Ishq Mein Mar Jawan Novel By Hifza Javed – Episode 15

0
عشق میں مرجاواں از حفضہ جاوید – قسط نمبر 15

–**–**–

ہوٹل سے ہیں یہ لوگ واپس گھر آ چکے تھے. جبار انابیہ کو اس کے گھر چھوڑ کر کہیں جا چکا تھا جبکہ جبار کے سب گھر والے اپنی دنیا میں واپس چلے گئے تھے کیونکہ بہت زیادہ دیر اس دنیا میں قیام نہیں کر سکتے تھے۔ انابیہ سارہ کے ساتھ کمرے میں آئی۔ انابیہ کا نشان اس وقت بہت زیادہ تکلیف دینا شروع ہو گیا تھا جبار نے اسے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ جب بھی وہ اس سے دور جائے گا یا وہ اپنی دنیا میں واپس آئے گی تو اس کا نشان اسے بہت تکلیف دے گا. بقول جبار کے اگر انابیہ اگر جبار کی دنیا میں رہے گی تو یہ نشان اسے ہرگز تکلیف نہیں دے گا مگر انابیہ کی اپنی دنیا اب اس کی اپنی دنیا نہیں تھی جس کی بدولت یہ نشان تکلیف دے رہا تھا.
” سارہ آپی مجھے بہت زیادہ درد ہو رہا ہے بازو میں ۔ آپ ایسا کیجیئے کہ ٹھنڈا پانی لا دیں میں اس پر رکھوں جلن ہو رہی ہے۔”
سارہ اس کی بات سن کر واش روم کی طرف گئی جہاں سے اس نے پیالے میں پانی ڈالا اور ایک کپڑا بھی ساتھ اٹھا لائی.
تیمور عنایہ کو سلا کر انکے پاس آیا.
” کیسی ہو انابیہ. مجھے تم بالکل بھی ٹھیک نہیں لگ رہی وہاں سب لوگ کیسے ہیں تمہارے ساتھ کیسا سلوک رکھتے ہیں تم تو انکی دنیا کی نہیں ہو .”
” بھیا وہ لوگ بہت اچھے ہیں آپ یقین کیجئے مجھے وہاں ایسا محسوس ہی نہیں ہوا کہ میں کسی پرائے گھر میں آ چکی ہوں.
بھیا میں بہت زیادہ ناراض ہو بابا سے انہیں مجھے پہلے بتا دینا چاہیے تھا کہ میرا نکاح کسی انسان سے ہوچکا ہے. آپ جانتے ہیں وہاں جاکر مجھے کتنے مسائل کا سامنا کرنا پڑا. سب سے زیادہ دکھ مجھے اس بات کا ہوا کہ بابا نے مجھے واپس ان کے ساتھ بھیج دیا میں انکار بھی نہیں کر سکی. “
” انابیہ میں خود اس بات سے بہت زیادہ پریشان ہوں کہ بابا نے اتنی جلدی فیصلہ کیوں لیا وہ ہمیشہ یہی بات کہتے تھے کہ ہم کبھی جلدبازی میں فیصلہ نہیں کر سکتے مگر تمہارے معاملے میں انہوں نے بہت زیادہ جلدی کی. وہ ایک ہی بات کہتے ہیں کہ تمہارا نکاح جبارخان سے ایک بہت بڑی غلطی تھی. “
” بھیا پھر کیوں انہوں نے میرا نکاح جبار سے۔ کیا وہ سردار کو یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ ہم اپنی بیٹی کا نکاح اتنے بچپن میں نہیں کریں گے۔”
تیمور نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور دلاسہ دیتے ہوئے بتایا. بابا بتاتے ہیں کہ تم اتنی شدید بیمار ہو چکی تھی کہ جب وہ تمہیں مزار پر لے کر گئے تھے تو تم بالکل بھی ٹھیک نہیں تھی ڈاکٹرز کہتے تھے کہ تم ایک دن بھی زندہ نہیں رہ پاؤگی. ہمارے نانا جان نے والدہ کو کہا تھا کہ تمہیں میر سردار کے مزار پر لے جایا جائے. بابا اور والدہ دونوں راضی نہیں تھے مگر نہ جاننے انہیں زبردستی بھیجا تھا. وہاں جاکر میرسردار تمہیں واپس نہیں کر رہے تھے. بابا کہتے ہیں کہ انہوں نے یہی سمجھا تھا کہ شاید جب ان کے پوتے بڑے ہوں تو وہ یہ نکاح بھول جائیں مگر یہ ان کی سب سے بڑی غلطی تھی۔”
سارہ پانی لے کر آئیں اور انابیہ کے نشان پر کپڑا رکھنا شروع کیا. تیمور نے انابیہ کی نشان والی بازو پکڑی اور اس کا جائزہ لیا. ” بہت زیادہ درد کر رہا ہے کیا تمہارا نشان. کیا ان کے گھر بھی تمہارا نشان ایسے ہی تکلیف دیتا ہے تمہیں. “
” نہیں بھیا وہاں اسے بالکل بھی نہیں ہوتا. آپ جانتے ہیں جب آپ کو ولیمے کے لیے بلانے آئے تھے مگر انہوں نے پھر یہ بات سوچی اگر آپ ہماری دنیا میں آئیں گے تو شاید وہاں ایڈجسٹ نہ کرسکیں اسی خاطر آپ کو ہمارے ولیمے میں پر نہیں بلایا گیا۔ وہ اپنے لوگوں کے بارے میں بہت زیادہ pocessive ہیں اس لیے وہ باہر والوں کو ان کے بارے میں بالکل بھی نہیں بتاتے.”
” وہاں پر تمھیں کیسا ماحول گا وہ لوگ کیا ہم سے بالکل مختلف ہیں. “
سارہ کے سوال پر انابیہ نے بالکل مختصر سا جواب دیا۔” وہ بالکل ہم جیسے ہی ہیں اپی سمجھ لیجئے کہ ہم میں اور ان میں کوئی بھی فرق نہیں. “
” تم بیٹھو انابیہ میں دادی کو دیکھ کر آؤں ان کے کوئی رشتہ دار آئے تھے جن سے ملنے بابا اور چھوٹے بابا گئے ہوئے ہیں۔”
تیمور اس کے پاس سے اٹھ گیا۔” آپی میں کچھ دیر سونا چاہتی ہوں. صبح سے میں بہت زیادہ تھک چکی ہوں. “
” ٹھیک ہے تم سو جاؤ . میں لائٹ بند کرتی ہوں ۔صبح جلدی اٹھ جانا۔”
سارہ لائٹ آف کر کے چلی گئی اور انابیہ بیڈ پر سونے کے لئے لیٹ کی۔
_________________________________
انابیہ اس وقت گہری نیند میں تھی جب کھلی کھڑکی سے جبار نے اندر چھلانگ ماری۔ جبار نے آتے ہی سب سے پہلے انابیہ کے ماتھے پر ہاتھ رکھا اور اسے بے ہوش کر دیا. وہ جب بھی آتا تھا تو ہمیشہ ایسے ہی اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھتا جس سے یہ گہری نیند میں چلی جاتی اور اسے کچھ بھی یاد رہتا۔ جبار اس کے ساتھ ہی آکر لیٹا اور اسے بازو کے حلقے میں لیا.
” ہم جانتے ہیں کہ آپ کو پریشان میں بہت زیادہ درد ہو رہا تھا. ہمیں بھی ایسی ہی تکلیف تھی انابیہ ہم آپ سے دور نہیں رہ سکتے. ہم نے بہت مشکلوں سے آپ کو یہاں آنے دیا ہے ورنہ ہمارے ہاں کا یہ اصول نہیں کہ جو ایک مرتبہ ہماری دنیا میں چلا جائے وہ کبھی واپس آئے. “
جبار نے اس کے ماتھے پر آئے ہوئے بال پیچھے کیے اور اس کی پیشانی پر ایک پیار دیا۔” ہمیں سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہوئی کہ آپ نے اپنا کیا ہوا عہد نبھایا. آپ نے اپنے لوگوں کو جو وعدہ دیا آپ نبھا رہی ہیں یہی ایک بہترین شہزادی اور ملکہ کی نشانی ہے۔”
جبار اس کے ایک ایک نقش کو دیکھ رہا تھا جیسے حفظ کرنا چا رہا ہو۔
” معلوم ہے ہم آپ کو ہر رات دیکھنے آیا کرتے تھے. ایسے ہی معصوم لگتی تھی آپ تب بھی۔ تم ہمیشہ یہ بات سوچا کرتے تھے کہ آپ سوتے ہوئے سب زیادہ اچھی لگتی ہیں یا جاگتے ہوئے. اگر آپ ہمارا اصلی روپ دیکھنے تو شاید آپ ہمارے نزدیک کبھی بھی نہ آئیں۔ مگر ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمارا وہ روپ جلد ہی دیکھ لیں. کیوں کہ آپ نے اسی کے ساتھ رہنا ہے. آپ اگر ہم سے دور بھی جانا چاہیں تو ہم آپ کو کبھی نہیں جانے دیں گے. “
یہ ابھی انابیہ سے بات ہی کر رہا تھا کہ اس کے کان میں آواز آئی اور کسی نے اس سے رابطہ کیا.
” شہزادے جس مقصد کے لیے آپ آئے تھے وہ پورا ہونے والا ہے. اس شخص کا عام ہو چکا ہے اب ہمیں صرف آپ کا انتظار ہے کہ اسے کیا سزا دینی ہے۔”
جبار نے بند آنکھیں کھولی تو اس کی آنکھیں اس وقت سلور رنگ کی تھی.
” میرا انتظار کرو میں پہنچ رہا ہوں. “
جبار نے یہ کہتے ہی انابیہ کا سر اپنی بازو سے ہٹا کر تکیہ پر رکھا۔
” اپنا خیال رکھے گا شہزادی ہم آپ کو کل صبح ہی لینے آ جائیں گے. “
__________________________________
صبح بہت زیادہ حسین تھی .انابیہ ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھی ہوئی تھی جبکہ عنایہ اس کی گود میں تھی جو اس کے مہندی لگے ہاتھوں سے کھیل رہی تھی۔
” عنایہ جائیں آپ کو بابا بلا رہے ہیں۔”
سارہ نے آتے ہی عنایہ کو کہا اور انابیہ کے ساتھ بیٹھ گئی۔
عنایہ انابیہ کی گود سے اتر کر بھاگتے ہوئے تیمور کے کمرے کی طرف چلی گئی.
” بھیا کافی زیادہ پیار کرتے ہیں اس سے. “
” بہت زیادہ وہ اسے بالکل بیٹھی مانتے ہیں اور یہ بھی ان سے بہت زیادہ اٹیچ ہوگئی ہے. انابیہ میں نے تم سے ایک بات پوچھنی تھی.
“ آپی آپ کو کبھی اجازت دینے کی ضرورت پڑی ہے. “
” تمہارے ساتھ جبار کا رویہ کیسا ہے۔تمہارے اور اس کے درمیان تعلقات کیسے ہیں ۔تم سمجھ رہی ہو نہ میں کیا پوچھنا چاہتی ہوں۔”
“جی آپی میں سمجھ گئی ہوں۔ہمارے درمیان تعلق اچھا ہے۔وہ مجھے خود سے دور نہیں کوتے۔کبھی کبھی ان سے بہت ڈر لگتا ہے مگر پھر میں اپنے دل کو سمجھا لیتی ہوں کہ اب رہنا تو ان کے ساتھ ہی ہے نہ۔”
” کیا ہو تم بھی مارتے ہیں یا ایسا کچھ…………. “
” ارے نہیں آپی ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ ایسے انسان نہیں جو مجھ پر ہاتھ اٹھائیں۔”
” انابیہ انہیں دیکھ کر ہی مجھے ڈر لگ جاتا ہے ۔وہ تمہارے ساتھ کیسا رویہ رکھتے ہوں گے یہ سوچ کر ہی مجھے پوری رات نیند نہیں آئی۔”
انابیہ اس کی بات کا مطلب سمجھ کر سر جھکا گئی۔
“آپی وہ اگر وحشی دکھتے ہیں تو میرے ساتھ وہ۔ایسے نہیں ہیں۔انہوں نے مجھے اب تک سخت ہاتھوں سے بھی نہیں پکڑا۔”
سارہ نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔
“تمہارے ساتھ کوئی زبردستی وغیرہ—“
“نہیں آپی۔ایسا کچھ نہیں ہے۔میں نے انہیں خود کے پاس آنے سے نہیں رکا ۔میں نہیں چاہتی تھی کہ میری جدت سے میرا ہی نقصان ہو کیونکہ میں جانتی تھی کہ وہ کبھی بھی مجھ سے دور نہیں رہیں گے۔ انہوں نے بہت سال میرا انتظار کیا ہے. میرے قریب آنا ان کا حق تھا.میں ان سے ان کے انتظار کا حق نہیں چین سکی۔مجھ میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ ان کے پیار کو جھٹلا سکوں۔ مگر ان کو سمجھنے میں مجھے ابھی بہت زیادہ وقت لگے گا. “
” مجھے امید ہے کہ تم اپنے گھر بہت زیادہ خوش رہو گی. “
شجاع خان ان کے پاس آکر بیٹھ گئے.
” ہماری بیٹی کیا ہم سے بات نہیں کرے گی۔ ہمیں لگ رہا ہے کہ ہماری بیٹی ہمارے فیصلے پر ہم سے بہت زیادہ ناراض ہے. “
” نہیں بابا جان ایسا کچھ بھی نہیں ہے. “
” بیٹا ہم تمہیں بتانا چاہتے ہیں کہ کچھ فیصلے ہماری زندگی کے لیے بہت مشکل ہوتے ہیں. مگر اگر وہ فیصلے نہ لیے جائیں تو جیتی جاگتی زندگی برباد ہو جاتی ہے. تم جانتی ہو کہ اگر تمہاری شادی کے لئے ہم انکار کردیتے تو بھی وہ تمہیں لے ہی جاتا۔ اور اگر وہ تمہیں ایسے لے جاتا تو ہم تم سے زندگی بھر مل نہ سکتے۔ تم ہماری لاڈلی بیٹی ہو ہم نے تمہیں بہت ناز اور پیار سے پالا ہے. ہمیں پوری امید ہے کہ جب وہ تمہیں بہت زیادہ خوش رکھے گا“
” آپ پریشان مت ہوں بابا جان ہم آپ سے ناراض نہیں ہیں۔”
ابھی یہ لوگ بات کر ہی رہے تھے کہ نوکر نے آ کر اطلاع دی.
” صاحب جی جبار میاں آچکے ہیں وہ کہہ رہے ہیں کہ بی بی کو بلائیے انہیں دیر ہو رہی ہے۔”
” وہ اتنی جلدی آ گیا شام میں آجاتا. “شجاع خان اٹھے اور ڈرائنگ روم کی طرف جانے لگے.
” انابیہ تم جاؤ میں دادی جان کو لے کر آؤں۔”
سارہ یہ کہہ کر داڑھی جان کے کمرے کی طرف گئی جہاں سے انہیں لے کر آنا تھا کیونکہ وہ جان چکی تھی کہ انابیہ چلی جائے گی۔
_________________________________
” ارے جبار تم اتنی جلدی آ گئے ہم تو سوچ رہے تھے کہ آج شام تک آؤگے. ہماری بیٹی کو کچھ دیر تو ہمارے پاس رہنے دیتے.”
” معاف کیجیے گا سسر صاحب مگر ہمیں اپنی دنیا میں جانا ہے ہمارے بہت ضروری کام ہیں جنہیں پورا کرنے کے لیے ہماری ضرورت ہے. ہم انابیہ کو ٹھیک پندرہ دن بعد یہاں لائیں گے. “
انابیہ بھی ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی اس وقت اس نے اپنی دنیا کا لباس پہن رکھا تھا. گھٹنوں تک آتی پرپل رنگ کی فراک اور ساتھ میں نیٹ کا دوپٹہ اس کے گلے میں تھا. کانوں میں اس نے گولڈن رنگ کے بڑے آویزی پہن رکھے تھے جبکہ بال کھلے ہوئے شانوں پر بکھرے تھے. اس وقت یہ بہت زیادہ پیاری لگ رہی تھی بالکل گڑیا جیسی.
” سلام میری شہزادی آپ کتنی پیاری لگ رہی ہیں. “
” وعلیکم اسلام جبار شہزادے. آپ بہت جلدی ہمیں لینے آ گئے ہیں ہم کچھ اور دے رکنا چاہتے تھے یہاں۔”
” شہزادی ہمیں بہت ضروری کام سے جانا ہے. آپ ناراض مت ہو یہ ہم آپ کو پندرہ دن بعد واپس یہاں لے کر آئیں گے. فورا سے جائیے اور چادر لے آئیے پھر نکلتے ہیں۔”
شجاع نے بیٹی کو اشارہ کیا کہ وہ جائے اور جانے کی تیاری کرے. دادی جان آئی اور اس سے ملیں وہ بھی نہیں چاہ رہی تھی کہ یہ اتنی جلدی جائے مگر جب بار کو بہت جلدی تھی. تیمور بھی اس سے ملا اور یہ لوگ اسے گاڑی تک چھوڑ کر گئے۔
جبار اسے اپنے بازو کے حلقے میں لیے ہوئے بیٹھا تھا جب اس کے کانوں میں آواز آئی.
” شہزادے آپ کا مجرم اس وقت ہمارے پاس ہے. رات آپ نے اس کے ساتھیوں کا جو حال کیا اس کے بعد یہ بھاگ رہا تھا مگر ہم نے اسے پکڑ لیا اب آپ بتائیے کہ کیا کرنا ہے. “
جبار نے بند کی ہوئی آنکھیں کھولی تو اس کی آنکھیں دوبارہ سلور ہوچکی تھی انابیہ نے اس کی طرف دیکھا تو جبار مسکرانے لگ گیا جبکہ انابیہ اس سے دو فٹ کے فاصلے پر ہوئی. اسے بہت انجانا خوف محسوس ہو رہا تھا.
” تم لوگ تیاری پکڑو میں راستے میں آرہا ہوں. شہزادی آپ کیوں ڈر گئی ہیں. “
” آپ کی آنکھیں سلور رنگ کی ہو چکی ہیں. “
” یہ تو ہوتی ہی رہتی ہیں یاد ہیں ہماری شادی کی پہلی رات بھی یہ سلور ہوئی تھی اب آپ کو اس بات کی پہچان ہونی چاہیے ذریئے مت۔ ہارون گاڑی رکو۔ شہزادی آپ گاڑی میں ہی بیٹھیے گا ہم دس منٹ تک آتے ہیں۔”
________________________________
جبار کو گئے ہوئے دس منٹ سے اوپر کا وقت ہو چکا تھا. ہارون بھی اس وقت گاڑی میں نہیں تھا جہاں پر ان کی گاڑی رکھی تھی وہ مزار سے دس منٹ کے فاصلے پر تھی. یہاں پر تقریبا ہر طرف ویرانہ ہی تھا. انابیہ کچھ سوچ کر گاڑی سے باہر نکل کر آئی۔ اس کا رخ اس سمت کی طرف تھا جہاں تھوڑی دیر پہلے جبار اور ہارون دونوں گئے تھے۔ انابیہ کو چیخنے کی آوازیں آرہی تھیں. اسے پہلے تو بہت زیادہ ڈر لگا پھر تجسس سے اس نے آگے قدم بڑھانے شروع کردیے اسے معلوم تھا کہ اسے کوئی بھی مسئلہ ہوگا تو جبار آجائے گا. جیسے جیسے یہ آگے بڑھ رہی تھی انسانی چیخوں کی آواز اور بلند ہو رہی تھی. یہ جب سڑک کے وسط میں پہنچی تو جو منظر اس نے دیکھا اسے ایسا محسوس ہوا کہ زمین اس کے پیروں سے نکل چکی ہے.
زمین پر خون میں لت پت ایک انسان پڑا ہوا تھا. جبار کے ہاتھوں پر خون لگا ہوا تھا جبکہ وہ آدمی اس وقت تڑپ رہا تھا. جبار کے ہاتھ اس وقت شیر کے پنجوں جیسے لگ رہے تھے. اس کے ہاتھوں کی سکن شیر کی جیسے تھی۔ ہارون نے ایک اور انسان کو پکڑا ہوا تھا جسے دیکھ کر ہی خوف آرہا تھا۔
” بہت خواہش تھی نہ تمہیں جنوں کو قید کرنے گی۔اس مخلوق سے تمہارا بہت گہرا تعلق تھا نہ تم انہیں نقصان پہنچانے سے پہلے یہ نہیں سوچتے تھے کہ وہ جیتی جاگتی مخلوق ہیں ان کا بھی کوئی خاندان ہے اور ایسے قید کرنے سے ان کو کتنی تکلیف ہوتی ہے.تمہیں بہت شوق تھا نہ سردار جن سے ملنے گا تو لو تمہاری خواہش کو ابھی پورا کر دیتا ہوں. “
یہ کہتے ساتھ ہی جبار نے اس کی بازو ہی تن سے الگ کردی۔ یہ کرتے ہوئے جبار کو بالکل بھی دقت نہ ہوئی اس نے اپنے ایک ہاتھ سے ہی اس کا بازو الگ کر دیا۔
انابیہ جو پیچھے کھڑی ہو یہ منظر دیکھ رہی تھی چیخ اٹھی۔ اس کے دیکھنے پر ہارون اور جبار نے پیچھے مڑ کر دیکھا جبار کی آنکھیں ایسے تھی کہ سفید رنگ کے حصہ میں سرخ رنگ تھا اور نیلے رنگ کے حصے میں سلور رنگ تھا اسے دیکھ کر ایک درندے کا گمان ہوتا تھا. انابیہ آہستہ آہستہ پیچھے قدم اٹھانے لگی۔
“ہارون اس کا معاملہ دیکھو میں آتا ہوں تمہاری شہزادی کرچکی ہیں. “
جبار اپنی شہزادی کی طرف آنا شروع ہوا جب کہ انابیہ اس کے ہاتھوں اور پاؤں کو دیکھ رہی تھی جو بالکل انسانوں جیسے نہیں تھے۔ انابیہ کا دماغ گھومنا شروع ہوگیا اور یہ الٹے قدم بھاگئی. بھاگتے ہوئے اس نے یہ بھی نہ دیکھا کہ اس کا ڈوپٹہ کہاں گیا ہے اور جوتا کہاں گیا.
پکی سڑک پر یہ بہت زوردار طریقے سے گر گئی. اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا آچکا تھا اور بند ہونے سے پہلے اسے یاد تھا کہ جبار نے اپنی شیر جیسے ہاتھوں سے اسے اٹھایا تھا۔ یہ چاہ کر بھی مزاحمت نہ کر پائی. جبار اسے لے کر اپنی دنیا میں چلا گیا وہ جانتا تھا کہ انابیہ نے ابھی صرف اس کا آدھا روپ دیکھا ہے اگر وہ پورا دیکھ لیتی تو شاید وہ کبھی اس کے پاس نہ آتی. مگر اس نے یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ چاہے جو بھی ہو اسے اگر انابیہ کو قید بھی کرنا پڑے تو وہ کبھی انابیہ کو دور نہیں جانے دے گا.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: