Ishq Mein Mar Jawan Novel By Hifza Javed – Episode 1

0
عشق میں مرجاواں از حفضہ جاوید – قسط نمبر 1

–**–**–

میری اجازت کے بغیر کاپی پیست مت کریں
صبح صبح دادی جان پورے گھر میں شور مچا رہی تھی. آج اتوار کا دن تھا اور سب بچے اپنے اپنے کمروں میں سوئے ہوئے تھے جبکہ دادی جان نے سب کو صبح جلدی اٹھنے کو کہا تھا. سب سے زیادہ دادی جان کو جس پر غصہ تھا وہ ان انابیہ تھی ۔ تیمور سیڑھیاں اترتے ہوئے جلدی جلدی آ رہا تھا۔
” دادی جان کیا آپ بھی صبح شروع ہوجاتی ہیں. ایک اتوار کا دن ہی تو ملتا ہے سب کو سونے دیا کریں.”
تیمور نے دادی جان کا ہاتھ تھاما اور اپنی آنکھوں سے لگایا.” بگڑے ہوئے نواب زادے ہیں یہ سب اور کچھ نہیں. تیمور تجھ سے پوچھتی ہوں میں کہ یہ لڑکیاں جب اپنے سسرال میں جائینگی تو کیا کریں گے۔”
” دادی جان آپ پریشان مت ہوا کریں ہم تو اپنی بچیوں کی شادیاں ہوتی جلدی نہیں کریں گے. “
” ہاں ہاں تو خود بھی کنوارہ ہی رہے گا۔ میں تو کہتی ہوں تم لوگوں کی اولادیں دیکھنے سے پہلے ہی میری آنکھیں بند ہوجائیں گے. “
” دادی اتنی اموشنل مت ہوا کریں. زمانہ اور وقت بدل گیا ہے. “
” ہم تو ابھی بھی وہی ہیں۔بس تم لوگ بس بدل گئے ہو۔”
سارہ تیزی سے تیمور کی طرف آئی ۔اس کے ہاتھ میں کافی کا ایک مگ تھا یہ صبح صبح جلدی اٹھنے کی عادی تھی۔
” بھائی آپ اتنی جلدی اٹھ گئے آج۔”
” سارہ تمہیں پتا ہونا چاہیے کہ نو بج چکے ہیں. مجھے بتاؤ عناب جاگ گئی یا نہیں۔”
” پتہ نہیں بھائی مجھے نہیں پتا شاید وہ فجر کی نماز کے بعد باہر نکل گئی تھی. “
” کتنی بار کہا ہے میں نے تیمور اس لڑکی کو کے باہر مت جایا کرو. صبح کے وقت. اس لڑکی کو تو بالکل بھی چین نہیں آتا اتنی خوبصورت ہے مجھے تو ڈر لگتا ہے کہ کوئی جن اس پر عاشق ہو جائے گا۔”
” دادی اب وہ جن عشق ہونے والے زمانے گئے. وہ خود ایک چڑیل ہے جن اسے دیکھ کر ہی بھاگ جائے گا۔”
سارہ کی بات پر تیمور بہت زور سے ہنسا۔
” بابا اور چھوٹے بابا کو بلا لائو ہم ناشتہ کرتے ہیں ۔”
تیمور نے اسے بھیجا اور خود باہر نکل گیا ۔وہ جانتا تھا کہ عناب ایک ہی جگہ جاتی ہے صبح کے وقت۔عناب کو عجیب سا لگائو تھا اس گارڈن سے جو ان کے گھر کے پیچھے تھا۔
_________________________________
انابیہ زمین پر سر رکھے لیٹی ہوئی تھی۔اس کے ہاتھ میں وہی نیلا گلاب تھا جو ایک اجنبی ہر ہفتے اس کے تکیے پر رکھ جاتا تھا۔
یہ اکثر فجر کی نماز کے بعد سونا صبح اس گارڈن میں آتی تھی. اس گارڈن سے اسے بہت زیادہ انسیت تھی یہاں پر خصوصا اس کے والد نے نیلے گلاب کے پودے لگائے ہوئے تھے جو دنیا میں بہت نایاب تھے.
اس کی والدہ کی وفات کے بعد اس کے والد دنیا سے بالکل کٹ گئے تھے۔ پھر وہ اکثر یہاں گارڈن میں آکر اپنا دل بہلاتے تھے. انابیہ ان کے ساتھ جب بھی آتی اسے ایسا محسوس ہوتا جیسے یہ اپنی والدہ کے ساتھ ہے۔ اسی لیے اب اس کا روز کا معمول تھا کہ یہ اس گارڈن میں آتی.
” عناب بھیا کے بغیر یہاں کیا کر رہی ہو. “
النابغہ نے سر پیچھے کیا تو اسے اپنا بھائی نظر آیا” بھیا آپ آگئے. آپ جانتے ہیں نہ مجھے جب بھی والدہ کی یاد آتی ہے میں یہاں پر ہی آتی ہوں۔”
” عناب تم جب بھی باہر آیا کرو مجھے لازمی بتایا کرو. تم جانتی ہو کہ تم والدہ کی سب سے خوبصورت نشانی ہو میرے اور بابا جان کے پاس. “
تیمور اس کے پاس آیا جب عناب بیٹھ گئی.
” بھیا پتہ ہی نہیں چلتا کہ والدہ کو ہمیں چھوڑے ہوئے پورے پانچ سال ہوگئے ہیں. “
” ہمیں کبھی پتا چل بھی نہیں سکتا کیونکہ وہ ہمارے دل میں رہتی ہیں. عناب تم دادی جان کو بہت زیادہ تنگ مت کیا کرو. وہ تمہارے لیے بہت فکرمند رہتی ہیں. “
” بھیا وہ بے جا کی سختیاں کرتی ہیں مجھ پر۔”
تیمور نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا.” عناب وہ ہماری دادی ہیں۔ پالا ہے انہوں نے ہمیں۔ ایسے نہیں کہتے تم جانتی ہو کہ وہ ہماری والدہ کی جگہ پر ہیں۔”
” بھیا تو آپ انہیں سمجھایا کریں نا کہ میرے ساتھ اتنی سختی مت کیا کریں. آپ جاتے ہیں کل میں نے چھوٹے بابا سے کہا کہ میں نے کنسرٹ پر جانا ہے۔ دادی جان نے سن لیا اور پھر مجھے منع کردیا کہ تم گھر سے قدم باہر مت نکالنا. “
” اب اگر تم وہاں چلی گئی اور ہارون آفریدی آگیا تو پھر بتاؤ کیا تم مجھ سے لڑوں گی نہیں. تمہیں لگتا ہے نہ کہ وہ کوئی خلائی مخلوق ہے کہ تم جہاں ہوتی ہے وہ پہنچ جاتا ہے. اتنی مرتبہ تم اس سے لڑ چکی ہو دادی جان تمہاری لڑائیوں کی وجہ سے ہی پریشان ہیں. اور ویسے بھی لڑکیاں ایسے باہر رات دیر تک رہتے ہوئے اچھی لگتی. “
” بھیا سارہ میرے ساتھ جا تو رہی تھی۔ چلیں خیر تھوڑے صبح صبح ہارون آفریدی کا نام لے کر میرا موڈ خراب مت کریں. “
” مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی وہ بچارا تمہیں کبھی بولاتا بھی نہیں مگر تمہاری اس سے اتنی ضد کیوں ہے۔”
” بھیا وہ یونیورسٹی کے شروع سے ہی مجھے عجیب لگتا ہے ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے اسے میری حفاظت کے لیے بھیجا ہے. آپ جانتے ہیں اس نے کبھی مجھے نظر اٹھا کر نہیں دیکھا. کئی مرتبہ تو وہ میرے آگے جھک کر مجھے ملا. آپ جانتے ہیں وہ مجھے بی بی بلاتا ہے۔ شکر ہے یونیورسٹی سے جان چھوٹی اس سے بھی جان چھوٹ گئی. “
” چلو چھوڑو ایسی چھوٹی باتیں تو ہوتی رہتی ہیں. میں تمہیں لینے کے لئے آیا ہوں ناشتہ کرنا ہے. “
تیمور نے اسے ہاتھ دیا اور اٹھایا. یہ تیمور خان کی لاڈلی بہن تھی. تیمور خان خود 27 برس کا تھا. عناب اس وقت 21 برس کی تھی. اس نے پنجاب یونیورسٹی سے ماسٹرز ان جرنالیزم کیا تھا. تیمور ایک بیرسٹر تھا. اس کے والد بھی ایک جانے مانے بیرسٹر تھے اور انکی لا فارم تھی. تیمور کی والدہ کو فوت ہوئے پانچ سال ہو چکے تھے. ان کی والدہ بہت خوبصورت عورت تھی اور مشہور زمانہ وکیل. ان کے گھر میں یہ اپنے چھوٹے بابا اور اپنی خالہ جوان کی چچی بھی تھی ان کے ساتھ رہتے تھے.سارہ ان کے چھوٹے بابا کی بیٹی تھی۔ سارہ ان دونوں کی رضائی بہن تھی۔ بچپن میں سارہ کو تیمور کی والدہ نے اپنی بہن سے لے لیا. انابیہ کے سارہ کو بھی دودھ پلایا جس سے وہ ان دونوں کی رضائی بہن بن گئی۔
انابیہ کی دادی نے اسے بچپن سے ہی اس کی والدہ سے لے لیا تھا اور تقریبا اس کی تربیت کرنے والی اس کی دادی جان ہی تھی.
تیمور انانیہ کو لیئے ناشتے کی ٹیبل پر آیا تو سب لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ انابیہ جاکر اپنے والد شجاع خان کے ساتھ بیٹھ گئی۔
” میرا بچہ صبح صبح کہاں پر گیا ہوا تھا۔”
شجاع خان نے اس کے سر پر بہت پیار سے ہاتھ پھیرا۔” بابا جان اسے میں گارڈن سے لے کر آیا ہوں. آپ کی لاڈلی کو گھر میں چین نہیں آتا. “
” خبردار تیمور جو تم نے ہماری بیٹی کو کچھ بھی کہا۔ بڑی منتوں اور مرادوں سے مانگی ہوئی ہے ہماری بیٹی. تم جانتے ہو جب یہ پیدا ہوئی تھی تو تمہاری والدہ نے پورے شہر میں مٹھائی بھجوائی تھی. اس کی پیدائش کے لیے ہم نے بہت منتیں مانگی ہیں تم نہیں جانتے۔”
” بابا جان تو کس نے کہا کہ میں اسے ڈانٹ رہا ہوں۔ آپ ماشاءاللہ سے یہ بڑی ہوگئی ہے پڑھائی مکمل ہوچکی ہے تو اسے آپ کسی اچھے سے اخبار میں نوکری دلوا دیجیئے. میں چاہتا ہوں کہ یہ اپنا کیریئر بنائے۔”
” تم نے اس کو کچھ زیادہ ہی کھول کر رکھا ہے لڑکیوں کے یہ کام نہیں ہوتے اب اسے چاہیے کہ گھر داری سیکھ جائے۔”
“دادی پریشان مت ہوں اس کا ہونے والے شوہر اسے بستر سے بھی اٹھنے نہیں دے گا۔”
سارہ کی بات پر دادی نے اسے اچھا خاصا گھورا۔
__________________________________
کمرے کا سرد پن اس کے مکین کا مزاج کا مزاج ظاہر کرتا۔اس کی کلائی پر نیلے رنگ کا نشان اندھیرے میں چمک رہا تھا۔اس کی نیلی آنکھیں اندھیرے میں چمک رہی تھی.
” سردار آپ نے ہمیں یاد کیا ہے. “
” ہارون ہم تم سے ملاقات چاہتے تھے بہت عرصے سے. ہم جانتے ہیں تمہاری سردارنی نے تمہیں بہت تنگ کیا ہے ان چار سالوں میں. تمہاری ہمت کی بھی ہم دعوت دیتے ہیں کہ تم نے ان کی ہر جلی کٹی بات برداشت کی ہے. “
” سردار آپ کیسی باتیں کرتی ہیں ہمارے لیے وہ معتبر ہیں. وہ ہماری ملکہ ہیں اور اپنی ملکہ کی حفاظت کرنا ہم اچھے سے جانتے ہیں ۔”
” ہارون ہم تو اس بات سے پریشان ہیں کہ جب وہ ہماری دنیا میں آئیں گی تو یہاں پر آکر کیسے اپنے آپ کو ایڈجسٹ کریں گی۔”
ہارون اسی کرسی کے سامنے ہی اپنے ہاتھ بندھے نظریں جھکائے کھڑا تھا۔
” سردار وہ سیکھ جائیں گی یہاں کے اصول. بس کچھ ہی فرق ہے ان کی اور ہماری دنیا میں. “
” ہارون ہم نہیں چاہتے جب وہ ہمارے پاس آئیں تو وہ اپنی دنیا کو یاد کریں۔ ہم جانتے ہیں جب کسی کی دنیا ختم ہوتی ہے تو اسے کتنا دکھ ہوتا ہے۔”
” سردار ہمیں یقین ہے کہ آپ کی محبت کے آگے وہ اپنی دنیا کو چھوڑ دیں گی. سردار آپ انہیں کب ہمارے لوگوں میں لا رہے ہیں. “
” بہت جلد اب ہم سے انتظار نہیں ہوتا 21 سال کا وعدہ پورا ہو چکا ہے. اب ہماری تنہا زندگی میں ہمیں ہماری شہزادی چاہیں۔ بہت جلد یہ محل شادیانوں سے گونجے گا. اس محل میں دوبارہ سے ننھے بچوں کی آوازیں آئیں گی. یہ محل اپنی ملکہ کے قدموں سے روشن ہوگا. ہماری تاریخ زندگی میں نیلا پھول ہیں وہ . ہماری نیلی شہزادی۔”
__________________________________
انابیہ کی کلائی پر نیلے رنگ کا نشان چمکنے لگ گیا جس سے انابیہ کو شدید تکلیف ہوئی۔ اس کے ساتھ بیٹھی ہوئی سارہ اس کے چہرے کو دیکھ رہی تھی جہاں پر پسینہ آ چکا تھا۔
” عناب کیا ہو گیا ہے تمہیں. تمہارا نشان پر چمک رہا ہے. “
” پتہ نہیں سارا دیکھو نہ مجھے کتنا درد ہوتا ہے . بابا بتاتے ہی نہیں کہ یہ نشان میری کلائی پر کیوں ہے۔”
” دادی کہتی ہیں کہ جب تم تین سال کی تھی تب سے یہ نشان تمہاری کلائی پر ہے. تم جانتی ہو تمہاری آنکھوں کا رنگ پہلے کچھ اور تھا پھر تمہاری آنکھوں کا رنگ نیلا ہو گیا. “
” میں خود بھی حیران ہوں سارہ آج تک میں نے یہ بات نہیں سنی۔ ایسا لگتا ہے جیسے میری آنکھوں میں لینز لگے ہوئے ہیں۔ تم جانتی ہو والدہ بتایا کرتی تھیں کہ میری آنکھوں کا رنگ سبز تھا جو بعد میں بدل کر نیلا ہو گیا. “
” تم یقین نہیں کرو گی مگر مجھے کبھی کبھی خوف آجاتا ہے تمہارے پاس نیلا پھول ہر ہفتے دیکھ کر۔نجانے کیوں ہے جو تمہیں بچپن سے یہ پھول دیتا ہے۔”
” بابا کہتے ہیں کہ تم پریشان مت ہو. وہ بہت جلدی شخص کو ڈھونڈ لیں گے جو میرے پاس نیلا پھول رکھ جاتا ہے۔ اچھا اب تو جائو مجھے نیند آرہی ہے۔”
سارہ اس کی بات سن کر اٹھ گئی۔انابیہ نے کمبل کیا اور سونے لگی۔
_________________________________
انابیہ سوگئی اور ایسی سوئی کہ اسے ہوش نہیں رہا۔کمرے میں نیلی روشنی ہر طرف پھیل گئی۔آنے والے کی کلائی پر نیلا نشان ویسے ہی تھا جیسا انابیہ کا۔دونوں کے نشان چمک رہے تھے۔
“کیسی ہو شہزادی۔کتنی کمزور لگ رہی ہو۔”
اس نے انابیہ کے ہاتھوں کو تھاما ۔اس کے نشان سے نکلی روشنی نکل کر انابیہ کے نشان میں چلی گئی۔انابیہ کمسائی ۔اس کی کلائی میں شدید درد ہوا جسے اس شخص ہاتھ رکھ کر دور کردیا۔
“میں جانتا ہوں ہمارے ملنے کا وقت قریب آرہا ہے جس کی وجہ دے یہ تکلیف دیتا ہے مگر جلد ہی تم میرے پاس ہوگی ۔پھر یہ تمہیں طاقت دے گا تکلیف نہیں. “
اس شخص نے انابیہ کے ہاتھوں کو تھاما اور بہت دیر تک تھامے رکھا۔
“میں بہت جلد تمہیں لینے کے لئے آؤنگا۔تب تک تم نے میرا انتظار کرنا ہے۔میری نیلی شہزادی۔”
اس کی انابیہ کی آنکھیں چومی۔اس کے نشان سے سفید روشنی نکلی ۔ملاقات کا وقت ختم ہو چکا تھا اسے اب اس جگہ سے جانا تھا۔ یہ اسے سے آخری نظر دیکھ کر کھڑکی کی طرف گیا۔
اس نے کھڑکی سے نیچے چھلانگ لگائی جیسی یہ ہمیشہ لگاتا تھا.
اسے یقین تھا کہ اگلی بار یہ انابیہ کو یہاں سے لے جائےگا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: