Ishq Ka Qaaf Novel By Sarfaraz Ahmad Rahi – Episode 8

0
عشق کا قاف از سرفراز احمد راہی – قسط نمبر 8

–**–**–

“صفیہ۔ پہلے مجھے ایک بات بتاؤ بیٹی۔ ” وسیلہ خاتون نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ “حالانکہ مجھے یہ بات پوچھنا نہیں چاہئے کیونکہ مجھے تم نے کبھی ایساکوئی اشارہ تک نہیں دیا پھر بھی اپنا وہم دور کرنے کو پوچھ رہی ہوں۔ ” وہ رک گئیں۔
“پوچھئے ممانی۔ جھجکئے مت۔ ” صفیہ نے ان کا ہاتھ تھپکتے ہوئے محبت سے کہا۔
“بیٹی۔ کیا سرمد تمہیں پسند کرتا تھا؟” انہوں نے صفیہ کی طرف دیکھا۔
“مجھے؟” صفیہ حیران سی ہو گئی۔ “مگر یہ بات اب کیوں پوچھ رہی ہیں ممانی؟جب پوچھنا چاہیے تھی تب تو آپ نے کسی کا نام لے کر نہ پوچھا۔ صرف یہ پوچھا تھا کہ کیا میں کسی کو پسند کرتی ہوں ؟ میں نے اس سوال کا جواب نفی میں دیا تھا اور آپ نے طاہر کے ساتھ میرے نام کی گرہ باندھ دی۔ اب اس سوال کا کیا موقع ہے؟”
“یہی بات تو مجھے الجھن میں ڈال رہی ہے صفیہ بیٹی۔ تم اسے پسند نہیں کرتی تھیں مگر وہ تمہیں پسند کرتا تھا۔ یہی بات اس نے آج مجھے فون پر کہی۔ “
“کیا؟” صفیہ نے حیرت سے کہا اور اس کا رنگ فرق ہو گیا۔ “ممانی۔ یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ؟”
“میں ٹھیک کہہ رہی ہوں صفیہ بیٹی۔ گاڑی میں اس سے کھل کر بات نہیں کی میں نے۔ وہاں طاہر بھی تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے شاید اسے بتایا نہیں کہ تمہاری اور طاہر کی شادی ہو چکی ہے۔ “
“یہ اسے بتانے والی بات تھی بھی تو نہیں ممانی۔ ” صفیہ حواس میں لوٹ آئی۔ “لیکن وہ کہہ کیا رہا تھا؟”
“یہ کہ اس کا رزلٹ آؤٹ ہو گیا ہے۔ وہ پندرہ بیس دن میں پاکستان آ رہا ہے اور آتے ہی ڈاکٹر ہاشمی کو میرے پاس تمہارا ہاتھ مانگنے کے لئے بھیجے گا۔ “
“نہیں۔ ” صفیہ پوری جان سے لرز گئی۔ “ممانی۔ یہ کیا ہو رہا ہے؟ آپ اسے روکئے۔ میرا گھر۔۔۔ میرا گھر۔ ” اس کا گلا رندھ گیا۔ بات ادھوری رہ گئی۔
“صفیہ۔ “وسیلہ خاتون گھبرا گئیں۔ “بیٹی۔ اس میں ایسی پریشانی کی کیا بات ہے۔ میں نے اسے کہا تھا کہ اس وقت میں بازار میں ہوں۔ وہ مجھے آدھ گھنٹے بعد فون کرے۔ ابھی اس کا فون آئے گا تو میں اسے ساری بات کھل کر بتا دوں گی کہ تمہاری شادی طاہر سے ہو چکی ہے۔ اصل بات یہی ہے کہ اسے تمہاری اور طاہر کی شادی کے بارے میں علم نہیں ہے۔ جب اسے پتہ چلے گا تو وہ معاملے کو یہیں ختم کر دے گا۔ وہ ایک شریف زادہ ہے۔ مجھے اس سے کسی غلط ردِ عمل کی توقع نہیں ہے۔ تم پریشان نہ ہو۔ اگر بات کرنا پڑی تو میں ڈاکٹر صاحب سے بھی کروں گی۔ “
“بات معمولی نہیں ہے ممانی۔ ” صفیہ نے آنکھیں خشک کیں اور وسیلہ خاتون کو اس ساری گفتگو کے لب لباب سے آگاہ کر دیا جس سے طاہر کے ساتھ سہاگ رات کی شروعات ہوئی تھی۔
” اب بتائیے۔ ” اس نے آخر میں کہا۔ “اگر طاہر کو معلوم ہو گیا کہ سرمد مجھے پسند کرتا ہے تو۔۔ ؟” وہ بات ادھوری چھوڑ کر ہونٹ کاٹنے لگی۔ بے بسی اور پریشانی نے اس کا رنگ روپ لمحوں میں کملا دیا تھا۔
“تم حوصلے سے کام لو بیٹی۔ ” وسیلہ خاتون نے اس کی ہمت بندھائی۔ ” اول تو یہ بات طاہر تک پہنچے گی نہیں۔ اسے کون بتائے گا؟ میں یا تم؟اور سرمد بھی اس کے سامنے زبان کھولنے سے رہا۔ اور بالفرض ایسا ہو بھی گیا تو طاہر کو یہ سوچنا ہو گا کہ سرمد تمہیں چاہتا ہے نہ کہ تم سرمد کو۔ “
“یہ بات طاہر کو سمجھانا اتنا آسان نہیں ہے ممانی۔ ” صفیہ پھیکے سے انداز میں مسکرائی۔
“اول تو ایسا موقع نہیں آئے گا بیٹی اور آ گیا تو میں خود طاہر سے بات کروں گی۔ ” وسیلہ خاتون نے اسے تسلی دی۔
“نہیں ممانی۔ ہر گز نہیں۔ ” صفیہ نے گھبرا کر کہا۔ ” یہ غضب نہ کیجئے گا۔ بات بگڑ جائے گی۔ میں خود ہی اس الجھن کو سلجھانے کی کوئی راہ نکالوں گی۔ آپ پلیز کبھی طاہر سے اس بارے میں کوئی بات نہ کیجئے گا۔ “
“بیٹی۔ ” وسیلہ خاتون نے اسے سینے سے لگا لیا۔ “یہ تم کس مصیبت میں آ گئیں ؟”صفیہ نے ان کے سینے سے لگ کر آنکھیں موند لیں اور گہرے گہرے سانس لینے لگی۔
اسی وقت پاس تپائی پر پڑے فون کی بیل ہوئی۔ پٹ سے چونک کر صفیہ نے آنکھیں کھول دیں۔ وسیلہ خاتون بھی ادھر متوجہ ہوئیں۔ سکرین پر سرمد کا موبائل نمبر ابھر چکا تھا۔ اس بار اس نے موبائل کے بجائے گھر کے نمبر پر رِنگ کیا تھا۔
“ممانی۔ ” گھبرا کر صفیہ نے وسیلہ خاتون کی جانب دیکھا۔
“شش۔ ” انہوں نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور اسے خود سے الگ کر دیا۔ وہ سیدھی ہو بیٹھی۔ ” صرف سننا۔ درمیان میں ہر گز بولنا نہیں۔ ” انہوں نے کہا اور چوتھی بیل پر وائس بٹن دبا کر ریسیور اٹھا لیا۔ اب سرمد کی ساری گفتگو صفیہ بھی سن سکتی تھی۔
“ہیلو آنٹی۔ ” وسیلہ خاتون کے ریسیور اٹھاتے ہی سرمد کی بیتاب آواز ابھری۔
“ہاں سرمد بیٹے۔ میں بول رہی ہوں۔ ” انہوں نے بیحد سنجیدگی سے کہا۔ کوئی اضطراب یا پریشانی لہجے سے ہویدا نہ تھی۔ البتہ پیشانی پر ایک ہلکی سی شکن ضرور ابھر آئی تھی۔
“جی آنٹی۔ میں آپ سے صفیہ کے بارے میں بات کر رہا تھا؟” سرمد کے لہجے میں اشتیاق کروٹیں لے رہا تھا۔
“کہو بیٹے۔ کیا کہنا چاہتے ہو؟” وسیلہ خاتون نے بڑے اطمینان سے پوچھا۔
” آنٹی۔ تفصیلی بات تو آپ سے ابو کریں گے۔ اس وقت تو میں آپ سے صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر ابو آپ کے پاس صفیہ کا میرے لئے ہاتھ مانگنے آئیں تو۔۔۔ “
وہ رکا تو وسیلہ خاتون کے ماتھے کی شکن ذرا گہری ہو گئی۔ انہوں نے صفیہ کی جانب دیکھا جو سرمد کی آواز صاف صاف سن رہی تھی اور اس کا دل سینے میں یوں دھک دھک کر رہا تھا جیسے کوئی روڑی کوٹ رہا ہو۔
“ہاں ہاں۔ رک کیوں گئے سرمد۔ بات مکمل کرو بیٹا۔ ” وسیلہ خاتون بولیں۔
“بس آنٹی۔ یہی کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کو اس رشتے پر کوئی اعتراض تو نہیں ؟”
“اس بات کا جواب تو میں بعد میں دوں گی بیٹی۔ پہلے یہ بتاؤ کیا صفیہ بھی تمہیں پسند کرتی ہے؟” ان کا لہجہ بڑا ٹھہرا ہوا تھا۔
” آنٹی۔ ” ایک دم سرمد کی آواز میں اضطراب امنڈ آیا۔ “یہ تو میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ صفیہ مجھے پسند کرتی ہے ؟ تاہم یہ جانتا ہوں کہ وہ مجھے ناپسند نہیں کرتی۔ “
“پسند یا ناپسند کرنا ایک الگ بات ہے بیٹے اور زندگی کے ساتھی کی حیثیت سے کسی کو چُن لینا اور بات۔ تم صفیہ کو اس نظر سے دیکھتے اور پسند کرتے ہو لیکن کیا اس نے بھی کبھی تمہیں اس نظر سے دیکھا ہے یا اس کی کسی بات سے ایسا ظاہر ہوا ہے کہ وہ تم سے شادی کرنے میں انٹرسٹڈ ہے؟ ذرا سوچ کر جواب دینا بیٹے۔ “
“نہیں آنٹی۔ ” سرمد نے صاف صاف کہا۔ ” صفیہ نے کبھی کوئی اشارتاً بھی مجھے ایسا رسپانس نہیں دیا جس سے پتہ چلے کہ وہ مجھے اس حوالے سے پسند کرتی ہے۔ “
“الحمد للہ۔ ” بے اختیار وسیلہ خاتون کے لبوں سے نکلا اور ان کے ماتھے کی شکن نے دم توڑ دیا۔
“جی آنٹی۔ ” سرمد چونکا۔ “کیا کہا آپ نے؟”
“میں نے اللہ کا شکر ادا کیا ہے بیٹے۔ ” انہوں نے کھینچ کر صفیہ کو اپنے ساتھ لگا لیا، جو کسی ننھی بچی کی طرح ان کے پہلو میں سمٹ کر یوں بیٹھ گئی جیسے اسے پناہ گاہ میسر آ گئی ہو۔
“جی۔ ” وہ جیسے کچھ بھی نہ سمجھا۔
“تو بیٹے۔ بات صاف ہو گئی کہ تم یک طرفہ طور پر صفیہ کو پسند کرتے ہو۔ “
“جی آنٹی۔ ایسا ہی سمجھ لیں۔ ” وہ ادب سے بولا۔
“اگر ایسی ہی بات تھی تو تم نے یہاں ہوتے ہوئے کیوں اس بات کو نہ چھیڑا بیٹے؟”
“ابو چاہتے تھے کہ میں ایم بی اے سے پہلے کسی ایسی بات میں نہ الجھوں جو میری تعلیم میں رکاوٹ بنے آنٹی۔ اسی لئے میں اب تک خاموش رہا۔ “
“لیکن کیا تم نے ڈاکٹر صاحب پر اپنی پسند کا اظہار کیا ؟ اشارتاً ہی سہی۔ “
“جی نہیں آنٹی۔ ” وہ صاف گوئی سے بولا۔ “میں اس سے پہلے آپ کا عندیہ چاہتا ہوں۔ اگر آپ کو کوئی اعتراض نہ ہو تومیں ان سے بات کروں۔ “
“اور اگر مجھے اس رشتے پر اعتراض ہو تو۔۔۔ ؟”
“جی۔ ” سرمد جیسے بھونچکا رہ گیا۔ “میں سمجھا نہیں آنٹی۔ “
“تم نے بہت دیر کر دی بیٹی۔ ” وسیلہ خاتون کا لہجہ گمبھیر ہو گیا۔ “صفیہ کی شادی ہو چکی ہے۔ “
“جی۔ ” سرمد چونک کر بولا۔ “کب آنٹی؟”
“اسی مہینے کے آغاز میں۔ ” انہوں نے دھیرے سے کہا۔
“او۔۔۔۔ ہ” سرمد کے لہجے میں تاریکی سی چھا گئی۔ ” آنٹی۔۔۔ ” وہ اس سے زیادہ کہہ نہ سکا۔
“تم نے خود دیر کر دی بیٹی۔ اگر تم جانے سے پہلے اپنے ابو سے بات کرتے تو شاید تمہاری آج کی مایوسی جنم نہ لیتی۔ “
جواب میں سپیکر پر سرمد کے گہرے گہرے سانسوں کی بازگشت کے سوا کچھ سنائی نہ دیا۔ وسیلہ خاتون بھی خاموش رہیں۔ کتنی ہی دیر بعد دوسری جانب سے ایک شکستہ سی آواز ابھری۔
“مقدر آنٹی۔۔۔ مقدر۔۔۔ میں اس کے سواکیا کہہ سکتا ہوں۔ بہر حال اب کیا ہو سکتا ہے؟ یہ کہئے صفیہ کی شادی کس سے ہوئی اور کیا اس میں اس کی پسند بھی شامل تھی؟”
“یہ ارینج میریج تھی سرمد۔ اور بیگم وجاہت کے بیٹے طاہر سے صفیہ کی شادی ہوئی ہے۔ “
“کیا؟” سرمد پر حیرت کا ایک اور حملہ ہوا۔ “طاہر سے؟”
“ہاں۔ لیکن تم اس پر اتنے حیران کیوں ہو سرمد؟” وسیلہ خاتون چونکیں۔
“کچھ نہیں آنٹی۔ ” وہ سنبھل گیا۔ ” ایسے ہی بس۔۔۔ “
“شاید دونوں خاندانوں کا سطحی فرق تمہیں حیران کر رہا ہے بیٹی۔ ” وہ ہنسیں۔
“جی آنٹی۔ ” سرمد خجل سا ہو گیا۔ “شاید یہی بات ہے۔ “
“شاید نہیں۔ یقیناً یہی بات ہے سرمد بیٹی۔ تاہم یہ بتا دوں کہ یہ شادی بیگم صاحبہ کی پسند اور اصرار پر ہوئی ہے۔ اور اب میری تم سے ایک درخواست ہے۔ “
” آپ حکم دیجئے آنٹی۔ ” سرمد نے دھیرے سے کہا۔
“بیٹا۔ عورت کی ازدواجی زندگی کانچ کا گھر ہوتی ہے جو شک کے سنگریزے کی ضرب بھی سہہ نہیں پاتا۔ میں چاہوں گی کہ صفیہ کے بارے میں تمہارے خیالات کبھی صفیہ یا طاہر تک نہ پہنچیں بیٹی۔ یہ ایک ماں کی التجا ہے۔ “
” آپ ایسا کیوں کہہ رہی ہیں آنٹی۔ آپ نے مجھ میں بازاری آدمیوں جیسی کیا بات دیکھی ہے جو آپ نے ایسا سوچا۔ “
“یہ بات نہیں ہے بیٹے۔ ” وسیلہ خاتون نے کہنا چاہا۔
“میں سمجھتا ہوں۔ آپ کے اندیشے درست ہیں مگر میں ڈاکٹر ہاشمی کا خون ہوں آنٹی۔ نجابت کیا ہوتی ہے، اس کا پاس رکھنا ہو گا مجھے۔ آپ بے فکر رہئے۔ میرے لبوں پر کبھی ایسی کوئی بات نہیں آئے گی جو صفیہ کو دُکھ دے یا اس کی زندگی میں گرداب پیدا کر دے۔ “
“شکریہ سرمد۔ ” وسیلہ خاتون کی آواز بھرا گئی۔ ” تم نے میرا مان رکھ لیا۔ میں تمہارے لئے ہمیشہ دعا گو رہوں گی۔ “
“اچھا آنٹی۔ ” سرمد کے لبوں سے آہ نکلی۔ “میری تمنا ہے صفیہ خوش رہے۔ آباد رہے۔۔۔ لیکن ایک پچھتاوا زندگی بھر میری جان سے کھیلتا رہے گا آنٹی۔ کاش میں دیر نہ کرتا۔۔۔ کاش۔ ” اس کی آواز ٹوٹ سی گئی۔
“سرمد۔ ” وسیلہ خاتون مضطرب سی ہو گئیں۔ ” خود کو سنبھالو بیٹے۔ ابھی تو زندگی کا بڑا طویل راستہ طے کرنا ہے تمہیں۔ تم جوان ہو۔ خوبصورت ہو۔ پڑھے لکھے ہو۔ تمہیں بہت اچھی شریک حیات مل سکتی ہے۔۔۔ “
“نہیں آنٹی۔ ” وہ تھکے تھکے سے لہجے میں بولا۔ ” یہ باب تو اب بند ہو گیا۔ “
“مگر کیوں سرمد۔ ایسی مایوسی کیوں ؟”
” آنٹی۔ میں صفیہ کو پسند ہی نہیں کرتا، اس سے محبت کرتا تھا آنٹی۔ اور یہ حق مجھ سے کوئی نہیں چھین سکتا کہ میں آخری سانس تک اسے چاہتا رہوں۔ ” سرمدنے دل کا پھپھولا پھوڑ دیا۔ “اس کی جگہ کوئی اور لے لے، یہ تو میرے بس میں نہیں ہے آنٹی۔ “
“سرمد۔ ” وسیلہ خاتون اس کے لہجے میں چھپے جذبے کو محسوس کر کے سو جان سے لرز گئیں۔ کچھ ایسا ہی حال صفیہ کا تھا۔ ” یہ تم کیا کہہ رہے ہو بیٹے؟”
“بس آنٹی۔ جو کہنا تھا کہہ دیا۔ یہ آخری الفاظ تھے جو اس سانحے پر میری زبان سے نکلی۔ اب آج کے بعد اس بارے میں کبھی کوئی بات نہ ہو گی۔ “
“سرمد۔ ” وسیلہ خاتون نے کہنا چاہا۔
“اللہ حافظ آنٹی۔ کبھی لوٹا تو آپ کی قدم بوسی کو ضرور حاضر ہوں گا۔ آپ نے دعا کا وعدہ کیا ہے۔ تو بس میرے لئے صرف یہ دعا کرتی رہئے گا کہ جس الاؤ نے مجھے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے وہ کبھی سرد نہ ہونے پائے۔ مرنے کے بعد میری قبر کی مٹی سے بھی اس کی مہک آئے آنٹی۔ اللہ حافظ۔ “
سرمد نے رابطہ کاٹ دیا۔
وسیلہ خاتون کے لبوں پر اس کا نام بکھر کر رہ گیا۔
صفیہ گم صُم ان کے پہلو سے لگی بیٹھی شاں شاں کی وہ آواز سن رہی تھی جو اس کے دماغ میں بگولے اڑا رہی تھے۔ آہستہ سے انہوں نے ریسیور کریڈل پر ڈال کر وائس بٹن پُش کیا اور سگنل کی ٹوں ٹوں نے دم توڑ دیا۔ صفیہ دھیرے سے سیدھی ہوئی۔ اپنے سُتے ہوئے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ اٹھی۔ پلٹی اور سُن ہو کر رہ گئی۔
” آپ۔۔۔ ” اس کے ہونٹوں سے سرسراتی ہوئی سرگوشی آزاد ہو گئی۔ اس کی آواز پر وسیلہ خاتون نے بھی پلٹ کر دیکھا اور ان کے چہرے پربھی صفیہ کی طرح سرسوں پھیلتی چلی گئی۔ ان کی نگاہوں نے صفیہ کی نظروں کے مرکز کو اپنی گرفت میں لیا تو بُت بن کر رہ گئیں۔
دروازے کے پٹ سے ٹیک لگائے طاہر کھڑا تھا۔ کب سے کھڑا تھا، کون جانے؟ اس کی آنکھیں بند تھیں اور لگتا تھا اس نے سب کچھ سُن لیا ہے۔
صفیہ نے گھبرا ئی ہوئی ہرنی کی طرح وسیلہ خاتون کی جانب دیکھا۔ وہ خود پریشانی کی انتہا سے گزر رہی تھیں ، اسے کیا دلاسہ دیتیں۔ تاہم ذرا دیر بعد وہ سنبھلیں۔
“ارے طاہر بیٹے۔ تم کب آئے؟” وہ اٹھ کر اس کی طرف بڑھیں۔ ” آفس نہیں گئے کیا؟”
دھیرے سے طاہر نے حرکت کی۔ رخ ان کی جانب کیا اور جیسے پورا زور لگا کر آنکھیں کھولیں۔ سرخ سرخ آنکھیں دیکھ کر وہ دونوں ہی گھبرا گئیں۔
“تم تو رات کو آنے والے تھے بیٹے۔ ” وسیلہ خاتون کے منہ سے بے تکی سی بات نکل گئی۔
“رات۔۔۔۔ ” طاہر نے کھوئے کھوئے لہجے میں کہا اور اس کی سپاٹ نظریں ان کے چہرے سے ہٹ کر صفیہ پر آ جمیں جو اسے وحشت زدگی کے عالم میں دیکھ رہی تھی۔ اس کا دل سینے میں دھڑکنا بھول سا گیا۔ رنگ زرد سے اب بالکل سفید ہو چکا تھا۔ لگتا تھا کسی نے اس کے بدن سے لہو کی ہر بوند نچوڑ لی ہے۔
” رات تو کب کی آ چکی آنٹی۔ مجھے ہی پتہ نہیں چلا۔ ” وہ ایک قدم آگے بڑھ آیا۔ “کیوں صفی؟” اس نے اسے صفو کے بجائے صفی کہہ کر پکارا تو صفیہ کی ٹانگوں نے اس کا بوجھ سہارنے سے انکار کر دیا۔ وہ لڑکھڑائی اور صوفے پر گر پڑی۔
” آپ۔۔۔ آپ۔۔۔ ” اس کے ہونٹ ہلے، آواز نہ سنائی دی۔ اس کی سہمی ہوئی نظریں طاہر کے ویران ویران چہرے سے الجھ کر رہ گئیں۔
“بیٹھو بیٹی۔ ” وسیلہ خاتون نے سنبھالا لیا۔
“چلیں صفی۔ ” طاہر نے جیسے ان کی بات سنی ہی نہ تھی۔ وہ صفیہ سے مخاطب تھا۔
صفیہ نے طاہر کی طرف دیکھتے ہوئے ساری جان سے حرکت کرنا چاہی اور بڑی مشکل سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس کی ٹانگوں میں ہلکی سی کپکپاہٹ صاف محسوس کی جا سکتی تھی۔
طاہر نے ہاتھ بڑھایا۔ صفیہ نے اپنا سرد اور بے جان ہاتھ اس کے تپتے ہوئے ہاتھ میں دے دیا اور کسی کٹی ہوئی پتنگ کی طرح اس کی جانب کھنچتی چلی گئی۔ طاہر اسے لئے لئے زندگی سے محروم قدم اٹھاتا کمرے سے نکل گیا۔
وسیلہ خاتون کمرے کے وسط میں اجڑی اجڑی کھڑی خالی دروازے کو تک رہی تھیں جہاں سے ابھی ابھی جیسے کوئی جنازہ باہر گیا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭
وسیلہ خاتون کے گھر سے سلطان وِلا تک کا سفر قبرستان جیسی خاموشی کے ساتھ طے ہوا تھا۔ صفیہ پر اس چُپ نے ایک عجیب اثر کیا۔ اس کا دل دھیرے دھیرے قابو میں آ گیا۔ حواس میں ایک ٹھہراؤ نمودار ہوا اور گھر کے پورچ میں گاڑی رکی تو وہ کافی حد تک پُرسکون ہو چکی تھی۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ رہی ہو کہ اس کا ضمیر صاف تھا۔ مطمئن تھا۔ موجودہ صورتحال میں اس کا دامن بالکل پاک تھا۔
طاہر سارا راستہ گم صُم گاڑی ڈرائیو کرتا رہا۔ اس نے صفیہ کے جانب دیکھا نہ زبان سے ایک لفظ کہا۔ گاڑی کا انجن بند کر کے وہ اپنی طرف کے دروازے سے باہر نکلا۔ صفیہ بھی تب تک گاڑی سے اتر چکی تھی۔ طاہر نے گاڑی کی چابیاں آٹھ دس قدم دور کھڑے ڈرائیور کی جانب اچھالیں اور تھکے تھکے قدموں سے گھوم کر صفیہ کی طرف آ گیا جو اسی کی منتظر کھڑی تھی۔ طاہر کا سُتا ہوا چہرہ دیکھ کر اس کا دل ایک بار پھر ہول گیا تاہم اس نے اپنے چہرے سے کسی تاثر کا اظہار نہ ہونے دیا۔ طاہر نے اس کے شانوں پر بازو دراز کرتے ہوئے جیسے اس کا سہارا لیا۔ صفیہ نے جلدی سے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ ہاتھ تھامتے ہی وہ بری طرح گھبرا گئی۔ طاہر آگ کی طرح دہک رہا تھا۔ اس نے متوحش نظروں سے اس کے چہرے کی جانب دیکھا۔ طاہر کی آنکھیں بند ہو رہی تھیں اور لگتا تھا اگلے چند لمحوں میں وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہو جائے گا۔ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے طاہر کے بدن کا بوجھ صفیہ پر آ رہا تھا۔ اس نے سیف کو آواز دینے کا ارادہ کیا۔ پھر نہ جانے کیا سوچ کر اس نے خود ہی طاہر کو سنبھال لیا اور حتی الامکان سرعت سے اسے اندر لے آئی۔
سیڑھیاں چیونٹی کی رفتار سے طے کی گئیں۔ پھر خواب گاہ میں پہنچتے ہی طاہر بستر پر گرا اور بے سُرت ہو گیا۔
صفیہ نے اس کاجسم بستر پر ترتیب سے درست کیا اور ڈاکٹر ہاشمی کے ہاسپٹل فون کر دیا۔ پندرہ منٹ میں وہاں سے ڈاکٹر ہارون ایک نرس کے ساتھ آ پہنچے۔ صفیہ خاموش کھڑی ان کی کارروائی دیکھتی رہی۔ فوری طور پر بخار کا انجکشن دے کر گلوکوز ڈرپ لگا دی گئی۔ دوا کی تفصیل نرس کو سمجھا کر ڈاکٹر ہارون صفیہ کے قریب آئی۔
“مسز طاہر۔ اچانک بخار کا یہ اٹیک بڑا سیریس کنڈیشن کا حامل ہے۔ لگتا ہے مسٹر طاہر نے کوئی زبردست شاک برداشت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اب انہیں مکمل بیڈ ریسٹ کی ضرورت ہے۔ آپ چاہیں تو دوسرے کمرے میں آرام کر سکتی ہیں۔ جاگنے کے لئے نرس موجود ہے۔ وہ مسٹر طاہر کی تمام کیفیات سے مجھے باخبر رکھے گی۔ میری ضرورت ہوئی تو میں آپ کے بلانے سے پہلے یہاں موجود ہوں گا۔ اب آپ کچھ پوچھنا چاہیں تو میں حاضر ہوں۔ “
“جی۔ کچھ نہیں۔ ” ہولے سے صفیہ نے کہا اور بڑی گہری نظر سے طاہر کی جانب دیکھا جس کا زرد چہرہ اس کا دل دہلا رہا تھا۔
“تو مجھے اجازت دیجئے۔ ” ڈاکٹر ہارون نے نرس کی جانب دیکھ کر ہاتھ ہلایا اور کمرے سے نکل گئے۔
صفیہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے بستر کے قریب چلی آئی۔ نرس نے طاہر کی نبض چیک کی اور مطمئن انداز میں سر ہلایا۔ “بخار کم ہو رہا ہے۔ ” وہ جیسے خود سے بولی۔
یہ سن کر صفیہ کے سینے سے بوجھ سا ہٹ گیا۔ اس نے دونوں ہاتھ جوڑ کر اوپر دیکھا جیسے اللہ کا شکر ادا کر رہی ہو۔ پھر پاس پڑی کرسی کو بستر کے مزید قریب کیا اور بیٹھ گئی۔ اسی وقت اس کی نظر بوڑھے سیف پر پڑی جو دروازے کے پاس سر جھکائے کھڑا تھا۔
“ارے بابا۔ آپ وہاں کیوں کھڑے ہیں ؟” صفیہ کرسی سے اٹھی۔
“بیٹھی رہئے چھوٹی بی بی۔ ” سیف قریب چلا آیا۔ اس نے کچھ پڑھ کر طاہر کے چہرے کی جانب پھونک ماری اور دعائیہ انداز میں چہرے پر ہاتھ پھیر لئے۔ ” اللہ کرم کر دے گا۔ آپ گھبرائیے نہیں چھوٹی بی بی۔ ” سیف نے اسے اپنی بوڑھی آنکھوں سے تشفی کا پیغام دیتے ہوئے کہا۔ بے اختیار وہ مسکرا دی۔
” آپ دعا کر رہے ہیں تو میں کیوں گھبراؤں گی بابا۔ “
” آپ کے لئے کھانا لگا دوں ؟” اس نے پوچھا۔
“نہیں بابا۔ مجھے ابھی بھوک نہیں۔ ہاں ان سے پوچھ لو۔ ” صفیہ نے نرس کی طرف اشارہ کیا۔
“میرا نام شمیم ہے میڈم۔ ” نرس نے صفیہ کو بتایا۔ پھر سیف کی جانب متوجہ ہوئی۔ ” ابھی بارہ بجے ہیں بابا۔ میں ایک بجے کھانا کھاؤں گی۔ “
“جی بہتر۔ ” سیف کہہ کر کمرے سے نکل گیا۔
دوپہر سے شام ہوئی اور شام سے رات۔ اس دوران ڈاکٹر ہارون کو نرس شمیم نے دو تین بار طاہر کی کیفیت سے آگاہ کیا۔ بخار کا زور ختم ہو گیا تھا تاہم ابھی پوری طرح اترا نہیں تھا اور طاہر ہوش میں بھی نہ آیا تھا۔ صفیہ اس بات سے متفکر ہوئی تو نرس نے اسے بتایا کہ طاہر کو گلوکوز ڈرپ میں نیند کا انجکشن دیا گیا ہے۔ اب یہ غنودگی اسی کے باعث ہے۔
رات کے دس بجے تو شمیم نے ڈاکٹر ہارون کو ایک بار پھر طاہر کی حالت سے موبائل پر آگاہ کیا اور بتایا کہ بخار ٹوٹ گیا ہے۔ اب ٹمپریچر نارمل ہے۔ ڈاکٹر ہارون نے اسے ہدایت کی کہ دوسری گلوکوز ڈرپ مع انجکشنز لگا دی جائے۔ صبح تک اسے ابھی مزید نیند کی ضرورت ہے۔
” مسز طاہر سے میری بات کراؤ۔ ” ڈاکٹر ہارون نے کہا تو شمیم نے موبائل صفیہ کو تھما دیا۔ “ڈاکٹر صاحب بات کریں گے۔ “
” مبارک ہو مسز طاہر۔ بخار ٹوٹ گیا۔ “
“شکریہ ڈاکٹر صاحب۔ یہ سب اللہ کے کرم اور آپ کی کوشش سے ہوا۔ ” صفیہ نے ممنونیت سے کہا۔
“جی جی۔ ” وہ ہولے سے ہنسی۔ ” میں دوسری نرس کو بھیج رہا ہوں۔ شمیم کی ڈیوٹی آف ہو رہی ہے۔ “
“ڈاکٹر صاحب۔ کیا یہ ضروری ہے؟ میرا مطلب ہے دوسری نرس کا ڈیوٹی پر آنا۔۔۔ “
“جی ایسا ضروری بھی نہیں لیکن اگر مسٹر طاہر کے ہوش میں آنے تک کوئی نرس ان کے پاس رہے تو اس میں کوئی حرج بھی نہیں۔ “ڈاکٹر ہارون نے بتایا۔
“اگر یہ ضروری نہیں ہے ڈاکٹر صاحب تو آپ دوسری نرس کو مت بھیجئے۔ میں طاہر کی دیکھ بھال خود کر سکتی ہوں۔ “
” آر یو شیور؟” ڈاکٹر ہارون نے پوچھا۔
“ویری مچ شیور۔ ” وہ جلدی سے بولی۔
“تو ٹھیک ہے۔ تاہم ذرا سی بھی تشویش کی بات ہو تو فوراً مجھے فون کیجئے گا۔ یہ مت سوچئے گا کہ رات یا دن کا کون سا پہر چل رہا ہے۔ شمیم سے دوا کے بارے میں سمجھ لیجئے اور ایک تکلیف یہ کیجئے کہ اسے وہیں سے اس کے گھر بھجوا دیجئے۔ “
“جی بہتر۔ ” صفیہ نے موبائل شمیم کو تھما دیا، جو طاہر کو دوسری ڈرپ لگا کر اس کی سپیڈ چیک کر رہی تھی۔
“شمیم۔ تم ڈرپ ارینج کر کے وہیں سے گھر چلی جاؤ۔ دوا مسٹر طاہر کو کب کب اور کیسے دینا ہے، یہ مسز طاہر کو سمجھا دو۔ “
“یس ڈاکٹر۔ ” اس نے مستعدی سے جواب دیا۔
“او کے۔ گڈ نائٹ۔ “
“گڈ نائٹ سر۔ ” شمیم نے موبائل آف کر کے جیب میں ڈالا اور صفیہ کو دوا کے بارے میں بتانے لگی، جو چند گولیوں اور ایک سیرپ پر مشتمل تھی۔ صفیہ نے دواؤں کی ٹرے تپائی پر رکھ کر سیف کو آواز دی۔ وہ کمرے میں داخل ہوا تو صفیہ نے کہا۔
“بابا۔ حمید سے کہئے، انہیں ان کے گھر ڈراپ کر آئے۔ “
“جی بہتر۔ ” سیف نے مختصر جواب دیا اور شمیم صفیہ کو سلام کر کے رخصت ہو گئی۔ شمیم کو ڈرائیور حمید کے ساتھ روانہ کر کے سیف واپس کمرے میں آیا۔
“چھوٹی بی بی۔ آپ کے لئے کھانا لگاؤں۔ آپ نے صبح کا ناشتہ کیا تھا۔ اس کے بعد سے اب تک آپ نے بالکل کچھ نہیں کھایا۔ “
“بھوک نہیں ہے بابا۔ ” صفیہ نے طاہر کے جسم پر کمبل درست کرتے ہوئے جواب دیا۔ ” جب بھوک محسوس ہو گی، میں بتا دوں گی۔”
“میں ضد تو نہیں کر سکتا چھوٹی بی بی مگر اس طرح مسلسل خالی پیٹ رہ کر آپ خود بیمار ہو جائیں گی۔ اللہ نے کرم کر دیا ہے۔ اب پریشانی کی کیا بات ہے جو آپ کو بھوک نہیں لگ رہی۔ “
“بابا۔ ” صفیہ طاہر کو محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی۔ “طاہر نے کچھ کھایا ہے جو میں کھا لوں ؟ جب یہ ہوش میں آ جائیں گے تو کھانا پینا بھی سوجھ جائے گا۔ “
سیف کا منہ حیرت سے کھل گیا۔ پھر اس کی نظروں میں عجیب سی چمک ابھری۔ ایسی چمک جو کسی بوڑھے باپ کی نگاہوں میں اس وقت جنم لیتی ہے جب وہ اپنی اولاد پر فخر محسوس کرتا ہے۔ اس نے طاہر کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام کر بیٹھتی ہوئی صفیہ کی جانب دیکھا اور “جیتی رہئے چھوٹی بی بی” کی سرگوشی کے ساتھ کمرے سے نکل گیا۔
٭٭٭٭٭
کراہ کر طاہر نے پلکوں کو حرکت دی اور بستر کی پٹی پر سر رکھے بیٹھی صفیہ بجلی کی سرعت سے سیدھی ہو گئی۔ طاہر کا ہاتھ اب بھی اس کے ہاتھوں میں دبا ہوا تھاجسے اس نے اپنے رخسار سے لگا رکھا تھا۔
“طاہر۔ ” وہ اس کے چہرے پر جھک گئی۔
“صفی۔ ” طاہر کے لبوں سے نکلا اور اس نے آنکھیں کھول دیں۔
“جانِ صفو۔ ” صفیہ وارفتگی سے بولی اور اس کی نگاہوں کے حلقے میں در آئی۔ “یہ صفو سے صفی کیوں کر دیا مجھے آپ نے؟” شکایت بھرے لہجے میں اس نے پوچھا۔
طاہر نے جواب میں کچھ کہنا چاہا مگر ہونٹ کپکپا کر رہ گئی۔ ساتھ ہی اس کی آنکھوں کے گوشوں سے آنسوڈھلک پڑی۔
“طاہر۔ ” صفیہ کا کلیجہ پھٹ گیا۔ ” طاہر میری جان۔ یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟ اس طرح مجھے رگ رگ ذبح مت کیجئے۔ ایک ہی بار جان لے لیجئے۔ میں اُف نہ کروں گی مگر اس طرح خود کو اذیت دے کر مجھے پل پل ہلکان مت کیجئے طاہر۔ مت کیجئے۔ ” وہ بلک پڑی۔
“میں کیا کروں صفی۔۔۔ کیا کروں ؟” طاہر سرگوشے کے لہجے میں بولا۔ اس کی آواز زخم زخم ہو رہی تھی۔ ” مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا۔۔۔ “
” آپ کیا کریں ، یہ میں آپ کو پہلے بھی بتا چکی ہوں طاہر۔ مجھ پر، اپنے آپ پر، اپنی محبت پر اعتماد کیجئے۔ اور رہی بات برداشت کرنے کی تو آپ کیا برداشت نہیں کر پا رہے، یہ میں جانتی ہوں لیکن اس میں میرا کتنا قصور ہے، آپ یہ بھی تو جانتے ہیں۔ “
“ہاں۔ ” طاہر کی آواز میں درد ابھرا۔ ” تمہارا اس میں کوئی قصور نہیں صفی مگر میں اس دل کا کیا کروں جو یہ سوچ کر ہی ہلکان ہو گیا کہ کوئی اور بھی ہے جو کہیں دور رہ کر ہی سہی، مگر تمہیں چاہتا ہے۔ تم سے عشق کرتا ہے۔ تمہارے لئے جوگ لے چکا ہے۔ “
“تو اس سے آپ کو یا مجھے کیا فرق پڑتا ہے طاہر؟ ہمارا اس کے اس فعل سے کیا تعلق؟ کیا لینا دینا ہے ہمیں اس کے اس فیصلے سے؟” صفیہ نے سر اٹھایا اور اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ ” آپ میرے لئے ہیں اور میں آپ کے لئے۔ بس یہی ہماری دنیا ہے جس کے اندر ہمیں رہنا ہے۔ اس سے باہر کیا ہے، کیوں ہے، اس سے ہمیں کیا سروکار طاہر۔ ” اس نے طاہر کی آنکھوں سے بہتے اشکوں کو آہستگی سے صاف کیا ۔
“یہ ایسا آسان نہیں ہے صفی۔ ” طاہر نے پلکیں موند لیں۔ “بڑا مشکل ہے یہ سہنا کہ کوئی اور بھی میری صفو کو چاہے اور میں اس سے باخبر ہو کر بھی چین سے جیتا رہوں۔ “
“یہ پاگل پن ہے طاہر۔ ” صفیہ اسے سمجھانے کے انداز میں بولی۔ ” خود کو سنبھالئے۔ بے بنیاد شک کی آگ میں خود کو مت جلائیے۔”
“شک نہیں صفی۔ ” طاہر نے آنکھیں کھول دیں۔ “شک تو میں تم پر کر ہی نہیں سکتا کہ تم اس معاملے میں کسی طور بھی انوالو نہیں ہو۔ شک نہیں ، ایک خوف ہے جس نے مجھے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ “
“خوف؟” صفیہ نے اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لے لیا۔ ” کیسا خوف طاہر؟ کھل کر کہئے۔ “
“تمہارے چھن جانے کا خوف صفی۔ ” وہ کہتا چلا گیا اور صفیہ بُت بنی اسے تکتی رہی۔ سنتی رہی۔
“خوف یہ ہے کہ وہ جو تمہارے لئے دنیا تیاگ رہا ہے، کسی دن سامنے آ گیا تو کیا ہو گا؟ “
“کیا ہو گا؟” صفیہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ ” آپ کا خیال ہے کہ وہ مجھے آپ سے چھین کر لے جائے گا۔ “
“نہیں۔ ” طاہر نے نفی میں ہولے سے سر ہلایا۔ ” یہ نہیں۔ ایسا نہیں ہو گا مگر جو ہو گا وہ اس سے بہت آگے کی بات ہے صفی۔ “
” آپ کہہ ڈالئے طاہر۔ اندیشے اور خوف کا جو ناگ آپ کو اندر ہی اندر ڈس رہا ہے اسے الفاظ کے راستے باہر نکال دیجئے۔ یہ مت سوچئے کہ الفاظ کتنے زہریلے ہوں گے۔ بس کہہ جائے جو آپ کو کہنا ہے۔ “
“صفی۔ ” طاہر نے خشک لبوں پر زبان پھیرتے ہوئے اس کی جانب دیکھا۔ ” پتھر پر پانی کی بوند مسلسل گرتی رہے تو اس میں چھید کر دیتی ہے۔ اس کا جوگ اگر تمہیں ایک پل کو بھی متاثر کر گیا تو وہ کنڈلی مار کر تمہارے دل میں آ بیٹھے گا اور اس کا یہ آ بیٹھنا میرے اور تمہارے درمیان ایک پل ہی کی سہی، جس دوری کو جنم دے گا وہ شیشے میں آ جانے والے اس بال کی مانند ہو گی جس کا کوئی علاج نہیں ہوا کرتا۔ “
“طاہر۔۔۔ ” صفیہ اسے متوحش نگاہوں سے دیکھنے لگی۔ ” یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ؟”
“میں ٹھیک کہہ رہا ہوں صفی۔ ” اس کی آواز لرز گئی۔ “میں نے اب تک کی زندگی میں صرف اور صرف ناکامیوں کا منہ دیکھا ہے۔ چاہا کہ شادی سے پہلے کسی کی اَن چھوئی محبت پا لوں۔ نہ پا سکا۔ پھر چاہا کہ جس سے زندگی کے سفر کا سودا کروں ، وہ ایسا ہو جسے کسی اور سے کوئی تعلق نہ ہو، ایسا ہی ہوا۔ اب پتہ چلا کہ میرا ہمسفر تو اَن چھوا بھی ہے اور کسی بھی غیر سے بے تعلق بھی، مگر کوئی ایک اور ایسا ہے جو کہیں دور بیٹھا اس کی پرستش کرتا ہے۔ اسے پوجتا ہے۔ اور ایسا دیوانہ پجاری کبھی سامنے آ جائے تو دیوی پر اس کی تپسیا کیا اثر کرے گی، یہ خوف میرے اندر ڈنک مار رہا ہے؟”
“طاہر۔ ” صفیہ نے اسے والہانہ دیکھے ہوئے کہا۔ ” میں سرمد کی دیوانگی سے تو بے خبر ہوں کہ وہ جو کہہ رہا تھا اس میں کتنی حقیقت تھی اور کتنا فسانہ؟ مگر آپ کا پاگل پن ضرور میری جان لے لے گا۔ آپ ایک فرضی خوف کے سائے اپنی اور میری زندگی پر مسلط کر کے کیوں عذاب مول لے رہے ہیں ؟ اس کا کوئی علاج بھی ہے ؟ مجھے صرف یہ بتائیے کہ میں کیا کروں جو آپ کے د ل سے یہ وہم نکل جائے اور آپ اور میں ایک نارمل زندگی گزار سکیں۔ بتائیے طاہر۔ اگر اس کے لئے میں اپنی جان دے کر بھی آپ کو اس خوف سے نجات دلا سکی تو مجھے کوئی عذر نہ ہو گا اور اگر اس کے لئے سرمد کی جان لینا لازم ہے تو میں اسے آپ کے وہم پر قربان کر دوں گی طاہر۔ مگر آپ کو اس اذیت سے چھڑا کر رہوں گی۔ بتائیے۔ کیا کروں میں ؟ حکم دیجئے۔ ” اس نے طاہر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں۔
“کیا کہہ رہی ہو صفی؟” طاہر تڑپ گیا۔ ” تم اپنی جان دینے کی بات کر رہی ہو؟ میری کس بات سے ظاہر ہوا کہ میں ایسا چاہتا ہوں۔ اور رہی بات سرمد کی تو اسے راستے سے ہٹا دینا اگر ضروری ہوا تو یہ کام میں خود کروں گا، تم ایسا کیوں کرو گی؟ لیکن مجھے لگتا ہے کہ تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔ ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ایسا کوئی فیصلہ کیا جائے۔ “
“تو پھر خود کو سنبھالئے طاہر۔ خود پر نہیں ، مجھ پر رحم کیجئے۔ آپ کی حالت مجھ سے دیکھی نہیں جاتی۔ “
صفیہ سسک رہی تھی۔
طاہر کی آنکھوں میں پھر نمی چھلک رہی تھی۔
وقت کیا کھیل کھیلنے والا تھا، دونوں اس سے بے خبر اندیشوں اور خوف کی پرچھائیوں سے دل کا دامن چھڑانے کی کوشش کر رہے تھے۔ دل۔۔۔ جو سمجھائے نہیں سمجھتا اور بہلائے نہیں بہلا کرتا۔
٭٭٭٭٭٭٭
دو ہی دن میں طاہر نچڑ کر رہ گیا۔ کہنے کو بخار تو اتر گیا مگر وہ کیسا بخار تھا کہ جس کی دی ہوئی بربادی نے طاہر کے جسم و جان میں ڈیرے ڈال لئے۔ وہ بالکل خاموش ہو کر رہ گیا۔ صفیہ رات دن اس کی تیمار داری میں لگی رہتی۔ اسے بہلانے، ہنسانی، اس کے چہرے کی رونق بحال کرنے کے لئے سو سو جتن کرتی مگر طاہرسوائے پھیکے سے انداز میں مسکرا دینے اور اس کی ہر بات کا مختصر سا جواب دینے کے سوا کچھ بھی رسپانس نہ دیتا۔
وسیلہ خاتون نے دو تین بار فون پر صفیہ سے بات کی۔ اسے کریدنا چاہا کہ صورتحال کیا ہے؟ صفیہ نے انہیں سب کچھ صاف صاف بتا دیا اور کہا کہ وہ اس معاملے میں بالکل پریشان ہوں نہ اس میں دخل دینے کی کوشش کریں۔ کسی بھی تیسرے فرد کا اس صورتحال میں در آنا مزید الجھن پیدا کر سکتا تھا، یہ صفیہ کی اپنی سوچ تھی اور شاید کسی حد تک یہ درست بھی تھا، اس لئے وسیلہ خاتون نے اس کے کہنے پر فون پر ہی طاہر کی خیر خبر پوچھ لی، خود آنے سے گریز کیا۔
ڈاکٹر ہاشمی اور بیگم صاحبہ کا صرف ایک فون آیا تھا۔ وہ خیریت سے تھے اور انہوں نے اپنا قیام دیارِ حبیب میں بڑھا لیا تھا۔ ان کی جلد واپسی کا ابھی کوئی امکان نہ تھا۔ آفس کے معاملات امبر بخوبی کنٹرول کر رہی تھی۔ اسے طاہر کی بیماری کا قطعاً علم نہ تھا۔ صفیہ نے بھی اسے موجودہ صورتحال سے باخبر کرنا ضروری نہ سمجھا کہ اس سے سوائے بات پھیلنے کے اور کیا ہوتا؟وہ جانتی تھی کہ یہ بات طاہر بھی پسند نہ کرے گا۔ گھر کے ملازموں میں بابا سیف اور ڈرائیور حمید کو صرف یہ پتہ تھا کہ صاحب کو بڑا شدید بخار ہے اور بس۔ جو ملازمہ صفائی اور باہر کے کاموں کے لئے تھی، اسے اس بات کی ہوا بھی نہ لگی کہ طاہر کی طبیعت خراب ہے۔ کچن کا کام ہوتا ہی کتنا تھا، سیف کو اس کے لئے کسی معاون کی بھی ضرورت نہ تھی۔ اس لئے اصل بات پردے ہی میں رہی۔
آج پانچواں دن تھا۔ طاہر نے شیو بنائی، غسل کیا اور دس بجے کے قریب سردیوں کی دھوپ کے لئے لان میں آ بیٹھا۔
صفیہ نے اس کے چہرے پر کچھ رونق دیکھی تو اس کی جان میں جان آئی۔ اس نے سیف سے چائے بنا کر لان ہی میں لے آنے کو کہا اور خود چھوٹا سا بیگ تھامے طاہر کے پاس چلی آئی۔
وہ بید کی کرسی پر سر سینے پر جھکائے نجانے کس سوچ میں ڈوبا بیٹھا تھا۔
صفیہ اس کے قریب پہنچی تو اس کی آہٹ پر وہ چونکا۔
“کیا سوچ رہے ہیں میرے حضور؟”
صفیہ نے کرسی سے کشن اٹھا کر نیچے گھاس پر ڈالا اور اس کے قدموں میں بیٹھ گئی۔
“ارے اری۔ “
وہ جلدی سے بولا۔
” یہ کیا۔ اوپر بیٹھو ناں۔ “
اس نے پاؤں کھینچ لئے۔
“خاموش۔ “
صفیہ نے آنکھیں نکالیں۔
“چائے آنے تک مجھے اپنا کام ختم کرنا ہے۔ “
کہہ کر اس نے طاہر کے پاؤں تھام کر اپنی گود میں رکھ لئے۔
“اری۔ کیا کر رہی ہو بھئی۔ کسی ملازم نے دیکھ لیا تو۔۔۔ ؟”
اس نے پاؤں واپس کھینچنا چاہے
__________________________________________

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: