Ishq Ka Qaaf Novel By Sarfaraz Ahmad Rahi – Episode 2

0
عشق کا قاف از سرفراز احمد راہی – قسط نمبر 2

–**–**–

پھر ایک لرزتی کانپتی، درد بھری آواز کے زیر و بم نے اسے جکڑ سا لیا۔ وہ کہتی رہی۔ طاہر سنتا رہا۔ بت بنا۔ ہمہ تن گوش۔
“ابو بچپن میں ہی ساتھ چھوڑ گئے۔ غربت کا دائرہ کچھ اور تنگ ہو گیا۔ میں اور امی چچا کے در پر فقیروں کی طرح پڑے رہی۔ ان کے گھر کے کام کاج، خدمت، دن رات کی گالیوں ، مار پیٹ اور جھڑکیوں کے عوض بچا کھچا کھانا پیٹ کی آگ بجھانے کو مل جاتا۔ اسی پر سجدہ شکر ادا کرتی۔ امی نے ہر مصیبت اور تنگدستی کا مقابلہ کر کے کسی نہ کسی طرح مجھے ایف اے پاس کرا دیا۔ چچا کا لڑکا اختر ہمیشہ پڑھائی میں میری مدد کرتا۔ ماں باپ کی سخت مخالفت کے باوجود میری اور امی کی ہر طرح مدد کرتا۔ اسی کی ضد کے آگے ہتھیار ڈالتے ہوئے چچا اور چچی نے مجھے کمپیوٹر کورس کی اجازت دے دی۔ امی کے دُکھوں کو سُکھ میں بدلنے کا یہی ایک طریقہ تھا کہ میں کہیں نوکری کر لیتی۔ یہی سوچ کر میں نے یہ کورس کرنے کا عزم کر لیا۔ چچا کی اولاد میں اختر سے اوپر ایک لڑکی نرگس تھی۔ وہ اعلیٰ تعلیم کی غرض سے لندن چلی گئی اور ابھی تک وہیں ہے۔ وقت گزرتا رہا۔ امی کی جوانی بڑھاپے میں ڈھل گئی۔ امی کی جگہ بھی اب مجھی کو تمام گھر کا بوجھ سنبھالنا پڑا۔ میں نے کوئی گلہ شکوہ کئے بغیر یہ کڑوے گھونٹ بھی حلق سے اتار لئے۔ اس لئے کہ اختر، میرا اختر، میرا ساتھ نبھانے، مجھے اپنانے کا وعدہ کر چکا تھا۔ صرف اس کے امتحان سے فارغ ہو کر کاروبارسنبھالنے کی دیر تھی۔ اختر کی بے پناہ محبت نے مجھے ہر ڈر اور خوف سے لا پرواہ سا کر دیا۔ مجھے نئی زندگی بخش دی۔ وہ مجھ سے شادی کرنے کو بالکل تیار بلکہ بے صبرا ہو رہا تھا مگر جب تک وہ تعلیم مکمل نہ کر لیتا، یہ ممکن نہ تھا۔ پھر ایک روز اس نے مجھے یہ خوش خبری سنائی کہ وہ بی اے کا آخری پیپر دے آیا ہے۔ اب رزلٹ نکلنے کی دیر ہے اور پھر۔۔ اور اس “پھر ” سے آگے میں سن نہ سکی۔ سہانے سپنوں میں کھو گئی۔ آنے والے کل کے سورج کی دمکتی کرنیں میرے تاریک ماضی کو تابناک مستقبل میں بدل جانے کا پیغام دے رہی تھیں۔ امی نے مجھے بہت سمجھایا۔ اونچ نیچ، قسمت اور تقدیر سے خوفزدہ کرنا چاہا مگر میں اختر پر اندھا اعتماد کئے بیٹھی تھی۔ کچھ نہ سمجھ سکی۔ کچھ نہ سوچ سکی۔ تب۔۔۔ ایک روز۔ جب اختر نے مجھے بتایا کہ چچا اور چچی نے اس کے لئے ایک امیر زادی کا رشتہ منظور کر لیا ہے تو میرے سپنوں کا تاج محل زمین بوس ہو گیا۔ زندگی نے بڑے پیار سے فریب دیا تھا۔۔۔
میں تمام رات روتی رہی۔ پلک نہ جھپکی۔ سسکیاں گونجتی رہیں۔ ہچکیاں آنسوؤں کا ساتھ دیتی رہیں۔ صبح کے قریب جب میں چند لمحوں کی نیند کی تلاش میں تھک کر اونگھتے اونگھتے ہڑ بڑا کر جاگی تو امی ہمیشہ کی نیند سو چکی تھیں۔ وہ مجھ سے زیادہ دُکھی، تھکی ہوئی اور ستم رسیدہ تھیں۔ نجات پا گئیں۔
چند روز تک گھر میں خاموشی رہی۔ مجھے کسی نے گالی نہ دی۔ جھڑکیوں سے نہ نوازا۔ تھپڑوں کے انعام سے محروم رہی۔ تب۔۔۔ اختر نے ایک بار پھر مجھے سہارا دیا۔ اس نے مجھ سے جلد ہی خفیہ طور پر شادی کر لینے کی خبر سنا کر ایک بار پھر مجھے امید کی رہگزر پر لا کھڑا کیا۔ چند لمحے پھر بہار کی تصوراتی آغوش میں گزر گئی۔ مگر بہار کے بعد خزاں بھی تو آیا کرتی ہے۔ دن کے بعد رات بھی تو آتی ہے۔
کل کی رات بڑی طوفانی تھی۔ بڑی خوفناک تھی۔ شدت سے بارش ہو رہی تھی۔ بادل پوری قوت سے دھاڑ رہے تھے۔ برق پوری تابناکی سے کوند رہی تھی۔ اختر ابھی تک گھر نہیں لوٹا تھا۔ اس کے والدین اور گھر کے ملازم گہری نیندسورہے تھی۔ وہ اکثر دیر سے لوٹتا تھا۔ میرا دل نہ جانے کیوں بیٹھا جا رہا تھا۔ گیارہ بج گئے۔ دل جیسے تڑپ کر سینے سے باہر آنے کی سعی کرنے لگا۔ میں اپنے چھوٹے سے کمرے میں بے چینی سے کروٹیں بدل رہی تھی۔ تبھی باہر دروازے پر اسی مخصوص مگر شاید بارش کی وجہ سے تیز انداز میں کی گئی دستک نے مجھے زندگی کی وادیوں میں گھسیٹ لیا۔ میں تقریباً بھاگتی ہوئی دروازے پر پہنچی۔ دروازہ کھولا۔ سامنے اختر بارش میں شرابور کھڑا تھا۔
“ارے تم۔۔۔ “وہ مجھے حیرت سے دیکھتا ہوا بولا۔
“اتنی دیر تم نے کہا ں لگا دی اختر۔ “میں نے پریشانی سے کہا۔
“ارے پگلی۔ “میں جب ناصر کے گھر سے نکلا تو موسم ٹھیک تھا۔ ایک دم ہی بارش نے آ لیا۔ موٹر سائیکل پر آتے آتے یہ حال ہو گیا۔ “
دروازہ بند کر کے وہ میرے ساتھ میرے کمرے میں چلا آیا۔
“جناب، جائیے اب جا کر گیلے کپڑے اتار دیجئے۔ کافی دیر ہو چکی ہے۔ لیکن اس دن اختر کچھ بدلا بدلا لگ رہا تھا ، اور پھر اس نے مجھے میری قیمتی متاح سے محروم کرنے کی کوشش کی ۔ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ وہ اس طرح کی کوئی حرکت کرسکتا ہے میں اپنی عزت بچانے کے لیے اس کی منتیں کرتی رہی اور پھر مجبورا” میں نے شور مچا دیا کہ میری عزت تو محفوظ رہے اور وہی ہوا۔ کوئی راہداری میں تیز تیز قدم اٹھاتا چلا آ رہا تھا۔ اختر گھبرا گیا۔ بہکے ہوئے جذبات کا بھوت اس کے سر سے اتر گیا۔ خدا نے میری عزت بچا لی۔ “کون ہے اندر؟ دروازہ کھولو۔ دروازہ کھولو۔۔۔ “چچا جان دروازہ دھڑ دھڑا رہے تھے۔ اختر نے اِدھر اُدھر دیکھا اور کھڑکی کی طرف لپکا۔
جب میں نے دروازہ کھولا تو کھڑکی کھلی تھی اور اختر اپنے کمرے میں جا چکا تھا۔ پھر میری ایک نہ سنی گئی۔ مجھے پیٹا گیا۔ گالیاں دی گئیں۔ تہمتیں تراشی گئیں۔ الزام لگائے گئی۔ بدکار، طوائف، بد چلن اور ایسے کتنے ہی خطابات سے نوازا گیا۔ اپنے گھر کو ایک گندی مچھلی سے پاک کرنے کے لئے مجھے، ایک جوان لڑکی کو، سگی بھتیجی کو، اس طوفانی رات کے حوالے کر دیا گیا مگر اختر نہ آیا۔ شاید اپنے اصلی روپ میں ظاہر ہونے کے بعد اس کے پاس کوئی نیا لبادہ نہ رہ گیا تھا۔ اس سے بعد میں صرف اتنا ہی جانتی ہوں کہ آسمان کی عنایات سے بے دم ہو کر ایک کوٹھی کے سائبان تلے رک گئی تھی۔ پھر کیا ہوا، مجھے کچھ معلوم نہیں !”
وہ خاموش ہو گئی۔
“بڑی دردناک کہانی ہے آپ کی؟” کچھ دیر بعد وہ ایک طویل سانس لے کر آہستہ سے بولا۔ زاہدہ آنکھیں خشک کرنے لگی۔
“مگر نئی نہیں ہے۔ ” وہ دونوں ایک آواز سن کر چونک پڑے۔ دروازے کے پاس پڑے صوفے پر ڈاکٹر ہاشمی بیٹھے تھے۔ “دنیا میں ایسے ہزاروں واقعات روزانہ پیش آتے ہیں۔ “وہ اٹھ کر ان کے قریب چلے آئے۔ “تم خوش قسمت ہو بیٹی کہ ایک وحشی کے ہاتھوں بے آبرو ہونے سے بچ گئیں ورنہ یہ بات تقریباً ناممکن ہو جایا کرتی ہے۔ “وہ بستر کے پاس پڑی کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولی۔
زاہدہ کاسر جھک گیا۔
” آپ کب آئے انکل؟” طاہر نے ان کی جانب دیکھا۔
“جب کہانی کلائمکس پر تھی۔ ” وہ بولے اور طاہر سر ہلا کر رہ گیا۔ زاہدہ سر جھکائے انگلیاں مروڑ رہی تھی۔
“چائے لیں گے آپ؟” اس نے پوچھا۔
“نہیں بھئی۔ اس وقت طلب نہیں۔ ہاں بیٹی۔ ذرا ہاتھ ادھر دو۔ “وہ اس کی نبض پر ہاتھ رکھ کر گھڑی کی طرف دیکھنے لگی۔ ” اب تو بالکل ٹھیک ہو تم۔ ” وہ انجکشن دے کر فارغ ہو گئی۔ یہی کیپسول ہر تین گھنٹے بعد لیتی رہو۔ انشاءاللہ شام تک ان سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔ “پھر وہ اٹھ گئی۔ “اچھا بھئی طاہر۔ میں اب چلوں گا۔ شام کو پھر آؤں گا۔ “
“بہتر انکل۔ ” وہ بھی کھڑا ہو گیا اور سیف کو پکارا۔ چند لمحے بعد وہ کمرے میں تھا۔ “ڈاکٹر صاحب کو گاڑی تک چھوڑ آؤ۔ “سیف نے آگے بڑھ کر ان کا بیگ اٹھا لیا۔ ڈاکٹر ہاشمی چل دیئے۔ “اور سنو۔ سیف بابا سے دو کپ چائے کا کہہ دو۔ “
“جی بہتر۔ “وہ سرجھکائے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
وہ پھر کرسی پر بیٹھ گیا۔ زاہدہ تکئے سے ٹیک لگائے جانے کس سوچ میں گم نیم دراز تھی۔
“ہوں۔ تو آپ صبح اسی لئے ان لوگوں کے پاس بھاگ بھاگ کر واپس جا رہی تھیں۔ ” وہ اسے چونکاتا ہوا گویا ہوا۔
“جی۔۔۔ جی نہیں۔ ” وہ افسردگی سے بولی۔ “وہ میرے لئے مر چکے ہیں۔ “
“کیا۔۔۔ اختر بھی؟” اس نے زاہدہ کی آنکھوں میں جھانکا۔
“وہ بھی تو انہی میں سے تھا۔ “اس نے نظریں جھکا لیں۔ “اگر وہ پیٹھ نہ دکھاتا اور میری ڈھال بن جاتا تو میں اس وقت یہاں نہ ہوتی۔ “
اوراس کے سینے سے ایک بوجھ سا ہٹ گیا۔ لبوں پر پھر زندگی سے بھرپور مسکراہٹ تیر گئی۔ “تو پھر۔۔۔ کہاں جانے کے لئے اتنا بے قرار تھیں آپ؟دیکھئے۔ وہی گھسا پٹا جواب نہ دیجئے گا کہ جہاں قسمت لے جاتی۔ “وہ لہجے کو نسوانی بناتے ہوئے بڑی افسردگی سے بولا۔ زاہدہ بے ساختہ مسکرا دی۔ “ارے ۔۔۔ آپ تو ہنستی بھی ہیں۔ “وہ بڑی حیرانی سے بولا اور اپنے جواب ندارد سوال کو بھول کر اس کی مسکراہٹ میں کھو گیا جواَب کچھ اور گہری ہو گئی تھی۔ “بس یونہی مسکراتی رہئے۔ ہنستی رہئے۔ بخدا زندگی جنت بن جائے گی۔ ویسے ایک بات کہوں۔ صبح آپ پتہ ہے کیوں بھاگ رہی تھیں ؟” اس نے پھر زاہدہ کی آنکھوں میں دیکھا۔
وہ سوالیہ انداز میں اسے دیکھنے لگی۔
” آپ کا خوفزدہ ذہن مجھ سے بھی ڈر رہا تھا۔ اختر کی طرح۔ “
اور اس نے سنجیدہ ہو کر نظریں جھکا لیں۔ شاید یہ سچ تھا۔
سیف بابا چائے لے آیا۔ کچھ دیر بعد وہ چائے سے فارغ ہو گئی۔
“اچھا مس زاہدہ۔ آپ آرام کیجئے۔ میں کچھ کام نبٹا آؤں۔ کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو بیل موجود ہے۔ “اس نے کال بیل پر انگلی رکھ دی۔ چند لمحوں بعد سیف کمرے میں تھا۔
“دیکھو سیف بابا۔ ان کی ہر ضرورت کا خیال رکھنا۔ کھانا پورے ایک بجے۔۔۔ اور رات کے کھانے پر تو میں گھر پر ہی ہوں گا۔ “
“بہتر صاحب۔ ” وہ ادب سے بولا۔
“بس جاؤ۔ ” اور وہ واپس پلٹ گیا۔
“اب میں چلوں گا۔ گھبرائیے گا نہیں۔ اور یہاں سے جانے کا ابھی مت سوچئے گا۔ کیونکہ میری غیر موجودگی میں کوئی آپ کو یہاں سے جانے نہیں دے گا۔ شام کو لوٹوں گا تو باقی باتیں ہوں گی۔ پھر طے کریں گے کہ آپ کو آگے کیا کرنا ہے؟” وہ مسکراتا ہوا کپڑوں والی الماری کی طرف بڑھ گیا۔ “ارے ہاں۔ مجھے اپنا وعدہ تو بھول ہی گیا۔ ” اچانک واپس آ کر وہ پھر کرسی پر بیٹھ گیا۔ وہ اسے کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں دیکھنے لگی۔
“دیکھئے صاحب۔ ابو تو ہمارے بھی اللہ کے پیاروں کی فہرست میں شامل ہو چکے ہیں۔ بس ایک امی ہیں۔ اور ان کا یہ اکلوتا، کلم کلا، فرزندِ ارجمند۔ آج کل وہ زمینوں پر گئی ہوئی ہیں۔ بڑی سخت گیر ہیں۔ ملازموں کو سر نہیں چڑھاتیں۔ ان کی خبر لیتی رہتی ہیں۔ اور میں یعنی مسٹر طاہر۔ امپورٹ ایکسپورٹ کی فرم کا واحد اور بلا شرکت غیرے مالک۔ تاکہ وقت گزرتا رہے۔ بیکار بیٹھنے سے بچنے کا اک بہانہ ہے۔ بس یہ تھی ہماری مختصر سی زندگی، جس کے بارے میں مَیں نے آپ کو بتانے کا وعدہ کیا تھا۔ ” وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ لاکھ کوشش کے باوجود اپنی مسکراہٹ کو دبا نہ سکی۔
طاہر الماری سے کپڑے نکال کر باتھ روم میں گھس گیا۔ چند منٹ بعد جب وہ باہر نکلا تو کچھ دیر کو وہ بھی مبہوت رہ گئی۔ کچھ اتنا ہی سمارٹ لگ رہا تھا وہ۔
وہ ہاتھ ہلا کر مسکراتا ہوا باہر نکل گیا۔ زاہدہ پھر کسی گہری سوچ میں گم ہو گئی۔
٭٭٭٭٭٭٭
تین دن ایک آنکھ مچولی کی سی کیفیت میں گزر گئے۔ اس شام وہ ڈاکٹر ہاشمی کے ہاسپٹل میں ان کے پاس موجود تھا۔
“طاہر بیٹے۔ “ڈاکٹر ہاشمی کرسی سے اٹھ کر کھڑکی کے قریب چلے گئی۔ “تم میں جلد بازی کا مادہ بہت زیادہ ہے۔ تم ہر اس شے کو حاصل کر لینا چاہتے ہو، جو تمہاری نگاہوں کو تسکین دے دی۔ تمہارے دل کوپسند آ جائے لیکن۔۔۔ ” وہ رک گئی۔ طاہر بے چینی سے پہلو بدل کر رہ گیا۔ “دوسرے کے جذبات، رستے میں آنے والی رکاوٹوں ، حقیقت اور ہر تغیر سے تم بالکل بے بہرہ ہو جاتے ہو۔ “
“میں آپ کا مطلب نہیں سمجھا انکل۔ “وہ مضطرب سا ہو گیا۔
“جوانی دیوانی ہوتی ہے بیٹے لیکن اگر اسے سنبھل کر خرچ کیا جائے تو یہ کبھی ختم نہ ہونے والا سکون بھی بن جایا سکتی ہے۔ “
اس نے پھر کچھ کہنا چاہا مگر ڈاکٹر ہاشمی نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا۔ اس کے ادھ کھلے ہونٹ پھر بند ہو گئی۔
“ابھی اس اجنبی لڑکی کو یہاں آئے ہوئے صرف تین دن ہوئے ہیں اور تم اسے جنم جنم کا ساتھی جان کر، شریک حیات بنانے کا بے وقوفانہ فیصلہ کر بیٹھے ہو۔ “
“مگر اس کا اب دنیا میں ہے بھی کون انکل؟ اسے یہ بات بخوشی قبول ہو گی۔ “
“غلط کہتے ہو۔ تم اس کے دل میں جھانک کر نہیں دیکھ سکتے۔ تمہارا کیا خیال ہے کہ اختر کی محبت اتنی جلدی اس کے دل سے حرفِ غلط کی طرح مٹ گئی ہو گی۔ “
“اس نے خود۔۔۔ “
“کہنے سے کیا ہوتا ہے۔ کہنے کو تو اس نے ان سب کو مردہ کہہ دیا ہے جن میں اس کا چچا، چچی اور اختر سب شامل ہیں لیکن کیا وہ حقیقتاً مر گئے ہیں۔ نہیں۔۔۔ وہ زندہ ہیں۔ جیسے میں ، تم اور وہ خود۔۔۔ “
“لیکن۔۔۔ “
“ابھی بیگم صاحبہ یہاں نہیں ہیں۔ چند روز میں وہ بھی لوٹ آئیں گی اور اس وقت۔۔۔ اس وقت تم ایک عجیب مصیبت میں گرفتار ہو جاؤ گے طاہر۔ تم ان کی طبیعت سے اچھی طرح واقف ہو۔ “
“لیکن میں فیصلہ کر چکا ہوں۔۔۔ “
“وہ فیصلے بدل دینے کی عادی ہیں۔ “
“میں بھی انہی کی اولاد ہوں انکل۔ “
“اور اگر۔۔۔ اس لڑکی ہی نے تمہارا فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا تو؟”
وہ سچ مچ پریشان ہو گیا۔ ڈاکٹر ہاشمی کی ہر بات اپنی جگہ اٹل تھی۔
“بات کو سمجھنے کی کوشش کرو بیٹے۔ ” وہ نرمی سے اس کا شانہ تھپکتے ہوئے بولے۔ “ابھی اس کے زخم تازہ ہیں۔ ان پر ہمدردی اور پیار کا مرہم رکھو۔ اسے حوصلہ دو۔ جلد بازی کو کچھ عرصے کے لئے خیر باد کہہ دو۔ اگر تم اس کے دل کا زخم بھرنے میں کامیاب ہو گئے تو شاید وہ سب کچھ ہو سکے جو تم سوچ رہے ہو مگر فی الحال ایسا کوئی چانس نہیں ہے۔ شیخ چلی کا خیالی پلاؤ تم جیسا انسان نہ پکائے تو اچھا ہے ورنہ حقیقت کی بھوک تمہیں ایسے فاقے پر مجبور کر دے گی جو جان لیوا بھی ہو سکتا ہے۔ “
طاہر نے ان کی آنکھوں میں جھانکا۔ وہ مسکرادیے۔ دھیرے سے پھر اس کا شانہ تھپکا۔ اس نے سر جھکا لیا۔
“وقت آنے پر میں تمہارے ساتھ کھڑا ہوں گا۔ “وہ آہستہ سے بولے۔
اور اسے جیسے بہت بڑا سہارا مل گیا۔
“اللہ حافظ۔ “وہ مسکرا کر دروازے کی طرف بڑھ گئے۔
“اللہ حافظ۔ ” وہ ہولے سے بولا اور کسی گہری سوچ میں ڈوب گیا۔
٭٭٭٭٭٭
شوخیوں پر نکھار آتا چلا گیا۔ شرارتیں بڑھتی چلی گئیں۔ تکلف کی دیواریں گرنے لگیں۔ دبی دبی، پھیکی پھیکی مسکراہٹیں ، بلند بانگ اور زندگی سے بھرپور قہقہوں میں ڈھل گئیں۔
یک طرفہ محبت کی آگ کے شعلے بلندسے بلند تر ہونے لگی۔ اس کی نیندیں اڑنے لگیں۔ قرار چھن گیا۔ سکون رخصت ہو گیا۔ دفتر کا عملہ اس کی یکدم بڑھ جانے والی زندہ دلی، ظرافت اور پیار کو “کسی کے مل جانے “سے تشبیہ دینے لگا۔ اس کی سٹینو امبر نے تو کئی بار اسے ہنسی ہنسی میں یہ بات کہہ بھی دی تھی۔
دوسری طرف زاہدہ اس محبت سے بے خبر تھی۔ بالکل بے خبر۔ لگتا یہی تھا کہ وہ اپنے ماضی کو فراموش کر چکی ہے لیکن اس کے دل میں کیا تھا یہ کوئی نہ جانتا تھا۔ ہاں ، کبھی کبھی اختر کی یاد اسے بے چین کر دیتی تو وہ کچھ دیر کے لئے اداس ہو جاتی لیکن جب اسے اختر کی زیادتی کا خیال آتا تو وہ اس اداسی کو ذہن سے جھٹک دیتی۔ اس کے خیال کو دل سے نکال پھینکنے کی کوشش کرنے لگتی۔ ایسے موقع پر طاہر اس کے بہت کام آتا۔ وہ منٹوں میں اس کی اداسی کو شوخی میں بدل کر رکھ دیتا۔ اسے قہقہوں میں گم کر دیتا۔ ماضی کو فراموش کر کے وہ مستقبل سے بالکل لا پرواہ ہوئی جا رہی تھی تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ چٹان کی طرح موجود تھی کہ لاکھ کوشش کے باوجود وہ اختر کو مکمل طور پر اپنی یادوں سے کھرچ دینے میں ناکام رہی تھی۔
آج اسے طاہر کے ہاں آئے دو ماہ ہو رہے تھے۔ بیگم صاحبہ ابھی تک گاؤں سے نہیں لوٹی تھیں۔ سردیاں ختم ہونے کو تھیں۔ طاہر نے اسے کیا کچھ نہ دیا تھا۔ مسکراہٹیں ، خوشیاں ، بے فکری، آرام، آزادی۔۔۔ لیکن یہ اس کا مستقل ٹھکانہ تو نہیں تھا۔
“اے مس اداس۔۔۔ ” طاہر کی شوخی سے بھرپور آواز نے اس کے خیالات کا شیرازہ بکھیر دیا۔ اس نے نگاہیں اٹھا کر دیکھا۔ وہ اسے مسکراتی ہوئی بڑی گہری نظروں سے دیکھتا ہوا، اس کے سامنے ہی آلتی پالتی مار کر لان کی نرم نرم گھاس پر بیٹھ گیا۔
“فرمائیے۔ ” وہ بے ساختہ مسکرادی۔
“فرمانا کیا ہے ہم فقیروں نے۔ بس یہ ایک عدد خط آیا ہے امی جان کا۔ ” وہ کاغذ کھول کر اسے گھاس پر بچھاتا ہوا جیسے مشاعرے میں غزل پڑھنے لگا۔ وہ نجانے کیوں بے چین سی ہو گئی۔
” آ رہی ہیں وہ ؟”
“ہاں۔۔۔ مگر تم کیوں پریشان ہو گئیں ؟” وہ خط پڑھے بغیر تہہ کر کے جیب میں رکھتے ہوئے بولا۔
“پریشان۔۔۔ نہیں تو۔ وہ۔۔۔ “
“اچھا چھوڑو۔ ایک بات بتاؤ۔ “
“جی پوچھئے۔ “
“اب تمہارا ارادہ کیا ہے؟ میرا مطلب ہے۔۔۔ “
“میں بھی یہی سوچ رہی تھی طاہر صاحب کہ آپ نے مجھ پر کتنے احسانات۔۔۔ “
“میں نے احسانات گننے کو نہیں کہا۔ یہ پوچھا ہے کہ اب آئندہ کا پروگرام کیا ہے؟” اس نے زاہدہ کی بات کاٹ دی۔
“پروگرام کیا ہونا ہے طاہر صاحب۔ ایک نہ ایک روز تو مجھے یہاں سے جانا ہی ہے۔ کئی بار جانا چاہا۔ کبھی آپ نے یہ کہہ کر روک لیا کہ کہاں جاؤ گی؟ اور کبھی یہ سوچ کر رک گئی کہ واقعی کہاں جاؤں گی میں ؟ لیکن آج آپ نے پوچھ ہی لیا ہے تو۔۔۔ ” وہ رک گئی۔ پھر اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ سوالیہ انداز میں اسے دیکھتا رہا۔ ” آپ ہی بتائیے۔ میں کہاں جاؤں ؟”
“ارے تو کون اُلو کا پٹھا تمہیں جانے کو کہہ رہا ہے؟ “وہ مصنوعی جھلاہٹ سے بولا اور اٹھ کر اس کے قریب چلا آیا۔
“مذاق نہیں طاہر صاحب۔ میں۔۔۔ میں آج ہی یہاں سے چلی جاؤں گی۔ “وہ اداسی سے بولی۔
“کہاں ؟”
“کہیں بھی؟” وہ نچلا ہونٹ دانتوں میں دبا کر رہ گئی۔
“پھر بھی ؟”
“جہاں۔۔۔ “
“قسمت لے جائے۔ بس اس فلمی ڈائیلاگ سے مجھے بڑی چڑ ہے۔ “وہ اس کی بات اچک کر بولا۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی مسکرا دی۔
“سنو۔۔۔ “وہ اس کے بالکل سامنے، بالکل قریب چلا آیا۔
اس نے طاہر کی طرف دیکھا۔
“تم کہیں مت جاؤ۔ یہیں رہو۔ “وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا۔
“نوکرانی بن کر۔۔۔ ؟”وہ دھیرے سے مسکرائی۔
“رانی بن کر۔ ” وہ اسے ہلکا سا جھٹکا دے کر بولا۔
“کیا مطلب؟” وہ حیران سی ہو گئی۔
“رانی کا مطلب نہیں سمجھتیں کیا۔ ارے وہی۔۔۔ جو ایک راجہ کی۔۔۔ “وہ شرارت سے مسکرا کر خاموش ہو گیا۔
“طاہر صاحب۔ ” وہ حیرت سے لڑکھڑا کر پیچھے ہٹ گئی۔
“کیوں۔۔۔ کیا ہوا ؟” وہ بے چینی سے بولا۔ دل بڑے زور سے دھڑکا تھا۔
“ایسا مت کہئے طاہر صاحب۔ میں اتنا بھیانک مذاق سہہ نہ سکوں گی۔ “
“ارے واہ۔ تم زندگی بھر کے بندھن کو مذاق۔۔۔ “
“خاموش ہو جائیے طاہر صاحب۔ خدا کے لئے۔ “وہ کانوں پر ہاتھ رکھ کر سسک پڑی۔
“زاہدہ۔۔۔ ” “میں اختر نہیں ہوں زاہدہ۔ “
“اسی لئے تو یقین نہیں آتا۔ “اس نے رخ پھیر لیا۔
“زاہدہ۔ تم۔۔۔ تم سمجھتی کیوں نہیں ؟ میں۔۔۔ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ “وہ رک رک کر کہہ گیا۔
“بس کیجئے طاہر صاحب۔ بس کیجئے۔ یہ زہر میں بجھے ہوئے تیر بہت پہلے میرے دل میں اتر چکے ہیں۔ “
“زاہدہ۔ “وہ تڑپ اٹھا۔ “میرے خلوص کی یوں دھجیاں نہ بکھیرو۔ “
“مجھے جانے دیجئے طاہر صاحب۔ مجھے جانے دیجئے۔ مجھ میں اب یہ فریب، یہ ستم سہنے کی تاب نہیں۔ “وہ چل دی۔
طاہر آگے بڑھا اور اس کا راستہ روک کر کھڑا ہو گیا۔ “جا سکوگی؟” اس کی نم آنکھوں میں جھانک کر وہ بڑے مان سے بولا۔
وہ لرز گئی۔ ایک چٹان کھڑی تھی اس کے راستے میں !
“میں نے زندگی میں پہلی مرتبہ کسی کے لئے بے قراری محسوس کی ہے زاہدہ۔ پہلی مرتبہ میرا دل کسی کے لئے دھڑکا ہے۔ تمہارے لئے۔ زاہدہ، صرف تمہارے لئے۔ اگر اسی کو محبت کہتے ہیں تو۔۔۔ “
“طاہر صاحب۔ “وہ پھر سسکی۔
“ہاں زاہدہ۔ میں نے جب تمہیں پہلی مرتبہ دیکھا تھا تو نجانے کیوں تمہیں دل میں سمولینے، دھڑکنوں میں چھپا لینے کو جی چاہا۔ میں نے اپنا کوئی آئیڈیل نہیں بنایا زاہدہ مگر اب لگتا ہے تم ہی میری نامحسوس اور ان دیکھی آرزوؤں کی تصویر ہو۔ میں نے اس کٹی پھٹی تصویر میں اپنی چاہت کے رنگ بھر دیے لیکن نہیں جانتا تھا کہ یہ تصویر میری بولی سے بہت زیادہ قیمت کی ہے۔ میرے پاس تو صرف خلوص کی دولت ہے زاہدہ۔ اس ظاہری شان و شوکت، اس آن بان پر تو میں کبھی تن کر کھڑا نہیں ہوا۔ “
وہ بت بنی اس کی صورت تکتی رہی۔ وہ پھیکے سے انداز میں مسکرا دیا۔
“جانا چاہتی ہو؟ مجھے چھوڑ کر؟”وہ اس کی پتھرائی ہوئی آنکھوں میں جھانک کر آہستہ سے بولا۔ “میں تمہیں نہیں روکوں گا۔ جاؤ۔ ” وہ بڑی درد بھری مسکراہٹ ہونٹوں پر لئے ایک طرف ہٹ گیا۔
زاہدہ نے اسے عجیب سی نظروں سے دیکھ کر دھیرے سے حرکت کی اور چل دی۔ آہستہ آہستہ، چھوٹے چھوٹے چند قدم اٹھائے۔
طاہر کی آنکھوں کے سامنے دھند سی لہرا گئی۔ پانی کی پتلی سی چادر تن گئی۔
وہ رک گئی۔
طاہر کی پلکیں بھیگ گئیں۔
وہ پلٹی۔ دھیرے سے۔
طاہر کے ہونٹوں کے گوشے لرز گئی۔
وہ رخ پھیر کر بھاگی۔
طاہر کے بازو وَا ہو گئے۔
وہ اس کے بازوؤں میں سماتی چلی گئی۔ شبنم، پھول کی پتیوں پر پھسل پڑی۔
دور برآمدے میں کھڑے ڈاکٹر ہاشمی کے لبوں پر بڑی خوبصورت مسکراہٹ ابھری۔ شاید وہ سب کچھ جان گئے تھے۔
“تو ہماری اک ذرا سی عدم موجودگی نے یہ گل کھلائے ہیں۔ ” بیگم صاحبہ نے سرجھکائے کھڑے طاہر، زاہدہ اور ڈاکٹر ہاشمی کی جانب کڑی نظروں سے دیکھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: