Ishq Mein Mar Jawan Novel By Hifza Javed – Episode 11

0
عشق میں مرجاواں از حفضہ جاوید – قسط نمبر 11

–**–**–

جبار انابیہ کو لیئے محل سے باہر آیا۔ہارون اس کے گھوڑے کے ساتھ کھڑا تھا۔اس گھوڑے کا قد عام گھوڑوں سے خاصا لمبا تھا۔اس کا رنگ بھی سیاہ کالا تھا۔جبار انابیہ کا ہاتھ تھام کر اسے آگے لے آیا۔انابیہ کو گھوڑوں سے بہت محبت تھی ۔اس نے بابا اور بھیا کے ساتھ بہت بار رائٹنگ بھی کی تھی۔جبار نے اسے کمر سے پکڑا اور گھوڑے پر بٹھا دیا۔
“ہم کہاں جا رہے ہیں شہزادے۔”
“اپنے لوگوں کے پاس۔یہ رسم ہوتی ہے کہ شادی کے فورا بعد دلہا اور دلہن اپنی رعایا سے ملتے ہیں اور پھر وہ اپنی زندگی کی شروعات وہاں سے ہی کرتے ہیں۔”
اس کی بات انابیہ کو سمجھ نہ آئی۔اس نے پیچھے مڑ کر کر جبار کو دیکھا جس نے جواب میں اس کی ناک شرارت سے دبائی۔اس میں چمکتی ہیرے کی چھوٹی سی نتھ بے پناہ خوبصورت لگ رہی تھی۔
“شہزادی آج ہماری شادی کی پہلی رات ہے۔آج ہم اپنے لوگوں سے ملنے کے بعد جب واپس آئیں گے تو ہماری زندگی ایک شادی شدہ جوڑے جیسے شروع ہوگی۔ہمیں یقین ہے آپ کو سنبھلنے کا وقت مل چکا ہے۔آپ کا تاج تب ہی نیلا ہوگا۔اس کے نیلے ہوتے ہی ہمارے لوگوں کی خوشی دیدنی ہوگی کیونکہ آپ ہماری دنیا کا حصہ بن جائیں گی۔”
“میں آپ کی دنیا کا حصہ کبھی نہیں بننا چاہتی۔مجھے مجبور مت کریں ایک ایسی دنیا پر جس کے مکینوں کے بارے میں مجھے علم ہی نہیں. میں یہ بات نہیں جانتی کہ آپ لوگ انسان ہیں یا نہیں تو میں کیسے اس بات کو مان لو کہ میں اس دنیا کا حصہ ہوں. “
” دادی جان نے آپ کو بتایا تھا کہ جس دن آپ ہماری حقیقت جان جائیں گی آپ کبھی اس دنیا سے جانا نہیں چاہیں گے. تب تک کیلئے آپ کو اس بات کا خود علم ہونا چاہیے کہ آپ کون ہیں اور آپ کی پہچان اب میرے قبیلے کی ملکہ کی حیثیت سے ہے. ہم اور سوالات کے جوابات نہیں دے سکتے۔ ہمیں اس وقت اپنے لوگوں کے پاس جانا ہے اور امید ہے کہ آپ انہیں دیکھ کر نہ ڈریں گی نہ غم کا اظہار کریں گی۔وہ عرصے سے آپ کے منتظر ہیں اور اگر آپ نے ان سے بے رخی برتی تو ان کے دل کو ٹھیس پہنچے گی جو نہ ہم برداشت کر پائیں گے اور نہ ہمارے معصوم لوگ. “
” تو کیا آپ ہمیں اس بات کی سزا دیں گے. “
” ہرگز نہیں شہزادی ہم کون ہوتے ہیں آپ کو سزا دینے والے یہ ہماری درخواست ہے کہ آپ ہمارے لوگوں سے اچھا رویہ رکھیں۔ ایک انسان کا دل بہت نرم ہوتا ہے اور ہم چانتے ہیں کہ آپ ایک رحم کرنے والی انسان ہیں. “
انابیہ اس کی بات سن کر سامنے دیکھنے لگ گئی جبکہ جبار نے اس کے سر پر پیار دیا اور گھوڑا تیز دوڑانا شروع کر دیا.
_________________________________
اس وقت تیمور اپنی بیٹی کو لے کر بیٹھا ہوا تھا. عنایہ تیمور کے ساتھ بہت زیادہ اٹیچ ہوچکی تھی وہاں اس سے ایسے ہی محبت کر رہی تھی جیسے یہ اس کا اپنا سگا باپ ہو۔دروازے سے چوکیدار اندر آیا یہ تیمور کے پاس آیا اور اسے بتایا کہ باہر کوئی لڑکی آئی ہے جو اس سے ملنا چاہتی ہے.
” بھیج دیں بابا اسے اندر دیکھتا ہوں کون ہے. “
انسہ مدہم قدموں سے چلتی ہوئی اندر آئی اس وقت اس نے بلیو جینز پر سرخ رنگ کی کڑھائی والا کرتا پہن رکھا تھا۔گلے میں ڈوپٹہ بھول رہا تھا جس سے یہ بات صاف ظاہر تھی کہ اسے ڈوپتا کرنا نہیں آتا۔تیمور عنایہ کو اٹھائے کھڑا ہوا۔
“ہیلو میں انسہ خان۔”
اس نے ہاتھ آگے گیا۔ اسے دیکھ کر تیمور نے اپنے ذہن یہ بات لانا شروع کی کہ ہوسکتا ہے یہ کوئی جاننے والی ہوں مگر اس کے ذہن میں کوئی بھی ایسی بات نہیں جس سے سامنے کھڑی لڑکی سے کوئی شناسائی نکل آئے.
” اپ کون…….. “
” میں انسہ خان عنایہ خان کی خالہ ہوں میں۔”
تیمور نے اس کا مکمل جائزہ لیا کیونکہ اسے ابھی تک اس بات کا علم نہیں تھا کہ عنایہ کی کوئی خالہ بھی ہے کیونکہ عنایہ کی والدہ کی وفات پر کوئی بھی اسے لینے نا آیا تو اس کے والد کا خاندان اسے لے گیا.
” سوری مگر میں نے آپ کو پہچانا نہیں. “
” میں جانتی ہوں کے آپ مجھے نہیں پہچانتے. دراصل میری آپی کی پسند کی شادی تھی جس کی وجہ سے ان سے بابا نے سارے تعلقات ختم کر دیا. ان کے کی مرنے کی خبر بھی مجھے ایک ماہ بعد ملیں. مجھے پہلے معلوم ہوتا تو میں اپنی بھانجی کو لے جاتی. میں اپنی بھانجی سے ملنا چاہتی ہوں. “
تیمور نے ہاتھ میں اٹھائی ہوئی عنایہ کو دیکھا ۔وہ سمجھ گیا کہ اس نے پہلے کبھی عنایہ کو نہیں دیکھا.” اس اے ملیں یہ ہے میری بیٹی اور آپ کی بھانجی.”
اس نے اپنے ہاتھ میں اٹھائی ہوئی بچی کی طرف اشارہ کیا تو انسہ فورا اس بچی کو اٹھانے کے لئے آگے ہوئی۔ تیمور دو قدم پیچھے ہو گیا۔
” آپ اسے ہاتھ نہیں لگا سکتی اس وقت کہاں تھی آپ جب اسے سب سے زیادہ آپ کی ضرورت تھی.”
” پتا ہے نہ میں نے آپ کو کہ میرے والد نے اس کی والدہ سے تمام تعلقات ختم کر دیے تھے. مجھے امید ہے کہ آپ مجھے میری بھانجی کو لے جانے سے نہیں روکیں گے یہ میری بہن کی آخری نشانی ہے. “
تیمور نے عنایہ کی طرف دیکھا جو اس اجنبی عورت کو ہی دیکھ رہی تھی۔
“آپ کو اپنی بہن کی کچھ تو خبر ہوگی نہ۔ایسا تو ممکن ہی نہیں۔میں آپ کو اپنی بیٹی نہیں دے سکتا۔اگر آپ اس سے ملنا چاہتی ہیں تو ہزار بار آئیں مگر اب یہ میری دسترس میں ہے میری بیٹی ہے اب یہ۔”
“ایک جانے مانے بیرسٹر ہیں آپ ۔امید ہے قانون سے واقف ہو گے۔کسی بھی بچے کی کسٹدی کے معاملے میں سب سے پہلا حق اس کے خونی رشتوں کا ہوتا ہے۔آپ کا اس سے کوئی خونی رشتہ نہیں۔”
انسہ نے اپنا ڈوپتا اپنے شانے پر درست کیا اور بڑے ٹھہرے ہوئے لہجے میں یہ بات کہی۔
“محترمہ آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے جو رشتے دار اس کی ماں کے ہوتے ہوئے اس سے تعلق توڑ چکے تھی انہیں کبھی قانون اس کی ذمہ داری نہیں دے گا۔ایسا کچھ ہے بھی تو آپ کی اطلاع کے لیئے عرض ہے کہ اس کے دادا مجھے اس کی کسٹدی دے چکے ہیں۔اب آپ کا اس پر کوئی حق نہیں۔”
انسہ اس کی باتیں سن کر سخت غصے میں آگئی۔
” آپ کو کس نے حق دیا کے آپ مجھ سے میری بہن کی آخری نشانی چھین لیں۔”
” مجھے کسی نے حق نہیں دیا محترمہ مگر اب یہ بچی میری بیٹی ہے اور میں اپنی بیٹی کے لیے لڑنا اچھے سے جانتا ہوں. آپ اس سے ملاقات چاہتی ہیں تو میری طرف سے مکمل اجازت ہے مگر اگر آپ اس کو مجھ سے لینا چاہتی ہیں تو کورٹ سے جاکر رابطہ کیجے ہماری اگلی ملاقات کورٹ میں ہوگی۔”
تیمور یہ کہہ کر چلا گیا جبکہ پیچھے انسہ اس کے رویے پر بہت زیادہ طیش میں آگئی۔
“چھوڑوں گی نہیں تمہیں میں۔اب ہماری ملاقات کورٹ میں ہی ہوگی۔”
_________________________________
خوبصورت سفید رنگ بستی میں داخل ہوتے ہی گھوڑا اپنی رفتار کم کر چکا تھا۔ انابیہ جہاں جہاں دیکھ رہی تھی لوگ کھڑے ہوئے تھے. مگر ان لوگوں میں بہت سارے لوگ انسانوں سے بالکل مختلف تھے. کچھ کے پیروں کی چار انگلیاں تھی جبکہ کچھ کے ہاتھوں کی چار انگلیاں تھیں۔ جبار میں اس پر اپنی گرفت مضبوط کر دیں جیسے اسے کہنا چاہ رہا ہوں کہ ڈرو نہیں.
گھوڑا دن لوگوں کے درمیان سے گزرا تو ان پر خوبصورت سفید اور نیلے رنگ کے پھولوں کی بارش ہونا شروع ہوگئی. ہر طرف خوبصورت نیلی روشنی پھیلنا شروع ہوگی. جب نے انابیہ کا ہاتھ اٹھایا اور اوپر کیا جیسے یہ لوگوں کو بتانا تو رہا ہوں کہ ان کی ملکہ ان کے درمیان آچکی ہیں۔
ان کا گھوڑا درمیان میں رکا یہاں پر خوبصورت سفید رنگ کا تخت لگا ہوا تھا جس پر دو لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ تھی.
گھوڑا جیسے ہی رکا جبار گھوڑے سے اترا اور اپنے ساتھ ہی انابیہ کو بھی اتارا. کچھ لڑکیاں فورا آئی اور انابیہ کی پوشاک سنبھالی۔ انابیہ اور جبار دونوں نے سفید رنگ کے تاج پہن رکھے تھے۔ ان دونوں کے تاج میں سے خوبصورت سفید اور نیلے رنگ کی روشنی ظاہر ہو رہی تھی. مگر انابیہ کے تاج میں نیلے رنگ کی روشنی بہت مدھم تھی جبار نے اسے بتایا تھا کہ یہ نیلے رنگ کی روشنی تب تیز اور واضح ہوگی جب یہ مکمل طور پر اس کی ہو جائے گی۔ جبار اسے لے کر سفید تخت پر چڑھا۔ اس نے اپنے ساتھ ہی اسے بٹھایا۔ ایک بچی بھاگتی ہوئی آئی اس کے ہاتھ میں خوبصورت نیلے رنگ کے پھول تھے.
” ہماری شہزادی کا آنا مبارک ہو. “
اس نے پھول انابیہ کے آگے پیش کئے تو جبار نے انابیہ کو پھول لینے کو کہا۔ اس نے پھول لے لیے اب جبار اپنے لوگوں کی طرف متوجہ تھا وہ تخت کی کرسی سے اٹھ چکا تھا.
” میرے لوگو آج میں تم سب کو تمہاری شہزادی سے ملوانے لایا ہوں. آج میں اس بات کا اعلان کرتا ہوں کہ یہ تمہاری شہزادی ہیں انابیہ جبارخان. میرے جیتے جی اور میرے مرنے کے بعد بھی یہ تمہاری حکمران رہیں گی۔ ان کا حکم مانا تم سب پر ایسے ہی لازم ہے جیسے میرا ہر حکم مانا تم سب پر لازم. میرے تخت کی آج کے بعد یہ اتنی ہی شریک ہیں جتنا میں خود. مجھے امید ہے کہ آپ سب لوگ اپنی شہزادی سے بہت محبت کریں گے. “
یہ کہتے ہیں جبار پیچھے آیا اور انابیہ کے ساتھ بیٹھ گیا. انابیہ نے ڈھول کی آواز سنی جس کے بعد لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی. جبار نے انابیہ کے کان میں سرگوشی کی۔
” یہ سب اپنی ملکہ کے آنے کی خوشخبری ڈھول بجا کر سب کو بتا رہے ہیں ۔ دیکھ لیں آپ کے لوگ آپ سے کتنی محبت کرتے ہیں۔”
انابیہ اس کی بات پر خاموش ہوگئی. بے تحاشا لوگ اس کے پاس آئے. آدمی جبار سے مل کر جاتے جبکہ عورتیں انابیہ کو بھول دیتی اور اس کے سامنے بہت عقیدت سے سلام کرکے جاتی. انابیہ کو یہ سب ایک خواب لگتا تھا. وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ یہ سب حقیقت ہے اور اسے اس حقیقت کا سامنا کرنا ہے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: