Ishq Ka Qaaf Novel By Sarfaraz Ahmad Rahi – Episode 7

0
عشق کا قاف از سرفراز احمد راہی – قسط نمبر 7

–**–**–

صفیہ نے طاہر کی دلہن کے روپ میں ” سلطان وِلا” میں قدم رکھا تواسے طاہر کے ساتھ دیکھ کر بیگم صاحبہ کے ہونٹوں پر سُکھ بھری مسکراہٹ نے جنم لیا۔
امبر کے ساتھ دوسری لڑکیاں اپنے گھیرے میں اسے اور طاہر کو بقعہ نور بنے ہال کے درمیان کھڑی بیگم صاحبہ تک لے آئیں۔ بیگم صاحبہ نے انہیں خود سے دو قدم کے فاصلے پر ہاتھ اٹھا کر روک دیا۔
“ذرا رک جاؤ بہو۔ ” ان کا تخاطب صفیہ سے تھا جو سرخ جوڑے میں ملبوس، زیورات اور پھولوں میں لدی چہرے پر گھونگھٹ ڈالے فرش کی جانب دیکھ رہی تھی۔ بیگم صاحبہ کی آواز پر اس نے دھیرے سے اوپر دیکھا۔ وہ اسی کی جانب دیکھ رہی تھیں۔
“ہماری طرف دیکھو۔ ” انہوں نے بڑی محبت سے کہا۔
صفیہ نے سمجھ میں کچھ نہ آنے کے سے انداز میں ان کی جانب دیکھا۔
“ہم تمہیں تمہارا حق دینا چاہتے ہیں بہو۔ ” بیگم صاحبہ نے اس کا دایاں ہاتھ تھام کر اوپر اٹھایا اور اس میں ایک گفٹ پیک جیسا لفافہ تھما دیا۔ صفیہ نے لفافہ تھام لیا مگر وہ اب بھی الجھی ہوئی نظروں سے انہیں دیکھ رہی تھی۔
“یہ تمہاری منہ دکھائی ہے۔ ہم نے اپنی میکے کی ساری جائداد تمہارے نام کر دی ہے۔ “
صفیہ کا ہاتھ لرز گیا۔ اس نے گھبرا کر دائیں ہاتھ کھڑے طاہر کی طرف دیکھا جو پہلے حیران ہوا پھر ایک دم مسکرا دیا۔ اس کے مسکرانے سے صفیہ کو کچھ حوصلہ ہوا۔
“اب آؤ۔ ہمارے سینے میں ٹھنڈک ڈال دو۔ ” انہوں نے بازو وَا کر دئیے۔
صفیہ بے اختیار آگے بڑھی اور ان کے سینے سے لگ گئی۔ اسی وقت ہال تالیوں کے شور سے گونج اٹھا۔ وہاں موجود ہر شخص اس اچانک نمودار ہو جانے والی خوشی میں خود کو شریک ثابت کر رہا تھا جبکہ ڈاکٹر ہاشمی ہونٹوں پر بڑی آسودہ مسکراہٹ لئے پروفیسر قمر کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں سے دبا رہے تھے۔
“امبر۔ دلہن کو اوپر لے جاؤ بیٹی۔ ” کچھ دیر بعد بیگم صاحبہ نے صفیہ کو خود سے الگ کیا۔ امبر، دوسری خواتین کے ساتھ صفیہ کو لئے ہوئے آہستہ قدموں کے ساتھ سرخ قالین میں لپٹی سیڑھیوں کی جانب بڑھ گئی۔
طاہر نے زربفت کی شیروانی اور سر سے کلاہ اتار کر ملازم کے حوالے کیا اور ایزی ہو کر اپنے آفس کے لوگوں میں آ بیٹھا۔ یہی اس کے دوست تھے۔ یہی اس کے ساتھی۔ اس نے جمال کی موت کے بعد کسی کو اپنی دوستی کے دائرے میں داخل ہونے کی اجازت ہی نہ دی تھی۔ اس وقت بھی اسے جمال بے طرح یاد آ رہا تھا۔ اگر آج وہ زندہ ہوتا تو اس کی شادی کا رنگ ہی کچھ اور ہوتا۔ سینے میں جلن دیتے اس کے خیال سے راہِ فرار اختیار کرتے ہوئے وہ نجانے کس دل سے ہنس رہا تھا۔ تاہم کچھ دیر بعد وہ موجودہ صورتحال میں جذب ہوتا چلا گیا۔
ہنگامہ فرو ہوتے ہوتے رات کے گیارہ بج گئے۔ سب لوگ رخصت ہو گئے۔ گاؤں سے آئے ہوئے مزارعوں اور ان کی خواتین کا انتظام گھر کے پائیں باغ میں ٹینٹوں میں کیا گیا۔ وہ سب وہاں چلے گئے اور کھانے پینے سے لطف اٹھانے لگے جس کا وسیع پیمانے پر اہتمام تھا۔
سب سے آخر میں ڈاکٹر ہاشمی، امبر اور پروفیسر قمر رخصت ہوئے۔ امبر نے طاہر کو پورا ایک ماہ آفس نہ آنے کا نادر شاہی حکم سنایاجس پر بیگم صاحبہ نے تصدیق کی مہر لگا دی۔
“میں سب سنبھال لوں گی سر۔ آپ پورا ایک ماہ چھٹی پر ہیں اور یہ چھٹی ایکسٹینڈ بھی ہو سکتی ہے۔ نو پرابلم۔ ” وہ بے نیازی سے بولی۔
“میں تمہارے ساتھ ہوں امبر بیٹی۔ ” بیگم صاحبہ ہنسیں۔ ” اسے آفس سے جتنا دور رکھ سکتی ہو، تمہیں اختیار حاصل ہے۔ “
” آپ فکر نہ کریں بیگم صاحبہ۔ ” امبر نے طاہر کی جانب دیکھا۔ ” یہ آفس میں گھسنا تو درکنار، کم از کم ایک ماہ تک فون بھی نہیں کر سکیں گے۔ “
“جانے دو بھئی۔ کیوں میرا کورٹ مارشل کرنے پر تُلی ہو تم۔ ” طاہر گھبرا گیا۔
” آپ یہی سمجھیں سر کہ آپ کا کورٹ مارشل ہو چکا ہے اور مجھے پورا یقین ہے کہ جب آپ اپنی سزا کا گھونگھٹ اٹھائیں گے تو ایک ماہ کے ایک سال میں بدل جانے کی دعا کریں گے۔ “
اس پر سب لوگوں کا ملا جُلا قہقہہ گونجا۔ طاہر کو بھاگتے ہی بنی۔ ڈاکٹر ہاشمی اور پروفیسر قمر سے ہاتھ ملا کروہ پلٹا اور سیڑھیوں کی جانب بڑھ گیا۔
تھوڑی دیر بعد امبر اور پروفیسر قمر رخصت ہو گئے اور اب ہال میں صرف ڈاکٹر ہاشمی اور بیگم صاحبہ رہ گئیں۔
“مجھے بھی اب اجازت دیجئے بیگم صاحبہ۔ ” ڈاکٹر ہاشمی نے جانے کا ارادہ ظاہر کیا۔
“ہم آپ کے ہمیشہ ممنون رہیں گے ڈاکٹر صاحب۔ ” بیگم صاحبہ نے شال کندھے پر درست کرتے ہوئے کہا۔
“ایسا نہ کہئے بیگم صاحبہ۔ طاہر کا مجھ پر بڑا حق ہے۔ ” وہ مسکرائی۔
“یہ آپ کا بڑا پن ہے ڈاکٹر صاحب۔ اور ہم آپ کا شکریہ ادا کر کے اس بڑائی کا قد گھٹانا نہیں چاہتے۔ ہاں ، اس وقت ہم آپ سے ایک مشورہ اور کرنا چاہتے ہیں۔ “
“جی جی۔ فرمائیے۔ ” وہ جلدی سے بولے۔
” چاہتے ہیں کہ زندگی کی سب سے بڑی تمنا پوری ہونے پر اپنے اللہ کا شکر اس کے گھر میں جا کر سجدہ ریز ہو کر ادا کریں۔ “
“اس سے بڑی سعادت اور کیا ہو گی بیگم صاحبہ۔ آپ نے بہت اچھا سوچا۔ ” ڈاکٹر ہاشمی واقعی متاثر ہوئے۔
“لیکن اگر ہم یہ چاہیں کہ اس متبرک سفر میں آپ بھی ہمارے ساتھ چلیں تو۔۔۔ “
“میں حاضر ہوں بیگم صاحبہ۔ ” ڈاکٹر ہاشمی کے چہرے پر پھول سے کھِلے۔ شاید یہ سفر ان کے اندر کی آواز تھا۔
“کوئی رکاوٹ تو مانع نہیں ہے۔ ” بیگم صاحبہ نے پوچھا۔
“رکاوٹ کیسی بیگم صاحبہ۔ سرمد لندن میں ہے۔ ہاسپٹل کون سامیرے سینگوں پر کھڑا ہے، اسے سنبھالنے والے موجود ہیں۔ اور کوئی ایسی ذمہ داری ہے نہیں جو راستے کا پتھر بنے۔ “
“تو بس۔ “بیگم صاحبہ نے جیسے فیصلہ سنا دیا۔ ” آپ انتظام کریں۔ اگلے ہفتے میں کسی بھی دن ہم دونوں بہن بھائی عمرے کے لئے روانہ ہو جائیں گے۔ “
“انشاء اللہ۔ ” ڈاکٹر ہاشمی نے بے ساختہ کہا۔
پھر وہ سلام کر کے رخصت ہو گئے اور بیگم صاحبہ اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئیں۔ ان کا رواں رواں اپنے خالق کے سامنے سجدہ ریز ہونے کو بیتاب تھا۔ کمرے میں داخل ہو کر انہوں نے دروازہ بند کر لیا اور اس وقت اگر وہاں کوئی سننے والا ہوتا تو سنتا کہ چند لمحوں بعد کمرے سے بھیگی بھیگی شکرانے کی صدائیں جو بلند ہوئیں تو ان کے سبب ہر طرف کیسا عاجزی اور انکساری کا دھیما دھیما نور پھیل رہا تھا۔
٭٭٭٭٭٭
کتنی ہی دیر گزر گئی۔
پھولوں کے بستر پر گھونگھٹ نکالے صفیہ سر جھکائے بیٹھی تھی۔ طاہر اس کے پاس بستر کی پٹی پر بیٹھا کچھ سوچ رہا تھا۔ وقت یوں دبے پاؤں چل رہا تھا جیسے اسے وہم ہو کہ اس کی آہٹ ان لمحوں کو چونکا دے گی۔
کنکھیوں سے صفیہ نے طاہر کی جانب دیکھا اور بڑے غیر محسوس انداز میں پہلو بدلا۔ اسے الجھن ہونے لگی تھی۔
طاہر اس کے ہلنے پر چونکا۔ پھر اس کے چہرے پر خجالت کے آثار نمودار ہوئے۔ وہ سوچوں میں گم تھا اور نئی نویلی دلہن اس کی کسی بھی پیشرفت کے انتظار میں سوکھ رہی تھی۔ پہلو بدل کر اس نے گھونگھٹ میں چھپے چہرے پر ایک نگاہ ڈالی اور اس کا دل سینے میں اتھل پتھل ہونے لگا۔
بڑا عجیب اور جاں گسل لمحہ تھا۔ اسے گھونگھٹ اٹھانا تھا۔ اپنی باقی زندگی کے ساتھی کو دیکھنا تھا۔ اس سے باتیں کرنا تھیں۔ اسے کچھ بتانا تھا۔ اس سے کچھ پوچھنا تھا مگر اسے حوصلہ نہ ہو رہا تھا۔ سمجھ نہ آ رہی تھی کہ یہ سارے مراحل کیسے طے کرے؟
پھر اسے کچھ خیال آیا اور اس کے سینے سے جیسے بوجھ سا ہٹ گیا۔ بڑوں کی بنائی ہوئی رسمیں کبھی کبھار کتنا کام آتی ہیں ، دل ہی دل میں اسے اقرار کرنا پڑا۔
اس نے کرتے کی جیب میں ہاتھ ڈالا اور چھوٹی سی نیلی مخملیں ڈبیا نکال کر کھولی۔ اندر نیلم جڑی وائٹ گولڈ رِنگ جگمگا رہی تھی۔
انگوٹھی نکال کر اس نے ڈبیا تپائی پر ڈالی اور دھڑکتے دل کے ساتھ بائیں ہاتھ سے صفیہ کا دایاں ہاتھ تھاما۔ اسے صفیہ کے ہاتھ میں واضح لرزش کا احساس ہوا۔ طاہر نے خشک لبوں پر زبان پھیری۔
“امی نے تو آپ کو منہ دکھائی دے دی۔ یہ میری طرف سے رونمائی کا تحفہ ہے۔ ” کہتے ہوئے اس نے انگوٹھی اس کے ہاتھ کی درمیانی انگلی میں پہنا دی۔
صفیہ نے ہاتھ واپس کھینچنا چاہا۔ کھینچ نہ سکی۔ طاہر نے دھیرے سے اس کا ہاتھ چھوڑا تو اس کی جان میں جان آئی۔ اس نے ہاتھ دوبارہ کھڑے گھٹنوں پر رکھ لئے اور ان پر گھونگھٹ کر لیا۔ بے اختیار طاہر کو ہنسی آ گئی۔
” زندگی بھر گھونگھٹ میں رہنے کا ارادہ ہے کیا؟” اس نے بے تکلفی کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھا۔
جواب میں صفیہ کا بدن ذرا سا ہلا اور شرما کر اس نے سر اور جھکا لیا۔
“دیکھئے۔ اب تو ہم آپ کا دیدار کرنے کا پروانہ بھی آپ کے حوالے کر چکے ہیں۔ کیا اب بھی اجازت میں کوئی امر مانع ہے؟”
” آپ اتنے گاڑھے گاڑھے الفاظ کیوں بول رہے ہیں ؟” اچانک ایک مدھر آواز نے طاہر کے کانوں میں رس گھول دیا۔
“اتنی خوبصورت آواز۔ ” بیساختہ اس کا دل پکارا۔ ” اتنا حسین لہجہ۔ ” وہ بے قرار سا ہو گیا۔
آہستہ سے اس کے ہاتھ بڑھے اور چاند سے بدلی ہٹا دی۔
بے خودی نے طاہر کو جکڑ لیا۔ اس کی نگاہوں میں نشہ سا اترا اور سارے وجود میں پھیلتا چلا گیا۔ اس کے سامنے ایک انسانی چہرہ ہی تھا مگر اس پر کیسا حسن ضو فشاں تھا کہ جس نے طاہر کی رگ رگ میں مستی بھر دی۔ وہ عجب بہکے بہکے انداز میں صفیہ کے چہرے کو تکے جا رہا تھا۔ وہ اپنے گھٹنوں پر ٹھوڑی ٹکائے، آنکھیں بند کئے خاموش بیٹھی تھی
ایک گہرا سانس لے کر اس نے اپنے تپتے جسم کی ناگفتنی کیفیت پر قابو پانے کی کوشش کی۔ پھر بستر پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا۔
“اگر آپ مناسب سمجھیں تو تکلف کی یہ دیوار گرانے کی باہمی کوشش کی جائے۔ ” ذرا دیر بعد اس نے کہا۔
جواب میں صفیہ خاموش رہی۔ ہوں نہ ہاں۔ طاہر نے چند لمحے انتظار کیا۔
“اس کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے آپ یہ بدلی اپنے چاند چہرے سے ہٹا دیں۔ ” وہ دونوں ہاتھ گود میں رکھتے ہوئے بولا۔
“پہلے آپ یہ مشکل مشکل الفاظ بولنا بند کریں۔ ” صفیہ نے اپنی مست آواز سے طاہر کو پھر گرما دیا۔ ساتھ ہی جیسے وہ ہولے سے ہنسی۔ طاہر کے لبوں پر بھی مسکراہٹ ابھر آئی۔
“میں نے کوئی مشکل لفظ نہیں بولا۔ صرف آپ کے حسن کی تعریف کی ہے۔ ” طاہر نے بے تکلفی کی جانب چھلانگ لگائی اور ساتھ ہی ہاتھ بڑھا کر صفیہ کا گھونگھٹ الٹ دیا۔
صفیہ اس اچانک حملے سے بے خبر تھی، اس لئے کچھ کر نہ سکی اور اس کی نظر سیدھی طاہر کے چہرے پر جا پڑی۔ دونوں کی نگاہیں ملیں اور چند لمحوں کے لئے وہ ایک دوسرے میں کھو کر رہ گئی۔ پھر صفیہ نے شرما کر نظر جھکا لی۔ طاہر کا دل سینے میں مچل کر رہ گیا۔ اس کے شرمانے کا انداز اسے اور بھی دلفریب لگا۔
” دیکھئے۔ یہ زیادتی ہے۔ ” طاہر نے شکایتی لہجے میں کہا۔
جواب میں صفیہ نے مسکراہٹ دباتے ہوئے اسے استفسارانہ انداز میں دیکھا۔
” آپ نے منہ دکھائی دیے بغیر ہی ہمیں دیکھ لیا۔ ” طاہر نے کہا تو صفیہ کے چہرے پر قوسِ قزح کے لہریے پھیل گئی۔
” آپ بھی تو گھونگھٹ کے بغیر ہی آ بیٹھے۔ ” دھیرے سے اس نے کہا اور طاہر کے ہونٹوں سے ایسا جاندار قہقہہ ابلا کہ صفیہ نے گھبرا کر بے اختیار دروازے کی جانب دیکھا۔ پھر دروازہ بند دیکھ کر جیسے اسے اطمینان ہو گیا۔
ایسی ہی چند اور باتوں نے کمرے کا ماحول تکلف کی قید سے آزاد کرا لیا اور تھوڑی دیر بعد دونوں ایک دوسرے کی ہلکی پھلکی باتوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔
دیوار گیر کلاک نے رات کے دو بجنے کا اعلان کیا تو دونوں چونکے۔ صفیہ نے لمحوں میں طاہر کو موہ لیا۔ وہ اس کی باتوں اور خیالات سے بہت متاثر نظر آ رہا تھا۔ کلاک نے دو بجائے تو انہیں رات کا آخری پہر شروع ہونے کا پتہ چلا۔ تبھی طاہر کو ایک دم سنجیدگی نے گھیر لیا۔ ایک بار پھر اس کا دل، دماغ سے الجھنے لگا۔ اس نے بڑی کوشش کی کہ کسی طرح اس خیال سے پیچھا چھڑا لے مگر گزشتہ وقت کے سائے اس کی سوچوں پر منڈلا رہے تھے۔ وہ کچھ دیر الجھا الجھا بیٹھا رہا۔ صفیہ اسے ایک دم خاموش ہوتا دیکھ کر خود بھی الجھن میں پڑ گئی۔ جب نہ رہ سکی تو بول اٹھی۔
” آپ کسی الجھن میں ہیں طاہر؟”صفیہ کی آواز اور استفسار نے طاہر کو حواس لوٹا دئیے۔ اس نے صفیہ کی جانب دیکھا اور بیچارگی سے سر ہلا دیا۔
“خیریت؟” صفیہ کا دل دھڑکا۔
“خیریت ہی ہے۔ ” وہ ہولے سے بولا۔ پھر جی کڑا کر کے اس نے صفیہ کی آنکھوں میں دیکھا۔ ” صفیہ۔ میں تم سے ایک دو خاص باتیں کرنا چاہتا ہوں۔ “
“تو کیجئے ناں۔ اس میں الجھن یا اجازت کی کیا بات ہے۔ ” وہ سنبھل کر بولی۔
“دیکھو صفیہ۔ ” طاہر نے اس کی آنکھوں میں جھانک کر کہنا شروع کیا۔ ” آج سے پہلے ہم ایک دوسرے کے لئے اجنبی تھے۔ اب اتنے انجان نہیں ہیں جتنے چند گھنٹے پہلے تھے۔ آگے ایک پوری زندگی پڑی ہے جو ہمیں ساتھ ساتھ بِتانی ہے۔ ” وہ رکا۔
“رکئے نہیں۔ کہتے رہئے۔ ” صفیہ نے اسے حوصلہ دیا اور طاہر نے نظر جھکا کر کہنا شروع کیا۔
“کہنا صرف یہ چاہتا ہوں کہ شوہر اور بیوی کا رشتہ صرف اور صرف اعتماد کے دھاگے سے بندھا ہوتا ہے اور یہ دھاگہ اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ اسے بڑے سے بڑا جھٹکا بھی توڑ نہیں پاتا لیکن شک کا ہلکا سا احساس اس مضبوطی کو بودے پن میں تبدیل کر کے اس دھاگے کو توڑ دیتا ہے۔ اس رشتے کو ہوا کا بدبو دار جھونکا بنا دیتا ہے۔ اس لئے میں تم سے پوچھ لینا چاہتا ہوں کہ کیا مجھ سے تمہاری شادی تمہاری مرضی سے ہوئی ہے؟ اس بندھن میں کوئی زبردستی، کوئی مجبوری تو شامل نہیں ہے؟ یا یہ کہ۔۔۔ “
“میری زندگی میں آپ سے پہلے کوئی دوسرا مرد تو نہیں رہا۔ ” صفیہ نے بات کاٹتے ہوئے اس کی دُکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا۔
طاہر نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ کیسی آسانی سے صفیہ نے وہ بات کہہ دی تھی جو کہنے کے لئے وہ اب تک خود میں ہمت نہ پا رہا تھا۔ تمہیدیں باندھ رہا تھا۔
“یہی پوچھنا چاہتے ہیں ناں آپ؟” بڑے اطمینان سے اس نے پوچھا۔
جواب میں طاہر غیر محسوس انداز میں محض سر ہلا کر رہ گیا۔
“اگر میں کہوں کہ میرا جواب اثبات میں ہے تو؟” یکایک صفیہ نے جیسے طاہر کے پاؤں تلے سے زمین کھینچ لی۔
“کیا مطلب؟” اس کے لبوں سے فوراً نکلا۔
“میں نے آپ کی طرح شاعری نہیں کی طاہر۔ سیدھے سادے الفاظ میں پوچھا ہے کہ اگر میری زندگی میں آج سے پہلے تک کوئی مرد رہا ہو، جس کا وجود صرف اس حد تک میری آج سے پہلے کی زندگی میں رہا ہو کہ وہ مجھے اور میں اسے پسند کرتی رہی ہوں اور بس۔۔۔ لیکن کسی وجہ سے میں اس کے بجائے آپ سے شادی کرنے پر مجبور ہو گئی اور اب میں یہ کہوں کہ آج کے بعد میری زندگی میں آپ کے سوا کوئی دوسرا مرد نہیں آئے گا تو آپ کیا کہیں گے؟”
“پہلے یہ کہو کہ واقعی ایسا ہے یا تم صرف فرض کر رہی ہو؟” طاہر کی آواز بکھر سی گئی۔
” آپ یوں سمجھ لیں کہ میں جسے پسند کرتی تھی وہ بے وفا نکلا۔ اس نے کسی اور سے شادی کر لی۔ اب میں آپ سے شادی کرنے میں آزاد تھی اس لئے آپ کے عقد میں آ گئی۔ اس صورتحال میں آپ کیا کہیں گے؟”
“یعنی تم بھی اَن چھوئی نہیں ہو۔ ” وہ تلخی سے بولا۔
“غلط۔ ” ایک دم صفیہ ہتھے سے اکھڑ گئی۔ “ایسا بُرا اور زہریلا لفظ آپ نے زبان سے کیسے نکال دیا طاہر۔ میں نے صرف پسند کی بات کی ہے، تعلقات کی نہیں۔ اور آپ نے مجھے سیدھا کسی کی جھولی میں ڈال دیا۔ ” اس کے لہجے میں احتجاج تھا۔
بات کا رخ ایسا ہو گیا کہ لگتا ہی نہ تھا کہ وہ دونوں زندگی میں پہلی بار ملے ہیں اور یہ ان کی سہاگ رات کے لمحات ہیں۔
“میرا وہ مطلب نہیں تھا جو تم نے سمجھ لیا۔ ” طاہر سنبھلا۔ ” تاہم میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ اگر بات پسند کی حد تک بھی رہی ہو تو میں اسے سہنے کا حوصلہ نہیں رکھتا۔ “
“پھر۔۔۔ ” صفیہ کے لبوں پر تمسخر ابھرا۔ “پھر کیا کریں گے آپ، اگر یہ بات سچ ہی نکل آئے تو۔۔۔ ؟”
“میں۔۔۔ میں۔۔۔ ” وہ گڑبڑا گیا اور بستر سے اٹھ گیا۔ اس کاسانس بے قابو ہو رہا تھا۔
“طلاق کا لفظ لبوں سے بغیر سوچے سمجھے نہ نکالئے گا طاہر۔ یہ سوچنے پر بھی لاگو ہو جاتی ہے۔ ” صفیہ نے تیزی سے کہا۔
“پھر میں۔۔۔ میں کیا کروں ؟” وہ اس کی طرف پلٹا تو بے بسی اس پر پوری طرح حاوی ہو چکی تھی۔
“وہ بھی میں آپ کو بتاتی ہوں مگر پہلے آپ میرے ایک سوال کا جواب دیجئے۔ ” صفیہ بھی بستر سے اتر کر اس کے قریب چلی آئی۔
طاہر نے بجھی بجھی نظروں سے اس کی جانب دیکھا۔ دل کی دنیا ایک بار پھر تہہ و بالا ہو چکی تھی۔ بسنے سے پہلے ہی وہ ایک بار پھر برباد ہو گیا تھا۔
“جہاں تک میں سمجھ پائی ہوں آپ کا مسئلہ یہ ہے کہ آپ ایسی شریک حیات چاہتے ہیں جو صرف اور صرف آپ سے منسوب ہو۔ جس کی زندگی میں آپ سے پہلے کوئی مرد نہ آیا ہو۔ پسند کی حد تک بھی اس کے خیالوں پر کسی کا سایہ نہ پڑا ہو۔ صاف صاف کہئے، ایسا ہی ہے ناں ؟”
“ہاں۔ ” بڑی مشکل سے کہہ کر طاہر نے رخ پھیر لیا۔
“لیکن اس کے جواب میں آپ کی شریک حیات آپ سے بھی ایساہی مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہے یا نہیں ؟”
“کیا مطلب؟” وہ ایک جھٹکے سے اس کی طرف پلٹا۔
“مطلب صاف ہے طاہر۔ اگر آپ اپنے لئے ایسی بیوی چاہتے ہیں جس کی زندگی میں کوئی مرد تصور کی حد تک بھی دخیل نہ رہا ہو تو وہ بیوی بھی تو اپنے لئے ایسا ہی مرد چاہ سکتی ہے جس کی زندگی میں پسند کی حد تک بھی کوئی لڑکی نہ داخل ہوئی ہو۔ “
طاہر کی آنکھوں میں بے یقینی کی کیفیت ابھری اور وہ صفیہ کو تکتا رہ گیا۔ اس بارے میں تو اس نے کبھی سوچا ہی نہ تھا۔
“کیا آپ خود بھی ایسے ہی ہیں طاہر، جیسا آپ مجھے دیکھنا چاہتے ہیں ؟”صفیہ نے اس کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا۔
“میری زندگی میں۔۔۔ “
“جھوٹ مت بولئے گا طاہر۔ میاں بیوی کا رشتہ اعتماد کے ساتھ ساتھ سچ کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے اور میں کسی اور کے بارے میں نہیں تو کم از کم زاہدہ کے بارے میں تو جانتی ہی ہوں۔ ” صفیہ نے اس کی بات کاٹ دی۔
طاہر کے سر پر جیسے بم ساپھٹا۔ اس کے حواس مختل ہو گئی۔ وہ حیرت اور خجالت بھری نظروں سے صفیہ کو دیکھتا رہ گیا، جو کہہ رہی تھی۔
“اس کے باوجود میں نے آپ سے شادی کے لئے ہاں کہہ دی۔ جانتے ہیں کیوں ؟” وہ ہولے سے مسکرائی۔ ” صرف اس لئے کہ انکل ہاشمی نے مجھے آپ کے اور زاہدہ کے بارے میں ایک ایک سچ بتا دیا تھا۔ اس میں آپ بے قصور تھے۔ اور وہ بھی۔ حالات نے جو تانا بانا بُنا اس میں آپ دونوں الجھ کر رہ گئے۔ جب الجھنوں کے بادل چھٹے تو وہ اپنی منزل پر تھی اور آپ نے تو ابھی سفر شروع ہی نہیں کیا تھا۔ مجھے لگا کہ اس صورتحال میں اگر میں آپ کی ہمسفر ہو جاؤں تو آپ کی تنہائی آسان ہو جائے گی اور میرا فیصلہ مجھے کبھی پچھتاوے کی آگ سے آشنا نہیں کرے گا۔ اور اس کی بہت بڑی اور شاید ایک ہی وجہ تھی میرے پاس۔ “
“وہ کیا؟” بے اختیار طاہر نے پوچھا۔
“صرف یہ کہ۔۔۔ ” وہ پل بھر کو مسکرائی۔ “میری زندگی میں پسند کی حد تک بھی کوئی مرد کبھی داخل ہی نہیں ہو پایا۔ ” وہ بڑے اطمینان سے کہہ گئی۔
طاہر کو لگا جیسے اسے بھرے بازار میں بے عزت کر دیا گیا ہو۔ اس کا سر جھک سکا نہ اٹھ سکا۔
“اس کی بھی ایک وجہ تھی۔ امی اور ابو کے بعد ممانی نے مجھے اپنی بیٹیوں کی طرح پالا اور گھر سے باہر جاتے ہوئے ایک بات کہی کہ بیٹی، زندگی میں ایک دن آتا ہے جب مرد، عورت کی زندگی میں کسی طوفان کی طرح داخل ہوتا ہے یا پھر بہار کے جھونکے کی طرح۔ شادی سے پہلے آنے والا مرد اکثر طوفان کی مثل آتا ہے جو اپنے پیچھے صرف اور صرف بربادی چھوڑ جاتا ہے۔ ایسی بربادی جو اگر جسم کو پامال نہ بھی کرے تو روح پر اپنی خراشیں ضرور ڈالتی ہے۔ جسم کے زخم بھر جاتے ہیں لیکن روح کے گھاؤ کبھی مندمل نہیں ہوتے اور اس بربادی کی یادیں عورت کو کبھی اپنے شوہر سے پوری طرح وفادار نہیں ہونے دیتیں۔ اور شوہر، عورت کی زندگی میں اس بہار کے جھونکے کی طرح آتا ہے جسے جلد یا بدیر آنا ہی ہوتا ہے، کہ اس کے ساتھ عورت کا جوڑا اس کے دنیا میں آنے سے پہلے آسمانوں پر بن چکا ہوتا ہے۔ اس جھونکے کا انتظار ذرا کٹھن ضرور ہوتا ہے مگر بیٹی۔ یہ اپنے ساتھ آبادی، سکون اور محبتیں لے کر آتا ہے۔ اس لئے کوشش کرنا کہ تم اس انتظار سے سانجھ پیدا کر سکو۔ میرا تم پر نہ کوئی زور ہے نہ میں تم پر نگاہ رکھوں گی۔ میں تم پر اعتماد بھی کر رہی ہوں اور تمہیں پوری آزادی بھی دے رہی ہوں کیونکہ تم جاہل ہو نہ غلام۔ طوفان سے آشنائی میں تمہارا بھلا ہے یا بہار کے انتظار میں۔ یہ فیصلہ اب تمہیں کرنا ہے۔ میں اس لئے بھی یہ اعتبار کا کھیل کھیل رہی ہوں کہ مجھے اپنی تربیت کا امتحان مقصود ہے۔ “
صفیہ ذرا رکی۔ چمکتی ہوئی آنکھوں سے دم بخود کھڑے طاہر کی طرف دیکھا اور پھر گویا ہوئے۔
“میں نے اس بات پر زیادہ غور نہیں کیا طاہر۔ بس یہ سوچ لیا کہ جب کسی ایک مرد سے واسطہ ہونا ہی ہے تو پھر وہ میرا اپنا شوہر ہی کیوں نہ ہو۔ کوئی غیر کیوں ہو؟ ایسا مرد کیوں ہو جس سے دائمی بندھن باندھنے کا موسم بعد میں آئے اور طوفان کا خطرہ ہر وقت اس کے خیال کے ساتھ بندھا رہے۔ میں اس سے کیوں نہ آشنائی رکھوں جس کے ساتھ میرا جنم جنم کا بندھن پہلے بندھے اور جب وہ آئے تو میرے دامن میں ڈالنے کے لئے بہاریں ساتھ لے کر آئے۔ بس یہ سوچا اور میں نے اپنی ساری توجہ صرف اپنی تعلیم پر مرکوز کر دی۔ اب اس دوران مجھے کسی نے پسندیدہ نظر سے دیکھا ہو تو میں کہہ نہیں سکتی، بہرحال میں نے اس طرف اپنے کسی خیال کو بھی کبھی نہ جانے دیا۔ مگر لگتا ہے آپ کو میری باتوں پر یقین نہیں آیا۔ ” صفیہ کے لبوں پر بڑی عجیب سی مسکراہٹ ابھری۔
طاہر تھرا کر رہ گیا۔ اسے ہوش سا آ گیا۔ شرمندگی اس کے روئیں روئیں سے پسینہ بن کر ابلی پڑ رہی تھی۔ سردیوں کی رات اس کے لئے حبس کی دوپہر بن گئی تھی۔
“میں۔۔۔ میں۔۔۔ ” آواز طاہر کے گلے میں درد کا گولہ بن کر پھنس گئی۔
“میں آپ کی مشکل آسان کر دیتی ہوں طاہر۔ ” صفیہ کی مسکراہٹ کچھ اور گہری ہو گئی۔ “کہتے ہیں کہ انسان اپنی عزیز ترین شے کی جھوٹی قسم کھائے تو وہ چیز اس سے چھن جاتی ہے۔ میرا جی تو چاہ رہا ہے کہ میں آپ کی قسم کھاؤں کیونکہ میں جھوٹ نہیں بول رہی لیکن آپ کو یقین دلانے کے لئے میں اپنی جان کی قسم کھاتی ہوں کہ کسی کو بھی اپنی جان سے زیادہ پیارا کچھ نہیں ہوتا۔ میں قسم کھاتی ہوں کہ میں نے جو کہا سچ کہا، سچ کے سوا کچھ نہیں کہا می لارڈ۔ ” اس کا دایاں ہاتھ یوں بلند ہو گیا جیسے وہ عدالت میں حلف دے رہی ہو۔ ” اگر میں نے جھوٹ بولا ہو تو مجھ پر خدا کا قہر نازل ہو اور صبح کا سورج مجھے زندہ۔۔۔ “
“بس۔۔۔ بس۔ ” طاہر نے لپک کر اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا۔ “جو منہ میں آ رہا ہے، کہے جا رہی ہو۔ ” اک ذرا سی بات کو آتش فشاں بنا دیا ہے تم نے۔ ایک زخمی دل کا مالک ہوں میں۔ اگر تم سے مرہم مانگ لیا تو کون سی قیامت آ گئی جو تم مجھے یوں بے ستر کئے دے رہی ہو۔ “
” آپ نے کم نشتر چلائے ہیں کیا؟” صفیہ کی آواز بھیگ گئی۔ ” اپنی عزت کو دوسرے کے ساتھ منسوب کر دیا۔ “
“میں نے ایسا ہرگز نہیں کہا تھا۔ پھر بھی مجھے معاف کر دو۔ “
“کبھی نہیں۔ ہر گز نہیں۔ “
“صفو۔ ” طاہر نے التجائیہ سرگوشی کی۔
“ایک شرط پر۔ ” ۔
“کیا؟”
“غدر مچانے کے آغاز میں آپ نے پوچھا تھا کہ میں کیا کروں ؟”
“تو۔۔۔ ؟” طاہر کا لہجہ سوالیہ ہو گیا۔
“میں نے کہا تھا کہ یہ بھی میں آپ کو بتاتی ہوں کہ آپ کیا کریں۔ یاد ہے؟”
“بالکل یاد ہے۔ “
“تو شرط یہ ہے کہ جو میں کہوں گی آپ کریں گی۔ بولئے منظور ہے؟”وہ شاید طاہر کا امتحان لے رہی تھی مگر طاہر اب کوئی رسک لینے کو تیار نہ تھا۔
” مجھے سنے بغیر ہی منظور ہے۔ ” اس نے جلدی سے کہا۔
“نہیں۔ پہلے سن لیجئے۔ ہو سکتا ہے بعد میں آپ سوچنے پر مجبور ہو جائیں۔ “
“جلدی سے کہہ ڈالو، جو کہنا ہے تمہیں۔ ” طاہر بے صبرا ہو گیا۔
“تو می لارڈ۔ مجھ پر، اپنی شریک حیات پر، جس کے آپ مجازی خدا ہیں ، اعتماد کیجئے۔ اندھا نہ سہی، دیکھ بھال کر ہی سہی لیکن اعتماد ضرور کیجئے تاکہ میں اس بہار کی آمد کو محسوس کر سکوں جس کے انتظار میں ، جس کی امید میں مَیں نے زندگی کے بائیس برس اندھی، بہری بن کر گزار دئیے۔ “
“کیا مجھے زبان سے کہنا پڑے گا کہ میں اب تم پر ویسے ہی اعتماد کرتا ہوں جیسے خود پر۔ ” طاہر نے اس کے شانوں پر ہاتھ رکھ کر اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
” اگر آپ کو خود پر اعتماد ہوتا تو ہماری پہلی ہی ملاقات یوں بادِ سموم کا شکار نہ ہوتی۔ ” صفیہ کا لہجہ شکایتی ہو گیا۔ “اچھا تو یہ ہے کہ مجھ سے پہلے خود پر، اپنے جذبوں پر اعتماد کرنا سیکھئے طاہر۔ ورنہ یہ کج بحثیاں زندگی کا معمول بن جائیں گی۔ “
“ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ میں تمہیں یقین دلاتا ہوں۔ ” طاہر کا لہجہ بدل گیا۔ ایک عزم سا جھلکا اس کی آواز میں۔
“کیا میں اس پر یقین کر لوں ؟” صفیہ نے براہ راست طاہر کی آنکھوں میں جھانکا۔
“ہوں۔ ” طاہر نے بیباکی سے اس کی نظروں کا سامنا کرتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔
“تو جائے۔ ہم نے آپ کو معاف کیا۔ ” صفیہ نے ایک شانِ بے نیازی سے کہا اور ایک دم اس کے قدموں پر جھک گئی۔ “میرے مجازی خدا ہیں آپ۔ لیکن کبھی میری ایسی آزمائش نہ لیجئے گا کہ جس میں پوری نہ اتر سکوں۔ “
“صفو۔ ” نجانے کب سے رکے ہوئے آنسو صفیہ کی پلکوں تک آ گئے تھے۔ “بس۔ یہ پہلے اور آخری نمکین قطرے ہیں جو تمہاری آنکھوں سے چھلک پڑے۔ دوبارہ کبھی نہیں۔ کبھی نہیں۔ “
٭٭٭٭٭
صفیہ اور طاہر کی شادی کو پندرھواں دن تھا جب بیگم صاحبہ اور ڈاکٹر ہاشمی عمرے کے لئے روانہ ہو گئے۔
محرم کے طور پر بیگم صاحبہ نے اپنا ایک یتیم بھانجا اعجاز ساتھ لے لیا۔ فرسٹ ایئر کا طالب علم اعجاز انہی کی زیرِ کفالت تھا۔ ڈاکٹر ہاشمی مردانہ گروپ میں انہی کے ساتھ مگر ان سے الگ اپنے طور پر سفر کر رہے تھے۔ دورانِ سفر ان کا رابطہ بیگم صاحبہ سے اعجاز ہی کی معرفت رہنا تھا کیونکہ بیگم صاحبہ کے لئے وہ اس مقدس سفر کے حوالے سے بہرحال نامحرم تھے۔
انہیں ائرپورٹ پر خدا حافظ کہہ کر وسیلہ خاتون اور صفیہ طاہر کی کار میں واپس لوٹ رہے تھے کہ راستے میں وسیلہ خاتون کا موبائل گنگنا اٹھا۔
“ہیلو۔ ” انہوں نے کال اٹنڈ کی۔ “کون سرمد بیٹا؟” ایک دم ان کے چہرے پر بشاشت پھیل گئی۔ کیسے ہو تم؟”
ذرا دیر وہ سرمد کی بات سنتی رہیں۔ گردن گھما کر انہیں دیکھتی ہوئی صفیہ نے صاف محسوس کیا کہ دوسری طرف سے جو کہا جا رہا ہے اس کا ردِ عمل وسیلہ خاتون کے چہرے پر اضطراب کی شکل میں ظاہر ہو رہا ہے۔ طاہر خاموشی سے ڈرائیو کر رہا تھا۔
“ڈاکٹر ہاشمی کے بیٹے سرمد کا فون ہے ناں ؟” اس نے روا روی میں پوچھا۔
“جی ہاں۔ میں تو اسی ایک ہی سرمد کو جانتی ہوں۔ ” صفیہ اس کی جانب متوجہ ہو کر ہولے سے مسکرائی۔ “پورا ایک سال میں اس سے ٹیوشن لیتی رہی ہوں۔ اس طرح میں اس کی شاگرد بھی ہوں۔ آپ کے ساتھ تو بڑی بے تکلفی ہو گی اس کی؟”
“نہیں۔ ” طاہر نے نفی میں سر ہلایا۔ ” بس علیک سلیک اچھی خاصی کہہ سکتی ہو۔ اس سے زیادہ نہیں۔ ڈاکٹر ہاشمی ہمارے فیملی ممبر جیسے ہیں تاہم سرمد چونکہ زیادہ تر اپنی بیرون ملک تعلیم میں محو رہا اس لئے اس کے ساتھ بہت زیادہ وقت نہیں گزرا۔ ہماری شادی میں بھی وہ اسی لئے شریک نہیں تھا کہ ان دنوں وہ لندن میں ایم بی اے کر رہا ہے۔ “
“طاہر بیٹی۔ ” اسی وقت وسیلہ خاتون کی آواز نے ان کو اپنی جانب متوجہ کر لیا۔ ان دونوں کو پتہ ہی نہ چلا کہ کب انہوں نے سرمد سے گفتگو کا سلسلہ ختم کیا۔ “مجھے گھر پر اتار دینا۔ “
“جی نہیں آنٹی۔ آپ ہمارے ساتھ چل رہی ہیں۔ جب تک امی واپس نہیں آ جاتیں ، آپ وہیں رہیں گی۔ “طاہر نے جواب دیا۔
“ارے نہیں بیٹا۔ ” وہ جلدی سے بولیں۔ “گھر بالکل اکیلا ہے اور زمانہ چوری چکاری کا ہے۔ “
” آپ کے پاس جو سب سے قیمتی شے تھی، وہ تو آپ نے مجھے دے ڈالی آنٹی۔ اب کس چیز کی چوری کا اندیشہ ہے ؟” طاہر نے دزدیدہ نگاہوں سے صفیہ کی جانب دیکھا۔
صفیہ کے رخ پر شرم نے سرخی بکھیر دی۔ اس نے حیا آلود مسکراہٹ کے ساتھ طاہر کے بازو پر چٹکی لی اور منہ پھیر لیا۔
“ٹھیک کہہ رہے ہو بیٹے۔ ” وسیلہ خاتون کے لبوں سے نکلا۔ “لیکن میرا گھر پر رہنا ضروری ہے۔ ہاں اگر تم محسوس نہ کرو تو ایک آدھ دن کے لئے صفیہ کو میرے پاس چھوڑ دو۔ “
“ایک آدھ دن کی بات ہے تو کوئی حرج نہیں آنٹی۔ ” طاہر نے گاڑی ان کے گھرکو جانے والی سڑک پر موڑ دی۔ ” ابھی میں اسے آپ کے ہاں چھوڑ جاتا ہوں۔ رات کا کھانا آپ کے ساتھ کھاؤں گا اور اس کے بعد ہم اپنے گھر چلے جائیں گے۔ رات کو رکنے سے معذرت۔ “
“اللہ تم دونوں کو یونہی آباد اور خوش رکھے بیٹا۔ ” وسیلہ خاتون نے تشکر سے کہا۔ “یہ تمہاری محبت ہے اور میں اس میں دخل دینا پسند نہیں کروں گی۔ رات کو تم لوگ بیشک واپس چلے جانا۔ “
“شکریہ آنٹی۔ ” طاہر نے گاڑی وسیلہ خاتون کے گھر کے سامنے روک دی۔
” آپ اندر تو آئیے۔ باہر ہی سے رخصت ہو جائیں گے کیا؟” صفیہ نے اترنے سے پہلے اس کی جانب دیکھ کر کہا۔
“نہیں۔ میں ذرا آفس کا چکر لگاؤں گا۔ شام کو آؤں گا تو تینوں گپ شپ کریں گے۔ ” طاہر نے مسکرا کر کہا۔ ” اس وقت دس بجے ہیں۔ شام تک آنٹی سے جی بھر کر باتیں کر لو۔ رات کو ہمیں گھر لوٹ جانا ہے۔ ” وہ انگلی اٹھا کر اسے تنبیہ کرنے کے انداز میں یوں بولا، جیسے وعدہ لے رہا ہو۔
وسیلہ خاتون “شام کو جلدی آ جانا بیٹے” کہہ کر پچھلی سیٹ سے اتر گئیں۔ صفیہ اسے محبت پاش نگاہوں سے دیکھتی ہوئی گاڑی سے نکلی اور گھر کے دروازے پر کھڑی تب تک اسے ہاتھ ہلا تی رہی، جب تک اس کی گاڑی موڑ نہ مڑ گئی۔
٭٭٭٭٭٭
“ممانی۔ ” صفیہ نے وسیلہ خاتون کے سامنے بیٹھتے ہوئے ایک پل بھی صبر نہ کیا اور بول پڑی۔ “کیا بات ہے؟ میں دیکھ رہی ہوں کہ سرمد کے فون نے آپ کو پریشان کر دیا ہے۔ کیا کہہ رہا تھا؟ خیریت سے تو ہے ناں وہ؟”
“بتاتی ہوں بیٹی۔ ” وسیلہ خاتون نے تھکے تھکے لہجے میں کہا۔ ” تم ذرا مجھے پانی پلاؤ۔ “
صفیہ اٹھی اور پانی کا گلاس لے آئی۔ وسیلہ خاتون نے پانی پیا۔ شال کے پلو سے ہونٹ خشک کئے اور گلاس تپائی پر رکھ دیا۔
“اب جلدی سے کہہ دیجئے ممانی۔ میرا دل گھبرا رہا ہے۔ ” صفیہ ان کے چہرے کی جانب دیکھتے ہوئے بولی۔
“صفیہ۔ پہلے مجھے ایک بات بتاؤ بیٹی۔ ” وسیلہ خاتون نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ “حالانکہ مجھے یہ بات پوچھنا نہیں چاہئے کیونکہ مجھے تم نے کبھی ایساکوئی اشارہ تک نہیں دیا پھر بھی اپنا وہم دور کرنے کو پوچھ رہی ہوں۔ ” وہ رک گئیں۔
“پوچھئے ممانی۔ جھجکئے مت۔ ” صفیہ نے ان کا ہاتھ تھپکتے ہوئے محبت سے کہا۔
“بیٹی۔ کیا سرمد تمہیں پسند کرتا تھا؟” انہوں نے صفیہ کی طرف دیکھا۔
٭٭٭٭٭٭٭

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: