Ishq Ka Qaaf Novel By Sarfaraz Ahmad Rahi – Episode 21

0
عشق کا قاف از سرفراز احمد راہی – قسط نمبر 21

–**–**–

” خبر نہیں۔ خبریں مسٹر طاہر۔ اب وہ اچھی ہیں یا نہیں اس کا فیصلہ آپ کو خود کرنا ہو گا۔ “
مانیا نے اپنے کندھے سے بڑا نازک سا شولڈر بیگ اتارا۔ کھولا اور اس میں سے ایک تہہ کیا ہوا کاغذ نکال کر اپنے سامنے پڑی میز پر پھیلا لیا۔
“میں ترتیب سے بتاتی ہوں۔ “
طاہر کے جسم میں خون کی گردش تیز ہو گئی۔ وہ اضطراب آلود نگاہوں سے مانیا کو دیکھنے لگا جس نے سسپنس سے پرہیز کرتے ہوئے کہنا شروع کیا۔
“بیس جنوری کو سرمد سعودی عرب سے دہلی پہنچا۔ اس نے اپنے قریبی پولیس سٹیشن میں اپنی آمد کا کوئی اندراج نہیں کرایا۔ وہ کہاں گیا؟ کہاں ٹھہرا؟ کس سے ملا؟ کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ ہاں۔ اس کے حلئے کا ایک آدمی اکیس جنوری کو ٹاٹا بس سروس سے سرینگر کے لئے روانہ ہوا۔ سرینگر سے وہ کہاں گیا ؟ یہ کوئی نہیں جانتا۔ “
سانس لینے کے لئے مانیا رکی اور اس پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جو ہمہ تن گوش ہو کر اسے سن رہا تھا۔
“ریحا لندن سے واپس آئی۔ واپسی کے تقریباً تین ہفتے بعد وہ ایک دن کے لئے دوبارہ لندن گئی۔ سرمد کے فلیٹ سے اس کے ڈاکومنٹس لے کر پاکستان پارسل کئے اور اگلے دن انڈیا لوٹ آئی۔ اس کی لندن جانے کی ڈیٹ تئیس جنوری اور واپس لوٹنے کی چوبیس جنوری ہے۔
اس کے بعد سے اب تک وہ سرینگر میں اپنے گھر پر موجود ہے۔ اس نے باہر آنا جانا بہت کم کر دیا ہے۔ ہر وقت ہنسنے کھیلنے والی ریحا اب چُپ چُپ رہتی ہے۔ سہیلیوں سے بھی کم کم ملتی ہے۔ ینگسٹرز کلب کی رکن ہے مگر وہاں جانا بھی تقریباً چھوڑ چکی ہے۔ اس کے والدین اس کی اداسی سے پریشان ہیں مگر وہ اس کی کوئی وجہ نہیں بتاتی۔ ہاں۔ ایک معمول بنا لیا ہے اس نے کہ ہر شام سیتا مندر جا کر دیا جلاتی ہے جو اس کے گھر سے ایک فرلانگ کے فاصلے پر ہے۔ “
“حیرت انگیز۔ “
طاہر نے تحسین آمیز نظروں سے مانیا کی طرف دیکھا تو وہ کھل اٹھی۔
“اتنے کم وقت میں ایسی امید افزا معلومات حاصل کر لینا آپ ہی کا کام ہے مس مانیا۔ “
“تھینکس مسٹر طاہر۔ “
وہ مسکرا کر بولی۔ اس کی نظروں میں جلتے دیپ طاہر کے چہرے پر لو دے رہے تھے۔
“لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ان معلومات سے ہمارا مسئلہ تو حل نہیں ہوا۔ “
طاہر نے اپنا خیال ظاہر کیا۔
“بالکل درست۔ ” مانیا نے اس کی جانب دیکھا۔
” آپ غلط نہیں کہہ رہے مسٹر طاہر۔ تاہم میں ایک راستے کی نشاندہی کر سکتی ہوں جس پر چل کر ہم سرمد کے بارے میں مزید کچھ معلوم کر سکتے ہیں۔ “
“وہ کون سا راستہ ہے مس مانیا؟”
طاہر نے اس کی جانب بغور دیکھا۔
“ہمیں سرینگر جانا پڑے گا۔ ریحا سے ملنا ہمارے لئے مفید ہو سکتا ہے۔ “
“ہاں۔ یہ خیال تو میرے ذہن میں بھی آ رہا تھا۔ “
طاہر نے پُر خیال لہجے میں کہا۔
“بس۔ تو وہاں چلتے ہیں۔ اگر میں واقعات اور صورتحال کے ڈانڈے ملانے بیٹھوں تو نجانے کیوں مجھے سرمد اور ریحا میں ایک انجانا سا تعلق محسوس ہوتا ہے۔ شاید ریحا سے مل کر ہمیں کوئی سِرا ہاتھ آ جائے۔ “
“مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے مس مانیا۔ “
طاہر نے اس کی تائید کی۔
“تو پھر طے رہا کہ کل صبح ہم سرینگر چل رہے ہیں۔ ” مانیا نے جیسے فیصلہ سنایا۔
” آپ اپنا پاسپورٹ مجھے دے دیں۔ تاکہ میں ضروری کاغذی کارروائی مکمل کرا لوں۔ “
طاہر نے اپنا پاسپورٹ مانیا کے حوالے کر دیا جسے اس نے اپنے شولڈر بیگ میں ڈال لیا۔
اسی وقت دونوں کی نظریں ملیں۔ طاہر کی نگاہوں میں نجانے کیا تھا کہ مانیا کا دل یکبارگی زور سے دھڑک اٹھا۔
“مس مانیا۔”
طاہر نے جیسے ماحول کا تناؤ کم کرنا چاہا۔
“ہمیں ریحا سے ملنے میں کس قسم کی دشواری ہو سکتی ہے؟ اس پر بھی غور کر لینا چاہئے۔ “
“کوئی دشواری نہیں ہو گی مسٹر طاہر۔ “
وہ بھی سنبھل گئی۔
“ایک بات جس کا میں نے پہلے آپ سے ذکر نہیں کیا، یہ ہے کہ جب آپ نے مجھے ریحا کا ایڈریس دیا تھا میں تبھی ایک حد تک مطمئن ہو گئی تھی اور مجھے لگا تھا کہ ہمیں سرینگر جانا پڑے گا۔ “
“وہ کیوں ؟” طاہر چونکا۔
“اس لئے کہ میں تھوڑا بہت ریحا کے باپ کو جانتی ہوں۔ “
“شیام رائے کو؟” طاہر حیران ہوا۔
“شیام رائے نہیں۔ کرنل شیام رائے کو۔ ریحا کرنل رائے کی اکلوتی بیٹی ہے۔ “
“کیا؟”
طاہر اچھل پڑا۔ پھر اپنی حیرت پر قابو پاتے ہوئے اس نے سنبھالا لیا۔
“میرا مطلب ہے آپ کس طرح اسے جانتی ہیں ؟”
اس کے دماغ میں خطرے کی گھنٹی بج اٹھی۔
“کرنل شیام رائے کے نجی سیل میں میرا ایک دور کا کزن ملازم ہے۔ اب تک کی معلومات میں اسی سے حاصل کر پائی ہوں۔ “
مانیا نے بتایا۔
“اوہ۔۔۔ ” طاہر بظاہر مطمئن سا ہو گیا۔
“اور میں چاہوں گی کہ اس سے ملاقات ہم کرنل رائے کی لا علمی میں کریں۔ یہی ہمارے لئے بہتر ہو گا۔ وہ فوجی آدمی ہے اور آپ مسلمان۔ شاید وہ اسے پسند نہ کرے۔ بات کوئی اور رنگ اختیار نہ کر جائے، اس لئے ہمیں محتاط رہنا پڑے گا۔ “
“مس مانیا۔ آپ میرے لئے خطرہ مول لے رہی ہیں۔ ” طاہر نے اسے عجیب سی نظروں سے دیکھا۔
“جی نہیں۔ ” اس نے طاہر کی جانب نظر اٹھائی۔
” میں صرف آپ کی دوستی جیتنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ “
“وہ تو آپ جیت چکیں مس مانیا۔ “
طاہر کی نظروں میں ا س کے لئے کوئی پیغام تھا۔
“تو میں اس کا ثبوت چاہوں گی مسٹر طاہر۔ “
اس نے نگاہوں کی کمند طاہر کی جانب اچھالے رکھی۔ ” ثبوت آپ کو سرینگر سے واپسی پر مل جائے گا مس مانیا۔ “
“شرط ہے کیا؟” وہ بڑے دل آویز انداز میں مسکرائی۔
“بالکل نہیں۔ ” طاہر نے دھیرے سے کہا۔
“ذہنی فراغت چاہتا ہوں اور بس۔ “
“میں انتظار کروں گی اس پل کا مسٹر طاہر جب۔۔۔ “
اسی وقت ویٹر نے دروازے پر دستک دی اور مانیا کی بات ادھوری رہ گئی۔
اذیتوں کا سلسلہ دراز ہوتا جا رہا تھا۔
سرمد کو زبردستی حلق تک مرغن غذا کھلا کر بٹھا دیا جاتا۔ جونہی اسے غنودگی ہونے لگتی، نیند کی زیادتی اس کی پلکوں پر بوجھ ڈالتی تو سر کے بال کھینچ کھینچ کر، تھپڑوں اور گھونسوں سے اسے جاگنے پر مجبور کیا جاتا۔ کبھی اسے فاقے کی دلدل میں دھکیل دیا جاتا۔
مسلسل فاقہ اسے ضعف کے مارے ہلنے جلنے سے معذور کر دیتا مگر اسے کھانے کے نام پر ایک کھیل اور پینے کے لئے پانی کا ایک قطرہ نہ دیا جاتا۔ کئی بار کرنل رائے نے فضلے سے بھرا ڈبہ اس کی ناک کے عین نیچے لٹکا کر کئی کئی گھنٹے تک غیر انسانی حالت میں رکھا۔
اس کے جسم کا کوئی حصہ ایسا نہ تھا جہاں زخم نہ لگایا گیا ہو۔ ان زخموں میں نمک چھڑکا جاتا۔ مرچیں بھر دی جاتیں۔ زخموں پر بھوری چیونٹیاں چھوڑ دی جاتیں جو اس کا گوشت نوچتیں تو اس کی چیخیں ٹارچر سیل میں پورا پورا دن گونجتی رہتیں۔ کراہیں رات رات بھر اس کے لبوں سے خارج ہوتی رہتیں۔
سگریٹ سے اس کا سارا جسم داغ دیا گیا۔ پیروں کے ناخن کھینچ دیے گئے۔ تپتے لوہے کی پلیٹوں پر پہروں کھڑا رکھا گیا۔ برف کی سلوں پر گھنٹوں لٹایا گیا۔ جسم کے نازک حصوں پر الیکٹرک شاک دیا گیا۔ اور ان سب اذیتوں سے چھٹکارے کا لالچ دے کر اس سے پوچھا جاتا۔
“تمہارا نام کیا ہے؟”
“تمہارا ٹھکانہ کہاں ہے؟”
“اپنے ساتھیوں کے نام اور پتے بتاؤ۔ “
“اپنے گروپ کا نام بتاؤ۔ “
کرنل رائے کے ہر سوال کے جواب میں سرمد کے لبوں پر ایک مسکراہٹ ابھرتی اور وہ اپنے ورم آلود ہونٹوں کو بمشکل حرکت دیتے ہوئے کہتا۔
“میرا نام غلام ہے۔ میں اپنے آقا کا غلام ہوں۔ میرا ٹھکانہ میرے اللہ کی رضا اور محبت ہے۔ میرے ساتھی اللہ اور اس کا رسول ہیں۔ میرے گروپ کا نام عشقِ رسول ہے۔ “
یہ جواب کرنل رائے کے تن بدن میں آگ لگا دیتی۔
اب تک اس کا واسطہ بڑے بڑے سخت جان مجاہدین سے پڑا تھا مگر جس قسم کی باتیں سرمد کرتا تھا وہ اسے سر تا پا شعلہ بنا دیتیں۔ پھر وہ جتنا بھی ضبط کرنا چاہتا، سب بیسود ثابت ہوتا۔ نتیجہ یہ کہ سرمد پر دن بدن اس کے ستم بڑھتے ہی جا رہے تھے۔ اس کی سمجھ میں نہ آ رہا تھا کہ اس سخت جان آتنک وادی کا کیا حال کرے کہ اس کی زبان مطلوبہ معلومات کے لئے کھل جائے۔
کوئی اور ہوتا تو اب تک جان سے گزر گیا ہوتا مگر سرمد تھا کہ جیسے اس کے جسم میں ہر روز ایک نئی طاقت عود کر آتی تھی۔ کیپٹن آدیش نے اکثر محسوس کیا تھا کہ ہوش میں ہو یا نہ ہو، سرمد کے نیم متحرک ہونٹوں سے کچھ پڑھنے کا احساس ہوتا ہے۔
ایک روز اس نے کان لگا کر سنا اور جو الفاظ اس کے کانوں میں اترے ان کے اثر سے اس کے جسم میں جیسے کرنٹ دوڑ گیا۔ اس کا رنگ فق ہو گیا۔ دل کی دھڑکن بے قابو ہو گئی۔ اسے لگا جیسے وہ اپنے پیروں پر کھڑا نہ رہ سکے گا۔ اس کے سارے جسم پر جو لرزا طاری ہوا تو حالت سنبھلتے سنبھلتے کئی منٹ لگ گئی۔ وہ لڑکھڑا کر پرے پڑی کرسی پر گر سا پڑا اور گہرے گہرے سانس لینے لگا۔ اب بھی اس کے کانوں میں سرمد کی مستی میں ڈوبی ہلکی ہلکی آواز خوشبو انڈیل رہی تھی۔
“صلی اللہ علیہ وسلم۔
صلی اللہ علیہ وسلم۔
صلی اللہ علیہ وسلم۔ “
سرمد کے ہونٹ یہی دہرا رہے تھے۔
یہ کیسے الفاظ تھے؟ کیا یہ اس مسلمان کا کوئی مذہبی اشلوک تھا؟ کوئی منتر تھا؟ وہ کچھ بھی سمجھ نہ پایا مگر اس دن سے اس میں ایک تبدیلی آ گئی۔
اس دن کے بعد اس کا ہاتھ سرمد پر نہ اٹھا۔ اس کا جی ہی نہ چاہتا تھا کہ اسے اذیت دے۔ اسے تکلیف پہنچانے کا خیال ہی کیپٹن آدیش کو لرزہ بر اندام کر دیتا۔ اب اس کی کوشش ہوتی کہ سرمد پر دوسرے فوجیوں کے بجائے اسی کی ڈیوٹی لگی رہے تاکہ وہ اسے عقوبت سے بچائے رکھے۔
دن میں کئی بار اس کا جی چاہتا کہ وہ سرمد کے لبوں سے وہی طلسمی الفاظ پھر سنے جنہوں نے اس کی کایا کلپ کر دی تھی۔ ایسا وہ اس وقت کرتا جب سرمد بیہوش ہوتا اور اس کے آس پاس دوسرا کوئی نہ ہوتا۔ تب وہ چوری چوری اس کے لبوں سے کان لگا دیتا اور ان الفاظ کی مہک اپنی سماعت میں اتارنے لگتا۔ اس کا جی نہ بھرتا مگر اسے اپنے ارد گرد والوں کا خوف زیادہ دیر یہ مزہ لینے نہ دیتا۔
کئی بار اسے خیال آیا کہ یہ کوئی جادوئی الفاظ ہیں جنہوں نے اس کا دل سرمد کی طرف سے موم کر دیا ہے۔ مگر پھر اسے اپنی سوچ پر خود ہی یقین نہ آیا۔ اس نے سر جھٹک کر اس خیال کو دور پھینک دیا۔ اگر یہ جادو ہوتا تو اب تک یہ آتنک وادی وہاں سے اڑنچھو ہو چکا ہوتا۔ اس کے ذہن میں اپنے دھرم کے حوالے سے جادو کا ایسا ہی تصور تھا۔
اس دن ٹارچر سیل کا فوٹو گرافر سرمد کی تصویریں ڈیویلپ کر کے لایا اور ایک لفافے میں بند کر کے کیپٹن آدیش کے حوالے کر گیا۔ یہ تصویریں کرنل رائے کو پاس کرنا تھیں۔ پھر انہیں آرمی ہیڈ کوارٹر دہلی بھجوایا جاتا۔ تاکہ ان تصویروں کی خاص خاص مقامات پر تشہیر و ترسیل کے ذریعے سرمد کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکتیں۔
کیپٹن آدیش نے لفافہ کھول کر دیکھا۔ اس میں کل آٹھ تصاویر تھیں۔ چار میں تو اس ٹارچر سیل کی درندگی اور بربریت عروج پر تھی اور چار تصویریں ایسے اینگل سے لی گئی تھیں کہ سرمد کا چہرہ بڑھے ہوئے شیو کے باوجود پہچانا جاتا تھا۔ تشدد کے آثار ان میں کم سے کم نمایاں تھی۔
اس نے تصویریں لفافے میں ڈالیں اور فرش پر بیڑیوں میں جکڑے پڑے بیہوش سرمد کی جانب دیکھا۔ وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر نجانے کس عالم میں سانس لے رہا تھا۔ ہونٹ اب بھی ہل رہے تھے اور کیپٹن آدیش جانتا تھا کہ سرمد اب بھی انہی کیف اور الفاظ کا ورد کر رہا ہے جو اسے تبدیلی کی جانب کھینچے لئے جا رہے تھے۔
“پرسو رام۔ “
اس نے دروازے کے باہر کھڑے سگریٹ پیتے فوجی کو آواز دی۔
“یس سر۔ “
وہ سگریٹ مسل کر باسکٹ میں پھینکتا ہوا اندر چلا آیا۔
“میں یہ تصویریں جنرل صاحب کو دینے جا رہا ہوں۔ ڈیوٹی آنکھیں کھول کر دینا۔ “
کہہ کر وہ لفافہ ہاتھ میں لئے باہر چلا آیا۔
کرنل رائے کی کوٹھی کے رہائشی حصے کی جانب جاتے ہوئے اس کے من میں سرور لہریں لے رہا تھا۔ ریحا کو دیکھنے کا خیال ہی اس کے لئے مستی بھرا تھا۔ وہ جب سے ٹارچر سیل میں ڈیوٹی پر آیا تھا، تب سے ریحا کے عشق میں مبتلا تھا۔ چونکہ جانتا تھا کہ یہ انگور کھٹے ہیں اس لئے دل ہی دل میں ریحا کی پوجا کیا کرتا۔ اسے کسی کسی دن ایک نظر دیکھ لینا ہی اس کے لئے کافی تھا۔
اس وقت بھی جب وہ کرنل رائے کے آفس کی طرف جا رہا تھا، اس کی نظریں ریحا کی تلاش میں ادھر ادھر بھٹک رہی تھیں۔ پھر وہ اسے دیکھ لینے میں کامیاب ہو گیا۔ ریحا باغیچے میں ایک درخت کے نیچے کرسی ڈالے بیٹھی تھی۔ سرخ میکسی پر نیلی شال اوڑھے وہ نجانے کیا سوچ رہی تھی کہ روش سے گزرتے کیپٹن آدیش کے بھاری فوجی بوٹوں کی آہٹ سے بھی بے خبر رہی۔ وہ باغیچے کے باہر رک گیا۔ چند لمحے نظروں کی پیاس بجھاتا رہا۔ پھر بھی جب ریحا اس کی طرف متوجہ نہ ہوئی تو مایوس ہو کر چل پڑا۔ اس کا ریحا کی طرف یوں مائل ہونا اگر کسی کے علم میں آ جاتا تو اس کے لئے مصیبت ہو جاتی۔
کنکھیوں سے اپنے خیالوں میں گم ریحا کو دیکھتا اور یہ سوچتا ہوا وہ چلتا گیا کہ ریحا کس الجھن میں ہے جو اس کی مسکراہٹیں اور قہقہے کہیں گم ہو گئی۔ اس کے علم میں تھا کہ کچھ ہفتوں سے وہ ہر شام قریبی سیتا مندر دیا جلانے جاتی ہے اور باقی دلچسپیوں سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ خیالی گھوڑے دوڑاتا وہ کرنل رائے کے آفس تک پہنچ گیا جہاں دروازے پر دائیں بائیں دو گن مین مستعد کھڑے تھے۔ اسے سیلوٹ کر کے انہوں نے دروازہ کھول دیا۔
“کرنل صاحب آپ کے منتظر ہیں سر۔ “
ایک گن مین نے کڑک دار آواز میں کہا، جبکہ دوسرا بُت بنا کھڑا رہا۔ وہ سر ہلاتا ہوا اندر داخل ہوا۔
کرنل رائے نے تصویروں کا لفافہ لے کر اسے واپسی کی اجازت دے دی اور خود تصویریں نکال کر شیشے کی ٹاپ والی میز پر پھیلا کر انہیں غور سے دیکھنے لگا۔ سگار اس وقت بھی اس کے ہونٹوں میں دبا ہوا تھا۔
تصویریں چھ ضرب آٹھ کے سائز میں تھیں اور خاصی واضح تھیں۔ وہ اپنی نشست پر بیٹھ کر انہیں دیکھتا ہوا کچھ سوچ رہا تھا کہ کمرے کا وہ دروازہ کھلا جو اندرونی رہائشی حصے میں کھلتا تھا۔
“ارے ریحا بیٹی۔ آؤ آؤ۔ “
ریحا کو اندر آتے دیکھ کر وہ مسکرا پڑا۔
“پاپا۔ میں مندر جا رہی ہوں۔ “
ریحا نے کمرے میں قدم رکھا۔
“جلدی لوٹ آنا بیٹی۔ شام ہونے کو ہے۔ ویر سنگھ کو ساتھ لے جاؤ۔ “
وہ سگار منہ سے نکال کر بولا۔
“نہیں پاپا۔ میں گاڑی میں جا رہی ہوں۔ کسی کو ساتھ لے جانا مجھے اچھا نہیں لگتا۔ “
ریحا نے کہا۔
اس کی جانب دیکھا پھر مڑتے مڑتے اچانک اس کی نظر میز پر بکھری تصویروں پر پڑ گئی۔ ایک دم اس کے قدم تھم گئی۔ آہستہ سے گردن گھما کر اس نے دوبارہ تصویروں کی جانب دیکھا اور اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ آنکھوں میں خوف سا اترا اور دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔ وہ لپک کر میز کے قریب آ گئی۔
“کیا بات ہے بیٹی؟”
کرنل رائے نے چونک کر اس کی جانب دیکھا جو سرمد کی تصویروں کو الٹ پلٹ کر دیکھ رہی تھی۔
“پاپا۔۔۔ یہ۔۔۔ یہ کون ہے پاپا؟” وہ بیتابی سے بولی۔
“ایک آتنک وادی ہے بیٹی۔ “
کرنل رائے نے اس کے چہرے کا بغور جائزہ لیتے ہوئے کہا اور اپنی سیٹ سے اٹھ گیا۔
“یہ۔۔۔ یہ۔۔۔ آتنک وادی۔۔۔ نہیں پاپا۔ آپ کو کچھ دھوکا ہوا ہے۔ “
ریحا کے لہجے میں چھپی بے قراری نے کرنل رائے کے کان کھڑے کر دئیے۔
“تم کہنا کیا چاہتی ہو ریحا۔ “
جنرل اس کے سامنے آن کھڑا ہوا۔
“کیا تم اسے جانتی ہو؟”
“میں۔۔۔ میں۔۔۔ “
ریحا ہکلا کر رہ گئی۔ پھر جیسے اس نے زبان کو گانٹھ دے لی۔
“نہیں پاپا۔ میں اسے نہیں جانتی مگر اس کا چہرہ مہرہ آتنک وادیوں جیسا نہیں لگتا۔ “
“نظریں نہ چراؤ ریحا۔ “
کرنل نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھ دیا۔
” آتنک وادیوں کے چہرے ہم تم جیسے ہی ہوتے ہیں ، جن سے ہم فریب کھا جاتے ہیں مگر مجھے لگتا ہے تم مجھ سے کچھ چھپا رہی ہو۔ “
“میں۔۔۔ میں آپ سے کیا چھپاؤں گی پاپا۔ “
ریحا نے نظریں جھکائے جھکائے جواب دیا، جن کا ہدف اب بھی سرمد کی ایک تصویر تھا۔
کرنل کا ہاتھ شانے سے ہٹانا چاہا۔ اس کا کانپتا ہوا لہجہ اس کے جھوٹ کی چغلی کھا رہا تھا اور کرنل نے بال دھوپ میں تو سفید نہیں کئے تھے جو اس کی بات پر یقین کر لیتا۔
“ریحا۔۔۔ “
کرنل نے اس کی ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھ کر چہرہ اوپر اٹھایا اور جب اس نے کرنل سے نظر ملانے سے گریز کیا تو اسے اپنے شک پر یقین کے سائے لہراتے نظر آنے لگی۔
“مجھ سے نظر ملا کر بات کرو ریحا۔ “
کرنل کا لہجہ سخت ہو گیا۔
“کیا بات کروں پاپا؟” ایک دم وہ سسک پڑی۔
“ریحا۔ “
بھک سے کرنل کے دماغ کا فیوز اڑ گیا۔ آواز میں حیرت اور کپکپاہٹ ایک ساتھ ابھرے۔ پھر اس نے روتی ہوئی ریحا کو سینے سے لگا لیا۔
“کیا بات ہے میری جان۔ صاف صاف کہو۔ روؤ مت۔ تم جانتی ہو تمہارے آنسو مجھ سے برداشت نہیں ہوں گے۔ “
“پاپا۔۔۔ پاپا۔۔۔ ” ریحا بلک رہی تھی۔
“یہ وہی تو ہے جس کا میں نے آپ سے ذکر کیا تھا۔ اسی کے لئے تو میں روز سیتا مندر میں دیا جلانے جاتی ہوں۔ پاپا۔ یہ آتنک وادی کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ تو کسی بچے کی طرح معصوم ہے پاپا۔ “
ریحا کہتی رہی اور حیرت زدہ کرنل اس کی کمر پر ہاتھ رکھے سنتا رہا۔ اس کے دل و دماغ میں بھونچال سا آیا ہوا تھا۔ اسے ریحا نے یہ تو بتایا تھا کہ وہ لندن یونیورسٹی میں ایم بی اے کے کورس کے دوران کسی لڑکے میں انٹرسٹڈ ہو گئی تھی اور جب تک اس کی طرف سے “ہاں نہ ” کا صاف صاف اظہار نہ ہو جائے، اسے شادی کے فیصلے کے لئے وقت دیا جائے۔
تب کرنل اور اس کی پتنی سوجل نے اس معاملے کو مسئلہ نہ بنایا۔ بلکہ ریحا کو کچھ عرصے کے لئے اس کی مرضی پر چھوڑ دیا۔ وہ لڑکا کون ہے؟یہ ریحا نے نہ بتایا۔ اور وہ کس مذہب سے ہے؟ اس بارے میں ان کے ذہن میں کوئی سوال پیدا ہی نہ ہوا۔ ان کے وہم میں بھی نہ تھا کہ وہ لڑکا مسلمان ہو گا۔
کرنل کے سینے سے لگ کر ریحا نے کھل کر آنسو بہا لئے تو اس کا من ہلکا ہو گیا جبکہ کرنل رائے کے لئے سوچ اور الجھن کی کتنی ہی نئی راہیں کھل گئیں۔ بیٹی کے آنسو پونچھ کر اس نے اسے کرسی پر بٹھایا اور خود اس کے سامنے میز کے کونے پر ٹک گیا۔ پھر اسے سرمد کے بارے میں اب تک کی ساری معلومہ باتیں بتائیں۔ مگر ریحا کے چہرے پر اول تا آخر بے اعتباری کے رنگ چھائے رہی۔
“اب تم بتاؤ بیٹی۔ میں تمہاری بات پر یقین کروں یا اس ساری صورتحال پر جس میں یہ لڑکا ہمارے ہاتھ لگا۔ ہاں۔۔۔ کیا نام بتایا تم نے اس کا؟”
اچانک کرنل رائے نے ریحا کی جانب انگلی اٹھائی۔
“ابھی تک تو میں نے اس کا نام نہیں بتایا۔ “
ریحا جیسے باپ کی چال سمجھ گئی۔
“اور معاف کیجئے گا پاپا۔ فی الحال میں آپ کو اس کا نام بتاؤں گی بھی نہیں۔ “
“یہ کوئی مشکل نہیں ہے ریحا۔ “
اچانک کرنل رائے کے اندر کا ہندو فوجی باہر آ گیا۔
“میں چاہوں تو دس منٹ کے اندر اندر لندن یونیورسٹی سے اس لڑکے کے بارے میں مکمل معلومات منگوا سکتا ہوں مگر ۔۔۔ “
وہ رک گیا۔
“میں چاہتا ہوں مجھے ایسا نہ کرنا پڑے۔”
ریحا کو ایک دم اپنی حماقت کا اب احساس ہوا کہ اس نے سرمد کے حوالے سے اپنے ہاتھ کاٹ کر باپ کے ہاتھ میں دے دیے ہیں۔
“تم نے میری پوزیشن بڑی نازک کر دی ہے ریحا۔ ” جنرل اٹھا اور ہاتھ پشت پر باندھے کمرے میں ٹہلنے لگا۔
“میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اس صورت حال میں مجھے کیا کرنا چاہئے؟”
“پاپا۔ ” ریحا نے باپ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
“کچھ بھی ہو۔ اسے کچھ نہیں ہونا چاہئے۔ آپ نے اپنے سیل میں اس کا جو حشر کیا ہے، میں اسے سہہ نہیں پا رہی ہوں۔ “
“وہ اپنی جگہ ضروری تھا ریحا۔ “
کرنل نے خشک لہجے میں کہا۔
“میں بتا چکا ہوں کہ وہ ہمیں چھاؤنی نمبر سینتالیس پر اٹیک کے دوران ملا۔ “
“ہو سکتا ہے آپ کی معلومات درست ہوں پاپا لیکن مجھے وہ چاہئے۔ زندہ سلامت اور بس۔۔۔ “
ریحا کھڑی ہو گئی۔
“پاگل ہو گئی ہو تم۔ “
کرنل رائے کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔
“یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ وہ بھارت ماتا کا دشمن ہے اور۔۔۔”
“سب کچھ ہو سکتا ہے پاپا۔ “
ریحا کے لبوں پر بڑی جاندار مسکراہٹ ابھری۔
“کیا میں نہیں جانتی کہ آپ کے ٹارچر سیل میں کیا کچھ ہوتا ہے؟ اگر کاکا ابراہیم کو پچیس لاکھ کے عوض جہادی تنظیم کے حوالے کیا جا سکتا ہے تو آپ کی بیٹی کی پسند اسے کیوں نہیں مل سکتی؟”
” آہستہ بولو۔۔۔ آہستہ۔ “
کرنل رائے نے آگے بڑھ کر اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا۔ اس کی آواز میں خوف سمٹا ہوا تھا۔
“تم یہ سب جانتی ہو تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم شور مچا دینے کی دھمکی دے کر مجھے بلیک میل کرو۔ “
“دھمکی۔۔۔ “
ریحا نے باپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں۔
“یہ دھمکی نہیں ہے پاپا۔ سودا ہے۔ میرے اور آپ کے بیچ۔ میں اپنی پسند حاصل کرنے کے لئے کچھ بھی کر سکتی ہوں۔ کسی حد تک بھی جا سکتی ہوں۔ اگر آپ ایک اچھے پاپا بنے رہے تو میں دنیا کی سب سے لاڈلی بیٹی ہوں اور اگر آپ کا سوتیلا پن جاگا تو میں اپنی ماما کی بیٹی بننے پر مجبور ہو جاؤں گی۔”
کرنل رائے کا منہ حیرت سے کھلے کا کھلا رہ گیا۔ وہ بات جسے وہ وقت کی تہہ میں دفن کر چکا تھا، ریحا نے ایک ہی ٹھوکر سے اسے ماضی کی قبر سے باہر نکال لیا تھا۔ ریحا اس کی پتنی سوجل کے پہلے پتی راکیش سے تھی جس کے مرنے کے بعد کرنل رائے نے سوجل سے شادی کر لی تھی۔
سوجل کو آج بھی شبہ تھا کہ اس کے پتی راکیش کو کرنل رائے نے قتل کروایا تھا مگر ثبوت نہ ہونے کے باعث وہ خاموشی سے دن گزار رہی تھی۔ اگر اس سکینڈل کو اچھال دیا جاتا تو کرنل رائے کہاں ہوتا، اسی کی طرف اشارہ کر کے ریحا نے اسے خوف کی دلدل میں پھینک دیا تھا۔
کتنی ہی دیر وہ خالی خالی نظروں سے اس دروازے کو تکتا رہا جس سے نکل کر ریحا جا چکی تھی۔ پھر اس کی نظریں میز پر بکھری سرمد کی تصویروں پر جا پڑیں۔ اسے ہوش سا آ گیا۔ تھکے تھکے قدموں سے آگے بڑھ کر اس نے تصویریں سمیٹیں۔ لفافے میں ڈالیں اور لفافہ میز کے خفیہ خانے میں سرکا دیا۔
“مس ریحا۔ “
مندر میں پرارتھنا کر کے نکلتی، سوچوں کے بھنور میں چکراتے دماغ کے ساتھ ریحا اپنی گاڑی کی طرف چلی کہ ایک نسوانی آواز نے اسے چونکا دیا۔ پلٹ کر دیکھا تو مندر کے سامنے چھوٹے سے پارک کے گیٹ پر سرخ کار کے پاس کھڑی ایک خوبصورت لڑکی کو دیکھ کر اس کے قدم رک گئی۔
وہ ریحا کے لئے بالکل اجنبی تھی، اس لئے حیرت زدہ نظروں سے اسے دیکھنا ایک قدرتی امر تھا۔
’میں نے آپ ہی کو پکارا ہے مس ریحا۔ “
وہ اس کی طرف چل پڑی۔
ریحا نے ادھر ادھر دیکھا۔ نزدیک یا دور کوئی ایسی سرگرمی نہ دکھائی دی جس سے وہ شبے میں مبتلا ہوتی، اس لئے وہ اپنی گاڑی کے پاس رکی رہی۔
لڑکی اس کے قریب پہنچی۔ وہ بڑی قیمتی ساڑھی میں ملبوس تھی۔ کندھوں پر زرتار کشمیری شال اس کے سٹیٹس کا اعلان کر رہی تھی۔
“میرا نام مانیا ہے۔ مانیا سکسینہ۔ میں دہلی سے آئی ہوں آپ سے ملنے۔ “
اس نے ہاتھ آگے بڑھایا۔
“مجھ سے ملنے؟”
ریحا اور حیران ہوئی تاہم اس نے مانیا کا بڑھا ہوا ہاتھ تھام لیا۔
“جی ہاں۔ ایک مہمان بھی ہے میرے ساتھ۔ “
اس نے پلٹ کر اپنی گاڑی کی طرف دیکھا جس کے کھلے شیشوں سے لگتا تھا کہ گاڑی میں کوئی اور بھی موجود ہے۔ ایک لمحے کو اسے خطرے کا احساس ہوا۔
“گھبرائیے نہیں مس ریحا۔ اور کسی غلط سوچ کو بھی ذہن میں جگہ مت دیجئے۔ “
مانیا نے اترتی شام کے سائے میں اس کے چہرے پر ابھرتے شکوک کو بھانپ لیا۔
“اگر آپ چند منٹ ہمارے لئے نکال سکیں تو ہم دوستانہ ماحول میں بات کرنا چاہیں گے۔ “
” آپ لوگ کون ہیں اور مجھے کیسے جانتے ہیں ؟” ریحا کا ذہن ابھی اس کی طرف سے صاف نہیں ہوا تھا۔
” آئیے۔ پارک میں بیٹھتے ہیں۔ “
مانیا نے اس کا ہاتھ بڑی نرمی سے کھینچا۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے ساتھ چل پڑی۔
پار ک میں داخل ہوتے ہوئے ریحا نے دیکھا کہ گاڑی کے دروازے کھلے اور اس میں سے ایک بڑا وجیہہ مرد نکل کر ان کے پیچھے پارک کی طرف چل پڑا۔ اس کا جی چاہا، فوراً پلٹ کر دوڑ لگا دے مگر مانیا نے اس کا ہاتھ نہ چھوڑا اور اسے لئے ہوئے پارک میں ایک درخت کے نیچے بچھے ایک ایسے لمبے بنچ پر جا بیٹھی، جو پارک میں موجود دوسرے لوگوں سے کافی ہٹ کر تھا۔ ان کے بیٹھنے کے چند لمحوں بعد ہی وہ مرد بھی ان تک آن پہنچا۔
“گڈ ایوننگ ینگ لیڈی۔ “
مرد نے بڑے تہذیب یافتہ لہجے میں کہا اور بنچ پر مانیا سے ذرا ہٹ کر بیٹھ گیا۔ پارک کی مدھم لائٹس میں ریحا کو ان دونوں کے چہروں اور حرکات کا جائزہ لینے میں کوئی دشواری نہ ہوئی اور اس کے دل نے اسے یقین دلایا کہ وہ برے لوگ نہیں ہیں۔ ان کے نرم، شرافت میں گندھے ہوئے چہرے کسی لحاظ سے اسے فریبی نہ لگے۔
“جی۔ کہئے۔ آپ لوگ مجھے کیسے جانتے ہیں اور مجھے کیوں روکا؟”
ریحا نے ان تینوں کے چہروں پر ایک بار پھر نظر دوڑائی۔
“ہم آپ کو کیسے جانتے ہیں ، اسے فی الحال رہنے دیجئے مس ریحا۔ “
مانیا نے نرمی سے کہا۔
” آپ کے لئے اتنا جان لینا لازم ہے کہ میں دہلی سے اور مسٹر طاہر پاکستان سے ایک شخص کے سلسلے میں آپ سے ملنے آئے ہیں۔ آج شام جب آپ اپنے گھر سے نکلیں تو ہم آپ کے پیچھے پیچھے سیتا مندر تک آئی۔ آپ پوجا کر کے باہر نکلیں تب میں نے آپ کو آواز دی۔”
ریحا کا دل سینے میں زور سے دھڑکا۔ اس نے مانیا کے خاموش ہوتے ہی طاہر کی جانب بیتابی سے دیکھا۔
“کس کے سلسلے میں ملنے آئے ہیں آپ مجھ سے؟”
اس کی آواز میں تھرتھراہٹ چھلک رہی تھی۔
“مس ریحا۔ “
طاہر نے ذرا آگے جھک کر اس کی نظروں کا احاطہ کر لیا۔
“لندن یونیورسٹی میں ایک لڑکا آپ کے ساتھ پڑھتا تھا۔ سرمد۔۔۔ “
اور ریحا کا خوف چہرے پر ابل پڑا۔ وہی ہوا جو اس کے دل میں تھا۔ طاہر کے نام نے اسے وہ سب یاد دلا دیا، جو سرمد نے اپنی داستانِ غم سناتے ہوئے اس پر ظاہر کیا تھا۔ ایک نام اور تھا صفیہ۔
اس کا جی چاہا کاش وہ بھی ان کے ساتھ ہوتی۔ وہ بھی اس بہار کا دیدار کر لیتی جس نے سرمد کو خزاں خزاں کر دیا تھا مگر اس کی جگہ امبر کا نام سن کر وہ مایوس سی ہو گئی۔ اس کی ایک دم دگرگوں ہوتی کیفیت نے ان دونوں کو ہوشیار کر دیا۔
“سرمد۔۔۔ “
سرسراتے لہجے میں ریحا نے کہا اور ڈری ڈری نگاہوں سے ان کی طرف دیکھا۔
“جی ہاں مس ریحا۔ “
طاہر نے پہلے جیسی نرمی ہی سے کہا۔
” سرمد۔ جس کے ڈاکومنٹس آپ نے لندن سے اس کے پتے پر پاکستان پارسل کئے تھے۔ وہ عمرے کے بعد انڈیا آیا اور غائب ہو گیا۔ اس کے بارے میں کوئی نہیں جانتا کہ وہ کہاں ہے؟ کس حال میں ہے؟ ہم یہ سوچ کر آپ کے پاس آئے ہیں کہ یقیناً آپ اس کے بارے میں کچھ ایسا بتا سکیں گی جو ہمیں اس تک رسائی دلا سکے۔ “
ریحا آنکھیں بند کئے گہرے گہرے سانس لے رہی تھی۔ ان سب کے دل شدت سے دھڑک رہے تھے۔ ریحا سرمد کے بارے میں جانتی تھی۔ انہیں بتا سکتی تھی، مگر کیا؟ اس سوالیہ نشان کے پنجے ان کے دل و دماغ میں پوری شدت کے ساتھ اترتے جا رہے تھے۔
چند لمحے خاموشی کے گھاٹ اتر گئے۔ امید و بیم نے انہیں جکڑے رکھا۔ آخر مانیا نے آہستگی سے ریحا کا ہاتھ تھام کر اسے خودفراموشی کی کیفیت سے باہر نکالا۔
“مس ریحا۔ “
ہولے سے اس نے کہا تو ریحا نے آنکھیں کھول کر اس کی جانب دیکھا۔ خشک ہونٹوں کو زبان پھیر کر تر کیا۔
“کیا جاننا چاہتے ہیں آپ لوگ سرمد کے بارے میں ؟” اس کی آواز جیسے کسی کھائی سے ابھری۔
“سب کچھ۔۔۔ وہ سب کچھ جو آپ اس کے بارے میں جانتی ہیں۔ “
“مگر اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ آپ لوگ سرمد کے دوست ہیں۔ “
وہ انہیں نظروں میں تولتے ہوئے بولی۔
جواب میں مانیا نے طاہر کا پاسپورٹ اسے تھما دیا۔ اس نے اسے کھول کر دیکھا۔ ایک حد تک اسے اطمینان ہو گیا۔ پاسپورٹ واپس کرتے ہوئے اس نے سوالیہ نظروں سے مانیا کی طرف دیکھا۔ مانیا اس کا مطلب سمجھ گئی اور پرس سے اپنا وزیٹنگ کارڈ نکال کر اسے دیا۔ ریحا نے اس کا جائزہ لیا اور خاصی حد تک مطمئن نظر آنے لگی۔
“کیا میں پوچھ سکتی ہوں آپ کے ساتھ سرمد کا کیا رشتہ ہے؟”
اس نے طاہر سے پوچھا جو خیالوں کے غبار میں گھرا بڑی باریک بینی سے ریحا کی پوچھ گچھ کو جانچ رہا تھا۔ اسے سمجھ نہ آ رہی تھی کہ وہ سرمد کے بارے میں اس قدر محتاط کیوں ہو رہی ہے۔
“جی مس ریحا۔ “
طاہر نے ناپ تول کر الفاظ کا انتخاب کیا۔
“میں اس کا کزن ہوں۔ “
“ہوں۔۔۔ “
ریحا ایک بار پھر کسی سوچ میں ڈوب گئی۔ لگتا تھا وہ زبان کھولنے سے پہلے ان کی باتوں کا جائزہ لے رہی ہے۔ ان پر اعتماد کرنے یا نہ کرنے کی کیفیت سے دوچار ہے۔ آخر ان کا صبر رنگ لایا اور ریحا نے فیصلہ کر لیا۔
“میں جو کہنے جا رہی ہوں ، اسے بڑے حوصلے اور دھیان سے سنئے گا۔ “
اس نے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے کہا اور طاہر کی جانب دیکھا۔
” آپ یہ تو جان ہی چکے ہیں کہ میں کرنل رائے کی اکلوتی بیٹی ہوں۔ “
“جی جی۔ ” طاہر اس کے رکنے پر بے چین سا ہو گیا۔
” رکئے مت مس ریحا۔ “
“لندن میں میری سرمد سے آخری ملاقات ہوئی تو میں نے اس پر اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔ جواب میں اس نے مجھے جو کہانی سنائی، اس نے اس کے دُکھ اور زندگی سے گریز کا پردہ فاش کیا۔ “
آہستہ سے اس نے طاہر کی جانب نظر اٹھائی، جو اسے گھبرائی ہوئی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ اس کے ماتھے پر آئے ہوئے پسینے نے ریحا کے دل میں رشک سا جگا دیا۔ اس نے صفیہ کا نام لینے سے پرہیز کرتے ہوئے کہا۔
“وہ کسی لڑکی کے عشق میں دنیا سے کٹ گیا تھا۔ میں اسے ہر قیمت پر حاصل کرنا چاہتی تھی مگر اس نے میری حوصلہ افزائی کی نہ کوئی وعدہ کیا۔ میں نے اپنے طور پراس کا انتظار کرنے کا فیصلہ کر لیا اور اسے اپنے اس عزم سے آگاہ کر کے انڈیا چلی آئی۔ “
وہ رکی تو طاہر نے رومال سے ماتھا خشک کیا۔ اس کی نظروں میں ریحا کے لئے تشکر کے جذبات تھی۔ ریحا نے اس بات کو محسوس کیا اور پھر کہنا شروع کیا۔
“کچھ عرصے بعداس نے سعودیہ سے مجھے کال کی کہ میں لندن جا کر اس کے ڈاکومنٹس پاکستان اس کے پاپا کے پتے پر ارسال کر دوں۔ میں نے ایسا ہی کیا اور واپس آ کر اس کے انتظار کا جھولا جھولنے لگی۔ مجھے نجانے کیوں یقین تھا کہ ایک نہ ایک دن میرے سرمد سے ملاقات ضرور ہو گی۔ سیتا ماں مجھے اور اسے ضرور ملا دے گی۔ میں روزانہ اس کے نام کا دیپ جلانے اس مندر میں آتی ہوں۔ “
وہ خاموش ہو گئی۔
“تو اس کا مطلب ہے کہ اس کے بعد آپ کو اس کے بارے میں کوئی خبر نہیں ملی؟”
مایوسی سے طاہر نے پوچھا۔
“یہ میں نے کب کہا؟”
وہ اضطراب سے ہونٹ کاٹنے لگی۔ اس کی بھرائی ہوئی آواز نے ان دونوں کو چونکا دیا۔
“تو پھر۔۔۔ ؟”
مانیا نے طاہر کے ہونٹوں کے الفاظ چھین لئے۔
” آج شام۔۔۔ یہاں آنے سے پہلے۔۔۔ مجھے اس کے بارے میں خبر ملی۔ “
اس کی آواز حلق میں پھنسنے لگی۔ ر کے رکے الفاظ بھیگتے چلے گئی۔
” وہ۔۔۔ وہ۔۔۔ “
اس نے بے چینی کے عالم میں اپنے ہاتھ رانوں تلے دبا لئے اور سر جھکا کر بلک پڑی۔
” وہ میرے پاپا کے ٹارچر سیل میں قید ہے۔ “
“کیا۔۔۔ ؟”
طاہر اور مانیا اگر اچھل نہ پڑتے تو حیرانی کو خود پر حیرت ہوتی۔
“یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ مس ریحا؟”
طاہر بے قراری سے اٹھ کھڑا ہوا۔
’میں ٹھیک کہہ رہی ہوں مسٹر طاہر۔ “
وہ روئے جا رہی تھی۔
“میرا سرمد ایک آتنک وادی کے روپ میں میرے پاپا کے ہاتھ لگا اور اب وہ اسے ٹارچر کر رہے ہیں۔ ” آنسوؤں میں بھیگی آواز میں ریحا نے انہیں ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں اس ساری بات سے آگاہ کیا جو کرنل رائے سے اس تک پہنچی تھی۔
“یہ کیسے ہو سکتا ہے؟”
طاہر بے چینی سے ٹہل رہا تھا۔
“وہ دہشت گرد نہیں ہو سکتا۔ وہ تو ایک بچے کی طرح معصوم ہے۔ “
“مگر پاپا اسے نہیں مانتی۔ “
مانیا کی باہوں میں پڑی ریحا ہچکیاں لے رہی تھی۔
“یہاں مجاہدوں کو دہشت گرد ہی کہا جاتا ہے۔ “
مانیا نے اس کی طرف دیکھ کر کہا۔
“میں سمجھتا ہوں مس مانیا مگر سرمد کسی جہادی تحریک میں شامل ہوا تو کیسے؟ یہ بات میری سمجھ میں نہیں آ رہی۔ وہ تو اس راہ کا مسافر ہی نہیں تھا۔”
طاہر بے بسی سے بولا۔
شام، رات میں ڈھل رہی تھی۔ مانیا نے ریحا کو بڑی مشکل سے نارمل کیا۔ وہ اس کی حالت سے خاصی متاثر لگ رہی تھی۔
“مس ریحا۔ “
اچانک طاہر اس کے قریب آ کر رکا اور گھٹنوں کے بل گھاس پر بیٹھ گیا۔
“یہ ٹارچر سیل کہاں ہے؟”
“ہماری رہائش گاہ میں انیکسی کے بالکل ساتھ بیسمنٹ میں۔ “
ریحا نے آہستہ سے جواب دیا۔
” آپ سرمد کو وہاں سے نکالنے میں ہماری کیا مدد کر سکتی ہیں ؟”
“جان دے سکتی ہوں۔ “
اس نے سوچے سمجھے بغیر کہا۔
” آج سے پہلے میں بھی نہیں جانتی تھی کہ میں سرمد کو اس شدت سے چاہنے لگی ہوں مگر اب لگتا ہے اس کے بغیر سانس لینا مشکل ہے۔ “
“میرا خیال ہے ہمیں اس ملاقات کو یہیں روک دینا چاہئے۔ مسٹر طاہر، اٹھ جائے۔ لوگوں کی نظریں آپ پر مرکوز ہیں۔ “
طاہر کو اپنی حالت کا احساس ہوا تو وہ فوراً کھڑا ہو گیا۔
“سوری مس مانیا۔ ” ہولے سے اس نے کہا۔
“اٹس او کے۔ میں سمجھ رہی ہوں۔ “
مانیا نے اس کی جانب دیکھا۔
“میرا مشورہ یہ ہے کہ کل صبح مس ریحا سے میٹنگ رکھی جائے۔ اس وقت لائحہ عمل طے کیا جائے کہ ہم اس سلسلے میں کیا اور کیسے کر سکتے ہیں۔ یہ وقت ایسی تفصیل کے لئے مناسب ہے نہ کافی۔ “
اس کی بات درست تھی۔ ریحا نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے مانیا کے دیے ہوئے ٹشو پیپر سے آنکھیں اور رخسار خشک کئے۔ پھر طاہر کی جانب دیکھا۔
” آپ کہاں ٹھہرے ہیں ؟”
“ہوٹل کشمیر پوائنٹ میں۔ روم نمبر دو سو ایک اور دو سو دو۔ “
طاہر نے بتایا۔
“میں کل صبح نو بجے آپ کے پاس ہوں گی۔ رات بھر میں مزید جو بھی معلوم ہو سکا، میں اس کے لئے پوری کوشش کروں گی۔ “
“ٹھیک ہے۔ ” طاہر نے اس سے اتفاق کیا۔
“وقت کا خیال رکھئے گا مس ریحا۔ آپ سمجھ سکتی ہیں کہ یہ رات ہم پر کیسی بھاری گزرے گی۔ “
“بتانے کی ضرورت نہیں مسٹر طاہر۔ “
وہ اسے اداسی سے دیکھتے ہوئے بولی۔
” میں سانسوں میں کانٹوں کی چبھن سے آشنا ہو چکی ہوں۔ “
“تو یہ طے رہا کہ کل صبح نو بجے ہوٹل میں مس ریحا ہم سے آن ملیں گی۔ “
مانیا جیسے اب وہاں سے رخصت ہو جانا چاہتی تھی۔ پھر جیسے اسے کچھ یاد آ گیا۔
“ہاں مس ریحا۔ جنرل صاحب کے سیل میں ایک شخص ہے کیپٹن آدیش۔ “
“جی ہاں۔ ” وہ چونکی۔
” آپ اسے کیسے جانتی ہیں ؟”
“وہ میرا کزن ہے۔ اسی نے مجھے آپ کے بارے میں بتایا تھا۔ آپ اسے میرا ایک میسج دے سکیں گی؟”
“ضرور۔ مگر کیا اس پر بھروسہ کرنا مناسب ہو گا مس مانیا؟”
ریحا نے پوچھا۔
“یہی تو مجھے جاننا ہے۔ “
مانیا نے پُر خیال لہجے میں کہا۔
” اور اس سے ملے بغیر میں کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکتی۔ آپ اسے کہئے گا مجھے آج رات ہوٹل میں آ کر ملے۔ “
“ٹھیک ہے۔ میں اسے آپ کا میسج دے دوں گی۔ “
ریحا نے دھیرے سے کہا۔
“ویسے وہ آدمی اتنا برا نہیں ہے۔ مجھ سے اس کا دو چار بار سابقہ پڑ چکا ہے۔ “
“تو آپ اسے میرا پیغام ضرور دیجئے گا۔ باقی جو بھگوان کرے۔ “
مانیا نے کہا اور وہ سب پارک سے باہر جانے کے لئے چل پڑے۔
________________________

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: