Ishq Ka Qaaf Novel By Sarfaraz Ahmad Rahi – Episode 22

0
عشق کا قاف از سرفراز احمد راہی – قسط نمبر 22

–**–**–

کرنل رائے کسی زخمی درندے کی طرح فرش کی سینہ کوبی کر رہا تھا۔ اس کے دل و دماغ میں آتش فشاں دہک رہا تھا۔ رہ رہ کر اسے ریحا کی باتیں یاد آتیں اور وہ اس سوکھی لکڑی کی طرح چٹخ اٹھتا جسے آگ کے الاؤ میں پھینک دیا جائے۔
اسے کوئی ایسا راستہ نہ سمجھ آ رہا تھا کہ وہ ریحا کی بلیک میلنگ سے بچ سکے۔ اگر ایک بار وہ اس کی بات مان لیتا تو پھر بار بار اس کے ہاتھوں ذلیل ہونے سے اسے کون بچاتا؟ وہ جب چاہتی اس کی شہ رگ پر انگوٹھا رکھ کر اپنی منوا لیتی اور یہ بات اسے کسی حال میں بھی منظور نہ تھی۔
ایک تو وہ اونچے عہدے کا فوجی تھا اوپرسے ہندو۔ منصب اور خباثت نے مل کر اس کی شخصیت میں جو حرامی پن انڈیل دیا تھا، اس کا تقاضا تھا کہ وہ ریحا کو ایسا سبق سکھائے کہ آئندہ کے لئے وہ اس کے سامنے دم نہ مار سکے۔ اور اس کے لئے وہ کسی بھی انتہا تک جا سکتا تھا کیونکہ ریحا کون سی اس کی سگی بیٹی تھی؟
بلکہ اب تو وہ اسے اپنے رقیب کی نشانی ہونے کے ناطے دشمن لگنے لگی تھی۔ اگر سوجل اور ریحا مل کر اس کے خلاف محاذ کھڑا کر لیتیں تو اس کی عزت بھی خاک میں مل جاتی اور کورٹ مارشل کی تلوار الگ سر پر لٹکنے لگتی۔ اس نے راکیش کا کیس اپنے اثر و رسوخ سے دبا دیا تھا، ورنہ اگر کوئی ذرا سی بھی کوشش کرتا تو اس کے لئے اس کیس کا مصیبت بن جانا کوئی مشکل نہ تھا۔
آٹھ بجے تو اس کے قدم رک گئے۔ ٹارچر سیل میں سٹاف کی تبدیلی کا یہی وقت تھا۔ اس نے تیزی سے آگے بڑھ کر انٹر کام کا بٹن دبایا۔
“یس سر۔ “
دوسری جانب سے کیپٹن آدیش الرٹ آواز میں بولا۔
” آدیش۔ ڈیوٹی آف کر کے مجھ سے مل کر جانا۔ “
“یس سر۔ ” آدیش نے ادب سے جواب دیا۔
اس نے انٹر کام سے رابطہ ختم کر دیا۔ بجھے ہوئے سگار کو سلگایا اور پھر ٹہلنے لگا۔ اسی وقت ریحا نے کمرے میں قدم رکھا۔ وہ چونک کر رکا اور اس کی جانب بڑی سرد نگاہوں سے دیکھنے لگا۔
“لگتا ہے پاپا۔ آپ ابھی تک مجھ سے ناراض ہیں۔ “
وہ اس کے قریب چلی آئی۔
“کیا خوش ہونا چاہئے مجھے؟”
وہ عجیب سے لہجے میں بولا۔
“نہیں۔ “
ریحا اس کے سامنے سر جھکا کر کھڑی ہو گئی۔
“میری صبح کی باتیں واقعی آپ کو خفا کرنے والی تھیں مگر پاپا۔ مجھے اب تک آپ نے جس انداز میں پالا ہے۔ میرے جتنے لاڈ دیکھے ہیں۔ کیا ان کا اثر یہ نہیں ہونا چاہئے کہ میں اپنی بات منوانے کے لئے بدتمیز ہو جاؤں ؟”
“ریحا۔ ” کرنل رائے نے اسے بے اختیار گلے لگا لیا۔ “میری بچی۔ تم نہیں جانتیں تم نے مجھے کس مشکل میں ڈال دیا ہے۔ میرا آرام حرام ہو گیا ہے۔ نیند اڑ گئی ہے۔ چین کی بانسری بجانے والا کرنل رائے کیا اس وقت بیچارہ نہیں لگتا تمہیں ؟”
“پاپا۔ ” ریحا اس کے سینے سے لگے لگے بولی۔
“ایسی فرمائش تو نہیں کر دی میں نے کہ آپ پوری نہ کر سکیں۔ “
“یہ تو تم کہتی ہو ناں بیٹی۔ “
اس نے ریحا کو الگ کیا اور میز کے کونے پر ٹک گیا۔ “مگر میرے لئے یہ کام اتنا آسان نہیں ہے۔ “
” آسان نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے مشکل ہے، ناممکن نہیں۔ ہے ناں پاپا؟”
وہ اس کی جانب شوخی سے دیکھ کر بولی۔
” لفظوں سے کھیلنا آ گیا ہے تمہیں۔ “
وہ پھیکے سے انداز میں مسکرایا۔
“تو پھر میں کیا سمجھوں پاپا؟”
وہ مرضی کا جواب سننے کے لئے بیتاب تھی۔
“مجھے تھوڑا وقت دو ریحا۔ “
جنرل نے کھڑے ہو کر کہا۔
“ایک تو وہ آتنک وادی ہے دوسرے مسلمان۔ تیسرے اسے جنرل نائر نے میری طرف ریفر کیا ہے جو بال کی کھال نکالنے میں مشہور ہے۔ “
“کچھ بھی ہو پاپا۔ اب اسے ٹارچر نہیں کیا جانا چاہئے۔”
ریحا نے ضد سے کہا۔
“اس کے لئے تو میں منع کر چکا ہوں مگر مجھے اس الجھن کو سلجھانے کے لئے دم لینے کی فرصت تو دو بیٹی۔ “
“ٹھیک ہے پاپا۔ مگر فیصلہ میرے حق میں ہونا چاہئے۔” وہ خوش ہو گئی۔
“اگر ایسا نہ کرنا ہوتا تو میں تم سے مہلت کیوں مانگتا پگلی۔ کوئی راستہ نکالنے کے لئے ہی تو وقت چاہتا ہوں۔ “
“پاپا۔ “
اچانک اس نے نظر جھکا کر کہا اور خاموش ہو گئی۔ کرنل رائے نے اس کی جانب دیکھا۔ جان لیا کہ وہ کچھ کہنا چاہتی ہے۔
“کہو ریحا۔ کیا کہنا چاہتی ہو بیٹی؟”
کرنل نے رسٹ واچ پر نظر ڈالی۔
“پاپا۔ کیا میں۔۔۔ کیا میں اس سے مل سکتی ہوں ؟” اس نے جھجکتے ہوئے کہا۔
“ہرگز نہیں۔ “
کرنل رائے کے لہجے میں درشتی اتر آئی۔
“پاپا۔ میں اسے دور سے دیکھ۔۔۔ “
تڑپ کر ریحا نے کہنا چاہا۔
“میں اس کی بھی اجازت نہیں دے سکتا ریحا۔ ” کرنل نے حتمی اور بڑے کڑوے لہجے میں کہا۔
“میں نہیں چاہتا کہ کوئی ایسا سکینڈل کھڑا ہو، جو میری ساکھ اور میرے خاندان کے لئے تباہی کا باعث بنے۔ یہ کوئی معمولی معاملہ نہیں ہے۔ میں نے کہا ناں کہ میں جلد ہی کچھ کرتا ہوں۔ تب تک تم اپنے آپ پر قابو رکھو اور ایک بات ذہن میں بٹھا لو۔
تمہیں اس سے ملنے کی اجازت میں کسی صورت نہیں دے سکتا اس کی وجہ اس کے سوا کوئی نہیں ہے کہ تم اسے دیکھ کر خود پر کنٹرول نہ رکھ سکو گی اور بات جس کے علم میں نہیں ہے، وہ بھی جان جائے گا۔ تب تم اپنے ساتھ مجھے بھی لے ڈوبو گی۔۔۔ “
اسی وقت بیرونی دروازے پر دستک ہوئی اور ایک آواز ابھری۔
“مے آئی کم ان سر؟”
“یس آدیش۔ کم ان”
جنرل نے جواب دیا اور ریحا کو جانے کا اشارہ کیا۔ ریحا نے بڑی اداس نظروں سے اسے دیکھا اور پلٹ کر کمرے سے نکل گئی۔ آدیش نے کمرے میں داخل ہو کر کرنل رائے کو سیلوٹ کیا۔
“بیٹھو کیپٹن۔ “
جنرل نے اسے اپنے سامنے والی کرسی آفر کی اور دونوں بیٹھ گئے تو جنرل تھوڑا سا اس کی جانب جھکا۔
“کیا حال ہے اس آتنک وادی کا؟ اس نے زبان کھولی یا نہیں ؟”
“نو سر۔ ” کیپٹن آدیش نے نفی میں سر ہلایا۔
“اب تو اس کی حالت بہت خراب ہے۔ “
“اسی لئے میں نے تمہیں اس پر مزید ٹارچر سے منع کر دیا تھا۔ اور اب میں چاہتا ہوں کہ اس کے لئے کوئی اور راستہ اختیار کیا جائے۔ “
کیپٹن آدیش نے اس کی جانب سوالیہ انداز میں دیکھا۔
“اور ہاں۔ تم نے اسے نہلا دھلا کر کپڑے چینج کرائے یا نہیں ؟”
بڑی نرمی سے کرنل رائے نے پوچھا۔
“یس سر۔ اس کی شیو کرا دی گئی ہے۔ کپڑے چینج کرا دیے گئے ہیں۔ البتہ نہلایا نہیں گیا۔ “
آدیش نے سپاٹ لہجے میں کہا۔
“وہ کیوں ؟” کرنل کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔
“زخموں پر پانی پڑنے سے خرابی کا اندیشہ ہے سر۔ “
“اوہ۔ ” مطمئن انداز میں کرنل نے سر ہلایا۔
” ٹھیک ہے ٹھیک ہے۔ اب ایک خاص بات دھیان سے سن لو۔ “
“وہ کیا سر؟” آدیش الرٹ ہو گیا۔
“کل رات ٹارچر سیل میں صرف تمہاری ڈیوٹی ہو گی۔ باقی سب کو چھٹی دے دینا۔ میں اب یہ قصہ ختم کر دینا چاہتا ہوں۔ لگتا ہے یہ لڑکا آتنک وادی نہیں ہے۔ جنرل نائر کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ دھیان رہے کہ کل وہاں جو کچھ ہو گا وہ میرے اور تمہارے درمیان رہے گا اور تمہاری اس راز داری کی قدر کی جائے گی۔ “
کیپٹن آدیش نے کچھ کہنے کے لئے لب کھولی۔ اسے کرنل رائے کے الفاظ پر حیرت ہوئی تھی مگر جب اس کی نظریں کرنل سے ملیں تو نجانے اسے وہاں کیا دکھائی دیا کہ وہ محض “یس سر” کہہ کر رہ گیا۔
“بس۔ اب تم جا سکتے ہو۔ “
کرنل نے کہا تو وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
“سر۔ میں دو گھنٹے کے لئے شہر جانا چاہتا ہوں۔ “
“تو جاؤ بھئی۔ منع کس نے کیا ہے۔ “
کرنل نے معنی خیز لہجے میں کہا۔
“ویسے تمہیں اب شادی کر لینی چاہئے۔
“سر۔۔۔ ” کیپٹن آدیش جھینپ گیا۔
“او کے او کے۔ جاؤ۔ عیش کرو۔ “
کرنل رائے نے ہنس کر کہا اور کیپٹن آدیش سیلوٹ کر کے کمرے سے نکل گیا۔
کرنل رائے نے کنکھیوں سے اندرونی دروازے کی طرف دیکھا، جس کے باہر بائیں طرف دیوار سے لگی کھڑی ریحا ان کی باتیں سن رہی تھی۔
سرمد پر پچھلے کچھ گھنٹوں سے تشدد روک دیا گیا تھا۔ اسے حیرت ہوئی۔ پھر اس نے سوچا کہ شاید وہ لوگ اسے کچھ وقت دینا چاہتے ہیں تاکہ اس کاجسم دوبارہ ٹارچر برداشت کرنے کے قابل ہو جائے۔ یقیناً یہی بات ہے۔
اس نے دل میں سوچا اور فرش پر پڑے پڑے گھسٹ کر دیوار کے قریب ہو گیا۔ پھر بڑی مشکل سے سیدھا ہو کر دیوار سے ٹیک لگائی اور نیم دراز ہونے کی کوشش میں ، ٹانگیں پسار کر بیٹھ گیا۔ اس کا رواں رواں درد سے کانپ رہا تھا۔ اس نے سر دیوار سے ٹکا دیا اور سوچوں میں گم ہو گیا۔
اب تک اس نے اپنی زبان نہیں کھولی تھی اور اس کا امکان بھی نہیں تھا کہ اس کے لبوں سی” عشاق “کے بارے میں کچھ نکل جاتا۔ حمزہ کی شہادت تو اسے یاد تھی۔ داؤد اور حسین کا کیا بنا؟ اس کا خیال آیا تو اسے یقین ہو گیا کہ وہ بھی شہادت کا جام پی چکے ہیں۔ اگر وہ زندہ ہوتے تو اس کے ساتھ یہیں ہوتی۔ تاہم اس بات کا امکان بھی تھا کہ انہیں کسی اور جگہ رکھا گیا ہو۔
سوچ کا دھارا بہنا شروع ہوا تو کمانڈر کی شبیہ ذہن کے پردے پر ابھری۔ خانم کا چہرہ یاد آیا اور اپنے عہد کے الفاظ صدا بن کر کانوں میں گونجی:
“میں اپنے معبودِ واحد اللہ کو حاضر و ناظر جان کر اپنے سارے جذبے آج سے اللہ اور اپنے آقا و مولا کے نام کرتا ہوں۔ اب میرا جینا اللہ کے لئے اور مرنا اللہ کے لئے ہے۔
اب میری زندگی جہاد اور موت شہادت کی امانت ہے۔ میری سانسوں پر وحدانیت اور رسالت کے سوا کسی کا حق نہیں۔
“عشاق “کا نام میرے سینے میں دھڑکن کی طرح محفوظ رہے گا۔ میری زبان پر کبھی اس کے حوالے سے کوئی ایسا لفظ نہیں آئے گاجو دشمنوں کے لئے فائدہ مند ثابت ہو۔
اب میری ایک ہی شناخت اور زادِ راہ ہے۔
اشھد ان لا الٰہ الا اللہ و اشھد ان محمد الرسول اللہ۔ “
سوچ کا سورج یہاں تک چمکا تو اجالے کی لپک سے اس کی آنکھوں میں نمی سی چھا گئی۔ اسے بے طرح اپنے والد ڈاکٹر ہاشمی یاد آ گئی۔ وہ ان سے وعدہ کر کے آیا تھا کہ بہت جلد پاکستان چلا آئے گا مگر ۔۔۔
باپ کی محبت، والہانہ پن، پیار، سب کے سب خیال اس کے آنسوؤں میں ڈھلتے چلے گئے۔ وہ اسے تلاش کرنے کے لئے کہاں کہاں نہ پہنچے ہوں گے؟ کیا کیا جتن نہ کئے ہوں گے؟ اور یہ سب کس کے سبب ہوا؟ اس کے سارے جسم میں پھیلی درد کی اذیت، ایک لذت میں سمٹ گئی۔
ایک چہرہ۔ ایک خوبصورت چہرہ۔ جس پر کشش کی قوس قزح نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ جو اس کے لئے آج بھی اتنا ہی محترم تھا جتنا پہلے دن۔ اسے لگا، ساری تکلیف، سارا دُکھ ایک مستی میں بدل گیا ہے۔ وہ ایک سرور کے دامن میں جا پڑا۔ ایک کیف کے سینے سے جا لگا۔ اس نے بے اختیار پلکیں موند لیں۔ وہ اس کیفیت کو دل میں اتار لینا چاہتا تھا۔ جذب کر لینا چاہتا تھا۔۔۔
مگر ۔۔۔ یہ کیا ہوا؟ اشکوں کے موتی رخساروں پر ٹوٹ بہی۔ پلکوں کا در بند ہوا اور سکون کا منبع سامنے آ گیا۔ شادابی نے اس پر سایہ کر دیا۔ اس کا اندر ایک دم سرسبز ہو گیا۔ اس کے آقا و مولا کا مسکن۔ اس کے ربِ واحد و اکبر کی رحمتوں اور محبتوں کا محور و مرکز۔ گنبدِ خضریٰ۔۔۔ اس کی بصارت سے ہوتا ہوا بصیرت کی چوٹی پر جھلملانے لگا۔
عشقِ مجازی نے عشقِ حقیقی کا لبادہ اوڑھ لیا۔ وہ جو خود اپنے حبیب پر ہر دم درود و سلام بھیجتا ہے، اس کا حکم ہے کہ اس کے بندے بھی اپنے آقا پر درود و سلام بھیجیں۔ بے اختیار اس کے لبوں پر اپنے معبود کی سنت جاری ہو گئی:
“صلی اللہ علیہ وسلم۔
صلی اللہ علیہ وسلم۔
صلی اللہ علیہ وسلم۔ “
ٹارچر سیل میں پھیلا اندھیرا دمک اٹھا۔ لو دے اٹھا۔ خوشبوؤں کے جھونکے یوں کمرے میں چکرانے لگے جیسے اس ورد کو پلکوں پر اٹھائے اٹھائے پھر رہے ہوں۔ جیسے انہیں اس مقدس امانت کو سنبھال رکھنے کے لئے کوئی پاکیزہ تر جگہ نہ مل رہی ہو۔
پھر ان پر ادراک کا در کھلا اور خوشبو ہلکورے لیتی ہوئی سرمد کے رگ و پے میں اترتی چلی گئی۔ اسے لوریاں دیتی مہک کے لئے سرمد کے دل سے زیادہ متبرک جگہ اور کون سی ہوتی جہاں وہ اس ورد کو چوم کر دھڑکنوں کے سپرد کر دیتی۔
کیپٹن آدیش ڈیوٹی ختم کر کے کرنل رائے کے بلاوے پر اس کے آفس میں جا رہا تھا کہ رک گیا۔ ایک عجیب سی مہک کے احساس سے اس کے قدم کاریڈور میں رک گئی۔ ذرا غور کرنے کے بعد وہ سرمد والے کمرے میں چلا آیا۔ اندر داخل ہونے کی دیر تھی کہ وہ خوشبو سے لبالب ہو گیا۔
حیرت زدہ نظروں سے وہ دیوار سے ٹیک لگائے، پلکیں موندے نیم دراز سرمد کی جانب تکے جا رہا تھا۔ پھر وہ دبے پاؤں آگے بڑھا۔ جھکا اور کان سرمد کے ہونٹوں کے قریب کر دیا، جس کے ہونٹوں پر وہی ورد تھا، جو کیپٹن آدیش کے جسم میں کرنٹ دوڑا دیتا تھا۔ مگر یہ خوشبو۔ یہ مہک۔ یہ نئی چیز تھی جس نے اس کے حواس پر نشہ سا طاری کر دیا۔
اس کے لئے سرمد کے آنسوؤں سے تر چہرے پر نگاہ جمانا مشکل ہو گیا۔ اس کا دل سینے میں کسی زخمی پنچھی کی طرح پھڑکا تو گھبرا کر وہ الٹے پاؤں کمرے سے نکلا اور دروازہ بند کر دیا۔ شیشے کی دیوار کے پار سرمد اب بھی اسی طرح بیٹھا تھا۔ چند لمحے وہ اسے دیکھتا رہا پھر خاموشی سے چل پڑا۔ اس کا دل قابو میں نہ تھا۔ سارا جسم لرز رہا تھا اور پاؤں کہیں کے کہیں پڑ رہے تھے۔
کاریڈور کے موڑ پر رک کر اس نے ایک بار پھر گردن گھما کر سرمد کی طرف نگاہ ڈالی۔ اس کی حالت میں کوئی تبدیلی نہ آئی تھی اور خوشبو تھی کہ اب بھی کیپٹن آدیش کے سر پر چکرا رہی تھی۔ وہ بے خودی کے عالم میں سیل سے نکل آیا۔
باہر نکلتے ہی سرشاری کی اس کیفیت نے دم سادھ لیا۔ خودکار دروازے کے بند ہونے پر وہ چند لمحے کھڑا رہ کر لمبے لمبے سانس لیتا رہا۔ پھر کرنل رائے کے آفس کی جانب چل پڑا۔ اب اس کے ذہن میں تقریباً ایک گھنٹہ قبل ریحا کے فون پر کہے ہوئے الفاظ چکرا رہے تھے:
“کیپٹن۔ ہوٹل کشمیر پوائنٹ کے کمرہ نمبر دو سو ایک میں تمہاری کزن مس مانیا تم سے آج ہی رات ملنا چاہتی ہیں۔ “
“آدیش۔۔۔ “
مانیا نے اس کا بڑی گرمجوشی سے استقبال کیا۔ دونوں گلے ملے۔ پھر وہ اسے لئے ہوئے صوفے پر آ بیٹھی۔
“میرا پیغام مل گیا تھا؟”
کہتے ہوئے مانیا نے غیر محسوس انداز میں اپنے اور طاہر کے کمرے کے مشترکہ دروازے کی طرف دیکھا، جس پر پردہ پڑا ہوا تھا۔
“ہاں۔ ” وہ پھیل گیا۔
“مس ریحا نے بتایا تھا مگر ۔۔۔ ایک بات میری سمجھ میں نہیں آئی۔ “
وہ گدی پر ہاتھ باندھتے ہوئے بولا۔
“وہ کیا؟ مگر پہلے یہ بتاؤ کیا چلے گا؟”
“ابھی کچھ نہیں۔ ذرا دیر بعد۔۔۔ “
آدیش نے اسے روک دیا۔
“او کے۔ ” مانیا مسکرائی۔
“ہاں اب پوچھو۔ کیا کہہ رہے تھے تم؟”
“یہ پوچھنا چاہتا تھا کہ مس ریحا کے ساتھ کیا تعلق ہے تمہارا؟چند دن پہلے تم نے فون پر اس کے بارے میں مجھ سے پوچھا اور آج اس کے ہاتھ مجھے تمہارا پیغام ملا۔ آخر چکر کیا ہے یہ؟”
“میں جانتی تھی تم یہ سب جاننے کے لئے بے چین ہو گی۔ “
مانیا نے ایک طویل سانس لے کر اس کی طرف دیکھا۔
“میں تمہیں سب کچھ بتا سکتی ہوں آدیش۔ مگر پہلے مجھے یہ معلوم ہونا چاہئے کہ میں تم پر کس حد تک اعتماد کر سکتی ہوں ؟”
“میں سمجھا نہیں۔ “
وہ اسے گہری نظروں سے دیکھنے لگا۔
“کس معاملے میں اور کیسا اعتماد چاہتی ہو تم؟”
” آدیش۔ ” مانیا کے لہجے میں سنجیدگی اتر آئی۔
“بات بہت نازک ہے اور ایسی بھی کہ جس کا اظہار شاید میرے لئے نقصان دہ ہو جائے۔ “
“میں سیدھا سادہ فوجی ہوں۔ سسپنس میرے اعصاب پر بوجھ بن جاتا ہے۔ جو کہنا ہے کھل کر کہو۔”
“اچھا یہ بتاؤ آدیش۔ اگر تمہیں یہ پتہ چلے کہ میں کسی ایسے کام میں تمہاری مدد چاہتی ہوں جو تمہاری جاب کے حوالے سے، تمہارے محکمے کے حوالے سے تمہیں مناسب نہ لگے تو۔۔۔ “
اور ایک دم آدیش سیدھا ہو بیٹھا۔ اس نے مانیا کو بڑی ناپ تول بھری نظروں سے دیکھا جیسے اس کی بات کی گہرائی میں جانا چاہتا ہو۔ پھر سرسرایا۔
“غداری؟”
“نہیں۔ ” مانیا نے ایک دم ہاتھ اٹھا کر کہا۔
“میں اسے غداری نہیں کہہ سکتی۔ “
“اور میں بات سنے بغیر کوئی رائے نہیں دے سکتا۔ نہ تمہاری بات کے بارے میں نہ اپنے تعاون کے حوالے سے۔ “
اس نے صاف صاف کہا۔
“مگر اس بات کی گارنٹی تو دے سکتے ہو کہ اگر تم مجھ سے متفق نہ ہوئے تو یہ بات اسی کمرے میں دفن ہو جائے گی۔ ہمیشہ کے لئے۔ “
“اس پر بھی مجھے سوچنا پڑے گا۔ “
“تب میں مجبور ہوں آدیش۔ “
مانیا نے حتمی لہجے میں کہا۔
“میں اپنے ہاتھ کاٹ کر تمہیں نہیں دے سکتی۔ ویری سوری کہ میں نے تمہارا وقت برباد کیا۔ “
“مطلب یہ کہ میں جا سکتا ہوں ؟”
عجیب سے لہجے میں آدیش نے کہا۔
“اب میں اس قدر بد اخلاق بھی نہیں ہوں کہ تمہیں چائے کافی نہ پوچھوں۔ “
پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ انٹر کام تک جانے کے لئے اس نے اٹھنا چاہا۔
“رہنے دو۔ “
آدیش ایک دم اٹھا اور اس کے قدموں میں جا بیٹھا۔ پھر رخ پھیرا۔ نیچے سرک کر اپنا سر مانیا کی گود میں رکھا اور آنکھیں بند کر لیں۔ یوں لگا جیسے ابھی وہ کہے گا۔
“ذرا میرے سر میں تیل کی مالش کر دو۔ “
مگر اس کے بجائے اس کے لبوں سے جو نکلا، اس نے مانیا کو بیحد جذباتی کر دیا۔
“دیدی بنتی ہو۔ ہر سال راکھی باندھتی ہو میری کلائی پر اور حکم دینے کے بجائے مجھ سے گارنٹیاں مانگتی ہو۔ کہتی ہو آدیش۔ کیا میں تم پر اعتماد کر سکتی ہوں ؟ یہ کیوں نہیں پوچھتیں کہ آدیش۔ کیا میں تمہارے سینے میں خنجر اتار سکتی ہوں ؟”
“بکو مت۔ “
مانیا نے اس کا سر باہوں کے حلقے میں لے کر سینے میں چھپا لیا۔
“تھپڑ مار دوں گی۔ ” اس کی آواز بھرا گئی۔
“گولی مار دو تو زیادہ اچھا ہے۔ “
آدیش نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔
” آج اس جسم پر یہ وردی کس کی دین ہے ؟ جانتی ہو ناں۔ میں سماج میں سر اٹھا کر چل سکتا ہوں تو کس کی وجہ سے؟ یہ بھی تمہیں علم ہے۔ مجھے اپنے باپ کے نام کا پتہ نہیں۔ ماں کون تھی، یہ بھی نہیں جانتا۔ صرف یہ جانتا ہوں کہ اگر تم مجھے ریل کی پٹڑی سے کھینچ کر زندگی کی پگڈنڈی پر گامزن نہ کر دیتیں تو میں کبھی کا ٹکڑوں میں بٹ کر اس دنیا سے ناپید ہو چکا ہوتا۔ اپنے ماں باپ کا نام دے کر تم نے مجھے حرامی ہونے کے الزام سے بچا لیا۔ اور آج۔۔۔ آج تم جاننا چاہتی ہو کہ تم مجھ پر اعتماد کر سکتی ہو یا نہیں ؟”
” آدیش۔۔۔ مجھے معاف کر دو۔ ” مانیا نے کہا
“معاف کر دوں۔ کیوں معاف کر دوں ؟”
وہ سسک کر بچوں کی سی ضد کے ساتھ بولا۔
“جاؤ۔ نہ میں تمہیں معاف کروں گا نہ تم سے بات کروں گا۔ “
” آدیش۔۔۔ “
مانیا اس کے روٹھنے کے انداز پر قربان سی ہو گئی۔
“اب بھی نہیں۔ “
اس نے اس کے چہرے کے سامنے ہاتھ جوڑ دئیے۔
آدیش نے تڑپ کر اس کے ہاتھ تھامے۔ پاگلوں کی طرح بار بار انہیں چوما اور پھر وہ ہاتھ اپنے رخساروں پر رکھ لئے۔
“اب بس بھی کرو بے وقوف۔ کیا رلا رلا کر مار دو گے مجھے؟”
“ہاں۔ ” آدیش نے اس کے بازو اپنے گرد حمائل کر لئے۔
“دوبارہ ایسی بات کی ناں ، تو میں اپنی اور تمہاری جان ایک کر دوں گا۔ “
مانیا نے اس کے شانے پر ماتھا رکھ کر اپنی نم آنکھیں بند کر لیں۔
“بس یہ یاد رکھنا دیدی۔ اس ملک، اس دنیا، اس دھرم سے بھی اونچا اگر کوئی ہے تو میرے لئے تم ہو۔ صرف تم۔ “
“جانتی ہوں۔ غلطی ہو گئی بابا۔ اب ختم بھی کر دو۔ “
مانیا نے پیار سے کہا اور اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے اٹھا کر اپنے ساتھ بٹھا لیا۔ پھر اپنی ساڑھی کے پلو سے اس کا آنسوؤں سے تر چہرہ خشک کیا۔
“اب ذرا سنبھل کر بیٹھو۔ چہرے پر جو بارہ بج رہے ہیں ، انہیں سوا نو کی مسکراہٹ میں بدلو۔ میں تم سے ایک خاص شخص کو ملوانے جا رہی ہوں۔ “
“کہاں ہے وہ؟”
آدیش نے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا۔
“یہیں ہے۔ ” مانیا نے پردے کی جانب رخ کر کے کہا۔
” آ جائیے مسٹر طاہر۔ “
دوسرے ہی لمحے پردہ ہٹا اور طاہر کمرے میں داخل ہوا۔ اس کا چہرہ اس بات کی غمازی کر رہا تھا کہ وہ گزشتہ کافی گھنٹوں سے نہیں سویا مگر وہ یہ اندازہ نہ لگا سکا کہ اس کیفیت میں اس کے اور مانیا کے درمیان ہونے والی چند لمحے قبل کی گفتگو کا بھی بہت ہاتھ تھا، جس کا اس نے ایک ایک لفظ سنا تھا۔
آدیش اور مانیا کھڑے ہو گئے۔
“مسٹر طاہر۔ یہ میرا بھائی ہے کیپٹن آدیش۔ اور آدیش یہ ہیں مسٹر طاہر۔ “
مانیا نے تعارف کرایا۔
طاہر اور آدیش نے گرمجوشی سے ہاتھ ملایا۔ سب لوگ بیٹھ گئے تو مانیا نے انٹر کام پر کافی اور دوسرے لوازمات کا آرڈر دینا چاہا۔ طاہر نے اسے روک دیا۔
“ایسا نہ کیجئے۔ اس طرح کیپٹن آدیش کے ساتھ میرا آپ کے کمرے میں پایا جانا اچھا تاثر نہ دے گا۔ “
بات سب کی سمجھ میں آ گئی اس لئے کھانے پینے کا پروگرام ترک کر دیا گیا۔ پھر مانیا نے آدیش کی جانب دیکھا۔
” آدیش۔ بات گھما پھر ا کر بتانے کی میں ضرورت نہیں سمجھتی۔ ذرا اس تصویر کو دیکھو۔ “
اس نے پرس سے ایک پاسپورٹ سائز فوٹو نکال کر اس کے ہاتھ میں تھما دی۔
“یہ۔۔۔ ” آدیش اچھل پڑا۔
“یہ تو۔۔۔ یہ تو۔۔ ” وہ ہکلا کر رہ گیا۔
“یہ تمہارے سیل میں ہے۔ اتنا تو میں جانتی ہوں۔ اب اس سے پہلے کی بات سن لو۔ “
مانیا نے اسے ریلیکس ہونے کا اشارہ کیا اور سرمد اور ریحا کا نام لئے بغیر طاہر کی فراہم کردہ معلومات اس کے گوش گزار کر دیں۔
“یہ شخص۔۔۔ “
آدیش نے اس کی تصویر سامنے پڑی میز پر ڈال دی۔
” جنرل نائر کی چھاؤنی پر اٹیک کے دوران اس کے ہاتھ لگا۔ اس کے سارے ساتھی مارے گئے۔ صرف یہ زندہ بچا۔ ہم اس کے بارے میں کچھ بھی جاننے میں اب تک کامیاب نہیں ہو سکے۔۔۔ لیکن۔۔۔ “
ایک دم ذہن میں جنم لینے والے کسی سوال نے اسے چونکا دیا۔
اس نے طاہر کی جانب دیکھا۔ پھر اس کی نظر مانیا پر جم گئی۔
” آپ لوگ کیسے جانتے ہیں کہ یہ کرنل رائے کے سیل میں ہے؟”
“سب سے پہلے پوچھا جانے والا سوال تم اب پوچھ رہے ہو۔ “
مانیا نے کہا۔
“بہرحال اس کا جواب یہ ہے کہ ہمیں اس کے بارے میں ریحا نے بتایا ہے۔ “
“مس ریحا نے؟” آدیش اس بار اور بری طرح چونکا۔
” اس کا اس شخص سے کیا تعلق؟”
“وہی۔۔۔ جو سانس کا جسم سے، خوشبو کا صبا سے اور بہار کا گلاب سے ہوتا ہے آدیش۔ “
مانیا نے شاعری کر ڈالی۔
“یعنی۔۔۔ ” آدیش کے ذہن کو جھٹکا سا لگا۔
“ہاں۔ “
مانیا نے اس کی نظروں میں ابھرتی حیرت پڑھ لی۔
” وہ سرمد کو اپنی جان سے زیادہ چاہتی ہے۔ “
اور آدیش کا سارا جسم سُن ہو گیا۔ دماغ سرد ہوتا چلا گیا۔ رگ و پے میں خون کی جگہ درد کی لہریں دوڑنے لگیں۔ وہ بے اختیار پیچھے ہٹا اور صوفے کی پشت سے ٹیک لگا کر گہرے گہرے سانس لینے لگا۔
مانیا نے اس کی کیفیت کو اچانک انکشافات سے تعبیر کیا مگر طاہر۔۔۔ وہ بات کی تہہ تک پہنچ گیا۔ وہ ایسی وارداتوں سے ایک سے زیادہ بار دو چار ہو چکا تھا۔ اس نے زبان کو خاموش رکھا مگر سوچ کے لبوں سے پہرے ہٹا لئے۔ اس کا دماغ کسی فیصلے پر پہنچنے کے لئے پر تولنے لگا۔
“کیا ہوا؟” مانیا نے اسے فکرمند نظروں سے دیکھا۔
“کچھ نہیں دیدی۔ “
آدیش نے سرخ ہوتی ہوئی آنکھیں کھولیں۔
“بس۔ حیرت سے یہ حال ہو گیا ہے۔ “
“محبت کرنے والے جھوٹ بولیں تو فوراً پکڑ ے جاتے ہیں کیپٹن آدیش۔ “
آہستہ سے طاہر نے کہا تو آدیش کے ایک دم اتر جانے والے چہرے پر زردی گہری ہو گئی۔
“کیا مطلب؟”
مانیا نے حیرت سے طاہر اور پھر آدیش کی جانب دیکھا۔
“کیپٹن آدیش۔۔۔ “
طاہر نے نگاہوں کا محور مانیا کو بنایا۔
“شاید نہیں ، یقیناً مس ریحا سے محبت کرتے ہیں مس مانیا۔ “
“کیا واقعی؟”
اس کے لہجے میں حیرت ہی حیرت تھی۔
” آدیش۔۔۔ ؟”
مانیا نے نظر اس کے چہرے پر جما دی۔
“پیار پر بس تو نہیں ہے میرا لیکن۔۔۔ “
آدیش نے مصرع ادھورا چھوڑ دیا۔
“مسٹر طاہر ٹھیک کہہ رہے ہیں دیدی۔ مجھ پر اس انکشاف سے جو اثر ہوا وہ قدرتی ہے مگر ظالم وقت نے مجھے بڑا حقیقت پسند بنا دیا ہے۔ میں جانتا تھا کہ مس ریحا کا میرا ہو جانا ایک ایسا خواب ہے جسے دیکھنا بھی میرے لئے جرم ہے۔ اسی لئے میں انہیں دل ہی دل میں پوجتا رہا اور شاید زندگی کے آخری سانس تک پوجتا رہوں گا
لیکن آج یہ جان کر کہ مس ریحا کسی اور کو چاہتی ہیں مجھے ایک عجیب سے دُکھ کی لذت نے گھیر لیا ہے۔ اب میں چاہتا ہی نہیں کہ مس ریحا میری ہو جائے۔ میں اسے حاصل کر لوں۔ بلکہ ایک انوکھی سی کسک دل میں آنکھ کھولے میرے ہونٹوں سے یہ سننا چاہتی ہے کہ تم مجھے یہ بتاؤ، میں مس ریحا اور سرمد کے کس کام آ سکتا ہوں ؟”
“کیپٹن آدیش۔۔۔ “
طاہر نے اس کا ہاتھ بڑی گرمجوشی سے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔ حیرت سے منہ پھاڑے مانیا سب کچھ سن رہی تھی۔ دیکھ رہی تھی۔ صورتحال ذرا نارمل ہوئی تو طاہر نے مانیا کی اجازت سے آدیش سے بات چیت شروع کی۔
“کیپٹن آدیش۔ سرمد اس وقت کس حال میں ہے؟”
“اچھے حال میں نہیں ہے۔ “
آدیش نے صاف گوئی سے کہا۔
” سب جانتے ہیں کہ ٹارچر سیلز میں کسی بھی ملزم سے کیا سلوک ہوتا ہے۔ مگر وہ شخص عجیب مٹی سے بنا ہوا ہے۔ اس کی زبان سے آج تک اپنے یا اپنے گروپ کے بارے میں ایک لفظ ادا نہیں ہوا۔ ہاں۔ ایک خاص بات، جو یہاں آنے سے پہلے مجھ سے کرنل رائے نے کی، وہ سن لیں شاید وہ ہمیں کسی پلان کے لئے مدد دے سکی۔ “
اس کے بعد کیپٹن آدیش نے انہیں اپنی اور کرنل رائے کی تقریباً دو گھنٹے قبل کی گفتگو سے آگاہ کیا۔
“اس کا مطلب ہے کہ کل کی رات سرمد کے سلسلے میں بہت اہم ہے۔ “
“جی ہاں۔ ” آدیش نے طاہر کی بات کے جواب میں کہا۔ “میں یہ تو اندازہ نہیں لگا سکا کہ کل رات کرنل رائے کیا کرنا چاہتا ہے اور اس کے کسی بھی اقدام کے بارے میں کوئی بھی پہلے سے کچھ نہیں کہہ سکتا تاہم یہ بتا سکتا ہوں کہ کل سرمد کا قصہ آر یا پار۔ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ “
“ہوں۔ “
مانیا، اس کی بات پر کسی سوچ میں ڈوب گئی۔ طاہر اور آدیش کی نظر ملی اور جھک گئی۔ صورتحال ان کے لئے خاصی گمبھیر تھی۔ یہ بڑا سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے کی گھڑی تھی۔
“اچھا مسٹر طاہر۔ ایک بات تو بتائیے۔ “
اچانک آدیش نے پُر خیال لہجے میں کہا۔ پھر جیسے اس نے ارادہ بدل دیا۔
“مگر نہیں۔ پہلے میں آپ کو بتاتا ہوں۔ پھر آپ میرے بیان کی روشنی میں وضاحت کیجئے گا۔ “
“جی جی۔ “
طاہر پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہو گیا۔ مانیا نے بھی ان دونوں کی طرف کان لگا دئیے۔
“مسٹر طاہر۔ “
آدیش نے بڑے خوابناک انداز میں کہنا شروع کیا۔
“چند دن پہلے تک میں کرنل رائے کے ساتھ سرمد پر تشدد میں پوری طرح شامل تھا مگر ایک دن عجیب بات ہوئی۔ سرمد غشی کے عالم میں فرش پر پڑا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ اس کے ہونٹ آہستہ آہستہ ہل رہے ہیں۔ یہ سوچ کر میں نے کان اس کے ہونٹوں سے لگا دیا کہ شاید اس کے بارے میں کسی ایسی بات کا علم ہو جائے جو ہم پر اس کا نام، پتہ یا کسی آتنک وادی تنظیم سے تعلق آشکار کر دے مگر اس کے لبوں سے نکلتے الفاظ نے میرے سارے جسم میں کرنٹ سا دوڑا دیا۔ میں اچھل کر پیچھے ہٹ گیا۔
میری حالت ایسی ہو گئی جیسے کسی جادو نے مجھے اپنی گرفت میں لے لیا ہو۔ میرا دل پسلیاں توڑ کر سینے سے نکل جانے کو تھا۔ اور شاید ایسا ہی ہوتا اگر میں سرمد سے پرے نہ ہو جاتا۔ اس دن سے آج تک میں اس پر ہاتھ نہیں اٹھا سکا۔ میرا دل ہی نہیں چاہا کہ میں اسے اذیت دوں۔ بلکہ نجانے کس جذبے کے تحت میں نے اپنی ڈیوٹی مسلسل اس پر لگوائے رکھی تاکہ میری جگہ کوئی دوسرا آ کر اسے تشدد کا نشانہ نہ بنائے۔
اس دن کے بعد سے آج تک یہ میرا معمول ہے کہ جب وہ آنکھیں بند کئے دنیا و مافیہا سے بے خبر پڑا ہو، روزانہ ایک دو بار میں اس کے ہونٹوں کے ساتھ کان لگا کر وہ خوبصورت الفاظ ضرور سنتا ہوں۔ میرا جی چاہتا تھا میں اس کے زخموں پر مرہم لگاؤں۔ اسے آرام پہنچاؤں مگر میں ایسا کر نہ سکا۔
میں ایسا کرتا تو غدار کہلاتا اور عتاب کا شکار ہو جاتا۔ اس پر کئے ہوئے اپنے تشدد کے لمحات یاد آتے تو میں خود پر شرمندگی محسوس کرتا۔۔۔ اور آج۔۔۔ “
اس نے بات روک دی۔ آنکھیں بند کر کے سر اوپر اٹھایا اور فضا میں کچھ سونگھنا چاہا۔ محسوس کرنا چاہا۔
پھر جب اس نے آنکھیں کھولیں تو وہ تینوں یہ دیکھ کر چونک پڑے کہ اس کی آنکھوں میں نیند کی سی کیفیت انگڑائیاں لے رہی تھی۔ ا س کا لہجہ بھاری ہو گیا۔ یوں جیسے وہ بولنا چاہتا ہو اور بول نہ پا رہا ہو۔ اس کی آواز میں شبنم سی گرنے لگی۔ اس کے لہجے کو بھگونے لگی۔ غسل دینے لگی۔
” آج۔۔۔ آج وہ ہوا جس کے سبب میں ابھی تک ایک سرشاری کے سفر میں ہوں۔ میں اپنی ڈیوٹی ختم کر کے کرنل رائے کے آفس میں جا رہا تھا کہ مجھے رک جانا پڑا۔ سرمد کمرے میں دیوار سے ٹیک لگائے آنکھیں بند کئے نیم دراز ہے۔ اس کا چہرہ آنسوؤں میں تر ہے اور ہونٹ ہولے ہولے ہل رہے ہیں۔
میں رکا تو محسوس ہوا کہ ایک عجیب سی مست کر دینے والی خوشبو وہاں چکرا رہی ہے۔ میں حیرت زدہ سا اندر داخل ہوا اور اس کے قریب چلا گیا۔ کان اس کے ہونٹوں سے لگا دئیے۔ وہ اپنا مخصوص ورد کر رہا تھا۔ میں نے صاف محسوس کیا کہ وہ خوشبو، وہ مہک جس نے سرمد کے گرد حصارسا باندھ رکھا ہے، مجھ پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔
میرے حواس نشے میں ڈوبتے چلے گئے۔ دل کو بے قراری نے جکڑ لیا۔ جب میں اس کیفیت کو برداشت نہ کر سکا تو خوشبو میں نہایا ہوا کمرے سے نکل آیا۔ کسی مے نوش کی طرح لڑکھڑاتا ہوا سیل سے باہر پہنچا۔ یخ بستہ فضا میں چند گہرے گہرے سانس لئے تو ہوش کا دامن ہاتھ آیا۔
یہاں آنے تک میری حالت دگرگوں ہی رہی۔ دیدی اور آپ لوگوں سے ملا۔ گفتگو کی تو حالت سنبھلی مگر میرا دل سینے ہی میں ہے، اس میں اب بھی مجھے کسی کسی لمحے شک ہوتا ہے۔ لگتا ہے میں اب بھی وہیں ہوں۔ سرمد کے پاس۔ وہ خوشبو اب بھی میری دھڑکنوں اور آتما میں چکرا رہی ہے۔
وہ الفاظ اب بھی مجھے لوریاں دے رہے ہیں۔ مجھے اپنی جانب کھینچ رہے ہیں۔ مجھے کچھ سمجھا رہے ہیں۔ مگر کیا ؟ یہ میں نہیں جانتا”۔
کیپٹن آدیش خاموش ہو گیا اور سر جھکا لیا۔ وہ تینوں بُت بنے اس کا چہرہ دیکھ رہے تھے جس پر ایک عجیب سی معصومیت چھائی ہوئی تھی۔
“کیپٹن آدیش۔۔۔ “
آہستہ سے طاہر نے اسے پکارا تو وہ چونکا۔ مانیا نے جھرجھری لے کر اسے متوحش نظروں سے دیکھا۔
“یس مسٹر طاہر۔ ” وہ تھکے تھکے سے لہجے میں بولا۔
“کیا آپ کو۔۔۔ وہ الفاظ یاد ہیں۔۔۔ جو سرمد کا ورد ہیں ؟”
طاہر نے ٹھہر ٹھہر کر، رک رک کر جما جما کر الفاظ ادا کئے۔
“وہ الفاظ۔۔۔ “
کیپٹن آدیش یوں مسکرایا جیسے طاہر نے اس سے کوئی بچگانہ بات پوچھ لی ہو۔
“وہ تو میری آتما پر ثبت ہو گئے ہیں مسٹر طاہر۔ میں چلتے پھر تے ان الفاظ کو اپنے لہو کے ساتھ جسم میں گردش کرتے محسوس کرتا ہوں۔ “
“کیا آپ انہیں ہمارے سامنے دہرائیں گے کیپٹن آدیش؟پلیز۔ “
طاہر نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ اس کے لہجے میں التجا سی تھی۔
“ضرور۔ “
آدیش نے کہا۔ پھر وہ کہتے کہتے رک گیا۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا۔ میز پر پڑا جگ اٹھایا۔ گلاس میں پانی ڈالا۔ گھونٹ بھرا اور اٹھ گیا۔ باتھ روم کا دروازہ کھول کر اس نے کلی کی اور رومال سے ہونٹ صاف کرتے ہوئے لوٹ آیا۔ وہ تینوں اس کی حرکات کو حیرت سے دیکھ رہے تھے۔
“مسٹر طاہر۔ پتہ نہیں کیوں میرا جی نہیں چاہا کہ میں کلی کئے بغیر وہ الفاظ زبان سے نکالوں۔ ظاہر ہے اگر وہ الفاظ آپ کے مذہب سے متعلق ہیں تو آپ کے عقیدے کے مطابق پاکیزہ ہی ہوں گے مگر میرے دل میں ان کا احترام جس وجہ سے ہے، میں وہ بیان نہیں کر سکتا۔ بس میرا جی چاہتا ہے کہ میں ان الفاظ کو اپنی زبان پاک کر کے ادا کروں۔ “
“اب دیر نہ کیجئے کیپٹن آدیش۔ “
طاہر بیتاب ہو گیا۔ رہ گئی مانیا تو وہ سانس روکے کسی ایسے انکشاف کی منتظر تھی جو اسے حیرت کے کسی نئے جہاں میں اتار دیتا۔
صوفے پر بیٹھ کر کیپٹن آدیش نے ایک نظر ان تینوں کو مسکرا کر دیکھا۔ پھر اس کی نظر طاہر کے چہرے پر آ جمی۔
“وہ الفاظ جو سرمد کا ہمہ وقت ورد ہیں مسٹر طاہر۔ وہ ہیں۔ “
دھیرے سے اس نے آنکھیں بند کیں اور کہا:
“صلی اللہ علیہ وسلم۔ “
ایک دم جیسے کمرے میں ہوا ناچ اٹھی۔ فضا جھوم اٹھی۔ لمحات وجد میں آ گئی۔ گھڑیاں رقصاں ہو گئیں۔ خوشبو نے پر پھیلا دئیے۔ مہک ان کے بوسے لینے لگی۔ ان کے دل دھڑکنا بھول گئے۔ پلکوں نے جھپکنا چھوڑ دیا۔ ہوش و حواس ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ہلکورے لینے لگے۔
_________________________

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: