Ishq Ka Qaaf Novel By Sarfaraz Ahmad Rahi – Episode 23

0
عشق کا قاف از سرفراز احمد راہی – قسط نمبر 23

–**–**–

کیپٹن آدیش خاموش ہو چکا تھا مگر اس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کی بازگشت کمرے میں پھڑپھڑا رہی تھی۔ اجالوں سے گلے مل رہی تھی۔ اندھیروں کا نصیب بدل رہی تھی۔ مانیا بُت بنی بیٹھی تھی اور طاہر۔۔۔ وہ ایسی نظروں سے کیپٹن آدیش کو دیکھ رہا تھا، جن میں رشک تھا تو عروج پر۔ عقیدت تھی تو انتہا پر۔ اور پیار تھا تو اوج پر۔
کتنے ہی لمحے سکوت کے عالم میں دبے پاؤں گزر گئے۔ پھر مانیا نے ایک طویل اور گہرا سانس لیا تو سب لوگ آہستگی سے چونکے۔ کیپٹن آدیش نے سر اٹھایا اور مانیا کے بعد طاہر کی جانب دیکھا، جو اسے بڑی عجیب سی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
“کیا دیکھ رہے ہیں مسٹر طاہر؟” آدیش مسکرایا۔
“دیکھ نہیں سوچ رہا ہوں کیپٹن آدیش۔ “
طاہر نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا۔
“تم کتنے خوش قسمت ہو کہ سرمد کے اتنا قریب رہتے ہو۔ “
” اب کیا آپ میری ایک بات کا جواب دینا پسند کریں گے؟”
“ضرور۔ ” طاہر نے بڑے خلوص سے کہا۔
“یہ الفاظ کیا ہیں جن کے اثر نے مجھے پتھر سے موم بنا دیا۔ “
“یہ الفاظ۔۔۔ ” طاہر کے لہجے میں ادب در آیا۔
“کیپٹن آدیش۔ یہ ہمارے دین کی اساس ہیں۔ یہ درود شریف ہے۔ ہمارے اللہ، ہمارے معبودِ برحق کی آخری کتاب میں اس کا فرمان ہے کہ
” میں اور میرے فرشتے اللہ کے حبیب، رحمت للعالمین، ہمارے آقا و مولا، آخری نبی اور رسول جناب محمد مصطفی پر درود و سلام بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو۔ تم بھی اپنے آقا پر درود پڑھو اور سلام بھیجا کرو،۔۔۔ درود شریف پڑھنا اللہ کی سنت ہے اور سرمد اس سنت کی ادائیگی میں ہمہ وقت مصروف رہتا ہے، ایسا تم نے بتایا۔ “
“اسی لئے۔۔۔ اسی لئے۔ ” آدیش کہہ اٹھا۔
“یہ الفاظ مجھ پر عجب جادو سا کر دیتے ہیں مسٹر طاہر۔ میں اپنے آپ میں نہیں رہتا۔ “
“اگر آپ کو اور مس مانیا کو برا نہ لگے تو میں کہوں گا کیپٹن آدیش۔۔۔ کہ آپ بہت جلد ہم سے آ ملیں گے۔ میں ایسے ہی آثار دیکھ رہا ہوں۔ آپ پر درود شریف کا یہ اثر کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ “
طاہر نے بڑے محتاط الفاظ استعمال کئے۔
” آپ کا مطلب ہے آدیش مسلمان ہو جائے گا؟”
مانیا نے دھیرے سے کہا۔
“شاید۔ ” طاہر نے آہستگی سے جواب دیا۔
“لیکن اس میں کوئی زبردستی نہیں ہے مس مانیا۔ ہمارے دین میں جبر ہے نہ اکراہ۔ دائرہ اسلام میں آتا وہی ہے جس کے نصیب میں ہدایت لکھی ہے۔ جسے کائنات کا وہ مالک و خالق منتخب کر لے۔ “
“چلیں۔ “مانیا مسکرائی۔
“اس معاملے کو آنے والے وقت پر چھوڑ دیجئے۔ اس وقت ہم جس مسئلے کا شکار ہیں اس پر سوچئے۔ “
“کیپٹن آدیش۔ کل رات سیل میں کون کون ہو گا؟” طاہر اس کی طرف متوجہ ہوا۔
“جیسا کہ میں بتا چکا ہوں ، کل کے لئے کرنل رائے کا حکم ہے کہ صرف میں اور وہ وہاں سرمد کے پاس ہوں گے۔ باقی سب لوگوں کو چھٹی دے دی جائے گی۔”
آدیش نے بتایا۔
“اور یہ کتنے بجے رات کا وقت ہو گا؟”
“سوا آٹھ بجے تک سیل خالی ہو جائے گا۔ “
“کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ کل رات سرمد کو وہاں سے نکال لیا جائے ؟”
“بہت مشکل ہے۔ ” آدیش سوچتے ہوئے بولا۔
“ایک تو کرنل رائے کی کوٹھی آبادی سے ہٹ کر ہے۔ دوسرے آپ دیکھ چکے ہیں کہ اس کے گرد حفاظتی باڑھ ہے، جس کے چاروں طرف دن رات آٹھ فوجی پہرہ دیتے ہیں۔ تیسرے یہ کہ کوٹھی کے گیٹ پر باقاعدہ دو فوجیوں کا کیبن ہے جو اندر کوٹھی اور سیل تک پہنچنے والے کے لئے پہلے سخت چیکنگ کرتے ہیں۔
اس کے بعد سیل کے دروازے پر کمپیوٹرائزڈ سسٹم چوبیس گھنٹے آن رہتا ہے۔ اگر آپ پہلے سے وہاں آنے جانے والے ہیں یا وہاں سے متعلق فرد ہیں تو آپ کے فنگر پرنٹس آلریڈی کمپیوٹر میں فیڈ ہوں گے اور آپ کا سیل میں جانا ممکن ہو گا۔ اور اگر آپ پہلی بار وہاں آئے ہیں تو میں یا کرنل رائے آپ کو کلیر کریں گی، تب آپ وہاں داخل ہو پائیں گے۔ “
“ہوں۔”
طاہر نے آدیش کی ایک ایک بات غور سے سنی۔ کچھ دیر سوچتا رہا پھر کہا۔
“اگر ہم ذرا سی کوشش کریں تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے کیپٹن آدیش۔ “
” وہ کیسے؟”
اس نے اچنبھے سے پوچھا۔ مانیا صرف سن رہی تھی۔ اس نے ابھی تک کسی بات پر رائے زنی نہ کی تھی۔
“کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ میرے فنگر پرنٹس کسی طرح کمپیوٹر سسٹم میں فیڈ کر دیں۔ “
“جی نہیں۔ ” کیپٹن آدیش نے نفی میں سر ہلایا۔
” یہ کسی طرح بھی ممکن نہیں۔ “
“دوسری صورت یہ ہے کہ آپ مجھے کسی قسم کا انٹری پاس بنا دیں۔۔۔ “
“ہاں۔ یہ ہو سکتا ہے۔ “
ایک دم آدیش نے اس کی بات اچک لی۔
” یہ آسان بھی ہے۔ “
“بس تو آپ ایسا کر دیں۔ “
طاہر نے پُر جوش لہجے میں کہا۔
“میں چاہتا ہوں کہ کل کرنل رائے جب سیل میں سرمد کے پاس آئے تو میں وہاں موجود ہوں۔ “
“یہ تو ہو جائے گا۔ سوچنے والی بات صرف یہ ہے کہ آپ کو کس خانے میں فٹ کیا جائے کہ کرنل رائے کو آپ کی آمد مشکوک لگے نہ ناگوار گزری۔ اگر آپ پہلے سے وہاں موجود ہوئے تو یہ بات اسے ہضم نہیں ہو گی۔ “
“کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ اگر خطرے کی کوئی بات ہو تو آپ مجھے فوراً مطلع کر سکیں ؟”
“اس کا ایک ہی طریقہ ہے۔ ” آدیش نے جواب دیا۔
“اور وہ یہ کہ ایسا کوئی بھی لمحہ آتے ہی میں موبائل پر آپ کو بیل کر دوں۔ تب آپ وقت ضائع کئے بغیر کوٹھی میں انٹر ہو جائیں۔ “
“مگر میں سیل میں کیسے داخل ہو سکوں گا؟”
“وہ آپ مجھ پر چھوڑ دیں۔ میں سیل کا خودکار سسٹم آف کر دوں گا۔ آپ کو صرف یہ کرنا ہو گا کہ سیل کے دروازے پر پہنچ کر دروازے پر ہاتھ کا دباؤ ڈالیں۔ وہ کھل جائے گا۔ اور اب آپ مجھ سے وہاں کا نقشہ سمجھ لیں۔ “
آدیش نے مانیا کی طرف دیکھا۔ اس نے جلدی سے اپنا ہینڈ بیگ کھولا۔ پیڈ اور قلم نکالا اور آدیش کی جانب بڑھا دیا۔ پیڈ آدیش نے میز پر رکھا۔ طاہر اور مانیا آگے کو جھک آئے۔ آدیش نے بڑی مہارت سے کوٹھی کی انٹرنس سے لے کر رہائشی حصے اور سیل تک کا نقشہ بنا کر یوں سمجھایا کہ طاہر کے ساتھ ساتھ مانیا کو بھی ازبر ہو گیا۔
“بس تو یہ طے ہو گیا کہ کل رات آٹھ بجے ہم کرنل رائے کی کوٹھی سے ایک فرلانگ دور سیتا مندر کے بالمقابل پارک میں موجود رہیں گے اور سگنل موصول ہوتے ہی آپ کی طرف چل پڑیں گے۔ “
طاہر نے نقشے پر نظر دوڑاتے ہوئے تہہ کر کے اسے جیب میں ڈال لیا۔
“مگر ہم اندر کیسے داخل ہوں گے کیپٹن آدیش؟”
“یہ لیجئے۔ “
آدیش نے ایک پیڈ کے ایک کاغذ پر اپنے سائن کر کے مخصوص کوڈ میں کچھ لکھا اور طاہر کی طرف بڑھا دیا۔
“یہ آپ دونوں کے لئے انٹری پاس کا کام دے گا۔ بیرونی گیٹ پر آپ کو روکا جائے گا۔ انہیں یہ پاس دکھا دیجئے گا۔ میں انہیں آپ کے بارے میں زبانی بھی انسٹرکشن دے دوں گا۔ “
سارا مسئلہ ہی حل ہو گیا۔ طاہر کے رگ و پے میں سکون کی ایک لہر سی تیر گئی۔ اس نے ممنونیت سے آدیش کی جانب دیکھا۔
“کچھ مت کہئے مسٹر طاہر۔ میں جس کے لئے یہ سب کر رہا ہوں ، اس سے مجھے کسی شکریے کی طلب نہیں۔ بس یہ خیال رہے کہ مس ریحا کے بارے میں میرے جذبات کبھی آپ میں سے کسی کے لبوں پر نہ آئیں۔ یہی میرا شکریہ ہے آپ کی طرف سے۔ “
آدیش نے پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا تو طاہر کی نگاہ مانیا کی جانب اٹھ گئی جو بڑی محبت سے آدیش کو تک رہی تھی۔
“یہ ٹھیک کہہ رہا ہے مسٹر طاہر۔ ” آخر وہ بولی۔
“لیکن کیا سب محبت کرنے والے ایسے ہی ہوتے ہیں ؟”
اس نے طاہر کی جانب عجیب سی نظروں سے دیکھا۔ “کیا اب بھی پوچھنے کی ضرورت باقی ہے مس مانیا؟”
طاہر ہولے سے ہنسا۔ جواب میں مانیا خاموش ہو گئی۔
پھر آدیش جانے کے لئے اٹھ گیا۔ طاہر نے اس سے بڑی گرمجوشی سے ہاتھ ملایا۔ مانیا نے اسے گلے لگایا اور ماتھا چوم لیا۔
“دھرم پر میرا وشواس کبھی بھی نہیں رہا آدیش۔ تم ضد کر کے مجھ سے ہر سال راکھی بندھواتے رہے۔ آج تم نے پانچ روپے کی اس راکھی کو انمول کر دیا۔ “
“دیدی۔ تم خوش تو وہ خوش۔ ” اس نے اوپر دیکھا۔
” اس کے علاوہ مجھے کسی بات کی پرواہ نہیں۔ “
وہ رخصت ہو گیا۔
دروازہ بند کر کے لوٹے تو مانیا کو طاہر کمرے کے بیچوں بیچ کھڑا ملا۔ دونوں کی نظریں ملیں اور مانیا کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
“بیٹھئے مسٹر طاہر۔ “
وہ صوفے پر ٹک گئی۔ طاہر بھی اس کے سامنے آ بیٹھا۔
” آپ نے میری نظریں پڑھ لیں تھیں کیا؟”
“جی ہاں۔ “
طاہر تناؤ کے شکار اعصاب پر قابو پاتے ہوئے مسکرایا۔
” یہ فن بھی آ ہی گیا ہے۔ میں نے جانا کہ آپ مجھ سے کچھ کہنا چاہتی ہیں۔ “
“جی ہاں۔ مگر کیا کہنا چاہتی ہوں ، کیا یہ نہیں سمجھے آپ؟”
” آپ جب تک بتائیں گی نہیں میں کیسے جان پاؤں گا مس مانیا۔ “
طاہر بیحد محتاط ہو رہا تھا۔
“اب آپ اتنے نادان بھی نہیں ہیں مسٹر طاہر کہ میری نظر کو تو پڑھ لیں اور بات کو نہ سمجھ سکیں۔ “
وہ ہنسی۔
“ہم جس صورتحال سے یہاں آ کر دوچار ہو گئے ہیں اس کے حوالے سے اگلا کوئی بھی لمحہ کچھ بھی گل کھلا سکتا ہے۔ آپ خوب جانتے ہیں کہ میں صرف آپ کے لئے اپنے ملک سے غداری کر رہی ہوں اور آدیش ایک طرف اپنی محبت سے مجبور ہو کر اور دوسری طرف میری وجہ سے ایسا کر رہا ہے۔ پھر انجان بننے کا فائدہ؟”
مانیا نے جیسے کھیل کے پتے بانٹے۔
” آپ کہنا کیا چاہتی ہیں مس مانیا؟ کھل جائے۔ ” طاہر نے پتے اٹھا لئے۔
” آپ کی دوستی کا ثبوت۔ “
مانیا نے شانے اچکائے اور ریلیکس ہو کر بیٹھ گئی۔
“کیسے پیش کروں ؟”
اس نے پہلا پتہ الٹ دیا۔ حکم کا نہلا تھا۔
“کیا مجھے زبان سے کہنا ہو گا؟” ۔
مانیا کے ہاتھ میں پان کی بیگم تھی۔
“کوئی اور راستہ نہیں ؟”
دوسرا پتہ حکم کا غلام نکلا۔
“ہی۔ ” اینٹ کی دکی سامنے آ گئی۔
“مجھے دوسرا کوئی بھی راستہ منظور ہے۔ “
تیسرا پتہ جوکر تھا۔ اس نے پتے پھینک دئیے۔
“صرف ایک سوال کا جواب۔ “
اس نے طاہر کے چہرے پر نظریں مرکوز کر دیں۔
“یہ صفیہ وہی ہے ناں ، جس کے طاہر آپ ہیں؟”
ایک دم سے کیا جانے والا یہ سوال طاہر کے لئے حواس شکن ثابت ہوا۔ اس نے بری طرح چونک کر مانیا کی طرف دیکھا جو اسے بڑی گہری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
“جھوٹ نہیں مسٹر طاہر۔ “
اس نے شہادت کی انگلی کھڑی کی۔
“اب تک سارا معاملہ سچ ہی پر چلتا آ رہا ہے۔ اگر آپ سچ بولیں گے تو میں بھی اپنے جھوٹ کا پردہ فاش کر دوں گی، یہ میرا آپ سے وعدہ ہے۔ “
” آپ کا جھوٹ؟”
طاہر سرسرایا۔ اب وہ اسے غور سے دیکھ رہا تھا۔
“وہ بعد میں۔ پہلے میرے سوال کا جواب۔ “
وہ مسکرائی۔
“ہوں۔ “
طاہر جیسے مجبور ہو گیا۔ اس نے ہاتھ دونوں گھٹنوں میں دبا لئے اور نظریں جھکا لیں۔
” آپ کا کہنا ٹھیک ہے مگر ۔۔۔”
“بس۔۔۔ “
مانیا نے اسے کچھ بھی کہنے سے ہاتھ اٹھا کر روک دیا۔
“کچھ مت کہئے مسٹر طاہر۔ پہلے مجھے اس سچ کا مزہ لینے دیجئے۔ “
اس نے آنکھیں بند کر کے سسکاری لی۔
“ایسی لذت کہاں ہو گی کسی جھوٹ میں۔ جب سے ریحا گئی، میں آپ سے اسی ایک سوال کا جواب لینے کے لئے بیتاب تھی۔ شکر ہے کہ اس وقت آپ نے میری نگاہ کی چوری پکڑ لی۔ اب میں رات کو الجھے بغیر نیند لے سکوں گی۔ “
“مگر میں یہ کہنا چاہتا تھا مس مانیا۔۔۔ “
“کسی کو کبھی خبر نہ ہو گی مسٹر طاہر۔ “
اس نے آنکھیں کھول دیں۔
“یہ مہک تو دل میں چھپانے کی چیز ہے۔ دھڑکن کی طرح۔ آپ اس بارے میں بے فکر ہو جائیں۔ اور اب میری بات۔۔۔ “
وہ بڑے پُراسرار انداز میں مسکرائی۔
“میں پہلی ملاقات سے آپ کی اسیر ہوں مسٹر طاہر۔ آج سے پیشتر تک میں اپنے جھوٹ میں خوش تھی۔ چاہتی تھی کہ آپ کو حاصل کر لوں ، مگر سرمد اور صفیہ کے ساتھ جب آپ کا نام سنا تو چونکی۔ ہوش آیا۔ پھر آدیش نے اور بھی عجب کھیل رچا ڈالا۔ محبت کیا ہوتی ہے؟ ایثار کس شے کا نام ہے؟ بغیر کسی غرض کے انسان کسی کیلئے جان دے دینے کی حد تک کیوں چلا جاتا ہے؟
جب آپ نے کوئی بھی دوسری شرط سنے بغیر مان لی تو میرا جھوٹ ہار گیا۔ آپ مجھ سے پہلے دن سے بھاگ رہے ہیں ، یہ میں جانتی ہوں۔ میں آپکی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر بھی آپ کو پا لینا چاہتی تھی۔۔۔ مگر آج جب کچھ اَن چھوئی حقیقتیں مجھ پر آشکار ہوئیں تو میں فریب کے جال سے نکل آئی۔ میں آپ کو اپنی شرط سے مُکت کرتی ہوں مسٹر طاہر۔ آپ آزاد ہیں۔ میں آپکی دوستی جیتنا چاہتی تھی مگر محسوس ہوا ہے کہ میں تو آپکی دوستی کے لائق ہی نہیں ہوں۔ ۔ “
اس کی آواز بھرا گئی۔ نظر جھک گئی اور اضطراب کے عالم میں وہ ہونٹ کاٹنے لگی۔
“بس یا کچھ اور کہنا ہے آپ کو؟”
طاہر نے چند لمحے انتظار کے بعد بڑے پُرسکون لہجے میں پوچھا۔
“اور کیا کہوں گی میں ؟”
وہ ہاتھوں سے آنکھیں مسلتی ہوئی بولی۔ شاید نمی میں پوشیدہ شرمندگی طاہر سے چھپا نا چاہتی تھی۔ “سوائے اس کے کہ اب مجھ پر شک نہ کیجئے گا۔ میں آخر دم تک آپ کے ساتھ ہوں۔ “
“اور دوستی کسے کہتے ہیں مس مانیا؟”
طاہر نے مسکرا کر کہا۔
“دوستی کے جس معیار پراس وقت آپ ہیں ، اس کے لئے تو لوگ ترستے ترستے مر جاتے ہیں۔ “
“یعنی۔۔۔ ؟” اس نے ہاتھ ہٹا کر اسے حیرت سے دیکھا۔
“یہ شبنم بتاتی ہے کہ پھول کیسا پاکیزہ ہے۔ “
طاہر کا اشارہ اس کے آنسوؤں کی طرف تھا۔
“جھوٹ۔۔۔ جھوٹ بول رہے ہیں آپ۔ “
بے اعتباری سے اسنے طاہر کی جانب دیکھا اور ہنس پڑی۔ ساتھ ہی اس کے رکے ہوئے آنسوچھلک پڑی۔ دھوپ چھاؤں کا یہ امتزاج اس کے حسین چہرے پر عجب بہار دے رہا تھا۔
“جھوٹ بول کر میں آپ کی توہین نہیں کرنا چاہتا مس مانیا۔ ” طاہر اب بھی مسکرا رہا تھا۔
“اپنے دل سے پوچھئے جس میں اس وقت اطمینان ہی اطمینان دھڑک رہا ہو گا۔ “
اور مانیا نے آہستہ سے پلکیں موند لیں۔ طاہرسچ کہہ رہا تھا۔
ریحا، سوجل کے سینے سے لگی سسک رہی تھی، جو کسی سوچ میں ڈوبی اس کی کمر پر بڑی محبت سے دھیرے دھیرے ہاتھ پھیر رہی تھی۔
“میں اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی ماما۔ اور پاپا اس کے ساتھ آج رات کیا سلوک کرنے والے ہیں ، اس کے بارے میں وہ کچھ بتانے کو تیار نہیں۔ “
ریحا روئے جا رہی تھی۔
“دھیرج میری بچی دھیرج۔ “
سوجل نے جیسے کسی فیصلے پر پہنچ کر کہا اور اس کا چہرہ سامنے کر کے اس کے رخسار خشک کرنے لگی۔
“میں ابھی زندہ ہوں۔ تم میرے راکیش کی نشانی ہو اور میں نے کبھی تم سے یہ نہیں چھپایا کہ میں نے رائے سے شادی کی ہی اس لئے تھی کہ مجھے آج بھی شک ہے کہ راکیش کا قتل اسی نے کرایا تھا۔ میں جس روز اس حقیقت سے آگاہ ہو گئی، وہ دن میرے اور اس کے تعلق کا آخری دن ہو گا۔
رہ گئیں تم۔۔۔ تو میری جان۔ تمہاری خوشی مجھے اپنے دھرم سے بڑھ کر عزیز ہے۔ اس دھرم نے مجھے سوائے دُکھ اور جبر کے دیا کیا ہے کہ میں تمہارے اور تمہاری پسند کے درمیان دیوار بن جاؤں۔ ہو گا وہی جو تم چاہو گی۔ تم فکر مت کرو۔ “
“مگر ماما۔ آپ کریں گی کیا؟ پاپا کے ہاتھ بہت لمبے ہیں۔ “
ریحا نے بھیگی آنکھیں اس کے چہرے پر مرکوز کر دیں۔
“ہاتھ کتنے بھی لمبے ہوں ریحا۔ انہیں کاٹ دیا جائے تو انسان معذور ہو جاتا ہے۔ “
سوجل نے عجیب سے لہجے میں جواب دیا۔ ریحا نے ماں کے سینے پر سر رکھ کر پلکیں موند لیں۔ اسے نجانے کیوں یقین ہو گیا کہ سوجل جیسا کہہ رہی ہے، ویسا ہی ہو گا۔
“تم یہ بتاؤ کہ کیپٹن آدیش پر کس حد تک اعتماد کیا جا سکتا ہے؟”
کسی خیال کے تحت سوجل نے پوچھا تو ریحا سوچ میں پڑ گئی۔
“ماما۔ میں آپ کو بتا چکی ہوں کہ میں نے دو تین بار کی ملاقاتوں اور اس کے بعد اس کے آنے جانے کے دوران محسوس کیا ہے کہ وہ مجھے پسندیدگی کی نگاہوں سے دیکھتا ہے۔ اس کی جھجک ہمارے اور اس کے درمیان سٹیٹس کے فرق کی وجہ سے ہے۔ “
“کیا تم اسے اپنی مدد پر آمادہ کر سکتی ہو؟”
سوجل نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا۔ “کیسے ماما؟” ریحا نے حیرانی سے پوچھا۔
“دیکھو بیٹی۔ جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہوتا ہے، یہ ایک یونیورسل ٹرُتھ ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ تم اگر وقتی طور پر تمہیں آدیش کو فریب دے کر بھی اپنا کام نکالنا پڑے توسرمد کو بچا لو۔ بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی۔ “
“مگر ماما۔۔۔ “
“صرف ایک بات کا دھیان رکھنا بیٹی۔ “
سوجل نے اس کی بات کاٹ دی۔
“اور وہ یہ کہ تمہاری آبرو پر آنچ نہیں آنی چاہئے۔ باقی پیسہ ہو یا کوئی وعدہ۔ اس کی فکر نہ کرنا۔ میں اپنا آپ ہار کر بھی تمہارے الفاظ کی لاج رکھ لوں گی۔ “
ریحا نے ماں کے چہرے سے نظر ہٹا لی اور کسی سوچ میں ڈوب گئی۔
“ماما۔ ” کچھ دیر بعد اس نے کہا۔
“اس میں ففٹی ففٹی کے چانس ہیں۔ وہ ہماری مدد بھی کر سکتا ہے اور مخبری بھی۔ “
“میں سمجھتی ہوں ریحا مگر یہ رسک ہمیں لینا ہی پڑے گا جان۔ “
سوجل نے اس کی جانب بڑی گہری نظروں سے دیکھا۔
“میری طرف دیکھو۔ “
ریحا نے ماں کی آنکھوں میں جھانکا تو عجیب سے سحر میں گرفتار ہو گئی۔ سوجل کی آنکھیں ویسے ہی بڑی خوبصورت تھیں اور اس وقت ان میں کچھ ایسی چمک لہرا رہی تھی جس سے ایک پاکیزگی کا احساس ہوتا تھا۔
“تم میری بیٹی ہو۔ مجھے تمہارے ساتھ ایسی گفتگو نہیں کرنی چاہئے مگر جذبے کیا ہوتے ہیں ؟ انہیں نبھانے کے لئے کیا کچھ نچھاور کیا جاتا ہے ؟ تمہیں سمجھانے کے لئے یہ گفتگو ضروری ہے۔ سنو ریحا۔
راکیش کے بعد، میں نے آج تک رائے کے ساتھ جتنے پل گزارے ہیں ، اس ایک حقیقت کو جاننے کی قیمت کے طور پر گزارے ہیں ، جو مجھے اس کے راکیش کا قاتل ہونے سے آگاہ کر دے گی۔ یہ ففٹی ففٹی کا چانس نہیں ہے ریحا۔
یہ ایک اندھا داؤ ہے جو میں نے صرف اپنا شک دور کرنے کے لئے کھیلا ہے۔ اپنے اس عشق کے ہاتھوں مجبور ہو کر، جو مجھے راکیش، تمہارے باپ سے تھا نہیں ، آج بھی ہے۔ اگر آخر میں رائے بے قصور نکلا تو میری ساری زندگی کی تپسیا بیکار جائے گی مگر مجھے یہ پچھتاوا نہیں رہے گا کہ میں نے اپنی محبت کا حق ادا نہ کیا۔ میں نے اپنے راکیش کی جان لینے والے کا پتہ لگانے کی کوشش نہ کی۔۔۔ میری اس عقیدت کو سمجھو ریحا جس کا محور صرف اور صرف راکیش ہے۔ وہ راکیش جو اب صرف میری یادوں میں زندہ ہے۔ میری دھڑکنوں میں موجود ہے۔ جس کا وجود مٹ چکا ہے۔
اور سرمد۔۔۔ وہ تو ابھی سانس لے رہا ہے۔ تم اسے موت کے ہاتھوں سے چھین سکتی ہو۔ اس لئے ففٹی ففٹی کے چکر میں مت پڑو ریحا۔ اگر آدیش نے ہم سے دھوکا کیا اور رائے سے جا ملا تب بھی۔۔۔ تب بھی میری جان۔ تمہیں اپنی سی کر لینے کا جو موقع ہاتھ آ رہا ہے، اسے گنواؤ مت۔ یاد رکھو۔
اگر تم جیت گئیں تو سرمد تمہارا ہو جانے کی امید تو ہے اور اگر آدیش نے پیٹھ میں خنجر بھونک دیا تو اپنی محبت پر قربان ہو جانے کا تاج سر پر پہن کر اس کے ساتھ دوسری دنیا کے سفر پر روانہ ہو جانا۔ ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر۔ ساتھ ساتھ۔ جدائی اور تنہائی کا دُکھ بڑا جان لیوا ہوتا ہے ریحا۔ میری جان۔ اس دُکھ کو پالنے سے بہتر ہے انسان مر جائے۔ اس کے ساتھ ہی مر جائے جس کے بعد جینا موت سے بدتر ہو جاتا ہے۔ “
سوجل نے اس کے بالوں میں منہ چھپا لیا اور سسک پڑی۔
“ماما۔ ” ریحا اس سے لپٹ گئی۔
“میں سمجھ گئی۔ میں سمجھ گئی ماما۔ اب کوئی خوف نہیں۔ کوئی ڈر نہیں۔ میں سرمد کو بچا نہ سکی تو اس کے ساتھ مر تو سکتی ہوں ماما۔ یہی بہت ہے۔ “
“کوئی ماں اپنی اولاد کے لئے ایسے شبد منہ سے نہیں نکالتی ریحا۔ “
سوجل نے اس کا بالوں کو چوم کر کہا۔
“مگر میں تمہیں دعا دیتی ہوں کہ تم اپنے پیار کو حاصل کر لو یا اس پر نثار ہو جاؤ۔ “
“شکریہ ماما۔ “ریحا نے اس کے شانے پر بوسہ دیا۔
” آپ کی دعا مجھے لگ گئی۔ مجھے اس کا پورا یقین ہے۔ “
کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اچانک سوجل کو کچھ یاد آ گیا۔
“مانیا اور سرمد کاپاکستانی رشتہ دار کس ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے ہیں؟”اس نے پوچھا۔
“کشمیر پوائنٹ میں ماما۔ “
ریحا نے کہا اور ایک دم ہڑبڑا کر اس سے الگ ہو گئی۔ “ارے ساڑھے آٹھ ہو گئے۔ مجھے نو بجے ان کے پاس پہنچنا ہے۔ “
“احتیاط سے جانا۔ رائے نے تمہارے پیچھے آدمی نہ لگا دیے ہوں ؟” سوجل نے تشویش سے کہا۔
“اس سے کچھ بعید نہیں۔ “
” آپ فکر نہ کریں ماما۔ میں دھیان رکھوں گی۔ “
وہ جلدی جلدی تیار ہوتے ہوئے بولی۔
“پاپا ادھر کس وقت آئیں گے ناشتے کے لئے؟”
“ناشتہ تو وہ کر چکے بیٹی۔ اب تو گیارہ بجے کی چائے کے لئے آئیں گے۔ “
نہ چاہتے ہوئے بھی اسے رائے کے لئے ادب کا صیغہ استعمال کرنا پڑا۔
“تب تک میں ویسے ہی لوٹ آؤں گی۔ “
کہتے ہوئے اس نے پرس کندھے پر ڈالا اور ہاتھ ہلاتی ہوئی کمرے سے نکل گئی۔
“بھگوان تمہاری رکھشا کرے بیٹی۔ “
سوجل نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے کہا جہاں سے اپنی ٹو سیٹر کی طرف جاتی ریحا نظر آ رہی تھی۔
نو بج کر تین منٹ پر ریحا، مانیا کے کمرے میں موجود تھی۔
سب سے پہلے اس نے انہیں سوجل سے ہونے والی اپنی گفتگو سے آگاہ کیا۔ آدیش کے ذکر پر وہ تینوں مسکرا دئیے۔ اب وہ اسے کیا بتاتے کہ آدیش اس کے راستے کے سارے کانٹے اپنی پلکوں سے چُننے کا بیڑہ اٹھا چکا ہے۔ جب مانیا نے اسے گزشتہ رات کی آدیش سے ملاقات کے بارے میں مختصراً بتایا تو ریحا آنکھیں پھاڑے بے اعتباری سے سنتی رہی۔ اسے یقین نہ آ رہا تھا کہ قسمت نے اس کے لئے راہ یوں آسان کر دی ہے۔
“تو اس کا مطلب ہے آدیش ہماری پوری پوری سہائتا کرے گا؟”
اس نے مانیا کی جانب دیکھ کر سوال کیا۔
“بالکل۔ ” مانیا نے مسکرا کر جواب دیا۔
“پلان کے مطابق سرمد کے پاس سیل میں آدیش، پاپا، آپ اور مسٹر طاہر موجود ہوں گے؟”
ریحا نے مانیا سے پوچھا۔
“ہاں۔ رات ٹھیک سوا آٹھ بجے سیل کا خودکار سسٹم آف یا فیل کر دیا جائے گا۔ میں اور مسٹر طاہر آدیش کی طرف سے خطرے کا سگنل ملتے ہی کوٹھی میں داخل ہو جائیں گے اور سیدھے سیل میں پہنچ جائیں گے۔ آگے پھر جو ہو سو ہو۔ “
“موجودہ پلان میں کامیابی کے نتیجے میں تین سوال پیدا ہوں گے مس مانیا۔ “
طاہر نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
“وہ کیا؟”
مانیا اور ریحا اس کی جانب متوجہ ہو گئیں۔
“نمبر ایک۔ “
طاہر نے شہادت کی انگلی کھڑی کی۔
“سرمد اپنے پیروں پر چلنے کے قابل نہیں ہے۔ ہم اسے لے کر کہاں جائیں گے؟”
“اس کے لئے ماما سے بات کی جا سکتی ہے۔ “
ریحا نے جلدی سے کہا۔
” وہ کوئی نہ کوئی بندوبست کر دیں گی۔ “
“اب دوسرا سوال۔ سرمد کو میں ہر صورت یہاں سے پاکستان لے جانا چاہتا ہوں۔ یہ کیسے ممکن ہو گا؟”
“اس پر بعد میں سوچیں گے مسٹر طاہر۔ پہلے سرمد کو وہاں سے نکال لیا جائے۔ “
مانیا نے پُر خیال لہجے میں کہا۔
“اور تیسرا سوال یہ ہے کہ۔۔۔ “
طاہر نے ریحا کی جانب دیکھا۔
” آپ کا کیا ہو گا؟”
“مطلب؟” ریحا نے پوچھا۔
“مطلب یہ کہ آپ اور آپ کی ماما پورے طور پر کرنل رائے کی دشمنی مول لے رہی ہیں۔ سرمد کے بعد آپ اور آپ کی ماما کا کیا بنے گا؟”
“پہلے سرمد صحیح سلامت سیل سے نکل آئے مسٹر طاہر۔ پھر ایک بار اس سے پوچھوں گی کہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے جانا پسند کرے گا یا نہیں ؟ اس کے جواب پر ہی میرے مستقبل کا دارومدار ہے۔ “
ریحا نے صاف گوئی سے جواب دیا۔
مانیا اور ریحا نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ اس کے بعد ان تینوں نے اپنے اپنے موبائل کا وقت ملایا۔ ایک دوسرے کے نمبر فیڈ کئے۔ آدیش کا موبائل نمبر وہ رات ہی فیڈ کر چکے تھے۔ اب ریحا کو بھی وہ نمبر دے دیا گیا۔
تمام باتوں پر ایک بار پھر غور کیا گیا۔ کہیں جھول نظر نہ آیا تو ریحا ان سے رخصت ہو گئی۔ اس وقت دن کے دس بج کر پچیس منٹ ہوئے تھے۔
ہوٹل سے واپس آتے ہی ریحا نے سرمد کو وہاں سے لے جانے کے بارے میں سوجل سے بات کی تو اس نے اسے بے فکر ہو جانے کو کہا۔ راکیش کا ایک فلیٹ، جو اس نے اپنی زندگی میں سوجل کے نام خریدا تھا، اس کی چابی آج بھی سوجل کے پاس تھی اور اس بات کا کرنل رائے کو قطعاً علم نہیں تھا۔
ریحا نے اس فلیٹ کے بارے میں دن ہی میں مانیا کو فون کر کے بتا دیا تھا۔ دوسرے سوجل نے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ وہ آج رات ہونے والے معرکے کے اختتام سے پہلے اپنے بارے میں کسی قسم کا فیصلہ نہیں کر سکتی۔ حالات اس وقت جو رخ اختیار کریں گے، اسے دیکھ کر ہی کوئی بھی قدم اٹھایا جائے گا۔
رات ٹھیک آٹھ بجے ریحا اور سوجل نے اپنے اپنے کمرے میں پہنچ کر بیڈ سنبھال لئے۔ یوں جیسے وہ سونے کی تیاری کر رہی ہوں۔ دونوں مرد ملازم کوارٹر میں جا چکے تھے اور ملازمہ آج ویسے ہی چھٹی پر تھی۔
ٹھیک اسی وقت طاہر اور مانیا سیتا مندر کے سامنے والے پارک کے گیٹ پر آ رکے۔ کار سے نکل کر وہ پارک میں گیٹ کے قریب ہی ایک بنچ پر آ بیٹھے۔ سردیوں کی وجہ سے پارک میں اکا دکا لوگ ہی رہ گئے تھے جو دور دور بیٹھے تھے۔
آٹھ بج کر پانچ منٹ پر کرنل رائے کا ٹارچر سیل خالی ہو گیا۔ کسی شخص کے ذہن میں کوئی سوال پیدا نہ ہوا کہ ان سب کو رخصت کیوں دی جا رہی ہے؟ وہ تو حکم کے غلام تھے۔ کرنل رائے نے جو کہہ دیا، اس پر عمل ان کی ڈیوٹی تھی۔ اس کے بارے میں “کیوں “کا لفظ ان کی ڈکشنری سے نکال دیا گیا تھا۔
آٹھ بج کر دس منٹ پر کیپٹن آدیش نے اپنے موبائل سیٹ کو ریڈی کر کے سامنے کی جیب میں ڈال لیا۔ اب اس کے صرف بٹن دبانے کی دیر تھی کہ مانیا کے سیٹ پر بیل ہو جاتی اور وہ اور طاہر خطرے سے آگاہ ہوتے ہی اس کی طرف چل پڑتی۔
آٹھ بج کر پندرہ منٹ پر اس نے کرنل رائے کو لائن کلیر ہو جانے کی اطلاع دی۔ وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبا اپنے آفس میں بیتابی سے ٹہل رہا تھا۔ کیپٹن آدیش کا پیغام سن کر اس نے ریسیور انٹر کام پر ڈالا۔ ہولسٹر میں ریوالور کو چیک کیا۔ سر پر کیپ جمائی اور دبے قدموں اپنی خوابگاہ کے دروازے پر پہنچا۔ آہستہ سے دروازہ کھول کر اندر جھانکا۔
سوجل حسب عادت سونے کے لئے لیٹ چکی تھی۔ کمرے میں ہلکی سبز روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ اس نے دروازہ بند کیا اور سامنے کے کمرے کی کھڑکی پر پہنچا۔ جالی میں سے اندر جھانکا۔ یہ ریحا کا کمرہ تھا۔ وہ کمبل اوڑھے بیڈ پر سیدھی لیٹی کسی سوچ میں گم تھی۔ سینے پر ایک انگلش میگزین کھلا پڑا تھا۔ پُر اطمینان انداز میں سر ہلا کر کرنل رائے نے باہر کا راستہ لیا۔
دبے قدموں باہر آ کر اس نے برآمدے کی لائٹ بھی آف کر دی۔ چاروں اطراف تاروں کی باڑھ کے ساتھ برابر فاصلے پر آٹھ گارڈ مستعدی سے پہرہ دے رہے تھے۔ گیٹ پر اندر کی جانب آمنے سامنے کرسیوں پر گنیں سنبھالے دونوں فوجی خاموش بیٹھے تھے۔ سارے انتظام کا جائزہ لے کر وہ نیم اندھیرے میں کسی بد روح کی طرح ٹارچر سیل کی جانب روانہ ہو گیا۔
ادھر کرنل رائے نے ٹارچر سیل کے دروازے پر قدم روکا، ادھر سوجل اور ریحا نے کچن میں کھڑکی کے پاس کرسیاں ڈال لیں۔ اتنی ہی دیر میں ریحا نے کپڑے بدل لئے تھے۔ اب وہ کشمیری شلوار سوٹ میں ملبوس تھی۔ اندھیرے میں ڈوبے کچن کی کھڑکی سے ٹارچر سیل کا دروازہ کھلتا صاف نظر آ رہا تھا جس سے کرنل رائے داخل ہو رہا تھا۔
ادھر کرنل رائے نے سرمد والے کمرے میں قدم رکھا ادھر کیپٹن آدیش نے بڑی آہستگی سے مکینزم آف کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی سیل کے داخلی دروازے کا کمپیوٹرائزڈ سسٹم بیکار ہو گیا۔
کیپ سر سے اتار کر کرنل رائے نے میز پر پھینکی اور دیوار کے سہارے نیم دراز سرمد کی جانب بڑی سرد نظروں سے دیکھا۔ پھر کیپٹن آدیش کے سیلوٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے ہاتھ سینے پر باندھ لئے۔ سرمد نے نیم باز آنکھوں سے اس کی جانب دیکھا اور اس کے ہونٹوں کی حرکت ہلکی سی مسکراہٹ میں بدل گئی۔
“اس نے زبان کھولی یا نہیں ؟”
اچانک کرنل رائے دو تین قدم آگے بڑھ کر سرمد کے قریب چلا آیا۔
“نو سر۔ “
کیپٹن آدیش اس کے پیچھے دو قدم کے فاصلے پر آ کھڑا ہوا۔
“ہوں۔ ” اس نے ہونٹ بھینچ کر کہا۔
“بہت ڈھیٹ لگتا ہے۔ “
کیپٹن آدیش کا جسم تن گیا۔ اسے کرنل کے لہجے سے شر کی بو آ رہی تھی، جو کرسی پر پاؤں رکھے سرمد کی طرف جھک کر اسے بڑی کینہ توز نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
“اسے کرسی پر بٹھاؤ کیپٹن۔ “
ایک دم کہہ کر وہ پیچھے ہٹ گیا۔
“یس سر۔ “
کیپٹن آدیش نے جلدی سے کہا اور آگے بڑھ کر سرمد کو بغلوں میں ہاتھ دے کر اٹھانے لگا۔ بڑی آہستگی اور احتیاط سے اس نے سرمد کو کرسی پر بٹھایا، جو اپنے آپ حرکت کرنے سے بھی معذور تھا۔ اس کے زخم دوا سے محروم تھے۔ خون ہونٹوں ، پیشانی اور جسم کے جوڑوں پر جم چکا تھا۔
جسم کی ہڈیاں ابھر آئی تھیں۔ ہاتھوں اور پیروں کے زخم پھوڑوں کی طرح مواد سے بھرے لگ رہے تھے۔ حلقوں سے گھری آنکھوں کا ورم کسی حد تک کم ہو چکا تھا تاہم شیو ہو جانے کے باعث چہرہ اب صاف پہچان میں آ رہا تھا۔
اس کے گھٹنوں کے جوڑ کام نہیں کر رہے تھے۔ تشدد کے باعث وہ تقریباً بیکار ہو چکے تھے اس لئے وہ دونوں ٹانگیں سمیٹ نہ سکا اور آدیش نے اس کے چہرے پر پھیلتے کرب کے پیش نظر ٹانگوں کو کرسی کے دائیں بائیں پھیلا دیا۔ سرمد دونوں ہاتھوں سے سائڈز کو تھامے بڑی مشکل سے کرسی پر جما بیٹھا تھا۔ بخار سے پھنکتا ہوا جسم، درد سے کراہتا ہوا رواں رواں اور چکراتا ہوا دماغ۔ وہ تھوک نگل کر رہ گیا۔ اسے خطرہ تھا کہ وہ کسی بھی لمحے کرسی سے گر جائے گا۔
“تو تمہارا نام سرمد ہے؟”
سگار کا دھواں اڑاتا کرنل رائے اس کی جانب پلٹا تو سرمد نے چونک کر اس کی جانب دیکھا۔ کیپٹن آدیش کے ذہن کو ایک جھٹکا سا لگا۔ ایک ہی پل میں وہ سمجھ گیا کہ کرنل رائے سرمد کے بارے میں معلومات حاصل کر چکا ہے۔
“سرمد ہاشمی۔ باپ کا نام ڈاکٹر دلاور ہاشمی۔ لندن یونیورسٹی سے ایم بی اے کی ڈگری لی۔ اپنے خدا کے گھر گئے اور وہاں سے سیدھے ہماری گود میں آ رہے۔ “
طنزیہ انداز میں کہتے ہوئے کرنل رائے آہستہ آہستہ اس کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ اس کی سرد نظریں سرمد کی آنکھوں میں ایکسریز کی طرح اترتی جا رہی تھیں۔
“ریحا کو کب سے جانتے ہو؟”
اچانک اس نے پاؤں اٹھا کر سرمد کی ران پر رکھ دیا۔ وہ تکلیف سے کراہ کر رہ گیا۔
“لندن سے۔ ” کرنل نے اس کی ران پر دباؤ بڑھا دیا۔
“ہے ناں ؟” وہ پھر طنز سے بولا۔
“بہت چاہتی ہے وہ تمہیں ؟ میری بیٹی ہو کر۔ ایک کٹر ہندو کی بیٹی ہو کر وہ ایک مسلمان آتنک وادی سے عشق کرتی ہے۔ کیا یہ اچھی بات ہے؟”
وہ چیخ پڑا۔
” آ۔۔۔۔ ہ۔۔۔ آہ۔۔۔ “
سرمد اس کا دباؤ اپنی ران پر مزید نہ سہہ سکا اور جل بن مچھلی کی طرح تڑپا۔ ایک دم کرنل رائے نے پاؤں اس کی ران سے اٹھایا اور کرسی کی سائڈ پر جمے سرمد کے بائیں ہاتھ پر ٹھوکر رسید کر دی۔
سرمد تڑپا اور مچل کر فرش پر گر پڑا۔ آدیش کانپ کر رہ گیا۔ اسے لگا کرنل نے یہ ٹھوکر سرمد کو نہیں ، اسے ماری ہے۔
لوٹ پوٹ ہوتا سرمد کسی نہ کسی طرح سیدھا ہوا اور کراہتا ہوا کرسی کے سہارے اٹھنے کی کوشش کرنے لگا۔ اس کا چہرہ اور اب جسم بھی پسینہ میں بھیگنے لگا تھا۔ درد کے آثار اس کی کراہوں سے نمایاں تھے۔
“کیا تم بھی ریحا کو چاہتے ہو؟”
ایک گھٹنا فرش پر ٹیک کر کرنل رائے اس کے قریب بیٹھ گیا اور اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگا۔
“یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ ہندو ہے۔ کیا تم اس سے پیار کرتے ہو؟”
جواب میں سرمد نے اسے بڑی درد بھری نظروں سے دیکھا۔ اس کا سانس پھول رہا تھا اور لگتا تھا اس کا حلق پیاس کے مارے خشک ہو چکا ہے۔
“نہیں ناں ؟” کرنل رائے نے نفی میں سر ہلایا۔
“ایسا ہی ہونا چاہئے۔ ” وہ جیسے اسے سمجھانے لگا۔ “وہ ہندو ہے۔ تم ملیچھ مسلمان۔ اسے تم سے پیار نہیں کرنا چاہئے تھا۔ تم سے نفرت کرتی تو کوئی بات بھی تھی۔ اس نے جرم کیا ہے۔ تم سے محبت کا جرم۔ مگر سزا اسے نہیں ، تمہیں ملے گی۔ جانتے ہو کیوں ؟ اس لئے کہ تم مسلمان ہو۔ ملیچھ مسلمان۔ “
نفرت سے کرنل کا چہرہ بگڑ گیا۔
ایک دم اس نے جلتا ہوا سگار سرمد کے سینے پر رکھ کر زور سے دبا دیا۔ کراہتے ہوئے سرمد کے لبوں سے چیخ نکل گئی۔ وہ معذوروں کی طرح اپنے کانپتے ہوئے زخمی ہاتھوں سے کرنل رائے کا سگار پرے ہٹانے کی کوشش کرنے لگا مگر ناکام رہا۔ کمرے میں گوشت جلنے کی چراند پھیل گئی۔ کیپٹن آدیش نے بے بسی سے ادھر ادھر دیکھا۔ وہ کیا کرے؟ اس کا دماغ الجھ کر رہ گیا۔ کیا مانیا اور طاہر کو بیل کر دے؟ ابھی وہ اسی ادھیڑ بُن میں تھا کہ کرنل رائے کی بھیڑیے جیسی غراتی ہوئی آواز نے اسے اپنی جانب متوجہ کر لیا۔
“تم سے نفرت ہر ہندو کا دھرم ہے۔ ہاں۔ ایک صورت ہے کہ تم سزا سے بچ جاؤ۔ سزا سے بچ بھی جاؤ اور انعام کے حقدار بھی ہو جاؤ۔ ریحا جیسی خوبصورت لڑکی، آزادی اور لاکھوں کروڑوں روپے کے انعام کے حقدار۔ بولو کیا یہ سب پانا چاہو گے؟”
اس نے سگار ہٹا لیا۔ سرمد کا سینہ بری طرح جل گیا تھا۔ زخم سے ابھی تک دھواں نکل رہا تھا۔ وہ یوں ہانپ رہا تھا جیسے میلوں دور سے بھاگتا آ یا ہو۔ اس کا جسم اب پوری طرح پسینے میں تر تھا اور چہرے پر تو جیسے کسی نے پانی کا جگ انڈیل دیا ہو۔
بُت بنا کیپٹن آدیش سب سن رہا تھا۔ اسے سمجھ نہ آ رہی تھی کہ کرنل رائے کرنا کیا چاہتا ہے؟ کہنا کیا چاہتا ہے؟ اس کی ہر بات دوسری بات کی ضد تھی۔
“اپنا دھرم چھوڑ دو۔ “
کرنل رائے نے کرسی کے سہارے بیٹھے سرمد کے سامنے تن کر کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔ اس کی آواز تھی یا بجلی کا کڑاکا۔
ایک دم سرمد کا سانس رک گیا۔ اس کی آنکھیں پوری طرح کھل گئیں۔ وہ کرنل کو یوں دیکھ رہا تھا جیسے اس کے سر پر سینگ نکل آئے ہوں۔
“ہندو ہو جاؤ۔”
کرنل نے یوں کہا جیسے اسے لالی پاپ دے رہا ہو۔ “ریحا بھی مل جائے گی۔ آزادی بھی اور دولت بھی۔ بولو۔ کیا کہتے ہو؟”
سرمدچند لمحے کرنل رائے کو دیکھتا رہا۔ ساری تکلیف، ساری اذیت، سارا درد جیسے اس کے حواس کا ساتھ چھوڑ گیا تھا۔
“زیادہ مت سوچو۔ سوچو گے تو بہک جاؤ گے۔ ہاں کر دو۔ ہاں کہہ دو۔ تمہارا صرف “ہاں “کا ایک لفظ تمہاری ساری اذیتوں کا خاتمہ کر دے گا۔ اور ایک “نہ ” کا لفظ تم پر نرک کے دروازے کھول دے گا، یہ مت بھولنا۔ “
کرنل اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سمجھانے کے انداز میں کہے جا رہا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: