Ishq Ka Qaaf Novel By Sarfaraz Ahmad Rahi – Episode 20

0
عشق کا قاف از سرفراز احمد راہی – قسط نمبر 20

–**–**–

پندرہ دن کا وقت پر لگا کر اُڑ گیا۔
داؤد نے سرمد کو ٹریننگ کیمپ میں زین خان کے حوالے کیا۔ اسے کمانڈر کے حکم سے آگاہ کیا اور خود تین ساتھیوں کے ساتھ لوٹ گیا تھا۔
ٹریننگ کیمپ کشمیر کی اترائی میں ایک ایسی جگہ قائم تھا جہاں سے آزاد کشمیر کو جانے والا ایک محفوظ تر خفیہ راستہ موجود تھا۔ بھارتی افواج کی نگاہوں سے یہ مقام اس لئے بھی پوشیدہ تھا کہ اوپر سے یہ گہری کھائی لگتا تھا، جس میں اترنا بظاہر محال مگر بباطن بیحد آسان تھا۔
آسان ان کے لئے جو اس اترائی میں جانے والی قدِ آدم گھاس میں چھپی اس پگڈنڈی سے واقف تھے جو اپنے مسافروں کے قدموں کے نشان اس طرح اپنی آغوش میں چھپا لیتی تھی جیسے کوئی ماں اپنے بیٹے کے عیب پر پردہ ڈال لیتی ہے۔
زین خان نے پندرہ دن میں سرمد کو کلاشنکوف، ریوالور اور راکٹ لانچر چلانے میں طاق کر دیا۔ گوریلا ٹریننگ کے باقی مراحل میں اس نے سرمد کو خاص خاص باتوں سے واقف کرایا اور سولھویں دن رات کو وہ پھر شکارے پر کمانڈر کے سامنے موجود تھا۔
“بیٹھو سرمد۔ “
کمانڈر نے زین خان کو باہر جانے کا اشارہ کیا۔ وہ سیلوٹ کر کے کمرے سے نکل گیا۔ سرمد کمانڈر کے سامنے دو زانو بیٹھ گیا۔ آج وہ گوریلا یونیفارم میں تھا۔ سر پر سفید رومال بندھا تھا جو سر پر کفن باندھ کر راہِ خدا میں نکل پڑنے کی علامت تھا۔ کمانڈر کچھ دیر فرش کو گھورتے سرمد کی جانب بڑی گہری نظروں سے دیکھتا رہا۔ پھر اس کے لبوں پر
بڑی آسودہ سی مسکراہٹ ابھری۔
“کوئی الجھن؟ کوئی پچھتاوا؟ کوئی بے چینی سرمد؟”
“نہیں کمانڈر۔ “
سرمد نے نفی میں سر ہلایا۔
“بس یوں لگتا ہے جیسے میں کہیں جانا چاہتا ہوں۔ کوئی مجھے بلا رہا ہے۔ یہ مرحلہ طے نہیں ہو رہا۔ “
“ہاں۔ “
کمانڈر کے چہرے پر سنجیدگی نے جنم لیا۔
“یہ ہوتا ہے۔ جب تم جیسے سچے جذبوں والے سر پر کفن باندھ لیتے ہیں تب ایسا ہی ہوتا ہے۔ بلاوا آ جاتا ہے تو انتظار مشکل ہو جاتا ہے۔ ایک بات ذہن میں بٹھا لو سرمد۔ جس مشن کے لئے میں نے تمہیں چُنا ہے، اس کی کامیابی اور ناکامی سے زیادہ یہ بات اہم ہے کہ تم اس میں کیا کردار ادا کرتے ہو؟ کشتیاں جلا کر جانا ہو گا تمہیں۔ واپسی کس روپ میں ہو گی، کوئی نہیں کہہ سکتا لیکن یہ طے ہے کہ تم جس پکار پر جا رہے ہو، اس کے لئے جان لینا اور جان دینا، دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ “
“مجھے صرف اس بات کی پروا ہے کمانڈر کہ میں جس تڑپ کے ہاتھوں بے حال ہو رہا ہوں اسے قرار کب ملے گا؟کیسے ملے گا؟”
سرمد نے نظر اٹھائی۔ اس کی آنکھوں میں تیرتے سرخ ڈوروں سے مستی سی چھلک رہی تھی۔
“عشاق میں شامل ہوئے ہو سرمد۔ عشق تم پر نازل ہو چکا ہے۔ فصل پک چکی ہے۔ اب تو پھل پانے کا موسم ہے۔ اپنی بے قراری کو مہمیز کرتے رہو۔ یہ ضروری ہے۔ تمہارے لبوں پر جو ورد جاری ہوا ہے اس کا کوئی مقصد ہے۔ کوئی اشارہ ہے اس میں۔ کوئی رمز ہے اس کے اندر۔ “
سرمد نے چونک کر اس کی جانب دیکھا۔ کمانڈر کیسے جانتا ہے کہ وہ ہر وقت درود پڑھتا رہتا ہے؟ اس کے ذہن میں سوال ابھرا۔
“سوالوں میں نہ الجھو سرمد۔ جواب کی طرف دھیان دو۔ میں نہیں کہہ سکتاکہ تم اس مہم سے زندہ لوٹو گے یا شہادت کا جام تمہارا منتظر ہے لیکن اتنا بتا سکتا ہوں کہ جہاں سے تمہاری ناکامی کو کامیابی میں بدلنے کا حکم جاری ہوا ہے، وہاں سے کبھی کوئی خالی ہاتھ نہیں آیا۔ تم بھی لوٹو گے تو کامیاب ہو کر۔ انشاء اللہ۔ “
“انشاء اللہ۔ ” بے اختیار سرمد کہہ اٹھا۔
“داؤد، حمزہ، حسین اور تم سمیت بیس سرفروش اس مہم پر آج رات جا رہے ہیں۔ “
کمانڈر نے اپنی جگہ چھوڑ دی تو سرمد بھی اٹھ کھڑا ہوا۔
“میں تمہیں کوئی ہدایت نہیں دوں گا۔ تم عشق کا سبق پڑھ چکے ہو۔ اب تو اسے سنانے کا وقت ہے۔۔۔ اور سنانے میں کہیں اٹکنا مت سرمد۔ کہیں زبان کو لڑکھڑانے مت دینا۔ جاؤ اور سرخرو ہو جاؤ۔ “۔
کمانڈر نے دونوں ہاتھ اس کے سر پر رکھ دئیے۔ پھر پیشانی پر بوسہ دیا اور کھینچ کر اسے سینے سے لگا لیا۔
“ان سے کہنا۔ میں تمہارا کوئی ناز نہیں اٹھا سکا۔ مجھے معاف فرما دیں۔ “
اس نے سرمد کے کان میں سرگوشی کی۔
ایک دم جیسے سرمد کا سارا جسم جھنجھنا اٹھا۔ ایک کیف سا رگ و پے میں دوڑ گیا۔ اسے لگا کہ اس کا جسم ایک بار پھر ہوا سے ہلکا، بے وزن ہو گیا ہے۔ کمانڈر نے کس کے بارے میں یہ بات کہی؟ اس نے سوچنا ہی نہ چاہا۔ جیسے اسے سمجھ آ گیا ہو۔ جیسے اس نے سب جان لیا ہو مگر اس کا بولنے کو جی ہی نہ چاہا۔ وہ بے زبان ہو گیا۔ سبق یاد ہو جانے کی بات اس کے دل سے اٹھکیلیاں کر رہی تھی۔ کمانڈر کا پیغام اسے لوریاں دے رہا تھا۔
کمانڈر نے اسے خود سے الگ کیا۔ دونوں ہاتھوں کے پیالے میں لے کر اس کے چہرے کو اپنی برق لٹاتی نم آنکھوں سے دیکھا اور بے اختیار اس کے دائیں گال پر پیار کر لیا۔ پھر ایک قدم پیچھے ہٹا اور سرمد کی مست نگاہی نے دیکھا کہ دونوں پاؤں جوڑ کر کمانڈر نے اسے ایک زوردار سیلوٹ کیا۔ جواب میں وہ بھی ایک قدم پیچھے ہٹا اور کمانڈر کو سیلوٹ کر کے واپسی کے لئے پلٹ گیا۔
وہ جا چکا تھا مگر کمانڈر اسی طرح اپنی تین انگلیوں سے پیشانی چھوئے ہوئے دروازے کو گھور رہا تھا۔ بھیگی ہوئی دھند تھی کہ آنکھوں میں بڑھتی جا رہی تھی۔ لو دیتی شبنم تھی کہ تن من کو بھگو رہی تھی اور جھومتا ہوا دل تھا کہ ایک ہی ورد الاپ رہا تھا۔
“صلی اللہ علیہ وسلم۔
صلی اللہ علیہ وسلم۔
صلی اللہ علیہ وسلم۔ “
رات کا آخری پہر شروع ہو چکا تھا۔
داؤد کی کمان میں وہ انیس سرفروش تاروں کی باڑ کاٹ کر زمین پر رینگتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔
چھاؤنی نمبر سینتالیس کے اندر اپنے اپنے ٹارگٹ پر ریموٹ کنٹرول بم نصب کئے۔ پھر سانپ کی سی تیزی سے اپنا کام ختم کر کے اپنی اپنی جگہ دم سادھ کر بیٹھ گئے۔ سرچ لائٹ سے بچ بچا کر کام کرنا بہت مشکل تھا مگر وہ مشکل کو نہیں ، ناممکن کو ممکن کر دکھانے آئے تھے۔
مشن کا پہلا مرحلہ طے ہو گیا تو اپنی اپنی جگہ سے انہوں نے بڑی ترتیب کے ساتھ چھاؤنی کے اندر مختلف جگہوں کو تاک لیا۔ داؤد، حسن اور سرمد کے حصے میں ٹارچر سیل سے قیدیوں کو رہا کرانے کی ذمہ داری آئی۔ حمزہ نے سات ساتھیوں کے ساتھ ایمونیشن ڈپو اڑانے کا کام سنبھالا۔ قاسم اور اس کے چار ساتھیوں کو چھاؤنی کا دایاں اور خالد اور اس کے چار ساتھیوں کو بایاں حصہ تباہ کرنا تھا۔
سب سے پہلے قاسم نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور اپنے ساتھیوں سمیت سامنے آ گیا۔ ریموٹ کا بٹن دباتے ہی چھاؤنی کی سرچ لائٹ والا حصہ دھماکوں کی زد میں آ گیا۔ چیخیں ، شور، دھماکے، فائرنگ۔ ایک قیامت برپا ہو گئی۔ بیس سیکنڈ بعد ان کی تقلید میں خالد نے بایاں حصہ اڑا دیا اور اب وہ دس کے دس سرفروش، بھارتی فوجیوں کے لئے جہنم کے دہانے کھولے میدان میں پھیلے ہوئے انہیں گولیوں سے بھون رہے تھے۔
اس افرا تفری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے داؤد، سرمد اور حسن ٹارچر سیل کے قریب پہنچ گئے۔ ہر طرف دھول اڑ رہی تھی۔ اپنے پرائے کی تمیز ختم ہو چکی تھی۔ سرچ لائٹ کی تباہی نے بھارتی فوجیوں کے لئے بڑی مشکل کھڑی کر دی تھی۔ اندھیرے میں انہیں اچانک شب خون نے دوہری تباہی سے دوچار کر دیا تھا۔ ان کے اکثر فوجی ان کی اپنی ہی فائرنگ کا شکار ہو رہے تھے۔
پھر کسی کو عقل آئی اور اس نے چیخ کر جگہ جگہ کھڑی جیپوں اور دوسری فوجی گاڑیوں کی ہیڈ لائٹس آن کرنے کے لئے کاشن دیا۔ مگر انہیں دیر ہو چکی تھی۔ خالد اور قاسم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ سرعت کے ساتھ حرکت کی اور ساری چھاؤنی میں بھاگتے دوڑتے ہوئے گاڑیوں پر راکٹ لانچروں کی برسات کر دی۔ تب وہاں روشنی کا سیلاب آ گیا۔ ہاں۔ بھارتی فوجیوں کی اپنی ہی جلتی ہوئی گاڑیوں سے اٹھتے شعلوں نے ہر طرف چراغاں کر دیا مگر یہ چراغاں انہیں بہت مہنگا پڑا۔ پٹرول بموں نے انہیں زندہ جلانے کا کام شروع کر دیا اور وہ جوابی حملے کے بجائے چیختے چلاتے اپنی جانیں بچانے کے لئے دوڑنے لگے۔ بھاگنے لگے۔ تب خالد، قاسم اور ان کے ساتھیوں کے لئے ان کا شکار اور بھی آسان ہو گیا۔
داؤد، سرمد کے ساتھ فائرنگ کرتا ہوا ٹارچر سیل کی سیڑھیاں اترتا جا رہا تھا اور وہاں موجود بھارتی فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کا کام بڑی تیزی سے مکمل کر رہا تھا۔ حسن تہ خانے کے گیٹ کے اندر کھڑا رہ کر دشمنوں کی خبر لینے لگا۔ اس کی کلاشنکوف کے برسٹ بھارتیوں کے لئے موت کا راگ الاپ رہے تھے۔
بمشکل ڈیڑھ منٹ میں وہاں موجود تمام درندوں کا صفایا ہو گیا۔ تب انہیں اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لینا پڑے۔
انہوں نے ادھر ادھر سے چادریں ، پتلونیں اور قمیضیں اٹھا اٹھا کر تباہی و بربادی کی ان داستانوں پر ڈالنا شروع کیں جو انہیں ویران ویران نظروں سے گھور رہی تھیں۔ ان کے برہنہ جسم اَن کہی کہانیاں سنا رہے تھے۔ جسموں پر نشتروں ، سگریٹوں اور بھنبھوڑنے کے نشانات درندگی کا منہ بولتا ثبوت تھی۔
زنجیروں اور لوہے کے حلقوں میں جکڑے دیواروں کے ساتھ بازوؤں کے سہارے اور الٹے لٹکائے گئے زخمی نوجوانوں کو آزاد کرانے میں انہیں تین چار منٹ لگ گئی۔ نوجوانوں میں سے جو تھوڑا بہت بھی ہوش رکھتے تھے، انہوں نے کتوں کی طرح مرے پڑے بھارتی فوجیوں کی کلاشنکوفیں ، رائفلیں اور دوسرا اسلحہ اٹھایا اور گرتے پڑتے باہر کو بھاگے۔ حسن نے انہیں قطعاً نہ روکا۔ ان کے انتقام کی آگ میں بھارتی درندوں کو جل جانے دینا اس وقت بہت ضروری تھا۔
سات بیحد نازک حالت میں زخمی آدمی تھے جنہیں باری باری حمزہ اور سرمد نے باہر پہنچایا جہاں انہیں ان کے ایک ساتھی نے ایک بڑی جیپ میں ڈالا اور چھاؤنی کے خارجی راستے کی طرف طوفانی رفتار سے روانہ ہو گیا۔
تیرہ لڑکیاں اور عورتیں تھیں جو اپنے عریاں جسموں کو چیتھڑوں ، فوجی وردیوں اور چادروں میں سمیٹے باہر نکلیں اور دوسری جیپ میں سوار کر کے انہیں بھی پہلی جیپ کے تعاقب میں روانہ کر دیا گیا۔ اس وقت تک بھارتیوں کو سنبھلنے کا کچھ موقع مل گیا۔ انہوں نے دونوں جیپوں کو روکنے کی بہت کوشش کی مگر جیپوں کے عقبی حصے میں سوار خالد اور قاسم نے ان پر وہ دھواں دھار فائرنگ کی کہ انہیں جان بچانے کے لئے بھاگتے ہی بنی۔
ہوا یہ تھا کہ اچانک حملے اور اندھیرے کے باعث ایک تو بوکھلاہٹ میں انہوں نے اپنے بے شمار فوجی مار ڈالے۔ دوسرے ان کے نقصان کا ایک بڑا سبب یہ بنا کہ ایک دن پہلے وہاں سے تقریباً تیس ہزار فوجیوں کی نفری چھاؤنی نمبر انتیس میں منتقل کی گئی تھی۔ ان کی جگہ نئے فوجی دستے پہنچنے میں ابھی بارہ گھنٹے باقی تھے کہ ان پر یہ قیامت ٹوٹ پڑی۔ بیالیس ہزار کی جگہ اس وقت وہاں صرف بارہ ہزار فوجی تھے جن کا صفایا ایسے شبخون میں ذرا سی سمجھداری سے مشکل تو تھا، ناممکن نہیں۔
ٹارچر سیل سے فارغ ہو کر سرمد، داؤد اور حسن بھی حمزہ کے ساتھ آ ملے۔ دھماکوں ، چیخوں اور فائرنگ کا سلسلہ اب بھی جوبن پر تھا۔ وہ لوگ ایک گڑھے نما مورچے میں چھپے بیٹھے باہر پھیلتی تباہی کا نظارہ کر رہے تھے۔
“اپنے کتنے ساتھی کام آئے؟”
داؤد نے آواز دبا کر حمزہ سے پوچھا۔
“سات۔ ” اس نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔
” ان کی لاشیں ابھی ابھی نکلوائی ہیں یہاں سے میں نے۔ “
“اب ہم یہاں کل کتنے لوگ ہیں ؟”
“چار۔ “
حمزہ کے لبوں پر بڑی ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔ “باقی سب کو روانہ کر دیا ہے میں نے، جیپوں اور لاشوں کے ساتھ۔ “
سرمد بے چینی سے باہر جھانک رہا تھا۔ اس کی نظریں سامنے ایمونیشن ڈپو پر پڑیں تو اس نے چونک کر داؤد کی توجہ اس طرف دلائی۔ تین چار بھارتی فوجی ڈپو کا بڑا سا لوہے کا گیٹ کھول رہے تھے۔
“یہ کیا کرنے جا رہے ہیں ؟” داؤد سرسرایا۔
“میرا خیال ہے اسلحے کے ساتھ ریزرو گاڑیاں بھی اندر ہوں گی۔ باہر موجود تقریباً تمام گاڑیاں تو بیکار ہو چکی ہیں۔ “
حمزہ نے جواب دیا۔
“ایمونیشن ڈپو کے گرد کتنے بم نصب کئے گئے ہیں ؟”
“ایک بھی نہیں۔ “
حمزہ نے جواب دیا تو داؤد کے ساتھ ساتھ سرمد اور حسن بھی چونک پڑی۔
“وہ کیوں ؟” داؤد نے تیزی سے پوچھا۔
“بم نوید کے پاس تھے اور وہ سب سے پہلے شہید ہوا۔ اس کی لاش روانہ کر دی گئی تو خیال آیا۔۔۔ “
“اوہ۔۔۔ ” داؤد چکرا کر رہ گیا۔
” اب کیا کریں ؟”
موجود اسلحے کا جائزہ لیا گیا تو ایک اور خوفناک انکشاف ہوا۔ ان کے پاس راکٹ لانچر بھی نہ تھا۔ کل ملا کر چار کلاشنکوفیں ، دو ریوالور، چالیس کے قریب راؤنڈ اور ایک دستی بم ان کے پاس بچا تھا۔
“دستی بم دھماکہ تو کر سکتا ہے مگر ایک فرلانگ میں پھیلے اس ایمونیشن ڈپو کو مکمل طور پر تباہ نہیں کر سکتا۔ “
داؤد نے کچھ سوچتے ہوئے بیتابی سے کہا۔
“پھر اب کیا کیا جائے؟ ہم اس ڈپو کو چھوڑ بھی نہیں سکتے۔ “
حسن نے زبان کھولی۔
“ایسا تو سوچو بھی مت۔ ” حمزہ نے فوراً کہا۔
“ہم مٹ جائیں گے مگر مشن کو ادھورا چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ “
داؤد جواب میں اثبات میں سر ہلا کر رہ گیا۔ اس کا دماغ تیزی سے کسی حل کی تلاش کر رہا تھا۔ اسی وقت ڈپو کا گیٹ پوری طرح کھل گیا اور باہر کھڑے کرنل رینک کے آفیسر نے ڈپٹ کر اپنے ارد گرد جمع فوجیوں سے کہا۔
“فوراً گاڑیاں نکالو اور ان کے تعاقب میں نکل جاؤ۔ یہاں سے بیس میل تک سڑک پر کوئی موڑ نہیں ہے۔ ابھی وہ اتنا فاصلہ طے نہیں کر سکے ہوں گے۔ جلدی کرو۔ “
فوجی اپنی گنیں سنبھالتے ہوئے اندر کو بھاگے۔ داؤد کسی زخمی شیر کی طرح غرایا اور پہلو بدل کر رہ گیا۔
“داؤد بھائی۔ میں کچھ کر سکتا ہوں۔ “
اچانک سرمد بولا تو وہ تینوں چونکے۔
“کیا؟” بے اختیار داؤد نے پوچھا۔
” آپ یہیں میرا انتظار کیجئے۔ “
کہتا ہوا سرمد ایک دم اٹھا اور گڑھے سے نکل گیا۔
“سرمد۔۔۔ “
داؤد نے بڑی تیز سرگوشی کی۔ پھر ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر آواز دبا لی۔ تب تک سرمد نیچا نیچا دوڑتا ہوا ایک مردہ بھارتی فوجی کے پاس رکا۔ اسے پرے دھکا دے کر اس کے نیچے سے راکٹ لانچر نکالا اور آہستہ سے ان کی طرف لڑھکا دیا۔ حمزہ نے ذرا سا اونچا ہو کر ہاتھ بڑھایا اور اسے گڑھے میں کھینچ لیا۔
اسی وقت سرمد زمین پر گرا اور سانپ کی طرح رینگتا ہوا پچیس تیس قدم دور ایک دوسرے فوجی کے پاس جا رکا۔ اس کے پاس پڑا ایمونیشن بیگ تھاما اور واپسی کے لئے رخ بدل لیا۔ دو منٹ کے اندر اندر وہ اپنے ساتھیوں تک پہنچ گیا۔ اس کے ہاتھ میں جو بیگ تھا اس میں پانچ راکٹ موجود تھے۔
“شاباش سرمد۔ میرے شیر تم نے تو کمال کر دیا۔ ” داؤد نے اسے خود سے لپٹا لیا۔ حمزہ اور حسن بھی اسے تحسین آمیز نظروں سے دیکھ رہے تھے۔
داؤد نے راکٹ، لانچر میں لاؤنج کیا۔ تقریباً چھ انچ اوپر اٹھ کر لانچر کو گڑھے کے کنارے پر رکھ دیا اور نشانہ لینے لگا۔ باقی سب لوگ اپنی اپنی جگہ کانوں پر ہاتھ رکھے ایمونیشن ڈپو کے گیٹ کو دیکھ رہے تھے۔
جونہی پہلی جیپ کی ہیڈلائٹس آن ہوئیں اور روشنی کی لکیر نے گیٹ سے باہر قدم رکھا، داؤد نے راکٹ فائر کر دیا۔
دوسرے پل ایک کان پھاڑ دھماکہ ہوا اور گیٹ اپنے ساتھ وہاں موجود فوجیوں کے پرخچے اڑاتا ہوا تباہی کے گھاٹ اتر گیا۔ پھر جب تک انہیں کسی بات کی سمجھ آتی، داؤد نے دوسرا راکٹ فائر کر دیا اور اب کے بار اس کا نشانہ ڈپو کا اندرونی حصہ تھا۔
بس اس کے بعد تیسراراکٹ فائر کرنے کی نوبت ہی نہ آئی۔ ایمونیشن نے آگ پکڑ لی اور زمین یوں لرزنے لگی جیسے ان کے نیچے کوئی آتش فشاں کروٹیں لے رہا ہو۔ دھماکوں ، چیخوں اور اندھا دھند چاروں طرف فائرنگ کا ایک سلسلہ جو شروع ہوا تو بھارتیوں کو سمجھ نہ آئی کہ وہ کیسے خود کو اس قیامتِ صغریٰ سے محفوظ رکھیں۔
اس دوران ایک بات ایسی ہوئی جس کی طرف مورچے میں چھپے ان چاروں کا دھیان ہی نہ گیا۔ پہلے راکٹ نے ان کی سمت کی نشاندہی کر دی تھی، اس کا انہیں احساس ہی نہ ہوا۔ جنرل نائر گاڑیوں میں مجاہدین کا پیچھا کرنے کا حکم دے کر وہاں سے چل پڑا تھا۔ اسے دوسری جگہوں پر تباہی کا جائزہ لینا تھا۔ اس کے خیال میں تمام مجاہدین تباہی پھیلا کر انہی کی جیپوں پر فرار ہو چکے تھے مگر جونہی پہلا راکٹ فائر ہوا، وہ چونک کر رک گیا۔
اس وقت وہ ایک سلگتی ہوئی جیپ کے پاس تھا اور اس کے دائیں بائیں اور پیچھے پچیس تیس سپاہی گنیں سنبھالے چل رہے تھے۔ ایک دم اس نے ان سب کو نیچے بیٹھ جانے کا اشارہ کیا اور خود بھی جھک کر بھویں سکوڑ کر اس طرف دیکھنے لگا جس طرف سے راکٹ فائر کیا گیا تھا۔ دس سیکنڈ کے وقفے سے جب دوسرا راکٹ فائر ہوا تو اسے داؤد اور اس کے ساتھیوں کی پناہ گاہ کا پتہ چل گیا۔
اسی وقت ایمونیشن ڈپو دھماکوں اور چیخوں کی لپیٹ میں آ گیا۔ جنرل نائر اس وقت وہاں سے تقریباً ایک سو گز دور تھا۔ زمین اس کے پیروں تلے کانپ رہی تھی۔ وہ سمجھ گیا کہ اسلحے کے نام پر اب ان کے پاس سوائے بربادی کے نشانات کے کچھ نہیں بچا۔
اس نے دانت اتنے زور سے بھینچے کہ جبڑوں کی ہڈیاں ابھر آئیں۔ بیحد ہلکی آواز میں اس نے اپنے پاس موجود فوجیوں کو ہدایات دیں اور خود ان کی کمان کرتا ہوا اس مورچے کی پچھلی طرف چل پڑا جس میں داؤد اور اس کے ساتھی چھپے بیٹھے تھے۔ چند منٹ بعد مورچے کو عقب اور دائیں بائیں سے اس خاموشی کے ساتھ گھیرے میں لیا گیا کہ ان لوگوں کو علم ہی نہ ہو سکا کہ دشمن ان کے گرد اپنا جال مضبوط کر چکا ہے۔
پتہ تو اس وقت چلا جب جنرل نائر کی چیختی ہوئی آواز نے فضا کا سینہ چیر ڈالا۔
“ہاتھ اٹھا لو۔ تم لوگ گھیر لئے گئے ہو۔ “
تڑپ کر وہ چاروں پلٹے اور یہ دیکھ کر ان کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا کہ نیم دائرے میں تیرہ چودہ بھارتی فوجی اپنی گنوں کی زد پر لئے انہیں بھون ڈالنے کے لئے تیار کھڑے ہیں اور سب سے آگے جنرل نائر ان کی طرف ریوالور تانے موجود ہے۔
ایک سیکنڈ کے وقفے میں ان سب کی نظروں نے ایک دوسرے سے سوال جواب کئے اور فیصلہ ہو گیا۔ سر پر باندھے کفن کا مول چکانے کا لمحہ آن پہنچا تھا۔ ان سب کے لبوں پر ایک ہی جیسی بڑی جاندار مسکراہٹ ابھری۔
“اللہ اکبر۔ “
ایک فلک شگاف نعرے نے سامنے کھڑے دشمن کا دل دہلا دیا۔ اس کے ساتھ ہی ان کی گنوں کا رخ بھارتیوں کی جانب ہوا اور بابِ جہنم کھل گیا۔
سب سے پہلے حیرت زدہ جنرل نائر کا جسم چھلنی ہوا جس پر داؤد کی کلاشنکوف غرا رہی تھی۔
حسین، سرمد اور حمزہ نے باقی فوجیوں کو نشانے پر رکھ لیا مگر گرتے گرتے جنرل نائر کے ریوالور سے دو فائر ہوئے اور حمزہ کی پیشانی پر مہر شہادت ثبت ہو گئی۔ اسی وقت داؤد نے دشمنوں کی فائرنگ سے بچانے کے لئے حسین اور سرمد کو پرے دھکیل دیا اور خود اوپر اٹھ کر اللہ اکبر کے گرجدار نعرے کے ساتھ آگ برساتی کلاشنکوف کو نیم دائرے میں گھما دیا۔
سات آٹھ فوجیوں کو کھیت کرتا ہوا داؤد مسلسل “اللہ اکبر اللہ اکبر”کا اعلان کرتا ہوا مورچے سے نکلا اور چھلنی ہوتا چلا گیا۔ پہلے فوجیوں کے عقب میں موجود فوجیوں کی دوسری قطار نے اس وقت تک اس پر فائرنگ جاری رکھی جب تک اس کا جسم زمین پر گر کر بے حس و حرکت نہ ہو گیا۔ اور گرا وہ ایسے زاویے سے کہ اس کا چہرہ مورچے میں موجود حسین اور سرمد کی جانب ہو گیا۔ اس کے لبوں سے جو آخری الفاظ نکلی، وہ تھی۔
” لبیک اللھم لبیک۔ “
داؤد نے انہیں دشمن کی گولیوں سے بچانے کے لئے جو ایک طرف دھکا دیا تھا اس کے باعث سرمد کا سر مورچے کی سیمنٹڈ دیوار سے بڑے زور سے ٹکرایا اور وہ کوشش کے باوجود اپنے ذہن میں چھاتی تاریکی سے بچ نہ سکا۔ اس کی بیہوشی سے بے خبرحسین نے اپنے لڑھکتے جسم کو سنبھالا اور کسی زخمی شیر کی طرح اچھل کر گرجتا ہوا دشمن کی طرف لپکا۔
مورچے سے باہر نکلتے نکلتے اس کی کلاشنکوف تقریباً چھ بھارتیوں کو چاٹ گئی مگر شدید زخمی جنرل نائر نے اس وقت بھی فوجی ہمت کا مظاہرہ کیا اور آخری تین گولیاں حسین کا سینہ ادھیڑتی ہوئی نکل گئیں۔
“اللہ اکبر۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ”
کی سرگوشی حسین کے لبوں پر ایک ابدی مسکراہٹ بن کر منجمد ہوئی اور وہ اپنے اللہ کے حضور حاضر ہو گیا۔
ڈرے ہوئی، بزدل اور موت کے خوف سے لرزہ بر اندام فوجیوں کے برسٹ اس کے ساکت جسم کو چھلنی کرنے میں مصروف تھے جب زخموں سے چور جنرل نائر کو دو تین سپاہیوں نے اٹھنے میں مدد دی۔ اس کی نظر داؤد، حمزہ اور پھر حسین پر سے ہوتی ہوئی مورچے میں بے حس و حرکت پڑے سرمد پر آ ٹھہری۔
ایک دم اس نے اپنا بایاں ہاتھ فضا میں بلند کیا۔
“بس۔۔۔ ” وہ زور سے چیخا۔
“بے وقوفو۔ وہ مر چکے ہیں۔ لاشوں پر گولیاں برسانا تمہاری عادت بنتی جا رہی ہے۔ “
ایک دم فائرنگ کا سلسلہ رک گیا۔ خاموشی کی چادر تن گئی۔ خون میں نہایا ہوا جنرل نائر بڑی مشکل سے اٹھا اور دائیں بائیں دو فوجیوں کے سہارے کھڑا ہو گیا۔
“دیکھو۔ یہ زندہ ہے یا۔۔۔ “
اس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔ کوئی فوجی آگے نہ بڑھا۔ سب ایک دوسرے کو کنکھیوں سے دیکھ رہے تھے۔
“سنا نہیں تم نے۔ ” کرنل ان پر برس پڑا۔
“نامردو۔ حرامزادو۔ نیچے اتر کر دیکھو اسے۔ “
اس نے ایک فوجی کی طرف آتشیں نگاہوں سے دیکھا۔
“تم اسے کور کرو۔ “
اس نے باقی فوجیوں سے کہا اور ان سب نے گنیں مورچے کی جانب سیدھی کر لیں۔
فوجی نے تھوک نگلا اور گن بے حس و حرکت سرمد کی جانب تانے کانپتے قدموں سے مورچے میں اترنے لگا۔ اس کی جھجک سے صاف ظاہر تھا کہ وہ ساکت پڑے سرمد سے بھی خوفزدہ ہے۔ مبادا وہ اس پر جھپٹ نہ پڑے۔
مورچے میں اتر کر سب سے پہلے اس نے پاؤں زمین پر پڑی کلاشنکوف پر جمایا۔ پھر جلدی سے بیٹھ کر سرمد کے نتھنوں کے نیچے ہاتھ رکھا۔
“یہ زندہ ہے سر۔ “
اس نے تیزی سے کہا اور کھڑے ہو کر بیہوش سرمد پر گن تان لی، جس کا چہرہ سر کے زخم سے لہو لہان ہو رہا تھا۔
فوراً ہی جنرل نائر کے اشارے پر تین اور فوجی مورچے میں اترے اور ہوش و حواس سے بیگانہ سرمد کو قابو کر لیا۔
“اسے میرے سیل میں لے جاؤ۔ “
خون بہت بہہ جانے کے باعث غنودگی کا شکار ہوتے جنرل نائر نے کہا۔
” اسے ہر حال میں زندہ رہنا چاہئے۔ یہ ہمیں اپنے ساتھیوں تک لے جا سکتا ہے۔ “
فوجیوں نے سرمد کو نہتا کیا اور مورچے سے باہر اچھال دیا۔ پھر خود باہر نکلے اور اس کے ہاتھ پیچھے باندھ کر گھسیٹتے ہوئے لے چلی۔
جبکہ جنرل نائر دو فوجیوں کے سہارے طبی امداد کے لئے چھاؤنی کے مشرقی حصے کی جانب روانہ ہو گیا۔ آنکھوں میں چھاتی ہوئی بے خبری کے عالم میں اس نے آخری بار ایمونیشن ڈپو سے اٹھتے شعلوں کو دیکھا۔ ہلکے ہوتے ہوئے دھماکوں کی آوازیں سنیں اور اس کا سر سینے پر ڈھلک گیا۔ حواس نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔
طاہر، ایک ایسی این جی او کی سربراہ کی دعوت پر دہلی پہنچا تھا، جو انٹر نیشنل ایمنسٹی سے ربط رکھتی تھی۔ اس نے طاہر کی سرمد کے بارے میں بات سن کر اسے انڈیا آنے کو کہا اور اپنی طرف سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ انسانی حقوق کی حامی مس مانیا نے طاہر کا بڑی گرمجوشی سے استقبال کیا۔ طاہر اسے ایک بار پہلے ایک انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کانفرنس میں مل چکا تھا۔ وہ تبھی سے اس کی شیدائی تھی۔
اٹھائیس سالہ مانیا حسن کا شاہکار تھی۔ ابھی تک کنواری تھی اور بائیس تئیس سے زیادہ کی نظر نہ آتی تھی۔ اس کی نظروں میں طاہر کے لئے ایک خاص قسم کا والہانہ پن تھا۔
ہوٹل آگرہ ویو میں مانیا نے طاہر کے قیام کا انتظام و انصرام اپنی این جی او کی طرف سے کیا تھا۔
اپنے سوٹ میں پہنچ کر طاہر نے وقت ضائع کیے بغیر مانیا کے سامنے اپنا مسئلہ دوبارہ دہرایا۔ مانیا نے ساری بات سنی۔ چند لمحے غور کیا۔ پھر اپنی ساڑھی کا پلو درست کرتے ہوئے طاہر کی جانب دیکھا۔
“مسٹر طاہر۔ اس کے بارے میں مکمل معلومات کے لئے مجھے تھوڑا وقت درکار ہو گا۔ “
وہ بولی تو جلترنگ سے بج اٹھی۔
“کتنا وقت؟” طاہر نے سوالیہ انداز میں اسے دیکھا۔
“دو سے تین دن۔ کام اس سے بہت کم وقت میں بھی ہو سکتا ہے مسٹر طاہر۔ “
اس نے سنجیدگی سے کہا۔
“مگر میں کم وقت کے ٹارگٹ کا رسک نہیں لینا چاہتی۔ “
“تو ٹھیک ہے۔ آپ کم سے کم وقت میں ریحا اور سرمد کے بارے میں ممکنہ معلومات حاصل کر کے مجھے بتائیے۔ “
طاہر نے نرمی سے کہا۔
“میں آپ کا احسان مند رہوں گا۔ “
“میں یہ کام آؤٹ آف دی وے جا کر کروں گی مسٹر طاہر اور صرف اس لئے کہ آپ مجھے اپنے خاص دوستوں کی فہرست میں شامل کر لیں۔ “
اس نے عجیب سی نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔ “ورنہ تو یہ کام انڈین ایجنسیوں کے لئے بڑی دلچسپی کا حامل ہے کہ وہ اسے اپنا ٹارگٹ بنا کر معاملے کو سیاسی اور فوجی رنگ دے دیں۔ “
“میں سمجھتا ہوں۔ “
طاہر نے مسکرا کر اس کی جانب دیکھا۔
” اور میں دوستی کے ناطے ہی آپ سے یہ درخواست کر رہا ہوں۔ “
“تو پھر احسان مندی کیسی مسٹر طاہر۔ “
وہ ہنسی۔
“دوستی میں صرف حکم دیا اور مانا جاتا ہے۔ کیا نہیں ؟”
اس نے طاہر کی نظروں میں جذب ہونے کی کوشش کی۔
” آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں مس مانیا۔ تو اس حکم کو مان کر آپ مجھے اپنی دوستی سے نوازئیے۔ یہ تو ٹھیک ہے؟”
وہ مسکرایا۔
“بالکل۔ یہ بالکل ٹھیک ہے۔ ” وہ کھل کر ہنسی۔
” تو اب مجھے اجازت دیجئے۔ میں ابھی سے یہ کام شروع کر رہی ہوں۔ ہاں۔ “
وہ کھڑی ہو کر بولی۔
“مسٹر سرمد کا کوئی فوٹو ہے آپ کے پاس، تو مجھے دے دیں۔ “
جواب میں طاہر نے اپنے پرس سے پاسپورٹ سائز کا سرمد کا ایک فوٹو نکال کر اس کی طرف بڑھا دیا۔
“کیا میں امید رکھوں کہ معاملات مکمل راز داری میں رہیں گے مس مانیا؟”
طاہر نے مانیا کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا۔
“یہ کہنے کی نہیں ، آزمانے کی بات ہے مسٹر طاہر۔ اور مجھے آزمایا جانا اچھا لگتا ہے۔ “
وہ فوٹو تھام کر مسکرائی۔ پھر ہاتھ ہلاتی ہوئی دروازے کی جانب بڑھ گئی۔
“اپنا سیٹ آن رکھئے گا۔ ہمارا رابطہ صرف موبائل پر رہے گا۔ “
وہ کہہ باہر نکل گئی۔
کرنل رائے چھاؤنی نمبر سینتالیس کی تباہی کی رپورٹ پر یوں آگ بگولہ ہو رہا تھا جیسے کسی نے اسے دہکتے کوئلوں کی انگیٹھی پر بٹھا دیا ہو۔
گٹھے ہوئے بدن، قابل رشک صحت اور سرخ و سفید رنگت کا مالک ناٹے قد کا کرنل رائے یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ چھاؤنی جو ان کے ایک مضبوط قلعے کی حیثیت رکھتی تھی، یوں بربادی کے گھاٹ اترے گی کہ وہاں موجود بارہ ہزار میں سے صرف نو سو چھپن فوجی زندہ بچیں گے۔ ایمونیشن ڈپو کی تباہی اس پر مستزاد تھی۔
انکوائری کمیشن بٹھا دیا گیا تھا اور وہ جانتا تھا کہ اس کی رپورٹ بھی ٹائیں ٹائیں فش کا راگ الاپتی نظر آئے گی۔
وہ سگار دانتوں میں دبائے اپنے نجی آفس کا قالین روند رہا تھا۔ بار بار اس کی نظر میز پر پڑے ٹیلیفون سیٹ سے ٹکراتی اور مایوس ہو کر لوٹ آتی۔ اسے انتظار تھا ایک فون کا۔ بے چینی جب انتہائی حدوں کو چھونے لگی تو رک کر بجھے ہوئے سگار کو دوبارہ سلگایا۔ لائٹر جیب میں ڈال کر اس نے دو تین گہرے کش لئے اور پھر ٹہلنے لگا۔
اچانک فون کی بیل نے اسے چونکا دیا۔ لپک کر وہ میز کے قریب پہنچا اور تیزی سے ریسیور اٹھایا۔
“ہیلو۔ کرنل رائے اسپیکنگ۔ “
کٹکھنے کتے کی طرح وہ غرایا۔
“سر۔ میں کیپٹن آدیش بول رہا ہوں۔ جنرل نائر کا بھیجا ہوا آتنک وادی سیل میں پہنچ گیا ہے سر؟”
“میں آ رہا ہوں۔ “
اس نے کہا اور ریسیور کریڈل پر پٹخ کر اضطراب کے عالم میں کمرے سے نکل گیا۔
اس نے اپنی ہی کوٹھی کے تہہ خانے میں تفتیشی سیل بنا رکھا تھا۔ خطرناک مجرموں اور دہشت گردوں کی زبان کھلوانے کے لئے اس کا ٹارچر سیل پوری فوج میں مشہور تھا۔ سب جانتے تھے کہ اس سیل کو فوجی سرپرستی حاصل ہے۔ یہاں ٹارچر کے ساتھ ساتھ علاج کے لئے بھی چار کمروں کا مختصر سا جدید ترین منی ہاسپٹل موجود تھا جہاں ان زخمیوں کی بہترین دیکھ ریکھ ہوتی تھی جنہیں مزید کچھ دیر زندہ رکھا جانا مقصود ہوتا تھا۔
یہاں قائم کسی ایک شعبے کا دوسرے سے براہ راست کوئی تعلق تھا۔ ہر کارکن کرنل رائے کے بعد کیپٹن آدیش کو جواب دہ تھا جو وہاں کا انچارج آفیسر تھا۔
اس سیل میں حسین ترجسمانی رشوت سے لے کر اذیت دینے کے جدید ترین طریقوں سے کھل کھلا کر کام لیا جاتا تھا اور کہیں نہ کہیں مجرم ضرور اپنا آپ ہار دیتا تھا لیکن یہ تجربہ بھی اسے ہو چکا تھا کہ کچھ دیوانے ایسے بھی ان کے ہاتھ لگتے تھے جو جان دے دیتے تھے مگر زبان کھولتے تھے نہ ہار مانتے تھے۔
ایسے لوگوں کو وہ بال آخر ہاتھ پاؤں باندھ کر تیزاب کے ٹب میں ڈبو دینے پر مجبور ہو جاتا تھا مگر تب بھی ان کے لبوں سے اللہ اکبر کے نعروں اور کلمہ طیبہ کے سوا کچھ ادا نہ ہوتا تھا۔ اس وقت اس کا جی چاہتا کہ اپنے سر پر موجود گنے چُنے بال بھی نوچ ڈالے۔ اس کی بے بسی اس کے ماتحتوں کو منہ چھپا کر ہنسنے پر مجبور کر دیتی، جس کا غصہ وہ گالیاں بک کر نکالتا۔
اپنے دماغ میں خیالاتی کھچڑی پکاتا وہ کوٹھی کی انیکسی کے ساتھ تہہ خانے میں قائم سنٹرلی ساؤنڈ پروف ٹارچر سیل کے دروازے پر پہنچا۔ دیوار میں دائیں ہاتھ ایک خانے میں لگی چمکدار میٹل پلیٹ پر انگوٹھا رکھ کر دبایا۔ اس کے انگوٹھے کی لکیریں شناخت میں آتے ہی دروازہ بے آواز کھل گیا۔
وہ تیزی سے سیڑھیاں اترا۔ اس کے پیچھے خود کار سسٹم کے تحت دروازہ بند ہو گیا۔ تین جگہ کھڑے گن مینوں نے اسے زوردار سیلوٹ کیا جنہیں نظر انداز کرتا ہوا وہ کاریڈور کا موڑ گھوم گیا۔ سامنے شیشے کی دیوار کے پار نیم اندھیرے کمرے کے عین درمیان کرسی کے بازوؤں اور پایوں کے ساتھ بندھا وہ آتنک وادی خون میں نہایا نظر آ رہا تھا جس کا سینے پر جھکا سر بتاتا تھا کہ وہ بیہوش ہے۔
اس کے عین اوپر چھت سے لٹکتا بے پناہ تیز روشنی دیتا مرکری بلب اپنے شیڈ سمیت ہولے ہولے آگے پیچھے ہل رہا تھا۔
“سر۔ “
وہ کمرے میں داخل ہوا تو کیپٹن آدیش کے ساتھ موجود تین فوجی سپاہیوں کی ایڑیاں بھی بج اٹھیں۔ ان کے سیلوٹ کا جواب سر کی ہلکی سی جنبش سے دیتا ہوا وہ آتنک وادی کے بالکل سامنے جا کھڑا ہوا۔
“اس نے کچھ بتایا؟” وہ نفرت سے چنچنایا۔
“نو سر۔ ” کیپٹن آدیش نے کھٹ سے کہا۔
“ہم نے اسے اسی حالت میں وصول کیا ہے۔ جنرل نائر نے اس پر تشدد کی انتہا کر دی ہے مگر یہ تو جیسے گونگا ہے۔ “
“یہاں گونگے بھی بول اٹھتے ہیں ، تم جانتے ہو۔ ” نخوت سے کرنل رائے نے کہا۔
“اسے ہوش میں لاؤ۔ “
فوراً ہی ایک فوجی نے کونے میں رکھی میز سے جگ اٹھایا اور پانی آتنک وادی کے سر پر دور ہی سے اچھال دیا۔
لرز کر سرمد نے حرکت کی اور ورم آلود پپوٹوں کو زور لگا کر کھولنے کی کوشش کی۔ ایک کراہ اس کے پھٹے ہوئے خون آلود ہونٹوں سے خارج ہوئی اور سر اٹھتے اٹھتے پھر ڈھلک گیا۔ تاہم اب وہ ہوش میں تھا۔
اسی وقت کیپٹن آدیش نے آگے بڑھ کر اس کے سر کے بال مٹھی میں جکڑ کر ایک جھٹکے سے چہرہ اوپر اٹھایا اور بلب کی برمے جیسی تیز روشنی اس کی آنکھوں میں گھستی چلی گئی۔
“کیا نام ہے تمہارا؟” کرنل رائے اس کے سامنے آ گیا۔
جواب میں سرمد نے کراہتے ہوئے سر کے بال چھڑانے کی ناکام کوشش کی مگر کیپٹن آدیش نے اسے سختی سے قابو کئے رکھا۔
“جواب دو۔ کیا نام ہے تمہارا؟”
جنرل کی آواز میں غراہٹ ابھری۔ ساتھ ہی اس کا دایاں ہاتھ گھوم گیا۔ تھپڑ اس قدر زوردار تھا کہ سرمد کے خون آلود ہونٹوں کے زخم پوری طرح کھل گئی۔
“بولو۔ “
اب کے جنرل کا بایاں ہاتھ حرکت میں آیا۔ پھر وہ مسلسل اس پر تھپڑ، گھونسے اور لاتیں برسانے لگا۔ بالکل پاگلوں کے انداز میں وہ اس پر پل پڑا تھا۔
“یہ بیہوش ہو چکا ہے سر۔ “
منہ سے کتوں کی طرح کف چھوڑتے اور ہانپتے جنرل کو جب کیپٹن آدیش نے بتایا تو وہ ہوش میں آ گیا۔
“جنرل نائر نے کچھ بتا بھیجا ہے اس کے بارے میں ؟” ایک طرف ہٹ کر اپنے خون آلود ہاتھ ٹشو پیپر سے صاف کرتے ہوئے اس نے پوچھا۔
“یہ فارم ساتھ آیا ہے سر۔ “
کیپٹن آدیش نے جیب سے ایک کاغذ نکال کر اس کی طرف بڑھا دیا۔
جنرل نے اس کاغذ پر نظر دوڑائی۔ نام سے لے کر پتے تک کے آگے “نامعلوم” کا لفظ اس کا منہ چڑا رہا تھا۔ غصے سے اس نے کاغذ کے پرزے اڑا دئیے۔ پھر کیپٹن کی طرف دیکھا۔
“اسے ہوش میں لاؤ۔ خوب پیٹ بھر کر کھلاؤ اور سونے مت دو۔ سمجھے۔ “
کرنل نے سرمد کے بیہوش سراپے پر نفرت آلود نگاہ ڈالی اور واپسی کے لئے مڑ گیا۔
“میں اپنے آفس میں موجود ہوں۔ پل پل کی خبر دیتے رہنا۔ “
“یس سر۔ “
کیپٹن آدیش نے فوجی انداز میں کہا اور سیلوٹ کے لئے اس کے ساتھ باقی تینوں فوجیوں نے بھی ہاتھ اٹھا دئیے۔
دوسرے دن شام تک طاہر نے اپنے طور پر فون پر کچھ لوگوں سے رابطہ کر کے معلومات حاصل کرنا چاہیں مگر کوئی امید افزا بات سامنے نہ آئی۔ وہ ہوٹل کا فون قطعاً استعمال نہ کر رہا تھا۔ اس کی پوزیشن بڑی نازک تھی۔ بار بار سوچتا کہ ایک دم مانیا پر اعتماد کر لینے کا اقدام کہیں اسے کسی مشکل میں نہ ڈال دے مگر طاہر کے پاس رسک لینے کے سوا کوئی چارہ بھی تو نہ تھا۔ تاہم اس کی چھٹی حس اسے بتا رہی تھی کہ اس نے مانیا کے بارے میں جو اندازہ لگا کر اس پر اعتماد کیا ہے، وہ غلط نہیں ہے۔
اس وقت وہ ٹی وی پر ایک نیوز چینل دیکھ رہا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔
“یس۔ “
طاہر نے ریموٹ سے ٹی وی کی آواز بند کر دی اور دروازے کی جانب دیکھا، جو اندر سے لاک نہیں تھا۔ “کم ان۔ “
دروازہ کھلا اور ہنستی مسکراتی مانیا اندر داخل ہوئی۔
“گڈ ایوننگ مسٹر طاہر۔ “
“گڈ ایوننگ مس مانیا۔ “
طاہر نے خوش اخلاقی سے جواب دیا اور بیڈ سے اٹھ گیا۔ اس نے طاہر کا ہاتھ جو تھاما تو خود طاہر ہی کو واپس کھینچنا پڑا۔
“بیٹھئے۔ “
طاہر اس کے ساتھ صوفے تک چلا آیا۔
” آپ نے تو رابطہ نہ کرنے کی قسم کھا لی شاید۔ میں انتظار کرتی رہی کہ آپ کنٹیکٹ کریں گے۔ “
وہ مسکرا کر بولی۔
“اعتماد کرنا آتا ہے مجھے مس مانیا۔ آپ جب تک رابطہ نہ کرتیں میں اسی اعتبار کے سہارے ٹیک لگا کر وقت گزارتا رہتا کہ آپ میرے کام میں مصروف ہیں۔ “
طاہر نے مانیا کو مکھن میں غوطہ دیا۔
“اوہ نو۔ ” وہ حیرت سے آنکھیں پٹ پٹا کر بولی۔
“اتنی بلندی سے مت نوازیے مسٹر طاہر کہ میں نیچے دیکھنا ہی بھول جاؤں۔ “
“ایسی کوئی بات نہیں مس مانیا۔ بہر حال اب میں آپ کی طرف سے کسی اچھی خبر کے لئے بیتاب ہوں۔”
اس نے انٹر کام پر لوازمات کا آرڈر دیا اور مانیا کے سامنے آ بیٹھا۔
” خبر نہیں۔ خبریں مسٹر طاہر۔ اب وہ اچھی ہیں یا نہیں اس کا فیصلہ آپ کو خود کرنا ہو گا۔ “
مانیا نے اپنے کندھے سے بڑا نازک سا شولڈر بیگ اتارا۔ کھولا اور اس میں سے ایک تہہ کیا ہوا کاغذ نکال کر اپنے سامنے پڑی میز پر پھیلا لیا۔
“میں ترتیب سے بتاتی ہوں۔ “
طاہر کے جسم میں خون کی گردش تیز ہو گئی۔ وہ اضطراب آلود نگاہوں سے مانیا کو دیکھنے لگا جس نے سسپنس سے پرہیز کرتے ہوئے کہنا شروع کیا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: