Ishq Mein Mar Jawan Novel By Hifza Javed – Episode 13

0
عشق میں مرجاواں از حفضہ جاوید – قسط نمبر 13

–**–**–

انابیہ کو تیار کرنے کے لیئے تاج کے ساتھ تین چار لڑکیاں آئی۔ اس کے ولیمے کا لباس بے انتہا خوبصورت تھا۔نیلے رنگ کا مخملی بے انتہا خوبصورت لباس پر ہیرے لگے ہوئے تھے بیڈ پر پڑا ہوا چمک رہا تھا. انابیہ نے یہ لباس دیکھا تو وہ سب سے پہلے اسے یہ لگا کے جیسے یہ تاروں کو دیکھ رہی ہے کیونکہ لباس چمک رہا تھا۔گوہر خواب گاہ میں آئی اور اس کے پاس بیٹھ گئی گوہر اس کو بتانے والی تھی کہ آج اس کا کتنا قیمتی دن ہے.
” تمہیں معلوم ہے انابیہ آج کے بعد تم پر اس قبیلے کی ایک ذمہ داری آجائے گی. اس قبیلے کی زندگی تمہاری زندگی سے جڑ جائے گی. تمہارا ہر ایک عمل قبیلے پر اثر انداز ہوگا. “
” گوہر کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ یہ سب خواب ہے. انسان ایسے خواب دیکھتا رہتا ہے مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں خواب سے اٹھ جاوں گی اور یہ سب کچھ بدل جائے گا۔”
“ایسا کچھ نہیں ہے انابیہ۔یہ سب حقیقت ہے تم بہت جلد یہ بات سمجھ جاؤ گی آہستہ آہستہ تم اس دنیا میں رہنے کی عادی ہو جائے گی۔تم آرام سے تیار ہو جاؤ پھر تمہیں ہم باہر لے کر جائیں گے. یہاں قبیلے کی عورتوں سے ملو گی تو بہت خوش ہو جاؤ گی۔ پھر تمہارے ساتھ ہم لوگ تمہارے والد کی طرف جائیں گے۔”
“جی گوہر۔”
انابیہ لباس تبدیل کر کر آئی تو اس کو تیار کیا گیا۔گوہر اس کا تاج لے کر اس کے پاس آئی۔”انابیہ تمہارا تاج نیلا ہو گیا ہے۔یعنی تم اور جبار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
ان کی معنی خیز بات پر تمام لازمائیں ہنسنے لگ گئی ۔انابیہ نے شرم سے چہرہ چھبا لیا۔
“ویسے جبار نے کیسے اپنی محبت کا اظہار کیا انابیہ۔اسے دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ تمہیں بڑا تنگ کیا ہوگا۔”
گوہر نے اس کے ساتھ شرارت کی۔انابیہ نے مہندی والے ہاتھوں سے چہرہ چھبا لیا۔اسے تاج نے بہت پیاری مہندی لگائی تھی۔
“اچھا تنگ نہیں کرتے ہم اپنی شہزادی کو۔تاج باہر سب کو بتا دو ہم شہزادی کو لا رہے ہیں۔”
گوہر نے ملازما کو اس کے پیروں میں ہیروں کی پائل پہنانے کا کہا اور خود باہر چلی گئی ۔
_________________________________
انابیہ کا لباس بہت سی ملازموں نے تھام رکھا تھا ۔جبکہ اسے بازو سے گوہر نے پکڑا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ ملکہ یعنی کے جبار کی والدہ بھی تھی جو اسے سیڑھیوں سے نیچے لا رہی تھی.
انابیہ کو نیچے لایا گیا تو محل کے وسط میں خوبصورت طریقے سے تیاری کی گئی تھی. بے تحاشا عورتیں یہاں موجود تھیں. وہ اپنی شہزادی کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے منتظر تھی۔ ملکہ نے انابیہ کو تخت پر بٹھایا جو بالکل وسط میں رکھا گیا تھا ۔اس کے ساتھ ہی بہت ساری عورتیں آتی۔ اس کے لباس کے ساتھ جو بڑی سی نیلی چادر تھی اس کا کونہ تھام کر چوم کر چلی جاتی۔انابیہ کو اتنے سارے لوگوں میں یہ توجہ اچھی نہیں لگ رہی تھی۔سردار بڑے شہزادے اور جبار کے ساتھ ان سب کے درمیان آئے۔بہت سی عورتوں نے اپنے چہرے چھبا لیئے۔سردار اپنے لوگوں سے مخاطب ہوئے۔
” میری پیاری بہنوں آج سے ہماری ایک اور بیٹی ہے. آپ کی شہزادی ہماری بیٹی انابیہ جبارخان۔آج ہم اپنی بیٹی سے وعدہ لیتے ہیں کہ اسے اپنی جان بھی دینی پڑی مگر وہ ہمارے لوگوں سے وفادار رہے گی۔ہمارے لوگوں کا راز وہ اپنی دنیا میں کسی کو نہیں بتائیں گی۔جبار ہماری بیٹی کو خاندانی چادر پہناو۔انابیہ بیٹا اٹھ کر سامنے آو اور ہمارے ساتھ محل کے دربار میں چلو۔بڑی شہزادی بیٹی کو نقاب کروا دو۔”
گوہر کو حکم دے کر سردار اتر گئے۔بڑے شہزادے بھی ان کو ساتھ ہی دربار کی طرف بھڑ گئے. جبکہ جبار چادر لے کر آیا اور انانیہ کو اس میں پورا ڈھک دیا ۔گوہر اس کے قریب آئی اور اس کے حجاب سے ہی اس کو نقاب کروایا۔
“چلو جاو انابیہ آج تم نے اپنا امتحان دینا ہے۔آج تم ہمارے لوگوں سے وعدہ کرو گی جو تمہیں تا عمر نبھانا ہے۔”
گوہر نے اس کا ہاتھ جبار کے ہاتھ میں دیا جو اسے تھامے دربار کی طرف چلا گیا۔انابیہ دربار میں داخل ہوئی تو یہاں بے تحاشا مرد حضرات کھڑے تھے۔سب کی نظریں نیچی جھکیں ہوئی تھی۔ جبار انابیہ کو لئے سامنے بڑے سے تخت پر آیا جہاں اس کی کرسی اپنے باپ کے ایک طرف رکھی ہوئی تھی اور اس کے ساتھ ہی انابیہ کی کرسی رکھی گئی تھی.
انابیہ کو تخت پر بٹھانے کے بعد یہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوا. ہارون اپنے ہاتھ میں ہیرے کی ایک تھالی لے کر آیا جس میں خوبصورت ترین نیلے رنگ کا ہیرا پڑا ہوا تھا. اسی تھال میں ایک کاغذ بھی رکھا گیا تھا جس پر کچھ سطریں لکھی ہوئی تھی. اور اس تھلی انابیہ کے لیے ایک خوبصورت پیلے رنگ کی انگوٹھی تھی۔ سردار اور بڑے شہزادے اپنی اپنی کرسی پر بیٹھے اور جبار کو اشارہ کیا کہ ان اباہ کو اپنا حلف اٹھانے کو کہے.
” انابیہ میری شہزادی آپ کوئی حلف اٹھانا ہے اور ساری زندگی کے لیے اٹھانا ہے. اب ہم سے دو نہیں رہیں گے ہمارے ساتھ یہ تمام لوگ بھی ہوں گے ہمیں انہیں بالکل ایسے ہی رکھنا ہے جیسے یہ ہمارے خاندان والے ہو. ہماری اولاد سے پہلے یہ لوگ آنے چاہیں۔ کیونکہ یہ ہماری رعایا ہیں اور رعایا اپنے خاندان سے پہلے آتی ہے۔ لیجے حلف اٹھائیے۔”
ہارون انابیہ کے سامنے یہ تھالی لے آیا جس میں جو سطریں لکھی گئی تھی وہ اردومیں تھی تاکہ اسے آسانی ہو.
پہلے تو انابیہ کے ہاتھ کانپے مگر یہ جانتی تھی کہ راہ فرار نہیں ہے اس لیے چپ چاپ یہ کاغذ اٹھا لیا اور پڑھنا شروع کیا.
” سلام میرے عزیز لوگو. میں انابیہ جبارخان اسے اس بات کا حلف اٹھاتی ہوں کہ جبارخان میرے شہزادے ہیں. ان کے ساتھ کھڑی میں تم سب لوگوں کی ملکہ اور شہزادی ہوں۔ مجھے خوشی ہے کہ مجھے چنا گیا ہے جبار شہزادے کی شہزادی بننے کے لئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اس بات کا حلف لیتی ہوں کہ جب میں اس دنیا سے اپنی دنیا میں اپنے والدین نے اپنے خاندان سے ملنے جاؤں گی تو تم سب کا راز میرے ساتھ ہی دفن ہو جائے گا. اس دنیا کا ہر ایک راز میرے سینے میں ہی رہے گا وہ کبھی باہر نہیں نکلے گا. تم سب لوگوں کی پہچان اب میری پہچان ہے۔ تم سب پر اگر کوئی خطرہ آئے گا تو تم سب سے پہلے وہ خطرہ میں اپنے اوپر لینا چاہوں گی. میرے شہزادے یا شہزادے کے خاندان کو میری ضرورت پڑے گی تو میں اپنی جان بھی دے دوں گی. – – – – – – – – – – – – میں اس بات کا بھی حلف لیتی ہوں کہ شہزادے کی اولاد کو بہت اچھی تربیت دوں گی اور اسے یہ سکھاؤں گی کہ تم سب لوگ اس کے اپنے ہوں۔ شہزادے سے جڑی ہر چیز اب مجھ سے جڑی ہے. شہزادے پر کیا گیا ہر وار مجھ پر ہوگا۔ ہمیشہ تم لوگوں کے ساتھ وفادار رہوں گی یہ میرا وعدہ ہے۔”
یہ کہہ کر انابیہ نے یہ کاغذ واپس تھالی رکھ دیا۔ بڑے سردار اٹھے اور اس کے پاس آئے. انابیہ نے یہ بات نوٹ ہی نہیں کی تھی کہ اس کے تاج میں ہیرے کی ایک جگہ خالی تھی. بڑے سردار نیلے رنگ کا ہیرا اس کے تاج میں جڑ دیا جس کے تاج کے ساتھ ملنے سے ہیں اس کے تاج میں نیلے رنگ کی روشنی پیدا ہوگئی ایسا لگا جیسے کسی نے اس تاج میں جان ڈال دی ہو. بڑے سردار پیچھے ہوئے اور جبار آگے آیا اس کے ہاتھ پر خوبصورت نیلے رنگ کی انگوٹھی تھی۔ اس کے ساتھ کی ہیں میچنگ انگوٹھی تھالی میں رکھی ہوئی تھی.. جبار نے یہ انگوٹھی اٹھاکر انابیہ کی انگلی میں پہنا دی جس کے بعد تمام دربار میں شور پڑ گیا.
” شہزادی کے مبارک قدم سب کو مبارک ہوں خدا کرے ہماری شہزادی کو لمبی عمر عطا ہو. ” انابیہ چپ چاپ یہ سب شور دیکھتی رہیں کیونکہ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا کرے۔آخر جبار اس کے پاس آیا اور اسے واپس لے جانے کے لیئے اٹھایا۔
“جبار تم شہزادی کو لے کر ان کے گھر جاو ،ہم یہاں سب دیکھ کر آتے ہیں۔جاتے جاتے بستی اور اپنے لوگوں میں تحفے بانٹ جانا۔”
بڑے شہزادے نے جبار کو کہا اور لوگوں کی طرف متوجہ ہوگئے۔جبار انابیہ کا ہاتھ تھامے اسے دربار سے باہر لے آیا۔
__________________________________
جبار اسے لیے محل سے باہر آگیا اس کے ساتھ گوہر اور ملکہ بھی تھی۔ آج ان کا سارا خاندان ہی تقریبا انابیہ کے گھر جا رہا تھا. صرف دادی جان نہیں جا رہی تھی اس کی وجہ ان کی طبیعت ٹھیک وہ زیادہ لمبے سفر کے لیے کسی کی طرف نہیں جاتی تھی. ملکہ نے جبار کو اشارہ کیا کہ تحائف رکھوا دیے۔
جبار میں اثبات میں سر ہلایا تو یہ لوگ سواری کے انتظار میں کھڑے ہوگئے۔ انابیہ ہمیشہ جبار کے ساتھ ہی سفر کرتی تھی اس لئے اسے نہیں معلوم تھا کہ یہاں کی عورتیں کس چیز پر سفر کرتی ہیں. اس کو تو یہ بات بھی معلوم نہیں تھی کہ اس کی دنیا سے یہ دنیا بہت مختلف ہے. یہاں کوئی ٹیکنالوجی نہیں تھی. رات گئے یہاں پر لائٹ بل کی روشنی نہیں بلکہ چراغ جلتے تھے۔ شہر میں دور تک آگ جلا کر روشنی کی جاتی تھی. انابیہ کو یہ بات بھی معلوم نہیں تھی کہ یہاں کے لوگ ٹیکنالوجی سے کوسوں دور ہیں. یہاں انسانوں کی ماڈل دنیا جیسا کچھ بھی نہیں تھا یہ لوگ گھوڑوں پر سفر کرتے تھے اور ابھی بھی پرانے دور کی طرح ہی بگھیاں استعمال ہوتی تھی۔
بھگی ان کے قریب آ کر کھڑی ہوئی جو سفید رنگ گئی تھی. ملازم نے دروازہ کھولا ملکہ اور گوہر دونوں اس میں سوار ہوگئی.
” جبار انابیہ کو نہیں لے کر آؤ گے اندر۔”
” نہیں گوہر آپ لوگ جائے یہ میرے ساتھ ہی گھوڑے پر آئے گی. میں چاہتا ہوں یہ گھوڑے کا سفر کرنا سیکھ جائیں۔ جتنی جلدی یہ گھوڑے پر سفر کرنا سیکھ جائیں گی اتنی جلدی یہ میرے مقابل آ سکیں گی۔ آپ تو جانتی ہیں انہوں نے ابھی ایک جنگجو کی طرح بھی تربیت لینی ہے. آخر کو یہ جبار شہزادے کی بیوی ہیں۔”
جبار نے کندھے سے اسے تھام کر ساتھ لگایا اور بڑے فخر سے کہا۔
” ٹھیک ہے تم اس کو لے کر اور راستے میں تحائف بانٹتے جانا. “
بگی کا دروازہ بند ہوا تو جبار اسے لے کر گھوڑے پر سوار ہوا. یہ وہی کالے رنگ کا گھوڑا تھا.جبار نے اپنے ملازم کو اشارہ کیا جو اس کے ساتھ گھوڑے پر تھا ان کے ہاتھ میں تھیلیاں تھی جس میں سونے کے سکے تھے. دوسرے ملازموں کے پاس تھیلیوں میں بے تحاشا تحائف تھے۔ یہ جیسے جیسے راستے سے گزر رہے تھے انابیہ کے سامنے کچھ انسان آرہے تھے اور کچھ ایسے لوگ جن کی انگلیاں تھی ہی نہیں یا تھی تو چار انگلیاں۔ ایک پل انابیہ کو لگا کے ان میں بہت سارے لوگ انسان ہیں. جبار نے انابیہ کے کان میں ہلکی سی سرگوشی کی۔
” سکے پھینکنا شروع کریں۔”
انابیہ اور جبار دونوں نے تھیلیوں میں ہاتھ ڈال کر راستے میں سکے پہننا شروع کر دیئے جو لوگ اٹھا رہے تھے ۔یہ بادشاہ کی طرف سے سب لوگوں کو خوشی میں انعام دیا جارہا تھا ۔ملازم گزرتے ہوئے لوگوں کو تحائف پکڑا رہے تھے۔ انابیہ کو یہ سب خواب ہی لگ رہا تھا۔ اس نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ زندگی ایسا رخ بھی لے گی۔
__________________________________
دربار پر آتے ہی یہ لوگ دوسرے دنیا میں آگئے انابیہ آج بھی سمجھ نہ پائی کہ جبار نے کیسے اس کے اردگرد پر پھیلائے اور اسے اس کی دنیا میں لے آیا۔ گوہر اور ملکہ بھی اس کے ساتھ تھی۔
یہ جیسے ہی دربار سے نکلے ہارون سامنے کھڑا تھا اور شاندار نیو مافل گاڑیاں ان کے سامنے تھی۔ انابیہ سمجھ نہ پائی کی اس کی دنیا میں بھی ان کے پاس اتنی دولت کیسے ہے۔ گوہر اور ملکہ نیچے والی گاڑی میں بیٹھی جب کہ جبکہ جبار نے انابیہ کے لیے آگے والی گاڑی کا دروازہ کھولا۔
انابیہ کے بیٹھنے کے بعد گاڑی کے دروازے بند ہوگئے۔
انابیہ ان راستوں سے انجان نہ تھی یہ اس کی اپنی دنیا تھی۔ وہ یہ سوچ رہی تھی کہ کیسے آج وہ اپنے والد کا سامنا کرے گی اور انہیں بتائے گی کہ اب وہ کس دنیا کی باسی ہے.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: