Ishq Ka Qaaf Novel By Sarfaraz Ahmad Rahi – Episode 9

0
عشق کا قاف از سرفراز احمد راہی – قسط نمبر 9

–**–**–

وہ بید کی کرسی پر سر سینے پر جھکائے نجانے کس سوچ میں ڈوبا بیٹھا تھا۔ صفیہ اس کے قریب پہنچی تو اس کی آہٹ پر وہ چونکا۔
“کیا سوچ رہے ہیں میرے حضور؟”
صفیہ نے کرسی سے کشن اٹھا کر نیچے گھاس پر ڈالا اور اس کے قدموں میں بیٹھ گئی۔
“ارے اری۔ “
وہ جلدی سے بولا۔
” یہ کیا۔ اوپر بیٹھو ناں۔ “
اس نے پاؤں کھینچ لئے۔
“خاموش۔ “
صفیہ نے آنکھیں نکالیں۔
” چائے آنے تک مجھے اپنا کام ختم کرنا ہے۔ “
کہہ کر اس نے طاہر کے پاؤں تھام کر اپنی گود میں رکھ لئے۔
“اری۔ کیا کر رہی ہو بھئی۔ کسی ملازم نے دیکھ لیا تو۔۔۔ ؟”
اس نے پاؤں واپس کھینچنا چاہے۔
“تو کیا ہو گا جناب عالی؟ میں کون سا آپ کے ساتھ کوئی نازیبا حرکت کرنے جا رہی ہوں۔ ذرا دیکھئے۔ کس قدر خشکی ہو رہی ہے جلد پر۔ “
صفیہ نے اس کے پاؤں پھر گود میں ڈال لئے اور بائیں ہاتھ سے بیگ کھول کر اس میں سے نیل کٹر نکال لیا۔
“ارے بابا۔ یہ کام میں خود کر لوں گا۔ تم رہنے دو۔ “
طاہر نے اسے روکنا چاہا۔
“اگر اب آپ نے پاؤں واپس کھینچا ناں تو میں یہ پیر میں چبھو دوں گی۔ “
صفیہ نے اسے نیل کٹر میں لگا چھوٹا سا چاقو دکھاتے ہوئے دھمکی دی۔ اس کے بچگانہ معصوم اور محبت بھرے لہجے پر طاہر بے اختیار مسکرا دیا اور پاؤں ڈھیلے چھوڑ دئیے۔
“یہ ہوئی ناں اچھے بچوں والی بات۔ “
وہ خوش ہو گئی۔
پھر پہلے اس نے طاہر کے ہاتھ، پیروں کے ناخن کاٹے۔ اس کے بعد اس کے ہاتھوں ، پیروں اور آخر میں پنڈلیوں پر وائٹ جیل مالش کی۔ طاہر خاموشی سے اسے یہ سب کام کرتے ہوئے دیکھتا رہا۔ وہ یوں اپنے کام میں مگن تھی جیسے اس سے بڑا کام آج اسے اور کوئی نہ کرنا ہو۔ جب سیف چائے رکھ کر گیا تو وہ لان کے گوشے میں لگے نل پر ہاتھ دھو کر فارغ ہو چکی تھی۔
“یہ ملنگوں والی عادت چھوڑ دیجئے۔ اپنا خیال رکھا کیجئے۔ کل کو اگر میں نہ رہی تو آپ کو تو ہفتے بھر میں جوئیں پڑ جائیں گی۔ “
واپس آ کر چائے بناتے ہوئے اس نے طاہر کی طرف دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔
“کہاں جانا ہے تمہیں ؟”
طاہر اب اسے نام لے کر بلانے سے احتراز کرتا تھا، یہ بات صفیہ نے محسوس کر لی تھی مگر اس نے کسی بھی بات پر بحث یا اعتراض کرنے کا خیال فی الحال ترک کر دیا تھا۔ اسے حالات اور خاص طور پر طاہر کے نارمل ہونے تک انتظار کرنا تھا۔
اسے علم تھا کہ یہ انتظار سالوں پر بھی محیط ہو سکتا ہے، مگر اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ طاہر کے دل میں اپنا مقام دوبارہ اجاگر ہونے تک وہ زبان سی رکھے گی۔ حق طلب نہ کرے گی اور فرض کو اوڑھنا بچھونا بنا لے گی۔ اب رات دن یہی کر رہی تھی وہ۔
“زندگی کا کیا بھروسہ ہے میرے حضور؟ جانے کب بلاوا آ جائے۔ “
وہ چائے کا کپ اس کی طرف سرکاتے ہوئے بولی۔ “اس لئے اس کنیز کی موجودگی میں اپنا آپ سنبھال لینا سیکھ لیجئے۔ ملازم بہرحال ملازم ہوتے ہیں ، وہ وقت پر کھانا کپڑا تو مہیا کر سکتے ہیں ، بے وقت خدمت سے اکتا جاتے ہیں۔ “
“تم بھی کہیں اکتا تو نہیں گئیں ؟”
طاہر نے اسے غور سے دیکھا۔
“میں۔۔ ؟”
صفیہ نے اسے شکوے بھرے انداز میں دیکھا مگر دوسرے ہی پل اس کی آنکھیں شفاف ہو گئیں۔
“میں بھلا کیوں اکتاؤں گی۔ میں ملازم نہیں آپ کی کنیز ہوں اور کنیز خریدا ہوا وہ مال ہوتا ہے میرے حضور، جس کے دل سے اکتانے کی حس ختم کر کے اللہ تعالیٰ اس کی جگہ محبت، خلوص اور ایثار کی دھک دھک بھر دیتا ہے۔ “
“تو میں نے تمہیں خریدا ہے؟”
طاہر نے چسکی لے کر کپ واپس رکھ دیا۔
“جی ہاں۔ “
صفیہ نے اطمینان سے جواب دیا۔
” اپنی محبت، اپنی توجہ اور اپنے پیار کے عوض آپ اس کنیز، اس باندی کو کب سے خرید چکے ہیں۔ “
طاہر لاجواب ہو گیا۔ دل میں ایک کسک سی ابھری۔ اس کی محبت اور توجہ سے تو صفیہ کتنے ہی دنوں سے محروم تھی۔ اب شاید وہ اس پر طنز کر رہی تھی یا اسے اس کا احساس دلانا چاہتی تھی۔ اس نے دزدیدہ نگاہوں سے صفیہ کی جانب دیکھا۔ وہاں اسے طنز کی کوئی جھلک نہ ملی تو وہ سوچ میں ڈوب گیا۔
صفیہ سے بخار کے اٹیک کی رات اس کی بڑی کھل کر بات ہوئی تھی۔ اس کے بعد اسے نارمل ہو جانا چاہئے تھا مگر وہ اب تک دل و دماغ کی جنگ میں الجھا ہوا تھا۔ ابھی تک وہ خود کوواپس پہلی پوزیشن پر نہ لا سکا تھا، جہاں صرف وہ اور صفو تھی۔
جہاں ابھی صفی نے جنم نہ لیا تھا۔ اور اب تو صفی بھی پردے کے پیچھے چلی گئی تھی۔ وہ حتی الامکان اس کا نام لینے سے گریز کرتا تھا۔
چائے ختم ہو گئی۔ سیف برتن لے گیا۔
” آج کہیں باہر چلیں۔ “
صفیہ نے بیگ کی زپ بند کرتے ہوئے اس کی جانب دیکھا۔
“کہاں ؟”
طاہر کی نگاہیں اس سے ملیں۔
“جہاں بھی آپ لے جائیں۔ “
“جہاں تم جانا چاہو، چلے چلیں گے۔ “
طاہر نے فیصلہ اس پر چھوڑ دیا۔
“دوچار دن کے لئے گاؤں نہ چلیں ؟”
صفیہ نے اشتیاق سے کہا۔
“گاؤں ؟”
طاہر حیرت سے بولا۔
“وہاں جا کر کیا کرو گی۔ مٹی، دھول پھانکنے کے سوا وہاں کیا ہے۔ “
“چند دن کھلی آب و ہوا میں رہنے سے آپ کی طبیعت پر بڑا اچھا اثر پڑے گا اور میں بھی کبھی کسی گاؤں میں نہیں گئی، میری سیر ہو جائے گی۔ “
“ہوں۔ “
طاہر نے ہنکارا بھرا۔
“اگر کوئی امر مانع ہے تو رہنے دیں۔ “
صفیہ نے اسے الجھن میں دیکھ کر کہا۔
“نہیں۔ ایسی کوئی بات نہیں۔ “
طاہر نے اس کی جانب دیکھا۔
” میں صرف یہ سوچ رہا تھا وہاں جا کر تم بور ہو جاؤ گی۔ “
“سنا ہے آپ وہاں پندرہ پندرہ دن اور امی جان د و دو مہینے رہ کر آتی ہیں۔ آپ بور نہیں ہوتے کیا؟”
“میرا اور امی کا تو کام ہے۔ زمینوں کا حساب کتاب بڑے دقت طلب مسائل کا حامل ہوتا ہے۔ اس لئے بور ہونے کا وقت ہی نہیں ملتا مگر تم۔۔۔ “
” آپ ساتھ ہوں گے تو بوریت کیسی؟”
صفیہ نے اسے بڑی والہانہ نظروں سے دیکھا۔
“تو ٹھیک ہے۔ میں فون کر دیتا ہوں۔ دو بجے نکل چلیں گے۔ ڈیڑھ گھنٹے کا راستہ ہے۔ عصر تک پہنچ جائیں گے۔ “
اس نے نظریں چرا لیں۔
“ٹھیک ہے۔ ” صفیہ بچوں کی طرح خوش ہو گئی۔ ” میں پیکنگ کر لوں ؟”
“کر لو۔ “
طاہر بیساختہ ہنس دیا۔
” مگر بہت زیادہ دنوں کا پروگرام نہ بنا لینا۔ آج منگل ہے۔ بس جمعے تک لوٹ آئیں گے۔ “
“جی نہیں۔ “
وہ اٹھتے ہوئے بولی۔
” یہ وہاں جا کر سوچیں گے کہ کتنے دن رکنا ہے۔ ابھی آپ کے آفس جانے میں دس بارہ دن باقی ہیں اور امی کاتو ابھی واپسی کا کوئی ارادہ ہی نہیں۔ اس لئے اطمینان سے لوٹیں گے۔ “
وہ بیگ اٹھا کر چل دی۔ نجانے کیوں طاہر کا جی نہ چاہا کہ وہ اسے ٹوکے۔ وہ بہت خوش نظر آ رہی تھی اور اسے اس کی خوشی میں رکاوٹ ڈالنا اچھا نہ لگا۔
دوپہر کا کھانا کھا کر وہ گاؤں کے لئے نکل کھڑے ہوئے۔ گاڑی کی ڈگی میں صفیہ نے دو بکس رکھوائے تھے، جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ اس کا ارادہ جلدی لوٹنے کا قطعاً نہیں ہے۔
وجاہت آباد، طاہر کے والد سر وجاہت سلطان کے نام پر آباد تھا۔
گاؤں کیا تھا، قدیم بود و باش کا ایک ماڈل تھا۔ آج بھی وہاں رہٹ چلتے تھے۔ کھیتوں میں نئے دور کی کوئی کھاد نہ ڈالی جاتی تھی۔ ٹیوب ویل بھی تھے مگر آب پاشی کے لئے پرانے کنووں کو قطعاً ختم نہ کیا گیا تھا۔
وجاہت سلطان کو اپنے کلچر سے بیحد پیار تھا، اس لئے انہوں نے وہاں جدید آلات کے آنے پر پابندی نہ لگائی تو پرانے نظام کو ختم کرنے کی اجازت بھی نہ دی۔ ان کے مزارعے ان کے ایسے فرمانبردار تھے کہ حیرت ہوتی تھی۔ ورنہ یہ قوم کسی سے وفا کر جائے یہ ممکن ہی نہیں۔
نجانے وجاہت سلطان نے انہیں کیا سنگھایا تھا کہ وہ ان کے ہر حکم کو جی جان سے مان لیتے تھے۔ ان کے بعد بیگم وجاہت سلطان نے بھی ان کے ساتھ وہی سلوک روا رکھا جو ان کے شوہر کا خاصا تھا، اس لئے معاملات خوش اسلوبی سے چل رہے تھے۔
وجاہت سلطان کا زندگی بھر ایک ہی اصول رہا تھا:
“کسی کا حق مارو نہ اپنا حق چھوڑو۔ اور عزت سب کے لئے۔ “
بیگم صاحبہ اور طاہر نے اس اصول میں کبھی لچک نہ آنے دی۔ ہر دُکھ سُکھ میں جب وہ گاؤں والوں کے ساجھی تھے تو انہیں کیا پاگل کتے نے کاٹا تھا کہ وہ ایسے مالکوں کے خلاف سوچتے۔
طاہر کی شادی پر جیسے شہر سلطان وِلا میں بلا کر ان کی پذیرائی کی گئی تھی، اس بات نے انہیں اور بھی گرویدہ کر دیا تھا۔
گاؤں میں “بیگم حویلی” بیگم صاحبہ کے لئے طاہر کے والد نے تعمیر کرائی تھی۔ یہ ابتدا سے اسی نام سے مشہور تھی۔
حویلی کا انتظام شروع سے مزارعوں کے نگران اور گاؤں کے معاملات کے منتظم بلال ملک کے ہاتھ میں تھا۔ اس کی جوانی ڈھل رہی تھی مگر آج بھی اس کی کڑک اور پھڑک ویسی ہی تھی۔ کسی کو اس کے سامنے دم مارنے کی جرات نہ ہوتی تھی۔ گاؤں میں بیگم صاحبہ اور طاہر کے بعد وہ سب سے با اختیار سمجھا جاتا تھا۔
حویلی کے باہر ہی بلال ملک چیدہ چیدہ افراد کے ساتھ طاہر اور اپنی چھوٹی مالکن کے استقبال کے لئے موجود تھا۔ طاہر نے گاڑی روکی اور صفیہ اس کے ساتھ باہر نکل آئی۔ حویلی کیا تھی، چھوٹا موٹا محل تھا جو بڑے پُر شکوہ انداز میں سر اٹھائے انہیں فخر سے دیکھ رہا تھا۔ صفیہ اس کی خوبصورتی سے بیحد متاثر ہوئی۔
بلال ملک اور اس کے بعد دوسرے لوگوں نے ان دونوں کے گلے میں ہار ڈالے اور انہیں چھوٹے سے جلوس کی شکل میں حویلی کے اندر لایا گیا۔
ہال کمرے میں وہ دونوں صوفوں پر بیٹھ گئے۔ سب لوگ جیسے کسی بادشاہ کے دربار میں حاضر تھے۔
کچھ دور پڑی کرسیوں پر بیٹھ کر انہوں نے ادب سے سر جھکا لئے۔ بلال ملک ان دونوں کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
“چھوٹی مالکن۔ اگر چاہیں تو اندر زنان خانے میں تشریف لے چلیں۔ گاؤں کی لڑکیاں بالیاں آپ سے ملنا چاہتی ہیں۔ “
اس نے کہا۔
صفیہ نے طاہر کی جانب دیکھا۔ اس نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلا دیا۔ صفیہ نے گلے سے ہار اتار کر صوفے ہی پر ڈالے اور ایک ملازمہ کے عقب میں چلتی ہوئی ہال کمرے کے اندرونی دروازے کی جانب بڑھ گئی جو زنان خانے کے کاریڈور میں کھلتا تھا۔
“اور سناؤ ملک۔ کیا حالات ہیں ؟”
طاہر نے صوفے پر نیم دراز ہوتے ہوئے کہا۔
“اللہ کا کرم ہے چھوٹے مالک۔ سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے۔”
وہ اس کے سامنے بیٹھ گیا۔
اسی وقت ایک ملازم دودھ کا جگ اور گلاس ٹرے میں رکھے آ گیا۔ طاہر نے دودھ پیا اور ملازم برتن واپس لے گیا۔
“پچھلے دنوں جو باڑ آئی تھی، اس سے کوئی نقصان تو نہیں ہوا؟”
طاہر نے رومال سے ہونٹ صاف کرتے ہوئے پوچھا۔
“نہیں جی۔ ہمارا علاقہ تو محفوظ ہی رہا۔ ہاں ارد گرد کافی نقصان ہوا۔ دریا ابل پڑا تھا جی۔ بڑی مشکل میں رہے ہمسایہ دیہات کے لوگ۔۔۔ “
“تم نے ان کی کوئی مدد بھی کی یا ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے؟”
“مدد کیوں نہ کرتے جی۔ یہ تو ہم پر قرض ہوتا ہے جو ادا کئے بنا رات کو نیند نہیں آتی۔ “
بلال ملک نے ادب سے جواب دیا۔
“اب میں تھوڑا آرام کروں گا ملک۔ اپنی مالکن کو بھی جلدی فارغ کر دینا۔ وہ پہلی بار گاؤں آئی ہے۔ پہلے ہی دن تھک کر لمبی لمبی نہ لیٹ جائے۔ “
وہ ہنستا ہوا اٹھ گیا۔ اس کے ساتھ ہی سب لوگ اٹھ کھڑے ہوئے۔
“ان کی آپ فکر کریں نہ ان کے بارے میں سوچیں۔ اب وہ جانیں اور گاؤں والیاں۔ انہیں تو اگر وقت پر سونا بھی مل جائے تو غنیمت ہو گا۔ “
ملک بھی ہنسا۔
“چلو ٹھیک ہے۔ اسے بھی گاؤں آنے کا بڑا شوق تھا۔ بھگتے اب۔ “
طاہر کہہ کر ہال سے باہر نکل گیا۔ ملک باقی لوگوں کے ساتھ دوبارہ نشستوں پر براجمان ہو گیا اور ہلکی آواز میں باتیں ہونے لگیں۔
صفیہ کو گاؤں کی بڑی بوڑھیوں نے پیار کر کر کے اور سوغاتیں پیش کر کر کے نڈھال کر دیا۔ پھر لڑکیوں اور جواں سال عورتوں نے اس کے کمرے میں ایسا ڈیرہ ڈالا کہ اسے آرام کرنا بھول ہی گیا۔ شام کے قریب وہ اسے گاؤں کے کھیتوں کی سیر کو لے گئیں۔
ہر کوئی اسے دیکھ کر نہال ہو رہا تھا۔ وہ ساری کلفتیں بھول کر ان کے ساتھ یوں گھل مل گئی جیسے یہ سارا ماحول اس کا صدیوں سے دیکھا بھالا ہو۔
سیلاب دریا کی حدود میں داخل ہوا تو دریا بپھر گیا۔ اس انجان پانی کو اس کی اجازت کے بغیر ، اچانک اس کے گھر میں داخل ہونے کی جرات کیسے ہوئی؟ شاید یہی غصہ تھا جو دریا نے نکالا اور سینکڑوں دیہات اس کے غضب کا نشانہ بن گئے۔
وجاہت آباد دریا سے ذرا ہٹ کر واقع تھا اس لئے محفوظ رہا تاہم سب سے زیادہ نقصان جس گاؤں میں ہوا وہ عزیز کوٹ تھا۔ گاؤں کا گاؤں پانی میں ڈوب کر رہ گیا۔ درجنوں لوگ سیلاب کے ریلے میں بہہ گئے۔ کچے مکانوں کا وجود یوں مٹ گیا جیسے وہ کبھی موجود ہی نہ تھے۔
سیلاب رات کے پچھلے پہر اچانک ہی عزیز کوٹ والوں پر ٹوٹ پڑا تھا۔ نیند میں گم لوگ جب تک ہوش میں آتے، غرقابی ان کا مقدر بن چکی تھی۔ بچے، عورتیں ، بوڑھی، درجنوں لوگ سیلاب کی نذر ہو گئے۔ لاشوں کی تلاش اور گھرے ہوئے زندہ افراد کو بچانے کا کام اب بھی انفرادی اور اجتماعی طور پر جاری تھا۔
وجاہت آباد والوں نے دن رات عزیز کوٹ والوں کے لئے وقف کر دئیے۔ لوگوں کو ان کے پانی میں گھرے مکانوں سے نکالنے سے لے کر ان کے لئے رہائش اور خور و نوش کا وافر انتظام کرنے تک وجاہت پور والوں نے حکومتی مشینری کا ایسا بے مثال ساتھ دیا کہ ہر طرف واہ واہ ہو گئی۔
عزیز کوٹ اور وجاہت آباد کا درمیانی فاصلہ تقریباً چھ کلو میٹر تھا مگر وجاہت آباد والوں نے اپنے تعاون اور محبت سے اس فاصلے کو چھ فٹ میں بدل دیا۔ پانی اترنے تک انہوں نے بچے کھچے عزیز کوٹ والوں کو اپنے ہاں سنبھالے رکھا۔ پھر جب حکومت نے امدادی کیمپ تشکیل دے لئے تب ان لوگوں کو وہاں سے جانے دیا۔
عزیز کوٹ کے باشندے دھیرے دھیرے اپنے گاؤں کو لوٹ رہے تھے۔ مکانوں کو دوبارہ تعمیر کر رہے تھے۔ سیلاب جو کیچڑ اور گارا اپنے پیچھے چھوڑ گیا تھا، اس کی صفائی کا کام بھی ساتھ ساتھ جاری تھا۔ اب بھی وجاہت آباد کے درجنوں لوگ امدادی سرگرمیوں میں فوج اور سول انتظامیہ کا ہاتھ بٹانے کے لئے متاثرہ علاقے میں موجود تھے۔
عزیز کوٹ کو ڈبو کر سیلابی پانی نے جب اپنا راستہ بدلا تو نور پور کے قریب سے یوں گزر گیا جیسے اس علاقے میں اسے سر اٹھا کر چلنے کی بھی اجازت نہ ہو۔
نور پور ایک چھوٹا سا گاؤں تھا جس کے نفوس کی تعداد بمشکل تین ہزار تھے۔ سیلاب، گاؤں کے باہر باہر سے اپنا راستہ بنا کر خوش خرامی کے ساتھ بہتا ہوا نکل گیا تاہم ابھی تک اس پانی کا زور کم نہ ہوا تھا۔
حافظ عبداللہ چھوٹے موٹے دریا کا منظر پیش کرتے ہوئے سیلابی کٹاؤ کے کنارے ایک اونچے ٹبے پر بیٹھا نجانے کس سوچ میں گم تھا۔ وہ حافظ قرآن تھا۔ دنیا بھر میں اکیلا اور اس وقت زندگی کے پچیسویں سال میں تھا۔
نور کوٹ گاؤں کی ایک بے آباد چھوٹی سی مسجد کو آج سے سات سال پہلے آ کر اس نے آباد کیا تو گاؤں والوں نے اس کی دو وقت کی روٹی اور ضروری اخراجات کو ہنس کر اپنے ذمے لے لیا۔ اس نے اس سے زیادہ کا مطالبہ بھی نہ کیا۔
گاؤں کے بچوں کو نماز فجر کے بعد قرآن پڑھانا اس کے معمولات میں شامل تھا۔ گاؤں کے چوہدری حسن دین کے گھر سے اسے خاص تعلق تھا۔ اس نے چوہدری حسن دین کے تین بیٹوں رفاقت، عنایت، لطافت اور ایک بیٹی نادرہ کو قرآن پاک پڑھایا تھا۔
اس نسبت سے یہ گھرانا اس کی بڑی عزت کرتا اور اسے اپنے گھر ہی کا ایک فرد خیال کرتا تھا۔ اس کا ماہانہ خرچہ بھی چوہدری حسن دین کی حویلی سے آتا جس کے لئے اسے خود کبھی حویلی نہ جانا پڑا تھا۔
ادھر مہینے کی پہلی تاریخ آئی، ادھر اس کا پہلوٹھی کا شاگرد رفاقت اس کا مشاہرہ اور دوسرا ضروری سامان لے کر مسجد میں اس کے حجرے کے دروازے پر آ دستک دیتا۔ گاؤں والے اس کے علاوہ اس کی جو خدمت کرنا چاہتے، وہ اکثر اس سے انکار کر دیتا۔
اکیلی جان تھی، اس کی ضروریات محدود سی تھیں۔ لالچ اور جمع کرنا اس کی فطرت ہی میں نہ تھا، اس لئے بھی گاؤں والے اس کے کردار سے بیحد متاثر تھی۔ تاہم وہ جو لے آتے، اسے واپس لے جانا انہیں اپنی توہین لگتا، اس لئے اصرار کرتے تو حافظ عبداللہ کو ان کا نذرانہ قبول کرنا پڑتا۔
پھر جب اس نے دیکھا کہ اجناس اور روپوں کی آمد اس کی ضرورت سے زیادہ ہے تو اس نے مسجد کے صحن میں بائیں ہاتھ بنے، اپنے حجرے کے دو کمروں کے اوپر چوہدری حسن دین سے کہہ کر ایک بڑا ہال کمرہ ڈلوا لیا۔
اس مہمان خانے کا راستہ مسجد کے باہر ہی سے رکھا گیا تاکہ اسے اور نمازیوں کو دقت نہ ہو۔ یہ کمرہ اجنبی مسافروں اور بے آسرا مہمانوں کی خدمت کے لئے وقف کر دیا گیا۔ یوں اس کی زائد آمدنی کے خرچ کا ایک راستہ نکل آیا۔ اب وہ بھی خوش تھا اور گاؤں والے بھی۔
اس کا ایک عرصے سے معمول تھا کہ روزانہ عصر کے بعد نور پور سے چار فرلانگ دور مشرق میں واقع ایک خانقاہ سے تقریباً ڈیڑھ سو گز دور، ایک اونچے ٹبے پر اُگے پیپل کے درخت کے نیچے آ بیٹھتا اور قرآن حکیم کی دہرائی شروع کر دیتا۔
جب سورج، شفق کی لالی سے دامن چھڑانے لگتا، تب وہ قرآن پاک کو چوم کر سینے سے لگاتا۔ اٹھتا۔ درخت کو تھپکی دیتا، جیسے اس سے رخصت ہو رہا ہو اور مسجد کو چل دیتا جہاں اسے پانچ وقت اذان بھی خود ہی دینا ہوتی تھی۔
یہ خانقاہ کسی بابا شاہ مقیم نامی بزرگ کے مزار اور دو شکستہ سے کمروں پر مشتمل تھی۔ مزار کے وسیع صحن میں ایک طرف چھوٹا سا سٹور نما کمرہ تھا جس میں لوگوں کے نذرانوں کی اشیا، اجناس، دری چادریں اور دوسرا سامان بھرا رہتا تھا۔ یہاں ابھی تک بجلی کا کنکشن نہ پہنچا تھا۔
نور پور والوں نے واپڈا کو درخواست دے رکھی تھی اور امید تھی کہ جلد ہی وہاں بجلی لگ جائے گی۔ مزار سے تھوڑی دور دریا بہتا تھا جس کے پار مظفر آباد کی آبادی کا اختتام ہوتا تھا۔
مزار کی دیکھ بھال ایک ایسا شخص کرتا تھا، جس کے بارے میں کوئی نہ جانتا تھا کہ وہ کون ہے اور کہاں سے آیا ہے؟
میلےگجیلے کپڑوں میں ملبوس وہ حال مست درویش خانقاہ کی صفائی کرتا۔ اِدھر اُدھر سے خود رَو پھول اکٹھے کر کے بابا شاہ مقیم کے مزار پر لا ڈالتا۔ وہاں موجود چھوٹی سی کھوئی سے پانی نکالتا۔ خانقاہ اور اس سے ملحقہ کمروں کو دھوتا اور اگر بتیاں سلگا کر پھر اپنے کمرے میں گھس جاتا۔
یہ اس کا روزانہ کا معمول تھا۔ اسے گاؤں والوں نے نہل کبھی کسی سے عام طور پر بات چیت کرتے سنا، نہ وہ کسی سے کوئی چیز لیتا۔ اگر کسی نے زیادہ نیاز مندی دکھانے کی کوشش کی تو وہ اسے یوں گھورتا کہ نیازمند کو بھاگتے ہی بنتی۔
اس کے کھانے پینے کا انتظام کیسے ہوتا تھا؟ یہ بات کسی کے علم میں تھی نہ کسی نے ا س کا کھوج لگانے کی کوشش کی۔ اس کا سبب درویش کا رویہ تھا، جس کے باعث مزار پر فاتحہ کے لئے آنے والے افراد بھی اس سے کتراتے تھے۔
اس کا حال پوچھ کر وہ ایسے ایسے جواب بھگت چکے تھے جن کے بعد اب کسی کا حوصلہ نہ پڑتا تھا کہ وہ اس سے راہ و رسم پیدا کرنے کی سوچے۔ ہاں ، حافظ عبداللہ کا معاملہ الگ تھا۔ وہ جب بھی مزار پر فاتحہ کے لئے جاتا، درویش اپنے کمرے سے نکل آتا۔
اس کے جانے تک مزار کے باہر کھڑا رہتا۔ جاتے ہوئے اس سے بڑی گرمجوشی سے ہاتھ ملاتا۔ چمکدار نظروں سے اسے دیکھتا۔ ہولے سے مسکراتا اور واپس اپنے کمرے میں چلا جاتا۔
حافظ عبداللہ نے بھی اس سے زیادہ اسے کبھی تنگ نہیں کیا تھا۔ ہاں اگر کبھی وہ اسے نہ ملتا، تو وہ اس کے کمرے میں ضرور جھانک لیتا مگر اسے وہاں موجود نہ پاتا۔ اس سے حافظ عبداللہ نے سمجھ لیا کہ درویش سے ا س کی ملاقات تبھی نہیں ہوتی، جب وہ وہاں نہیں ہوتا۔ وہ کہاں جاتا ہے؟ کب لوٹتا ہے؟ حافظ عبداللہ نے کبھی ان سوالوں کا جواب جاننے کی سعی نہ کی۔
آج اس کا دل کچھ عجیب سا ہو رہا تھا۔ منزل کرنے کو جی مائل نہ تھا۔ اس کے دادا قاری بشیر احمد مرحوم کا کہنا تھا کہ زبردستی قرآن پاک پڑھنا چاہئے نہ اس پر غور کرنا چاہئے، بلکہ جب قرآن خود اجازت دے، تب اسے کھولا جائے۔ اور اس کی طرف سے اجازت کی نشانی یہ تھی کہ بندے کا دل خود قرآن پڑھنے کو چاہے۔
سو آج بڑی مدت کے بعد جب حافظ عبداللہ کا دل دہرائی کو نہ چاہا تو وہ سمجھ گیا کہ آج قرآن پاک کی طرف سے اسے منزل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس لئے وہ قرآن حکیم کا نسخہ اپنے ساتھ ہی نہ لایا۔ مقررہ وقت پر ٹبے پر پہنچا اور سیلاب کی دھیرے دھیرے بہتی لہروں پر نظریں جما کر بیٹھ گیا۔
تھوڑی ہی دیر بعد وہ سوچوں کے گرداب میں ایسا گم ہوا کہ خود سے بے خبر ہو گیا۔ وقت گزرنے کا احساس ناپید ہو گیا۔ پھر جب سورج کی ٹکیہ اپنے آخری مقام کو چھونے لگی تو اسے ہوش آیا۔
ایک طویل سانس لے کر اس نے حدِ نظر تک پھیلی سیلابی چادر پر ایک نگاہ ڈالی اور اٹھ گیا۔ پھر ایک دم چونک پڑا۔
اس کی نظریں پانی میں بہتے آ رہے درخت کے ایک تنے پر جم گئیں جس کے ساتھ کوئی انسانی جسم چمٹا ہوا تھا۔ اس نے غور سے دیکھا۔ وہ کوئی عورت تھی، کیونکہ دور سے بھی اس کے پھولدار کپڑوں کی جھلک نمایاں تھی۔
حافظ عبداللہ نے گھبرا کر اِدھر اُدھر دیکھا۔ خانقاہ کی جانب نظر دوڑائی مگر درویش کو آواز دینے کا اسے حوصلہ نہ ہوا۔ چاہا کہ گاؤں سے کسی کو مدد کے لئے بلائے مگر اتنا وقت نہ تھا۔ جب تک وہ کسی کو مدد کے لئے بلاتا، اندھیرا مزید بڑھ جاتا۔ پھر وہ دریا میں بہتی اس عورت کو بچا پاتا، اس کا اسے یقین نہ تھا۔
اس نے زیادہ تردد میں پڑنے کے بجائے کندھوں سے گرم چادر اور سرسے ٹوپی اتار کر درخت کے نیچے رکھتے ہوئے پاؤں سے چپل بھی نکال دی۔ پھر آستینیں اُڑستے ہوئے ٹھنڈے یخ پانی میں چھلانگ لگا دی۔
اس کا خیال درست تھا۔ درخت کے تنے کے قریب پہنچا تو پتہ چلا کہ اس سے چمٹی ہوئی وہ ایک جواں سال لڑکی ہی تھی جو بیچاری نجانے کہاں سے سیلاب کے ریلے میں بہتی چلی آ رہی تھی۔ اس نے بڑی مضبوطی سے درخت کی چھوٹی چھوٹی شاخوں کو اپنے ہاتھوں سے جکڑ رکھا تھا۔ آنکھیں بند تھیں اور بیہوش تھی۔ سردی اور سرد پانی کے باعث اس کے ہونٹ نیلے پڑ چکے تھے۔
حافظ عبداللہ نے اس کے جسم سے چپکے ہوئے کپڑوں سے بری طرح جھانکتے اس کے جسم سے نظریں چراتے ہوئے درخت کے تنے کو پیروں کی جانب سے کنارے کی طرف دھکیلنا شروع کیا اور بڑی مشقت سے تقریباً پندرہ منٹ بعد ٹبے کے قریب لانے میں کامیاب ہو گیا۔
کنارے کی کچی زمین پر ایک چوتھائی درخت کو کھینچ لینے کے بعد اس نے آنکھیں بند کر کے جگہ جگہ سے پھٹ جانے والے کپڑوں سے جھانکتے لڑکی کے نیم برہنہ اکڑے ہوئے جسم کو اس پر سے اتارا۔ اس کی مدھم سی چلتی ہوئی سانس کو محسوس کیا۔
ٹیلے سے اپنی چادر اٹھائی۔ اس میں لڑکی کو لپیٹا۔ ٹوپی سر پر رکھی۔ پاؤں میں چپل ڈالی۔ درخت کو حسبِ معمول تھپکی دی اور ٹبے سے اتر آیا۔ پھر لاحول پڑھ کر شیطانی خیالات کو دور بھگاتے ہوئے آنکھیں بند کر کے لڑکی کا چادر میں لپٹا جسم کندھے پر ڈالا۔ اس کے اپنے گیلے کپڑے جسم سے چپکے ہونے کی وجہ سے سردی ہڈیوں میں گھسی جا رہی تھی۔
اسی وقت خانقاہ سے “ا للہ اکبر” کی صدا بلند ہوئی۔ وہ ایک پل کو حیران ہوا۔ درویش خانقاہ کے باہر ایک اونچی جگہ کھڑا اذان دے رہا تھا۔ وہ لڑکی کا جسم کندھے پر لئے حتی الامکان تیز قدموں سے خانقاہ کی جانب چل دیا۔
جب تک وہ خانقاہ کے قریب پہنچا، درویش اذان دے کر اندر جا چکا تھا۔ اس نے ایک لمحے کو خانقاہ سے باہر کھڑے رہ کر کچھ سوچا، پھر اللہ کا نام لے کر اندر داخل ہو گیا۔
پہلے کمرے کا دروازہ بند تھا۔ وہ ایک پل کو اس کے باہر رکا۔ اندر سے کسی کے ہلکی آواز میں قرات کرنے کی آواز ا رہی تھی۔ شاید درویش نماز پڑھ رہا تھا۔
اس نے دوسرے کمرے کا رخ کیا جس کا دروازہ کھلا تھا۔ باہر ہلکا ہلکا اندھیرا پھیل چکا تھا۔ کمرے کی واحد کھڑکی سے آتی ہوئی میلیجلی سی روشنی کمرے کا اندھیرا دور کرنے کی اپنی سی کوشش کر رہی تھی۔ اس نے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر کمرے کے ماحول کو محسوس کیا۔ چند لمحے بُت بنا کھڑا رہا۔
پھر جب اس کی آنکھیں نیم اندھیرے میں دیکھنے لگیں تو وہ قدم قدم آگے بڑھا۔ کمرے کی بائیں دیوار کے ساتھ بچھی بان کی چارپائی پر لڑکی کو ڈالا اور دو قدم پیچھے ہٹ کر کھڑا ہو گیا۔ اس کا سانس اعتدال پر آتے آتے دو تین منٹ گزر گئے۔ ل
لڑکی پر ایک طائرانہ نظر ڈال کروہ آہستہ سے پلٹا۔ اس کا ارادہ تھا کہ درویش سے جا کر ملے اور اسے ساری بات بتا کر اس صورتحال میں اس سے مدد مانگے۔
ابھی وہ دو ہی قدم چلا تھا کہ رک گیا۔ کمرے میں اچانک ہی روشنی کی ایک لہر در آئی تھی۔ اس نے ٹھٹک کر دیکھا۔ درویش کمرے کے دروازے میں جلتا ہوا چراغ ہاتھ پر رکھے کھڑا اسے عجیب سی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
” بابا۔ آپ۔۔۔ “
حافظ عبداللہ نے اسے دیکھ کر کہنا چاہا۔
“شش۔۔۔ “
درویش نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے بولنے سے روک دیا اور آگے بڑھ آیا۔
” خاموش۔ “
وہ دبی آواز سے بولا۔
” کمرہ امتحان میں بولنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ “
“کمرہ امتحان؟”
حافظ عبداللہ نے حیرت سے کہا۔
“ہاں۔ “
درویش نے چراغ اسے تھما دیا۔
” یہ لے۔ اسے طاق میں رکھ دے۔ “
“بابا۔ “
حافظ عبداللہ نے چراغ اس کے ہاتھ سے لے لیا۔ وہ اب بھی حیرت زدہ تھا۔
“کیسا امتحان؟ “
“یہ۔۔۔ “
درویش نے چارپائی بے سدھ پر پڑی لڑکی کی جانب اشارہ کیا۔
” یہ امتحان ہی تو ہے جس میں تو نے خود کو ڈال لیا ہے۔ “
“یہ۔۔۔ یہ تو۔۔۔ سیلاب کے پانی میں بہتی چلی آ رہی تھی۔۔۔ میں تو اسے بچا کر یہاں اٹھا لایا ہوں۔ “
حافظ عبداللہ نے اسے بتایا۔
“اچھا کیا۔ بہت اچھا کیا۔ “
درویش نے ایک کونے میں پڑا کمبل اٹھا کر اس کی طرف بڑھایا کہ لڑکی کو اوڑھا دے۔
” نیکی کی ہے ناں۔ اب بھگت۔ نیکی کرنا اتنا آسان ہوتا تو ساری دنیا کرتی پھرتی۔ نیکی کرنا اس کی مشیت کے تابع ہونا ہے حافظ۔ تابعدار ہونا چاہا ہے ناں تو نے؟ ایک بار سوچ لے۔ اچھی طرح۔ ابھی وقت ہے کہ تو آزمائش میں پڑے بغیر نکڑ کی گلی سے نکل جائے۔
کچھ دیر اور گزر گئی تو یہ راستہ بند ہو جائے گا۔ پھر تو چاہے نہ چاہے، تجھے امتحان دینا پڑے گا۔ نتیجہ کیا نکلے گا؟ نہ تو جانتا ہے نہ میں۔ بس وہ جانتا ہے۔” درویش نے چھت کی جانب انگلی اٹھا دی۔
” وہ۔۔۔ جو سب جانتا ہے اور کچھ نہیں بتاتا۔ جسے بتاتا ہے اسے گونگا بہرہ کر دیتا ہے۔ اندھا بنا دیتا ہے۔ ابھی وقت ہے۔ سوچ لے۔ سوچ لے۔ “
درویش نے اپنی بے پناہ چمک دیتی آنکھوں سے اس کی جانب دیکھا۔
“بابا۔ “
حافظ نے چراغ طاق میں پڑے قرآن پاک کے چند بوسیدہ نسخوں کے پاس رکھا اور کمبل میں لڑکی کا بدن خوب اچھی طرح لپیٹ کر درویش کی جانب پلٹا۔
“میں کچھ نہیں سمجھا۔ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ “
“کھل کر سمجھاؤں تجھے؟”
اچانک درویش کا لہجہ جھڑکی دینے کا سا ہو گیا۔
” تو سُن۔ جا۔ اس کو وہیں سیلاب کے پانی میں پھینک آ۔ نیکی ہے ناں۔ اسے اسی دریا میں ڈال آ، جہاں سے نکال کر لایا ہے۔ نیک نہ بن۔ خطا کار بنا رہ۔ جان بچی رہے گی۔ نیک بنے گا تو امتحان میں ڈال دے گا تجھے۔۔۔ “
اس نے سسکی لی۔
“بڑا ڈاہڈا ہے وہ۔ رعایتی نمبر آسانی سے نہیں دیتا۔۔۔ ” پھر جیسے وہ جھلا گیا۔
“مگر میں تجھے یہ سب کیوں سمجھا رہا ہوں ؟ کیوں تیرا اور اپنا وقت خراب کر رہا ہوں ؟ جو تیرے جی میں آئے کر میاں۔ “
اس نے حافظ کے آگے ہاتھ جوڑ دئیے۔
” کل کو تو اس کے سامنے میرے خلاف گواہی دے دے گا کہ میں نے تجھے نیکی کرنے سے روکا تھا۔ نہ بابا نہ۔ تو اپنی مرضی کر۔ تو جانے اور وہ۔ مجھے معاف رکھ۔ “
وہ بڑبڑاتا ہوا جانے کے لئے پلٹا۔
“بابا۔ “
حافظ عبداللہ لپک کر اس کے راستے میں آ گیا۔
” مجھے کس الجھن میں ڈال کر جا رہے ہیں آپ؟ میں۔۔۔ میں۔۔۔ اس کا کیا کروں ؟”
اس نے بازو دراز کر کے لڑکی کی جانب اشارہ کیا جو ہولے سے کسمسائی تھی۔
درویش ایک بار ساری جان سے لرز گیا۔ پھر اس نے بڑی اجنبی نظروں سے حافظ عبداللہ کی جانب دیکھا۔ حافظ ان نظروں سے گھبرا کر رہ گیا۔ عجیب سی سردمہری تھی ان میں۔
“میں نے کہا تھا کہ وقت گزر گیا تو امتحان شروع ہو جائے گا تیرا۔ “
درویش نے بڑے گمبھیر لہجے میں کہا۔
” گھنٹی بج چکی۔ پرچہ حل کرنے کا وقت شروع ہو گیا۔ اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ تو نے باتوں میں وہ سارا وقت گزار دیا جو تجھے بھاگ جانے کے لئے دیا گیا تھا۔
نکڑ کی گلی بند ہو گئی۔ اب تو جس دروازے سے کمرہ امتحان میں داخل ہوا تھا اسی سے باہر جائے گا مگر اس وقت جب پرچہ حل کر لے گا۔ خالی کاغذ دے کر جانا چاہے گا تو میں نہیں جانے دوں گا۔ ” درویش نے کسمسا کر کراہتی لڑکی کی جانب اشارہ کیا۔
“یہ پرچہ تجھے ہی حل کرنا ہے۔ میں دعا کروں گا کہ تجھے اس میں زیادہ سے زیادہ رعایت دی جائے۔ اب وہ مانے یا نہ مانے، یہ اس کی مرضی۔ “
وہ چل دیا۔
“بابا۔ “
حافظ اس کے پیچھے لپکا۔
” مجھے مسجد جانا ہے۔ وہاں کسی کو پتہ نہیں کہ میں کہاں ہوں اور کس کام میں الجھ گیا ہوں۔۔۔ اس کے وارثوں کا بھی کوئی پتہ نہیں۔ یہ کون ہے؟ کہاں سے بہتی آئی ہے؟ اسے یوں کیسے اپنے پاس رکھ سکتے ہیں ہم؟”
“ہم نہیں۔ “
درویش نے ہاتھ اٹھا کر اسے ٹوک دیا۔
“تم۔۔۔ صرف تم۔ میرا اس سے کیا تعلق؟ “
وہ بد لحاظی سے بولا۔
“مگر بابا۔ رات بھر میں اس کے ساتھ کیسے۔۔۔ یہاں۔۔۔ اکیلا۔ “
حافظ ہکلا کر رہ گیا۔
“یہی تو میں تجھے سمجھا رہا تھا اس وقت۔ “
درویش ملامت کے سے انداز میں بولا۔
” اسی لئے تو میں نے کہا تھا کہ اسے جہاں سے لایا ہے وہیں ڈال آ۔ خواہ مخواہ مصیبت میں نہ پڑ۔۔۔ مگر ۔۔۔ “
“تمہارا مطلب ہے بابا۔ میں اسے واپس سیلاب کے پانی میں پھینک آتا؟”
حافظ عبداللہ نے حیرت سے اس کی جانب دیکھا۔
“ہاں۔ “
درویش سر جھٹک کر بولا۔
” یہی مطلب تھا میرا۔ مگر تو نے کج بحثی میں سارا وقت گنوا دیا۔ اب بھگت۔ “
” بابا۔ تم جانتے ہو اس سے کیا ہوتا؟”
حافظ عبداللہ اب بھی حیران تھا۔
“کیا ہوتا؟”
درویش نے لاپرواہی سے پوچھا۔
“یہ مر جاتی۔ “
“بچانے والے کی کیا مرضی ہے، یہ تو کیسے جانتا ہے؟ اگر اسے بچانا ہوتا تو وہ اسے تیرے واپس پانی میں پھینکنے پر بھی بچا لیتا۔ “
“بالکل ٹھیک۔ “
حافظ کا لہجہ اچانک بدل گیا۔
“مگر بابا۔ پھر میں اسے کیا منہ دکھاتا۔ اپنے اس ظلم کا کیا جواز پیش کرتا اس کے سامنے، جو میں اس مظلوم کی جان پر کرتا۔ “
“تو نہ پیش کر جواز۔ اب بھگت۔ اس اندھیری رات میں ، اس کے ساتھ اکیلا رہ اور اس کی دیکھ بھال کر۔ اس کی خدمت کر۔ اسے زندہ رکھنے کی کوشش کر۔ آزمائش کے کمرے میں بیٹھ کر پرچہ حل کر۔ اگر صبح تک تو اپنے آپ سے بچ گیا تو میں تجھ سے آن ملوں گا ورنہ۔۔۔ “
اس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔
” آپ کہاں جا رہے ہیں بابا؟”
حافظ نے گھبرا کر پوچھا۔
“پتہ نہیں۔ مگر یہاں بہرحال نہیں رہوں گا۔ “
درویش اس کی جانب دیکھ کر عجیب سے انداز میں بولا۔
” یہاں رہا تو تجھے میرا آسرا رہے گا۔ حوصلہ رہے گا کہ تو اکیلا نہیں ہے۔ میں تیرے آس پاس ہوں۔ تجھے میرے یہاں ہونے کی شرم مارے گی۔ تو جو کرنا چاہے گا، اس میں میرے یہاں ہونے کا خیال رکاوٹ بن جائے گا۔ پھر تو موقع سے فائدہ نہ اٹھا سکے گا۔ اور میں تیرے کسی بھی فعل میں اگر مدد نہیں کرنا چاہتا تو تیرے کسی موقع سے فائدہ اٹھانے میں حائل ہونے کا بھی مجھے کیا حق ہے؟”
“بابا۔ “
حافظ نے کہا اور چراغ کی مدھم سی روشنی میں گردن گھما کر لڑکی کی جانب دیکھا جو ایک بار پھر بالکل بے سدھ ہو گئی تھی۔ شاید کمبل کی گرمی نے اسے سکون پہنچایا تھا۔ پھر وہ درویش کی جانب متوجہ ہوا۔
“اب جو ہو سو ہو۔ اب مجھے مجبوراً یہاں رکنا پڑے گا۔ “
“تو رک۔ میں کب نکال رہا ہوں تجھے۔ ہاں ایک پل ٹھہر۔”
درویش کمرے سے نکل گیا۔ ذرا دیر بعد وہ لوٹا تو اس کے ایک ہاتھ میں چنگیر اور دوسرے ہاتھ میں ایک کھیس اور تکیہ دبا ہوا تھا۔
” یہ لے۔ اس میں تیرے اور اس کے لئے کھانا ہے اور یہ تیرا رات گزارنے کا سامان ہے۔ اکڑ کر مر گیا تو میں اسے کیا جواب دوں گا؟”
حافظ عبداللہ نے اس کے ہاتھ سے دونوں چیزیں لے لیں۔
“جا رہا ہوں۔ اب تیرے اور اس کے سوا یہاں اور کوئی نہیں ہے۔ “’
“ہے بابا۔ “
حافظ عبداللہ مسکرایا اور کھیس اور تکیہ دیوار کے ساتھ فرش پر ڈال دیا۔
“جس کی تو بات کر رہا ہے، میں اس کی بات نہیں کر رہا۔ وہ تو ہر کہیں ہے۔ بس ہمیں اس کا یقین نہیں آتا۔” درویش پلٹ گیا۔
“صبح ملاقات ہو گی۔ “
“انشاءاللہ۔ “
حافظ کے لہجے میں نجانے کیا تھا کہ درویش نے مڑ کر اس کی جانب دیکھا۔
“انشاءاللہ۔ “
ہولے سے اس نے کہا اور دروازے سے نکل گیا۔
خالی دروازے کو چند لمحوں تک دیکھتے رہنے کے
بعد حافظ عبداللہ آہستہ سے لڑکی کی جانب پلٹا۔ چراغ کی زرد اور تھرتھراتی روشنی میں اس نے دیکھا کہ وہ چارپائی پر بالکل چت پڑی گہرے گہرے سانس لے رہی تھی۔ اس کے ہونٹوں کی سرخی لوٹ رہی تھی۔ گیلے بالوں کی لٹیں چہرے پر بکھری ہوئی تھیں
حافظ عبداللہ نے گھبرا کر اس کی طرف سے نگاہیں پھیر لیں۔ شیطانی خیالات سے نجات پانے کے لئے تین بار لاحول پڑھ کر سینے پر پھونک ماری اور آگے بڑھ کر چنگیر اس الماری نما کھڈے میں رکھ دی جو طاق کے ساتھ بنا ہوا تھا۔
کھیس اور تکیہ اٹھاتے ہوئے اچانک ہی اسے سردی کا احساس ہوا۔ اس نے کچھ سوچا۔ پھر دونوں چیزیں اینٹوں کے فرش پر ڈال کر کمرے سے نکل آیا۔ دونوں کمرے خالی تھی۔ درویش واقعی کہیں جا چکا تھا۔
مزار سے باہر ایک طرف لگے ہینڈ پمپ کی طرف جاتے ہوئے اس نے آسمان پر نگاہ دوڑائی۔ تارے نکل رہے تھے۔ دل ہی دل میں اس نے چاند کی تاریخ کا حساب لگایا۔ گزشتہ دن میں ربیع الاول کی گیارہ تاریخ تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ بارہ ربیع الاول کی شب شروع ہو چکی تھی۔ آسمان صاف تھا اور چاند ابھرنے میں ابھی کچھ وقت باقی تھا۔
انہی خیالات میں ڈوبا وہ ہینڈ پمپ پر پہنچا۔ گیلا کُرتا اور بنیان اتار کر اچھی طرح نچوڑ کر دوبارہ پہننے کے بعد اس نے ایک نظر مزار کے اندرونی دروازے پر ڈالی۔ پھر وہاں سے ہٹ گیا۔ مزار کے پیچھے جا کر اس نے جلدی سے شلوار اتاری۔ خوب اچھی طرح نچوڑ کر پانی نکالا اور جھاڑ کر پہن لی۔
ہولے ہولے چلتا ہوا ہینڈ پمپ پر آیا۔ ہتھی کو چھوا تو جسم میں کپکپی سی دوڑ گئی۔ تاہم اس نے حوصلے سے کام لیا اور ہتھی پر زور ڈال دیا۔ تھوڑی دیر تک پانی نکلنے دیا۔ پھر دوسرا ہاتھ نکلتے ہوئے پانی کے نیچے کیا تو پانی کم ٹھنڈا محسوس ہوا۔
تھوڑا پانی اور نکالنے کے بعد اس نے “بسم اللہ الرحمٰن الرحیم” کہہ کر وضو شروع کر دیا۔ فارغ ہوا تو اس کے دانت بج رہے تھے۔ گیلی ٹوپی کو سر پر جماتے ہوئے وہ کانپتا ہوا اندر کو چلا۔ کمرے میں داخل ہوا تو لڑکی بدستور اسی حالت میں چت پڑی سو رہی تھی، جیسے وہ چھوڑ گیا تھا۔
اس نے اس کے چہرے پر ایک نظر ڈالی اور جوتی دروازے میں اتار کر کونے میں کھڑی کھجور کی چٹائی کی طرف بڑھا۔ اسے کھولا۔ جھاڑا اور چارپائی کے مقابل دیوار کے ساتھ فرش پر بچھا دیا۔
پھر کھیس اٹھایا اور کس کر اس کی بکل مار لی۔ اسی وقت کھلے دروازے سے ہوا کا ہلکا سا جھونکا اندر داخل ہوا۔ ٹھنڈک کو کمرے کے ماحول کے سپرد کیا اور ناپید ہو گیا۔ پلٹ کر حافظ عبداللہ نے دروازہ بھیڑ دیا۔
________________________________________

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: