Ishq Mein Mar Jawan Novel By Hifza Javed – Episode 14

0
عشق میں مرجاواں از حفضہ جاوید – قسط نمبر 14

–**–**–

جبار اور انابیہ دونوں اس وقت بے حد خاموش تھے۔ایسا لگ رہا تھا جیسے گاڑی میں دو نفوس بیٹھے ہی نہ ہوں۔جبار نے انابیہ کو دیکھا جو بلکل خاموش تھی اور اپنے ہاتھوں کو چھوڑ رہی تھی۔اس کے مخملی ہاتھ مہندی سے سج گئے تھے۔جبار نے اس کے ہاتھوں کو نرمی سے پکڑا۔
“شہزادی کیا ہوا آپ کیوں اتنی ناراض ہیں۔”
“میں ناراض نہی شہزادے۔بس مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ ج میں بابا سے ملوں گی تو گھر واپس کیسے جا پاوں گی۔میں بابا سے بے انتہا محبت کرتی ہوں ۔وہ میرے بابا ہی نہی میرے دوست بھی ہیں۔ ماں کی وفات کے بعد انہوں نے جتنا سپورٹ مجھے کیا ہے کوئی کر ہی نہیں سکتا۔——– مجھے ابھی بھی یاد ہے کہ جب مجھے رات کو ماں کی یاد آیا کرتی تھی تو وہ میرے پاس ہی ہوتے تھے. انہوں نے کبھی مجھے یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ میری والدہ جا چکی ہیں. “
” ہم آپ کو کبھی آپ کے والد سے بات کرنے سے نہیں روکیں گے مگر اب آپ کی ذمہ داری ہمارے لوگوں کی طرف بھی ہے. آپ ہماری بیوی ہیں اور ہمارے گھر کو سوانح بھی اب آپ کی ذمہ داری ہے جس سے آپ غافل نہیں ہو سکتی. “
” شہزادے میں آپ ایک بات پوچھنا چاہتی ہوں کہ آپ نے مجھے ہی کیوں چنا. “
اس کی بات پر جبار نے اس کا ہاتھ سامنے کیا جہاں پر نشان واپس اپنی حالت میں نیلا ہو چکا تھا.” آپ جانتی ہیں یہ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ ہماری قسمت شروع سے ایک تھی. ہم نے آپ کو نہیں چنا ہماری قسمت نے آپ کو ہمارے لئے چنا ہے. آپ یہ بات ضرور کہہ سکتی ہیں کہ ہماری قسمت نے ایک عجیب طریقے سے آپ کو ہمارے پاس بھیجا ہے. مگر یقین مانیئے شہزادی ہم کبھی بھی آپ کو تکلیف نہیں دیں گے. آپ کی شادی اگر اس دنیا میں بھی ہوتی تو آپ اپنے والد کو چھوڑ کر جاتی. ایسا ہی سمجھ لیجئے کہ آپ کسی دوسرے ملک جا چکی ہیں اور اپنے والد سے ملنے آتی رہیں گی. “
جبار نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام اور پیار سے سہلایا.
_________________________________
گاڑیاں حویلی کے باہر آکر رکی جو پوری کی پوری روشن تھی. اسے شادی کے لیے سجایا گیا تھا. شجاع خان نے اپنی بیٹی کی شادی کے لئے پورے گھر کو ایسے سجایا تھا جیسے یہ دلہن ہو۔ انابیہ کے لیے جبار نے گاڑی سے باہر نکل کر دروازہ کھولا۔ گوہر اور ملکہ ان کے پیچھے سے آئی۔
جبار نے انابیہ کا ہاتھ پکڑا اور اسے گاڑی سے باہر لے آ۔یا انابیہ کا لباس بہت زیادہ ہیوی تھا جس کی بدولت اسے چلنے میں مسئلہ ہو رہا تھا۔ گوہر نے بھی انابیہ کوئی طرف سے پکڑا اور جبار کو اشارہ کرکے کہا کہ وہ اسے سنبھال لیں گی۔
ان کے آتے ہی ملازم نے اندر جاکر شجاع اور تیمور کو خبر دی۔ شجاع خان صبح سے اپنی بیٹی کا انتظار کر رہے تھے وہ فورا سے بھاگتے ہوئے باہر آئے۔ بیٹی کو سامنے پا کر ان کے دل کو بے انتہا سکون ملا.
” بابا جان – – – – – – “
انابیہ فورا سے آگے بڑھیں اور اپنے باپ کے سینے سے لگ گئی. وہ رونا شروع ہوگی وہ نہیں جانتی تھی کہ اس وقت اس کا رونا جبار کو کتنی تکلیف دے رہا ہے. تیمور بھی باہر آیا اور بہن کو دیکھ کر اس کے دل میں بھی سکون کاگوشہ آگیا۔
” میری شہزادی بیٹی ٹھیک ہے نا اس کو کوئی مسئلہ تو نہیں ہوا وہاں. “
شجاع نے اسے خود سے الگ کرکے پوچھا وہ اس کے چہرے کا ہر ایک نقش دیکھ رہے تھے کہ ان کی بیٹی تھیک تو ہے نا اسے کوئی نقصان تو نہیں ہوا۔
” میں ٹھیک ہوں بابا. آپ کو معلوم ہے میرا ولیمہ تھا آج وہاں. “
” شکریہ جبار شہزادے ہماری بیٹی کو ہمارے پاس لانے کیلئے. “
” اس میں شکریہ کی کوئی بات نہیں سسر صاحب آپ جانتے ہیں کہ ہم اپنے وعدے کے بہت پکے ہیں۔ آپ نے وعدہ کیا تھا کہ ہم انہیں یہاں لاتے رہیں گے مگر آپ بھی یاد رکھیے کہ آپ نے بھی ہم سے ایک وعدہ کیا ہے. “
تیمور اس کی بات کو اکنور کرتا ہوا اپنی بہن کی طرف آیا۔” کیسی ہے میری شہزادی بہن. “
” میں ٹھیک ہوں بھیا اور میں نے آپ کو بہت یاد کیا ہے آپ جانتے ہیں. “
” میں نے بھی تمہیں بہت یاد کیا ہے معلوم ہے میں تو سوچ رہا تھا کہ اگر تم واپس نہ آئیں تو ہم کیسے رہیں گے تمہارے بغیر. “
شجاع خان نے جبار کے پیچھے کھڑے اس کے خاندان کو دیکھا تو فورا سے ان سے ملنے کے لیے آگے بڑھے۔
” اسلام علیکم آپ لوگ جبار کے والدین میں سے ہیں. “
انہوں نے ملکہ کا سے سوال کیا جنہوں نے سلام کا جواب دیا .” جی بالکل میں جب آپ کی والدہ ہوں اور یہ بڑی بھابھی۔”
یہ بھی بول ہی رہے تھے کہ پیچھے سے بڑے سردار اور بڑے شہزادے آگئے.
میر ابوبکر کو دیکھتے ہی شجاع پہچان گئے یہ بالکل بھی نہیں بنتے تھے اب بھی ویسے ہی تھے.
” کیسے ہو شجاع تم؟”
میر ابوبکر نے بڑھ کر انہیں گلے لگایا تو شجاع نے بھی بڑے اچھے انداز سے انہیں جواب دیا.” بالکل ٹھیک ہیں میر آپ سنائیے بہت عرصے بعد دیکھ رہے ہیں ہم آپ کو۔ جبار نے اتنی جلدی کی ہماری بیٹی کے ساتھ ہم تو خود سوچ بھی نہیں سکے۔”
” اس سب کے لئے معذرت خواہ ہیں. مگر تم یہ بات جانتے ہو شجاع کے ان دونوں کا نکاح پچپن میں ہوگیا تھا. جو بھی ہوا جیسا بھی ہوا اس سب کے لئے جبار کو معاف کردو. ہم یہاں بڑی امید سے آئے ہیں کہ یہاں ہمارا ایک بہترین تعلق قائم ہوگا. “
” بالکل ہم نے اپنی بیٹی کو جب آپ کے ساتھ جانے کی اجازت بھی اسی دی ہے کہ ہم امید رکھتے ہیں کہ وہ اسے بہت خوش رکھے گا۔”
میرعثمان سے بھی یہ آگے بڑھ کر ملے تیمور اور چھوٹے بابا بھی باہر آگئے. ارمان اور اس کی والدہ بھی ان لوگوں سے ملے. انابیہ کی خالہ بھی ملکہ اور گوہر سے ملیں. انابیہ کی نظر اپنی دادی کے لئے بار بار دروازے پر جا رہی تھی۔ اسے سارہ اور دادی جان آتی ہوئی نظر آئیں یہ فورا ان کی طرف آئی اور دادی جان کے سینے سے لگ گئی۔
” دادی جان میری پیاری دادی جان کہاں تھی آپ دیکھیں نا میں آپ سب سے دور جا چکی ہوں۔”
” میری شہزادی بچی جو ہوا بہت برا ہوا. میں شجاع کو بہت پہلے سے کہا کرتی تھیں کہ تمہیں اس بات کا بتا دیں کہ تمہارا نکاح بچپن میں جبار شہزادے سے ہو چکا تھا۔ میری بچی تم ٹھیک تو ہو نا ان لوگوں نے تمہیں کچھ کہا تو نہیں . “
” نہیں دادی جان وہ لوگ بہت اچھے ہیں. خصوصا جبار کے گھر والے بہت اچھے ہیں ان لوگوں نے مجھے ایسے ہی رکھا ہے جیسے میں ان کی اپنی ہی بیٹی ہوں۔”
سارہ بھی آگے آئی اور اسے اپنے گلے سے لگایا۔” ٹھیک ہو نا تم گڑیا ہم تمہارے لئے بہت زیادہ پریشان تھے. “
” جی آپی میں بالکل ٹھیک ہوں. “
” ماشاءاللہ سے کتنی پیاری لگ رہی ہے یہ ایسا لگ رہا ہے کہ یہ کسی فیری ٹیل سے نکلی ہوئی شہزادی ہے۔”
سارہ نے اس کے پیارے چہرے پر ہاتھ پھیرا. انابیہ آج انسانوں کی دنیا سے بے انتہا مختلف لگ رہی تھی۔ انہیں اسے دیکھ کر یہی گمان ہو رہا تھا کہ یہ کسی کتاب سے نکل آئی ہے یا پرانے دور کی کوئی شہزادی ہے۔
” میں شہزادی ہی ہوں اس دنیا میں آپی۔ میرا ایک تاج ہے جو رنگ بدلتا ہے. جیسے میرا نشان ہے نہ نیلا ویسے ہی ہمارے محل کی تقریبا آدھے سے زیادہ چیزیں نیلی ہیں۔ وہاں پر پائے جانے والے درخت بھی نیلے ہیں اس پھول بھی نیلے ہی ہیں۔”
سارہ نے تجسس سے اس سے سوال کیا۔
” اب یہ ہم نے سن رکھا ہے کہ وہ لوگ انسان نہیں ہیں کیا یہ بات سچ ہے. “
انابیہ بولنے ہی والی تھی کہ اسے اپنا لیا ہوا عہد یاد آگیا۔” آپ سب کے لئے یہی جاننا بہت ضروری ہے کہ وہ اب ہمارے لوگ ہیں اور وہ ہمیں ایسے ہی عزیز ہیں جیسے آپ سب. “
جبار جو پیچھے کھڑا ہوا تھا اس کا جواب سن کر مطمئن ہوگیا اور اس کے پاس آیا.
” آپ سب کے لئے یہی جاننا ضروری ہے کہ وہ اب انابیہ شہزادی کا گھر ہے. ہمیں بہت خوشی ہوئی کہ شہزادی اپنے فرائض بہت اچھے سے جانتی ہیں. “
جبار نے دادی اور سارہ کو جواب دیا اور انابیہ کی طرف بڑے پیار سے دیکھا۔
” بیٹا ہمیں چلنا چاہیے . سب لوگ ہوٹل میں ہمارا انتظار کر رہے ہیں ۔تم لوگ جانتے ہو کہ آج یہاں سے انابیہ کی رخصتی کریں گے۔ بے شک تم لوگ ولیمہ کر چکے ہو، مگر ہماری دنیا میں ہم لوگوں کو یہی بتائیں گے کہ آج ہی اس کی رخصتی ہوئی ہے۔”
“جی دادی جان آپ پریشان مت ہوں۔ہم اسی ارادے سے آئے ہیں۔آج شہزادی یہاں ہی رہیں گی۔آپ لوگوں کے ہاں رسم ہے نہ کہ بیٹی ماں باپ کے گھر آتی ہے شادی کے اگلے روز۔ہماری شادی تھوڑی عجیب ہوئی مگر ہم ہر رسم ادا کریں گے۔ “
جبار نے بہت احترام سے دادی صاحب کو کہا۔دادی صاحب بہت زیادہ حیران تھی جبار کو دیکھ کر۔وہ سمجھ رہی تھی کہ جبار شاید ان کی پوتی کے ساتھ بہت زیادہ ظلم کرے گا ۔مگر انہوں نے اسے بہت مختلف پایا۔
یہ لوگ ہوٹل کے لیئے نکل پڑے۔
________________________________
ہوٹل میں سب خاندان والے اتنے خوبصورت لڑکے کو دیکھ کر حیران ہوگئے۔انابیہ سر تا پیر ہیروں سے لدی ہوئی تھی۔اس کے ہاتھ بے انتہا خوبصورت لگ رہے تھی۔سونے کے کنگن اور چوڑیاں اس کے ہاتھوں میں کھنک رہی تھی۔جبار اس کے ساتھ انابیہ کے دنیا کے لباس میں ہی ملبوس تھا۔
گرے رنگ کا پینٹ کوٹ اسے بے انتہا خوبصورت لگ رہا تھا جبکہ انابیہ کے نیلے اور سفید لباس سے یہ بہت پیارا میچنگ ہو رہا تھا۔ آپ لوگ باری باری اسٹیج پر آکر انہیں مبارکباد دے رہے تھے. جبار کو یہاں لوگوں میں بہت عجیب لگ رہا تھا یہ جب نھی انسانوں کی دنیا میں آتا تھا اسے ہمیشہ عجیب ہی محسوس ہوتا۔ سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ یہ بہت سے انسانوں کے دماغ کو پڑھتا تھا اور ان کے دماغ میں چلنے والی تمام باتیں اسے معلوم ہوتی تھی۔ اسے سب سے زیادہ حیرت اس بات پر ہوتی تھی کہ یہ انسان کے منہ پر کچھ اور بولتے ہیں اور دماغ میں کچھ اور سوچتے ہیں.
تیمور عنایہ کو اٹھائے ہوئے انابیہ کے پاس آیا. عنایہ کو انابیہ پہچان نہیں پائی تھی۔ کیونکہ اس سے اس کی ملاقات نہیں ہوئی تھی۔
” انابیہ اس سے ملو یہ ہے میری بیٹی عنایہ۔ انایا بیٹا ہم نے آپ کو بتایا تھا نا کہ آپ کی پھوپھو ہیں یہ ہیں آپ کی پھوپھو جانی. “
جبار نے تیمور کے ہاتھ سے بچی کو لے لیا۔
” لاؤ تیمور اسے ہمیں دو کتنی پیاری ہے یہ۔”
جبار نے اسے گود میں بٹھا جبکہ انابیہ اس کے ہاتھ پکڑ کر چومنے لگی.
” کتنی پیاری ہے یہ بھیا – – – – – “
” بہت پیاری ہے آخر کو بیٹی کس کی ہے. تمہیں یاد ہے تم ہمیشہ کہا کرتی تھیں کہ بھیا جب بھی آپ کے بچے ہوں گے تو میں انہیں بہت ساری شرارتی سکھاؤں گی. کیا اب بھی تم اسے ایسے ہی شرارتی سکھاؤں گی. “
” بالکل بھی امی جب بھی آپ لوگوں سے ملنے آؤگی اس کے ساتھ بہت سارا کھیلا کرو گی. “
جبار تیمور کی طرف مڑا وہ جانتا تھا کہ یہ اپنی بہن سے بہت محبت کرتا ہے اور اس کے دماغ میں اس وقت ایک ہی بات چل رہی ہے کہ اگر اس کی بہن دوبارہ ان سے ملنے نہ آسکی تو یہ اس کے بغیر کیسے رہیں گے۔
” تیمور انابیہ کے لحاظ سے میں تمہارے تمام concern جانتا ہوں۔ دیکھو میں یہ بھی جانتا ہوں کہ یہاں پر بات فرسٹ کی آتی ہے۔ تم مجھے اپنا بھائی ہی سمجھو میں کبھی یہ نہیں سمجھوں گا کہ تم کوئی الگ انسان ہو. میں جب کوئی وعدہ کرتا ہوں تو اس کو پورا کرنے کے لیے اپنی جان بھی قربان کر دیتا ہوں. تمہیں مجھ پر یقین ہونا چاہیے کہ میں تمہاری بہن کو تمہارے پاس لایا کروں گا. “
” بھیا آپ پریشان مت ہوں میں ملنے آیا کرو گی. میں وہاں پر خوش رہوں گی بھائی یہ لوگ بہت اچھے ہیں۔”
تیمور نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا.” بہت جلدی بڑی ہوگئی ہے ہماری گڑیا آج اگر ہماری والدہ زندہ ہوتی تو اس کو دیکھ کر بہت زیادہ خوش ہوتی. “
تیمور کے بات کرنے پر انابیہ کی آنکھوں سے آنسو ہونا شروع ہوگئے۔ جبار نے عنایہ کو تیمور کی گود میں دیا۔ خود یہ انابیہ کی طرف مڑا اور اس کے آنسو صاف کیے۔
” شہزادی جو چلے جاتے ہیں ان کو ہمیشہ اچھی یادوں میں ہی یاد رکھنا چاہیے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہوتی ہے کہ جو ہم سے بچھڑ جاتے ہیں انہیں ایسے الفاظ میں یاد رکھیں کہ جب بھی انہیں یاد کیا جائے ہمارے دل میں ان کیلئے بے انتہا پیار بڑھ جائے. مگر جانے والے کے لئے ہمیشہ دعا کرنی چاہیے رونا نہیں چاہیے. ہماری دعاؤں کی بہت ضرورت ہوتی ہے انہیں. ہم جانتے ہیں کہ انسان اپنے جذبات کو قابو نہیں کر سکتا اور بے اختیار اس کے آنسو نکل آتے ہیں. اگر ان آنسوؤں میں اچھی یادیں ہو تو وہ ایک خوبصورت لمحہ بن جاتا ہے.”
جبار نے بہت خوبصورت بات کی۔ تیمور اس کی بہت سے بہت زیادہ ایمپریس ہوا . وہ سٹیج سے نیچے اترا اور مہمانوں سے ملنے کے لئے چلا گیا۔
گوہر اور سارہ اوپر آئی۔” انابیہ تم کھانا کھالو. وہاں سے تم بہت زیادہ تھک گئی ہو گی. پہلے ولیمہ پھر یہاں آکر یہ فنکشن۔”
” گوہر آپ ایسا کریے کہ ان لوگوں سے کہیں کسی کمرے میں کھانا لگا دیں. انابیہ بہت زیادہ تھکی ہوئی ہے۔”
انابیہ کی کمر جواب دے گئی تھی۔ساری رات بھی جبار نے اسے سونے نہیں دیا تھا۔صبح سے یہ کھن چکر بنی ہوئی تھی۔
کھانا کمرے میں لگا دیا گیا جبار اس کے ساتھ ہی بیٹھا ہوا تھا. ” شہزادی ہمیں بہت خوشی ہوئی کی آپ نے اپنا وعدہ نبھایا اور اپنی دنیا کے بارے میں لوگوں کو نہیں بتایا. آپ اگر اپنی ذمہ داری سمجھیں گی زندگی بہت آسان ہو جائے گی. “
اس نے روٹی کا نوالہ انابیہ کے منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔” جیسا کہ آپ کہتے ہیں جبار شہزادے کے آپ اپنے وعدوں میں بہت زیادہ پکے ہیں ویسے ہی ہم بھی اپنے وعدے نہیں توڑتے۔ جب آپ نے ہمیں ان لوگوں کی ذمہ داری دے دی ہے تو عوام سے یہ بات مت کریں ہم پیار کے بدلے پیار ہی دیتے ہیں نفرت نہیں“
” یہی تو بات ہے آپ میں جس سے آپ کسی بھی انسان کو متاثر کردیتی ہیں. میری شہزادی ہمیں بہت اہم کام کیلئے جانا ہے آپ اپنا بےانتہا خیال رکھیے گا کل دن میں ہم آپ کو لنچ کے بعد لینے آئیں گے. “
” کیا ہم دو دن اور نہیں رہ سکتے. “
” ہم تو شاید آپ کو اجازت دے دی مگر آپ کا نشان آپ کو اجازت نہیں دے گا. اب آپ جب تک ہمارے ساتھ نہیں ہوگی آپ اس دنیا میں نہیں رہ سکتی اور ہمیں یہاں کل کل ہی جانا ہے. ہمارے لئے بہت سارے کام وہاں پر پڑے ہوئے ہیں جو ہم نے پورے کرنے ہیں. آپ سمجھ رہی ہیں ایک شہزادی کی کیا ذمہ داری ہوتی ہے. آپ نے اب ہمارا ساتھ نبھانا ہے ہم وعدہ کرتے ہیں کہ آپ کو آپ کے والدین سے پندرہ دن بعد ملاوانے لائیں گے۔”
” شکریہ شہزادے – – “

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: