Ishq Ka Qaaf Novel By Sarfaraz Ahmad Rahi – Episode 3

0
عشق کا قاف از سرفراز احمد راہی – قسط نمبر 3

–**–**–

“تو ہماری اک ذرا سی عدم موجودگی نے یہ گل کھلائے ہیں۔ “
بیگم صاحبہ نے سرجھکائے کھڑے طاہر، زاہدہ اور ڈاکٹر ہاشمی کی جانب کڑی نظروں سے دیکھا۔
“میں نے۔۔۔ “
طاہر نے کہنا چاہا۔
“کوئی جرم نہیں کیا۔ کوئی گناہ نہیں کیا۔ محبت کی ہے۔ شادی کرنا چاہتے ہیں۔ یہی فلمی ڈائیلاگ بولو گے نا تم۔ “
اس کی بات تیز لہجے میں کاٹ دی گئی۔ وہ ان کے پُر رعب، با وقار چہرے پر پھیلتی سختی کی تاب نہ لا کر سر جھکا کر رہ گیا۔
“ڈاکٹر ہاشمی۔ “
“جی بیگم صاحبہ”۔
وہ ایک قدم آگے بڑھ آئی۔
” آپ بھی اس سازش میں برابر کے شریک ہیں۔ “
وہ سرد مہری سے بولیں۔
“جی۔۔۔ جی۔۔۔ میں۔۔۔۔ “
وہ گڑ بڑا گئے۔
“گھبرائیے نہیں ڈاکٹر ہاشمی۔ آپ ہمارے خاندانی ڈاکٹر ہیں۔ آپ میں تو اتنی ہمت، اتنی جرات ہونی چاہیے کہ آپ ہم سے بلا خوف بات کر سکیں ، یا ہمارے نمک میں یہ اثر بھی نہیں رہا۔ “
“ایسی کوئی بات نہیں بیگم صاحبہ۔ “
وہ سنبھل گئے۔
“تو پھر ؟ یہ سب کیا ہوا ؟ کیوں ہوا؟ ہمیں اطلاع کیوں نہ دی گئی؟”
وہ ان کی جانب دیکھتی ہوئی بولیں۔
“میں نے۔۔۔ “
” آپ نے کچھ بھی سوچا ہو ڈاکٹر ہاشمی مگر ہمارے لئے نہیں۔ اس سر پھرے لڑکے کے لئے سوچا ہو گا، جسے آپ نے گودوں میں کھلایا ہے۔ ہے ناں ؟”
“جی۔۔۔ جی ہاں۔ “
وہ اقرار کر گئے۔
زاہدہ سہم سی گئی مگر طاہر نے اسے نظروں ہی نظروں میں دلاسا دیا۔ تب وہ اپنے خوف کو کافی حد تک کم محسوس کرنے لگی۔
“طاہر۔ “
وہ اس کی طرف پلٹیں۔
“جی امی جان۔ “
وہ ادب سے بولا۔
“تمہیں ہمارا فیصلہ معلوم تھا ناں ؟”
“جی۔ “
اس کا سر جھک گیا۔
“پھر تم نے اسے بدلنے کے بارے میں سوچا کیسے؟”
“گستاخی معاف امی جان۔ میں نے تمام زندگی آپ کے ہر حکم پر سرجھکایا ہے۔ “
“مگر اب اس لڑکی کی خاطر، اپنی پسند کی خاطر، تم ہمارے ہر اس فیصلے کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دو گے، جو ہم تم پر حکم کہہ کر لاگو کریں گے۔ “
انہوں نے اس کی بات پوری کر دی۔
“جی نہیں۔ امی جان میں نے ایسا۔۔۔ “
“تو تمہیں ہمارے ہر فیصلے سے اتفاق ہو گا؟ “
وہ حاکمانہ انداز میں گویا ہوئیں۔ وہ جواب میں خاموش رہا۔ ایک بوجھ سا ان سب کے دلوں پر بیٹھتا چلا گیا۔
ڈاکٹر ہاشمی نے پُر درد نظروں سے ان دو پیار بھرے دلوں کو دیکھا، جو سہمے سہمے انداز میں دھڑکنے کی کوشش کر رہے تھے۔
“اس خاموشی سے ہم کیا مطلب لیں طاہر؟”
اور اس نے آہستہ سے زاہدہ کی جانب دیکھ کر سر اٹھایا۔
“میں آپ کے فیصلے کا منتظر ہوں امی جان۔ “
“تو۔۔۔ “
وہ ان کی جانب گہری نظروں سے دیکھتی ہوئی بولیں۔
“ابھی۔۔۔ اسی وقت۔ اس لڑکی کو۔۔۔ “
وہ رکیں۔ ان سب کو تنقیدی اور جانچنے والی نظروں سے دیکھا۔
“یہاں سے رخصت کر دو۔ “
کہہ کر انہوں نے رخ پھیر لیا۔
ایک بم پھٹا۔ ایک زلزلہ آیا۔ ایک طوفان اٹھا۔ یہ سب ان کی توقع کے مطابق ہی ہوا تھا مگر وہ پھر بھی سہہ نہ سکے۔
“میں وجہ پوچھنا چاہوں گا امی جان۔ “
ایک اور دھماکہ ہوا۔
“طاہر۔ “
وہ آپے سے باہر ہو گئیں۔ تیزی سے اس کی طرف پلٹیں۔
“وجہ تم اچھی طرح جانتے ہو۔ “
وہ غیظ و غضب سے ان دونوں کو گھورتے ہوئے پھنکاریں۔
“میں آپ کی زبان سے سننا چاہتا ہوں۔ “
وہ جیسے ہر خوف، ہر ڈر سے بے بہرہ ہو گیا۔
وہ ایک لمحے کو سن ہو گئیں۔ طاہر، ان سے وجہ پوچھ رہا تھا۔ ان کے حکم کی تعمیل سے انکار کر رہا تھا۔ ان کی انا پر براہ راست حملہ اور ہو رہا تھا۔
مگردوسرے ہی لمحے وہ سنبھل گئیں۔ جوانی جوش میں تھی، انہیں ہوش کی ضرورت تھی۔ طوفان چڑھ رہا تھا۔ بند باندھنا مشکل تھا، ناممکن نہیں۔
ان کے چہرے کی سرخی، اعتدال کی سفیدی میں ڈھلتی چلی گئی۔ آنکھوں میں دہکتی ہوئی آگ، ہلکی سی چمک میں بدل گئی۔ بڑھاپا سنبھل گیا۔ جوانی کو داؤ میں لینے کا لمحہ آن پہنچا تھا۔
“یہ لڑکی کون ہے۔ جانتے ہو؟”
وہ زاہدہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولیں۔
“انسان ہے امی جان۔ “
وہ ادب سے بولا۔
“اس کا خاندان، گھر بار، ٹھکانہ، ماں باپ۔ “
وہ بل کھا کر ایک ہی سانس میں سب کچھ پوچھ گئیں۔
” یہ بے سہارا ہے امی جان۔ “
” آوارہ بھی تو ہو سکتی ہے۔ “
انہوں نے اس کی بات کاٹ دی۔
“امی جان۔ “
وہ احتجاجاً بولا۔
“جنگ میں زخموں کی پرواہ کرنے والے بزدل ہوتے ہیں طاہر بیٹے۔ اور تم ہمارے بیٹے ہو۔ ہمارے سامنے تن کر کھڑے ہوئے ہو تو وار سہنا بھی سیکھو۔ “
وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولیں۔
“امی جان۔ “
وہ ایک قدم آگے بڑھ آیا۔
“یہ غریب، بے سہارا، بے ٹھکانہ ہے۔ “
“تو آج تک دارالامان میں رہی ہے۔ “
وہ طنز سے بولیں۔
“اپنوں کے ستم سہتی رہی ہے۔ “
وہ تیزی سے بولا۔
“پھر یہ بے گھر کیسے ہوئی؟ کیوں ہوئی؟”
وہ جلال میں آ گئیں۔
“تقدیر جب سر سے آنچل کھینچ لینے کے درپے ہو گئی تو۔۔۔ “
“تو۔۔۔ یہ تمہارے پاس چلی آئی۔ “
انہوں نے اس کا فقرہ بڑے خوبصورت طنز سے پورا کر دیا۔
“میں سب بتا چکا ہوں امی جان۔ “
وہ ادب ہی سے بولا۔
“مگر ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ کوئی ایسی لڑکی ہمارے بیٹے کی بیوی اور ہماری بہو کہلائے۔۔۔ “
“جس کے پاس دولت نہیں۔ جہیز نہیں۔ معاشرے میں اونچا مقام نہیں۔ “
وہ پھٹ پڑا۔
“ٹھیک سمجھے ہو۔ “
وہ نرمی سے بولیں۔
“میں ایک سوال اور کروں گا امی جان۔ “
“ہم جواب ضرور دیں گے۔ “
“اگر یہ لڑکی۔۔۔ فرض کیجئے یہ لڑکی ڈاکٹر ہاشمی کی بیٹی ہوتی تو؟”
“تو ہم بخوشی اسے اپنی بہو بنا لیتے لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ ڈاکٹر ہاشمی کی بیٹی نہیں ہے۔ اس لئے ہم اسے تمہاری بیوی نہیں بنا سکتے۔ “
وہ وقار سے بولیں۔
“اگر شرط یہی ہے تو سمجھ لیجئے بیگم صاحبہ۔ یہ لڑکی آج سے میری بیٹی ہے۔ “
ڈاکٹر ہاشمی نے آگے بڑھ کر زاہدہ کے سرپر ہاتھ رکھ دیا۔
“ڈاکٹر ہاشمی۔ “
امارت تلملا اٹھی۔
” آپ زبان دے چکی ہیں بیگم صاحبہ”۔
وہ ادب اور آہستگی سے بولے۔
“مگر یہ آپ کی سگی بیٹی نہیں ہے۔ “
” آپ نے یہ شرط نہیں لگائی تھی امی جان۔ “
وہ ان کے بالکل قریب چلا آیا۔
اور وہ اپنی بوڑھی، تجربہ کار مگر ممتا بھری نظروں سے اسے گھورتی رہ گئیں۔
“مان جائیے ناں امی جان۔ تمام زندگی مجھے حکم دیتی آئی ہیں۔ میری ضدیں پوری کرتی آئی ہیں۔ آج یہ ضد بھی مان لیجئے۔ “
وہ پھر بھی اسے گھورتی رہیں۔ تاہم طوفان اترنے لگا تھا۔
“امی جان۔ “
اس نے ان کے شانے تھام لئے۔
“بولئے ناں۔ “
اس نے ان کی آنکھوں میں جھانکا۔ ممتا لرز گئی اور بال آخر بے بس ہو گئی۔
کتنی ہی دیر گزر گئی۔ پھر انہوں نے سرجھکا لیا۔ آہستہ سے بیٹے کو ایک طرف ہٹا دیا۔ دو قدم چلیں اور زاہدہ کو گھورنے لگیں۔
“ہمارے۔۔۔ قریب آؤ۔ “
وہ رک رک کر کتنی ہی دیر بعد بولیں۔ وہ پلکوں پر ستارے لئے، دھیرے دھیرے، ان کے قریب چلی آئی۔
وہ چند لمحوں تک اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑے جانے کیا دیکھتی رہیں۔ جانچتی رہیں۔ تب اس کی پلکوں سے ستارے ٹوٹے اور بیگم صاحبہ کے قدموں پر نچھاور ہو گئی۔ پھر اس سے پہلے کہ وہ ان کے قدم چوم لیتی، انہوں نے اس کی پیشانی پر مہر محبت ثبت کر دی۔
فیصلہ ہو گیا۔
“ہم ہار گئے طاہر۔ “
وہ زاہدہ کو سینے سے الگ کر کے آہستہ سے پلٹیں۔ “لیکن صرف اپنے اصولوں ، اپنی زبان کی خاطر۔ “
“امی جان۔ “
وہ بھاگ کر ان سے لپٹ گیا۔
“پگلی۔ ابھی تو بڑا فلسفی بنا ہوا تھا۔ “
وہ اس کے سر پر بوسہ دیتی ہوئی مسکرائیں۔
“امی جان۔ “
وہ جھینپ کر بولا۔ زاہدہ نے شرما کر سرجھکا لیا۔ ڈاکٹر ہاشمی مسکرا رہے تھے۔
“ڈاکٹر ہاشمی۔ “
کچھ دیر بعد وہ ان کی طرف متوجہ ہوئیں۔
“جی بیگم صاحبہ۔ “
وہ ادب سے بولی۔
“ہماری بہو کو گھر لے جائیے۔ ہم اگلے ماہ کی تین تاریخ کو یہ ستارہ، اپنے چاند کے پہلو میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ “
وہ پیار سے ان دونوں کو گھور کر بولیں۔
“جو حکم بیگم صاحبہ۔ “
وہ بھی مسکرا دیئے۔
شرما کر زاہدہ نے دونوں ہاتھوں میں منہ چھپاتے ہوئے رخ پھیر لیا۔ طاہر اس کے لرزتے ہوئے وجود کو دیکھ کر نشے میں جھومتا ہوا آگے بڑھا۔
“مبارک ہو۔ “
زاہدہ کے قریب سے گزرتے ہوئے اس نے آہستہ سے کہا۔
“ہماری طرف سے بھی۔ “
بیگم صاحبہ کی آواز نے اسے بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ وہ شرم سے گڑی جا رہی تھی۔
“ہمیں اب اجازت دیجئے بیگم صاحبہ۔ آپ نے وقت بہت کم دیا ہے۔ “
ڈاکٹر ہاشمی نے کہا۔
“کاش ! آپ جانتے ڈاکٹر ہاشمی کہ انتظار کس قدر تلخ شے کا نام ہے۔ “
وہ ہولے سے قہقہہ لگا کر بولیں۔ ڈاکٹر ہاشمی جھینپ کر رہ گئی۔
“اچھا۔ تو جائیے۔ “
وہ ہنستے ہوئے بولیں۔
“لے جائیے ہماری امانت کو اپنے گھر چند دنوں کے لئے۔”
وہ شرمائی لجائی سی آہستہ آہستہ چلتی ہوئی ڈاکٹر ہاشمی کے ہمراہ خارجی دروازے کی طرف بڑھ گئی۔
بیگم صاحبہ کے چہرے پر ایک سکون تھا۔ تمکنت تھی۔ وقار تھا مگر دل میں ایک پھانس سی تھی۔ انہیں نجانے کیوں لگ رہا تھا کہ یہ ایک خواب ہے جو طاہر نے دیکھا ہے، اور جب اس کی آنکھ کھلے گی تو تعبیر اچھی نہیں ہو گی۔
پھر انہوں نے سر جھٹک کر اپنے واہموں سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کی تاہم دل کی بے سکونی ان کی پیشانی پر تفکر کی لکیر بن کر چھلک آئی تھی۔ شاید بڑھاپا خود کو فریب دینا چاہ رہا تھا
مگر تجربے کی تیسری آنکھ وا ہو چکی تھی جو آنے والے وقت کے اندیشے کی پرچھائیاں محسوس کر کے پتھرائے جا رہی تھی۔
“لو بیٹی۔ یہ ہے تمہارا نیا مگر مختصر سے وقت کے لئے چھوٹا سا گھر۔ “
ڈاکٹر ہاشمی نے اسے ساری کوٹھی کی سیر کرانے کے بعدواپس ڈرائنگ روم میں آ کر صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔ وہ خاموشی سے ان کے سامنے بیٹھ گئی۔
زندگی کی خوشیاں ، ہر نعمت، ہرمسرت پا کر بھی، اس پر نجانے کیوں ایک بے نام سی اداسی، نامحسوس سی یاسیت طاری تھی، جسے وہ چھپانے کی حتی الامکان کوشش کر رہی تھی۔
“دینو۔ او دینو۔ “
ڈاکٹر ہاشمی نے اپنے ملازم کو آواز دی۔
“جی مالک۔ “
نوکر کمرے میں داخل ہوا۔
“دیکھو۔ دو کپ چائے لے آؤ مگر ذرا جلدی۔ مجھے ہاسپٹل پہنچنا ہے۔ “
وہ چٹکی بجا کر بولے۔ دینو سر ہلاتا ہوا باہر نکل گیا۔
ڈاکٹر ہاشمی نے مختصراً دینو کو اتنا ہی بتایا تھا کہ زاہدہ ان کی منہ بولی بیٹی ہے اور اگلے ماہ اس کی شادی طاہر میاں سے ہو رہی ہے۔ دینو ان کا اکلوتا اور وفادار ملازم تھا۔
ڈاکٹر دلاور ہاشمی نے بیوی کے مرنے کے بعد دوسری شادی نہیں کی تھی۔ ایک ہی بیٹا تھا۔ سرمد۔ جسے وہ جی بھر کر پڑھانا چاہتے تھی۔ آج کل وہ لندن یونیورسٹی میں ایم بی اے کر رہا تھا۔
دونوں باپ بیٹا، دو ہی افراد اس خوبصورت آشیانے کے باسی تھے۔ ایک دوسرے کے دکھ درد، غم اور خوشی کے شریک۔ راز دار، دوست، سبھی کچھ تو تھے وہ۔
ثروت خانم کے دلہن بن کر آنے سے بھی پہلے سے وہ سر سلطان وجاہت کے فیملی ڈاکٹر تھے۔ معالج اور مریض کا یہ رشتہ وقت نے رفتہ رفتہ دوستی میں بدل دیا اور سر وجاہت سلطان کی وفات کے بعد بیگم صاحبہ اور طاہر سے ان کا یہ تعلق سرپرستانہ ہو گیا۔
انہیں سلطان ولا میں گھر کے ایک اہم فرد ہی کی سی عزت دی جاتی تھی۔ اس تعلق کی بنیادوں میں یہ بات اولیں اہمیت کی حامل تھی کہ انہوں نے طاہر کو واقعی کسی چچا کی طرح گود میں کھلایا تھا۔
چائے ختم ہو گئی تو وہ اٹھ گئے۔
“اچھا بیٹی۔ میں ذرا ہاسپٹل ہو آؤں۔ شام تک لوٹ آؤں گا۔ تم گھبرانا نہیں۔ دینو سے بے تکلف ہو کر جس شے کی ضرورت ہو کہہ دینا۔ شام کو شاپنگ کے لئے چلیں گے۔ “
وہ خاموش رہی۔ ڈاکٹر ہاشمی ہنستے ہوئے اٹھے اور پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر دروازے کی جانب بڑ ھ گئے۔
وہ کتنی ہی دیر جانی پہچانی سوچوں میں گم صوفے پر بیٹھی رہی۔ آنسو اس کی پلکوں سے شبنم کے موتیوں کی طرح ڈھلک ڈھلک کر رخساروں پر پھسلتے رہے۔ ذہن الجھا رہا۔ دل مچلتا رہا اور لب کپکپا کر ایک ہی نام، ایک ہی خیال کو دہراتے رہے۔
“اختر۔ کاش اختر۔ وہ سب کچھ نہ ہوتا۔ جس نے مجھے اس مقام تک پہنچا دیا۔ مجھے سب کچھ ملا اختر مگر تم نہ ملے۔ کیوں اختر؟ تم نے ایسا کیوں کیا؟
تمام زندگی کے لئے مجھے یادوں کی چتا میں جلنے کو کیوں چھوڑ دیا؟ بولو ناں اختر۔ تم سنتے کیوں نہیں ؟ کہاں ہو تم اختر۔ کہاں ہو تم؟”
وہ کتنی ہی دیر روتی رہی۔ اشک بہتے رہی۔ دل سلگتا رہا۔ یادیں آتی رہیں۔ جانے کب تک۔ پھر وہیں صوفے پر بیٹھے بیٹھے وہ نیند کی بانہوں میں سمٹ گئی۔ کسی معصوم بچی کی طرح۔
٭٭٭٭٭٭
شادی میں صرف دو دن باقی تھے۔ دونوں جانب تیاریاں مکمل ہو گئیں۔
ڈاکٹر ہاشمی نے اپنی چیک بک کو جی کھول کر استعمال کیا تھا۔ اب ان کی سونی سونی کوٹھی واقعی کسی ایسی لڑکی کا گھر معلوم ہونے لگی تھی، جس کی رخصتی عنقریب ہونے والی ہو۔
وہ بے حد خوش تھے۔ بھری دنیا میں ایک بیٹے اور اب اس منہ بولی، چند روزہ مہمان بیٹی کے سوا ان کا تھا بھی کون؟ وہ اسے باپ بن کر ہی بیاہنا چاہتے تھے!
بیگم صاحبہ بھی وقتاً فوقتا ان کے ہاں چلی آتیں۔ انہیں اپنے ہاں بلا بھیجتیں۔ صلاح مشورے ہوتے
پھر آنے والے سہانے دنوں کے خواب حقیقت بن بن کر ان کی ترستی ہوئی پیاسی آنکھوں میں ابھرنے لگتے۔
رہ گیا طاہر۔ تواس کا ایک ہی کام تھا۔ دن بھر ٹیلی فون کر کر کے اسے تنگ کرنا۔ آنے والے خوبصورت دنوں کی باتیں کرنا۔
ٹھنڈی آہیں بھر کر وقت کے جلدی نہ گزرنے کی شکایتیں کرنا۔ بے قرار دل کا حالِ زار سنانا اور محبت جتانا۔ اس کا بس نہیں چلتا تھا۔ اگر ڈاکٹر ہاشمی اور بیگم صاحبہ کا نادر شاہی حکم نہ ہوتا تو وہ شاید ہر پل زاہدہ کی قربت میں گزار دیتا
مگر مجبور تھا۔ ہاں ، تھوڑا سا بے شرم ہو کر وہ زاہدہ کے لئے ہر روز کوئی نہ کوئی چیز ضرور خرید لاتا۔ کبھی ساڑھی۔ کبھی نیکلس۔ کبھی کچھ۔ کبھی کچھ۔
بیگم صاحبہ سب کچھ دیکھ کر، سب کچھ جان کر بھی، ہولے سے مسکرا کر خاموش ہو رہتیں۔ اور بس۔ عجیب بات تھی کہ انہیں اب بھی اس بات پر یقین نہ آتا تھا کہ ان کے بیٹے کی شادی ہو رہی ہے۔ اب بھی ان کا وہم انہیں اندر سے ڈرائے رکھتا تھا۔
طاہر دفتر میں سارا سارا دن بچوں کی طرح ہر ایک کو چھیڑتا رہتا۔ ہر ایک کو تنگ کرتا رہتا۔ سب اس کی خوبصورت شرارتوں کو مالک کے پیار سے زیادہ ایک سچی، مخلص اور پیارے دوست کا حق سمجھ کر برداشت بھی کرتے اور موقع ملنے پر بدلہ بھی چکا دیتے۔
“امبر۔۔۔ تم بھی جلدی سے شادی کر لو۔ ایمان سے آدمی مرنے سے پہلے ہی جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ “
طاہر کہتا اور وہ بیر بہوٹی بن کر رہ جاتی۔
اب تو چند دنوں کی بات تھی۔ پھر۔۔۔ اور اس” پھر “سے آگے، وہ بڑے حسین تصورات میں گم ہو جاتا۔ کھو کر رہ جاتا۔ “زاہدہ۔ “ایک نام اس کے لبوں پر آتا اور وہ مدہوش سا ہو جاتا۔
دوسری طرف زاہدہ کسی اور ہی دنیا میں تھی۔ سب کچھ، اس کی آنکھوں ، جاگتی آنکھوں کے سامنے ہو رہا تھا۔ وہ سب کچھ دیکھ رہی تھی۔ محسوس کر رہی تھی لیکن اسے یہ سب خواب معلوم ہو رہا تھا۔
ایک ایسا خواب جس میں بے چینی تھی، بے سکونی تھی، بے اطمینانی تھی۔ وہ راتوں کو بے قراری سے کروٹیں بدلتی رہتی۔ اضطراب اس پر حاوی رہتا۔ ذہن منتشر منتشر سا۔ دل مسلا مسلا سا۔ سوچیں ادھوری ادھوری سی۔ خیالات بکھرے بکھرے سے۔
وہ خود کو نامکمل سی محسوس کرتی۔ قطعی نامکمل، تشنہ اور ادھورا۔
یہ ادھورا پن، یہ تشنگی، یہ اضطراب، صرف اور صرف ماضی کی ان بے قرار یادوں کے باعث تھا جو اسے ایک پل کو چین نہ لینے دیتی تھیں۔
اس کے ہر تصور پر اختر، ہر پل، ہر لمحہ، چھایا رہتا۔ اس نے جتنا ماضی سے دامن چھڑانا چاہا، مستقبل اتنا ہی اس سے دور ہوتا چلا گیا۔ وہ یادوں کے گھور اندھیروں میں ڈوبی، اشکوں کے چراغ جلاتی رہتی مگر کوئی راستہ، کوئی منزل، کوئی راہگزر نگاہوں کے ہالے میں تیرتی نظر نہ آتی۔
محبت کھیل نہیں کہ بغیر چوٹ دیے ختم ہو جائے۔۔۔ یہ احساس اسے شدت سے ہو رہا تھا۔ پوری تندی و تیزی سے یہ طوفان اسے اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا اور وہ بے بسی سے اپنی نم آنکھوں میں چبھتے نوکیلے کانٹوں کی چبھن اپنی روح پر محسوس کرتے ہوئے آنسو آنسو ہو کر چیخ پڑتی۔ چلا اٹھتی۔
“اختر کہاں ہو تم۔ ظالم! یہ کس جہنم میں دھکیل دیا ہے تم نے مجھے۔ ایک بار۔ صرف ایک بار سامنے تو آؤ۔ مجھے یقین تو ہو جائے کہ تم وہ نہیں ہو، جو صرف ایک رات کے لئے، ایک مختصر سے وقفے کے لئے نظر آئے تھے۔
اور اگر وہی ہو، جسے میں نے صدیوں اپنے دل کے نہاں خانے میں چھپائے رکھا تو میں وہی بن جاؤں ، جو تمہارے لئے دیوی تھی۔ تمہاری داسی تھی۔ تمہاری تھی اختر۔ صرف تمہاری!”۔۔۔
مگر اس کے دل کی یہ پکار، جذبات کی صدا کوئی بھی تو نہ سن سکتا تھا۔ کوئی بھی تو نہیں۔ اختر بھی نہیں !
جوں جوں وہ یادگار دن قریب آ رہا تھا جس کی خاطر طاہر نے اسے فرش سے عرش پر لا بٹھایا تھا۔ جس کے انتظار میں اس نے ہر پل سپنے دیکھے تھے۔ خواب سجائے تھے، توں توں وہ اداسی، یاسیت اور خاموشی کی گمبھیر وادیوں میں اترتی چلی جا رہی تھی۔
اس لئے کہ خوابوں کا شہزادہ وہ نہیں تھا جسے اس نے دھڑکن کی طرح دل میں چھپا رکھا تھا۔ تعبیر وہ نہیں تھی جو اس نے اپنے تصورات کے سہارے سوچ رکھی تھی۔ پھر اسے اپنی اس جذباتی غلطی، حالات سے گھبرا کر مایوسی کی باہوں میں پناہ لے لینے کے خوفناک گناہ پر پچھتاوا ہونے لگتا۔
کتنا بھیانک تھا اس ایک لمحے کی لرزش کا انجام، جو اس نے طاہر کی محبت کے سامنے سر جھکا کر کی تھی۔ وہ آج بھی اپنے خیالات میں اختر کو بسائے ہوئے تھی۔ اختر کو بھلا دینا اس کے بس میں نہیں تھا۔
اس کی زندگی، جیسے بہاروں بھرے گلشن میں تمام عمر کے لئے آگ میں جلنے جا رہی تھی۔ اور اسے یہ سب کچھ بہرحال سہنا تھا۔ رو کر یا ہنس کر۔
٭٭٭٭٭٭٭
” زاہدہ بیٹی۔ تم چھ بجے کے قریب ہاسپٹل چلی آنا۔ میں کار بھیج دوں گا۔ “
“جی مگر ۔۔۔ “
وہ شاید وجہ پوچھنا چاہتی تھی۔
“بیٹی۔ بیگم صاحبہ کا فون آیا تھا۔ وہ بھی آ رہی ہیں شام کو۔ وہ تمہیں اپنے ساتھ شاپنگ پر لے جانا چاہتی ہیں۔ تمہاری پسند کی کچھ چیزیں خریدیں گی۔ ” ڈاکٹر ہاشمی کا لہجہ معنی خیز ہو گیا۔
وہ نہ چاہتے ہوئے بھی پھیکے سے انداز میں مسکرادی۔ “جی بہتر۔ “
“اللہ حافظ۔ “
انہوں نے رابطہ ختم کر دیا۔ وہ کتنی ہی دیر تک بے جان، ٹوں ٹوں کرتے ریسور کو تھامے کھڑی جانے کیا سوچتی رہی۔
کلاک نے پانچ بجائے تو وہ چونک پڑی۔ آہستہ سے، ایک طویل، تھکی تھکی سانس لے کر پلٹی۔ اس کی بے چین نظریں بے اختیار اپنی کلائی پر بندھی خوبصورت سی رسٹ واچ پر جم گئیں جو اسے ڈاکٹر ہاشمی نے خرید کر دی تھی۔
پھر وہ نچلے ہونٹ کو دانتوں میں داب کر آنکھوں میں تیر جانے والے آبدار موتیوں کو روکنے کی ناکام کوشش کرتی ہوئی صوفے پر اوندھی گر پڑی۔
سسکیاں کمرے کی خاموش اور اداس فضا کے بے جان بُت پر آہوں ، دبی دبی ہچکیوں اور بے قرار جذبات کے پھول نچھاور کرنے لگیں۔ وہ کتنی ہی دیر تک بلکتی رہی۔
پھر ” ٹن” کی مخصوص آواز کے ساتھ کلاک نے وقت کے بوڑھے، متحرک، رعشہ زدہ سر پر پہلا ہتھوڑا کھینچ مارا تواسے یوں محسوس ہواجیسے یہ ضرب، یہ چوٹ اس کے دل پر لگی ہو۔ چھ بج چکے تھے۔
وہ اٹھی اور باتھ روم کی طرف بڑھ گئی۔ منہ ہاتھ دھو کر باہر آئی اور صوفے پر بیٹھ کر پھر کسی سوچ میں گم ہو گئی۔ اس کی خوبصورت، مدھ بھری آنکھیں سوجی سوجی نظر آ رہی تھیں۔
“سلام بی بی جی۔ “
کچھ دیر بعد ایک آواز سن کر وہ چونکی۔ ڈرائیور دروازے میں کھڑا تھا۔ وہ خاموشی سے اٹھی اور آہستہ آہستہ چلتی ہوئی باہر نکل آئی۔ ڈرائیور بھی اس کے پیچھے ہی باہر چلا آیا۔
ٹھیک پندرہ منٹ بعد وہ ڈاکٹر ہاشمی کے چھوٹے سے ہاسپٹل کے کار پارک میں اتری۔ ڈرائیور کار کو آگے بڑھا لے گیا اور وہ سر جھکائے اندر کو چل دی۔
” تم آ گئیں بیٹی۔ آؤ۔ بیٹھو۔ “
ڈاکٹر ہاشمی نے اسے اندر داخل ہوتے دیکھ کر کہا اور ہاتھ میں موجود ایکسرے کو روشنی کے ہالے میں لا کر غور سے دیکھنے لگی۔ قریب کھڑی نرس ان کی جانب منتظر نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
“اس میں تو کوئی گڑ بڑ نہیں ہے؟”
وہ ایکسرے کو میز پر رکھتے ہوئے پرسوچ انداز میں بولے
” تم اس مریض کے کمرے میں چلو۔ میں آ رہا ہوں۔ “
“یس سر۔ “
نرس تیزی سے باہر نکل گئی۔
زاہدہ سر جھکائے ناخن سے میز کی سطح کرید رہی تھی۔
“کیا بات ہے بیٹی۔ تم کچھ اداس ہو؟”
انہوں نے پوچھا۔
“جی۔۔۔ جی نہیں تو۔ “
وہ پھیکے سے انداز میں بادل نخواستہ مسکرا دی۔
“ہوں۔ بیگم صاحبہ کے آنے میں تو ابھی کچھ دیر ہے۔ آؤ۔ تمہیں دکھائیں کہ ہم مریض کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ “
وہ رسٹ واچ سے نگاہ ہٹا کر اٹھتے ہوئے مسکرائے۔
زاہدہ بے اختیار کھڑی ہو گئی۔ تنہائی میں اگر وہ پھر بے قابو ہو جاتی اور بیگم صاحبہ آ جاتیں تو؟یہی سوچ کر اس نے انکار مناسب نہ سمجھا اور ان کے پیچھے چلتی ہوئی کاریڈور میں نکل آئی۔
بایاں موڑ مڑتے ہی پہلا کمرہ ان کی منزل تھا۔ وہ ان کے پیچھے کمرے میں داخل ہوئی۔ ٹھیک اسی وقت مریض کے بستر کے قریب کھڑی نرس ڈاکٹر ہاشمی کی جانب پلٹی۔
“سر۔ اسے ہوش آ رہا ہے۔ “
پرے ہٹتے ہوئے اس نے ان راستہ دیا۔
ڈاکٹر ہاشمی تیزی سے بستر کے قریب چلے گئے اور جھک کر اس کا معائنہ کرنے لگے۔ زاہدہ بے مقصد ہی ادھر ادھر دیکھنے لگی۔
“اس کی والدہ کہاں گئیں ؟”
“جی۔ وہ اپنے ہسبینڈ کو فون کرنے گئی ہیں۔”
“ہوں۔ “
وہ سیدھے کھڑے ہو گئے۔
تب۔۔۔ پے درپے کئی دھماکے ہوئے۔ روشنی اور اندھیرے کے ملے جلے جھماکے، جو اس کی آنکھوں کو چکا چوند کر گئی۔ ہر شے جیسے اس کی نظروں سے اوجھل ہو گئی۔
زمین لرزی۔ آسمان کانپا اور وہ لڑکھڑا گئی۔ اس کی حیرت زدہ، پھٹی پھٹی آنکھیں ، بستر پر پڑے اختر پر جمی تھیں۔ اس کے ہونٹوں سے چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی۔
ڈاکٹر ہاشمی اس کی دگرگوں ہوتی حالت کو دیکھ کر بری طرح گھبرا گئے۔
“بیٹی۔ کیا بات ہے؟”
وہ تیزی سے گرتی ہوئی زاہدہ کی جانب لپکے اور اسے باہوں میں سنبھال لیا۔ پھر ان کی بے چین آنکھوں نے زاہدہ کی حلقوں سے ابلتی، برستی آنکھوں کا محور پا لیا۔ وہ سن سے ہو گئی۔
“زا۔۔۔ ہدہ۔۔۔ “
ہڈیوں کے اس پنجر کے سوکھے ہوئے خشک لب ہلے۔
“اختر۔ “
جیسے کسی زخمی روح نے تڑپ کر سرگوشی کی۔
“زاہدہ۔۔۔ کہاں۔۔۔ ہو۔۔۔ تم ؟”
ایک درد بھری صدا نے اس کا صبر و قرار چھین لیا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: