Ishq Ka Qaaf Novel By Sarfaraz Ahmad Rahi – Episode 4

0
عشق کا قاف از سرفراز احمد راہی – قسط نمبر 4

–**–**–

ہڈیوں کے اس پنجر کے سوکھے ہوئے خشک لب ہلے۔
“اختر۔ “
جیسے کسی زخمی روح نے تڑپ کر سرگوشی کی۔
“زاہدہ۔۔۔ کہاں۔۔۔ ہو۔۔۔ تم ؟”
ایک درد بھری صدا نے اس کا صبر و قرار چھین لیا۔
“اخ۔۔۔ “
آواز اس کے گلے میں گھٹ کر رہ گئی۔
“بیٹی۔ “
ڈاکٹر ہاشمی جیسے ہوش میں آ گئے۔ ان کی تحیر زدہ نظروں میں اب دردسا امنڈ آیا تھا۔
زاہدہ بت بنی کھڑی، روتی ہوئی آنکھوں سے سرسوں کے اس پھول کو دیکھے جا رہی تھی، جو شاید مرجھانے جا رہا تھا۔ اس کے چہرے کے نقوش درد، اضطراب، کسک اور تڑپ کے رنگوں میں نئے نئے روپ دھار رہے تھے۔
نرس حیرت بھری نظروں سے یہ سب کچھ دیکھ رہی تھی۔ تب۔۔۔ آہستہ سے دروازہ کھلا اور کوئی اندر داخل ہوا۔ کوئی سامنے چلا آیا۔
“زاہدہ۔ “
حیرت اور یاس میں ڈوبی ایک آواز گونجی۔ چند لمحے حیرت، بے چینی اور آنکھوں کی دھندلاہٹ کی نظر ہو گئی۔ پھر کوئی تیزی سے آگے بڑھا اور اس سے ایک قدم کے فاصلے پر رک گیا۔
“تم۔۔۔ تم کہاں تھیں بیٹی؟”
وہ چونک سے پڑی۔ حواس میں آ گئی۔ سنبھل گئی۔
” آپ؟”
اس کے لبوں سے مری مری آواز نکلی اور “بیٹی” کے لفظ نے اسے پھر حیرت سے گنگ کر دیا۔
“ہاں بیٹی۔ “
چچی آنکھوں سے امنڈنے والے آنسوؤں کو رخساروں پر بہنے سے نہ روک سکیں۔
“میں۔ تمہاری مجرم۔ تمہاری گناہ گار۔ “
وہ اس کانپتی ہوئی آواز سے ڈر سی گئی۔ لڑکھڑا گئی۔ تب کسی نے اسے سہار لیا۔ ڈاکٹر ہاشمی نے رخ پھیر لیا۔
“میرا بیٹا۔۔۔ مر رہا ہے بیٹی!”
ایک کراہ ابھری۔
وہ انہیں گھورتی رہی۔ اپنی بے رحم چچی کو۔
“اختر تمہارے لئے مر رہا ہے بیٹی۔ “
وہ بمشکل بولیں۔
وہ خاموش کھڑی رہی۔
“میں ہاتھ جوڑتی ہوں بیٹی۔ “
انہوں نے بوڑھے مگر سنگلاخ ہاتھ جوڑ دئیے۔
وہ پتھرائی ہوئی بے نور سی آنکھوں سے انہیں دیکھتی رہی۔
” زاہدہ۔ “
ایک ماں کی کانپتی ہوئی آواز نے اسے چونکا دیا۔ مرجھاتے ہوئے گلاب کو خزاں کے جھونکے نے ہلکورا دیا۔
“تمہارا اختر مر۔۔۔ “
ہچکیاں نامکمل رہ گئیں۔
“زاہدہ۔۔۔ کہاں ہو تم ؟”
اختر کے ہونٹ کپکپائے۔
“اختر۔ “
وہ مزید نہ سہہ سکی۔ بھاگی۔ لڑکھڑائی اور جا کر اس کے قریب کھڑی ہوگئی۔
“زاہدہ۔ “
آواز میں زندگی عود کر آئی۔
“اختر۔ “
وہ بیقراری سے بولی۔
“تم۔۔۔ “
آواز میں درد کم ہوا۔
“میں یہاں ہوں اختر۔ تمہارے پاس۔ “
وہ سسک اٹھی۔
“زاہدہ۔ “
ایک، ہچکی ابھری اور۔۔۔ گردن ڈھلک گئی۔
“اختر۔۔۔ “
ایک چیخ لہرائی۔
“یہ بے ہوش ہو چکا ہے بیٹی۔ “
ایک اداس سی آواز نے اسے زندگی کی نوید دی۔
“اس کا کمزور دماغ اس ناممکن حقیقت کو سہہ نہیں سکا۔ “
ڈاکٹر ہاشمی کی افسردہ سی آواز ابھری۔
“اسے۔۔۔ “
“زندگی دینے والا خدا ہے بیٹی۔ “
انہوں نے زاہدہ کی بات کاٹ کر اسے بستر سے اٹھایا اور کمرے سے باہر جانے کا اشارہ کیا۔ پھر سفید لباس میں ملبوس نرسوں کے ہمراہ ڈاکٹر ہاشمی نے اختر کے بستر کو گھیرے میں لے لیا۔
“تم نے مجھے معاف کر دیا بیٹی۔ “
خود غرضی نے نیا روپ دھار لیا تھا۔
“چچی جان۔ “
وہ ان سے لپٹ گئی۔
پچیس منٹ پچیس صدیاں بن کر گزری۔ پھر ڈاکٹر ہاشمی باہر چلے آئی۔ وہ تیزی سے ان کی طرف بڑھی۔ نرسوں کا ٹولہ بھی کمرے سے نکل گیا۔
اب چچا بھی ان دونوں کے ساتھ تھے۔ نادم نادم سی۔ کھوئے کھوئے سے۔ ڈاکٹر ہاشمی نے بڑی یاس بھری نظروں سے اسے دیکھا اور دھیرے سے اثبات میں سر ہلا کر آگے بڑھ گئے۔ وہ بھاگتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔ چچی بھی اس کے پیچھے لپکی۔
“نہیں۔ “
چچا نے چچی کو روک لیا اور وہ نجانے کیوں مسکرا دیں۔ مطمئن سی ہو کر۔
“اختر۔۔۔ “
اندر وہ اس کے پاس بیٹھی روئے جا رہی تھی۔
“زاہدہ۔ “
اس کی آنکھیں بھی جی بھر کر ارمان نکال رہی تھیں۔ وہ۔۔۔ نظریں جھکائے ڈاکٹر ہاشمی کے آفس میں داخل ہوئی۔
چچا اور چچی کے علاوہ وہاں ایک اور ایسی ہستی موجود تھی، جس کا سامنا کرنے کی اس میں ہمت نہ تھی۔ وہ رک گئی۔ چلنے کی سکت ختم ہو گئی۔
اس نے آہستہ سے نظریں اٹھائیں۔ خاموشی۔ سناٹا۔ سکوت۔ ہر چہرہ اداس۔ ہر آنکھ نم۔ ہر وجود بے حس و حرکت۔ زاہدہ کی دھڑکن رکنے لگی۔ سانس گھٹنے لگی۔
یہ خاموشی، یہ سناٹا، یہ سکوت۔ یوں لگتا تھا جیسے کوئی بہت بڑا طوفان گزر چکا ہو اور اپنے پیچھے اپنی تباہی و بربادی کے آثار چھوڑ گیا ہو۔
اس کی نظریں بیگم صاحبہ کی نظروں سے ٹکرائیں۔
کتنا درد تھا ان میں۔ ان بوڑھے چراغوں میں ، جہاں ممتا کی لاش ویرانی کا کفن اوڑھے پڑی تھی۔
وہ دبدبہ، وہ رعب، وہ کرختگی۔ کچھ بھی تو نہیں تھا وہاں۔ سب ختم ہو چکا تھا۔ سب راکھ ہو چکا تھا۔ اس نے گھبرا کر نظریں جھکا لیں۔ اس کا دل کسی انجانے بوجھ تلے دبتا چلا گیا۔
“زاہدہ۔ “
ایک سرگوشی ابھری۔
اس نے پلکیں اٹھائیں۔ پتھر کے لبوں پر بڑی زخمی سی مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔
“ہمارے پاس آؤ۔ “
جیسے کسی نے التجا کی ہو۔ وہ ان کی نم آنکھوں میں دیکھتی ہوئی آگے بڑھی۔ مسکراہٹ میں خون کی سرخی گہری ہو گئی۔ زخم کا منہ کچھ اور کھل گیا۔
“بیگم صاحبہ۔ “
وہ بلکتی ہوئی ان کے قدموں سے لپٹ گئی۔
انہوں نے پاؤں کھینچے نہیں۔ اسے روکا نہیں۔ اس کی زلفوں میں بوڑھے ہاتھ سے کنگھی کرتی رہیں۔ وہ کتنی ہی دیر ان مشفق قدموں سے لپٹی دل کی بھڑاس نکالتی رہی۔ پھر انہوں نے آہستہ سے اسے شانوں سے تھام کر اٹھایا اور اپنے سامنے کھڑا کر لیا۔
“منزل مبارک ہو بیٹی۔ “
ان کے لب کپکپائے اور آنکھیں چھلک گئیں۔ انہوں نے اسے لپٹا لیا۔ بھینچ لیا۔ کتنے ہی گرم گرم موتی ان کے رخساروں سے ٹوٹ کر زاہدہ کی سیاہ گھٹاؤں میں جذب ہو گئی۔ پھر جب انہوں نے اسے سینے سے الگ کیا تو اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس سے کوئی بہت قیمتی شے کھو گئی ہو۔
“ابو۔ “
وہ پلٹ کر ڈاکٹر ہاشمی سے لپٹ گئی۔
“پگلی۔ “
وہ اس کا شانہ تھپکتے ہوئے خود بھی بے قابو سے ہو گئے۔ “میں نے کہا تھا ناں۔ تو میری چند روز کی مہمان بیٹی ہے۔ “
ایک باپ دکھی ہو رہا تھا۔
“ابو۔ “
وہ مزید کچھ بھی نہ کہہ سکی۔
پھر اس سسکتی کلی کو، اس کے اپنی، ماضی کے دشمنوں اور حال کے دوستوں نے باہوں میں سمیٹ لیا۔ دامن میں بھر لیا۔
“ڈاکٹر ہاشمی۔ “
“جی بیگم صاحبہ۔ “
وہ سر جھکائے آگے بڑھ آئی۔
“اختر کس حال میں ہے؟”
“یہ اسے گھر لے جا سکتے ہیں بیگم صاحبہ۔ مسیحا ان کے ساتھ ہے۔ “
وہ ان کی بات کے جواب میں آہستہ سے بولے۔
بیگم صاحبہ نے اختر کے والدین کی جانب بڑی یاس بھری نظروں سے دیکھا۔ وہ سمجھ گئی۔ بڑے اداس تھے وہ بھی۔ شاید بیٹے کی حالت نے ان کا سارا زہر نکال دیا تھا۔
“ہم کس طرح آپ کا شکریہ۔۔۔ “
“کوئی ضرورت نہیں۔ ہم بھی ایک بیٹے کی ماں ہیں۔”
بیگم صاحبہ نے بڑی دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
“بس ایک کرم کیجئے ہم پر۔ “
“جی۔ آپ حکم کیجئے۔ “
چچا کی آواز میں ممنونیت کا دریا بہہ رہا تھا۔
“جتنی جلدی ہو سکے آپ یہاں سے رخصت ہو جائے۔ طاہر ادھر نکل آیا تو ہم اپنے آپ میں نہ رہ سکیں گے۔”
“جی۔ “
چچا اور چچی کے چہروں پر دھواں سا پھیلا جبکہ زاہدہ سرسوں کے پھول جیسی زرد ہو گئی۔
ان سب کے سر جھک گئے۔ احسان کے بوجھ سے۔ پھر وہ رخصت ہونے کے لئے دروازے کی جانب بڑھ گئی۔
“زاہدہ۔ “
ایک آواز پر وہ رک گئی۔ پلٹی اور بیگم صاحبہ کی جانب دیکھنے لگی۔ آہستہ آہستہ اس کے قدم اٹھی۔ وہ ان کے قریب چلی آئی۔
“ہاتھ لاؤ۔ “
اور بے ساختہ زاہدہ کا ہاتھ ان کے ہاتھ میں چلا گیا۔
“اس پر تمہارا ہی حق تھا۔ “
ایک ہیرا اس کی انگلی میں جڑ دیا گیا۔
اس کے ہونٹ لرزے۔ ہاتھ کی مٹھی بھنچ گئی اور پلکوں کے گوشے پھر نم ہو گئی۔
“نہیں۔ اب نہیں۔ کبھی نہیں۔ “
ان کے ہونٹوں پر پھر ایک خون رستی مسکراہٹ تیر گئی۔
وہ بے قابو سی ہو کر پلٹ کر بھاگتی ہوئی کمرے سے نکل گئی۔
وقت تھم سا گیا!
“ڈاکٹر ہاشمی۔ “
ایک شعلہ لرزا۔
“جی بیگم صاحبہ۔ “
لو تھرتھرائی۔
“یہ تھا وہ خوف جو ہمیں طاہر اور زاہدہ کے ملاپ سے روکتا تھا۔ ہم جانتے تھے پہلی محبت کبھی بھی زاہدہ کے دل سے نکل نہیں سکے گی۔ اختر کا خیال اسے کبھی بھی طاہر میں پوری طرح مدغم نہ ہونے دے گا۔ اور ڈاکٹر ہاشمی۔
یہ کہنے کی ضرورت تو نہیں ہے ناں کہ شوہر اور بیوی ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں۔ اس لباس میں کسی اور کا پیوند لباس کو لباس نہیں رہنے دیتا، چیتھڑا بنا دیتا ہے اور طاہر چیتھڑے پہن کر زندگی گزار سکتا ہے کیا؟”
جواب میں ڈاکٹر ہاشمی صرف اثبات میں سر ہلا کر رہ گئی۔ بیگم صاحبہ کا اندیشہ کتنی جلدی حقیقت بن کر سامنے آ گیا تھا، وہ اس سوچ میں ڈوب گئی۔
٭٭٭٭٭٭٭
کار کا انجن آخری مرتبہ کھانسا اور بے دم ہو گیا۔ وہ ڈیش بورڈ پر پڑا گفٹ پیک سنبھالتا باہر نکل آیا۔ شام کا اندھیرا گہرا ہو چکا تھا۔
کوٹھی دلہن بنی ہوئی تھی۔ بڑی حسین اور امنگوں بھری مسکراہٹ لبوں پر لئے دھیمے سروں میں کوئی پیارا سا گیت گنگناتا وہ داخلی دروازے کی طرف بڑھا۔ دبے پاؤں اندر داخل ہوا۔
“امی آج بھی کوئی نئی خریدی ہوئی چیز آگے رکھے میرا انتظار کر رہی ہوں گی۔ “
اس نے سوچا اور بڑے دلکش خیالات میں گم اوپر جانے والی سیڑھیوں کی طرف بڑھا۔
“امی۔ آپ۔۔۔ ؟”
وہ کھڑکی کے کھلے پٹ کا سہارا لئے کھڑی دور کہیں اندھیرے میں گھورتی بیگم صاحبہ کو دیکھ کر ٹھٹک گیا۔ وہ خاموش، اسی انداز میں کھڑی رہیں۔
“اس سردی میں۔ اس وقت تک آپ یہاں کیا کر رہی ہیں ؟”
وہ ان کے قریب چلا آیا۔ بیگم صاحبہ بدستور چپ رہیں۔
” آپ بولتی کیوں نہیں امی؟”
وہ گھبرا سا گیا۔
تب وہ آہستہ سے پلٹیں اور اس کے ذہن کو جھٹکا سا لگا۔ دل بڑے زور سے دھڑکا۔ سوجی سوجی آنکھیں ، جن میں کبھی بھوری چٹانوں کی سی سختی کے سوا کچھ دکھائی نہ دیا تھا۔
زرد رنگت جو ہمیشہ وقار اور دبدبے کے بوجھ سے ابلتے ہوئے خون کی چغلی کھاتی تھی۔ کملایا ہوا چہرہ، جس پر پہاڑوں کے عزم اور آسمانوں کی سی عظمت کے سوا کبھی کچھ نہ ابھرا تھا۔
“امی۔ “
کسی انجانے حادثے کی وہ منہ بولتی تصویراس کا صبر و قرار چھین لے گئی۔
“کیا بات ہے امی ؟”
وہ تڑپ اٹھا۔
وہ بڑی درد بھری نظروں سے اس کے معصوم سے خوفزدہ چہرے کو گھورتی رہیں۔
“بولئے امی۔ آپ بولتی کیوں نہیں ؟”
وہ بے پناہ بے قراری سے بولا۔
انہوں نے سر جھکا کر رخ پھیرتے ہوئے قدم آگے بڑھا دئیے۔
“امی۔ “
وہ تیزی سے ان کے سامنے چلا آیا۔
” آپ کو میری قسم امی۔ “
انہوں نے بڑے کرب سے پلکیں بھینچ لیں۔ پتھر سے چشمہ پھوٹ نکلا۔ وہ گنگ سا کھڑا ان کی طرف بڑی عجیب سی نظروں سے دیکھنے لگا۔
“زاہدہ۔۔۔ “
ایک سسکی ان کے کانپتے لبوں سے آزاد ہو گئی۔
“کیا ہوا اسے؟”
وہ بے چینی سے بولا۔
“چلی گئی۔ “
ڈاکٹر ہاشمی کی آواز، اس کی سماعت کے لئے تو بہ شکن دھماکہ ثابت ہوئی۔ وہ لڑکھڑا گیا۔
گفٹ پیک اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر چمکدار فرش پر آ رہا۔ سنگ مر مر کا خوبصورت اور بے داغ تاج محل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ بکھر گیا۔ وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے منہ پھیرے کھڑی بیگم صاحبہ اور سرجھکائے ڈاکٹر ہاشمی کو گھورتا رہ گیا۔
کتنی ہی دیر۔۔۔ ہاں کتنی ہی دیر اس اذیت ناک خاموشی کے قبرستان میں ارمانوں کے مزار پر کھڑے گزر گئی۔ بجھتے چراغوں کا دھواں نظروں کی دھندلا ہٹ میں بدل گیا۔
“چلی گئی۔۔۔ ؟”
ایک سپاٹ، جذبات سے عاری، دھیمی سی صدا ابھری۔
جھکے ہوئے سر اٹھے۔
“بیٹے۔ “
بیگم صاحبہ کا دل جیسے پھٹ گیا۔
“اور آپ اسے روک بھی نہ سکیں۔ “
اس کا لہجہ درد سے پُر تھا۔ بیگم صاحبہ نے تڑپ کر پھر رخ پھیر لیا۔
“وہ کیوں چلی گئی امی؟”
وہ بچوں کی طرح سوال کر بیٹھا۔
“ڈاکٹر ہاشمی۔ “
بیگم صاحبہ نے سسک کر صوفے کا سہارا لے لیا۔
“اسے بتائیے ڈاکٹر ہاشمی، وہ کیوں چلی گئی۔ “
ان کی آواز بھیگ گئی۔
“میں جواب آپ سے چاہتا ہوں امی۔ “
وہ جیسے کرب سے چیخ اٹھا۔ تڑپ کر ان کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
“جواب دیجئے۔ وہ کیوں چلی گئی۔ کہاں چلی گئی۔ کس کے ساتھ چلی گئی؟”
وہ ان کو جھنجھوڑتا ہوا چیخ اٹھا۔
“اختر موت کے دہانے پر کھڑا تھا۔ اسے جانا پڑا۔ “
“اختر کا گھر اس کی منزل تھا۔ وہ وہیں لوٹ گئی۔ “
“اختر اس کی محبت ہے۔ اسی کے ساتھ چلی گئی۔ “
“نہیں نہیں نہیں۔ “
وہ کانوں پر ہاتھ رکھ کر پوری قوت سے چیخ اٹھا۔
نہ جانے کس ضبط سے اس نے اپنے دل کا خون رخساروں پر چھلکنے سے روکا۔ اس کی آنکھیں کتنی ہی دیر بھنچی رہیں ، جیسے اسے زہر کے تلخ اور کسیلے گھونٹ حلق سے اتارنا پڑے ہوں۔ جیسے وہ زہر اس کے جسم کی ہر رگ کو کاٹ رہا ہو۔
اس کے ہاتھ مضبوطی سے کانوں پر جمے رہی۔ جیسے اب وہ کچھ سننے کی تاب نہ رکھتا ہو۔ جیسے اب اگر ایک لفظ بھی اس کے کانوں کے پردوں سے ٹکرایا تو وہ ہمیشہ کے لئے سماعت سے محروم ہو جائے گا۔ پھر وہ آہستہ سے پلٹا۔
بیگم صاحبہ دل کو دونوں ہاتھوں میں جکڑے صوفے پر بیٹھتی چلی گئیں۔ کھڑے ہونے کی سکت ہی کہاں رہ گئی تھی ان میں۔
ڈاکٹر ہاشمی نے چہرے پر ابھر آنے والے کرب کو رخ پھیر کر چھپاتے ہوئے صوفے کی پشت کا سہارا لے لیا
لیکن وہ ہر ایک سے بے نیاز، دھیرے دھیرے زمین پر بیٹھتا چلا گیا۔ اس کے لرزتے ہوئے بے جان، بے سکت ہاتھ ٹوٹے ہوئے، بکھرے پڑے تاج محل کے ٹکڑوں سے ٹکرائی۔
“تو کیا تاج محل صرف چاندنی راتوں ہی میں محبت کی کہانیاں سنتا ہے۔ اندھیری راتوں میں یہ خود بھی بکھر ا رہتا ہے کیا؟”وہ مر مر کے بے جان ٹکڑوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بڑبڑایا۔
دھیرے دھیرے اس نے تمام ٹکڑوں کو دونوں ہاتھوں میں سمیٹ لیا۔ آہستہ سے اٹھا اور ہولے ہولے چلتا ہوا اوپر جانے والی سیڑھیوں کی جانب بڑھتا چلا گیا۔
“طاہر۔ “بیگم صاحبہ کی غمزدہ آواز نے اس کے قدم روک لئے لیکن وہ پلٹا نہیں۔
ایک لمحے کا وقت معنی خیز خاموشی میں بیت گیا۔
“گھبرائیے نہیں امی۔ ابھی دل دھڑک رہا ہے۔ لاشیں بے گور و کفن بھی تو پڑی رہتی ہیں۔ “وہ کہہ کر آگے بڑھ گیا۔
سائے گہرے ہوتے چلے گئے۔ شبِ پُر نم کی زلفیں کھلتی چلی گئیں۔ شبنم گرتی رہی۔ اور خزاں کا کہر ہر سو پھیلتا چلا گیا۔ پھیلتا چلا گیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سمور کے کوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے دوسرے ہاتھ میں بڑا سا پیکٹ سنبھالے وہ گنگناتی ہوئی آفس میں داخل ہوئی۔ ہر سو ایک بے نام اور خلاف معمول خاموشی کا راج تھا۔ ہر شخص سرجھکائے اپنے کام میں مشغول تھا۔
اس کے خوبصورت ہونٹ ساکت ہو گئے۔ بڑی بڑی آنکھوں میں ہلکی ہلکی الجھن تیرنے لگی۔ ہر وقت قہقہوں میں ڈوبا رہنے والا آفس اداسی میں تہہ نشین تھا۔ وہ آہستہ آہستہ چل پڑی۔ رجسٹر پر جھکی نجمہ اس کے قدموں کی آہٹ پر چونکی۔
“اوہ۔ امبر۔۔۔ “وہ اس کی جانب دیکھ کر آہستہ سے مسکرائی۔
سر کے اشارے سے سب سے سلام لیتے اور دیتے ہوئے وہ اس کی میز کے قریب پہنچ گئی۔
“کیا بات ہے بھئی۔ آج گلشن اداس ہے۔ “وہ اس کی میز پر بیٹھ گئی۔
” آج باس اداس ہیں۔ “نجمہ دھیرے سے بولی۔
“اداس۔۔۔ ؟” وہ چونک پڑی۔
“ہاں۔ “
“مگر کیوں ؟”
“کوئی نہیں جانتا۔ بس۔ صبح خاموشی سے آئی۔ کسی سے سلام لیا نہ کسی سے بات کی۔ سیدھے آفس میں چلے گئے۔ اب تک وہیں بند ہیں۔ “
امبر کسی سوچ میں گم ہو گئی۔ نجمہ اپنا کام نبٹانے لگی۔
“اچھا۔ میں مل کر آتی ہوں۔ یہ کارڈ آ گئے ہیں۔ یہ دے آؤں۔ شاید کچھ وجہ بھی معلوم ہو جائے اس بے وقت اداسی کی۔ کچ دن بعد تو ان کی شادی ہے۔ “
“ہاں۔ تم سے کچھ نہیں چھپائیں گے۔ ان کی چہیتی ہو ناں۔ ” نجمہ شرارت سے بولی۔
“تم جلا کرو۔ “وہ پیکٹ ہاتھ میں لئے مسکراتی ہوئی چل دی۔ سب کی نظریں پل بھر کو اٹھیں اور جھک گئیں۔
دروازہ آہستہ سے کھلا۔ وہ چونکا۔ اس کی سرخ سرخ آنکھیں دروازے سے اندر داخل ہوتی ہوئی امبر پر جم گئیں۔
“مارننگ سر۔ “اس نے مخصوص لہجے میں کہا اور ساتھ ہی اس کا نرم و نازک ہاتھ ماتھے پر پہنچ گیا۔
“مارننگ۔ ” وہ جیسے بڑبڑایا۔
وہ پل بھر کو ٹھٹکی۔ پھر ہولے ہولے مسکراتی ہوئی اس کی میز کے قریب چلی آئی۔
“لیجئے سر۔ آپ کے میریج کارڈ۔۔۔ “وہ پیکٹ اس کے سامنے رکھتے ہوئے میز کے کونے سے ٹک گئی۔
اس کی حالت ایک دم بدل گئی۔ چہرے پر زردی اور سرخ آنکھوں میں بے چینی سی پھیل گئی مگر پھر فوراً ہی وہ سنبھل گیا۔
“کیا بات ہے سر۔ آپ رات ٹھیک سے سوئے نہیں کیا؟”وہ گہری نظروں سے اس کی بدلتی ہوئی حالت اور سرخ سرخ آنکھوں کو پرکھتے ہوئے دھیرے سے سیدھی ہو کر کھڑی ہو گئی۔
” آں۔۔۔ نہیں تو۔ ایسی تو کوئی بات نہیں۔ ” وہ جیسے بڑے درد سے بادل نخواستہ مسکرایا۔ پھر کسی سوچ میں ڈوب گیا۔ اس نے کارڈز کا پیکٹ چھو کر بھی نہ دیکھا۔
“سر۔ “وہ ڈر سی گئی۔ اس کا معصوم دل دھڑک اٹھا۔ یہ بے چینی، یہ اضطراب، یہ کسی چیز کو پوشیدہ رکھنے کی سعی ہے۔ وہ بچی نہیں تھی۔ یہ کسی المیے ہی کی نشانی ہے۔ اس نے سوچا۔
” آں۔۔۔ ” اس نے سر جھٹک کر اس کی طرف دیکھا۔
“سر۔ مجھے لسٹ دے دیجئے۔ میں نام ٹائپ کر دوں۔ ” وہ چاہتے ہوئے بھی اس کی پریشانی کی وجہ پوچھتے پوچھتے رہ گئی۔
جواب میں اس کے ہونٹوں پر، خشک ہونٹوں پر بڑی کرب انگیز مسکراہٹ تیر گئی۔
“سر۔ آپ کچھ پریشان ہیں ؟”وہ کہتے ہوئے نہ جانے کیوں اس سے نظریں چرا گئی۔
“ہاں۔ بہت پریشان ہوں امبر۔ “وہ کھوئے کھوئے لہجے میں بولا۔
“مجھے بتائیے سر۔ شاید میں آپ کے کچھ کام آ سکوں۔ “وہ بے تابی سے بولی۔
“تم۔۔۔ ؟” وہ خالی خالی نظروں سے اس کے چہرے کو تکنے لگا۔ “ہاں۔ تم میری پریشانی کا خاتمہ کر سکتی ہو۔ “اس کا لہجہ اب بھی ویران ویران سا تھا۔
“کہئے سر۔ “وہ کچھ اور بے چین ہو گئی۔
اس کی نظریں پیکٹ میں بندھے کارڈوں پر جم گئیں۔ “امبر۔ یہ کارڈ ہیں نا۔۔۔ ” وہ ان پر ہاتھ پھیرتے ہوئے آہستہ سے بولا۔
“یس سر۔ ” وہ حیران سی ہو گئی۔
“ان کو۔۔۔ ان کو آگ لگا دو امبر۔ “وہ اسی خالی خالی سپاٹ آواز میں بولا۔
امبر پھٹی پھٹی نظروں سے اسے دیکھتی رہ گئی۔
“امبر۔ انہیں جلا کر راکھ کر دو۔ شعلوں میں پھینک دو۔ “وہ تڑپ کر کھڑا ہو گیا۔ “یہ۔۔۔ یہ مجھے راس نہیں آئے امبر۔ انہیں یہاں رہنے کا کوئی حق نہیں۔ کوئی حق نہیں امبر۔ ” وہ پیکٹ پر جھپٹ پڑا۔۔۔ چند ہی لمحوں بعد فرش پر ہر سو کارڈز کے پرزے پھیل گئی۔ امبر حیرت بھری پھٹی پھٹی نگاہوں سے سب کچھ دیکھتی رہی۔ اس کے سوچنے سمجھنے کی ہر صلاحیت دم توڑ گئی۔
“یہ کیا ہوا؟ کیوں ہوا؟” وہ سوچتی رہی۔ اور وہ فرش پر بکھرے ان بے جان پرزوں کو ویران ویران، سرخ سرخ شب بیدار آنکھوں سے تکتا رہا۔
“بیٹھ جاؤ امبر۔ کھڑی کیوں ہو؟” وہ تھکے تھکے لہجے میں بولا۔
وہ کسی بے جان مشین کی طرح کرسی پر گر گئی۔ اس کی نظریں اب بھی طاہر کے ستے ہوئے چہرے پر جمی تھیں۔
“سر۔ “کتنی ہی دیر بعد دھیرے سے اس نے کہا۔ طاہر نے اس کی جانب دیکھا۔ “یہ سب کیسے ہوا سر؟ کیوں ہوا؟”اس کی آواز بے پناہ اداسی لئے ہوئے تھی۔
“پگلی۔ ” وہ بڑے کرب سے ہنسا۔
“سر۔ وہ تو آپ کے ساتھ۔۔۔ “
” کچھ دن بعد شادی کرنے والی تھی۔ “اس نے امبر کی بات کاٹ دی۔
“جی سر۔ اور پھر یہ انکار۔۔۔ “
“وہ کسی اور سے محبت کرتی تھی امبر۔ “وہ مسکرایا۔ بڑے عجیب سے انداز میں۔
“سر۔۔۔ “
“ہاں امبر۔ اس کا محبوب موت کی دہلیز پر کھڑا اسے پکار رہا تھا۔ وہ زندگی بن کر اس کے پاس واپس لوٹ گئی۔ “
“اور آپ۔۔۔ ؟ “وہ بے ساختہ کہہ اٹھی۔
“ابھی تک زندہ ہوں۔ نہ جانے کیوں ؟” وہ پھر مسکرایا۔
اور نہ جانے کیوں امبر کا جی چاہا۔ وہ رو دے۔ لاکھ ضبط کے باوجود اس کی پلکوں کے گوشے نم ہو گئے۔
“اری۔۔۔ ” وہ اسے حیرت سے دیکھ کر بولا۔ اٹھ کھڑا ہوا۔ “تم رو رہی ہو۔ “پگلی۔ تم سن کر رو دیں۔ میں تو سہہ کر بھی خاموش رہا۔ “
“سر۔ آپ ہمارے لئے کیا ہیں ؟ آپ نہیں جانتی۔ آپ کی ذرا سی خاموشی اور اداسی نے سارے آفس پر موت کا سا سناٹا طاری کر دیا ہے۔ کیوں ؟ کیوں سر؟” وہ بے چین ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
“امبر۔ ” وہ اس کی کانپتی آواز کے زیر و بم میں کھو کر رہ گیا۔
“صرف اس لئے سر کہ آپ۔۔۔ آپ اس آفس کے چپڑاسی سے لے کر مینجر تک کے لئے کسی دیوتا سے کم نہیں ہیں۔ پُر خلوص، بے لوث، بے پناہ محبت کرنے والا دیوتا۔ آپ نے اپنے آفس میں ان بیروزگاروں کو، اپنے والدین، بیوی بچوں اور بہن بھائیوں کے واحد سہاروں کو اس وقت پناہ دی، جب وہ مایوسی کی باہوں میں سما جانے کا فیصلہ کر چکے تھی۔ وہ آپ کے دکھ درد، آپ کی مسرت کو آپ سے زیادہ محسوس کرتے ہیں سر۔ آپ اداس ہوں تو اس چھوٹے سے گلستاں کا ہر باسی مرجھا جاتا ہے۔ آپ خوش ہوں تو ان کی زندگی میں بہار رقصاں ہو جاتی ہے۔ یہ سب آپ کے سہاری، آپ کی مسکراہٹوں کے سہارے جیتے ہیں سر۔ آپ پر اتنا بڑا حادثہ اتنا بڑا سانحہ گزر جائے اور ہم پتھر بنے، مرجھائے ہوئے بے حس پھولوں کی طرح آپ کو تکتے رہیں۔ کیسے سر؟ ہم یہ کیسے کریں ؟”
“چپ ہو جاؤ امبر۔ چپ ہو جاؤ۔ “اس نے گھبرا کر کہا۔ “میں۔۔۔ میں تو پاگل تھا۔ دیوانہ تھا۔ مجھے ایک فرد کی محبت نے، ایک تھوڑی سی محبت نے، اتنی ڈھیر ساری محبت، اتنے بہت سوں کے پیار سے پل بھر میں ، کتنی دور پہنچا دیا۔ میں سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ تم لوگ مجھے اتنا چاہتے ہو۔ مجھ سے اتنا پیار کرتے ہو۔ بخدا امبر۔ میں اب بالکل اداس نہیں ہوں۔ بالکل پریشان نہیں ہوں۔ میں۔۔۔ میں تو مسکرا رہا ہوں۔ ہنس رہا ہوں۔ میرے اتنے سارے اپنے ہیں۔ ایک بیگانہ چلا گیا تو کیا ہوا ؟ کیا ہوا امبر؟ کچھ بھی تو نہیں ؟ پھر میں کیوں اداس رہوں ؟ میں کیوں افسوس کروں۔ دیکھو۔ میں مسکرارہا ہوں امبر۔ میں ہنس رہا ہوں۔ ہنس رہا ہوں۔ ہا ہا۔ ہا ہا۔ میں ہنس رہا ہوں امبر۔ دیکھو۔ ہا ہاہا۔ میں ہنس رہا ہوں۔ ہا۔ ہا۔ ہا۔ ہاہا۔ “اس کی آواز بھرا گئی اور وہ پاگلوں کی طرح رقت آمیز انداز میں ہنستا چلا گیا۔ بالکل دیوانوں کی مانند۔ پھر جب مزید قہقہے لگانے کی سکت ہی نہ رہی تو اس کی آواز دھیمی ہوتے ہوتے بالکل رک گئی۔ امبر نے دیکھا۔ اس کے لب اب بھی مسکراہٹ کے انداز میں وا تھے اور آنکھوں کی نمی چھلکنے کو تھی۔
“سر۔ ” اس کی آواز تھرا گئی۔ “دکھ بھرے قہقہوں سے دل کے زخم بھرنے کی بجائے کچھ اور کھل جایا کرتے ہیں۔ “وہ پلٹ کر تیزی سے دروازہ کھول کر باہر نکل گئی۔ باہر جمع ہجوم اسے روک نہ سکا۔ وہ دوڑتی ہوئی آفس سے باہر نکل گئی۔
٭٭٭٭٭٭
راستہ طویل نہ تھا مگر اس میں اتنی ہمت نہ تھی کہ بے تحاشا لپک کر منزل کا دامن تھام لیتا۔
انتظار۔۔۔ ہاں اسے انتظار کرنا تھا۔
ابھی تو اسے منزل، سوئی سوئی منزل، بے خبر منزل کے بارے میں یہ بھی معلوم نہ تھا کہ وہ اسے اپنا مسافر بھی تسلیم کرتی ہے یا نہیں ؟ ابھی تو یہ سب خواب تھی۔ سراب تھی۔
اس نے کتنی ہی مرتبہ کوشش کی اور کئی باراس کی زبان پر آ کر دل کی بات رک گئی۔ وہ مضطرب سا ہو جاتا۔ پہلو بدل کر رہ جاتا۔ بے چینی اس کے رگ و پے میں بجلی بن کر سرایت کر جاتی مگر وہ کچھ بھی نہ کہہ پاتا۔ جذبات بے زبان حیوان کی طرح سرکشی پر اترتے رہی۔ احساس چوٹ کھائے ہوئے پرندے کی مانند پھڑپھڑاتا رہا۔ بہار، خزاں کے قفس میں سر ٹکراتی رہی لیکن کب تک؟ آخر وہ لمحہ بھی آیا جب یہ سب کچھ اس کی برداشت سے باہر ہو گیا۔ اذیت کی تپش اسے ہر پل، ہر گھڑی، خشک لکڑی کی طرح جلانے لگی۔ وہ کسی ویرانے میں سلگتی ہوئی اس شمع کی طرح پگھلنے لگا، جس کا کوئی پروانہ نہ تھا۔
شمع، پروانے کو جلائے بغیر خود جلتی رہی۔ پگھلتی رہی۔ یہ وہ کب گوارا کر سکتی ہے؟یہی اس کے ساتھ ہوا۔ ضبط انتہا کو پہنچ کر دم توڑ گیا۔ پیمانہ لبریز ہوا اور چھلک پڑا۔
“میں آج امبر کوسب کچھ بتا دوں گا۔۔۔ سب کچھ۔ “وہ آہستہ سے بڑبڑایا۔
“صاحب۔ ناشتے پر بیگم صاحبہ آپ کا انتظار کر رہی ہیں۔ ” سیف نے اسے چونکا دیا۔
“تم چلو۔ میں آ رہا ہوں۔ “اس نے بستر سے نکلتے ہوئے کہا۔
ٹھیک پندرہ منٹ بعد وہ ناشتے کی میز پر بیٹھا تھا۔ ناشتہ خاموشی سے کیا گیا۔ ملازم نے میز صاف کر دی۔ وہ اخبار دیکھنے لگا۔
بیگم صاحبہ کسی گہری سوچ میں گم تھیں۔ ان کا داہنا ہاتھ سامنے پڑے سفید لفافے سے کھیلنے میں مصروف تھا۔
“اوہ۔ دس بج گئے۔ “وہ اخبار رکھ کر رسٹ واچ پر نظریں دوڑاتے ہوئے جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا۔
“بیٹھ جاؤ۔ ” بیگم صاحبہ کی دھیمی سی آواز نے اسے بے ساختہ پھر بٹھا دیا۔ ان کی سوچ زدہ آنکھوں میں سنجیدگی کروٹیں لے رہی تھی۔ اس کا دل بے طرح سے دھڑک اٹھا۔ وہ پہلو بدل کر رہ گیا۔
“جی امی۔ “اس نے خاموشی کا دامن چاک کیا۔
“بیٹے۔ ” اداس سی آواز ابھری۔ “ہم چاہتے ہیں کہ زندگی کا دامن چھوڑنے سے پہلے تمہیں زندگی کی خوشیوں میں کھیلتے دیکھ لیں۔ اب ہم مزید پتھر کی یہ سل اپنے دل پر برداشت نہ کر سکیں گے۔ “
وہ سر جھکائے ناخنوں سے میز کی سطح کریدتا رہا۔
“زندگی میں ناکامیاں بھی آتی ہیں بیٹے لیکن اس لئے نہیں کہ انسان میدان چھوڑ کر بھاگ نکلے بلکہ اس لئے کہ اگلے امتحان میں پچھلی ناکامی کی کسر بھی نکال دی۔ ایک تمنا پوری نہ ہو تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ انسان آرزو کرنا ہی چھوڑ دے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ سنبھلنے کے لئے جتنا وقت درکار ہوتا ہے، ہم اس سے بہت زیادہ وقت تمہیں دے چکے ہیں۔ ہر ماں کی طرح ہماری بھی تمنا ہے کہ ہم اپنے بیٹے کے پہلو میں چاند سی بہو دیکھیں۔ ” وہ ایک لمحے کو رکیں۔
اس کا جھکا ہوا سر تب بھی جھکا ہی رہا۔
“کئی ایک گھروں سے رشتے آئے ہیں۔ ہم نے ابھی کسی کو جواب نہیں دیا۔ صرف تمہاری خاطر۔ “
تب اس نے دھیرے سے چہرہ اوپر اٹھایا۔ تھوڑا تھوڑا مضطرب لگ رہا تھا وہ۔
“ہم تمہیں فیصلے سے پہلے انتخاب اور پسند کا پورا پورا موقع دیں گے۔ ” انہوں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور اپنے سامنے پڑا لفافہ اس کی جانب سرکادیا۔ “اس میں کچھ تصویریں ہیں۔ زاہدہ کی چچا زاد بہن نرگس کی بھی۔ ” وہ معنی خیز لہجے میں بولیں۔
وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا۔ چہرے پر ایک رنگ آ کر گزر گیا۔ کچھ کہتے کہتے رک گیا۔
“وہ خاص طور پر اس رشتے کے خواہش مند ہیں۔ لڑکی چند ہی روز پہلے انگلینڈ سے واپس آئی ہے مگر اس پر مشرقی اقدار پوری طرح حاوی ہیں۔ “
“مگر میں۔۔۔ “
“شادی نہیں کرنا چاہتا۔ “تلخی سے کہہ کر وہ اٹھ کھڑی ہوئیں۔ “یہی جواب ہے ناں تمہارا۔ “
“جی نہیں۔ میں نے یہ کب کہا۔ “
“تو پھر ؟” وہ حیرت سے بولیں۔
“کیا ضروری ہے کہ ان ہی میں سے اور پھر خاص طور پر نرگس ہی سی۔۔۔ “
“ہم سمجھتے ہیں بیٹے لیکن ہم نے یہ بات ایسے ہی نہیں کہی۔ نرگس واقعی گلِ نرگس ہے۔ زاہدہ اور اس لفافے میں موجود کوئی بھی لڑکی اس کے سامنے ہیچ ہے۔ “
“لیکن۔۔۔ “
“کہیں تم کسی اور کو تو۔۔۔ “
“یہ بات نہیں ہے امی۔ “وہ ان کی بات کاٹتے ہوئے پھر بے چین سا ہو گیا۔
“دیکھو بیٹی۔ تم کیوں یہ چاہتے ہو کہ تم محبت کی شادی کرو۔ کیا ضروری ہے کہ جس سے تم شادی کرو وہ شادی سے پہلے تم سے محبت کرے۔ ” وہ کھل کر کہہ گئیں۔
“میں نے ایسا کب کہا امی۔ ” اس کی آواز دب سی گئی۔
“پھر کیا تم یہ چاہتے ہو کہ شادی سے پہلے تم اپنی ہونے والی بیوی کے ساتھ محبت کے چار دن ضرور گزارو۔ “
” ایسی بھی میری کوئی شرط نہیں ہے امی۔ “
“تو پھر تم چاہتے کیا ہو؟”ان کی آواز میں تلخی ابھر آئی۔
“امی۔ ” اس نے سر جھکائے جھکائے کہا۔ “میں نے ایک زخم کھایا ہے۔ ایسی لڑکی کو چن لیا جو پہلے ہی کسی اور سے محبت کرتی تھی۔ اب میں ایسے کسی حادثہ سے دوچار ہونے کے لئے تیار نہیں ہوں۔ میں چاہتا ہوں مجھے جو لڑکی بیوی کے روپ میں ملے وہ صرف میری ہو، ہر طرح سی۔ اس کے خیالوں پر، اس کی سوچ پر میرے سوا کسی اور کی پرچھائیں بھی نہ پڑی ہو۔ “
” شریف گھرانوں کی لڑکیاں ایسی ہی ہوتی ہیں بیٹی۔ اور یہ سب تصویریں شرفا کی بیٹیوں ہی کی ہیں۔ “
“زاہدہ بھی تو شریف گھرانے ہی سے تعلق رکھتی تھی امی۔ “
“بیٹی۔ ” وہ اسے سمجھانے والے انداز میں بولیں۔ “محبت ایسا جذبہ ہے جس پر کسی کا بس نہیں چلتا۔ زاہدہ نے اگر ایسا کیا تو کوئی گناہ نہیں کیا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ تمہاری جلد بازی اور میری ممتا نے مل کر ایک ایسی غلطی کو جنم دیاجس کا خمیازہ ہم دونوں کو بھگتنا پڑا۔ “
“یعنی۔۔۔ ؟” اس نے سوالیہ انداز میں ماں کی جانب دیکھا۔
“ہمیں پہلے زاہدہ کے بارے میں پوری چھان بین کرنی چاہئے تھی۔ وہ تو خیر ہوئی کہ وہ لڑکی دھوکے باز نہیں تھی ورنہ اگر وہ کوئی چالباز ہوتی اور واردات کی نیت سے آئی ہوتی تو ہم اس کے چکر میں پھنس کر اب تک مال اور عزت دونوں گنوا چکے ہوتے۔ “
“تو اب آپ جس لڑکی سے بھی میری شادی کرانا چاہتی ہیں اس کے بارے میں یہ کیسے پتہ چلے گا کہ وہ مجھ سے پہلے کسی اور کے ساتھ انوالو نہیں رہی؟”
بات چیت بڑی کھل کھلا کر ہو رہی تھی۔ بیگم صاحبہ اپنے مزاج کے خلاف اس صورتحال کا بڑے حوصلے اور برداشت کے ساتھ سامنا کر رہی تھیں۔ وجہ صرف یہ تھی کہ وہ بات کو کسی منطقی انجام تک لے جانا چاہتی تھیں۔
“تم اگر چاہو تو جس لڑکی کو پسند کرو، اس کے ساتھ تمہاری ملاقات کرائی جا سکتی ہے۔ تم دونوں ایک دوسرے کو اچھی طرح جان لو، سمجھ لو۔ پھر کسی فیصلے پر پہنچ سکو، اس کا یہ بہت اچھا راستہ ہے۔ “
“اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ وہ لڑکی ہمارے امیر گھرانے میں شادی کے لئے مجھ سے اپنا ماضی نہیں چھپائے گی۔ جھوٹ نہیں بولے گی۔ “
“اب وہم کا علاج تو حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں تھا بیٹی۔ تم ایک ہی چوٹ کھا کر تمام طبیبوں سے بد ظن ہو گئے ہو۔ اس طرح تو زندگی نہیں گزر سکتی۔ “
“اور پھر ایک آدھ ملاقات میں ہم ایک دوسرے کو کیسے مکمل طور پر جان لیں گے۔ “
“تو کیا اب سالوں کے سال چاہئیں تمہیں بیوی منتخب کرنے کے لئے؟تم کھل کر کیوں نہیں کہتے، جو تمہارے دل میں ہے؟”وہ جھنجھلا گئیں۔
“میں۔۔۔ میں۔۔۔ ” اس کی پیشانی عرق آلود ہو گئی۔
“کسی کو پسند کر چکے ہو کیا؟” وہ اس کی جانب غور سے دیکھ کر بولیں۔
“جی۔۔۔ جی ہاں۔ “سرگوشی سی ابھری۔ وہ جوتے کی ٹو سے فرش کریدنے لگا۔
“ہوں۔ کون ہے وہ؟”ان کے لہجے سے کچھ بیزاری، ناگواری اور ناپسندیدگی ظاہر تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: