Ishq Ka Qaaf Novel By Sarfaraz Ahmad Rahi – Episode 6

0
عشق کا قاف از سرفراز احمد راہی – قسط نمبر 6

–**–**–

آج پورے سات دن بعد وہ آفس آیا تھا۔ یہ دن اس نے گھر پر اپنے کمرے میں قید رہ کر گزارے تھے۔
وہ کسی گہری سوچ میں گم بیٹھا تھا۔ نادر کب کا ڈاک دے کر جا چکا تھا مگر اس نے اس کی جانب نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھا تھا۔
“ٹر۔ ر۔ رن۔ ٹرن۔ ٹرر۔ رن۔ “ٹیلی فون کی چیختی ہوئی آواز نے اس کے سکوت کا سلسلہ درہم برہم کر دیا۔
“ہیلو۔ “ریسیور کان سے لگاتے ہوئے اس نے تھکی تھکی آواز میں کہا۔
“مارننگ سر۔ “ایک دلکش اور خوبصورت، جانی پہچانی آواز سن کر وہ
چونکا۔
“امبر۔۔۔ ” اس کے لرزتے لبوں سے بے ساختہ نکلا۔ پھر دوسرے ہی لمحے وہ سنبھل گیا۔ “ہیلو امبر۔ ” اس نے پُرسکون لہجے میں کہا۔
“کیسے ہیں سر؟”وہ چہکتی ہوئی سی محسوس ہوئی۔
“ٹھیک ہوں۔ وہ مسکرایا۔ “تم کہو۔ سب کچھ ٹھیک ٹھاک رہا ناں۔ “
” آپ کی عدم موجودگی بڑی بری طرح محسوس کی جاتی رہی سر؟”
“ہوں۔ ” وہ ہولے سے پھر مسکرا دیا۔ “میں تو وہیں تھا امبر۔ تم نے محسوس ہی نہیں کیا۔ “
“ایسا نہ کہئے سر۔ ” وہ بات سمجھ نہ سکی اور جلدی سے بولی۔
“اور کہو۔ تمہارے “وہ” کیسے ہیں ؟” نہ چاہتے ہوئے بھی وہ شگفتگی سے بولا۔
” سر۔ ” وہ شاید شرما گئی تھی۔ طاہر نے نچلا ہونٹ دانتوں میں داب لیا۔ ” آپ فارغ ہیں آج شام کو؟” کچھ دیر بعداس کی آواز سنائی دی۔
“کیوں۔ کوئی خاص بات؟” اس کا دل دھڑکا۔
” آپ بتائیے ناں سر۔ ” وہ مچلی۔
“کوئی اہم مصروفیت تو نہیں ہے مجھے۔ ” وہ سوچ کر بولا۔
“تو بس۔ آج رات کا کھانا آپ ہمارے ہاں ، ہمارے ساتھ کھا رہے ہیں۔ “
“مگر امبر۔ ” وہ گڑ بڑا گیا۔
“دیکھئے سر۔ انکار مت کیجئے۔ پہلے ہی آپ بہت زیادتی کر چکے ہیں۔ “
“تمہارے “وہ” بھی ہوں گے؟”
“ان ہی کا تو حکم ہے۔ “
“تو اس کا مطلب ہے تم مجبوراً بلا رہی ہو۔ “وہ ہنس پڑا۔ “اگر وہ نہ کہتے تو۔۔۔ “
“کیسی باتیں کرتے ہیں سر؟” وہ بے چین سی ہو گئی۔ “وہ تو انہوں نے۔۔۔ “
“اچھا اچھا ٹھیک ہے۔ مذاق کر رہا تھا۔ میں پہنچ جاؤں گا۔ “
” سات بجے تک پہنچ جائیے گا۔ “
“اور کون کون انوائٹ ہے؟” اس نے بات اڑا دی۔
” آج کی شام صرف آپ کے نام ہے سر۔ ” سن کر وہ مسکرا دیا۔
“تو پھر آپ آ رہے ہیں ناں ؟”
“حلف اٹھا لوں۔ “طاہر نے کہا تو امبر ہنس دی۔
“اچھا سر۔ شام تک اللہ حافظ۔ “اس نے اسے اپنے سسرالی مکان کا پتہ لکھوا کر کہا۔
“اللہ حافظ۔ “اس نے دھیرے سے کہا۔ امبر نے رابطہ کاٹ دیا مگر وہ کتنی ہی دیر تک ریسیور کان سے لگائے بیٹھا رہا۔
“سر۔ دستخط کر دیں۔ “کلرک نے اس کے سامنے فائل رکھتے ہوئے کہا تو طاہر نے چونک کر اس کی جانب دیکھا۔ ایک طویل سانس لے کر اس نے ریسیور کریڈل پر رکھا اور فائل پر نظریں دوڑانے لگا۔ پھر قلم اٹھایا اور دستخط کر دئیے۔ وہ فائل لئے باہر نکل گیاتواس نے دونوں ہاتھ سر کے پیچھے رکھتے ہوئے کرسی کی پشت سے ٹک کر آنکھیں موند لیں۔
سوچیں۔ لامتناہی سوچیں۔ تنہائی۔ ویران تنہائی اور وہ خود۔
یہی تو تھی اس کی مختصر اور محدود سی دنیا۔
٭٭٭٭٭٭
کار آہستگی سے رکی۔ وہ باہر نکلا۔ ادھر ادھر نظریں دوڑائیں۔ چھوٹی سی خوبصورت کالونی تھی۔ ایک ایک دو دو منزلہ عمارتیں بڑی ترتیب اور خوبی کے ساتھ کھڑی کی گئی تھیں۔ ٹی شرٹ اور پتلون میں وہ بیحد سمارٹ لگ رہا تھا۔ سر کے بالوں کو ہاتھ سے سنوارتے ہوئے وہ چل پڑا۔ پانچ چھ مکان چھوڑ کر وہ ایک دو منزلہ خوبصورت اور بالکل نئے مکان کے دروازے پر رک گیا۔
“پروفیسر قمر واصف۔ “اس نے نیم پلیٹ پر نظر دوڑائی اور ڈگریاں پڑھے بغیر ہی کال بیل پر انگلی رکھ دی۔ ایک منٹ سے بھی کم وقت لگا۔ کسی کے تیز تیز قدموں کی آوازیں سنائی دیں اور دروازہ کھل گیا۔
“ایوننگ سر۔ “وہی مخصوص پیارا سا انداز۔ امبر کا ہاتھ ماتھے پر تھا۔
وہ اسے گھور کر رہ گیا۔
” آئیے سر۔ ” امبر کی آنکھوں کی چمک بڑھ گئی۔ وہ چونک پڑا۔ بے ساختہ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی۔
“ایوننگ۔ “دھیرے سے کہہ کر اس نے قدم بڑھا یا۔
وہ اسے لئے ہوئے ڈرائنگ روم میں پہنچی۔ ” آپ بیٹھئے سر۔ میں ان کو خبر کرتی ہوں۔ ” وہ نظریں چرا کر باہر نکل گئی۔
وہ دل کا درد دل میں دبائے صوفے پر بیٹھ گیا۔ سرسری نظر سے سجے سجائے دیدہ زیب اور دلکش ڈرائنگ روم کا جائزہ لے کر وہ جانے کیا سوچنے لگا۔
“السلام علیکم۔ “ایک مردانہ آواز نے اسے چونکا دیا۔ دروازے سے امبر ایک مرد کے ساتھ اندر داخل ہوئی۔
اور۔۔۔ اسے ایک جھٹکا سا لگا۔ سارابدن جھنجنا اٹھا۔ اسے ہر شئے گھومتی ہوئی دکھائی دی۔ حیرت اور اضطراب کے ملے جلے جذبات سے لبریز نظریں پروفیسر قمر کے چہرے پر گڑ سی گئیں۔ وہ حواس میں آیا تو اس وقت جب پروفیسرقمر نے اس کے غیر ارادی طور پر آگے بڑھے ہوئے ہاتھ کو تھام لیا۔ بڑی گرم جوشی تھی اس کے مصافحے میں لیکن۔۔۔ اس کی حیرت زدہ نگاہیں اب بھی نوجوان گورے چٹے پروفیسر قمر کے چیچک زدہ چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔
” مجھے قمر کہتے ہیں۔ “وہ مسکرایا۔ “پروفیسر قمر۔ “
“میں۔۔۔ طاہر۔۔۔ “۔ اس کی آواز جیسے بہت دور سے آئی۔ امبر سر جھکائے ان دونوں کے قریب کھڑی تھی۔
“بیٹھئے بیٹھئے۔ آپ کھڑے کیوں ہیں ؟”قمر خوش اخلاقی سے بولا تو وہ کچھ سنبھلا۔ سب لوگ آمنے سامنے صوفوں پر بیٹھ گئے۔
“امبر تو ہر وقت آپ ہی کی باتیں کرتی ہے۔ “
“جی۔ “وہ غیرمحسوس انداز میں مسکرایا۔ “یہ تو اس کی محبت ہے۔ “
“لگتا ہے آپ اپنے ہر ورکر کے دل و دماغ پر ثبت ہو چکے ہیں۔ شادی کے روز آپ کے سٹاف کے تقریباً تمام لوگ موجود تھے اور کوئی زبان ایسی نہ تھی جو آپ پر اپنی والہانہ عقیدت کے پھول نچھاور نہ کر رہی ہو۔ “
“جی۔ بس یہ تو ان سب کا پیار ہے۔ ورنہ میں کیا اور میری شخصیت کیا؟”وہ اور کہہ بھی کیا سکتا تھا۔
پھر پروفیسر قمر ہی باتیں کرتا رہا۔ وہ ہوں ہاں کر کے اس کی باتوں سے لاتعلقی پر پردہ ڈالتا رہا اور امبر ناخن کریدتی رہی۔
” ارے بھئی امبر۔ وہ چائے وائے۔ ” کچھ دیر بعد قمر نے امبر کی طرف دیکھ کر کہا۔
“اوہ۔۔۔ میں ابھی پتہ کرتی ہوں۔ “وہ اٹھی اور طاہر کی طرف دیکھ کر باہر نکل گئی۔
“میں ابھی حاضر ہوا طاہر صاحب۔ “قمر بھی اس کے پیچھے ہی اٹھ کر باہر نکل گیا۔
اور۔۔۔ اس کا سلگتا ہوا ذہن جلتے ہوئے دل کی تپش سے بھڑک اٹھا۔ “یہ۔۔۔ یہ کیا تھا؟یہ کیا ہے ؟ کیا یہ تھی امبر کی محبت۔ امبر کی پسند۔ امبر کی زندگی کا ساتھی۔ اس کا شریک حیات۔ کیا یہ ممکن تھا؟ کیا یہ ممکن ہے ؟”اس کا دماغ پھٹنے لگا۔ رگیں تن گئیں۔
” آئیے سر۔ “امبر کمرے میں داخل ہوئی۔
وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کی جلتی ہوئی آنکھیں امبر پر چنگاریاں سی برسانے لگیں۔ “امبر۔۔۔ “اس کی آواز میں بلا کا درد تھا۔
امبر کے معصوم لبوں پر کھیلتی مسکراہٹ کچھ اور گہری ہو گئی۔ وہ اس کے قریب چلی آئی۔ “میں جانتی ہوں سر۔ سمجھتی ہوں۔ لیکن۔۔۔ “وہ ایک پل کو رکی۔ “محبت اسی کا نام ہے سر۔ کہ اسے وفا کی راہوں پر چلتے ہوئے روحوں کے سنگم پر پا لیا جائے۔ جسموں اور چہروں کی خوبصورتی اور حسن فانی چیزیں ہیں۔ اصل حسن تو خوبصورت جذبوں میں پلتا ہے اور اسے دیکھنے کے لئے من کی آنکھوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ آنکھیں تو اکثر دھوکا دے جاتی ہیں جو ہم چہروں پر سجائے پھر تے ہیں۔ جیسے آپ نے فریب کھایا۔ “وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہتی رہی۔ وہ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔ تکتا رہا۔
“میں جانتی ہوں سر۔ آپ کے ذہن میں کتنے ہی سوال چکرا رہے ہیں۔ لیکن۔۔۔ ” وہ بڑے پُرسکون اور ٹھہرے ہوئے لہجے میں پھر گویا ہوئی۔ “لیکن یہ سوال آپ کی سوچ کے کسی گوشے میں پیدا نہیں ہونا چاہئیں سر۔ اس لئے کہ میں نے جو کچھ پایا، جو کچھ سیکھا، آپ سے پایا، آپ سے سیکھا۔ سر۔ قمر کا چہرہ داغدار ہوا تب ہمیں نئے نئے پیمان باندھے ہوئے بہت تھوڑے دن ہوئے تھے لیکن ان کے لاکھ انکار، دور ہونے کی التجا، بھول جانے کی فریاد کے باوجود میں نے ان کو سنبھال لیا۔ اس لئے کہ اگر یہی حادثہ ہماری شادی کے بعد پیش آتا تب کیا ہوتا؟ کیا اس وقت بھی میں ان کا ساتھ چھوڑ دیتی۔ ضرور چھوڑ دیتی سر۔ ضرور چھوڑ دیتی، اگر میں ان سے محبت نہ کرتی ہوتی مگر ہم نے تو ٹوٹ کر چاہا تھا ایک دوسرے کو۔ میں اگر ان کی بات مانتے ہوئے ان سے ناطہ توڑ لیتی تو جانتے ہیں کیا ہوتا؟وہ خود کشی کر لیتے۔ اس لئے کہ کسی سے دور ہونے، دور رہنے کا فیصلہ کر لینا بہت آسان ہے مگر اسے نبھانے کے لئے پتھر بن جانا پڑتا ہے سر۔ اور انسان پتھر بن جائے تو اس میں اور کسی لاش میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ محبت کے مارے ناکام ہو جائیں یا جان بوجھ کر محرومی کو گلے لگا لیں تو بہت کم ایسے ہوں گے جو زندگی کی لاش ارمانوں کی خارزار راہوں پر گھسیٹنے پر تیار ہوں۔ جیسے آپ۔۔۔ مگر آپ تو سب سے مختلف ہیں۔ انسانوں سے مختلف ہیں۔ بلند ہیں۔ اس لئے کہ آپ دیوتا ہیں۔ خلوص کی۔ وفا کے دیوتا۔ ” وہ ایک لمحے کو رکی، پھر کہا۔ “اور یہی سوچ کر میں نے قمر کو اپنا لیا۔ قمر جو گہنا گیا تھا مگر تھا تو قمر۔ شکستہ آئینے تو ویسے بھی دل والوں کے لئے انمول ہوتے ہیں سر۔ ان میں اپنے چہرے ان کو بڑے صاف و شفاف دکھائی دیتے ہیں۔ “
وہ خاموش ہو گئی۔
طاہر کے لبوں پر لرزتی مسکراہٹ کسی مزار پر جلتے دیے کی مانند تھرتھرا اٹھی۔
“میں نے ٹھیک کیا ناں سر؟” عجب معصومیت سے اس کے چہرے کو تکتے ہوئے امبر نے پوچھا۔
دھیرے سے طاہر نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ مسکراہٹ اور گہری ہو گئی۔
“سر۔ “وہ مسکرائی۔ ہونٹ لرزے اور اس کی پلکوں کے گوشے نم ہو گئے۔ ” میں جانتی تھی آپ میرے فیصلے پر اثبات کی مہر ثبت کرتے ہوئے ایک پل کی دیر نہیں کریں گے۔ میں ٹھیک کہتی ہوں سر۔ آپ دیوتا۔۔۔ “
اور طاہر نے اس کا فقرہ پورا ہونے سے قبل ہی نفی میں سر ہلا دیا۔ پھر بڑے پیار سی، آہستگی سے اس نے کہا۔ “تم۔۔۔ تم دیوی ہو۔ “اس کی تھرائی ہوئی آواز ابھری۔
اور امبر نم آنکھوں کے ساتھ مسکردی۔ طاہر نے سوچا وہ جو اسے دیوتا کہتی تھی خود کتنی عظیم تھی۔ اسے محبت کا مفہوم معلوم تھا۔ اسے محبت نبھانا آتا تھا۔
“چلئے سر۔ ” امبر کی آواز میں نئی زندگی تھی۔
“چلو۔ “وہ بھی اک نئے انداز سے مسکرایا۔ پُرسکون ، با وقار اور والہانہ انداز میں۔ اس کے دل کی ساری جلن شبنم میں ڈھل گئی تھی۔ امبر کو نہ پا سکنے کا کوئی پچھتاوا، کوئی دکھ، کوئی غم نہیں رہا تھا۔ ہر پچھتاوا، ہر دکھ، ہر غم اس حسرت میں ڈھل گیا تھا کہ کاش، قمر کی جگہ وہ خود ہوتا۔
وہ دونوں کمرے سے نکلے اور کاریڈور میں چل پڑی۔ کھڑکی کے پاس کھڑا قمر، گہنایا ہوا قمر، پلکوں پر ستارے سجائے مسکرا رہا تھا، فخر سے۔ پیار سے۔ ناز سے۔ جو سب کا سب امبر کے لئے تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
طاہر۔ ” بیگم صاحبہ کی آواز نے سیڑھیوں کی جانب جاتے ہوئے اس کے قدم روک لئے۔
“جی امی۔ ” وہ ان کی طرف لوٹ آیا۔
“بیٹھو۔ ” انہوں نے آنکھ سے اشارہ کیا۔ وہ ان کے سامنے صوفے پر بیٹھ گیا۔ “بہت تھکے تھکے سے لگ رہے ہو۔ ” انہوں نے غور سے اس کا چہرہ دیکھا۔
“کام بہت تھا آج آفس میں۔ ” اس نے گردن پیچھے ڈال دی۔
چند لمحے خاموشی میں گزر گئی۔ “جاؤ۔ فریش ہو جاؤ۔ کھانے کی میز پر بات کریں گے۔ ” بیگم صاحبہ کی آواز میں بیحد نرمی تھی۔
“کوئی خاص بات امی؟” اس نے دھیرے سے پوچھا اور سیدھا ہو بیٹھا۔
“ایسی بھی خاص نہیں مگر ضروری ہے۔ “
“تو ابھی کر لیجئے۔ میں بھوک محسوس نہیں کر رہا۔ “
“تم جانتے ہو، ابھی تک ہم نے اپنی عادت نہیں بدلی۔ تم نہیں کھاؤ گے تو ہم بھی بھوکے سوجائیں گے۔ “
“یہ زیادتی ہے امی۔ ” وہ انہیں شکوے بھری نظروں سے دیکھ کر بولا۔ ” کسی وقت مجبوری بھی ہوتی ہے، میں باہر کھانا کھا کر آؤں۔۔۔ “
“تب ہم نے کبھی اصرار نہیں کیا طاہر۔۔۔ مگر آج تم کھا کر نہیں آئے۔ “
“امی۔۔۔ ” وہ مسکرایا۔ ” آپ سے جیت نہیں سکتا میں۔ ” وہ اٹھ گیا۔ ” ٹھیک ہے۔ میں فریش ہو کر آتا ہوں۔ ” اس نے اپنا بریف کیس اٹھایا اور سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔
آدھ گھنٹے بعد دونوں ماں بیٹا کھانے سے فارغ ہو چکے تھے اور اب کافی کا دور چل رہا تھا۔
“جی امی۔ ” اس نے چسکی لے کر مگ میز پر رکھا۔ ” اب کہئے، کیا بات تھی؟”
“بات نئی ہے نہ بحث طلب طاہر۔ بس تمہاری طرف سے کسی پیشرفت کے منتظر ہیں ہم۔ “
طاہر نے بے اختیار سر جھکا لیا۔ وہ سمجھ گیا کہ ان کا اشارہ کس طرف ہے۔ دونوں ہاتھ سینے پر باندھ کر اس نے آنکھیں موند لیں اور جیسے کسی گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ بیگم صاحبہ اسے خاموشی سے تکتی رہیں اور کافی کا کپ خالی کرتی رہیں۔
“جیومیٹری کا مسئلہ حل کر رہے ہو بیٹے؟” کافی دیر گزر گئی تو وہ بول اٹھیں۔
“نہیں امی۔ ” بیساختہ وہ ہنسا اور آنکھیں کھول دیں۔ ” لیکن یہ میرے لئے مسئلہ فیثا غورث سے کم بھی نہیں ہے۔ “
“تم زندگی کو اپنے لئے اتنا مشکل کیوں بنا رہے ہو طاہر۔ ” بیگم صاحبہ نے اسے محبت سے دیکھا۔ “بیٹے۔ زندگی اللہ کی نعمت ہے۔ اسے اس طرح ضائع مت کرو کہ یہ کفران بن جائے۔ زندگی کی خوشیوں پر تمہارا جتنا حق ہے ا تنا ہی خوشیوں کا تم پر بھی حق ہے۔ اپنا حق چھوڑو نہ کسی کا حق غصب کرو، کاروبار کی طرح یہ کلیہ زندگی کے شب و روز پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ “
“میں نے اپنی سی کر کے دیکھ لی امی۔ میں تو اپنی زندگی سے وہ مسرت کشید نہیں کر سکاجس کا خواب میں نے ہمیشہ دیکھا۔ جو کچھ ہوا آپ کے سامنے ہے۔ پھر بھی۔۔۔ “
“تم نے آج تک جو بھی کیا، اس میں کہیں تمہاری جلد بازی کو دخل ہے اور کہیں دیر کو۔ ہم نے ایک ماں ہونے کا تمہیں بھرپور ایڈوانٹیج دیا ہے طاہر۔ ہم نے تمہارے اچھے یا برے، غلط یا صحیح، کسی بھی فیصلے کو خوشی سے یا مجبوراً بہر حال قبول کیا۔ تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم تمہاری خوشیوں میں کہیں بھی حائل ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود اگر تم نے ٹھوکر کھائی ہے تو تمہیں سنبھلنے کے لئے ہم نے وقت بھی دیا ہے اور یہ بات تو تم بھی تسلیم کرو گے کہ ہم نے تمہیں ہر بار جی بھر کے وقت دیا ہے۔۔۔ لیکن بیٹے۔ کب تک؟ کب تک تم اپنے مفروضے پر اڑے رہو گے اور ہم تمہاری ناکامیوں پر چھپ چھپ کر آنسو بہاتے رہیں گے؟” ان کی آواز ٹوٹ سی گئی۔
“امی۔ ” وہ بیتاب سا ہو گیا۔ ” میں نے اپنی طرف سے کبھی بدنیتی سے کام نہیں لیا۔ جسے بھی انتخاب کیا، پورے خلوص اور محبت سے کیا مگر میری قسمت ہی میں کسی کا پیار نہیں ہے۔ شاید مجھے تنہائی کا زہر۔۔۔ “
“غلط کہہ رہے ہو تم طاہر۔ ” بیگم صاحبہ نے اس کی بات کاٹ دی۔ ” اپنی قسمت کو دوش مت دو۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تمہارا انتخاب نہیں ، انتخاب کا طریقہ غلط تھا۔ بحث کریں گے تو وقت بھی ضائع ہو گا اور زخموں کے منہ بھی کھل جائیں گے جبکہ اس وقت ہمارا مقصد یہ نہیں ہے۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ بہار کے وہ لمحے جو ناکامیوں کی ٹھوکر سے بکھر گئے ہیں ، انہیں خزاں آ جانے سے پہلے سمیٹ کر تمہارے دامن میں ڈال دیں۔ تمہاری تنہائی کو ایک ایسے ساتھی کی ضرورت ہے طاہر جو اپنی وفا شعاری اور رفاقت کی پلکوں سے تمہاری زندگی میں خود رو پودوں کی طرح اُگ آنے والے ساری تھکن، ساری محرومی کے کانٹے چن لے۔ “
“امی۔۔۔ ” طاہر نے کچھ کہنے کے لئے لب کھولے مگر بیگم صاحبہ نے ہاتھ اٹھا کر اسے خاموش کرا دیا۔
” آج ایک ماں کی حیثیت سے نہیں ، ایک دوست بن کر ہم تمہیں سمجھانا چاہتے ہیں طاہر کہ تم جو چاہتے ہو شاید وہ تمہارے مقدر میں نہیں ہے یعنی کوئی ایسی ہستی جو تمہاری زوجیت میں آنے سے پہلے تمہیں ٹوٹ کر چاہے، ایسا ہونا ممکن ہے تمہارے ہاتھ کی لکیروں میں نہ لکھا ہو لیکن یہ تو ممکن ہو سکتاہے ناں کہ جو لڑکی بیوی بن کر تمہاری زندگی میں آئی، وہ تمہیں اتنی محبت دے دے کہ تمہاری ساری ناکامیاں ، ساری محرومیاں سیراب ہو جائیں۔ اور یہ اس لئے بھی ممکن ہے بیٹے کہ ہم مشرق کے لوگ ہیں۔ یہاں کی بیویاں جسے اپنے ماتھے کا جھومر بنا لیتی ہیں اسے خدا کے بعد وہ درجہ دیتی ہیں ، جسے صرف سجدے کا حق حاصل نہیں ہے، باقی تمام حقوق وہی ہیں جو خدا کے بعد صرف اور صرف ایک شوہر کو دیے گئے ہیں۔ پسند کی چیز ایک دکان سے نہ ملے تو دوسری دکان میں نہ جانا حماقت کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا طاہر۔ جو شے تمہیں درکار ہے وہ صرف اور صرف ایک بیوی کی محبت ہے اور اسے تم شادی سے پہلے ہی حاصل کرنے پر کیوں مصر ہو، یہ ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ “
“مجھے خوف آتا ہے امی۔ “اچانک وہ میز سے اٹھ گیا اور کھڑ کی میں جا کھڑا ہوا۔
“خوف؟” بیگم صاحبہ نے حیرت سے کہا۔ “کیسا خوف اور کس سے؟”
“کیا ضروری ہے امی کہ جو لڑکی میری بیوی بن کر آئے وہ مجھ سے پہلے کسی اور سے انوالو نہ ہو؟”
“یہ بات تم پہلے بھی کہہ چکے ہو طاہر۔ آخر تم اس وہم میں کیوں مبتلا ہو؟”انہوں نے اپنا رخ اس کی جانب پھیر لیا
“میرا دوست جمال اسی حادثے کا شکار ہو کر موت کی آغوش میں جا سویا تھا امی جان۔ اس نے جس لڑکی سے شادی کی، وہ شادی سے پہلے کسی اور لڑکے کو چاہتی تھی۔ جمال سے شادی کے بعد بھی وہ اس لڑکے کو نہ بھول سکی اور اس سے چھپ چھپ کر ملتی رہی۔ جمال نے اس بات سے واقف ہونے کے بعد اسے طلاق دے دی مگر اپنی بیوی پروین کی جدائی اور بے وفائی برداشت نہ کر سکا۔ دو ماہ بعد اس نے خودکشی کر لی۔ “
“کیا؟” بیگم صاحبہ کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔
“ہاں امی۔ ” طاہر کی آواز بھیگ گئی۔ “وہ میرا بچپن کا دوست تھا۔ اس کا خیال آج بھی مجھے رلا دیتا ہے۔ میں اسی خوف سے اس وہم کا شکار ہو گیا ہوں کہ کہیں ایسی ہی بیوی میرے نصیب میں بھی نہ لکھی ہو۔ اسی لئے میں چاہتا تھا امی کہ جس سے شادی کروں ، شادی سے پہلے اس سے میرا محبت کا ایسا تعلق استوار ہو چکا ہو جس میں کسی اور کے سائے کا بھی شائبہ نہ ہو۔ “
“طاہر۔ ” بیگم صاحبہ اٹھ کر اس کے قریب چلی آئیں۔ ” بیٹے تم نے کیسا وہم پال لیا ہے دل میں۔ یہ تو ناسور بن کر تمہیں چاٹ جائے گا۔ ” انہوں نے اس کے ماتھے اور پھر بالوں میں پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ “میری جان۔ ہر لڑکی ایسی نہیں ہوتی۔ یہ تو پروین یا اس جیسی کسی بھی دوسری لڑکی کے ماں باپ کو چاہئے کہ وہ شادی سے پہلے بالکل اسی طرح بیٹی سے بھی اس کی پسند اور مرضی معلوم کریں جیسے بیٹے سے معلوم کرتے ہیں۔ میں سمجھتی ہوں اس میں قصور ایسی لڑکی کا کم اور اس کے سرپرستوں کا زیادہ ہوتا ہے جو بیٹی کو اس کی پسند بتانے کا وہ حق نہیں دیتے، جو اسے ہمارے مذہب نے دیا ہے۔ لڑکا ہو یا لڑکی، دونوں کو شادی میں اپنی پسند اور ناپسندیدگی کے اظہار کا یکساں حق حاصل ہے۔ اگر پروین کے والدین بیٹی کی مرضی سے اس کی شادی کر دیتے تو اسے طلاق ہوتی نہ جمال خودکشی کرتا۔ بہرحال تمہارے وہم کا علاج ہے میرے پاس۔ “
“یہی ناں کہ مجھے شادی سے پہلے لڑکی سے ملاقات کا موقع دیا جائے گا اور میں اس سے ایک دو ملاقاتوں میں یہ بات صاف کرنے کی کوشش کر سکوں گا کہ وہ کسی اور سے تو۔۔۔ “
“ہاں۔ ” بیگم صاحبہ نے اثبات میں سر ہلایا۔ ” اس کا یہی ایک حل ہے میرے پاس۔ “
” نہیں امی۔ ” طاہر نے ان کے ہاتھ تھام کر گالوں سے لگا لئے۔ ” میں ایسانہیں چاہتا۔ “
“تو پھر۔۔۔ ؟” وہ الجھ گئیں۔
“دو بار میں نے اپنی سی کر کے دیکھ لی۔ اب آپ کو اختیار ہے آپ جو چاہے کریں۔ مجھے آپ کا ہر فیصلہ منظور ہو گا۔ “
“طاہر۔۔۔ ” وہ حیرت زدہ رہ گئیں۔
“ہاں امی۔ ” میں اب اندھا داؤ کھیلنا چاہتا ہوں۔ آپ جو لڑکی میرے لئے پسند کریں گی، میں اس سے شادی کر لوں گا۔ اسے شادی سے پہلے دیکھوں گا نہ اس سے ملوں گا۔ “
“ایسا۔۔۔ ؟” بیگم صاحبہ کے چہرے پر پھلجھڑیاں سی چھوٹیں۔
“ہوں۔ ” طاہر نے آنکھیں موند کر ان کے ہاتھوں کو ہونٹوں سے لگا لیا۔
“پھر سوچ لو طاہر۔ “
“سوچ لیا امی۔ ” وہ سرشاری سے بولا۔ “مجھے سمجھ آ رہا ہے کہ جب اپنے فیصلے ٹھیک نہ بیٹھ رہے ہوں تب کسی ایسی ہستی پر اعتماد کر لینا چاہئے جسے دل اپنا خیرخواہ مانتا ہو۔ اور ماں سے بڑھ کر کون ہو گا امی، جسے اولاد کی بھلائی عزیز ہو۔ “
“جیتے رہو طاہر۔ ” بیگم صاحبہ کا دل گلاب کی طرح کھل گیا۔ آنکھیں چھلک نہ جائیں ، یہ چھپانے کے لئے انہوں نے طاہر کی جانب سے رخ پھیر لیا۔
“امی۔ ” طاہر پیچھے سے ان کے گلے میں باہیں ڈال کر لپٹ گیا۔
“بس کرو طاہر۔ اتنا لاڈ کرو گے تو ہم رو دیں گے۔ ” انہوں نے نچلا ہونٹ دانتوں میں داب لیا۔
“کبھی نہیں امی۔ ” طاہر نے ان کے شانے پر سر رکھ کر انہیں زور سے بھینچ لیا۔ ” میں آپ کو رونے دوں گا تب ناں۔ “
بیگم صاحبہ نے اس کے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھ دیے اور ہولے ہولے یوں تھپکنے لگیں جیسے اس کی محرومیوں کو، اس کی ناکامیوں کو گہری نیند سلا دینا چاہتی ہوں۔
٭٭٭٭٭٭٭
بیگم صاحبہ نے بہت زور دیا مگر طاہر نے ایک ہی انکار پر کمر باندھے رکھی۔ لڑکی کی تصویر تک دیکھنے سے انکار کر دیا۔ اس کی بس ایک ہی رٹ تھی۔ “امی۔ آپ جو چاہیں ، جیسے چاہیں کریں۔ میں آپ کی بہو کو دیکھوں گا تو اسی وقت جب وہ دلہن بن کر اس گھر میں آ جائے گی۔ “
بیگم صاحبہ کو اس کی اس بات پر محتاط ہو جانا پڑا۔ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ ان سے کوئی ایسا فیصلہ ہو جائے جو طاہر کے اس اعتماد کو لے ڈوبی۔
ڈاکٹر ہاشمی کے مشورے سے، بڑا پھونک پھونک کر سوچتے ہوئے انہوں نے ایک متوسط گھرانے کی ایسی لڑکی کا انتخاب کیا جو اپنے ماں باپ کے مرنے کے بعد اپنی بیوہ ممانی کے پاس رہ رہی تھی۔ ممانی نے اسے حتی الامکان سہولت سے پالا تھا۔ بی اے تک پڑھایا اور سلائی کڑھائی سے لے کر کچن تک، گھر کے تمام کاموں میں طاق کر دیا۔ ممانی کی اپنی دو بیٹیاں تھیں جن کی شادیاں ہو چکی تھیں اور وہ اپنے گھروں میں خوش تھیں۔ لڑکی کے ماں باپ اور پھر ماموں اتنا کچھ چھوڑ گئے تھے کہ تینوں بچیوں کی شادی کے بعد بیوہ ممانی آرام سے زندگی گزار سکتی تھی۔
طاہر کے رشتے نے با وقار، وسیلہ خاتون کو کتنے ہی دن گم صُم رکھا۔ اتنے بڑے گھرانے میں اپنی بیٹیوں یا اب صفیہ کی شادی کا تو انہوں نے خواب بھی نہ دیکھا تھا۔ وہ دمے کی مریضہ اور کئی سال سے ڈاکٹر ہاشمی کے زیرِ علاج تھیں۔ ڈاکٹر ہاشمی انہیں سالوں سے جانتے تھے۔ انہوں نے اس خاندان کے بارے میں بیگم صاحبہ کو پوری پوری ضمانت دی۔ صفیہ کو بھی وہ بہت اچھی طرح جانتے اور سمجھتے تھے۔ وہ درجنوں بار وسیلہ خاتون کے ساتھ ان کے کلینک آ چکی تھی بلکہ بی اے کے آخری سال میں تو وہ ڈاکٹر ہاشمی کے نوجوان بیٹے سرمد ہاشمی سے کئی ماہ تک پڑھائی میں مدد بھی لیتی رہی تھی۔ انہی دنوں وہ صفیہ کے بارے میں زیادہ جان پائے تھے۔ یتیم اور ہونہار صفیہ کے بارے میں کبھی کبھار سوچتے تو انہیں بہت اچھا لگتا۔ صفیہ اس لئے بھی انہیں اچھی لگتی تھی کہ ان کی کوئی بیٹی نہ تھی۔ گھر میں صرف وہ اور سرمد تھے۔ بیوی کے مرنے کے بعد انہوں نے دوسری شادی نہ کی تھی۔ بیٹے کو پالا اور ایم بی اے کے لئے لندن بھجوا دیا۔ اب وہ اپنے ہاسپٹل میں مگن رہتے تھے۔ سرمد کی واپسی میں ابھی کچھ عرصہ باقی تھا۔ ایک آدھ بار ان کے دل میں صفیہ اور سرمد کی شادی کا خیال بھی آیا مگر وہ سرمد کی تعلیم میں ایسی کسی بات سے روڑا نہ اٹکانا چاہتے تھے جو اس کا دھیان تعلیم سے ہٹا دی۔ اس لئے یہ بات اس کی واپسی پر اٹھا رکھی۔ پھر جب بیگم صاحبہ نے ان کے سامنے طاہر کی تازہ صورتحال بیان کر کے جلد از جلد کسی متوسط گھرانے کی لڑکی تلاش کرنے کو کہا تو سب سے پہلے ان کے تصور میں صفیہ کا چہرہ ابھرا۔ انہوں نے بیگم صاحبہ سے ذکر کیا۔ بیگم صاحبہ نے ان کے ہاسپٹل ہی میں آ کر ایک دن صفیہ کو بہانے سے دیکھ لیا۔ سرو قد صفیہ کی بھولی بھالی صورت، سرخ و سفید رنگ روپ اور شیریں کلامی نے ان کا دل پہلی نظر ہی میں مٹھی میں کر لیا۔ انہوں نے ڈاکٹر ہاشمی کو وسیلہ خاتون سے بات کرنے کا عندیہ دے دیا۔
تیسرے دن جب ڈاکٹر ہاشمی نے وسیلہ خاتون سے صفیہ کے لئے طاہر کے بارے میں بات کی تو ان کا منہ حیرت سے کھل گیا۔ انہوں نے سوچنے کے لئے چند دن کی مہلت مانگی، جو ڈاکٹر ہاشمی نے طاہر اور اس کی فیملی کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کرتے ہوئے انہیں دے دی۔ ساتھ ہی کہا کہ “جیسے وسیلہ خاتون کے گھرانے کی طرف سے ہر قسم کی ذمہ داری مجھ پر ہے اسی طرح بیگم صاحبہ کی طرف سے بھی ہر طرح سے میں ضامن ہوں۔ “
یہ بہت بڑی بات تھی مگر وسیلہ خاتون زمانے کے نشیب و فراز سے ڈرتی تھیں۔ انہیں اپنی بیٹیوں سے زیادہ اپنی یتیم و یسیر بھانجی کا خیال تھا۔ اس لئے وہ کئی دن تک ڈاکٹر ہاشمی سے دوبارہ ملنے نہ آئیں۔ بال آخر ڈاکٹر ہاشمی نے انہیں فون کر کے بلایا اور کسی حتمی فیصلے پر پہنچنے کے لئے بیگم صاحبہ کے خاندان کے بارے میں چھان بین کی مکمل آزادی دی۔ ساتھ ہی کہا کہ روپے پیسے جائداد وغیرہ جیسی کوئی بھی اور کسی بھی انتہا کو چھوتی ہوئی ضمانت انہیں دی جا سکتی ہے۔
وسیلہ خاتون نے ڈاکٹر ہاشمی کی اس بات پر پھیکے سے انداز میں مسکراتے ہوئے کہا۔ “ڈاکٹر صاحب۔ اگر روپیہ پیسہ ہی بیٹیوں کے سُکھ کا ضامن ہوتا تو آج کسی کروڑ پتی کی کوئی بیٹی دُکھی نہ ہوتی، اجڑ کر میکے نہ آ بیٹھتی اور شوہر کے سلوک کی شاکی نہ ہوتی۔ بات تو ساری نصیبوں کی ہے اور نصیب میں کیا لکھا ہے، یہ کون جانے؟”
“میں آپ کی بات سے سو فیصد متفق ہوں وسیلہ خاتون۔ اور اگر آپ غور کریں تو آپ کی اس بات ہی میں آپ کے اندیشوں اور سوچوں کا حل موجود ہے۔ “
“یعنی۔۔۔ ” ڈاکٹر ہاشمی کی جانب دیکھ کر انہوں نے استفسار کیا۔
“دیکھئے۔ جب آپ مانتی ہیں کہ ہو گا وہی جو نصیب میں لکھا ہے تو پھر خوف کیسا؟ ہم بے اختیار انسان تو صرف یہی کر سکتے ہیں کہ اپنے طور پر پورا اطمینان کر لیں کہ جو قدم ہم اٹھانے جا رہے ہیں وہ ہمیں کہیں کسی گڑھے میں تو نہیں لے جا رہا۔ اگر یہ اطمینان حاصل ہو جائے تو اس کے بعد ہم پر صرف یہ واجب ہے کہ ہم اپنے اللہ کی بارگاہ میں بیٹی کے سُکھ کی دعا کرتے ہوئے سرِتسلیم خم کر دیں۔ میں جانتا ہوں کہ بیٹی کا دُکھ کیا ہوتا ہے ؟ اس لئے کہ ساری زندگی بیٹی کے لئے ترسا ہوں۔ میرے خالق کی مرضی نہ تھی کہ مجھے بھی بیٹی کا باپ ہونے کا اعزاز ملتا وگرنہ میں ، سرمد کی ماں کے مرنے تک اس خواہش میں برابر کا شریک تھا کہ ہمارے ہاں بھی ایک بیٹی جنم لیتی۔ ہمارے گھر میں بھی اللہ کی رحمت اترتی۔ یہ ساری باتیں کرنے کا سبب یہ ہے وسیلہ خاتون کہ ایک طرف تو میں بیگم صاحبہ کی طرف سے ہر بات کا ضامن ہوں ، دوسری طرف میں نے آپ کو مکمل آزادی دی ہے کہ آپ ان کے بارے میں جیسے چاہیں چھان بین کر سکتی ہیں۔ تیسری بات یہ کہ آپ کی تسلی کے لئے بیگم صاحبہ ایسی ہر ضمانت۔۔۔ “
“یہ بات رہنے دیں ڈاکٹر صاحب۔ ” وسیلہ خاتون نے ان کی بات کاٹ دی۔ “میری کسی بات کا یہ مطلب ہے ہی نہیں۔ “
“تو پھر کھل کر کہئے، بات کیا ہے جو آپ گومگو کا شکار ہیں ؟”
“بات صرف سٹیٹس کی ہے ڈاکٹر صاحب۔ ” وسیلہ خاتون نے آخر کہہ ہی دیا۔ “ہم اس پائے کے لوگ نہیں ہیں جس سطح سے طاہر کا رشتہ آیا ہے۔ یہی بات میرے “ہاں “کہنے میں مانع ہے۔ “
“بس۔۔۔ ” ڈاکٹر صاحب نے بغور وسیلہ خاتون کی جانب دیکھا۔ “اس کے علاوہ تو کوئی بات نہیں ہے؟”
“جی نہیں۔ میں چھان بین کرنے سے بھی انکاری ہوں کہ آپ جیسا زمانہ شناس اور ذمہ دار شخص درمیان میں موجود ہے۔ میری ہچکچاہٹ کا اور کوئی سبب نہیں ہے۔ “
“تو پھر سینے میں رکے ہوئے خوف سے بوجھل سانس کو آزاد کر دیجئے وسیلہ بہن۔ اگر صفیہ کو کبھی کانٹا بھی چبھ گیا تو دوسرے جہان میں میرا گریبان ہو گا اور آپ کا ہاتھ۔۔۔ “
“بس ڈاکٹر صاحب۔ ” وسیلہ خاتون نے ہاتھ اٹھا کر انہیں مزید کچھ کہنے سے روک دیا۔ ” آپ کی اس معاملے میں موجود گی ہی میرے لئے بہت بڑی ضمانت ہے۔ اب آپ نے بہن کہہ دیا تو میں دوسرے جہان کے بوجھ سے ابھی آپ کو بری الذمہ کرتی ہوں۔ اس لئے کہ بیٹیوں کے نصیب اچھے ہوں ، ہم صرف یہ دعا کر سکتے ہیں اس کے لئے کوئی اشٹام لکھا جا سکتا ہے نہ کوئی بوجھ ذمے لیا جا سکتا ہے۔ “
“تو میں آپ کی طرف سے۔۔۔ “
“جی ہاں۔ آپ بیگم صاحبہ کو میری طرف سے ہاں کہہ دیجئے۔ ” وسیلہ خاتون کی آواز بھیگ سی گئی۔ “ساتھ ہی ان سے صرف یہ عرض کر دیجئے گا کہ صفیہ میری بھانجی نہیں ، بیٹی ہے۔ “
“میں انہیں پہلے ہی بتا چکا ہوں وسیلہ بہن کہ صفیہ آپ کے لئے اپنی بیٹیوں سے بڑھ کر ہے۔ “ڈاکٹر ہاشمی نے جلدی سے کہا۔ “تاہم ایک بات آپ سے میں بھی کہنا چاہوں گا۔ “
“جی جی۔ ” وسیلہ خاتون نے آنکھوں کے گوشے خشک کئے۔
“کیا آپ نے صفیہ سے پوچھ لیا؟”
“لوگ عام طور پر ایسی باتوں سے گریز کرتے اور ایسا کرنا اپنی غیرت اور شان کے خلاف سمجھتے ہیں ڈاکٹر صاحب، لیکن میں نے صفیہ سے برابر پوچھ لیا ہے۔ جواب میں خاموشی اس کی رضامندی کا ثبوت ہے۔ “
“تو میری طرف سے مبار ک قبول کیجئے۔ ” ڈاکٹر ہاشمی نے خوش ہو کر کہا۔ “میں آج دوپہر یہاں سے سیدھا بیگم صاحبہ کے ہاں جاؤں گا اور انہیں بھی یہ خوشخبری سنا دوں گا۔ بتانے کو تو یہ بات انہیں فون پر بھی بتائی جا سکتی ہے مگر میرا جی چاہتا ہے کہ میں یہ خبر انہیں خود جا کر سناؤں۔ “
“اب جیسے آپ کی مرضی ڈاکٹر صاحب۔ مجھے اجازت دیجئے۔ ” وسیلہ خاتون اٹھ کھڑی ہوئیں۔
“ضرور ضرور۔ ” ڈاکٹر ہاشمی بھی سیٹ سے اٹھ گئے۔ “میں آج کل ہی میں اگلا پروگرام آپ کے گوش گزار کر دوں گا۔ “
“جی۔ اللہ حافظ۔ ” وسیلہ خاتون رخصت ہو گئیں اور ڈاکٹر ہاشمی ایسے بیتاب ہوئے کہ وقت سے پہلے ہی ہاسپٹل سے نکل پڑے۔
بیگم صاحبہ نے جب ان کی زبان سے صفیہ کے بارے میں نوید سنی تو بے اختیار ان کی زبان سے “الحمد للہ” نکلا۔ ڈاکٹر ہاشمی نے انہیں وسیلہ خاتون کے تمام اندیشوں کے بارے میں کھل کر بتایا تو انہوں نے ایک عجیب فیصلہ سنا دیا۔
“ڈاکٹر صاحب۔ صفیہ کی ممانی کے اندیشے زمانے کی چال دیکھتے ہوئے بے بنیاد نہیں ہیں۔ اس لئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اپنی میکے کی پشتینی جائداد طاہر کی دلہن کے نام کر دیں گے۔ اس گھر میں آنے پر ہماری طرف سے یہ جائداد اسے منہ دکھائی میں دی جائے گی۔ “
“بیگم صاحبہ۔ ” ڈاکٹر ہاشمی کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ ” آپ جانتی ہیں کہ آپ نے کیا فیصلہ کیا ہے؟”
“جی ہاں ڈاکٹر صاحب۔ ” وہ بڑے اطمینان بھرے انداز سے مسکرائیں۔ “ہم خوب جانتے ہیں۔ اور یہ بہت ضروری ہے۔ ایک تو اس لئے کہ صفیہ اور اس کے میکے والوں کو زندگی بھر کا اطمینان دلانا ہے اور دوسرے اس لئے بھی کہ ہماری بہو جب اس گھر میں داخل ہو تو کروڑوں کی مالک بن چکی ہو۔ “
اور ڈاکٹر ہاشمی کی زبان تھم گئی۔ انہوں نے مزید کچھ کہنے کا ارادہ ترک کر دیا۔ بیگم صاحبہ جو فیصلہ کر چکی تھیں اس کے پیچھے خاندانی جاہ و حشم اور وقار بول رہا تھا، جس پر وہ کوئی سمجھوتہ کرنے کو کبھی تیار نہ ہوتیں۔
اگلے دن سے شادی کی تیاریاں ایک بار پھر پورے زور شور سے شروع ہو گئیں۔ زاہدہ کے آنے پر جس کام کی ابتدا ہوئی تھی، اب اسے انجام تک پہنچانے میں بیگم صاحبہ کسی قسم کی دیر نہ چاہتی تھیں۔ اس لئے محض دو ہفتوں کے وقفے سے نکاح کی تاریخ رکھ دی گئی۔ وسیلہ خاتون کو بھی کوئی اعتراض نہ تھا کہ وہ مدت سے صفیہ کی شادی کا سامان کئے بیٹھی تھیں۔
طاہر نے پروفیسر قمر اور امبر کو بلا کر بیگم صاحبہ کے سپرد کر دیا۔ اب وہ تینوں تھے اور شادی کے ہنگامے۔ طاہر خاموشی سے ایک طرف ہو گیا۔ اسے اگر شادی کی بہت زیادہ خوشی نہ تھی تو کوئی دُکھ بھی نہ تھا۔ اس نے خود کو حالات کے سپرد کر دیا۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ اب مقدر اس کے ساتھ کیا کھیل کھیلتا ہے؟ اس سے قبل، وہ شادی سے پہلے کسی کی محبت پانے کے جنون میں مبتلا تھا۔ اب وہ شادی کے بعد محبت مل جانے کی امید سے دل بہلا رہا تھا۔
مگر اس کے ساتھ کیا ہونے والا تھا؟ اس سے وہ بالکل ایسے ہی بے خبر تھا جیسے ہر انسان اپنے ساتھ پیش آنے والے کسی بھی سانحے یا اچانک نکل آنے والے انعام سے لا علم ہوتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: