل۔ “
طاہر نے وثوق سے جواب دیا۔
“میں اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہوا۔ اور اس معاملے میں تو مجھے بہت زیادہ بہتری کی امید ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ سرمد جیسا بیٹا آپ کو پریشانی سے بچانے کے لئے تو کچھ بھی کر سکتا ہے مگر میں یہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں کہ وہ آپ کو پریشان کرنے کے لئے کوئی الٹی سیدھی حرکت کرے گا۔ بات کچھ اور ہی ہے جس تک فی الحال ہماری رسائی نہیں ہو رہی۔ میرا مشورہ یہ ہے کہ چند دن حالات کے رخ کا اندازہ کرنے کے لئے انتظار کیا جائے۔ سرمد سے رابطے کی مسلسل کوشش کی جائے اور دعا کی جائے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس مشکل سے نجات دے۔ “
“طاہر۔۔۔ “
ڈاکٹر ہاشمی نے اپنے ہاتھ اس کے ہاتھوں پر رکھ دئیے۔
” میرا جی چاہتا ہے میں تمہاری بات پر یقین کر لوں بیٹے مگر یہ دل۔۔۔ “
وہ آبدیدہ ہو گئے۔
“میں سمجھتا ہوں انکل۔ “
طاہر نے ان کے ہاتھ تھام لئے۔
“ماں باپ کا دل تو ان کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا، یہ کسی اور کی بات کیسے مان سکتا ہے۔ تاہم میں یہی کہوں گا کہ آپ ذرا حوصلے سے کام لیں۔ اک ذرا انتظار کر لیں۔۔۔ “
“میں کوشش کروں گا بیٹے۔ “
انہوں نے آنسو پینے کی کوشش کی۔
“بہرحال تمہاری باتوں نے میرا دُکھ بانٹ لیا ہے۔ “
“میرا بس چلے انکل تو میں آپ کا دُکھ اپنے دامن میں ڈال لوں۔ “
طاہر نے خلوص سے کہا۔
” آپ نے ساری زندگی مجھے جس شفقت اور دوستی سے نوازا ہے میں اس کا مول چکا ہی نہیں سکتا۔ “
“شکریہ بیٹے۔ “
انہوں نے آہستہ سے کہا اور ہاتھ کھینچ لئے۔
آہستہ آہستہ آنکھیں مسلتے ہوئے اٹھے اور کچھ دور صوفے پر جا بیٹھے۔ طاہر کے دل پر چوٹ سی لگی۔ وہ جان گیا کہ وہ اپنے آنسو چھپا رہے ہیں۔ اس نے نچلا ہونٹ دانتوں میں داب لیا اور کسی سوچ میں ڈوب گیا۔ وہ مسلسل ذہنی گھوڑے دوڑا رہا تھا کہ کسی طرح بات کا سرا اس کے ہاتھ آ جائے تو وہ سرمد کو ڈھونڈ نکالی۔
کئی مربع میل پر پھیلی ہوئی فوجی چھاؤنی نمبر سینتالیس تک پہنچتے پہنچتے انہیں چار چیک پوسٹوں پر رکنا پڑا لیکن پہلی چیک پوسٹ کے کیپٹن اجے کی کلیرنس نے ان کے لئے ہر جگہ آسانی پیدا کر دی۔
ٹرک سے راشن کی بوریاں اَن لوڈ کی گئیں۔ فارغ ہوتے ہوتے انہیں رات کے آٹھ بج گئے۔ وصولی کے کاغذات پر چھاؤنی کے سٹور کیپر کے سائن لے کر رحیم خان نے کام ختم کیا۔ واؤچر بنوا کر جیب میں ڈالا اور باریک بین نگاہوں سے چاروں طرف پھیلے فوجیوں اور ایمونیشن ڈپو کا جائزہ لیتا ہوا ان چاروں کے ساتھ ٹرک میں واپس چل پڑا۔
اب داؤد اور سرمد اس کے ساتھ اگلی سیٹ پر بیٹھے تھے۔ حمزہ اور حسین پچھلے حصے میں ٹانگیں پسارے بیٹھے تھے، جو اب بالکل خالی تھا۔ ان دونوں کا تو پتہ نہیں مگر سرمد کا جوڑ جوڑ دُکھ رہا تھا۔ اتنا بوجھ اس نے زندگی میں پہلے کب اٹھایا تھا؟
رات کی تاریکی میں ٹرک چھاؤنی کی حدود سے باہر نکلا۔ ان کے انٹری پاس چیک کئے گئے۔ پھر بیرئیر اٹھا کر جانے کا اشارہ کیا گیا۔ ٹرک کو کچے پر موڑتے ہوئے رحیم خان نے داؤد کی جانب ایک نظر دیکھا پھر ہیڈ لائٹس کی روشنی میں سامنے دیکھنے لگا۔
“عقوبت خانے کا اندازہ ہوا کچھ؟”
“میرے کانوں میں ابھی تک وہ چیخیں گونج رہی ہیں رحیم کاکا، جو دیواریں چیر کر مجھ تک پہنچ رہی تھیں۔ “
داؤد نے دُکھی لہجے میں کہا مگر اس کی آواز میں ایک آگ بھڑک رہی تھی جس میں وہ دشمن کو جلا کر خاک کر دینا چاہتا تھا۔ سرمد نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ اس کے جسم میں خون کا دوران تیز ہو گیا تھا۔
“میرے گاؤں کی تین جوان لڑکیوں کو اٹھا کر لائے ہیں یہ درندے۔ اردگرد کے علاقے سے ہر روز درجنوں نوجوانوں کو تفتیش کے نام پر یہاں لایا جاتا ہے جنہیں زندہ واپس جانا نصیب نہیں ہوتا۔ کل تک یہاں درندگی کا نشانہ بننے کے بعد خودکشی کر لینے والی بچیوں کی تعداد ایک سو سترہ ہو چکی ہے۔ “
“بس رحیم کاکا بس۔ “
داؤد نے کانوں پر ہاتھ رکھ لئے۔
“کان بند کر لینے سے کچھ نہیں ہو گا بچے۔ “
رحیم خان نے دُکھ سے کہا۔
” یہ چھاؤنی نہیں ایک عذاب ہے اس علاقے میں۔ یقین کرو اگر اس کا وجود مٹ جائے تو ارد گرد کا ستر اسی میل کا علاقہ ان درندوں کے جبر سے محفوظ ہو جائے گا۔ “
“میں آج کمانڈر سے اسی بارے میں بات کرنے والا ہوں کاکا۔ “
داؤد نے گہرے گہرے سانس لیتے ہوئے کہا۔
“ایسے اور کتنے عقوبت خانے ہیں کشمیر میں ؟” سرمد نے اچانک پوچھا۔
“گنتی ممکن نہیں سرمد۔ “
داؤد نے پیشانی مسلتے ہوئے کہا۔
“سات لاکھ انڈین فوج کی ہزاروں چھاؤنیاں ہیں یہاں۔ اور ہر چھاؤنی اپنی جگہ ایک عذاب خانہ ہے۔ “
” آپ لوگوں نے اب تک کیا کیا اس سلسلے میں ؟”
“اپنی سی کرتے رہتے ہیں۔ “
پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ داؤد نے کہا۔
” لیکن ایسی بڑی چھاؤنی اگر تباہ کر دی جائے تو بہت فرق پڑ سکتا ہے۔ بے شمار لوگوں کی زندگیاں اور عزتیں کتنی ہی مدت تک محفوظ ہو سکتی ہیں۔”
اسی وقت رحیم خان نے ٹرک ایک سائڈ پر روک دیا۔ “تم لوگ اب نکل جاؤ۔ صبح ہونے سے پہلے تینوں آدمیوں کو لے کر یہیں پہنچ جانا۔ “
ٹھیک ہے کاکا۔
” سرمد اور داؤد کے بعد حمزہ اور حسین بھی پچھلے حصے سے اتر آئے۔ رحیم کاکا نے انہیں بڑی گرمجوشی سے گلے لگا کر دعائیں دیتے ہوئے رخصت کیا۔ واپسی کے لئے تیسری چیک پوسٹ یہاں سے تقریباً تین میل دور تھی۔
داؤد آگے آگے اور وہ تینوں اس کے پیچھے پیچھے رات کے اندھیرے میں سڑک سے ڈھلوان پر اترتے ہوئے سرسراتی گھاس میں غائب ہو گئے۔ داؤد یوں ان کی رہنمائی کرتا ہوا چلا جا رہا تھا جیسے وہ ان راستوں پر پیدائش کے بعد ہی سے سفر کرتا رہا ہو۔
انہیں شروع میں تھوڑی بہت دقت ہوئی، پھر سرمد بھی حمزہ اور حسین کی طرح بے جگری سے قدم بڑھانے لگا تو جھجک اور اس کے باعث پیدا ہونے والی تھکان نے دم توڑ دیا۔ تاہم اس کا ذہن مسلسل داؤد اور رحیم خان کی باتوں میں الجھا ہوا تھا۔
اخباروں میں پڑھی ہوئی باتوں ، ٹی وی پر دیکھی ہوئی فلموں اور اپنے مشاہدے میں جو فرق تھا، اس نے سرمد کے جسم میں ایک الاؤ دہکا دیا تھا، جس کی تپش وہ اپنے پاؤں کے تلووں سے سر کے بالوں تک میں محسوس کر رہا تھا۔
گھاس کے ڈھلوانی میدان کو عبور کر کے وہ ایک ذخیرے میں داخل ہوئے تو داؤد نے قدم روک لئے۔ چند منٹ تک وہ سب بے حس و حرکت کھڑے رہے۔ داؤد سُن گن لیتا رہا۔ پھر جیسے وہ مطمئن ہو گیا۔ انہیں اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کر کے وہ ہلکے پیروں سے چلنے لگا۔ ذخیرے سے باہر نکلے تو چاندنی میں انہوں نے خود کو ایک چٹانی سلسلے کے سامنے پایا۔
اونچی نیچی، بڑی چھوٹی، سرخ اور بھوری چٹانیں انہیں حیرت سے دیکھ رہی تھیں۔
داؤد نے ایک بار پھر اپنے چاروں اطراف کا جائزہ لیا۔ پھر جیب سے موبائل نکالا اور اس پر کسی کا نمبر ملانے لگا۔
“عزت۔ “
دوسری جانب سے سلسلہ ملتے ہی ایک نسوانی مگر دبنگ آواز سنائی دی۔
” یا شہادت کی موت۔ ” داؤد نے فوراً کہا۔
“ہیلو داؤد۔ پہنچ گئے کیا؟”
“ہاں خانم۔ پہنچ گئے۔ “
داؤد نے ادھر ادھر نظریں گھماتے ہوئے جواب دیا۔
“کہاں ہو اس وقت؟” پوچھا گیا۔
“پڑاؤ پر۔ “
“اوکے۔ چلے آؤ۔ میں کمانڈر کو خبر کرتی ہوں۔ “
داؤد انہیں لئے ہوئے چٹانوں پر چڑھا۔ دوسری طرف اترے تو سامنے ایک بہت بڑی قدرتی جھیل دکھائی دی۔ جھیل کا پاٹ کسی چھوٹے موٹے دریا سے کم نہ تھا، جس میں کافی دور ایک بڑا شکارا تیر رہا تھا۔ وہ چاروں اپنا رخ شکارے کی طرف کر کے کھڑے ہو گئی۔ شکارے نے دیکھتے ہی دیکھتے اپنا رخ پھیرا اور ان کی طرف بڑھنے لگا۔
سرمد کا دل سینے میں بری طرح دھڑک رہا تھا۔ اس کی نظریں شکارے پر جمی تھیں جو لمحہ بہ لمحہ ان کے قریب آتا جا رہا تھا۔ نجانے کیوں اس کا دل کہہ رہا تھا کہ کمانڈر اسی شکارے میں ہے۔
شکارا کیا تھا، ایک بڑی لانچ تھی، جس کے درمیان میں ایک بہت بڑا لکڑی سے تعمیر شدہ کمرہ تھا۔ کشمیریوں کی روایتی صناعی اس میں پوری طرح کارفرما دکھائی دے رہی تھی۔
شکارا کنارے پر آن لگا۔ پہلے داؤد، پھر سرمد، حمزہ اور حسین باری باری شکارے پر چلے گئے۔ سامنے روایتی کشمیری لباس میں اپنی پوری سج دھج کے ساتھ ایک خوبصورت دوشیزہ چہرے پر باریک سا نقاب ڈالے کھڑی انہیں بغور دیکھ رہی تھی۔ چاندنی اس کے چہرے پر اپنا پرتو ڈال رہی تھی اور یوں لگتا تھا جیسے وہ چاندنی رات کا ایک حصہ ہو۔
اگر وہ پردے میں چلی گئی تو رات کا حسن ادھورا پڑ جائے گا۔ وہ جس جگہ کھڑی تھی، اس کے بائیں پہلو میں سٹیرنگ دکھائی دے رہا تھا۔ یعنی وہ حقیقتاً ایک لانچ تھی، جسے شکارا بنا لیا گیا تھا۔
“خانم۔ “
داؤد نے ذرا سا سر خم کر کے اسے تعظیم دی۔ اس کی پیروی میں حمزہ اور حسین کے بعد سرمد نے بھی ایسا ہی کیا۔ اس نے معمولی سی سر کی جنبش سے ان کے سلام کا جواب دیا۔
“کمانڈر تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔ “
اس نے ابرو سے کمرے کی جانب اشارہ کیا۔
داؤد خاموشی سے کمرے کے کھلے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ وہ تینوں اس کے عقب میں تھی۔
وہ کم و بیش بارہ ضرب چوبیس کا ہال کمرہ تھا جس میں ایک سجے سجائے بیڈ سے لے کر ریموٹ کنٹرول ٹی وی تک موجود تھا۔ کشمیر کے شکارے جن دیومالائی داستانوں کے حوالے سے مشہور ہیں ، یہاں ان داستانوں کے سارے لوازمات مہیا تھی۔
لکڑی کے فرش پر کشمیری نمدہ بچھا تھا۔ فرش پر آلتی پالتی مارے کوئی شخص نمدے پرسر جھکائے بیٹھا تھا۔ فانوس اور قندیلوں کی جھلملاتی روشنی میں وہ قدیم قصے کہانیو ں کا کوئی کردار لگ رہا تھا۔
داؤد نے اس کے سامنے کھڑے ہو کر فوجی انداز میں سیلوٹ کیا اور دو زانو بیٹھ گیا۔ حمزہ، حسین اور سرمد نے بھی اس کی تقلید کی۔ جب وہ چاروں اس کے سامنے ایک قطار میں بیٹھ گئے تو آہستہ سے کمانڈر نے سر اٹھایا۔
سرمد کے ذہن کو ایک جھٹکا سا لگا۔ اس کی سرخ انگارہ آنکھوں سے جیسے برقی رو کی لہریں نکل رہی تھیں۔ اس کی آنکھوں میں دیکھنا یا اس سے نظر ملانا ممکن نہ تھا۔ اس نے بھی گھبرا کر باقیوں کی طرح نظر چرا لی۔ ہاں ، یہ اس نے دیکھ لیا کہ کمانڈر کی عمر بمشکل تیس برس تھی۔ وہ بہت زیادہ حسین نہ تھا مگر یہ طے تھا کہ سرمد نے اس جیسا دلفریب چہرہ پہلے کم کم دیکھا تھا۔ اس میں ایک ایسی کشش تھی، جسے کوئی نام دینا مشکل تھا۔ اس کے چہرے پر ہلکی ہلکی سیاہ داڑھی بہت اچھی لگ رہی تھی۔
“کیسے ہو داؤد؟”
کمانڈر بولا تو ایسا لگا کوئی شیر ہولے سے غرایا ہو۔
“بالکل ٹھیک ہوں کمانڈر۔ اور آپ؟”
داؤد نے ادب سے جواب دیا۔
“میں۔۔۔ ؟” جیسے کوئی درندہ ہنسا ہو۔
“میں تو ہمیشہ انتظار میں رہتا ہوں داؤد۔ دشمن کی بربادی اور اپنوں کے سُکھ کی خبر کے انتظار میں۔ کہو۔ کوئی اچھی خبر لائے ہو کیا؟”
“میں آج چھاؤنی نمبر سینتالیس کے اندر سے ہو کر آ رہا ہوں کمانڈر۔ “
“اوہ۔۔۔ ” وہ چوکنا ہو گیا۔
“پھر کیا رہا؟”
اس کی دہکتی ہوئی نظریں داؤد کے چہرے پر متحرک ہو گئیں۔
“اب میں اس کا نقشہ بنا سکتا ہوں کمانڈر۔ “
جواب میں کچھ کہے بغیر کمانڈر نے اپنے پہلو میں پڑے کاغذوں کا چھوٹا سا ڈھیر اور قلم اس کی طرف سرکا دیا۔
داؤد نے ایک سفید کاغذ پر چھاؤنی کا اندرونی نقشہ بنا نا شروع کیا۔ یہ کام اس نے بمشکل سات آٹھ منٹ میں کر لیا۔ اس دوران کمانڈر اس کے متحرک ہاتھ پر نظر جمائے خاموش بیٹھا رہا۔
“یہ ہے ایمونیشن ڈپو کمانڈر۔ “
داؤد نے کہنا شروع کیا اور قلم کی نوک ایک جگہ پر ٹکا دی۔ پھر وہ کہتا رہا اور کمانڈر کے ساتھ ساتھ وہ تینوں بھی سنتے رہے۔ سرمد بڑی یکسوئی سے داؤد کے بیانئے کو سن رہا تھا۔
“اور ایمونیشن ڈپو کے عقب میں تقریباً بیس گز دور یہ ہے وہ عقوبت خانہ کمانڈر جہاں اس وقت بھی ہماری کم از کم بائیس بہنیں ان درندوں کی ہوس کا نشانہ بن رہی ہیں۔ یہیں وہ مظلوم بھائی بھی ہیں جن کے سامنے ان کی بہنوں کی عزتیں تار تار کی جاتی ہیں۔”
“بس۔۔۔۔ “
کمانڈر تڑپ کر کھڑا ہو گیا۔ اس کی آواز میں بجلیاں مچل رہی تھیں۔
“داؤد۔ یہ ایک ٹارچر سیل نہیں ہے۔ یہاں قدم قدم پر ایسے تشدد خانے موجود ہیں جن کے بارے میں سن کر روح کے تار جھنجھنا اٹھتے ہیں۔ تاہم رحیم خان کی یہ بات درست ہے کہ اگر اس ایک ٹارچر سیل کا خاتمہ ہو جائے تو ہم ان بھارتی درندوں کے مظالم کا دائرہ کافی حد تک محدود کر سکتے ہیں۔ “
“تو پلان فائنل کیجئے کمانڈر۔ “
کمانڈر کے ساتھ ہی داؤد اور وہ تینوں بھی اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔
“تھوڑا وقت لگے گا داؤد۔ یہ کشمیر کی سب سے بڑی پانچ چھاؤنیوں میں سے ایک ہے۔ ہر وقت یہاں چالیس سے پچاس ہزار فوجی موجود رہتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ جب ہم یہاں اٹیک کریں تو ایک بھی بھارتی درندہ بچنا نہیں چاہئے۔ “
“ایسا ہی ہو گا کمانڈر۔ “
داؤد نے ایک عزم سے کہا۔
“انشاءاللہ۔ “
کمانڈر کے لہجے میں بجلی کی سی کڑک تھی۔
“انشاءاللہ۔ “
حمزہ، حسین اور سرمد کے لبوں سے بھی بے اختیار نکلا۔
اپنے آپ پر قابو پاتے پاتے کمانڈر کو چند منٹ لگ گئے۔ پھر اس کا لال بھبوکا چہرہ نارمل ہوا تو وہ ان کی طرف متوجہ ہوا۔ وہ اس کے سامنے ادب سے کھڑے تھے۔
“ان تینوں کا تعارف نہیں کرایا تم نے ابھی تک داؤد۔ “
“یہ دونوں حمزہ اور حسین تو حریت کانفرنس سے ٹوٹ کر آئے ہیں کمانڈر اور یہ ہے سرمد۔۔۔ “
” آں ہاں۔۔۔ “
کمانڈر نے ہاتھ اٹھا کر اسے مزید کچھ کہنے سے روک دیا۔
” خانم کو بتایا تھا تم نے اس کے بارے میں۔ “
“جی ہاں۔ “
“ہوں۔۔۔ “
کمانڈر نے سرمد کو بغور اور بڑی دلچسپی بھری نظروں سے دیکھا۔ سرمد کو اس کی نگاہیں جسم کے آر پار ہوتی لگیں مگر وہ بڑی ہمت سے اس کے سامنے سر جھکائے، ہاتھ سینے پر باندھے کھڑا رہا۔
“اسے صرف پندرہ دن کی ٹریننگ کراؤ داؤد۔ یہ خشک لکڑی ہے۔ اسے صرف چنگاری دکھانے کی ضرورت ہے۔ “
” جو حکم کمانڈر۔ ” داؤد نے سر خم کیا۔
” اور یہ دونوں۔۔۔ “
“انہیں فرنٹ پر بھیج دو۔ ایسے پُر خلوص جوانوں کی وہاں بہت ضرورت ہے۔ یہ دشمن کو جتنا زیادہ اور جتنی تیزی سے نقصان پہنچا سکیں ، اتنا ہی اچھا ہے۔ تاہم چھاؤنی نمبر سینتالیس کے مشن میں یہ تمہارے ساتھ ہوں گے۔ “
“شکریہ کمانڈر۔ “
حمزہ اور حسین کے لبوں سے ایک ساتھ جذبات سے بھرائی ہوئی آواز نکلی۔
“ہم آپ کا یہ احسان زندگی بھر نہیں بھولیں گے۔ “
“میں جانتا ہوں حمزہ۔ تم اپنی بہن کا بدلہ لینا چاہتے ہو اور حسین اپنی منگیتر کا۔ لیکن میرے بیٹو۔ میرے بھائیو۔ یاد رکھو۔ ہمارے جذبے میں ، ہماری نیت میں جہاد کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ کسی ذاتی سبب کو لے کر ہماری جنگ جاری نہیں رہ سکتی۔ یہ محدود ہو جائے گی۔ اسے اللہ کے نام پر لڑو۔ اسے رسول کی ناموس کی خاطر آفاق گیر کر دو۔
ہمارے اتحاد کا نام “عشاق ” اسی لئے رکھا گیا ہے کہ ہم اللہ، اس کے حبیب اور اس کے دین کے عاشق ہیں۔ کسی اور شے کو ہمارے عشق میں در آنے کی اجازت نہیں ہے۔ ہاں ، کوئی بھی سبب اس عشق کو مہمیز کر دے تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن ہماری بنیاد وہی ہے۔ عشقِ الٰہی۔ عشقِ رسول۔ اس سے کم پر مانو نہیں اور اس سے زیادہ کچھ ہے نہیں۔ “
“یس کمانڈر۔ “
حمزہ کی آنکھوں میں شمع سی جلی۔
“یس کمانڈر۔ “
حسین کی آواز میں شعلے کی سی لپک ابھری۔
“تو جاؤ۔ اپنے عشق کی آگ سے دشمن کا خرمن خاک کر دو۔ “
کمانڈر کی آواز میں بجلی کی سی کڑک تھی۔
“مجھے تمہاری طرف سے بہت سی خوشخبریاں چاہئیں۔ “
“ایسا ہی ہو گا کمانڈر۔ “
وہ دونوں سیلوٹ کر کے دو قدم پیچھے ہٹ گئے۔
“اور سرمد۔۔۔ “
کمانڈر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“تمہیں تو یہ سمجھانے کی ضرورت ہی نہیں کہ عشق کیا چاہتا ہے؟ سرمد تو سر دینا جانتا ہے۔ تاریخِ عشق گواہ ہے کہ جب جب کوئی سرمد آیا، عشق کے رخ سے ایک نیا پرت اترا ہے۔ تمہیں بھی اپنے عشق کی ایک نئی تاریخ لکھنی ہے۔ اپنے لہو میں اپنا موئے قلم ڈبو نے کو تیار ہو جاؤ سرمد۔ میں دیکھ رہا ہوں تم سرخرو ہو کر رہو گے۔”
“کمانڈر۔ “
سرمد نے بے اختیار جھک کر اس کا ہاتھ تھاما اور ہونٹوں سے لگا لیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپکے اور کمانڈر کے ہاتھ کی پشت پر گرے۔
“اپنے اشکوں میں دہکتی یہ آگ بجھنے مت دینا سرمد۔ اسی آگ سے تمہیں وضو بھی کرنا ہے اور نماز بھی ادا کرنی ہے۔ نمازِ عشق تمہاری امامت کی منتظر ہے۔ “
کمانڈر نے اپنا ہاتھ بڑی نرمی سے اس کے ہاتھ سے چھڑایا اور رخ پھیر لیا۔
“داؤد۔ اسے لے جاؤ۔ اس کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ اسے جلدی سے جلدی ضروری مراحل طے کرا دو۔ ” نجانے کیوں کمانڈر کی آواز بھرا گئی۔
“یہ ہمارا بڑا لاڈلا مہمان ہے۔ “
“یس کمانڈر۔ “
داؤد نے سیلوٹ کیا اور ان تینوں کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کر کے کمرے سے نکل گیا۔
“میرے آقا۔ مہمان بھیجا بھی تو اتنی کم مدت کے لئے۔ میں تو اس کے ناز بھی نہ اٹھا سکوں گا اتنی دیر میں۔”
کمانڈر ہاتھ باندھے مدینہ کی طرف رخ کئے کھڑا سسک رہا تھا اور آنسو اس کے رخساروں پر موتیوں کی طرح بکھر رہے تھے۔
طاہر کے کہنے پر ڈاکٹر ہاشمی نے انتظار کرنا گوارا تو کر لیا مگر ان کے دل کا حال کچھ وہی جانتے تھے۔ جوان اور اکلوتے بیٹے کی گمشدگی اور مفقود الخبری نے انہیں ایک دم بوڑھا کر دیا۔ ان کی قابل رشک صحت کو جیسے نظر لگ گئی۔ ہاسپٹل میں بیٹھنا بالکل ختم کر کے وہ طاہر کے آفس کے ہو کر رہ گئے۔ امبر انہیں روزانہ فون کر کے تسلی و تشفی دیتی۔
پروفیسر قمر ان کے غم میں برابر کا شریک تھا۔ رہ گیا طاہر، تو اس نے کام کی زیادتی کا بہانہ کر کے زیادہ وقت آفس میں گزارنا شروع کر دیا تھا۔ اپنے طور پر لندن، سعودیہ اور انڈیا میں موجود اپنے واقف کار مختلف لوگوں سے رابطہ کر رکھا تھا۔ مگر نتیجہ ابھی تک ڈھاک کے تین پات ہی تھا۔
اس دن طاہر نے سوچ سوچ کر ایک فیصلہ کیا۔ اپنا پاسپورٹ امبر کو بھجوایا اور فون پر اسے خاص انسٹرکشنز دیں۔ امبر نے اس سے بحث نہیں کی، صرف یہ کہا کہ اگر وہ مناسب سمجھے تو اسے ساتھ لے جائے مگر طاہر نے اسے نرمی سے ٹال دیا۔ رات سونے سے پہلے صفیہ کو مخاطب کرتے ہوئے اس نے کہا۔
“مجھے چند دنوں کے لئے انڈیا جانا ہے۔ “
“کب؟” صفیہ نے چونک کر پوچھا۔
“اور کیوں ؟”
“ایک خاص کام سے جانا ہے اور کیا مجھے وہاں فلم میں کام کرنا ہے؟”
طاہر نے محبت سے کہا۔
“ویسے آپ کسی ہیرو سے کم بھی نہیں ہیں۔ “
صفیہ نے شرارت سے اس کی جانب دیکھا۔
“مگر اس سے پہلے آپ کبھی ایسے ٹور پر گئے تو نہیں ؟”
“یہ بھی اچھی رہی۔ ” طاہر نے ہنس کر کہا۔
” ارے بھئی اب تم نے ہمیں اپنے پلو سے باندھ لیا ہے تو اور بات ہے ورنہ تو میرے مہینے میں بیس دن ملک سے باہر گزرتے تھے۔ “
“اچھا۔ ” صفیہ مسکرائی۔
” تو اکیلے جا رہے ہیں کیا؟”
“ہاں۔ ” طاہر نے صاف گوئی سے جواب دیا۔
“کتنے دن کے لئے جا رہے ہیں ؟
“دو دن بھی لگ سکتے ہیں اور دو ہفتے بھی۔ یہ تو کام ختم ہونے پر منحصر ہے۔ “
“اور جانا کب ہے؟” وہ اداس ہو رہی تھی۔
“کل شام۔ “
“مجھے روزانہ فون کرنا ہو گا۔ ” صفیہ نے کہا
“ایک بات کہوں صفو۔ برا نہ ماننا۔ ’” ۔
“میں سن رہی ہوں۔ ” اس نے جواب دیا۔
“میں وہاں جا کر تمہیں ہرگز فون نہیں کروں گا۔ “
“وہ کیوں ؟” اس نے چہرہ اٹھایا۔
“میں جس کام سے جا رہا ہوں ناں صفو۔ اس میں تمہاری یاد ضروری ہے۔ جو ہر وقت میرے ساتھ رہے گی۔ تم سے رابطہ کروں گا تو بے چینی لگ جائے گی۔ میں نہیں چاہتا کہ کسی بھی پہلو سے اس کام میں مجھے ڈسٹربنس ہو اور میں جلدی لوٹ آنے کے چکر میں پڑ جاؤں۔ اس لئے میری جان۔۔۔ فون پر کوئی رابطہ نہیں ہو گا۔ “
“ٹھیک ہے۔ “
“اری۔ پاگل ہوئی ہو۔ “
اسے صفیہ کی نم آنکھوں کا احساس ہو تو بے چین ہو گیا۔
“اگر تم ایسے کرو گی تو میں ہرگز نہیں جاؤں گا۔ “
“یہ میں نے کب کہا؟” وہ وہیں سے بولی۔
“بس آپ جلدی آ جائے گا۔ “
اس دن صبح ڈاکٹر ہاشمی طاہر کے آفس پہنچے تو مینجر نے انہیں کافی وغیرہ پلانے کے بعد طاہر کی طرف سے ایک لفافہ دیا۔ انہوں نے چشمہ درست کرتے ہوئے لفافہ چاک کیا۔ اندر سے خط نکالا۔ لکھا تھا۔
“انکل۔
میں انڈیا جا رہا ہوں۔ سرمد کے بارے میں کچھ نہ کچھ ہے جو ہمیں وہیں سے مل سکتا ہے۔ میں نے لندن یونیورسٹی سے ریحا کا ایڈریس لے لیا ہے۔ اس سے ملنا بہت ضروری ہے۔ آپ کا ساتھ نہ جانا اس لئے بہتر ہے کہ جس دُکھ کی حالت اور عمر کے حصے میں آپ ہیں وہاں بیٹے کا فرض بنتا ہے کہ آپ کو آرام کرنے کو کہے اور خود آپ کے لئے سُکھ کی تلاش میں نکلے۔
میں بھی ایسا ہی کر رہا ہوں۔ سرمد کے ساتھ میں بھی آپ کا بیٹا ہی ہوں۔ میں یہی سمجھتا ہوں اور آپ مجھے کیاسمجھتے ہیں ، یہ کہنے کی بات نہیں۔ روزانہ آفس آتے رہئے گا۔ کافی، سینڈوچ اور کریم پف آپ کا انتظار کرتے ملیں گے آپ کو۔ دعا صرف یہ کیجئے گا کہ میں آپ کے لئے خوشی کی خبر بن کر واپس آؤں۔
آپ کا: طاہر
ڈاکٹر ہاشمی نے خط میز پر ڈال دیا اور کسی سوچ میں ڈوبی، سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا کر نیم دراز ہو گئے۔ انہیں نجانے کیوں لگ رہا تھا کہ طاہر نے انہیں ساتھ نہ لے جا کر غلط نہیں کیا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: