Ishq Ka Qaaf Novel By Sarfaraz Ahmad Rahi – Episode 24

0
عشق کا قاف از سرفراز احمد راہی – قسط نمبر 24

–**–**–

سرمدچند لمحے کرنل رائے کو دیکھتا رہا۔ ساری تکلیف، ساری اذیت، سارا درد جیسے اس کے حواس کا ساتھ چھوڑ گیا تھا۔
“زیادہ مت سوچو۔ سوچو گے تو بہک جاؤ گے۔ ہاں کر دو۔ ہاں کہہ دو۔ تمہارا صرف “ہاں “کا ایک لفظ تمہاری ساری اذیتوں کا خاتمہ کر دے گا۔ اور ایک “نہ ” کا لفظ تم پر نرک کے دروازے کھول دے گا، یہ مت بھولنا۔ “
کرنل اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سمجھانے کے انداز میں کہے جا رہا تھا۔
“کیا کہا تم نے؟”
اچانک سرمد نے اس کی جانب کانپتی ہوئی انگلی اٹھائی۔
کرنل نے اس کے طرزِ تخاطب پر اسے چونک کر دیکھا۔ کیپٹن آدیش کا بھی یہی حال ہوا۔ جب سے وہ ان کے ہاتھ لگا تھا، تب سے آج وہ پہلی بار بولا تھا۔۔۔ اور یوں بولا تھا کہ کیپٹن آدیش حیرت زدہ رہ گیا اور کرنل رائے کے ماتھے پر شکنیں نمودار ہو گئیں۔
“بہرے نہیں ہو تم۔ میں نے جو کہا تم نے اچھی طرح سنا ہے۔ “
کرنل رائے نے اسے گھورتے ہوئے دانت بھینچ لئے۔
“ہاں۔ مگر میں چاہتا ہوں کہ تم بار بار یہ ناپاک الفاظ دہراؤ اور میں بار بار انکار کروں۔ تم اپنے باطل دھرم کا لالچ دو اور میں اپنے سچے اللہ کی وحدانیت بیان کرتے ہوئے، اس کے پسندیدہ دین کے اظہار کے لئے اپنی زبان پر وہ الفاظ بار بار سجاؤں جو اسے سب سے زیادہ پسند ہیں۔
قل ھو اللہ احد۔ اللہ الصمد۔
لم یلد ولم یولد۔ ولم یکن لہ، کفواً احد۔ “
الفاظ کیا تھے۔ پگھلا ہوا سیسہ تھا جو کرنل رائے کے کانوں میں اترتا چلا گیا۔ آتش فشاں کا لاوا تھا جواسے اپنے ساتھ بہا لے گیا۔ بھڑکتا ہوا الاؤ تھا جس میں اس کی ساری نرمی، سارا فریب، سارابطلان جل کر خاک ہو گیا۔
“کیا کہا تم نے؟”
آگ بگولہ ہوتے کرنل رائے کے ہونٹوں سے پاگل کتے کی طرح کف جاری ہو گیا۔
“قل ھو اللہ احد۔ “
سرمد نے اس طرح مسکرا کر جواب دیا، جیسے کسی بچے کی ضد پر اسے دوبارہ بتا رہا ہو۔
“اس نے اپنے حبیب کریم سے فرمایا کہ آپ ان کافروں اور مشرکوں سے کہہ دیجئے کہ اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اسے کسی نے جنا اور نہ وہ کسی سے جنا گیا۔ اور اس “احد “کا کوئی ہمسر نہیں۔ “
“بکو مت۔۔۔۔ “
کرنل رائے غصے میں دیوانہ ہو کر سرمد پر پل پڑا۔ لاتیں ، ٹھوکریں ، گھونسے، مغلظات۔ ایک طوفان غیظ و غضب تھا سرمد جس کی لپیٹ میں آ گیا۔ کیپٹن آدیش جو سرمد کے لبوں سے نکلنے والے الفاظ کے سحر میں گرفتار تھا، ایک دم کرنل رائے کے چیخنے چلانے اور سرمد پر ٹوٹ پڑنے پر گھبرا کر ہوش میں آ گیا۔ اسے اور تو کچھ نہ سوجھا، ایک دم اس نے اوپری جیب میں پڑے موبائل کا بٹن دبا دیا۔
“اللہ ایک ہے۔ “
سرمد مسکرائے جا رہا تھا۔ اس پر جیسے کرنل رائے ٹھوکریں ، لاتیں اور گھونسے نہیں ، پھول برسا رہا تھا۔ اذیت جیسے محسوس ہی نہ ہو رہی تھی۔ اس کی ہر چوٹ کے جواب میں سرمد ایک ہی بات کہتا:
“قل ھواللہ احد۔ اللہ ایک ہے۔ “
اس کے ہر بار کہے ہوئے یہ الفاظ کرنل رائے کے غصے اور دیوانگی میں مزید اضافہ کر دیتی۔ وہ اور بھی شدت سے اسے ٹھوکروں پر رکھ لیتا۔ کیپٹن آدیش بے بسی سے ادھر ادھر قدم پھینک رہا تھا۔ اس کا بس چلتا تو وہ کسی طرح سرمد کو بچا لیتا مگر اس وقت تو کرنل پاگل کتے کی طرح قابو سے باہر ہو رہا تھا۔ اس کے راستے میں آنا خود کو عتاب کے حوالے کر دینے والی بات تھی۔
“سر۔۔۔ ” اچانک اس نے آگے بڑھ کر کرنل رائے سے کہا۔ “سر۔۔۔ یہ بیہوش ہو چکا ہے۔ “
اور کرنل رائے کے ہاتھ پاؤں اور زبان ایک دم یوں رک گئی جیسے کسی نے اس کا بٹن آف کر دیا ہو۔
“مگر۔۔۔ اس کی زبان۔۔۔ اس کی زبان۔۔۔ “
وہ ہانپتے ہوئے بولا۔
“وہ تو۔۔۔ وہ تو چل رہی ہے۔ “
کیپٹن آدیش نے کرنل کے سرمد کی طرف دراز بازو کے ہدف کو تاکا۔ واقعی سرمد کے ہونٹ ہل رہے تھے۔ سرگوشی کے انداز میں آواز ابھر ری تھی۔
“قل ھو اللہ احد۔۔۔
قل ھو اللہ احد۔۔۔
قل ھواللہ احد۔ “
وہ ہولے ہولے پکار رہا تھا۔ بتا رہا تھا۔ سنا رہا تھا۔ سمجھا رہا تھا۔
“یہ اپنے ہوش میں نہیں ہے سر۔ “
آدیش نے دزدیدہ نگاہوں سے شیشے کے پار دیکھا۔ کاریڈور خالی تھا مگر کسی بھی لمحے طاہر اور مانیا وہاں نمودار ہو سکتے تھی۔ اس نے کنکھیوں سے کرنل کے ہولسٹر پر نظر ڈالی، جس کا بٹن کھلا ہوا تھا۔
“اسے ہوش میں لاؤ۔ “
کٹکھنے کتے کی طرح کرنل غرایا۔
“یس۔۔۔ یس سر۔ “
آدیش نے ہکلا کر کہا اور میز پر پڑے پانی کے جگ کی طرف بڑھ گیا۔
“یہ کون لوگ ہیں ؟”
نیم روشن میدان میں دو سایوں کو ٹارچر سیل کی جانب بڑھتے دیکھ کر سوجل چونکی۔ ریحا پہچان چکی تھی۔
“ماما۔ یہ مسٹر طاہر اور مس مانیا ہیں۔ اوہ۔۔۔ اوہ۔۔۔ ماما۔ “
“کیا ہوا ریحا؟ بات کیا ہے؟”
سوجل نے اسے بے چین دیکھ کر پوچھا۔
“ماما۔ ” ریحا نے ہاتھ جھٹکی۔
“میں نے بتایا تو تھا۔ طے یہ ہوا تھا کہ اگر اندر خطرہ ہوا تو کیپٹن آدیش مس سونیا کو الرٹ کرے گا اور وہ اس کا دیا ہوا انٹری پاس دکھا کر ٹارچر سیل میں داخل ہو جائیں گی۔ خطرہ ماما۔۔۔ خطرہ۔ “
“تو چلو۔ جلدی کرو بیٹی۔ “
سوجل نے اپنے پاس رکھا ہوا ریوالور اٹھا لیا۔
” آؤ۔ ہمیں بھی وہاں چلنا چاہئے۔ “
“مگر ماما۔ گارڈز۔۔۔ ” اس نے کہنا چاہا۔
” آ جاؤ۔ یہ سوچنے کا وقت نہیں ہے۔ گارڈز کی نظروں سے بچ کر ہمیں وہاں پہنچنا ہو گا۔ “
سوجل کچن کے دروازے کی جانب لپکی۔ ریحا اس کے پیچھے دوڑ پڑی۔
“سر۔ اس میں پانی نہیں ہے۔ “
کیپٹن آدیش نے خالی جگ اٹھا کر کرنل رائے کو دکھایا۔
“میں پانی لے کر آتا ہوں۔ “
وہ جلدی سے کمرے کے کونے میں بنے باتھ روم کی جانب بڑھ گیا۔
“ڈیم فول۔ “
کرنل اسے قہر سے گھورتا رہ گیا۔ پھر بجھا ہوا سگار دیوار پر کھینچ مارا۔
“قل ھواللہ احد۔ “
اچانک سرمد کی آواز بلند ہو گئی۔ وہ کراہتا ہوا ان الفاظ کا جیسے ورد کر رہا تھا۔ اٹھنے کی کوشش میں بار بار فرش پر گر پڑتے سرمد کے لہو لہان جسم کو دیکھ کر کرنل رائے کا پارہ ایک بار پھر چڑھ گیا۔
“ملیچھ۔ “
اس نے سرمد کے زخمی گھٹنے پر ایک زور دار ٹھوکر رسید کر دی۔ جواب میں چیخ یا کراہ کے بجائے سرمد کے لبوں سے رک رک کر نکلا۔
“قل۔۔۔ ھواللہ۔۔۔ احد۔۔۔
لا الٰہ۔۔۔ الا اللہ۔۔۔ محمد۔۔۔ رسول اللہ۔ “
اور اس نے آنکھیں کھول دیں۔
“تو تیری زبان بند نہیں ہو گی۔ “
غصے میں کھولتے ہوئے کرنل رائے نے ہولسٹر سے ریوالور کھینچ لیا۔ سیفٹی کیچ ہٹایا اور سرمد کے سینے کا نشانہ لیا۔
“قل۔۔۔ ھو اللہ۔۔۔ احد۔ “
سرمد کے لبوں پر بڑی آسودہ سی مسکراہٹ ابھری۔
” آخری بار کہہ رہا ہوں مُسلے۔ “
کرنل رائے کے دل میں نجانے کیا آئی۔
“ہماری طرف لوٹ آ۔ میں تیری سب سزائیں ختم کر دوں گا۔ “
اس کی انگلی ٹریگر پر جم گئی۔
“قل ھو اللہ احد۔ “
سرمد اب بھی مسکرا رہا تھا۔
“اللہ الصمد۔ “
اس کی آواز بلند ہو گئی۔
کرنل رائے کی انگلی ٹریگر پر دب گئی۔
دو بار۔
مگر دھماکے تین ہوئے۔
پہلے دو دھماکوں نے سرمد کا سینہ چھلنی کر دیا۔
تیسرے دھماکے نے کرنل رائے کا ہاتھ اڑا دیا۔ اس کا ریوالور ہاتھ سے نکل کر دور جا گرا۔
ایک ہچکی لے کر سرمد کا جسم جھٹکے سے ساکت ہو گیا مگر اس کے ہونٹ اب بھی ہل رہے تھے۔
“قل ھو اللہ احد۔ قل۔۔۔ ھو اللہ۔۔۔ احد۔۔۔ “
کرنل رائے کے ہونٹوں سے بڑی مکروہ چیخ خارج ہوئی اور وہ اپنا خون آلود ہاتھ دوسرے ہاتھ سے دبائے تڑپ کر پلٹا۔
“تم۔۔۔ “
اس نے دروازے سے اندر داخل ہوتے طاہر اور مانیا کو دیکھا جو تیزی سے فرش پر بے سدھ پڑے سرمد کی طرف بڑھ رہے تھے۔ پھر اس کی نظر باتھ روم کے دروازے کے پاس کھڑے آدیش پر جم گئی جو اس پر ریوالور تانے کھڑا بڑی سرد نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
“تم نے مجھ پر گولی چلائی۔۔۔ ؟”
اسے کیپٹن آدیش پر یقین نہ آ رہا تھا۔
جواب میں کیپٹن آدیش نے پاؤں کی ٹھوکر سے اس کا ریوالور دور پھینک دیا۔ مگر نہیں۔ دور نہیں۔ ریوالور شیشے کے دروازے سے اندر داخل ہوتی سوجل کے پاؤں سے ٹکرا کر رک گیا جسے اس نے اٹھا لیا۔
اسی وقت ریحا ماں کو ایک طرف ہٹاتی ہوئی اندر آئی اور فرش پر پڑے سرمد کی طرف بھاگتی چلی گئی، جس کا سر طاہر نے گود میں لے رکھا تھا اور مانیا جسے وحشت آلود نگاہوں سے تک رہی تھی۔
“سرمد۔۔۔ “
ریحا گھٹنوں کے بل اس کے قریب جا بیٹھی اور اس کے زخم زخم جسم کو دیکھ کر بلکنے لگی۔ اس کے لبوں سے سوائے “سرمد۔ سرمد” کے کچھ نہ نکل رہا تھا اور آنکھوں سے آنسو دھاروں دھار بہہ رہے تھے۔
سوجل نے کرنل رائے کا ریوالور تھام لیا اور کیپٹن آدیش اسے کور کئے ہوئے تھا۔ کرنل اس طرح کمرے میں پیدا ہو جانے والی صورتحال کو جانچ رہا تھا جیسے خواب دیکھ رہا ہو۔
“سرمد۔۔۔ “
طاہر نے اس کے خون آلود چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں لے لیا۔ اس کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو رہا تھا۔ سرمد کی یہ حالت اس سے برداشت نہ ہو رہی تھی۔ سینے کا زخم اتنا گہرا تھا کہ خون مانیا کے روکے نہ رکا۔
“مسٹر طاہر۔ ” اس نے گھبرائی ہوئی نظروں سے اس کی جانب دیکھا۔
” لگتا ہے بارود نے سینہ چیر کر رکھ دیا ہے۔ خون رک ہی نہیں رہا۔ “
مانیا نے اپنی شال پھاڑ کر زخم پر پٹی باندھتے ہوئے اسے بتایا۔
“سرمد۔۔۔ “
ریحا سرمدکو والہانہ دیکھے جا رہی تھی اور روئے جا رہی تھی۔
“میرے سرمد۔ آنکھیں کھولو۔ آنکھیں کھولو سرمد۔ “
پھر اسے محسوس ہوا جیسے سرمد کے ہونٹوں کو حرکت ہوئی ہو۔ اس نے وحشت بھری نظروں سے طاہر اور مانیا کی جانب دیکھا۔
” یہ۔۔۔ یہ کچھ کہہ رہا ہے مسٹر طاہر۔ “
اور طاہر نے جلدی سے اس کے لبوں کے ساتھ اپنا کان لگا دیا۔
“قل۔۔۔ ھواللہ۔۔۔ احد۔۔۔
قل ھو اللہ۔۔۔ احد۔ “
سرمد کے ہونٹ ہل رہے تھے۔
“سرمد۔۔۔ “
طاہر نے اس کا خون آلود ماتھا چوم لیا اور اس کی آنکھیں چھلک پڑیں۔ گرم گرم آنسو سرمد کے چہرے پر گرے تو ایک دو لمحوں کے بعد اس نے آہستہ سے آنکھیں کھول دیں۔
“تم۔۔۔ ؟”
بمشکل دھندلائی ہوئی نظروں سے اس نے طاہر کو پہچانا تو اس کے لہجے میں حیرت سے زیادہ مسرت نمایاں ہوئی۔
“یہاں۔۔۔ مگر کیسے؟”
“کچھ مت بولو سرمد۔ “
طاہر نے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔ پھر مانیا کی جانب دیکھا۔
“مس مانیا۔ اسے فوری طور پر طبی امداد۔۔۔ “
اس کے الفاظ پورے ہونے سے پہلے مانیا نے کرنل رائے پر ریوالور تانے کیپٹن آدیش کی طرف نظر اٹھائی۔ مگر اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا، سرمد کی نگاہ روتی ہوئی ریحا پر پڑ گئی۔
“ارے تم۔۔۔ ریحا۔۔۔ ” وہ مسکرایا۔
“چلو اچھا ہوا۔ سب اپنے اکٹھے ہو گئے۔ “
اس کی آواز میں نقاہت بڑھتی جا رہی تھی۔
“یہاں سے انہیں اس حالت میں باہر لے جانا ممکن نہیں ہے دیدی۔ “
کیپٹن آدیش نے بیچارگی سے کہا۔
“ہاہاہا۔۔۔ ہاہاہاہا۔۔۔ ہاہاہا۔۔۔ “
اسی وقت کرنل رائے کے حلق سے قہقہہ ابل پڑا۔ “یہاں سے تم لوگ زندہ واپس نہیں جا سکو گے۔۔۔ اور کیپٹن آدیش۔۔۔ تمہیں تو میں کتے کی موت ماروں گا۔”
اس کی قہر آلود نظریں آدیش پر چنگاریاں برسانے لگیں ، جس نے اسے ریوالور کے اشارے پر دیوار سے لگ کر کھڑا ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔
جواب میں آدیش خاموش رہا تو اس نے نظروں کا ہدف سوجل کو بنا لیا۔
” تم ریوالور ہاتھ میں لئے چپ چاپ کھڑی ہو۔ اس سے صاف ظاہر ہے تم بھی ان کے ساتھ ہو۔ ایک ہندو پتنی اپنے پتی کے دشمنوں سے مل کر اسے مارنے کے درپے ہے۔ بچ تم بھی نہیں سکو گی سوجل۔ “
وہ دانت پیستے ہوئے خاموش ہو گیا۔ سوجل اسے سرد نظروں سے گھورتی رہ گئی۔
“سرمد۔۔۔ ” طاہر بے چین ہوا جا رہا تھا۔
“کچھ کرو مس مانیا۔ کیپٹن آدیش۔ “
“ماما۔ ” اچانک ریحا اٹھی اور ماں کی طرف بڑھی۔ “ماما۔ اسے بچا لو ماما۔ اسے بچا لو۔ میرے سرمد کو بچا لو۔ “
“مجھے کچھ سوچنے دو ریحا۔ “
سوجل نے اسے سینے سے لگا لیا۔
“گھبراؤ نہیں طاہر۔ “
سرمد نے اس کے ہاتھوں میں دبا اپنا ہاتھ سینے پر رکھ لیا۔ اس کی بار بار بند ہوتی آنکھیں اور چھل چھل بہتا خون طاہر کو اس کی لمحہ بہ لمحہ قریب آتی موت کی خبر دے رہے تھے۔
“میں جانتا ہوں میرے جانے کا وقت آ چکا ہے۔ “
وہ ہولے ہولے بولا۔
“یہ تو پگلی ہے۔ میری تکلیف سے دیوانی ہوئی جا رہی ہے۔ نہیں جانتی، میں نے کس مشکل سے اپنی منزل پائی ہے۔ اب تم لوگ مجھے دوبارہ کانٹوں میں مت گھسیٹو یار۔ “
“سرمد۔۔۔ “
طاہر سسک کر بولا۔ اسی وقت ریحا ان کے قریب لوٹ آئی۔ مانیا نے پرے ہو کر اسے جگہ دی تو وہ سرمد کا دوسرا ہاتھ تھام کر فرش پر گھٹنے ٹیک کر بیٹھ گئی اور اسے پاگلوں کے انداز میں تکنے لگی۔ بار بار وہ ہچکی لیتی اور معصوم بچوں کی طرح سسکی بھر کر رہ جاتی۔
“اچھا طاہر۔۔۔ میرے بھائی۔ میرے دوست۔۔۔ اب جانے کا لمحہ آن پہنچا۔ میرے پاپا کا خیال رکھنا۔ اگر ہو سکے تو مجھے پاکستان لے جانا۔ اور اگر ایسا ہو سکا تو میرے پاپا سے کہنا کہ میں نے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔ میں عمرے کے بعد لندن واپس نہیں گیا۔ پاکستان آیا ہوں۔ بس ذرا سفر طویل ہو گیا۔ میں نے انہیں دُکھ دیا ہے طاہر۔ بہت دُکھ دیا ہے۔ میری طرف سے ان سے معافی مانگ لینا۔ “
وہ آنکھیں بند کر کے ہانپنے لگا۔
طاہر اس کا ہاتھ ہونٹوں سے لگائے خاموشی سے سنتا رہا۔ اس کی برستی آنکھیں اس کے جذبات کا آئینہ تھیں۔
“ریحا۔۔۔ ” ذرا دیر بعد اس نے آنکھیں کھولیں۔
“میں تم سے کیا ہوا کوئی وعدہ نبھا نہیں سکا۔ برا نہ ماننا۔ وقت ہی نہیں ملا۔ “
“سرمد۔۔۔ “
ریحا پچھاڑ کھا کر رہ گئی۔ کیسی بے بسی تھی کہ وہ اسے بچا نے کی اک ذرا سی بھی کوشش نہ کر سکتے تھی۔ بیچارگی نے انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا تھا۔ زخمی ہاتھ بغل میں دبائے کرنل رائے ان کی حالت سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ اسے اپنے انجام کی کوئی فکر نہ تھی۔ وہ سمجھتا تھا کہ جلد یا بدیر وہ سب اس کے رحم و کرم پر ہوں گے۔
“کچھ اور کہو سرمد۔ “
اچانک طاہر نے اسے اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ اس کا لہجہ بیحد عجیب ہو رہا تھا۔ مانیا نے چونک کر اسے دیکھا۔
“کیا کہوں طاہر۔ کچھ کہنے کو بچا ہی نہیں۔ “
نقاہت سے اس کی آواز ڈوب گئی۔
“ہاں۔ ایک کام ہے اگر تم کر سکو۔ “
“کہو سرمد۔ میری جان۔ ” طاہر بیتاب ہو گیا۔
“یہ۔۔۔ ” اس نے اپنی اوپری جیب کی طرف اشارہ کیا۔ ” اس جیب میں میرے آقا کے دیار کی خاک ہے۔ اسے میری قبر کی مٹی میں ملا دینا۔ جنت کی مہک میں سانس لیتا رہوں گا قیامت تک۔ کر سکو گے ایسا؟”
“کیوں نہیں سرمد۔ “
طاہر نے اس کے سر کے بالوں کو چوم لیا۔
” ایسا ہی ہو گا۔ مگر کچھ اور بھی ہے سرمد جو تم بھول رہے ہو۔ “
طاہر نے اس کے گال پر ہاتھ رکھ دیا۔
“ایک ہستی اور ہے جس کے لئے تمہارا پیغام میں امانت کی طرح پلکوں پر سجا کر لے جا سکتا ہوں۔ “
“شش۔۔۔ “
سرمد نے اس سے ہاتھ چھڑایا اور ہونٹوں پر رکھ دیا۔
“کبھی ایسا خیال دل میں بھی نہ لانا طاہر۔ میرے لئے وہ نام اتنا پرایا ہے کہ میں اسے زبان پر لاؤں گا تو اللہ کا مجرم ٹھہروں گا۔ اتنا محترم ہے کہ اس کے باعث اللہ نے مجھے اپنے حضور طلب فرما لیا۔ اور کیا چاہئے؟ کچھ نہیں۔ کچھ نہیں۔ “
پھر اس نے نظروں کا محور کرنل رائے کو بنا لیا۔
” شرک کے اس پتلے نے مجھے اپنے اللہ سے برگشتہ کرنے کے لئے ریحا سے لے کر آزادی اور دولت کا جو لالچ دیا، وہ کسی بھی سرمد کو بہکانے کے لئے کافی تھا مگر میں اس پکار کا کیا کروں طاہر جو میرے رگ و پے میں خون بن کر دوڑتی ہے۔ قل۔۔۔ ھواللہ۔۔۔ احد۔ ” اچانک سرمد کی سانس اکھڑ گئی۔
“سرمد۔۔۔ ” طاہر اور ریحا اس پر جھک گئے۔
” بس طاہر۔ بس ریحا۔ الوداع۔۔۔ “
اس کی آنکھیں پتھرانے لگیں۔ جسم میں ایک دم تیز حرارت کی لہر دوڑ گئی۔
“میرے اللہ گواہ رہنا۔ میں نے عشاق کا نام بدنام نہیں ہونے دیا۔۔۔ یہ تیری دی ہوئی توفیق ہے۔ تیرے حبیب پاک اور میرے آقا کا صدقہ ہے۔
قل ھواللہ احد۔ “
اس کی آنکھیں مند گئیں۔
“سرمد۔۔۔ “
طاہر نے اس کا ہاتھ دونوں ہاتھوں میں لے کر دبایا۔
“سرمد۔۔۔ ” ریحا اس کے چہرے پر جھک گئی۔
“قل ھو اللہ احد۔
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔
صلی اللہ علیہ و سلم۔ “
اس کی آواز بلند ہوئی۔
“صلی اللہ علیہ و سلم۔ “
سرمد کے ہونٹ مسکرانے کے انداز میں وا ہوئی۔
“صلی اللہ علیہ و سلم۔ “
مسکراہٹ مہک اٹھی۔ ایک دم کمرے میں خوشبو کے جھونکوں داخل ہوئی۔ سرمد کی نظریں اپنے سامنے دیوار کی جانب یوں جم گئیں جیسے وہ کسی کو دیکھ رہا ہو۔ مگر کسے؟
کسے دیکھ رہا تھا وہ جس کے دیدار نے اس کی آنکھوں میں مشعلیں روشن کر دی تھیں۔ چہرے پر عقیدت و احترام کی سرخیاں جھلملا دی تھیں۔ ایک گہرا سانس اطمینان بھرا سانس اس کے ہونٹوں سے خارج ہوا۔ لرزتے ہوئے دونوں ہاتھ آپس میں کسی کو تعظیم دینے کے انداز میں جُڑ ی۔۔۔
“صلی اللہ علیہ و سلم “
لبوں پر مہکا اور سرمد کے مسکراتے ہونٹ ساکت ہو گئے۔
خوشبو ان کے گرد لہراتی رہی۔ سرمد کو لوریاں دیتی رہی۔ اور وہ سو گیا۔ کسی ایسے معصوم بچے کی طرح جسے اس کا من پسند کھلونا مل جائے اور وہ اسے باہوں میں لے کر نیند کی وادیوں میں اتر جائے۔
کمرے میں عجیب سا سکوت طاری تھا۔
کرنل رائے اس انوکھی مہک کے آنے، کمرے میں پھیلنے اور پھر آہستہ آہستہ ناپید ہو جانے کا گواہ تھا مگر ذہنی کج روی اور فطری ہٹ دھرمی اسے اس کے اقرار سے روک رہی تھی۔
طاہر نے دھیرے سے سرمد کو باہوں میں اٹھایا اور میز پر لٹا دیا۔ کیپٹن آدیش اب بھی کرنل رائے کو کور کئے کھڑا تھا، مگر اس کے رخساروں پر آنسو کیوں بہہ رہے تھے۔ وہ خود نہ جانتا تھا۔ یا شاید جانتا تھا، بتا نہ سکتا تھا۔
دل گرفتہ مانیا نے ریحا کو سنبھالنے کی کوشش کی مگر وہ ہاتھ چھڑا کر لڑکھڑاتے قدموں سے آگے بڑھی اور میز سے نیچے لٹکتے سرمد کے پیروں سے جا لپٹی۔ خون آلود، زخم زخم پیروں کو بوسے دیتی دیتی وہ میز کے ساتھ ماتھا ٹکا کر یوں بے سدھ ہو گئی کہ سرمد کے دونوں پاؤں اس کے سینے کے ساتھ بھنچے ہوئے تھے۔
سوجل ویرا ن ویران آنکھوں سے ریحا اور سرمد کو دیکھتی رہی۔ پھر اس کی نظر کرنل رائے پر آ کر جم گئی۔
“بہت دیر ہو گئی کرنل رائے۔ “
اچانک اس نے بڑی سرد آواز میں کہا تو کرنل رائے اس کی جانب متوجہ ہوا۔ دونوں کی نظریں ملیں۔ نجانے کیا ہوا کہ کرنل نے گھبرا کر نظریں پھیر لیں۔
“نظریں نہ چراؤ کرنل۔ میں صرف ایک سوال کا جواب چاہتی ہوں۔ راکیش کا قتل تم نے کرایا تھا؟ہاں یا نہیں۔ “
کرنل رائے نے پھر چونک کر اس کی جانب دیکھا۔
“ہاں یا نہیں ؟”
سوجل نے اس کا ریوالور اسی پر تان لیا۔
“تم پاگل ہو سوجل۔ ” گھبرا کر کرنل رائے نے کہا۔
“ہاں یا نہیں کرنل۔ “
سوجل نے ٹریگر پر انگلی رکھ دی۔
“میں اسے کیسے قتل کرا سکتا تھا سوجل۔ میری اس سے کیا دشمنی تھی؟”
اس کی آواز میں خوف ابھر آیا۔
“دشمنی کا نام سوجل ہے کرنل رائے۔ آج میں اس دشمنی ہی کو ختم کر دوں گی مگر اپنے راکیش کے پاس جانے سے پہلے جاننا چاہتی ہوں کہ تم گناہ گار ہو یا بے گناہ؟”
“میں بے گناہ ہوں سوجل۔ “
زخمی ہاتھ اٹھا کر حلف دینے کے انداز میں کرنل رائے نے جلدی سے کہا۔
“بہت بزدل ہو تم کرنل رائے۔ “
سوجل کے ہونٹوں پر بڑی اجڑی اجڑی مسکراہٹ ابھری۔
” آخری وقت میں بھی جھوٹ بول رہے ہو۔ “
” آخری وقت؟” ہکلا کر کرنل رائے نے کہا۔
“ہاں۔ تم راکیش کے قاتل ہو، یہ بات تم مان لیتے تو شاید میں تمہیں زندہ چھوڑ دیتی مگر ۔۔۔ “
“اگر ایسی بات ہے تو میں اقرار کرتا ہوں سوجل کہ میں نے راکیش کا قتل کرایا تھا مگر صرف تمہاری محبت کے سبب۔ میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا تھا سوجل۔ اسی لئے میں نے راکیش کو راستے سے ہٹا دیا۔ “
“شکر ہے بھگوان کا۔ “
سوجل نے ایک پل کو آنکھیں بند کیں اور دھیرے سے کہا۔ پھر آنکھیں کھولیں اور کرنل رائے کی جانب بڑی سرد نگاہی سے دیکھا۔
“اب تو تم مجھے نہیں مارو گی سوجل؟”
اس نے لجاجت سے پوچھا۔
“تم نے میری پوری بات سنے بغیر ہی اپنے جرم کا اقرار کر لیا رائے۔”
سوجل بڑے ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولی۔
” میں کہہ رہی تھی کہ شاید میں تمہیں زندہ چھوڑ دیتی مگر ۔۔۔ تم نے میرے راکیش کی نشانی، میری بیٹی ریحا کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی چھین کر اپنا قتل مجھ پر لازم کر لیا ہے۔ “
پھر اس سے پہلے کہ کوئی کچھ سمجھ سکتا، پے در پے چھ دھماکے ہوئے۔ کرنل رائے کا گول مٹول جسم اچھل اچھل کر گرتا رہا۔ چوتھے فائر پر اس نے دم توڑ دیا مگر سوجل نے ریوالور خالی ہونے پر ہی انگلی کا دباؤ ٹریگر پر ختم کیا۔ حیرت زدہ، ڈرے ہوئے، فرش پر آڑے ترچھے لہولہان پڑی، کرنل رائے کی بے نور آنکھیں سوجل پر جمی ہوئی تھیں ، جس کا ریوالور والا ہاتھ بے جان ہو کر پہلو میں لٹک گیا تھا۔ کسی نے اپنی جگہ سے حرکت کی نہ اسے روکنا چاہا۔
دھماکوں کی بازگشت ختم ہوئی تو کیپٹن آدیش نے بھی غیر شعوری انداز میں ریوالور ہاتھ سے چھوڑ دیا۔ لڑکھڑایا اور دیوار سے جا لگا۔
طاہر میز پر دونوں ہاتھ ٹیکے سر جھکائے سسک رہا تھا۔ پھر مانیا آئی اور اس کے شانے پر سر رکھ کر رو دی۔
سوجل تھکے تھکے انداز میں آگے بڑھی اور ایک کرسی پر گر کر دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر بیٹھ گئی۔ کیپٹن آدیش کی سسکیاں ، طاہر اور مانیا کا ساتھ دے رہی تھیں اور ریحا، سرمد کے پیروں سے لپٹی خاموش بیٹھی تھی۔
کتنی دیر گزری، کسی کو اس کا احساس نہیں تھا۔
وہ سب چونکے تو اس وقت جب اچانک سیل کی سیڑھیاں بھاری اور تیز تر قدموں کی دھڑدھڑاہٹوں سے گونج اٹھیں۔ پھر اس سے پہلے کہ وہ سنبھلتے، کتنی ہی لوہے کی نالیاں انہیں اپنے نشانے پر لے چکی تھیں۔ وہ سب اپنی اپنی جگہ ساکت رہ گئے۔
طاہر نے ان کی جانب دیکھا۔ وہ تعداد میں بیس سے کم نہ تھے۔ کچھ کمرے میں اور باقی کاریڈور میں پھیلے ہوئے تھے۔ ان کے جسموں پر فوجی وردیاں اور سرو ں پر سفید رومال بندھے تھے۔ وہ یقیناً بھارتی فوجی نہیں تھے۔
سب سے اگلا شخص، جو اُن کا لیڈر لگتا تھا، اس کی عقاب جیسی نگاہوں نے ایک ہی بار میں پورے کمرے کا جائزہ لے لیا۔ مردہ کرنل رائے کو دیکھ کر وہ ایک پل کو حیران ہوا، پھر اس کی نگاہیں میز پر پڑی سرمد کی لاش پر آ کر جم گئیں۔ ایک پل کو اس کی نظروں میں اضطراب نے جنم لیا پھر وہ تیزی سے آگے بڑھا۔ سرمد کو بے حس و حرکت پا کر اس کے چہرے پر مایوسی چھا گئی۔
“ہمیں دیر ہو گئی۔ “
آہستہ سے وہ بڑبڑایا۔ پھر اس کی نگاہوں میں آگ سی دہک اٹھی۔
“یہ۔۔۔ “
اس نے سرمد کی جانب اشارہ کیا اور تھرتھراتی آواز میں کہا۔
” کس نے جان لی اس کی؟”اس کا سوال سب سے تھا۔
“سب کچھ بتایا جائے گا۔ پہلے تم بتاؤ۔ تم کون ہو؟”
طاہر نے اسے اپنی جانب متوجہ کر لیا۔
“تم مجھے ان میں سے نہیں لگتے۔ “
وہ طاہر کی طرف پلٹا۔
“تم بھی مجھے اپنوں میں سے لگتے ہو۔ میرا نام طاہر ہے۔ اب تم بتاؤ۔ کون ہو تم؟”
طاہر اس کے قریب چلا آیا۔
“یہ بتانے کا حکم نہیں ہے۔ تم کہو اس کے کیا لگتے ہو؟”
“یہ بھائی ہے میرا۔ “
طاہر نے سرمد کی طرف بڑے درد بھرے انداز میں دیکھا۔
” اسے ڈھونڈ تو لیا مگر بچا نہ سکا۔ “
“غم نہ کرو۔ “
اس نے طاہر کے شانے کو گرفت میں لے کر اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
“وہ شہید ہوا ہے۔۔۔ شہید۔۔۔ “
آنکھیں بند کر کے اس نے ایک گہرا سانس لیا۔
“کاش اس کی جگہ میں ہوتا۔ “
اس کے لہجے میں حسرت در آئی۔
“یہ باقی سب کون ہیں اور اس کتے کو کس نے مارا؟”
اس نے نفرت سے فرش پر پڑے کرنل رائے کو دیکھا۔
“یہ سب اپنے ہیں۔ “
طاہر نے کیپٹن آدیش سمیت سب کی گواہی دی۔
” اور اسے۔۔۔ “
اس کی نظر کرنل رائے کی لاش تک پہنچی۔
“میں نے مارا ہے اسے۔ ” اچانک سوجل بول اٹھی۔
“اس کی بیوی ہوں میں۔ “
“مگر تم تو کہہ رہے تھے یہاں سب اپنے ہیں۔ “
وہ حیرت سے طاہر کی جانب مڑا۔
“ہاں۔ میں نے سچ کہا ہے۔ ” طاہر نے پھر کہا۔
“صرف ایک ہی بیگانہ تھا یہاں۔ “
اس نے کرنل رائے کی جانب اشارہ کیا۔
“ہمارے پاس بحث کرنے کا وقت ہے نہ عورتوں پر ہاتھ اٹھانا ہمارا مسلک ہے۔ ہم سرمد کو لینے آئے تھے۔ لے کر جا رہے ہیں۔ تم میں سے جو ساتھ چلنا چاہے، چل سکتا ہے۔ “
وہ سپاٹ لہجے میں بولا۔
“مگر کسی غیر مسلم کو ہم ساتھ نہیں لے جا سکیں گے۔”
“سرمد کا کوئی رشتہ دار غیر مسلم نہیں ہو سکتا۔ ” طاہر نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں۔
“میں اس کا بھائی ہوں۔ یہ۔۔۔ “
اس نے ریحا کی جانب اشارہ کیا جو سرمد کے پیروں سے لپٹی ویران ویران نگاہوں سے انہیں دیکھ رہی تھی۔۔۔
” یہ اس کی منگیتر ہے۔۔۔ اور یہ۔۔۔ “
اس نے کیپٹن آدیش کی طرف ہاتھ اٹھایا۔
“میں سرمد کا دوست ہوں۔ یہ وردی ان میں شامل ہونے کے لئے ضروری تھی۔ “
اس نے سر سے کیپ اتاری اور دور پھینک دی۔ پھر شرٹ بھی اتار ڈالی۔ اب وہ سیاہ جرسی اور خاکی پینٹ میں تھا۔
بے اختیار طاہر کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے بازو دراز کیا۔ آدیش لپک کر آیا اور اس کے پہلو میں سما گیا۔ وہ بچوں کی طرح سسک رہا تھا۔
“اور یہ میری دوست ہیں۔ مس مانیا۔ ان کی وجہ سے ہم یہاں تک پہنچ پائے۔ “
طاہر نے کہا تو مانیا اس کے دوسرے بازو سے آ لگی۔
“رہی میں تو میں تم لوگوں کے ساتھ نہیں جا رہی۔ ” اسی وقت سوجل نے اپنی جگہ سے اٹھ کر کہا۔
“میں اپنے انجام سے بے خبر نہیں ہوں۔ تم لوگ سرمد کی منگیتر کو لے جاؤ۔ “
آہستہ سے ریحا اٹھی اور ماں کے سینے سے لگ گئی۔
“ستی ہو جانا اگر ان کے مذہب میں جائز ہوتا ریحا تو میں خود تجھے اس کے لئے سجا سنوار کر تیار کرتی مگر یہ بڑا پیارا دین ہے۔ تجھے یہ لوگ زندہ بھی رکھیں گے تو اس طرح جیسے پلکوں میں نور سنبھال کر رکھا جاتا ہے۔ ان کے ساتھ چلی جا۔ سرمد کی سمادھی پر روزانہ پھول چڑھاتے سمے مجھے یاد کر لیا کرنا۔ میں جس حال میں بھی ہوئی، تیرے لئے پرارتھنا کرتی رہوں گی۔ “
سوجل کی طویل سرگوشی نے اسے کچھ بھی کہنے سے روک دیا۔ وہ ماں سے الگ ہوئی تو سوجل نے اس کے ماتھے اور گالوں کے پے در پے کتنے ہی بوسے لے ڈالے۔ پھر بھیگی آنکھوں سے طاہر کی طرف دیکھا۔ مانیا آگے بڑھی اور اسے باہوں میں لے لیا۔
“تو چلیں ؟”
لیڈر نے طاہر کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ جواب میں اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
“اوکے۔ “
اس نے ساتھیوں کو اشارہ کیا۔
دو جوانوں نے سرمد کی لاش کو بڑی احتیاط سے کندھوں پر ڈالا اور سب سے پہلے باہر نکلے۔ پھر باقی کے لوگ بھی تیزی سے چل پڑی۔ چند لمحوں کے بعد سیل کے کھلے دروازے سے سیٹی کی آواز سنائی دی۔ سب سے پہلے طاہر، مانیا، ریحا اور آدیش باہر نکلے۔
آخر میں لیڈر نے باہر قدم رکھنے سے پہلے پلٹ کر دیکھا۔ شیشے کے کمرے میں سر اٹھائے کھڑی سوجل اسے ایسی قابل احترام لگی کہ اس نے بے اختیار اسے ماتھا چھو کر سلام کیا۔ جواب میں سوجل کے ہونٹوں پر جو مسکراہٹ ابھری، اس میں صرف اور صرف آسودگی کروٹیں لے رہی تھی۔
جس ٹرک میں سرمد کی لاش پوری احتیاط سے رکھی گئی وہ کوٹھی کے مین گیٹ سے کچھ ہٹ کر اندھیرے میں کھڑا تھا۔ ٹرک انڈین آرمی کا تھا اس لئے کسی خطرے کا امکان نہیں تھا۔
“اوکے دیدی۔ ” آدیش اس سے گلے ملا۔
” زندگی رہی تو پھر ملیں گے۔ “
“راکھی باندھنے خود آیا کروں گی تجھے۔ میرا انتظار کیا کرنا۔ “
وہ نم آنکھوں سے اسے دیکھ کر بولی۔ آدیش جواب میں ہونٹ دانتوں میں داب کر رہ گیا۔
ریحا سے گلے مل کر اس نے سوائے اس کا ماتھا چومنے کے کچھ نہ کہا۔ آخر میں وہ طاہر کی طرف بڑھی۔ دونوں نے ہاتھ ملایا۔
“اپنا پاسپورٹ مجھے دے دیں مسٹر طاہر۔ میں نہیں چاہتی کہ آپ کسی بھی طرح قانون کی زد میں آئیں۔ میں آپ کے باضابطہ پاکستان روانہ ہونے کی کارروائی کے بعد اسے آپ تک پہنچا دوں گی۔ “
کچھ کہے بغیر طاہر نے جیب سے اپنا پاسپورٹ نکالا اور اسے تھما دیا۔ پھر ہوٹل کے کمرے کی چابی بھی اس کے حوالے کر دی۔
“میں شکریہ اد کر کے تمہاری توہین نہیں کرنا چاہتا مانیا۔ “
وہ آپ اور مس، دونوں تکلفات سے دور ہو کر بولا۔ “ہاں۔ میری کسی بھی قسم کی مدد کی ضرورت ہو تو۔۔۔ “
“میں کبھی جھجکوں گی نہیں طاہر۔ “
وہ بھی مسکرائی۔ دیواریں گریں تو اپنائیت کا چہرہ صاف صاف دکھائی دینے لگا۔
“او کے۔ گڈ بائی۔ “
طاہر نے اس کا ہاتھ دوبارہ تھاما اور دبا کر چھوڑ دیا۔
“گڈ بائی۔ “
ان کے ٹرک میں سوار ہو جانے کے بعد وہ تب تک وہاں کھڑی رہی جب تک ان کا ٹرک نظر آتا رہا۔ پھر تھکے تھکے قدموں سے اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئی۔
“میرا نام جاوداں صدیقی ہے۔ “
اس نے ٹرک میں ڈرائیور کے ساتھ بیٹھے طاہر کو بتایا۔
“کمانڈر کا حکم تھا کہ آج رات سرمد کو اس ٹارچر سیل سے بہر صورت نکال لیا جائے۔ دراصل ہمیں بڑی دیر میں پتہ چلا کہ سرمد یہاں ہے ورنہ۔۔۔ “
وہ ہونٹ کاٹنے لگا۔
“مگر شہادت اس کی قسمت میں تھی۔ خوش نصیب تھا وہ۔ کاش ہم بھی یہ مقام پا سکیں۔ “
” آپ کچھ بتا رہے تھے۔ “
وہ کچھ دیر خاموش رہا تو طاہر نے اسے یاد دلایا۔
“ہاں۔ ” وہ آہستہ سے چونکا۔
” ہمیں گارڈز پر قابو پانے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ کل ملا کر دس بونے تو تھے وہ۔ ہم نے ایک ہی ہلے میں انہیں موت کی نیند سلا دیا۔ ٹارچر سیل کا دروازہ بھی توڑنا نہ پڑا۔ کھلا مل گیا مگر آپ لوگوں کو وہاں دیکھ کر حیرت ضرور ہوئی۔ “
“بس۔ یہ ایک طویل قصہ ہے۔ “
طاہر نے بات گول کر دی۔
“اب ہم جا کہاں رہے ہیں ؟ کیا آپ بتانا پسند کریں گے؟”
“جہاں کمانڈر کا حکم ہو گا وہاں آپ کو پہنچا دیا جائے گا۔ “
جاوداں نے محتاط لہجے میں کہا۔
“ابھی کچھ دیر میں اس کی کال آنے والی ہے۔ “
جونہی ٹرک نے کشمیر روڈ کا ساتواں سنگ میل عبور کیا، جاوداں صدیقی کی جیب میں پڑے سیٹ پر بزر نے اشارہ دیا۔ اس نے فوراً سیٹ نکالا اور رابطہ قائم کیا۔
“یس۔ جاوداں بول رہا ہوں خانم۔ “
“کیا رہا؟”
دوسری جانب سے بڑی شیریں مگر تحکم آمیز آواز سنائی دی۔
“سرمد شہید ہو گیا خانم۔ “
جاوداں نے اداسی سے جواب دیا۔
“تو اداس کیوں ہو پگلے ؟ کل ہمارے حصے میں بھی یہ اعزاز آئے گا۔ “
خانم نے بڑے جذبے سے کہا۔
“انشاءاللہ خانم۔ “
جاوداں نے جلدی سے کہا۔ پھر اس نے ٹارچر سیل کی ساری کارروائی خانم کو بتائی۔
“اس کی لاش کہاں ہے؟”
“ہم ساتھ لا رہے ہیں خانم۔ “
“کمانڈر کا حکم ہے کہ سرمد اور اس کے ساتھیوں کو مظفر آباد کے راستے پاکستان پہنچا دیا جائے مگر اس سے پہلے دریائے نیلم کے دوسرے گھاٹ پر سرمد کی لاش کو پورے اہتمام کے ساتھ تابوت کیا جائے۔ “
” جی خانم۔ ایسا ہی ہو گا۔ “
“اوکے۔ تم خود رابطہ اس وقت کرو گے جب اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہے۔ “
“میں سمجھتا ہوں خانم۔ “
“عشاق۔ ” دوسری جانب سے کہا گیا۔
“عزت کی زندگی یا شہادت۔ “
جاوداں کے لبوں سے نکلا اور دوسری طرف سے بات ختم کر دی گئی۔ طاہر ہمہ تن گوش بنا سن رہا تھا کہ اسے آخری لفظ نے چونکا دیا۔ “عشاق ” کا لفظ سرمد کے ہونٹوں سے بھی نکلا تھا۔
“جاوداں۔ آپ پلیز بتائیں گے کہ یہ عشاق کیا ہے؟” اس نے جاوداں کی طرف دیکھا جو ونڈ سکرین سے باہر اندھیرے میں گھور رہا تھا۔
“عشاق۔۔۔ ” وہ بڑبڑایا۔
” ہمیں کسی باہر کے فرد پر یہ راز کھولنے کی اجازت نہیں ہے مسٹر طاہر لیکن آپ کے ساتھ سرمد شہید کا ایک ایسا رشتہ ہے جسے میں نظرانداز نہیں کر سکتا۔”
وہ چند لمحے خاموش رہا پھر کہا۔
“عشاق۔۔۔ سرفروشوں کی ایک ایسی تحریک ہے جس کا کمانڈر، خانم اور ہر رکن، جذبہ شہادت سے سرشار ہے۔ ہم لوگ سر پر یہ سفید رومال کفن کی علامت کے طور پر پہن کر نکلتے ہیں۔ اس کا رکن بننے کے لئے لازم ہے کہ پہلے عمرہ کیا جائے۔ بس اس سے زیادہ میں آپ کو کچھ نہیں بتا سکتا۔ “
“سرمد بھی تو عمرہ کرنے کے بعد ہی انڈیا آیا تھا۔ تو کیا۔۔۔ ؟”
طاہر کے دماغ میں ایک سوال نے سر اٹھایا۔ پھر وہ جاوداں سے پوچھے بغیر نہ رہ سکا۔
“میں اس بارے صرف یہ جانتا ہوں مسٹر طاہر کہ سرمد شہید نے عمرہ پہلے کیا اور تحریک کا رکن بننے کے بارے میں اس شرط کا اسے بعد میں پتہ چلا۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے اسے اللہ اور رسول نے قبولیت کے بعد اس تحریک تک پہنچایا۔ تبھی تو وہ سالوں کا فاصلہ دنوں میں طے کر کے اپنے رب کے حضور حاضر ہو گیا۔ “
جاوداں نے ا س کے پوچھنے پر کہا۔
طاہر کے لئے اب کوئی بھی دوسرا سوال کرنا بے معنی تھا۔ اسے سرمد کے آخری الفاظ یاد آئے اور بے اختیار اس کا دل دھڑک اٹھا۔
“صلی اللہ علیہ و سلم۔ “
ہاں۔ یہی الفاظ تو تھے اس کے لبوں پر۔ عجیب سی رقت طاری ہو گئی اس پر۔ سر سینے پر جھکتا چلا گیا۔ آنکھیں بند ہوئیں تو تصور میں گنبدِ خضریٰ مہک اٹھا۔ غیر اختیاری طور پر اس کے لبوں کو حرکت ہوئی اور
“صلی اللہ علیہ و سلم “
کے الفاظ یوں جاری ہو گئے جیسے برسوں کا بھولا ہوا سبق اچانک یاد آ جائے۔
ٹرک رات کے اندھیرے میں پوری تیزی سے انجانے راستوں پر رواں تھا اور ایک انجانی خوشبو ٹرک کے ساتھ ساتھ محوِ سفر تھی۔
درود کی خوشبو۔ حضوری کی خوشبو۔
قبولیت کی خوشبو۔
صبح ہونے سے پہلے دریائے جھیلم کے دوسرے گھاٹ پر ٹرک چھوڑ دیا گیا۔ وہاں پہلے سے ایک بڑی کشتی میں ساگوان کی لکڑی کا تابوت لئے چار عشاق موجود ملے۔ سرمد کی لاش کو سبز کشمیری شال میں لپیٹ کر تابوت میں رکھا گیا۔ اکیس رائفلوں کی سلامی دی گئی۔ پھر جاوداں صدیقی اور ا س کے ساتھی تو وہیں رہ گئے اور چار نئے ساتھیوں کے ساتھ وہ رات ہونے تک وہیں جنگل میں چھپے رہے۔
رات کے پہلے پہر اگلا سفر شروع ہوا۔ یہ سفر اسی کشتی میں تھا۔ ان چار عشاق کا کام ہی کشتی کھینا تھا۔ کشتی میں پھل اور خشک میوہ جات موجود تھے جن سے وہ جب چاہتے لذتِ کام و دہن کا کام لے سکتے تھے مگر بھوک کسے تھی جو ان کی طرف نظر اٹھاتا۔
ریحا تابوت پر سر رکھے آنکھیں بند کئے پڑی رہتی۔ چار دن میں وہ سوکھ کر کانٹا ہو گئی تھی۔ آدیش سر جھکائے نجانے کس سوچ میں ڈوبا رہتا۔ ہاں طاہر اس کے ہونٹ ہلتے اکثر دیکھتا۔ وہ جانتا تھا کہ وہ کیا پڑھتا رہتا ہے۔ اسے یقین تھا کہ اس کی طرح آدیش بھی
“صلی اللہ علیہ و سلم”
کا اسیر ہو چکا ہے۔
وہ رات کو سفر کرتے اور دن میں کشتی کنارے پر روک کر لمبی لمبی گھاس میں ، یا گھنے درختوں تلے چھپ کر پڑ رہتی۔ سات دن گزر گئی۔ آٹھویں دن صبح کاذب نمودار ہو رہی تھی جب کشتی کنارے پر لگا دی گئی۔ ایک ساتھی نصیر نے بتایا کہ یہاں سے آگے کا سفر انہیں پیدل کرنا ہو گا۔
تابوت کو دو د و ساتھیوں نے باری باری کندھوں پر لیا اور وہ سب ایک خشک برساتی نالہ عبور کر کے پاکستانی علاقے میں داخل ہو گئی۔ طاہر اور آدیش نے تابوت اٹھانا چاہا تو ان چاروں نے منت بھرے لہجے میں کہا کہ ان سے یہ سعادت نہ چھینی جائے۔ مجبوراً طاہر نے تابوت ان چاروں کے حوالے کر دیا اور خود ریحا اور آدیش کے ساتھ ان کے پیچھے ہو لیا۔
“ہم اس وقت کہاں ہیں ؟”
چلتے چلتے طاہر نے نصیر سے پوچھا۔
“مظفر آباد کے آخری حصے میں۔ یہاں سے ہم وسطی آبادی کی طرف جا رہے ہیں۔ شام تک پہنچیں گے۔ وہاں سے آپ کو سواری مل سکے گی۔ “
“ذرا رکئے۔ ” اس نے نصیر سے کہا۔
اس کے کہنے پر انہوں نے تابوت ایک ٹیلے پر رکھ دیا اور اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے۔
طاہر نے اپنے دماغ میں جنم لینے والے خیال پر ایک بار پھر غور کیا۔ پھر نصیر سے پوچھا۔
“نصیر بھائی۔ یہ بتائیے یہاں سے نور پور کس طرف ہے؟”
“نور پور۔ ” نصیر چونکا۔
“یہ کیوں پوچھ رہے ہیں آپ؟”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: