Ishq Ka Qaaf Novel By Sarfaraz Ahmad Rahi – Episode 5

0
عشق کا قاف از سرفراز احمد راہی – قسط نمبر 5

–**–**–

“کسی کو پسند کر چکے ہو کیا؟” وہ اس کی جانب غور سے دیکھ کر بولیں۔
“جی۔۔۔ جی ہاں۔ “سرگوشی سی ابھری۔ وہ جوتے کی ٹو سے فرش کریدنے لگا۔
“ہوں۔ کون ہے وہ ؟ ” ان کے لہجے سے کچھ بیزاری، ناگواری اور ناپسندیدگی ظاہر تھی۔
“امبر۔۔۔ “وہ اسی طرح بولا۔
“کون امبر؟”
“میری اسٹینو۔ “
“طاہر۔۔۔ “وہ بے پناہ کڑواہٹ سے بولیں۔
“وہ بڑی اچھی لڑکی ہے امی۔ “وہ بمشکل تمام کہہ سکا۔
“زاہدہ بھی تو بری نہیں تھی۔ “وہ تلخی سے بولیں۔
“مگر امی۔۔۔ “
“ہم جانتے ہیں۔ ڈائیلاگ تمہاری زبان پر دھرے رہتے ہیں۔ ہمیں قائل کرنے کے لئے تم ایڑی چوٹی کا زور لگا دو گے لیکن یہ سوچ لو طاہر۔ ہم بار بار ایک ہی زخم نہ کھا سکیں گی۔ “وہ تلخی سے شکست خوردگی پر اتر آئیں۔
“نہیں امی۔ آپ۔۔۔ آپ۔۔۔ “
“جاؤ۔ اس وقت ہمیں تنہا چھوڑ دو۔ ہم ماں ہیں۔ جو ان اولاد کی خوشی پر ایک مرتبہ پھر اپنی انا قربان کر رہے ہیں لیکن یاد رکھنا طاہر۔ یہ آخری بار ہو رہا ہے۔ اس کے بعد ہم داؤ لگائیں گے نہ بساط کے مہرے کی طرح پٹنے پر تیار ہوں گے۔ “
“شکریہ امی جان۔ میری جیت بھی تو آپ ہی کی جیت ہے۔ “وہ اپنی خوشی کو دباتے ہوئے بمشکل کہہ سکا۔
“بس جاؤ۔ ہم کل ہی اس لڑکی کے گھر جانا چاہیں گی۔ “
“جی۔ مگر ۔ اتنی جلدی۔۔۔ ” وہ ہکلایا۔
“بکو مت۔ ہر بات میں اپنی منوانے کے عادی ہو چکے ہو۔ بس۔۔۔ کل ہم امبر کے گھر جا کر اسے دیکھنا چاہیں گے۔ “
“جی۔۔۔ بہتر۔ “وہ خفیف سا ہو گیا۔ چند لمحے کھڑا رہا۔ بیگم صاحبہ پھر کسی خیال میں کھو گئی تھیں۔ وہ آہستہ سے پلٹا اور خارجی دروازے کی جانب بڑھتا چلا گیا۔ اس کے قدموں میں لرزش اور اضطراب نمایاں تھا۔
٭٭٭٭٭٭
“اوہ۔ ساڑھے گیارہ ہو گئے۔ ” وہ ٹہلتے ٹہلتے رکا اور وقت دیکھ کر بڑبڑایا۔ اس کی بے چینی میں کچھ اور اضافہ ہو گیا۔ قدموں نے پھر قالین کی سینہ کوبی شروع کر دی۔ امبر ابھی تک نہیں آئی تھی۔ اس نے کبھی اتنی دیر نہیں کی تھی۔ اور پھر بغیر اطلاع۔ اس کا دل بار بار کسی نئے اندیشے کے بوجھ تلے دب کر رہ جاتا۔
“اگر وہ آج نہ آئی تو؟”
“نہیں نہیں۔ وہ ضرور آئے گی۔ “وہ بڑبڑایا اور نظریں پھر رسٹ واچ پر پھسل پڑیں۔ “بارہ۔ “اس کے بے چین اور بے قرار خیالات کے سانس اکھڑنے لگی۔
اس کے متحرک قدم رکے۔ داہنا ہاتھ تیزی سے کال بیل کی جانب لپکا۔ دوسرے ہی لمحے نادر کمرے میں تھا۔
“یس سر۔ “
“دیکھو۔ مس امبر ابھی تک۔۔۔ “الفاظ اس کے لبوں پر دم توڑ گئی۔ دروازے سے امبر اندر داخل ہو رہی تھی۔
“جاؤ۔ تم جاؤ۔ “وہ جلدی سے بولا اور نادر خاموشی سے باہر نکل گیا۔
“مارننگ سر۔ “وہ شوخی اور شرارت سے بھرپور آواز میں آدھے سلام کے ساتھ بولی۔
“ہوں۔۔۔ “وہ اسے دیکھتا ہوا اس کے گلاب ایسے کھلے ہوئے چہرے پر آ کر رک گیا۔ “یہ مارننگ ٹائم ہے۔ “وہ ہونٹ بھینچ کر بولا۔
جواب میں وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ اس کے سینے میں جیسے کسی نے ہلچل مچا دی۔
“سر۔۔۔ وہ۔۔۔ بات ہی ایسی تھی۔ “وہ شرما سی گئی۔
“بات۔۔۔ کیسی بات؟ اور یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے ؟”وہ اس کے دائیں ہاتھ کو دیکھ کر جلدی سے بولا۔
“یہ۔۔۔ یہ سر۔۔۔ “وہ گڑ بڑا سی گئی۔ قوس قزح کے حسین لہریے اس کے حسین چہرے پر پھیلتے چلے گئی۔ اس نے سر جھکا لیا۔ وہ اس کی پیشانی پر ابھرتے پسینے کے قطروں کو دیکھ کر الجھن میں پڑ گیا۔
“کیا بات ہے امبر؟” وہ دو قدم آگے بڑھ آیا۔
“سر۔۔۔ وہ۔۔۔ “وہ جیسے کہہ نہ پا رہی تھی۔
“ارے بولو نا۔ پھر مجھے بھی کچھ کہنا ہے۔ “
“تو پہلے آپ بتائیے۔ “وہ اسے دیکھ کر بڑے پیارے انداز میں مسکرائی۔
“اوں ہوں۔ پہلے تم۔ ” وہ نفی میں سر ہلا کر بولا۔
“نو سر۔ پہلے آپ۔۔۔ انتظار آپ کر رہے تھے، میں نہیں۔ ” وہ شوخی سے بولی۔
اور اس کا دل جیسے پسلیوں کا قفس توڑ کر سینے سے باہر آ جانے کو مچلنے لگا۔ “میں تو۔۔ “وہ خود گڑ بڑا گیا۔
“ہوں۔ کوئی خاص ہی بات ہے۔ “وہ پھر شرارت پر اتر آئی۔
“امبر۔ وہ۔ میں۔۔۔ “جسم میں ابلتا ہوا لاوا جیسے سرد پڑنے لگا۔ اچھا بیٹھو تو۔ “وہ کرسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولا۔
“جی نہیں۔ بیٹھ گئی۔ تو پھر بھاگنے میں دقت پیش آئے گی۔ ” اس نے نفی میں سر ہلایا۔
“کیا مطلب؟”
“بات ہی ایسی ہے سر۔ ” وہ پھر شرما گئی۔
“ہوں۔ ” وہ اسے بڑی عجیب اور تیز نظروں سے گھورنے لگا۔
“بتائیے نا سر۔ “وہ اس کے انداز پر کچھ جھینپ سی گئی۔
“امبر۔ “وہ کچھ دیر بعد بڑے ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولا۔ وہ اس کی جانب دیکھنے لگی۔ “امبر۔ اگر کوئی کسی کو پسند کرنے لگے تو؟”اس کی پیشانی بھیگ سی گئی۔
“تو اسے اپنا لے۔ “وہ مسکرا کر بولی۔ بڑی لاپرواہی سی۔ جیسے کوئی بات ہی نہ ہو۔
طاہر نے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔ وہ بدستور مسکراتی رہی۔
“لیکن اگر کوئی اس بات سے بے خبر ہو کہ اسے کوئی پسند کرتا ہے۔ اسے اپنانا چاہتا ہے۔ تب ؟”
“تب اسے بتا دے۔ “اس نے سیدھا سا نسخہ بتایا۔ اور وہ جھلا گیا۔
“بڑی آسان بات ہے ناں۔ “اور وہ اس کے جھنجلانے پر کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ وہ بڑے پیار سے اس کی جانب دیکھے جا رہا تھا۔
“دیکھو امبر۔ فرض کرو۔ “اس نے دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ کہنا شروع کیا۔ “فرض کرو۔ کوئی تمہیں پسند کرتا ہے۔” اس کی زبان لڑکھڑاتے لڑکھڑاتے رہ گئی۔
فقرہ ختم کر کے اس نے امبر کی جانب دیکھا۔ وہ مسکراتی ہوئی نظروں سے اس کی جانب دیکھ رہی تھی۔ گالوں پر حیا کی سرخی ضرور ابھر آئی تھی۔ اس کا حوصلہ جیسے دو چند ہو گیا۔
“تمہیں چاہتا ہے۔ تمہیں اپنانا چاہتا ہے۔ لیکن تم۔۔۔ تم اس سے بے خبر ہو۔ تمہیں کچھ بھی معلوم نہ ہو۔ “
“لیکن ہم بے خبر نہیں ہیں سر۔ “وہ شرارت بھرے انداز میں کہہ کر بے طرح شرما گئی۔
“امبر۔ “اس کا سینہ پھٹنے لگا۔ دماغ چکرا کر رہ گیا۔ ” تو کیا؟ “مسرت اس کے انگ انگ میں ناچ اٹھی۔
“یس سر۔ یہ رہا اس کا ثبوت کہ ہم بے خبر نہیں تھے۔ ہم بھی کسی کو چاہتے تھے۔ “وہ پل بھر کو رکی۔ اس کا ہاتھ پشت پر سے سامنے آیاجس میں ایک سفید لفافہ دبا ہوا تھا۔ “اوراسے حاصل بھی کر سکتے ہیں۔ “اس نے لفافہ طاہر کے ہاتھ میں تھما یا اور شرم سے سرخ رُو پلٹ کر بھاگتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔
“امبر۔ “اس کے لبوں سے ایک سرگوشی ابھری اور امبر کے پیچھے فضا میں تحلیل ہو گئی۔ بہاریں ناچ اٹھیں۔ دھڑکتا ہوا دل جھوم سا گیا۔
اس نے لرزتے ہاتھوں سے لفافہ کھولا اور۔۔۔ لڑکھڑا کر رہ گیا۔ اندھیرا اور روشنی جیسے پوری قوت آپس میں سے ٹکرا گئی۔ رات اور دن ایک دوسرے پر جھپٹ پڑے۔ آسمان اور زمین نے جگہیں بدل لیں۔ ہر شے درہم برہم ہو گئی۔
وہ بے جان سے انداز میں کرسی پر بیٹھتا چلا گیا۔ اس کی پھٹی پھٹی، بے اعتبار نگاہیں ، لفافے سے نکلنے والے کارڈ پر ٹھہر سی گئیں۔
وہ امبر کی شادی کا دعوت نامہ تھا۔
اس کی امبر، اس کی اپنی امبر، کسی دوسرے کی امانت تھی، یہ تو اسے معلوم ہی نہ تھا۔ پگلا تھا ناں۔ ہر پسند آ جانے والی شے کو حاصل کر لینے کی خواہش نے اسے ایک بار پھر ناکامی اور محرومی کا داغ دیا تھا۔ پہلی بار جلد بازی نے ایساکیا تھا اور دوسری بار شاید اس نے خود دیر کر دی تھی۔
خاموشی۔ اداسی۔ سناٹا۔ اور وہ۔ کتنے ہی لمحوں تک باہم مدغم رہی۔ شاید صدیوں تک۔
“امبر۔ ” آخر ایک سسکی اس کے لبوں سے آزاد ہوئی۔ ساکت آنکھوں کے گہرے اور ہلچل زدہ سمندر نے دھندلاہٹ کے گرداب سے چند موتی پلکوں کے کناروں پر اچھال دئیے۔ موتی دعوت نامے پر چمکتے “امبر” کے لفظ پر گرے اور پھیل گئی۔ لفظ کی چمک کچھ اور بڑھ گئی۔ رنگ کچھ اور گہرا ہو گیا۔
٭٭٭٭٭٭
“سیف بابا۔ طاہر ابھی تک نہیں آیا۔ “بیگم صاحبہ نے ناشتے کی میز پر اخبار بینی سے اکتا کر کہا۔
“جی۔ میں دیکھتا ہوں۔ “وہ ادب سے کہہ کر باہر نکل گیا۔ وہ اکتائی اکتائی نظریں پھر گھسی پٹی خبروں پر دوڑانے لگیں۔
“السلام علیکم امی جان۔ “وہ دھیرے سے کہہ کر اندر داخل ہوا۔
انہوں نے جواب دے کر آہستہ سے اس کی جانب دیکھا اور بے ساختہ چونک اٹھیں۔ وہ ان کی نظروں کی چبھن سے گھبرا گیا۔ نگاہیں جھکا کر اپنی سرخ سرخ پر پردہ ڈالتے ہوئے وہ آگے بڑھا اور کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔
وہ بغوراس کا جائزہ لیتی رہیں۔ تنا ہوا چہرہ۔ شب بیداری کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ سرخ سرخ انگارہ آنکھیں۔ جیسے بہت بڑا سیلاب روکے بیٹھی ہوں۔ تھکے تھکے قدم۔ جواری کے سب کچھ ہار جانے کا پتہ دے رہے تھے۔ “مگر کیوں ؟”وہ اس کا جواب ڈھونڈھنے میں ناکام رہیں۔
“تم نے ابھی کپڑے نہیں بدلے؟”دھڑکتے دل کے ساتھ ان کی زبان سے نکلا۔
“ناشتے کے بعد بدل لوں گا امی۔ “وہ آہستہ سے بولا اور اخبار پر نظریں جما دیں۔
“طاہر۔ “ان کا لہجہ عجیب سا ہو گیا۔
“جی۔ “وہ سنبھل گیا۔
“کیا بات ہے؟”
“کچھ بھی تو نہیں امی۔ ” وہ پہلو بدل کر رہ گیا۔
“واقعی۔۔۔ ؟” وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولیں۔
وہ نگاہیں چرا کر رہ گیا۔ “جی۔۔۔ جی ہاں امی۔ کوئی خاص بات نہیں۔ “
“ناشتہ کرو۔ “وہ چائے دانی کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے دھیرے سے بولیں۔
“میں صرف چائے پیوں گا۔ “
اور بیگم صاحبہ کا توس والی پلیٹ کی جانب بڑھتا ہوا ہاتھ رک گیا۔ ایک لمحے کو انہوں نے سر جھکائے بیٹھی، مضطرب اور بے چین بیٹے کی جانب دیکھا۔ پھر ہاتھ کھینچ لیا۔ انہوں نے بھی صرف چائے کے کپ پر اکتفا کیا۔ خاموشی گہری ہوتی گئی۔ خالی کپ میز پر رکھ کر وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
“ٹھہرو۔ “ایک تحکم آمیز آواز نے اسے بت بنا دیا۔
“جی۔ “وہ پلٹے بغیر بولا۔
“بیٹھ جاؤ۔ “
اور وہ کسی بے جان شے کی طرح پھر کرسی پر گر پڑا۔
“کل ہم نے تم سے کچھ کہا تھا۔ “
“جی۔ ” اضطراب کی حالت میں پہلو بدل کر وہ ایک نظر ان کی جانب دیکھ کر رہ گیا۔
“لیکن اب ہم نے اپنے پروگرام میں کچھ تبدیلی کر دی ہے۔ “
“جی۔ ” وہ کچھ بھی نہ سمجھا۔
“ہم لڑکی کے گھر جانے سے پہلے اسے کہیں اور ایک نظر دیکھنا چاہتے ہیں۔ “
“امی۔ “وہ تڑپ کر کھڑا ہو گیا۔
وہ پُرسکون انداز میں اسے دیکھتی رہیں۔ “تمہیں اعتراض ہے کیا؟”
“مجھے۔۔۔ نہیں تو امی۔ “
“تو جلدی سے تیار ہو کر آ جاؤ۔ ہم تمہارے ساتھ آفس چلیں گے۔ “ایک ہتھوڑا سا اس کے ذہن پر برسا۔
“مگر امی۔۔۔ “اس نے کچھ کہنا چاہا۔
“ہم اسے آج۔۔۔ ابھی۔۔۔ اسی وقت دیکھنے جانا چاہتے ہیں۔ “
“چند روز رک نہیں سکتیں آپ؟”وہ گھٹی گھٹی آواز میں بولا۔
“وجہ؟”بڑے جابرانہ انداز میں استفسار کیا گیا۔
“اسے۔۔۔ “وہ ایک پل کو رکا۔ “دلہن بنا دیکھ لیجئے گا اسے۔ “
“ہم سمجھے نہیں۔ “وہ واقعی حیرت زدہ رہ گئیں۔
اور جواب میں طاہر کا ہاتھ گاؤن کی جیب سے باہر نکل آیا۔ اس سے کارڈ لیتے ہوئے ان کا ہاتھ نجانے کیوں کانپ گیا۔ وہ تیزی سے چلتا ہوا کمرے سے نکل گیا۔ یہ دیکھنے کی اس میں ہمت نہیں تھی کہ کارڈ دیکھ کر بوڑھی چٹان ایک مرتبہ پھر لرز کر رہ گئی تھی۔
“طاہر۔ “ماں کے لبوں پر ایک آہ مچلی اور نظروں کے سامنے دھوئیں کی دیوار بن کر پھیل گئی۔ وہ دھندلائی ہوئی آنکھوں سے اپنے لرزتے ہاتھوں میں کپکپاتے اس پروانہ مسرت کو دیکھ رہی تھیں جو ان کی ہر خوشی کے لئے زہر بن گیا تھا۔
“یہ۔۔۔ یہ سب کیا ہوا میرے بدنصیب بیٹے۔ کیا ہو رہا ہے یہ سب ؟کیوں ہو رہا ہے؟ کب تک ہوتا رہے گا؟”کتنی ہی دیر تک ایک بے جان بت کی مانند بیٹھے رہنے کے بعد وہ آہستہ سے بڑبڑائیں۔
“جب تک میری ہر دھڑکن تنہائی اور محرومی سے آشنا نہیں ہو جاتی۔ تب تک یہ ہوتا رہے گا امی۔ “وہ ان کے سامنے کھڑا تھا۔
وہ اسے دکھی دکھی نظروں سے گھورتی رہ گئیں۔ وہ مسکرا رہا تھا۔ نجانے کس طرح؟
“اللہ حافظ امی۔ “وہ دروازے کی جانب پلٹ گیا۔
وہ تب بھی پتھر کی طرح ساکت بیٹھی رہیں۔ خاموش اور بے حس و حرکت مجسمے کی مانند۔ کسی سحر زدہ معمول کی طرح۔ بالکل ایسی۔ جیسے غیر معمولی صدمے کے سحر نے ایک جاندار کو بے جان شے میں تبدیل کر دیا ہو۔
٭٭٭٭٭٭٭
“بنو۔ ان دنوں باہر نہیں نکلا کرتی۔ درخواست ہی دینا تھی تو مجھے کہہ دیا ہوتا۔ ” رضیہ نے شرارت سے امبر کے بازو پر چٹکی لیتے ہوئے کہا اور اس کے لبوں سے سسکی نکل گئی۔
“اری۔ درخواست کا تو صرف بہانہ ہے۔ اس کا گھر پر دل ہی کہاں لگتا ہے۔ غلامی سے پہلے جی بھر کر آزادی منا لینا چاہتی ہے۔ ” انجم نے اپنی بڑی بڑی آنکھیں مٹکاتے ہوئے کہا تو وہ بے بسی سے اس کی طرف دیکھ کر رہ گئی۔
“ہائی۔ یہ شب بیدار آنکھیں ضرور ہمارے دولہا بھیا کی شرارتوں کی تصویریں بناتے بناتے سرخ ہوئی ہیں۔ واللہ۔ محبت ہو توایسی ہو۔ “نجمہ نے اس کی آنکھوں کے سامنے انگلی نچاتے ہوئے کہا۔ باقی تینوں نے بھی اسی کی ہاں میں ہاں ملائی۔
“دیکھو۔ خدا کے لئے مجھے بخش دو۔ “اس نے فریادیوں کے انداز میں ہاتھ جوڑ کر ان سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کی۔
“اوں ہوں۔ بی بی۔ ہم سے تو آج کل میں پیچھا چھڑا لو گی مگر وہ جو تمام عمر تمہارے پیچھے لٹھ لئے بھاگتے پھریں گی، ان کے بارے میں کیا خیال ہے ؟”نجمہ نے کہا تو وہ شرم سے لجا کر رہ گئی۔
“ہائی۔ اب ہمارے صاحب کا کیا بنے گا؟ وہ تو دیوداس بن کر رہ جائیں گی۔ پھر یہ آفس امپورٹ ایکسپورٹ کے بجائے تان سین کا ڈیرہ بن کر رہ جائے گا۔ ” رضیہ نے دل پر ہاتھ رکھ کر بڑی ادا سے کہا۔
“بکو مت۔ ” وہ ایکدم سنجیدہ ہو گئی۔ “مذاق میں بھی ان کے بارے میں ایسی بیہودہ گفتگو مت کیا کرو۔ “اس نے جیسے اسے ڈانٹ دیا۔
“اے فلسفہ بیگم۔ “انجم نے اس کے باز پر زور سے چٹکی لی۔ “مذاق کو اتنا سیریس کیس مت بنایا کرو۔ ہم بھی جانتی ہیں کہ وہ تمہارے لئے ہی نہیں ہمارے لئے بھی دنیا میں شاید ماں باپ کے بعد سب سے زیادہ قابل احترام ہستی ہیں۔ ہم تم سے زیادہ چاہتے ہیں انہیں۔ “اور سب کی سب مسکرا دیں۔
“ارے۔ صاحب آ گئے۔ ” اچانک نجمہ نے دروازے کی جانب اشارہ کیا تو وہ چاروں سنبھل کر کھڑی ہو گئیں۔ اس وقت وہ سب امبر کے کیبن میں تھیں۔
“بی پجارن۔ دیوتا کا سواگت کرو ناں جا کر۔ ان کے چرنوں میں اپنی ایپلی کیشن کے پھول چڑھاؤ۔ انکار تو وہ کر ہی نہیں سکیں گے۔ ” رضیہ نے اسے کہنی سے ٹھوکا دے کر آہستہ سے کہا۔
“بکو مت۔ ” وہ جھینپ سی گئی۔
طاہر پل بھر کو ہال میں رکا۔ لڑکیوں کی تمام سیٹیں خالی دیکھ کر ایک لمحے کو اس نے کچھ سوچا۔ پھر اپنے آفس کی جانب بڑھتا چلا گیا۔ تمام لوگ اس کے کمرے میں جاتے ہی اپنی سیٹوں پر بیٹھ گئے۔
“چلو۔ اب اپنا اپنا کام کرو جا کر۔ میری جان بخشو۔ “وہ اپنا خوبصورت چھوٹا سا شولڈر بیگ اٹھا کر دروازے کی جانب بڑھی۔
“جی ہاں۔ اب آپ مندر جا رہی ہیں۔ “نجمہ نے شرارت سے کہا اور سب کا مشترکہ ہلکا سا قہقہہ گونج کر رہ گیا۔
“بکتی رہو۔ ” کہہ کر وہ باہر نکل گئی۔
“چلو بھئی۔ وہ تو گئی۔ اب کام شروع کریں۔ سیزن کے دن ہیں۔ بہت کام ہے۔ ” وہ سب بھی چل دیں۔
دروازہ دھیرے سے کھلا۔ “مارننگ سر۔ “وہ اندر آتے ہوئے آہستہ سے بولی۔
“او ہ۔ امبر تم۔۔۔ آؤ آؤ۔ “وہ دھیرے سے مسکرا دیا۔ امبر دھڑکتے دل کے ساتھ نظریں جھکائے آگے بڑھی اور ایک کرسی کی پشت تھام کر کھڑی ہو گئی۔
“بیٹھو۔ “وہ عجیب سی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا اور نجانے کیوں نچلا ہونٹ دانتوں میں داب لیا۔
امبر نے کچھ کہنے کے لئے چہرہ اوپر اٹھایا، لب کھولے مگر اسے اپنی طرف دیکھتا پا کر شرما گئی۔ اس کا سر پھر جھک گیا۔ پھر وہ آہستہ سے کرسی پر بیٹھ گئی۔ وہ بھی اپنی سیٹ پر چلا آیا۔ کتنی ہی دیر خاموشی چھائی رہی۔ پھر امبر کی آواز نے اسے چونکا دیا۔
“سر۔ “
“ہوں۔ “وہ پیپرویٹ سے کھیلتے کھیلتے رک گیا۔ “کیا بات ہے؟” اس نے مسکرا کر امبر کی آنکھوں میں دیکھا۔
“جی۔۔۔ وہ۔۔۔ وہ سر۔ ” وہ ہکلا گئی۔
“کیا ہو گیا ہے تمہیں ؟”وہ ہنس دیا۔ “شادی ہر لڑکی کی ہوتی ہے۔ شرم و حیا ہر لڑکی کا زیور ہوتا ہے لیکن تم تو سب پر بازی لے گئیں۔”
وہ سر جھکائی، بیر بہوٹی بنی، ناخن سے شیشے کی ٹاپ کریدتے ہوئے، نچلا ہونٹ دانتوں سے کاٹتے ہوئے اس کی آواز کی مٹھاس میں گم ہو گئی۔
“اور پھر اپنوں سے کیا شرمانا امبر۔ ہم نے ایک عرصہ ساتھ ساتھ گزارا ہے۔ اچھے دوستوں ، اچھے ساتھیوں کی طرح۔ “وہ ایک پل کو رکا۔ “ہاں۔ اب کہو۔ لیکن شرمانا نہیں۔ ” وہ اسے تنبیہ کرتے ہوئے بولا تو وہ شرمیلی سی ہنسی ہنس دی۔
“سر۔۔۔ یہ۔۔۔ ” اس نے بیگ کھول کر ایک کاغذ نکالا اور اس کی طرف بڑھا دیا۔
“یہ کیا ہے؟” وہ اسے تھامتے ہوئے حیرت سے بولا۔
“ایپلی کیشن سر۔ “
“کیسی ایپلی کیشن؟”
“چھٹی کی سر۔ “
“ارے چھوڑو بھی۔ ” اس نے ایک جھٹکے سے اس کے دو اور پھر چار ٹکڑے کر کے باسکٹ میں پھینک دئیے۔
“سر۔ مگر ۔۔۔ “
” آفس کی کارروائی مکمل کرنے کے لئے ایسے تکلفات کی ضرورت ہوتی ہے امبر۔۔۔ لیکن تم ان ملازموں میں شمار نہیں ہوتیں جن کے لئے ایسی کارروائیوں کا اہتمام لازم ہو۔ تم نے جس طرح میرے ساتھ مل کر THE PROUD جیسے پراجیکٹ کو کامیابی سے ہمکنار کیا ہے، اس کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ ہم ایسے تکلفات میں وقت ضائع کیا کریں۔ “
“سر۔ “حیرت اور مسرت سے اس کی آواز لڑکھڑا گئی۔
“ہاں امبر۔ میں نے اس آفس کے ہر فرد کو اپنا سمجھا ہے۔ اپنا جانا ہے اور تم۔۔۔ تم تو وہ ہو، جو میری زندگی اور موت کے درمیان سینہ تان کر آ کھڑی ہوئی تھیں۔ “وہ اپنی سیٹ سے اٹھ کر کھڑکی میں جا کھڑا ہوا۔ “تم نے ایک مرتبہ مجھے دیوتا کہا تھا امبر لیکن مجھے ایسا لگتا ہے، دیوی تم ہو۔ پیار کی۔ وفا کی۔ رفاقت کی۔ تم میرے لئے ایک ایسی مخلص دوست ہو امبر، جس کے ہر پل کی رفاقت مجھ پر احسان ہے۔ اور دوستوں میں ، محبت کرنے والوں میں یہ رسمیں بڑی بور لگتی ہیں۔ لگتی ہیں نا۔ “وہ اس کے قریب چلا آیا۔
“سر۔ “اس کی آنکھوں میں تشکر امڈ آیا۔
“پگلی۔ “وہ ہولے سے مسکرایا اور سیدھا ہو گیا۔ “کتنے دنوں کی چھٹی چاہیے تمہیں ؟ “وہ شریر سے لہجے میں بولا۔
اور امبر نے ناخنوں سے میز کی سطح کو کریدتے ہوئے سر جھکا لیا۔ “ایک۔۔۔ ایک ہفتے کی سر۔ ” وہ بمشکل کہہ پائی۔
“با۔۔۔۔۔ س۔ “وہ لفظ کو کھینچ کر بولا۔ ” آج دس تاریخ ہے۔ “وہ کلائی پر بندھی گھڑی میں تاریخ دیکھتے ہوئے بولا۔ “بارہ کو شادی ہے۔ دو دن یہ گئے۔ اور باقی بچے صرف پانچ دن۔ ” وہ بڑبڑاتے ہوئے رکا۔ “ارے۔ صرف پانچ دن۔ ” وہ حیرت اور بھولپن بھری شرارت سے اس کے سامنے ہاتھ کھول کر نچاتے ہوئے بولا۔
“سر۔۔۔ ” وہ جھینپ سی گئی۔ طاہر زور سے ہنس دیا۔
“تمہیں ایک ماہ کی رخصت دی جاتی ہے۔ “وہ شاہانہ انداز سے بولا۔
“مگر سر۔۔۔ “
“کچھ نہیں۔ کوئی بات ہے بھلا۔ شادی ہو اور صرف پانچ دن بعد پھر ڈیوٹی سنبھال لی جائے۔ “
“مگر میں کچھ اور کہہ رہی تھی سر۔ “
“ہاں ہاں۔ کچھ اور کہو۔ بڑے شوق سے کہو۔ “
“وہ سر۔۔۔ وہ۔۔۔ وہ نہیں چاہتے کہ میں شادی کے بعد بھی جاب کروں۔ “وہ بڑے اداس لہجے میں بولی۔
اور۔۔۔ اس کے دل کو دھچکا سا لگا۔ ایک پل کو اس کے چہرے پر جیسے خزاں کا رنگ بکھر گئے مگر دوسرے ہی لمحے وہ سنبھل گیا۔ اس کے کانپتے لبوں پر ایک کرب آلود مسکراہٹ تیر گئی۔ اس نے ہونٹوں کو زور سے بھینچ لیا اور یوں اثبات میں سر ہلایا جیسے کسی انجانی صدا پر لبیک کہہ رہا ہو۔ پھر وہ آہستہ سے نامحسوس مگر درد بھرے انداز میں ہنس دیا۔
“ٹھیک ہی تو کہتے ہیں۔ “وہ جیسے اپنے آپ سے کہہ اٹھا۔ “پھر۔۔۔ کب سے ہمارا ساتھ چھوڑ رہی ہو؟” وہ پھر مسکرادیا۔
” آپ کا ساتھ تو مرتے دم تک رہے گا سر۔ دوستوں سے ایسی باتیں نہ کیا کیجئے۔ “وہ افسردگی سے مسکرادی۔
وہ چند لمحوں تک اسے عجیب نظروں سے گھورتا رہا۔ “اس کا مطلب ہے۔ “وہ پہلو بدل کر بولا۔ “کہ تم صرف یہی مہینہ ہمارے ساتھ ہو جس کے دس دن گزر چکے ہیں۔ “
“یس سر۔ “
“ہوں۔ ” وہ بجھ سا گیا۔ “ٹھیک ہے امبر۔ “کچھ دیر بعد وہ ایک طویل اور سرد آہ بھر کر گویا ہوا۔ “ہم میں سے کوئی بھی تمہیں بھول نہ سکے گا۔ “
“سر۔ “اس کی آواز تھرا گئی۔
“ارے ہاں۔ “وہ بات بدل گیا۔ “یہ تو میں نے پوچھا ہی نہیں کہ تمہارے وہ کرتے کیا ہیں ؟”
اور جذبات کے ریلے میں بہتی ہوئی امبر ساحلِحواس پر آ گری۔ “وہ کالج میں لیکچرار ہیں سر۔ “اس نے آہستہ سے کہا۔
“ہوں۔ “وہ پھر کسی خیال میں ڈوب گیا۔
” آج کی ڈاک سر۔ “نادر نے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا اور ڈاک میز پر رکھ کر واپس لوٹ گیا۔ وہ ایک طویل سانس لے کر سیدھا ہو بیٹھا۔ ڈاک ایک جانب سرکا کر اس نے امبر کی طرف دیکھا۔ دونوں کی نظریں ملیں اور جھک گئیں۔
“امبر۔ “
“یس سر۔ “
“میں کچھ کہوں۔ برا تو نہ مانو گی۔ “
“کیسی باتیں کرتے ہیں آپ سر۔ “
“امبر۔۔۔ میں۔۔۔ “وہ کہتے کہتے رکا۔ “میں تمہاری شادی میں نہ آ سکوں گا۔ “
“کیوں سر؟” وہ تڑپ سی گئی۔
“مجھے گاؤں جانا ہے امبر۔ وہاں نجانے کتنے دن لگ جائیں۔ “اس نے بڑی ہمت کر کے جھوٹ بولا۔ “لیکن میں اس سے پہلے تمہارے اعزاز میں ایک شاندار پارٹی دینا چاہتا ہوں امبر۔ “
“سر۔ وہ سب ٹھیک ہے۔ مگر ۔ آپ۔۔۔ “
“مجھے احساس ہے امبر۔ لیکن یقین کرو، وہ کام اتنا ہی اہم اور وقت طلب ہے کہ میں مجبور ہو گیا ہوں۔ “وہ میز کے کونے پر بیٹھ گیا۔ “دیکھو۔ تم جس طرح چاہو، میں تم سے معذرت کرنے کو تیار ہوں لیکن خدارا، مجھ سے خفا مت ہونا۔ تم کہو تو میں اپنا کام چھوڑ کر تمہاری خوشی میں شریک ہونے کو چلا آؤں گا لیکن تم مجھ سے ناراض مت ہونا۔ “وہ اداس اور التجا آمیز لہجے میں بولا۔
“نہیں سر۔ میں آپ سے ناراض کیسے ہو سکتی ہوں ؟ آپ اپنا کام التوا میں مت ڈالئے لیکن اس کے لئے آپ کو میری بھی ایک بات ماننا پڑے گی۔ “
“ہاں ہاں ، کہو۔ “
“شادی کے بعد میں آپ کے اعزاز میں ایک پارٹی دوں گی، جس کے لئے آپ کوئی بہانہ نہ بنا سکیں گی۔ “
وہ چند لمحوں تک اس کی پُر امید آنکھوں میں جھانکتا رہا۔ “ٹھیک ہے۔ “وہ میز سے اٹھ گیا۔ وہ کھل اٹھی۔
“لیکن۔۔۔ “
“لیکن کیا سر؟”بے تابی سے اس نے پوچھا۔
“پارٹی یہاں ، اسی آفس میں دی جائے گی۔ تمام انتظام میرا ہو گا اور تم اور تمہارے وہ مہمان خصوصی ہوں گے۔ “
“بالکل نہیں سر۔ “وہ مچل سی گئی۔ “پہلی بات تو ٹھیک ہے لیکن باقی دونوں باتیں غلط ہیں۔ پارٹی ہم دیں گے اور مہمان آپ ہوں گے۔ “
“غلط۔ بالکل غلط۔ جا تم رہی ہو۔ اور الوداعی پارٹی جانے والے کے اعزاز میں دی جاتی ہے۔ لہذا میرا حق پہلے بنتا ہے۔ “
“وہ حق تو آپ پارٹی دے کر استعمال کر ہی رہے ہیں سر۔ “
“نہیں۔ یہ رسمی پارٹی ہے۔ بعد کی پارٹی اعزازی اور خاص ہو گی۔ “
“سر۔ ” وہ جیسے ہارتے ہارتے جیت کی امید پر بولی۔ “سب کچھ تو آپ لے گئے سر۔ ہمارے ہاتھ کیا آیا؟” اس نے منہ بنا کر کہا۔
“تمہارے حصے میں ہماری دعائیں ، ہماری محبتیں ، ہمارے جذبات یعنی یہ کہ خدا کرے تم اور تمہارے”وہ” پھلو پھولو۔ دودھوں نہاؤ پوتوں پھلو۔ ہماری خوشیاں بھی خدا تمہیں دے دی۔ وغیرہ وغیرہ۔ “
“سر۔ ” اس نے شرما کر دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا لیا۔ پھر کچھ دیر بعد اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ سوالیہ انداز میں اس کی طرف دیکھنے لگا۔
“اب میں چلوں گی سر۔ “وہ سر جھکا کر بولی۔
اورجیسے طاہر کے دل کو کسی نے مٹھی میں مسل ڈالا۔ کتنی ہی دیر تک وہ اسے گھورتا رہا۔ زاہدہ بھی تو یوں ہی گئی تھی۔
“جاؤ۔ ” اس کے لب کپکپا گئے۔
اس نے جھکی ہوئی نظریں اٹھائیں۔
“سر۔ ” پلکوں پر تیرتے موتی لرز گئی۔ طاہر پھیکی سی مسکراہٹ لبوں پر بکھیر کر رہ گیا۔ پھر اس کی پلکوں کے گوشے بھی نم ہو گئے۔ شاید، ضبط کا آخری بند ٹوٹنے کو تھا۔
“اللہ حافظ۔ “اس نے بے ساختہ کہا۔
“سر۔ “وہ بہت اداس ہو رہی تھی۔
ہارا ہوا جواری، اپنے غلط داؤ پر اس مرتبہ بھی پٹ گیا تھا اور اب شاید اس کا دامن، ہر آرزو، تمنا اور خواہش سے خالی ہو چکا تھا۔ اسی لئے تو وہ اپنی غیر متوقع ہار کا انجام دیکھ کر اتنے تلخ انداز میں مسکرایا تھا کہ اس کے جذبات پر نا امیدی کی ایک سرد تہہ جمتی چلی گئی تھی۔
وہ آفس سے نکل آیا۔ بے مقصد ادھر ادھر کار بھگائے پھر تا رہا، جو لمحہ بہ لمحہ سپیڈ پکڑتی جا رہی تھی۔ اس کی پتھرائی ہوئی آنکھیں تیزی سے پیچھے بھاگتی ہوئی سڑک پر منجمد تھیں۔ ذہن، دل، خیالات، جذبات۔ ایک جنگ تھی جو اس کی سوچ اور احساس کے مابین شدت سے جا رہی تھی۔
“تم پھر ہار گئے۔ “
“جیت تمہاری تقدیر میں نہیں۔ “
“تم زندگی بھر یونہی تنہائیوں میں بھٹکتے رہو گے۔ “
“تمہارا دامن محبت سے سدا خالی رہے گا۔ “
“تم ساری عمر تشنہ رہو گے۔ “
“تم سراپا ہار ہو۔ اپنے لئے، اپنی ہر آرزو کے لئے، اپنی ہر تمنا کے لئے، اپنے ہر جذبے کے لئے۔ داؤ لگانا چھوڑ دو۔ تم اناڑی جواری ہو۔ تمہاری خواہشات کی تاش کا ہر پتہ بے رنگ ہے۔ بے وفا ہے۔ “
“کوئی نہیں آئے گا جو تمہیں اپنے د ل کے نہاں خانے میں محبت کے نام پر سجا لے۔ تم دیوتا ہو۔ انسان نہیں۔ لوگ تمہارا احترام تو کرتے ہیں ، تم سے محبت نہیں کرتے۔ کسی کی محبت تمہارے مقدر میں لکھی ہی نہیں گئی۔ “
“تم بن منزل کے لٹے پٹے مسافر ہو۔ منزل کی تلاش چھوڑ دو۔ چھوڑ دو۔ منزل کی تلاش چھوڑ دو۔ چھوڑ دو۔ چھوڑ دو۔ “
کار کے بریک پوری قوت سے چیخے اور بھاگتی ہوئی کار الٹتے الٹتے بچی۔
گھر آ چکا تھا۔
وہ یوں ہانپ رہا تھا، جیسے میلوں دور سے بھاگتا آیا ہو۔ چہرہ پسینے میں شرابور اور سانس دھونکنی کی مانندچل رہا تھا۔ اس کے ہاتھوں کی گرفت اسٹیئرنگ پر سخت ہوتی چلی گئی۔ پھر اس نے اپنا سراسٹیئرنگ پر دے مارا۔ کتنی ہی دیر تک وہ بے حس و حرکت پڑا رہا۔ پھر آہستہ سے اس نے چہرہ اوپر اٹھایا۔ اب وہ بالکل پُرسکون تھا۔ طوفان تھم گیا تھا۔ بادل چھٹنے لگے تھے۔ اس کے ہاتھ کو حرکت دی۔ ہارن چیخ اٹھا۔
چند لمحوں بعد گیٹ کھل گیا۔ وہ کار اندر لیتا چلا گیا۔ کار کو گیراج میں بند کر کے وہ داخلی دروازے سے ہال میں رکے بغیر سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔
“صاحب۔ بیگم صا حبہ کھانے پر آپ کا انتظار کر رہی ہیں۔ “سیف بابانے کمرے میں داخل ہو کر کہا۔
“ان سے کہو، مجھے بھوک نہیں۔ وہ کھا لیں۔ “اس نے بجھے بجھے لہجے میں کہا۔
“صاحب۔ وہ تبھی سے بھوکی ہیں جس دن سے آپ نے کھانا چھوڑ رکھا ہے۔ “
“کیا۔۔۔ ؟تمہارا مطلب ہے انہوں نے پرسوں سے کچھ نہیں کھایا۔ “
“جی ہاں صاحب۔ ایسا ہی ہے۔ “
وہ تیزی سے دروازے کی طرف لپکا۔ بیگم صاحبہ سرجھکائے میز پر بیٹھی جانے کیا سوچ رہی تھیں۔ اس کے آنے کی آہٹ سن کر انہوں نے سر اٹھایا۔
“امی۔۔۔ ” وہ بے تابی سے کچھ کہتے کہتے رک گیا۔ سر جھک گیا۔ آہستہ سے آگے بڑھ کر وہ کرسی پر بیٹھ گیا۔ وہ چند لمحوں تک اسے بڑی درد بھری نظروں سے گھورتی رہیں۔
“کھانا کھائیے امی۔ ” پلیٹ سیدھی کرتے ہوئے وہ ان کی نظرو ں کی چبھن سے گھبرا گیا۔
ایک طویل سانس لے کر انہوں نے پلیٹ کی طرف ہاتھ بڑھا دیا۔ دونوں نے خاموشی سے اور بہت کم کھایا۔ سیف نے میز صاف کردی۔ طاہر نے بے قراری سے پہلو بدلا۔ انہوں نے ایک طائرانہ نظر اس پر ڈالی۔
“جاؤ۔ سوجاؤ جا کر۔ رات کافی جا چکی ہے۔ “
اس نے کچھ کہنے کو منہ کھولا مگر۔۔۔ نظریں ملتے ہی وہ خاموش ہو گیا۔ آہستہ سے اٹھ کر چل دیا۔ پھر رکا۔ ایک نظر پلٹ کر دیکھا۔ وہ اسی کی جانب دیکھ رہی تھیں۔ تب وہ نہ چاہتے ہوئے بھی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
“پگلا کہیں کا۔ “وہ دھیرے سے بڑبڑائیں اور کسی گہری سوچ میں ڈوبتی چلی گئیں۔
٭٭٭٭٭٭٭

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: