Ishq Mein Mar Jawan Novel By Hifza Javed – Episode 10

0
عشق میں مرجاواں از حفضہ جاوید – قسط نمبر 10

–**–**–

تیمور اپنے باپ اور چھوٹے بابا کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔اس وقت یہ لوگ انابیہ کے بارات کی تیاریاں پر بحث کر رہے تھے۔
“بابا کیا وہ سچ میں اسے واپس تو لے آئے گا۔مجھے ایسا لگتا ہے کہ وہ اسے نہیں آنے دے گا۔بابا آپ اتنی بڑی بیوقوفی کیسے کرسکتے ہیں۔آپ کو نہیں معلوم کے وہ کہاں ہے۔اس کا کوئی نام و نشان نہیں ہے اس دنیا میں۔یہاں اس کا محل ہے جہاں وہ کبھی کبھی آتا ہے۔آپ نے کیوں اس کا نکاح بچپن میں کیوں کہا۔کیا آپ نہیں جانتے تھے کہ وہ کس قبیلے سے تعلق رکھتا ہے آپ کو یہ بات معلوم تھی کہ جب وہ آپ کی بیٹی کو لے جائے گا تو دوبارہ واپس نہیں لائے گا. “
” ہم کیا کر سکتے تھے جب سے وہ پیدا ہوئی تھی اس کی قسمت اسی کے ساتھ جڑی ہوئی تھی. تم جانتے ہو جس دن وہ پیدا ہوئیں وہ اسپتال میں تمہاری والدہ کو نرسوں نے یہی بات کہی دی کہ آپ کی بیٹی بہت خاص ہے. اس وقت یہ معلوم ہو گیا تھا کہ ہماری بیٹی میں کچھ خاص ضرور ہے جو وہ ہم سب سے الگ ہے. جب جب وہ بڑا ہونا شروع ہوئیں تب تک وہ زیادہ بیمار رہنے لگی اور پھر ایک وقت ایسا آیا جب وہ موت کی بہت قریب تھی. تم جانتے ہو جس وقت میں اٹھا کر اسے میر دربار پر لے کر گیا تھا وہ میری آخری امید تھی اس وقت ڈاکٹر نے کہہ دیا تھا کہ وہ زندہ نہیں بچے گی. وہ ہر وقت بےچین رہتی تھی مجھے آج بھی یاد ہے ہم نے پورا ماہ جاگ کر گزارا تھا اس کے ساتھ۔ “
” بھائی مگر آپ بتا تو سکتے تھے یہ سب باتیں. آج جو یہاں سے گی تو ہمیں اس بات کا علم نہیں تھا اگر علم ہوتا تو شاید ہم اسے بچانے کے لیے کچھ تو کر سکتے. “
” تم کچھ نہیں کر سکتے تھے میرے بھائی اور تیمور تم نہیں جانتے کہ اگر وہاں سے واپس نہ لے کر جاتا تو وہ سچ میں مر ہی جاتی. جس دن ہم نے اس کا نکاح کیا تھا اس دن میر ابراہیم نے مجھے ایک بات کہی تھی کہ اب تمہاری بیٹی تمہاری نہیں یہ ہماری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب یہ اس دنیا میں زیادہ نہیں رہ سکتی میں نہیں جانتا ان کی دنیا کیسی ہے مگر میں یہ باتیں کیسے کہہ سکتا ہوں کہ وہ انسان ہی ہے. “
” بابا اب آپ مجھے بتائیے کیا اسے وہ لے کر آئے گا ہمارے پاس. “
تیمور نے جب آپ سے سوال کیا تو چھوٹے بابا نے بھی اس کی طرف دیکھا.” میر خاندان خون بہا دیتا ہے مگر اپنا وعدہ نہیں توڑتا. تم اس بات کی فکر مت کرو دو دن وہ اس کو ہمارے گھر اس کو لے آئے گا۔تم کوئی شور شرابا مت کرنا ورنہ ہم اپنی بیٹی کو ہمیشہ کے لیئے کھو دیں گے۔”
_________________________________
صبح معمول کے مطابق سب لوگ ناشتہ کر چکے تھے انابیہ ابھی آج انہیں سب لوگوں کے درمیان میں بیٹھی ہوئی تھی اور سب لوگ اسے آج محل دکھانے والے تھے.
” جبار آج ہم بچی کو پورا محل دکھائیں گے تم نے اس کو بتا دیا تھا نا۔”
” جی دادی سائیں میں نے ان کو بتا دیا تھا. سبھی ناشتے کے بعد چلتے ہیں پھر ان کو محل دکھائیں گے۔”
جنار نے ان سب کو بتایا تو اس کے بڑے لالہ بھی بول پڑے۔” جبار تم جانتے ہو کہ ایک رسم ہونا باقی ہے تم اسے لوگوں سے ملوانے نہیں لے کر گئے۔ یہ رسم شادی کے اگلے دن ہی ہوتی ہے مگر تم نے ابھی تک پوری نہیں کی۔”
” لالہ ہم گئے تھے مگر یہ ان سب کو دیکھ کر ڈر گیئں تو ہم اسے واپس لے آئے۔”
” میرا بچہ ہو تمہیں جانا ہوگا آج ہی ولیمے سے پہلے۔ ورنہ وہ لوگ تم سے ناراض ہو جائیں گے . تم جانتے ہو کہ ہمارے لوگ ان سے کتنی محبت کرتے ہیں اور خصوصاً انابیہ کے لیے انہوں نے کتنی امیدیں لگائی ہوئی ہیں. آج ہی اسے لے کر جاؤ اور بیٹا یہ ہمارا حکم ہے آپ کے لئے کہ وہاں آپ نے بالکل بھی ڈرنا نہیں ہے . وہ لوگ آپ کو تحائف پیش کریں گے تو آپ نے خاموشی سے لینے ہیں. “بڑے سردار نے انبیاء کو حکم دیا اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرا. ہم جانتے ہیں بیٹا کے آپ کے لیے یہ سب کچھ مشکل ہے مگر آپ کو ان سب چیزوں کے بارے میں اب جاننا ہے ۔کیونکہ آپ نہ صرف اس گھر کی بہو ہیں بلکہ ہمارے قبیلے کی شہزادی بھی ہیں۔ اور یہ مقام آج سو سال بعد کسی لڑکی کو اس خاندان میں ملے گا۔ بچی کو پورا محل دکھایا جائے۔”
یہ اور بڑے لالہ دونوں اٹھ گئے جبکہ جبار بیٹھا رہا.” تاج اپنی شہزادی کو تیار کرو ان کی خصوصی پوشاک پہنا دینا ۔ آج انہیں سفید رنگ کا تاج پہنانا ولیمے کے بعد یہ نیلے رنگ کا تاج پہنے گی. ان کو ویسے ہی تیار کرنا جیسے ایک سفید شہزادی ہوتی ہے سمجھائیں نہ. “
تاج جو ان کے پیچھے کھڑی تھی جبار کے حکم پر آگے آئے اور اس کی بات پر سر ہلایا.
” جیسا حکم میرے شہزادے. “
” شہزادی آپ آئیے ہمارے ساتھ۔ تب تک ہم آپ کو محل دکھا دیں پھر تیار ہو جائیے گا۔”
ان دونوں کے ساتھ دادی اور ملکہ بھی آگئی ملکہ جبار کی والدہ تھیں. گوہر جبار کی بھابھی بھی ان کے ساتھ تھی.
سب سے پہلے جبار اسے لے کر نیچے والے پورشن کی طرف آیا جو بے تحاشا پڑا تھا.
.” یہ ہمارے محل کا وہ حصہ ہے جہاں ہمارے بادشاہ رہتے ہیں یعنی کہ ہمارے والد ہمارے سردار.. یہ خوابگاہ ہماری والدہ اور والد کی ہے۔ یہاں بلاضرورت آنے کی اجازت کیسی کو بھی نہیں اگر آپ نے آنا ہو تو ملکہ کی اجازت لینا ضروری ہوتی ہے۔”
جبار نے اسے ایک بے تحاشہ خوبصورت خوابگاہ دکھائیں کیسے گولڈن رنگ کے پردوں اور گولڈن رنگ کی ہی قالین سے تیار کیا گیا تھا۔
یہ اس خواب گاہ نکلے تو کچھ آگے جا کر ایک اور پورشن تھا جس کا دروازہ پچھلی طرف کھلتا تھا۔
” یہ بڑے لالہ کا یعنی کہ بڑے شہزادے کا پورشن ہے۔ یہاں گوہر اور لالہ رہتے ہیں ان کی بیٹیوں کے کمرے انکی خوان گاہ کے ساتھ ہی ہیں۔ یہ پورشن بھی ایسے ہی بابا کے پورشن کی طرح بنا اجازت نہیں کھلتا۔
یہ جو آگے کی طرف دروازہ نکل رہا ہے اس کے پیچھے محل کا سب سے بڑا حصہ آرہا ہے نیچے کہ پورشن کا. یہ دادی صاحب کی خواب گاہ ہے۔ خواب گاہ کے آگے لائن میں بہت سارے کمرے ہیں جہاں پر محل میں آنے والے مہمان یا ہمارے خاندان کے لوگ رہتے ہیں مگر ابھی ہمارے محل میں اتنے ہی خاندان والے ہیں۔”
گوہر انابیہ کو لے کر کچن کے پورشن کی طرف آئی جو اتنا بڑا تھا کہ انابیہ سوچ نہیں سکتی تھی.
” جبار اب میں انابیہ کو بتاتی ہوں. شہزادی یہ سب سے خوبصورت حصہ ہے محل کا. یہاں پر دن میں غریب لوگوں کیلئے بہت سا کھانا پکتا ہے. ہم دن میں اور رات میں کھانا بانٹتے ہیں. شہزادی ہونے کے ناطے آپ دن میں دو یا تین مرتبہ یہاں آکر دیکھا کریں گی کہ کھانا بنا ہے یا نہیں اور پھر جب لوگوں کو بانٹنا ہوگا تو آپ اپنے ملازموں کے ساتھ باہر کھڑی ہوں گی۔ کی اس محل میں بسنے والے ہر شہزادے اور شہزادی کی ذمہ داری ہے کہ جب تک اس کے لوگ کھانا کھا لیں وہ اپنے حلق سے نوالہ نیچے نہیں جانے دیتا. یہ آگے آنے والا پورشن محل کے لوگوں کے کھانے بنانے کیلئے ہے. یہاں پر ہم اکثر آتے ہیں اور اپنی پسند کا کھانا بتا جاتے ہیں یا بنا لیتے ہیں. ہمارے کچن میں ملازمہ سب سے بڑی ہے وہ زبیدہ خاتون ہیں. وہ یا پاخانہ آپ کے کمرے تک پہنچائیں گی یا آپ کی ہر فرمائش پوری کریں گے. “
جبار اب انہیں لیے محل دیکھا رہا تھا جہاں پر بہت سارے کمرے سامان سمیت خالی تھے جہاں لوگ نہیں رہتے تھے۔
” انابیہ اب ہم آپ کو نیلے محل کی طرف لے کے جا رہے ہیں جو ہمارا پورشن ہے۔”
ملک انابیہ کا ہاتھ پکڑا اور اسے اس کے محل میں داخل کروایا یہاں پر اس کی اور جبار کی خواب گاہ تھی۔
” والدہ میں اس کو یہاں کی تمام تاریخ بتا دیتا ہوں. شہزادی یہ نیلا محل پہلے نہیں کھلتا تھا۔ یہ تب ہی کھلتا ہے جب اس خاندان میں ایک نیلے نشان والا شہزادہ پیدا ہوتا ہے. یہ دروازے خود کھل جاتے ہیں ورنہ ان دروازوں کو کھول نہیں سکتا. “
جب اڑا سے لے کر اپنی خواب گاہ سے آگے آیا جہاں بے تحاشہ کمرے تھے.
” یہ ہمارے بچوں کے لیے ہیں. “
انابیہ اس کی بات سن کر جھینب گئی جبکہ ساتھ کھڑی گوہر ملکہ اور دادی ہنسنے لگ گئی۔
” وہ دیکھئے سامنے یہاں سے ہمیں نوکروں کے کوارٹر بھی نظر آتے ہیں. ہمارے خاص ملازم ہمارے ہیں پورشن میں رہتے ہیں۔ تاج آپ کے کارڈ نواز یہاں پر اسی محل میں رہیں گے نیلے محل۔”
انابیہ کی نظر سبز رنگ کی سیڑھیوں پر گر گئیں جو اس کے پورشن سے نکلتی تھی۔
” شہزادے ہیں سیڑھیاں کس طرف جارہی ہیں اور یہ سبز رنگ بالکل ہیرا لگ رہا ہے۔”
انابیہ نے جب اس سے پوچھا تو سب لوگ سبز محل کی طرف دیکھنے لگ گئے جو اس سے بھی اوپر تھا. مگر اس کی ہائیٹ زیارت کی بیک سائیڈ سے زمین پر لگتی تھی.
گوہر فورا بول پڑیں.” وہ حصہ نیلے محل کی طرح نہیں کھلتا جب تک اس کا شہزادہ پیدا نہیں ہوتا. ہمارے قبیلے کی شروعات کرنے والے شہزادے کے ہاتھ پر سبز رنگ کا نشان تھا. یہ بات آج سے آٹھ سو سال پہلے کی ہے۔ اس کے بعد جو بھی شہزادہ پیدا ہوا اس کے ہاتھ پر نشان تھا مگر مختلف رنگوں کا اور سب سے زیادہ طاقتور جو نیشان رہا وہ نیلا رہا. سبز رنگ ابھی تک کسی بھی شہزادے نے نہیں لیا. یہ حصہ اسی دن خود بخود کھل جائے گا جس دن آٹھ سو سال بعد سبز رنگ کے نشان والا شہزادہ پیدا ہوگا. کہتے ہیں کہ اس شہزادے کے پیدا ہونے پر قبیلے میں ہر طرف ایک شور گونجے گا گھڑیاں بج جائیں گی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس شہزادے کو سب سے بڑے سردار کا رتبہ دیا جائے گا. وہ پیدا ہوتے ہی بادشاہ بنا دیا جائے گا۔ اس کی شہزادی دوسری دنیا سے ہوگی نہ وہ بلوچی ہوگی اور نہ وہ ہماریے قبیلے کی۔ سننے میں یہ بھی آتا ہے کہ اس کی شہزادی اس کو سن سکے گی اور وہ اسے دیکھ سکے گا ان کی ملاقات خصوصی وقت پر ہوگی۔”
” انابیہ کو بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں اور آپ جانتی ہیں کہ شاید ہماری آنے والی اولاد میں سے کوئی ایسا شہزادہ پیدا ہوئے جو بادشاہ بنے وہ بھی سبز نشان والا. “
انابیہ کا دل کیا کہ وہ اپنا سر پکڑے اور رونا شروع کر دے.” آپ سب کی باتوں نے مجھے بہت زیادہ پریشان کر دیا ہے. میں اپنی دنیا چھوڑ کر یہاں آئی ہوں اور اب یہاں کی باتیں سن سن کر مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں پاگل ہو جاؤں گی. آپ لوگوں نے مجھے مذاق سمجھ لیا ہے کیا. “
سب لوگ اس کی بات پر ایسے ہنسے جیسے اس نے کوئی بچوں والی بات کر دی ہو۔
” ہم جانتے ہیں ہمارا بچہ کے تم پریشان ہوں مگر وقت کے ساتھ ساتھ تم سب کچھ سیکھ جاو گی. ہمارے ہاں کا ایک قانون ہمیں بالکل پسند نہیں کی جب تک شہزادی خود ہماری پہچان یعنی کے ہماری شناخت کے بارے میں جان نہیں جاتی تب تک اسے بتایا نہیں جاتا. یہ اب تم پر منحصر ہے کہ تم کب جانوگی کہ ہم کون ہیں. “
یہ بات بڑی سردارنی یعنی کہ دادی صاحب نے ۔ انابیہ کا دل کیا کہ کسی دیوار سے اپنا سر مارے۔
” میرا خیال ہے کہ اب ہمیں شہزادی کو کمرے میں بھیج دینا چاہیے ہمارے لوگوں کو حکم مل گیا تھا کہ دن میں ان کی شہزادی ان سے ملنے آ رہی ہیں. “
ملکہ نے بولا تو انابیہ کو لینے تاج آگئی.
” گوہر آپ کے ساتھ جائیں گی وہ آپ کو تیار ہونے میں مدد کریں گی شہزادی. جائیں جلدی سے اچھا سا تیار ہو کے آئے ہم آپ کا انتظار کر رہے ہیں. “
جبار نے اس کا گال پیار سے سہلایا اور اسے گوہر اور تاج کے ساتھ بھیج دیا۔
__________________________________
یہ لوگ جب کمرے میں آئے تو اس وقت تاج فورا کپڑوں کی الماری کی طرف گئی۔
” انابیہ تمہیں معلوم ہے کہ ہمیں نیلا اور سفید لباس بہت پسند ہے۔ خصوصا تمہارے لئے جو سفید لباس اور نیلے لباس چنے گئے ہیں وہ بے انتہا خوبصورت ہیں. تم جانتی ہو وہ ہمارے علاقے کے لوگوں نے مل کر تمہارے لیے بنائے ہیں. یہ لوگوں کی محبت ہے کہ انہوں نے اپنی ملکہ اور اپنی شہزادی کے لئے اتنے خوبصورت لباس تحفے میں بھیجے۔”
گوہر ابھی بات کر رہی تھی کہ تاج انابیہ کا لباس اٹھا کر باہر آئی۔ یہ بے تحاشا خوبصورت سفید رنگ کا لباس تھا.
اس کے سامنے والے حصے میں خوبصورت ہیرے لگے ہوئے تھے جبکہ یہ پوشاک مخملی سفید کپڑے پر مشتمل تھی مگر انسانی دنیا کے کپڑوں سے بالکل مختلف. اس میں لگے ہوئے ہیرے اور جواہرات ایسے دے کے انابیہ دے کر ہی حیران ہوگئی کہ یہ اسے پہنے گی کیسے. یہ پوشاک بہت لمبی تھی اس کے پیچھے بھی ایک لمبا کپڑا آتا تھا جس کو اٹھانے کے لئے تین چار لوگ چاہیے تھے. اس پوشاک کے ساتھ خوبصورت سفید رنگ کا حجاب تھا اس کا کپڑا اتنا مخملی تھا کہ انابیہ نے کبھی زندگی میں اتنا خوبصورت اور مخملی کپڑا نہیں دیکھا تھا. اس کے ساتھ پہننے کے لئے انابیہ کے لیے کی چوڑیاں اور خوبصورت سفید رنگ کا تاج تھا. تاج چمک رہا تھا اور انابیہ کو ایسا لگ رہا تھا جیسے اس سے خصوصی روشنی نکل رہی ہو۔
” شہزادی پوشاک تبدیل کرکے آئیے۔”
گوہر نے اسے پوشاک پکڑائی اور تاج ہو اس کے ساتھ بھیجا کہ اس کی مدد کرے اس پوشاک کو پہننے میں۔ انابیہ کے ساتھ تاج اس کی مدد کو اندر گئی اور دس منٹ کے بعد باہر نکلیں تو اتنی خوبصورت لگ رہی تھی اس کی نیلی آنکھیں سفید رنگ کو مات دے رہی تھی۔
” ماشااللہ شہزادی تو بہت ہی زیادہ خوبصورت لگ رہی ہیں. آئیے بیٹھیے آپ کو تیار کریں۔”
تاج نے اسے شیشے کے سامنے کرسی پر بٹھایا. گوہر بھی اس کے ساتھ ہی اس کے ہاتھ میں چوڑیاں اور انگوٹھیاں پہنا رہی تھیں تاج نے اس کے بالوں کو جوڑا بنایا اور پھر اسے خوبصورت حجاب کرایا سفید رنگ کی خوبصورت مخملی چادر اس کے اردگرد دی گئی . یہ چادر اس کی پوری کمر سے نیچے تک پوشاک کو ڈھانپ رہی تھی۔
اسے سر پر تاج پہنانے کے بعد آخری بار گوہر نے دیکھا۔
” بے انتہا خوبصورت ہمیں یقین ہے کہ آج ہمارے لوگ آپ کو دیکھ کر بے تحاشا خوش ہو جائیں گے. چلئے ائیے شہزادے آپ کے منتظر ہیں۔”
گوہر نے اسے اٹھایا اور باہر کی طرف چل پڑی. تاج نے پیچھے سے اس کا لباس پکڑ رکھا تھا جبکہ گوہر نے اس کا ایک ہاتھ تھاما ہوا تھا.
یہ جیسے ھی نیچے سیڑھیاں اتر کر آئی جبار اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔
” ہماری شہزادی تو بالکل چاند کا ٹکڑا ہیں. “
جبار آگے بڑھا اور اسے اپنی باہوں میں تھاما.” اب یہ تمہاری ذمہ داری ہے شہزادے ہم جارہے ہیں۔”
گوہر نے جبار کو کہا تو اس نے سر کو خم دیا جیسے کہہ رہا ہو کہ آپ جائیں۔ ان کے جانے کے بعد یہ انابیہ کی طرف مڑا اور اس کے سر پر ایک بوسہ دیا۔
” چلئے شہزادی ہمارے لوگ آپ کے منتظر ہیں. “

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: