Ishq Ka Qaaf Novel By Sarfaraz Ahmad Rahi – Last Episode 25

0
عشق کا قاف از سرفراز احمد راہی – آخری قسط نمبر 25

–**–**–

“اگر آپ کو علم ہے تو بتائیے۔ شاید ہمیں وسطی علاقے کی طرف جانا ہی نہ پڑے۔ “
طاہر نے نرمی سے کہا۔
“سائیاں والا کا رہائشی ہے یہ خادم حسین۔ سائیاں والا سے تیسرا گاؤں ہے نور پور۔ “
نصیر نے اپنے ایک ساتھی کی طرف اشارہ کیا۔
“اس علاقے کے بارے میں یہ زیادہ بہتر بتا سکتا ہے۔ “
طاہر نے اس کی طرف دیکھا تو وہ بولا۔
” نور پور کا گاؤں یہاں سے پیدل سات گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ آج کل وہاں سیلاب کی وجہ سے ایک قدرتی نہر بن گئی ہے اس لئے کشتیاں چلنے لگی ہیں۔ ایک گھنٹے کے سفر کے بعد ہم اس عارضی پتن پر پہنچ جائیں گے جہاں سے سائیاں والا اور نور پور کے لئے کشتی مل جائے گی۔ “
“بس۔۔۔ ” اچانک طاہر کے لہجے میں جوش بھر گیا۔
“تو سمجھ لیجئے کہ ہمیں نور پور جانا ہے۔ راستہ بدل لیجئے اور اس پتن کی طرف چل دیجئے۔ “
راستہ بدل دیا گیا۔ ریحا اور آدیش، طاہر کے لہجے سے کسی خاص بات کا اندازہ تو لگا رہے تھے مگر وہ بات کیا تھی؟ یہ انہیں کیا معلوم۔
ان سے ذرا پیچھے رہ کر طاہر نے جیب سے موبائل نکالا اور دھڑکتے دل کے ساتھ گھر کا نمبر ملایا۔ اتنے دنوں بعد وہ فون کر رہا تھا اور وہ بھی کیا بتانے کے لئے۔ اس کا دل بھر آیا۔ اس نے دعا کی کہ فون صفیہ نہ اٹھائے۔ اس کی اللہ نے شاید نزدیک ہو کر سنی۔
دوسری طرف سے بیگم صاحبہ نے فون اٹھایا۔
“ہیلو۔ امی۔ میں طاہر بول رہا ہوں۔ “
اس نے لہجے پر قابو پاتے ہوئے کہا۔
“طاہر۔ ” بیگم صاحبہ ایک دم ہشاش بشاش ہو گئیں۔
” کیسا ہے بیٹے۔ تو نے اتنے دن فون کیوں نہیں کیا؟ یہاں فکر کے مارے سب کی جان عذاب میں آئی ہوئی ہے۔ “
“میں بالکل ٹھیک ہوں امی۔ آپ میری بات دھیان سے سنئے۔ “
اس نے حلق تر کرتے ہوئے بمشکل کہا۔
“ٹھہر میں صفیہ کو بلاتی ہوں۔۔۔ “
“نہیں امی۔ رکئے۔ اسے مت بلائیے۔ میں جو کہہ رہا ہوں اسے غور سے سنئے۔ “
طاہر نے جلدی سے کہا۔
” میں نے اسی لئے موبائل پر فون نہیں کیا کہ مجھے صرف آپ سے بات کرنا ہے۔ “
“خیر تو ہے ناں بیٹا؟”
وہ تشویش سے بولیں۔ گھبراہٹ ان کے لہجے میں نمایاں تھی۔
” آپ ڈاکٹر ہاشمی اور صفیہ کو لے کر نور پور میں بابا شاہ مقیم کے مزار پر پہنچ جائیں۔ ابھی چل پڑیں تو شام تک پہنچیں گے۔ میں آپ سے وہیں ملوں گا۔ “
“مگر طاہر۔ وہاں کیوں بیٹا؟ تو سیدھا گھر کیوں نہیں آ رہا ؟”
وہ بے طرح گھبرا گئیں۔
“میرے کندھوں پر بڑا بوجھ ہے امی۔ “
اس کی آواز بھرا گئی۔
” میں یہ بوجھ لئے گھر تک نہ آ سکوں گا۔ آپ وہیں آ جائیے انکل اور صفیہ کو لے کر۔ “
طاہر نے موبائل آف کیا اور بازو آنکھوں پر رکھ کر سسکیاں بھرنے لگا۔ اس کا دل ایسا رقیق تو کبھی بھی نہ تھا۔ نجانے کیوں آج کل وہ بات بے بات رونے لگتا تھا۔
ایک گھنٹے کا راستہ چالیس منٹ میں طے ہوا۔ عصر اتر رہی تھی جب وہ اس عارضی پتن پر جا پہنچے۔ پتن پر اس وقت بھی خاصے مسافر تھے۔۔ طاہر نے ایک کشتی والے سے خود بات کی۔
“بابا شاہ مقیم تک جانا ہے بھئی۔ چلو گے؟”
” کتنے جی ہیں ؟”
ملاح نے تابوت کی طرف نگاہ اٹھائی۔
“اور اس میں کیا ہے جی؟”
“پانچ جی ہیں اس تابوت سمیت۔ اور اس میں۔۔۔”
طاہر کا حلق درد کر اٹھا۔
“اس میں ایک شہید ہے۔ “
“سو بسم اللہ جی۔ کیوں نہیں چلیں گے۔ آ جائیں جی، آ جائیں۔ “
ملاح نے عقیدت سے کہا اور آگے بڑھ کر نصیر اور خادم حسین کے ساتھ مل کر تابوت کشتی میں رکھوانے لگا۔
چاروں عشاق ان دونوں سے بڑی گرمجوشی سے ہاتھ ملا کر رخصت ہو گئے۔ طاہر اور آدیش اگلے حصے میں جبکہ ریحا تابوت کے پہلو میں بیٹھ گئی۔ ملاح نے جھک کر تابوت کو بوسہ دیا اور پتن پر کھڑے اپنے ساتھیوں کی طرف منہ کر کے بولا۔
“اوئے شیدو۔ گھر پر بتا دینا میں رات دیر سے لوٹوں گا۔ “
“ارے فیقی۔ تو کہاں چل دیا۔ میں ادھر تیری دیہاڑی لگوانے کی بات کر رہا ہوں۔ “
شیدو دو قدم اس کی طرف چلا۔
“میرا دیہاڑا لگ گیا ہے رے۔ ” فیقا ہنسا۔
” ایسا دیہاڑا جس میں نفع ہی نفع ہے۔ نقصان ہے ہی نہیں جانی۔ اللہ راکھا۔ “
اس نے کشتی پانی میں دھکیل دی۔ پھر اچھل کر کشتی میں سوار ہوا اور چپو سنبھال لئے۔ سیلاب کا پانی خاصا کم ہو چکا تھا مگر اب بھی کشتی چلنے کے لئے کافی تھا۔
ریحا نے تابوت پر سر رکھ کر آنکھیں بند کر لیں۔ آدیش پہلو کے بل نیم دراز ہو گیا اور طاہر نے چھل چھل کرتے پانی پر نگاہیں جما دیں۔ وہ اپنے اس فیصلے پر غور کر رہا تھا جس کے تحت اس نے اچانک بابا شاہ مقیم کے مزار پر، درویش کے پاس جانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
اسے اب تک یہ پتہ نہ چل سکا تھا کہ وہ کون سا احساس تھا جو اس فیصلے کے روپ میں ایک دم اس پر حاوی ہو گیا تھا اور اس نے سوچے سمجھے بغیر اس پر عمل کر ڈالا۔
شام ڈھل چکی تھی نیم اندھیرے جب نور پور کا وہ ٹبہ طاہر کو دور سے دکھائی دے گیا جہاں حافظ عبداللہ روزانہ آ کر منزل کیا کرتا تھا۔
اور ایک عجیب بات اور نظر آئی کہ بابا شاہ مقیم کا مزار روشنیوں میں ڈوبا ہوا تھا۔ بجلی آ گئی تھی وہاں۔ اس نے ملاح کو ٹبے کی طرف جانے کو کہا۔ پھر ٹبے کو غور سے دیکھا تو اسے وہاں کچھ ہلچل محسوس ہوئی۔ اس کا دل سینے میں زور سے دھڑکا۔ وہاں کوئی موجود تھا۔ مگر کون؟ اس کا دل گواہی دے رہا تھا کہ وہاں جو کوئی بھی ہے، اس کے لئے اجنبی نہیں ہے۔
کشتی جونہی ٹبے کے قریب پہنچی، اس پر سب روشن ہو گیا۔ وہ درویش ہی تو تھا جو ٹبے سے اتر کر پانی کے کنارے کھڑا باہیں پسارے اسے پکار رہا تھا۔
“پگلی۔ آ گیا تو۔۔۔ لے آیا میرے دولہے کو۔ ارے دلہن بھی ہے ساتھ میں۔ “
وہ جیسے حیرت سے بولا۔
آدیش اور ریحا اس کی باتوں پر حیران ہو رہے تھے۔ طاہر سر جھکائی، دانت بھینچے اپنے آنسو ضبط کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ نجانے کیوں اس کا جی چاہ رہا تھا وہ چیخ چیخ کر روئے۔ یوں روئے کہ جیسے اسے چپ کرانے والا کوئی نہیں رہا۔
ملاح نے کشتی ٹبے کے پاس روکی۔ پانی میں اترا۔ رسہ کھینچ کر کشتی کنارے پر لگائی۔ طاہر نے کنارے پر قدم رکھا تو درویش نے اسے باہوں میں بھر لیا۔ اس کا ماتھا چوم لیا۔
“نہ رے۔ روتا کیوں ہے۔ پگلے کا پگلا ہی رہا۔”
وہ اس کا َچہرہ ہاتھوں میں تھام کر بولا۔
“ارے زندوں کے لئے رونا گناہ ہے۔ جانتا نہیں کیا؟”
طاہر نے اثبات میں سر ہلایا اور ہچکیاں لے کر رو دیا۔ اس کا دل بس میں تھا ہی کب جو وہ درویش کی بات سہہ پاتا۔
“بس بس۔ آ، اسے کشتی سے اتاریں۔ وہ انتظار کر رہا ہے ہمارا۔ “
درویش نے اس کا بازو تھاما اور ملاح کے پاس پہنچا، جو ان کا منتظر کھڑا تھا۔
“لا بھئی نصیباں والیا۔ ہماری امانت اتار دے۔ “
درویش نے کہا تو ملاح نے “بسم اللہ” کہہ کر طاہر اور درویش کے ساتھ مل کر تابوت کشتی سے اتار کر ٹبے پر رکھ دیا۔ ریحا کو بازو سے لگائے کھڑا آدیش خاموشی سے سب کچھ دیکھتا رہا۔
طاہر نے خود کو سنبھالا۔ جیب سے پرس نکالا کہ ملاح نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
“سوہنیو۔ ساری کمائی خود ہی کر لو گے۔ کچھ ہمیں بھی کما لینے دو۔ “
طاہر نے ملاح کو حیرت سے دیکھا۔
“ٹھیک کہتا ہے یہ پگلا۔ “
درویش نے ملاح کا شانہ تھپکا۔
” جا بھئی جا۔ تیری منظوری ہو گئی۔ جا شاواشی۔ موجاں مان۔ دیہاڑا لگایا ہے تو نے دیہاڑا۔ جا بال بچے میں جا۔ “
ملاح انہیں دعائیں دیتا ہوا رخصت ہو گیا۔ تب ایک دم طاہر کو احساس ہوا کہ ریحا اور آدیش بالکل چپ کھڑے ہیں۔
“بابا۔ یہ۔۔۔ ” طاہر نے ان کے بارے میں بتانا چاہا۔
“کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ آ جا۔ ادھر کتنے ہی لوگ کب سے تم سب کا انتظار کر رہے ہیں۔ آ جا۔ ” درویش نے کہا۔ پھر ریحا کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
” سسرال آ گئی ہے دھی رانی۔ “
اور نجانے کیا ہوا کہ چیخیں مار کر روتی ہوئی ریحا درویش کے سینے سے لگ گئی۔ اس کی ہچکیاں بتاتی تھیں کہ کتنے آنسو تھے جو اس نے سینے میں روک رکھے تھے۔ آج بند ٹوٹا تو سب کچھ بہا لے گئی۔ صبر، قرار، چین۔ سب کچھ۔
“بس بس۔ میری دھی بس۔ سارے آنسو ابھی بہا دے گی کیا؟ انہیں سنبھال کے رکھ۔ ساری زندگی پڑی ہے۔ کہیں کم نہ پڑ جائیں۔ “
وہ اس کا سر تھپکتا رہا۔ آخر ریحا کو سکون آیا۔ تب درویش نے اسے الگ کیا اور آدیش کی طرف دیکھا۔
“تو بڑا قسمت والا ہے اللہ والیا۔ چل۔ آ جا۔ لے چل میرے دولہا کو پنڈال میں۔ آ جا۔ “
نم دیدہ آدیش نے طاہر کے ساتھ مل کر سرمد کا تابوت اٹھایا اور بابا شاہ مقیم کے مزار کی طرف چل پڑی۔ درویش سب سے آگے اور ریحا ان سب کے پیچھے سر جھکائے چل رہے تھے۔
مزار کے پاس پہنچے تو طاہر کے قدم من من کے ہو گئے۔ اس سے چلنا مشکل ہو گیا۔ آنکھیں ایک بار پھر دھندلا گئیں۔ ہونٹ دانتوں میں دبانے پر بھی پھڑکتے رہے۔ اس کا حلق آنسوؤں سے لبالب ہو گیا۔ درد کی لہر خار بن کر سینہ چیرنے لگی۔
مزار کے باہر وہ سب کھڑے تھے۔ بے حس و حرکت۔ مجسموں کی طرح ایستادہ۔ ایک دوسرے کو سنبھالا دینے کی کوشش کرتے ہوئی۔ مگر یہ بتانے کی ضرورت کسے تھی کہ وہ ایک لٹے ہوئے قافلے کے مسافر تھی۔
سرمد کا تابوت مزار کے سامنے برگد کے درخت تلے رکھ دیا گیا۔ وہاں تک مزار کے دروازے پر لگا بلب روشنی دے رہا تھا۔ ارد گرد کی ہر شے صاف دکھائی رہی تھی۔ طاہر تابوت رکھ کر سیدھا ہوا تو ڈاکٹر ہاشمی لرزتے کانپتے اس کے شانے سے آ لگے۔
“لے آئے میرے سرمد کو۔ “
ان کے لبوں سے کپکپاتی ہوئی آواز نکلی۔ طاہر نے تڑپ کر انہیں اپنے سینے میں چھپا لیا۔ قابلِ رشک صحت کے مالک ڈاکٹر ہاشمی کا جسم ایک بیمار بچے کا سا ہو رہا تھا۔
“انکل۔۔۔ ” وہ ضبط کھو بیٹھا۔
“رو لو۔ خوب رو لو۔ ” درویش نے ان کے قریب آ کر کہا۔ ” یہ آنسو محبت کے ہیں۔ دُکھ کے ہیں تو خوب رو لو لیکن اگر پچھتاوے کے ہیں تو ان کو روک لو۔ گناہ بن جائے گا تمہارا یہ رونا۔ میرے دولہے کے لئے بوجھ نہ بنانا ان آنسوؤں کو۔ “
“نہیں بابا۔ “
ڈاکٹر ہاشمی طاہر کے سینے سے الگ ہو گئے۔
” پچھتاوا کیسا؟پھر بھی اولاد تو ہے ناں۔ “
“ہاں۔ اولاد تو ہے۔ “
درویش نے ڈاکٹر ہاشمی کی آنکھوں میں دیکھا۔
” مگر کیسی اولاد ہے بابا، جس نے تیرا سر دونوں جہانوں میں فخر سے اونچا کر دیا۔ ارے کیسا نصیبوں والا ہے تو۔ کچھ پتہ ہے تجھے؟ آنسو بہا مگر اس خوشی پر بہا کہ اللہ نے، اس کے حبیب نے تیری اولاد کو اپنے لیے چُن لیا۔ “
ڈاکٹر ہاشمی اثبات میں سر ہلاتے ہوئے آنکھیں خشک کرنے لگے۔ اتنے ہی دنوں میں ان کی کمر جھک گئی تھی۔ وہ ایک دم بوڑھے ہو گئے تھے۔
اب اس کے سامنے بیگم صاحبہ اور صفیہ کھڑی تھیں۔ بیگم صاحبہ سفید لباس اور سفید چادر میں کوئی پاکیزہ روح لگ رہی تھیں۔ اسے سینے سے لگا کر دل کی پیاس بجھائی۔ ماتھا چوما اور آنسو اپنے پونچھنے لگیں۔
“صفو۔ “
اس نے روتی ہوئی صفیہ کی جانب دیکھا۔ وہ بلک کر اس کے سینے سے لگ گئی۔
یہ آنسو کیا کچھ نہ کہہ رہے تھے؟ دونوں سن رہے تھے۔ سمجھ رہے تھے۔
“طاہر صاحب۔ “
ایک آواز سن کر اس نے صفیہ کو خود سے الگ کیا اور گردن گھمائی۔ حافظ عبداللہ، سکینہ کے ساتھ اس کے بائیں طرف کھڑا تھا۔ طاہر نے اسے بھی گلے لگایا۔ سکینہ سر جھکائے چپ چاپ کھڑی رہی۔ حافظ عبداللہ نے اپنا لنجا ہاتھ بڑھایا تو طاہر نے اسے دونوں ہاتھوں میں تھام کر چوم لیا اور آنسو بہاتی سکینہ نجانے کیوں مسکرا پڑی۔
درویش نے سرمد کا تابوت، حافظ عبداللہ کے ساتھ مل کر اٹھایا اور آگے لا کر مزار کے پاس پوری طرح روشنی میں رکھ دیا۔ طاہر کے وضو کر کے لوٹ آنے پر درویش نے تابوت کے سرہانے کھڑے ہو کر اس کی جانب دیکھا جو اس سے کچھ دور رک گیا تھا۔
“پگلے۔ تو نے مجھ سے عشق کے قاف کے بارے میں پوچھا تھا۔ یاد ہے ناں ؟ “
” ہاں بابا۔ ” طاہر نے اس کی جانب دیکھا۔
“تو لی۔ آج عشق کے قاف سے بھی آشنا ہو جا۔ ” درویش نے آنکھیں بند کر لیں۔
“عشق کا قاف۔۔۔ تجھے یاد ہے پگلے۔ سرمد کے آخری الفاظ کیا تھے؟”
“ہاں بابا۔ “
طاہر نے آنکھیں بند کر کے جیسے کچھ یاد کرنا چاہا۔
“تو دہرا ذرا ان کو۔ “
درویش کی آنکھیں بھی بند ہو گئیں۔ حافظ عبداللہ، آدیش اور ڈاکٹر ہاشمی خاموشی بھری حیرت مگر پورے دھیان سے ان کی باتیں سن رہے تھے۔ سکینہ، صفیہ اور ریحا کا بھی یہی حال تھا۔
” اس نے کہا تھا۔ قل ھواللہ احد۔۔۔ “
“تو عشق کا قاف سمجھ میں نہیں آیا اس وقت تجھے؟”
ایک دم درویش نے آنکھیں کھول دیں۔
“بابا۔۔۔ “
طاہر کا اندر باہر جیسے روشن ہو گیا۔ اس نے ایسی نظروں سے درویش کو دیکھا جن میں حیرت کے ساتھ ساتھ ادراک کی لپک بھی تھی۔
“ہاں رے۔ “
درویش کے ہونٹوں پر بڑی پُراسرارمسکراہٹ تھی۔
” عشقِ مجازی جب انسان کا ہاتھ عشقِ حقیقی کے ہاتھ میں دیتا ہے تو شہادت مانگتا ہے اس کے ایک ہونے کی۔ اس کے احد ہونے کی۔ اس کے لاشریک ہونے کی۔ جانتا ہے کیوں پگلے؟”
درویش نے اس کی جانب مستی بھری نگاہوں سے دیکھا۔
“کیوں بابا؟”
طاہر نے یوں پوچھا، جیسے کسی سحر میں گرفتار ہو۔ اس کی آواز میں عجیب سا کیف چھلک رہا تھا۔
“اس لئے کہ عشق کی انتہا ہے عشق کا قاف۔ وہ جو عشق کا سب سے پہلا مبتلا ہے اس نے اپنے حبیب سے اپنے ہونے کی، اپنے احد ہونے کی، اپنے واحد ہونے کی شہادت چاہی اور کہا۔
“قل (کہہ دے)۔ “
حبیب نے پوچھا۔ “کیا کہہ دوں ؟”
محب نے فرمایا۔
“قل ھو اللہ احد۔۔۔ کہہ دے شہادت دے کہ اللہ ایک ہے۔”
حبیب نے شہادت دی اس کی وحدانیت کی۔ اس کے لا شریک ہونے کی۔ اس کے احد ہونے کی۔ اس کے خالق ہونے کی۔ اس کے معبود ہونے کی۔ اس کی وحدانیت کی گواہی دینا اس کے حبیب کی سب سے پہلی سنت ہے۔
پھر جب اس نے آدم کو بنایا تو اس میں عشق کا یہ جذبہ سب سے پہلے ودیعت کیا۔ عشق۔۔۔ اسی خالقِ واحد کی سنت ہے جسے جو اختیار کرتا ہے، اسے پہلے عشقِ مجازی کی سیڑھی چڑھنا پڑتی ہے۔ عشق کے عین یعنی عبادت، عجز اور عبودیت کے بعد عشق کے شین یعنی شک کی باری آتی ہے۔
تب بندے کو سمجھایا جاتا ہے کہ اپنے خلوص میں ، اپنے جذب میں ، اپنے عشق کی انتہا کے بارے میں ہر وقت اس شک میں مبتلا رہے کہ ابھی اس میں کچھ کمی ہے۔
اس شک سے اپنے عشق کو مہمیز کرتا رہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جس سے عشق کیا جاتا ہے اس کی توجہ پانے کے لئے، اس کی نظر میں جگہ پانے کے لئے اس کی عزیز ترین شے، جس سے وہ خود بے پناہ پیار کرتا ہو، کو اپنا حبیب بنا لیا جائے۔
پگلے۔ یہ وہ پڑاؤ ہے جس کے بعد منزل ہی منزل ہے۔ اللہ کا حبیب جس کے لئے اس نے کائنات یہ کہہ کر بنائی کہ
“اے حبیب۔ اگر ہم نے آپ کو پیدا نہ کرنا ہوتا تو کچھ بھی نہ بناتے”۔
بندہ اس پڑاؤ پر اپنے معبود کے محبوب کے عشق میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اپنے عشق، اپنے جذبے، اپنے خلوص میں کمی کا شک انسان کو اس مقام پر لے جاتا ہے جہاں انسان اپنے اللہ کے حبیب کے عشق میں یوں بے خود ہو جاتا ہے کہ سمیعہ جان ہار کر اسلام کی پہلی شہید ہونے کا اعزاز پاتی ہیں۔
کیوں ؟ اس لئے کہ جان دینا قبول کر لیتی ہیں مگر اپنے حبیب کے بارے میں ناگوار کلمہ زبان پر لانا پسند نہیں کرتیں۔ تب اپنے بندے کو اپنے حبیب کے عشق میں مجذوب دیکھ کر محبوبِ برحق اس کے لئے عشق کا تیسرا پردہ بھی اٹھا دیتا ہے اور۔۔۔۔ اس مقام پر عشق کا قاف نمودار ہوتا ہے۔
تب بلال ” احد احد ” پکارتا ہے۔ اسے تپتی ریت پر لٹایا جاتا ہے۔ دہکتے انگاروں پر ڈالا جاتا ہے۔ ناک میں نکیل دے کر بازاروں میں گھمایا جاتا ہے۔ کانٹوں پر گھسیٹا جاتا ہے۔ کوڑوں سے کھال ادھیڑی جاتی ہے مگر ۔۔۔ اس کے لبوں سے احد احد کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔۔۔
قل ھو اللہ احد۔۔۔ عشق کا قاف نمودار ہوتا ہے تو حسین کے گلے پر خنجر چلتا ہے مگر احد احد کی پکار ہر قطرہ خون سے بلند ہوتی ہے۔ تن سے جدا ہو جاتا ہے مگر سر نیزے پر آویزاں ہو کر بھی قرآن کی تلاوت کرتا ہے۔ یہ تلاوت وہ پیار بھری، محبت بھری گفتگو ہے جس کا عنوان عشق کا قاف ہے۔
عشق کا قاف جس پر نازل ہو جاتا ہے ناں۔ اسے کسی دُکھ، کسی تکلیف کا احساس نہیں رہتا۔ اسے ہر درد میں لذت اور ہر چوٹ میں سرور ملتا ہے۔ عشق کے قاف کی مستی ہی ایسی ہے کہ جسے اپنی باہوں میں لے لے اسے اپنے معبود کے سوا کچھ سوجھتا ہی نہیں۔ اور جسے اس کے سوا کچھ نہیں سوجھتا وہ اس کے حضور مقبول ہونے کے لئے کیا کرے۔ اپنی جان نہ دے دے تو کیا کرے؟”
درویش کے لبوں سے چیخ کی صورت ایک نعرہ مستانہ نکلا اور اس نے اپنا گریبان تار تار کر ڈالا۔
“بابا۔ “
طاہر نے بمشکل پلکیں وا کیں۔ اسے لگ رہا تھا اس کی آنکھوں پر مستی کا، سرور کا، کیف کا بے اندازہ بوجھ ہے جو اس سے اٹھائے نہیں اٹھ رہا۔
“ہاں۔ ” وہ پھر چیخا۔
” وہ اس پر اپنی جان نہ دے دے تو کیا کرے۔ اس سے بڑھ کر اس کے پاس ہے کیا جو وہ اس کی نذر کرے۔ ” وہ روتا ہوا گھٹنوں کے بل گر پڑا۔
“قل ھو اللہ احد۔۔۔ عشق کا قاف۔۔۔ اس کے واحد، محبوبِ اول اور عزیز ترین ہونے کی شہادت۔ اور شہادت لکھی کس سے جائے گی پگلے۔ خون سے۔ اپنے خون سے۔ زبانی کہہ دینا کیا کافی ہوتا ہے؟ نہیں۔ ہر گز نہیں۔ شہادت دی ہے تو اسے لکھا بھی جائے گا اور عشق، اپنے عاشق کو اپنی دلہن تب مانتا ہے جب سرخ جوڑا پہن کر شہادت دی جائے۔ اپنے خون میں ڈبویا ہوا سرخ جوڑا۔
عشق کا قاف۔۔۔ قل ھواللہ احد۔۔۔
اس کی وحدانیت کی گواہی۔ اس کے لاشریک ہونے کی گواہی۔ اس کے محبوب ترین ہونے کی گواہی۔۔۔ عشق کا قاف۔۔۔ عشق کا قاف۔۔۔ عشق کا قاف۔۔۔ ” درویش کہتا ہوا زمین پر سر بسجود ہو گیا۔ ایک لمحے بعد طاہر بھی لہراتا ہو ا اس کے قریب ڈھیر ہو گیا۔
سب لوگ گونگے بہرے بنے چپ چاپ کھڑے دیکھ رہے تھے۔ سن رہے تھے۔ کسی کے جسم و جان میں اتنی ہمت نہ تھی کہ آگے بڑھ کر ان میں سے کسی ایک کو بھی اٹھاتا۔
پھر حافظ عبداللہ نے اپنی جگہ سے حرکت کی۔ وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا ان کے قریب آیا اور جھجکتے جھجکتے درویش کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ پھر گھبرا کر ایک دم اس نے ہاتھ کھینچ لیا۔ اسے لگا جیسے اس نے جلتا ہوا انگارہ چھو لیا ہو۔
اسی وقت درویش کے جسم میں حرکت ہوئی۔ وہ آہستہ سے اٹھا اور اشکوں میں تر اس کا چہرہ دیکھ کر ان کے دل موم کی طرح پگھل گئی۔ ان کا جی چاہا، اس نرم و گداز چہرے کو دیکھتے رہیں۔ تکتے رہیں۔
درویش نے پاس پڑے طاہر کی جانب دیکھا اور اس کی آنکھوں میں بے پناہ پیار امڈ آیا۔ اس نے طاہر کے شانے پر ہاتھ رکھا۔
“پگلے۔ ” دھیرے سے اس نے پکارا۔
“ابھی بات باقی ہے رے۔ اٹھ جا۔”
اور طاہر زمین سے اٹھ گیا۔ اس کا چہرہ۔۔۔ اس کا اپنا چہرہ لگتا ہی نہ تھا۔ عجیب سا نور چھایا ہوا تھا اس پر۔ آنکھیں بڑی مشکل سے کھول کر اس نے درویش کی جانب دیکھا۔
“اٹھ جا رے۔ “
درویش نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کھڑ اکر دیا۔
” آ۔ اب آخری بات سمجھا بھی دوں تجھے اور دکھا بھی دوں۔ “
وہ اس کا ہاتھ تھامے تابوت کے سرہانے آ کھڑا ہوا۔
“تم سب لوگ بھی آ جاؤ۔ کیا اپنے شہید کا، عشق کے قاف کے گواہ کا دیدار نہ کرو گے؟”
درویش نے کہا تو سب لوگ یوں دبے پاؤں چلتے ہوئے تابوت کے پاس آ گئے، جیسے ان کی ذرا سی آہٹ سرمد کے آرام میں خلل ڈال دے گی۔ حافظ عبداللہ، آدیش اور ڈاکٹر ہاشمی درویش کے بالکل سامنے اور سکینہ، ریحا، بیگم صاحبہ اور صفیہ تابوت کے پیروں کی جانب تھیں۔
“وہ جو عشق کا خالق ہے۔ جب اس کا بندہ اس کے عشق کے قاف، اس کی وحدانیت کی گواہی اپنے خون سے دیتا ہے ناں تو وہ اس کے لئے پہلا انعام تو یہ رکھتا ہے کہ وہ اس سے راضی ہو جاتا ہے اور اسے اپنے حضور اذنِ باریابی دے دیتا ہے۔ “
درویش نے ایک انگلی اٹھائی۔
“دوسرا انعام یہ دیتا ہے کہ اس کی شہادت، اس کی گواہی دینے پر اس کے خون کا پہلا قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے اس کی شہادت، اس کی قربانی قبول فرما لیتا ہے۔ “
اس نے دوسری انگلی اٹھائی۔
“اور تیسرا انعام یہ دیتا ہے کہ اپنے شہید کو عمرِ جاوداں ، ابدی زندگی، لازوال حیات عطا کر دیتا ہے۔ وہ بظاہر دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔ اسے قبر میں بھی اتار دیا جاتا ہے مگر وہ فرماتا ہے کہ
“جو اس کی راہ میں شہید کئے جائیں ، انہیں مردہ مت کہو۔ وہ زندہ ہیں۔ انہیں اس کے ہاں سے رزق دیا جاتا ہے مگر ہم لوگوں کو ان کی زندگیوں کا شعور نہیں۔ “
درویش نے تیسری انگلی اٹھائی۔
سب لوگ حیرت سے بُت بنے درویش کی جانب دیکھ رہے تھے۔ اس کی باتیں ان کے دلوں میں اتر رہی تھیں۔ کانوں میں رس گھول رہی تھیں۔ جی چاہتا تھا وہ کہتا رہے اور یہ سنتے رہیں۔ عمر تمام ہو جائے مگر اس کی بات نہ رکے۔
“وہ جو کہتا ہے اس کا دوسرا کوئی مفہوم نہیں ہوتا۔”
درویش نے ان کے خوابیدہ چہروں پر نگاہ ڈالی۔
” اگر اس نے کہا کہ شہید زندہ ہے تو وہ زندہ ہے۔ یہ دیکھو۔ “
درویش نے تابوت سے تختہ اٹھا دیا۔
وقت رک گیا۔ لمحے ساکت ہو گئی۔ ہر شے کو قرار آ گیا۔ صرف ایک انجانی خوشبو تھی جو ان کے سروں پر تھپکیاں دے رہی تھی۔ انہیں اندر باہر سے جل تھل کر رہی تھی۔ ان کے چاروں طرف، اوپر نیچے، ہر طرف اسی ایک مہک کا راج تھا۔
ان کی نظروں کے سامنے سرمد کا چہرہ کیا آیا، دل دھڑکنا بھول گئے۔ پلکوں نے حرکت کرنا چھوڑ دیا۔ دماغوں سے شعور کی گرفت ختم ہو گئی۔ ان کے جسم تنکوں سے ہلکے ہو کر جیسے ہوا میں اڑنے لگے۔ وہ حیرت اور عقیدت کے سمندر میں غوطے کھا رہے تھے۔
گلاب جیسے ترو تازہ سرمد کے لبوں پر ایک ابدی مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔ اس کے جسم کے ہر زخم سے خون رِس رہا تھا۔ رِس رِس کر تابوت کی تہہ میں جم رہا تھا۔ اس کے دل کے زخم پر مانیا نے شال کا جو ٹکڑا باندھا تھا، وہ اب بھی زخم سے نکلنے والے خون میں تر ہو رہا تھا۔
ایک لازوال سکون کے ہالے میں دمکتے سرمد کے چہرے سے یوں لگتا تھا کہ وہ ابھی آنکھیں کھول دے گا۔ ابھی بول اٹھے گا۔ ڈاکٹر ہاشمی نے حافظ عبداللہ کا ہاتھ تھام کر اپنے امڈ آنے والے آنسوؤں کو راستہ دے دیا۔ بیگم صاحبہ کی نم آنکھیں ، سکینہ کی آنکھوں میں چھاتی ہوئی دھند اور۔۔۔ صفیہ کا لرزتا کانپتا جثہ، اس بات کا شاہد تھا کہ ان میں سے کسی کو بھی سرمد کی موت کا یقین نہیں آ رہا۔
” یہ کیسے ہو سکتا ہے؟”
اچانک آدیش کی آواز نے انہیں چونکا دیا۔ اس نے کہا اور ریحا کی طرف دیکھا، جو اسی کی طرح نظروں میں بے اعتباری لئے سرمد کے چہرے اور زخموں کو حیرت سے تک رہی تھی۔ دونوں کی نظریں ملیں۔ اسی وقت درویش نے آدیش کی جانب نگاہ کی۔
“کیا نہیں ہو سکتا رے؟ کچھ ہمیں بھی تو بتا۔ “
اس کے ہونٹوں پر بڑی پُراسرار مسکراہٹ تھی۔ اس نے آہستہ سے ساتھ کھڑے طاہر کا ہاتھ تھام کر ہولے سے تھپتھپایا جس کے چہرے پر حیرت کے بجائے ایک فخر، ایک ناز دمک رہا تھا۔
“یہ۔۔۔ یہ۔۔۔ “
آدیش نے دایاں ہاتھ سرمد کے چہرے کی طرف دراز کر دیا۔
“یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ “
“کھل کر بول ناں۔ ” درویش نے اسے ڈانٹا۔
“کیوں سب کو خلجان میں مبتلا کر رہا ہے۔ کیا نہیں ہو سکتا؟ بول۔ “
آدیش کا ہاتھ پہلو میں بے جان ہو کر گر پڑا۔ اس نے ایک نظر پاگلوں کی طرح سرمد کے چہرے کو تکتی ریحا کو دیکھا پھر سرمد کے چہرے پر نگاہ جما دی۔
“جس رات سرمد کو قتل کیا گیا، اس دن صبح میں نے اپنے سامنے اس کی شیو کرائی۔ خود اس کے ناخن تراشے تھے۔ اس بات کو آج آٹھ سے دس دن ہو چکے ہیں مگر ۔۔۔ “
اس کی آواز حلق میں پھنس گئی۔
“مگر۔۔۔” درویش نے طاہر کا ہاتھ چھوڑ دیا۔
“مگر آج اس کے ناخن بھی بڑھے ہوئے ہیں اور داڑھی بھی۔ کیوں ؟ یہی بات ہے ناں ؟”
اس نے آدیش کی جانب بچوں جیسی خوشی سے دیکھتے ہوئے کہا۔
“ہاں۔۔۔ ” آدیش کے لبوں سے سرگوشی سی نکلی۔
“یہی سیدھی سی بات تو میں سمجھا رہا ہوں تمہیں۔”
درویش نے مست آواز میں کہا۔
“میرے اللہ نے کہا کہ شہید وہ ہے جو اس کی راہ میں جان دے اور یہ کہ شہید زندہ ہے، اسے رزق دیا جاتا ہے۔ عشق کے قاف کا نکتہ سمجھانے کے لئے یہ شہید کہاں سے چل کر یہاں آیا ہے؟
کیا کسی مردے کے ناخن اور بال بڑھتے ہیں ؟ نہیں ناں۔ تو اور شہید کیسے بتائے کہ وہ زندہ ہے۔ کہو تو ابھی زبان سے اس کی وحدانیت کی گواہی دے دے۔ مگر سوچ لو کیا تم اسے برداشت کر سکو گے؟ کچھ اور ثبوت درکار ہے تمہیں ؟”
“نہیں بابا نہیں۔ ” آدیش نے نفی میں سر ہلایا۔
” اب کسی گواہی، کسی ثبوت کی ضرورت نہیں۔ سب کچھ روشن ہو گیا۔ سب کچھ عیاں ہو گیا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ محمد اس کے رسول ہیں۔ “
اس نے یوں کہا جیسے کوئی ماورائی طاقت اس سے کہلوا رہی ہے۔
” اشھد ان لا الٰہ الا اللہ و اشھد ان محمد رسول اللہ۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ “
اس کے لبوں سے نکلا اور وہ لڑکھڑا کر زمین پر بیٹھتا چلا گیا۔ گرتے گرتے اس کے ہاتھ تابوت کی دیوار پر آ ٹکی۔ اس نے ماتھا ہاتھوں کے درمیان تابوت کی دیوار پر ٹیک کر آنکھیں بند کر لیں۔ اس کے ہونٹ اب بھی متحرک تھے۔
“سرمد۔۔۔ “
اچانک ریحا کی بھیگی ہوئی سرگوشی نے ان سب کے حواس پر تھپکی دی۔ وہ تابوت میں لیٹے سرمد کے چہرے کو والہانہ دیکھے جا رہی تھی۔
” میں جان گئی تم زندہ ہو سرمد۔ میں تمہارے سامنے تمہارے سچے معبود کا کلمہ پڑھتی ہوں۔ وہ جس کا فرمان اتنا سچا ہے وہ خود کیسا سچا ہو گا؟ گواہ رہنا سرمد۔ میں نے تمہارے سامنے اس کی سچائی کا دامن تھاما ہے۔ “
ایک پل کو رک کر اس نے سسکی لی۔ پھر کہا۔
” اشھد ان لا الٰہ الا اللہ و اشھد ان محمد رسول اللہ۔ “
“جب بھی اس کے حبیب کا نام لو ریحا۔ اس پر درود ضرور بھیجو۔ سرمد کا آخری ورد یہی تھا۔ “
آدیش نے سر اٹھایا اور ریحا کی جانب دیکھ کر کہا۔ “کہو۔ محمدرسول اللہ۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ “
“محمد رسول اللہ۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ “
ریحا نے بے اختیار کہا اور سرمد کے پیروں کی طرف زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔
“واہ۔۔۔ واہ میرے رب۔ ” درویش جھوم اٹھا۔
“کس کے نصیب میں کیا ہے اور اسے کہاں جا کر ملے گا، صرف تو جانتا ہے۔ صرف تو۔ “
پھر اس نے حافظ عبداللہ کی جانب دیکھا۔
“حافظ۔ جا۔ ان کو وضو کرا لا۔ رات بہت جا چکی ہے۔ اب شہید سے اجازت لے لیں۔ “
حافظ عبداللہ آدیش اور ریحا کو لے کر ہینڈ پمپ کی طرف چل دیا۔
“کیوں بابا۔ “
درویش نے جھکی کمر کے ساتھ کھڑے ڈاکٹر ہاشمی کی جانب مسکرا کر دیکھا۔
“کچھ قرار آیا۔ کچھ چین ملا۔ کچھ سکون ہوا؟”
“ہاں بابا۔ “
ڈاکٹر ہاشمی نے کمر پر ہاتھ رکھ کر سیدھا ہوتے ہوئے کہا۔
“اب کوئی دُکھ نہیں۔ کوئی غم نہیں۔ اولاد کے چلے جانے کی پھانس تو آخری دم تک دل میں کسک بن کر چبھتی رہے گی مگر ۔۔۔ “
انہوں نے سرمد کے پُرسکون چہرے کو یوں دیکھا جیسے اس کی شبیہ دل میں اتار لینا چاہتے ہوں۔
” اب بے قراری نہیں رہی۔ چین آ گیا ہے۔ سرمد نے مجھے ایک شہید کا باپ ہونے کا جو اعزاز دلایا ہے، اس کے بعد اب کوئی بے چینی، کوئی بے سکونی نہیں رہی۔ میرے اللہ۔ “
انہوں نے آسمان کی جانب دیکھا۔
” تیرا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے۔ پھر بھی اپنے اس ناقص بندے کا شکر قبول فرما۔
الحمد للہ۔ الحمد للہ۔ الحمد للہ۔ “
انہوں نے دونوں ہاتھ جوڑ کر پیشانی ان پر ٹکا دی اور سر جھکا لیا۔
درویش جو انہیں مسکراتی ہوئی نظروں سے دیکھ رہا تھا، ایک دم چونک پڑا۔ اس نے ٹبے کی طرف سے آنے والے راستے پر نگاہ جمائی۔ پھر بڑبڑایا۔
“وقت ہو گیا بابا۔ “
پھر اس نے حافظ عبداللہ کے ساتھ وضو کر کے لوٹتے ان دونوں کو دیکھا۔ وہ پاس آ گئے تو درویش نے اپنے کندھے سے رومال اتارا اور ریحا کے سر پر دوپٹے کی طرح ڈال دیا۔ اس کا چہرہ یوں چھپ گیا جیسے اس نے گھونگٹ نکال لیا ہو۔
“سب لوگ شہید کا آخری دیدار کر لو۔ رخصتی کا وقت ہو گیا ہے۔ “
درویش نے ذرا اضطراب سے کہا اور خود تابوت سے ذرا ہٹ کر کھڑا ہو گیا۔
وہ ایک دائرے کی شکل میں سرمد کے گرد آن کھڑے ہوئی۔ ان کا جی ہی نہ بھرتا تھا۔ مگر کب تک۔ آخر کتنی ہی دیر بعد نہ چاہتے ہوئے بھی سسکیوں اور آہوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے وہ ایک طرف ہٹ گئے۔
ڈاکٹر ہاشمی نے جھک کر سرمد کے ماتھے پر بوسہ دیا اور طاہر انہیں پرے لے گیا۔ بیگم صاحبہ نے سرمد کے گال کو چھو کر اپنی انگلیاں چوم لیں۔ سکینہ نے اسے سر جھکا کر سلام کیا اور صفیہ اسے عجیب سی نظروں سے دیکھتی ہوئی الٹے پاؤں لوٹ گئی۔
آدیش نے سرمد کو سیلوٹ کیا۔ جھک کر اس کے پاؤں چھوئے اور ایک طرف تن کر کھڑا ہو گیا جیسے پہرہ دے رہا ہو۔
طاہر لوٹا۔ چند لمحے سرمد کے چہرے کو والہانہ دیکھتا رہا۔ پھر اس نے ریحا کی جانب دیکھا جو سرمد کے پیروں کی جانب آنکھیں اس کے چہرے پر گاڑے ہاتھ باندھے یوں خاموش کھڑی تھی جیسے کوئی من ہی من میں اپنے دیوتا کی پوجا کر رہا ہو۔
طاہر نے سرمد کی اوپری جیب سے خون میں بھیگا ہوا رومال نکالا جس میں مدینہ شریف کی مٹی بندھی تھی اور درویش کی جانب بڑھا دیا۔ اس نے اسے کھولا۔ ہتھیلی پر رکھ کر غور سے دیکھا۔ مٹی سرمد کے خون سے بھیگی ہوئی تھی۔
اس نے اسے بوسہ دیا اور حافظ عبداللہ کی طرف بڑھا دی۔
“اسے شہید کی قبر کی مٹی میں ملا دو حافظ۔ “
حافظ عبداللہ نے چپ چاپ مٹی والا رومال لیا اور مزار کے صحن میں کھدی قبر کی طرف بڑھ گیا۔ مدینہ شریف کی مٹی۔ اللہ کے حبیب کے دیار کی مٹی۔ ایک عاشق کی قبر کی مٹی میں ملا دی گئی۔ نصیب ایسے بھی تو اوج پر آتے ہیں۔
اس وقت اچانک درویش ریحا کے قریب آیا۔ سرمد کے دل کے زخم سے رِستے لہو میں شہادت کی انگلی ڈبوئی اور وہ لہو ریحا کی مانگ میں بھر دیا۔
“سدا سہاگن رہو۔ سہاگ کا یہ جھومر سدا تمہارے ماتھے پر جگمگاتا رہے میری بچی۔ “
درویش نے کہا اور ایک دم ریحا کا چہرہ کھل اٹھا۔
اس کے چہرے پر سرخی بکھر گئی۔ اشک برساتی آنکھوں میں مسکراہٹ کے دیپ جل اٹھے۔ اس نے آخری بار سرمد کے چہرے کو جی بھر کے دیکھا پھر آنکھیں موند کر پیچھے ہٹ گئی۔ وہ اس کے چہرے کو ہمیشہ کے لئے اپنے قصر تصور میں سجا لینا چاہتی تھی۔
تب طاہر نے جھک کر سرمد کے چہرے کو دونوں ہاتھوں کے ہالے میں لیا۔ اسے پیار کیا اور دل پر جبر کر کے سیدھا کھڑا ہو گیا۔ درویش آگے بڑھا اور تابوت کا تختہ گرا دیا۔ پھر اس نے طاہر کے ساتھ مل کر تابوت کو ایک طرف یوں رکھا کہ اس کے پیچھے صف باندھ کر کھڑا ہونے کی جگہ کشادہ ہو گئی۔
” آؤ بھئی۔ نماز کے لئے کھڑے ہو جاؤ۔ “
اس نے مردوں کو اشارہ کیا۔ ڈاکٹر ہاشمی، آدیش، طاہر اور حافظ عبداللہ اس کے پاس چلے آئی۔ عورتیں ان سے آٹھ دس فٹ دور برگد تلے خاموش کھڑی تھیں۔
“امامت آپ کرائیں بابا۔ “
حافظ عبداللہ نے درویش کی جانب دیکھ کر کہا۔
“نہیں۔ “
درویش نے اندھیرے میں ایک طرف نظریں گاڑ دیں۔
” امام وہ آ رہا ہے۔ ” اس نے اشارہ کیا۔
ان چاروں نے حیران ہو کر اس طرف دیکھا۔ مزار کی پچھلی طرف سے آنے والے راستے پر کوئی چلا آ رہا تھا۔ سفید براق لباس میں اس کے سر پر سفید عمامہ اور اس پر سفید ہی رومال اس طرح پڑا تھا کہ اس کا چہرہ نظر آنا ممکن نہیں تھا۔ درویش نے ڈاکٹر ہاشمی اور آدیش اپنے کو بائیں اور طاہر اور حافظ عبداللہ کو دائیں کھڑا کر لیا۔
بڑے نپے تلے قدم اٹھاتا وہ شخص آیا اور
“السلام علیکم و رحمتہ اللہ”
کہتا ہواسیدھا سرمد کے تابوت کے سامنے امام کی جگہ جا کھڑا ہوا۔ چاروں عورتیں حیرت اور اچنبھے سے آنے والے کو دیکھ رہی تھیں۔ اور حیرت میں تو حافظ عبداللہ بھی گم تھا۔ اس نے یہ آواز پہلے بھی سنی تھی۔ مگر کہاں ؟ اس کا دماغ الجھ گیا۔
اسی وقت امام نے تکبیر کے لئے ہاتھ اٹھا دئیے۔
“اللہ اکبر۔ “
اس کے لبوں سے بڑی گمبھیر سی آواز نکلی۔
“اللہ اکبر۔ “
مقتدیوں کے لبوں سے ادا ہوا۔۔۔ اور مقتدیوں میں حافظ عبداللہ بھی تو تھا، جس کا دماغ یاد داشت کے ورق الٹ رہا تھا۔
“السلام علیکم و رحمتہ اللہ۔ “
امام نے باری باری دائیں بائیں سلام پھیر ا۔ سب نے اپنی اپنی جگہ چھوڑ دی۔ امام نے رومال میں چھپے چہرے کو اور بھی سینے پر جھکا لیا۔حافظ عبداللہ نے چاہا کہ آگے بڑھ کر اس پراسرار ہستی کو جا لے مگر جب تک وہ اپنے جوتے پہنتا، آنے والا رخصت ہو گیا۔
ان سب نے چاہا کہ اس کا رستہ روکیں۔ اس سے آگے بڑھ کر ملیں۔ مگر ان کے قدم من من بھر کے ہو گئے۔ پھر جب تک وہ لوگ ہوش میں آتے، جانے والا مزار کی دیوار کے ساتھ مڑ کر اندھیرے میں غائب ہو چکا تھا۔
اور اس وقت اچانک حافظ عبداللہ کو یاد آ گیا کہ اس نے یہ آواز کہاں سنی تھی؟اس کے ہوش و حواس میں طوفان برپا ہو گیا۔ یہ وہی آواز تو تھی جو اس نے اس وقت سنی تھی جب وہ سکینہ کو سیلاب کے پانی سے نکال کر لایا تھا۔ درویش کے کمرے کے باہر رکا تو اندر سے امام کی اسی آواز میں مغرب کی نماز میں قرات کی جا رہی تھی۔ وہ اس آواز کو ہزاروں لاکھوں میں پہچان سکتا تھا۔
“یہ۔۔۔ یہ کون تھے بابا؟”
حافظ عبداللہ نے درویش کو بے قراری سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔ اس کی نظریں خالی رستے پر بار بار بھٹک رہی تھیں۔
“یہ۔۔۔ ” درویش ہنسا۔
“اولیاء اللہ زندہ ہوتے ہیں حافظ۔ وہ خود زندہ ہے تو اس کے دوست بھی تو زندہ ہی ہوں گے ناں۔ مُردوں سے تو اس کی دوستی ہونے سے رہی۔ زندہ کی نماز زندہ ہی پڑھائے گا ناں۔”
حافظ عبداللہ کو تو پتہ نہیں اس بات کی سمجھ آئی یا نہیں ، مگر طاہر کا اندر باہر روشن ہو گیا۔ اس نے بابا شاہ مقیم کے مزار کی جانب دیکھا جو روشنیوں میں بقعہ نور بنا اسے مسکرا مسکرا کر تک رہا تھا۔ پلٹ کر اس نے درویش کی طرف دیکھا جس کے لبوں پر بڑی دل آویز مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔
پھر اس کی دلوں کو چھو لینے والی آواز ابھری۔
“چلو بھئی۔ کندھا دو۔ شہید کو اس کے مسکن تک چھوڑ آئیں۔ “
طاہر جلدی سے آگے بڑھا۔ ان پانچوں نے تابوت کندھوں پر اٹھایا اور مزار کی طرف چل پڑے۔ جس کے صحن میں سرمد کا مسکن اس کا منتظر تھا۔ سرمد۔۔۔ جس پر عشق کا قاف نازل ہو گیا تھا۔ وہ سرمد، جو عشق کے قاف کی گواہی دینے کے لئے بڑی دور سے آیا تھا تھک گیا تھا۔ اب اسے آرام کرنا تھا۔
درویش سب سے آگے تھا۔ اس نے قدم اٹھایا اور بلند آواز میں صدا دی:
“کلمہ شہادت۔ “
“اشھد ان لا الٰہ الا اللہ۔ وحدہ، لا شریک لہ، و اشھد ان محمداً عبدہ، و رسولہ۔ “
جواب میں ان کے ہونٹوں پر بے اختیار وردِ اکبر جاری ہو گیا۔
چہار جانب احدیت اور رسالت کے نور نے پر پھیلا دئیے۔ ہر دل کی دھڑکن میں یہی الفاظ سانس لے رہے تھے۔
دور آسمانوں میں فرشتے عشق کے قاف کے کشتہ کے استقبال کے لئے نغمہ سرا تھے:
“قل ھو اللہ احد۔ “
فرش سے عرش تک حور و غلماں زمزمہ پیرا تھے:
“صلی اللہ علیہ وسلم۔ “
دور برگد تلے صفیہ کے کندھے سے لگی کھڑی ریحا کا دل پھڑکا۔ اس کا سرمد پانچ کندھوں پر سوار اپنے گھر میں داخل ہو رہا تھا۔ ایک شفاف لہر اٹھی اور آنکھوں میں پھیلتی چلی گئی۔ منظر دھندلا گیا۔ تب اس نے محسوس کیا، کوئی اس کے کانوں کے قریب سرگوشیاں کر رہا ہے۔ اس نے آنکھوں میں امڈتے ہوئے چمکدار، بھیگے بھیگے غبار کو پلکیں جھپک کر رخساروں پر پھیلا دیا۔
کان لگا کر سنا۔۔۔ ارے۔ یہ تو اس کے سرمد کی آواز تھی۔ اس کے دل سے آ رہی تھی۔ دھیرے سے اسی مانوس مہک، اَن چھوئی خوشبو نے اسے اپنے ہالے میں لے لیا، جو اس صدا کا خاصا تھی اور غیر اختیاری طور پر اس صدا کا ساتھ دینے کے لئے ریحا کے ہونٹ بھی متحرک ہو گئی:
“صلی اللہ علیہ وسلم۔
صلی اللہ علیہ وسلم۔
صلی اللہ علیہ وسلم۔ “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: