Ishq Mein Mar Jawan Novel By Hifza Javed – Episode 12

0
عشق میں مرجاواں از حفضہ جاوید – قسط نمبر 12

–**–**–

تمام لوگوں سے ملنے کے بعد جبار انابیہ کو اپنے ساتھ دوبارہ واپس لے جانے کے لیے اٹھانے بڑھا. اسی لمحے شیر اس کے سامنے آیا جو روپ بدل کر انسان بن گیا۔
” شہزادی کو ان کے غلام کا سلام. “
” ارے شیروں کیسے ہو. “
” بالکل ٹھیک میرے شہزادے آج آپ نے ہماری بستی کو روشنی بخش دی ہے۔ شہزادی کے یہاں آنے سے ہمارے لوگوں کو اس بات کا یقین ہو چکا ہے کہ میرے شہزادے نے اپنا وعدہ پورا کیا ہے اب ہماری بستی بہت سکون اور آرام سے رہے گی. “
انابیہ با سمجھی سے جبار کی طرف دیکھ رہی تھی جس نے اسے اپنے آثار میں لے لیا تھا جبکہ شیرو ان کے سامنے کھڑا تھا.
” ہم شہزادی کو اسی مقصد کیلئے لائے ہے کہ لوگ یہ بات جان لے کہ ہم اپنے وعدے کبھی نہیں ادھورے چھوڑتے۔”
” شہزادے معاف کیجیے گا مگر ایک بہت اہم حصہ ہے ہم چاہتے ہیں کہ ہم وہ آپ کے گوش گزار کر دیں۔”
جبار نے اس کی بات سنی اور انابیہ کی طرف دیکھا جو اس کے آثار میں بالکل خاموش کھڑی تھی.” تم بات شروع کرو آج کے بعد تم لوگ جو بھی بات کرو گے تم اپنی شہزادی کو بھی اس کا علم لازمی دینا. “
” جیسا حکم میرے پیارے شہزادے. آپ جانتے ہیں کہ انسان کتنے ظالم ہوتے ہیں. ہمارے رب نے ہمارے اور انسانوں کے درمیان ایک حد بنائی ہے جو اس حد کو پار کرتا ہے وہ گنہگار کہلاتا ہے. انسان ہمیں اپنے قبضے میں کرنے کے لیے لاتعداد کوشش کر رہے ہیں. میرے خاندان میں سے میری بھانجی کو قابو کرنے کے لیے ایک عالم چالیس دن سے چلا کاٹ رہا ہے. شہزادے ہمیں ڈر ہے کہ وہ اسے قابو کر لے گا اور وہ قیدی بن جائے گی سالوں کے لئے. “
شیرو تحمل سے یہ بات کر رہا تھا جبکہ انابیہ اس کی بات سن کر خوفزدہ ہو گئی۔
” تم اس المکافتہ مجھے دو. جب وہ توڑنے کی کوشش کرے گا تو ہم اسے ایسی سزا دیں گے کہ وہ ساری زندگی یاد رکھے گا کہ کوئی پوچھنے والا تھا. فکر ہو تمہاری بھانجی ہمارے قبیلے کی عزت ہے ہم اپنی عزت کی حفاظت کرنا جانتے ہیں. “
” شہزادے یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ لوگ۔” انابیہ نے ڈرتے ڈرتے جبار سے پوچھا جو اس کی طرف مڑا۔” شہزادی ہم نے آپ کو بتایا تھا نہ کہ انسان بہت ظالم ہوتے ہیں ان کے دو روپ ہوتے ہیں یا تو وہ بہت رحمدل ہوتے ہیں یا وہ بہت ظالم. ہمارا مقصد صرف اور صرف مظلوم کو ظالم کے ظلم سے بچانا ہے آپ کی دنیا میں کوئی اپنا, اپنا نہیں کوئی خون کی پرواہ نہیں کرتا. “
” آپ کیا کریں گے اس ظالم کو مار دیں گے. “
” نہیں شہزادی ہم اسے عبرت کا نشان بنا ئیں گے کہ آنے والے لوگ یہ بات جان لیں کہ ہمارے درمیان جو حدود ہیں انہیں کوئی پار نہیں کر سکتا. “
” شہزادے اب ہمیں اجازت ہے. “
” اجازت ہے اب تم جاسکتے ہو کل ہمارا ولیمہ ہے لازمی آنا. “
” جیسا حکم میرے شہزادے. سلام “
یہ کہتے ہی شیرو یہاں سے چلا گیا۔ جبار انابیہ کی طرف دیکھنے لگ گیا۔
” آپ جانتی ہیں شہزادی آج ہمارے ایک ہونے کی رات ہے. “
” کیا – – – – کیا مطلب شہزادے. “
جبار نے اس کے کال بہت پیار سے سہلائے۔
” آپ نے اس رات کے بارے میں سنا تو ہوگا جس دن ایک انسان ایک پاکیزہ بندھن سے اجنبی انسان کو اپنی زندگی کا مالک بنا دیتا ہے۔ آج ہماری لیے بہت مراد والی رات ہے. ہم نے سالوں سے اس رات کا انتظار کیا ہے شہزادی۔ یہ ہمارے ہاں کی روایت ہے کہ آپ نے لوگوں سے ملاقات کے بعد شہزادہ اور شہزادی اپنی زندگی کی شروعات کرتے ہیں۔”
” آپ نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ آپ ہماری قدر کریں گے. آپ ہماری اجازت کے بغیر کچھ بھی نہیں کرسکتے. “
” ہم آپ سے بہت محبت کرتے ہیں. بہت سال ہم نے آپ کا انتظار کیا ہے اب ہمارے انتظار کرنے کی طاقت ختم ہو چکی ہے ہم نہیں چاہتے کہ ہم کسی کو نقصان پہنچائیں ۔ آپ بےفکررہیئے ہے شہزادی آپ ہماری بناہوں میں آکر اپنے آپ کو بہت محفوظ پائیں گی۔”
جبار نے یہ کہتے ہیں اسے اپنے آثار میں مکمل طور پر لیا اور اپنی نیلے اور سفید پر پھیلا دیے. رات گہری ہو چکی تھی۔ جبار نے اسے اٹھایا اور اڑنے لگ گیا ۔جبکہ لوگ نیچے سے انہیں سلام کر رہے تھے۔
__________________________________
محل میں پہنچتے ہی جبار اسے اپنے کمرے میں لے گیا۔ انابیہ جب خواب گاہ میں آئی تو اسے خواب کا کو پہچاننے میں وقت لگا. پوری خوابگاہ سفید اور نیلے پھولوں سے بھری ہوئی تھی. بستر پر بھی نیلے پھولوں کی ایک چادر بچھی ہوئی تھی۔ فرش پر جگہ جگہ نیلے اور سفید رنگ کے پھول پڑے ہوئے تھے. جبار انابیہ کو اندر لے کر آیا اور دروازہ بند کر دیا.
سامنے شیشے کے دروازے سے باہر کا خوبصورت منظر نظر آرہا تھا. بے انتہاسردی میں بھی دروازہ کھلا ہوا تھا. جبار انابیہ کو تھامے باہر آگیا۔ اس وقت برف جمی ہوئی تھی. انابیہ نے دیکھا کہ باہر بھی ہر طرف پھول ہی پھول تھے.
آنے والے لمحات سے انابیہ شدید گھبرا گئی۔ وہ یہ بات نہیں جانتی تھی کہ جبار انسان ہے یا جن۔ اوپر سے اس وقت جبار کا رویہ جیسا تھا اس کے ساتھ وہ اسے پریشان کرنے پر مجبور کر رہا تھا۔
” مت پریشان ہوں شہزادی یہ لمحہ آپ کی زندگی میں آنا تھا. آپ جانتی ہیں ہم نے اس لمحے کیلئے کتنا انتظار کیا ہے. ہم ہمیشہ ہر سال اس مزار پر جایا کرتے تھے کہ آپ اس سال شاید وہاں آ جائے. ہر بار اک امید ہوتی تھی کہ اس بار میری شہزادی یہاں موجود ہوں گی.”
” آپ – – – مجھے بتا دیجیے – – – – – آپ جن ہیں یا انسان – – – – – – – میں آپ سے ڈرنا نہیں چاہتی – – – – – میرے لیے یہ سب قبول کرنا بہت مشکل ہے – – – – – – – آپ سمجھ سکتے ہیں نہ ایک لڑکی جب اپنا گھر چھورٹی ہے تو اس پر کیا گزرتی ہے۔”
جب ان نے اسے اپنے حصار میں لیا اور اس کے سر سے تاج اتارا۔ اس وقت ان دونوں کا نشان سفید ہوچکا تھا.
” ہمارے ملن کا وقت آچکا ہے. آپ جانتی ہیں یہ نشان تب سفید ہوتا ہے جب شہزادہ اور شہزادی ایک ہو جاتے ہیں. بہت سال آپ کے والد کو ہم نے یہ وقت دیا کہ آپ کو آگاہ کر دیں – – – – – – – یہ ان کی سب سے بڑی غلطی تھی – – – – – – – – – یہ جانتے ہوئے کہ ان کی بیٹی ایک دن چلی جائے گی – – – – – – انہوں نے اپنی بیٹی کو حقیقت سے آگاہ نہ کیا. اگر وہ آپ کو آگاہ کر دیتے تو آج حالات مختلف ہوتے۔ آپ کے پاس سوچنے سمجھنے کا بہت ہے میری جان. ہمیں آپ کی وجود کی طلب نہیں مگر ہم آپ سے دور رہنا نہیں چاہتے. ہمیں اس بات کو محسوس کر لینے دیجئے کہ آپ ہمارے پاس ہیئں۔ ہم آپ کو اپنی پناہوں میں کبھی غیر محفوظ نہیں چھوڑیں گے. “
یہ کہتے ہیں جب ان نے اسے اپنی باہوں میں اٹھایا. اندر آتے ہوئے اس نے کل گلاس ڈور بند کیا اور پردے برابر کر دیے۔ انابیہ اس کی باہوں میں چھپی ایک چھوٹی سی بچی لگ رہی تھی. جبار اسے بستر پر لے کر آیا اور بٹھا دیا.
جبار نے اس کے ہاتھوں پیروں سے تمام جیولری اتاری۔ انابیہ اس وقت بالکل رو دینے کو تھی۔ جبار اس کے نزدیک آیا اور اس کے بال کھولے جو سنہری تھے.
” میں جب کبھی آپ کو دیکھنے آیا کرتا تھا اور سب سے خوبصورت جو چیز مجھے لگا کرتی تھی وہ آپ کے بال تھے. ہمیں آپ کے بال بہت پسند ہیں ہماری شہزادی. “
یہ کہہ کر جبار نے اس کے بالوں پر اپنے ہونٹ رکھے. جبار اس کی پیشانی پر بوسہ دینے کے بعد اس کی آنکھوں کی طرف آیا. انابیہ کی آنکھیں لرز رہی تھی. اس کے دونوں ہاتھ جبار نے اپنی ہاتھ میں تھام رکھے تھے جبکہ دوسرے ہاتھ سے کمر سے اسے نزدیک کیا ہوا تھا.انابیہ اس کی قربت پر سخت گھبرا رہی تھی۔جبار اس سے الگ ہوا تو انابیہ کو دیکھا۔انابیہ نیجے دیکھ رہی تھی۔
“ہماری آنکھوں میں دیکھئے شہزادی. ہم چاہتے ہیں کہ ہماری قربت کا ہر لمحہ آپ کی آنکھوں میں سما جائے. “
انابیہ نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا تو اس کا روم روم کانپ گیا۔جبار کی آنکھیں سلور رنگ کی ہوچکی تھی۔اس کی آنکھیں گہری نیلی تھی۔مگر انابیہ نے جب دوبارہ دیکھا تو یہ نیلی نہیں گہری سلور ہو چکی تھی۔اس کی نظر اپنی کلائی کی طرف پڑی جو سفید روشنی دے رہی تھی اور پھر بلکل مدہم ہوگئی ۔جبار کا نشان بھی ایسے ہی ہو گیا۔
” یہاں کی ہر چیز ہماری قربت کی گواہ رہے گی۔ اب وہ پہلی عورت ہیں جسے ہم یہ حق دے رہے ہیں کہ وہ ہمارے نزدیک آئے. آپ ہی وہ آخری عورت رہیں گی جسے ہم یہ حق دیں گے. “
یہ کہتے ہیں جبار نے اسے بیڈ پر لٹا دیا اور اس پر جھک گیا۔انابیہ اپنے وجود پر جبار کے ہونٹوں کا لمس محسوس کر رہی تھی۔جبار نے اس کی پوشاک کی زیب کھولی تو انابیہ نے جبار کا ہاتھ تھام لیا۔
“شش ——– اب فرار کا کوئی راستہ نہیں جان جبار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وقت آچکا ہے کہ میں آپ کو پا لوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرے دل کی ملکہ آپ صرف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہماری ڈھرکنیں محسوس کریں۔”
جبار نے اس کے کندھے چومے اور قطرہ قطرہ وہ اس پر حاوی ہونے لگا۔برف باری زور سے شروع ہوگئی۔اس سے گئی زیادہ شدد جبار کے لمس میں آرہی تھی۔وہ انابیہ کو ایسے چھو رہا تھا گویا یہ کانچ کی گڑیا ہو۔انابیہ نے نیند میں جانے سے پہلے جبار کی آنکھیں دیکھیں جو واپس نیلی ہو چکی تھی اور ان کے نشان بھی نیلے ہوگئے تھے۔ شیشے پر پڑے تاج نیلے ہوچکے تھے۔
__________________________________
صبح بہت سہانی تھی برف باری کا سلسلہ اب بھی جاری تھا مگر وقفے وقفے سے. کمرے میں اس وقت سردی کا بلکل بھی پتہ نہیں چل رہا تھا. سفید کمبل میں سوئی ہوئی انابیہ بہت گہری نیند میں تھی. جبار کی آنکھ کھلی تو اس نے گردن موڑ کر باہر دیکھا. صبح کب کی ہو چکی تھی.
” آج ہمیں دیر ہوگی ہماری شہزادی. امید ہے سب نے ناشتہ کر لیا ہوگا اور ہمارا انتظار نہیں کیا ہوگا. “
یہ انابیہ کی طرف دیکھنے لگ گیا تو اس کی سینے سے لگی ہوئی تھی. سخت سردی ہونے کی وجہ سے انابیہ نے اس کے ارد گرد اپنی بازو پھیلا رکھی تھی جیسے یہ اس کے لئے کمبل ہو۔
” میری شہزادی یہاں تو ایسے ہی سردی رہتی ہے صرف دو ماہ ہی گرمی آتی ہے۔ آپ نہ جانے سردی کیسے برداشت کریں گی. مگر ہم ہیں نہ ہم آپ کو کبھی بھی سردی لگنے ہی نہیں دیں گے. “
جبار اس کے کان کی لو چومتا ہوا اسے اور زور سے تھامتا بولا۔
انابیہ کی آنکھ اس کے جگانے سے کھلی.
” میری شہزادی اٹھ جائیے۔ آج ہمارا ولیمہ ہو گا یہاں۔ پھر ہم آپ کے والد کی طرف جائیں گے۔”
انابیہ اس کی بات پر آنکھیں تو کھول چکی تھی مگر اس اسے سخت شرم آرہی تھی۔انابیہ نے رخ موڑا تو جبار نے اس کا رخ دوبارہ اپنی طرف کیا۔
“ہم سے شرمنا کیا شہزادی۔اب تو آپ ہر طرح سے ہماری ہیں۔آپ پر اب صرف ہمارا حق ہے۔”
جبار نے شرارت سے اس کی ناک دبائی۔
“مت تنگ کریں شہزادے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
” اچھا ہم اب آپ کو بالکل بھی تنگ نہیں کریں گے۔ “
” آپ ہم سے ایک وعدہ کیجئے شہزادے. ہمارے والد کے پاس ہمیں آپ کچھ دن رہنے دیں گے. “
” شہزادی ہم نے آپ کو پہلے بھی بتایا تھا کہ اب آپ وہاں جا تو سکتی ہیں مگر زیادہ دن رہ نہیں سکتی. ہمیں وہاں ایک دن کا کام ہے ہم وہاں ایک دن ہی رک سکتے ہیں زیادہ نہیں. آپ اپنے والد کے پاس ایک دن رہ لیجئے گا پھر ہم اپنے محل واپس آئیں گے. “
جبار اس کی پیشانی چومتا ہوا واش روم کی طرف چلا گیا جبکہ انابیہ کو اتنا تو سہارا ہو گیا کہ وہ ایک دن کی رہنے کی اجازت دے رہا ہے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: