Ishq Mein Mar Jawan Novel By Hifza Javed – Episode 16

0
عشق میں مرجاواں از حفضہ جاوید – قسط نمبر 16

–**–**–

جبار انابیہ کو لئے واپس اپنی دنیا میں آ گیا وہ جانتا تھا کہ اس وقت انابیہ کو سنبھالنا کافی مشکل ہوجائے گا۔ یہ جب محل آیا تو وہ سب سے پہلے گوہر اسے دروازے پر ہی ملیں ۔اس نے انابیہ کو اپنی باہوں میں اٹھا رکھا تھا انابیہ کا چہرہ سفید پڑا ہوا تھا.
” خدا خیر کرے جبار اس کی ایسی حالت کیوں ہے. “
” اس نے میرا آدھا روپ دیکھ لیا ہے آپ جانتی ہیں نہ کہ انسان جب ہمیں دیکھتے ہیں تو انہیں کیسا محسوس ہوتا ہے“
” بہت ڈر گئی ہوگی نہ یہ کیا کہا اس نے تمہیں. “
” کچھ بھی نہیں کہا گوہر بس بے ہوش ہوگئیں مجھے دیکھ کر. مجھے امید ہے کہ جلد ہی یہ سمجھ جائیں گی کہ انہیں میرے ساتھ ہی رہنا ہے اسی روپ میں. “
” تم جاؤ اس کو کمرے میں لے جاؤ اسے آرام کی ضرورت ہے میں دودھ بھجوا دیتی ہوں اسے پلا دینا. “
” جی گوہر ہم چلتے ہیں. “
جبار اسے لئے کمرے میں آیا اور بیڈ پر لٹایا سردی اس وقت اپنے عروج پر تھی اس نے پردے برابر کیے اور آتشدان میں آگ جلا دی کمرے میں تھوڑی ہی دیر میں ماحول پر حدت ہو چکا تھا. انابیہ کو کمبل میں لٹانےکےبعد جبار تھوڑی دیر کے لئے باہر چلا گیا۔ جس لمحے یہ واپس آیا گہری رات ہو چکی تھی انابیہ ابھی بھی سو رہی تھی مگر اسے معلوم تھا کہ بہت ہی جلد وہ جاگنے والی ہے اور پھر اسے اس کے بہت سارے سوالوں کے جوابات بھی دینے ہیں۔
انابیہ کا سر بہت شدید درد کر رہا تھا اس نے اپنی آنکھیں اس طرح آہستہ کھولی تو سب سے پہلے اس نے اپنے اوپر خوبصورت مخمل کا نیلا کمبل دیکھا۔ کمرے میں اس وقت روشنی تھی ہر طرف دیے کی طرح کچھ روشنیاں تھیں جو پورے کمرے کو روشن کر دیتی تھی. انہیں دیکھ کر ایسا ہی لگتا تھا جیسے بجلی کے بلب ہے مگر حقیقتا یہ بجلی کے بلب نہیں بلکہ عجیب سے اک سے جلنے والی روشنیاں تھی ۔ اپنی پیشانی پر اس نے ساتھ سوئے ہوئے جبار کا ہاتھ دیکھا تو اسے ایسا محسوس ہوا جیسے کسی شیر نے اس پر اپنا پنجہ رکھا ہوا ہے۔
سارا منظر ایک دم اس کی آنکھوں کے سامنے آیا اور یہ چیختے ہوئے اٹھ گئی.
” دور ہٹو مجھ سے تم………… “جبار کی آنکھ کھلی تو اس نے دیکھا کہ انابیہ بیڈ سے اترنے والی ہے اس نے فورا اسے تھام لیا۔
” کہاں جارہی ہیں شہزادی آپ کی طبیعت بالکل بھی ٹھیک نہیں ہے آرام سے لیٹ جائیے۔”
انابیہ نے اس کا ہاتھ اپنے کندھے سے جھٹکا اور چیختے ہوئے بیڈ سے اتر گئی۔
” تم انسان نہیں ہو تم ایک جانور ہو. میں تمہیں دیکھ چکی ہوں میرے نزدیک مت آنا. “
جبار بھی فورا بیڈ سے اٹھا اور انابیہ کی طرف آیا جو اس وقت اسے ایسے دیکھ رہی تھی جیسے جبار اسے کھا جائے گا۔
” شہزادی ایسا کچھ بھی نہیں ہے دیکھیں ہم بالکل صحیح ہیں آپ کے سامنے. آپ نے جو دیکھا وہ بھول جائے وہ ہمارا ایک ایسا روپ ہے جو بہت کم لوگ جانتے ہیں. “
یہ دوبارہ سے انابیہ کے پاس آیا انابیہ پیچھے بھاگنا شروع ہوگی.
” مت کریں ایسے شہزادی. آپ ہماری بیوی ہیں آپ کو ہمیں ہر حال میں قبول کرنا ہے کسی بھی روپ میں. “
اس نے انابیہ کو اپنے سینے سے لگا لیا. انابیہ اسے چھڑا کر بھاگنا چاہتی تھی مگر بھاگ نہیں پا رہی تھی. انابیہ کی پشت جبار کے سینے سے لگی ہوئی تھی جبکہ جبار نے اس کے دونوں ہاتھ بہت مضبوطی سے تھام لیے تھے.
” شہزادی ایسے بھاگنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے آپ جانتی ہیں کہ آپ ہماری دنیا میں ہے اور یہاں سے واپسی کا کوئی راستہ ممکن نہیں. “
” میں تمہاری اس دنیا میں ہرگز نہیں رہوگی میں نہیں جانتی تھی کہ تم ایک انسان نہیں ہوں. “
” اگر آپ مجھے انسان سمجھیں گی تو میں آپ کے لیے ایک انسان ہی ہوں. “
انابیہ نے چیخ کر یہ بات کہی.” کوئی انسان اتنا ظالم نہیں ہوتا کہ کسی زندہ انسان کے جسم کا حصہ اس سے الگ کردے. کیا اس شخص کو تکلیف نہیں ہوئی جب تم نے اس کا بازو الگ کیا وہ ایک انسان تھا اس کی روح میں بہتا خون میرے جیسا ہی تھا. اگر تم اسے نقصان پہنچا سکتے ہو تو میں تمہارے آگے کوئی چیز نہیں. “
جبار نے اس کے دونوں ہاتھ اسکی پشت پر باندھے اور اس کا رخ اپنی طرف کیا۔
” آپ کو لگتا ہے ہم آپ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں. “
” مجھے لگتا نہیں مجھے پکا یقین ہے کہ تم جنگلی روپ میں کچھ بھی کر سکتے ہو. قدرت کا یہ قانون ہرگز نہیں کہ ایک دن یا انسان کی شادی ہو۔ تم ایک جن شادی ہو یا کوئی جانور میں نہیں جانتی مگر تمہارا میرا کوئی میل نہیں۔”
جبار بہت گہرائی سے انابیہ کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا انابیہ اس پر شدید ڈر گئی جب جبار کی آنکھوں نے رنگ بدلا۔ جبار کے ہاتھوں نے اپنا روپ بدل لیا اس کے ہاتھ اور پیر ایک شیر جیسے ہو گئے تھے اس کے پر نکل آئے تھے جبکہ اس کی گرفت انابیہ پر ایسے مضبوط ہوگی کہ اسے لگا اس کی جان نکل جائے گی.” ہم آپ کو آج دکھاتے ہیں کہ ہم اصل میں کیا ہے تاکہ آپ کو بھی ہم سے یہ گلہ نہ کریں کہ ہم نے آپ کو اپنی حقیقت نہیں. مگر ایک بات یاد رکھیے گا شہزادی اب آپ ہماری ہیں . ہم آپ کو یہاں سے کہیں نہیں جانے دیں گے اس کے لئے چاہے ہمیں آپ کو خوبصورت زندہ میں قید ہی کیوں نہ کرنا پڑے. “
جبار نے اسی لمحے اپنی آنکھیں بند کیں اور جبار کا وجود بدل گیا جبکہ چہرہ وہی رہا. انابیہ کو محسوس ہوا کہ یہ ایک شیر جیسے انسان کی باہوں میں ہے جس کے وجود پر شیر جیسے بال اور شیر جیسی کھال ہے جبکہ چہرہ انسانوں جیسا۔
” چھوڑ دو تمہیں خدا کا واسطہ ہے میں بہت زیادہ ڈر چکی ہوں میرا دل نکل آئے گا. “
جبار نے اس کا چہرہ اپنی سے جیسے بندے والے ہاتھ سے اوپر کیا جس میں چار انگلیاں تھیں.” شہزادی ہم آپ کو کبھی نہیں چھوڑ سکتے ہماری آنے والی اولاد میں بھی یہی خوبیاں ہوں گی۔ آپ اس کو بھی دیکھ کر کیا ڈر جایا کریں گی. “
عنابعہ کا وجود ٹھنڈا پڑ رہا تھا اس کی آنکھوں کے آگے باربار انداھیرا آرہا تھا اور یہ اتنی سہم چکی تھی کہ اسے سامنے کھڑے شخص کی شکل بھی صحیح طرح نظر نہیں آ رہی تھی۔ جبار نے اسے اپنےسینے سے لگایا اور بیڈ کی طرف بلایا۔ انابیہ نے اپنی آنکھیں بند کر رکھی تھی جبکہ اس کے دونوں ہاتھ جبار کے ہاتھوں میں تھے۔
” یہ دستور یہاں صدیوں سے ہے کہ یہاں آنے والی شہزادی ہمیشہ انسان ہوتی ہے. آپ جانتی ہیں کہ میں بھی ایک انسان ہوں اگر آپ مجھے انسان دیکھنا چاہیں. “
جبار کی آواز اس وقت بہت بھاری ہو چکی تھی اور انابیہ کو اپنے کان کے پاس سے اس کی آواز آرہی تھی ۔” چھوڑ دو مجھے میں تمہیں کہہ رہی ہو میں تمہارے ساتھ ہرگز نہیں رہنا چاہتی. “
” آپ کے چاہنے یا چاہنے سے کیا ہوجائے گا ہمارا نکاح ہوچکا ہے آپ ہمارے ساتھ رہ چکی ہیں اب آپ کو ہمارا یہ روپ قبول کرنا ہے۔”
” مت جاؤ قدرت کے قانون کے خلاف ہمارے درمیان ایک دیوار حائل ہے جس کو تم توڑ نہیں سکتے. میں نہیں جانتی تھی کہ تم انسان نہیں ورنہ میں اپنی جان دے دیتی مگر تمہیں نہ اپنتی۔”
” شہزادی آپ اس بات کی فکر مت کیجئے کہ ہم نے قدرت کا کوئی قانون توڑا ہے ہم نے قدرت کا کوئی قانون نہیں توڑا. آپ اپنے آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکتی جب آپ اپنے آپ کو نقصان پہنچانا چاہیں گی تو ہمیں معلوم پڑ جائے گا اور ہم آپ کو ہمیشہ کی طرح خود سے کبھی دور نہیں جانے دیں گے یہ بات یاد رکھیں. “
” چھوڑ دو ہمیں ہم تمہارے ساتھ نہیں رہیں گے ہمیں اپنی دنیا میں جانا ہے اپنے انسانوں کے بیچ۔”
” وہ بھی انسان نا جو میرے معصوم لوگوں کو تنگ کرتے ہیں انھیں اپنا قیدی بناتے ہیں کیا آپ تب نہیں دیکھتی. “
” مجھے نہیں معلوم کے تمام انسانوں سے اتنی نفرت کیوں کرتے ہو تمہیں یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ میں بھی انہی انسانوں میں شامل ہوں. “
” سب انسانوں سے نہیں چند انسانوں سے جو اس بات کا خیال نہیں کرتے کہ ہمارے درمیان جو فاصلہ ہے وہ کسی وجہ سے ہے. جب وہ ہمارے معصوم لوگوں کو قید کرتے ہیں سالوں سال انکو اپنی قید سے نکلنے نہیں دیتے تو ان کے خاندانوں پر کیا گزرتی ہے آپ جانتی ہیں. ہمارے بھی خاندان ہوتے ہیں ہماری بھی ایک مخلوق ہے جس کے تمام حق آپ جیسے ہیں. “
جبار نے آنکھیں بند کئے اور اس کا انسانوں جیسا روپ واپس آگیا. انابیہ کو محسوس ہوا کہ جس انسان نے اسے سینے سے لگا رکھا تھا اس کے ہاتھ اب نرم پڑ چکے ہیں کسی شیر جیسے نہیں ہیں۔
اس نے آنکھیں اٹھا کر جبار کو دیکھا جس نے اس کا چہرہ سہلانا شروع کردیا جیسے یہ چھوٹی سی معصوم بچی ہوں.
” ہماری بات کو سمجھ لیجئے شہزادی آپ نے ایک عہد لیا ہے آپ سے عہد لینے کا مقصد ہی یہی تھا کہ آپ جان لیں اب آپ ہماری دنیا کا حصہ ہے. ہمارے لوگ اب آپ کی بھی ذمہ داری ہیں اور وہ آپ کو انسان نہیں اپنا سمجھتے ہیں. جب کبھی انسان ہمارے مخالف جائیں گے تو آپ کو ان کے خلاف کھڑے ہونا ہے ہمارے ساتھ. “
میں تمہارے ساتھ یہاں نہیں رہوگی میں نا حق اپنے معصوم انسانوں کو نقصان نہیں پہنچانا چاہوں گی اگر انہیں تکلیف ہوگی تو اس سے کئی زیادہ تکلیف مجھے ہوگی. “
جبار نے اس کا چہرہ تھوڑی سے پکڑا اور اوپر کیا. اس کے چہرے کے نزدیک جاکر جبار نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔
” ہر کوئی اپنے کیے کی سزا پاتا ہے شہزادی یہ بات یاد رکھیں میں نے کبھی کسی انسان کو یہ اپنے لوگوں کو بنا قصور سزا نہیں دی. جو جتنی سزا کا مستحق ہوتا ہے اسے اتنی ہی سزا ملتی ہے. “
سزا تو پھر آپ کو بھی ملنی چاہیے. آپ نے بھی تو ایک انسان کے احساسات کا خیال کئے بغیر اسے اس کی دنیا سے الگ کردیا اس کے سامنے ہیں اس کے اپنوں کو نقصان پہنچایا. “
” ہم کبھی بھی آپ کے اپنوں کو نقصان نہیں پہنچائیں گے ہم بتا چکے ہیں. جو جتنا قصوروار ہے اس کو اتنی ہی سزا ملتی ہے. آپ ایک بات سمجھ لیجیے کہ آپ ہماری ہیں ہمارے لوگ آپ کے ہیں نہ کہ وہ۔”
اس نے اپنے ہونٹ انابیہ کے گالوں سے لاتے ہوئے ہونٹوں تک لائے۔ انابیہ کا نشان سفید ہوگیا۔ اس کا نزدیک آنا انابیہ کو برا نہیں لگ رہا تھا حالانکہ اس کا دل یہ کر رہا تھا کہ اس کو اپنے آپ سے اتنا دور کردے کہ کبھی یہ اس کے پاس نہ آئے۔
” آپ کبھی بھی ہمارا اپنے پاس آنا برا محسوس نہیں کریں گی کیونکہ ہماری روحیں آپس میں مل سکی ہیں. ہم جب بھی آپ کے پاس آئیں گے آپ کو ایک سکون کا احساس ہوگا آپ کو کبھی ہماری قربت میں تکلیف نہیں ہوگی. جانتی ہیں کیوں. یہ نشانہ ہمیں جوڑتا ہے ۔یہ نشان اس بات کی گواہی ہے کہ ہم ایک ہیں ہماری روح ایک ہے۔”
اس کے ہونٹوں پر جھکتے ہوئے جبار نے اسے اپنے انداز میں باور کروایا انابیہ کے دونوں ہاتھ اس کے ہاتھوں میں تھے.
اس وقت انابیہ کو ایسا لگا کے اس کا دماغ اس کے ساتھ نہیں ہے . جبار نے اسے بیڈ پر لٹایا اور اس کے اوپر جھکا انابیہ صرف اسے دیکھ رہی تھی اس کا دماغ اس وقت صرف اس بات کو مان رہا تھا کہ سامنے بیٹھا شخص اس کا شوہر ہے اس کا محرم.
” شہزادی ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ ہماری زندگی آپس میں جڑ چکی ہیں آپ کبھی بھی ہمیں اپنی نزدیک پا کر خود کو نامکمل محسوس نہیں کریں گی. ہم جب بھی آپ سے دور جائیں گے آپ کو ہماری طلب ہوگی آپ چاہیں گی کہ ہم آپ کے نزدیک رہیں۔ اب آپ ہم سے دوری برداشت نہیں کر پائیں گی۔”
انابیہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھا.” یہ تو زور زبردستی ہے آپ ہمارے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے. “
جبار نے اس کی دل کے مقام پر ہاتھ رکھا اور اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا.” کیا آپ کا دل اس وقت ہمارے پاس آنے کو نہیں کررہا ۔بولیے کیا آپ کو ہماری قربت بری لگ رہی ہے۔”
” یہ محبت نہیں محض ایک فطری عمل ہے شہزادے. “
اس کی بات پر جبار نے اس کی تھوڑی سے اس کا چہرہ اوپر کیا.” یہ فطری عمل نہیں دو روحوں کا ملاپ ہے شہزادی. ہم آپ سے دو لمحے کی دوری بھی برداشت نہیں کر سکتے یہ زور زبردستی نہیں ہماری محبت ہے. ہم آپ پر حق رکھتے ہیں یہ بات یاد رکھیے. “
” آپ ہمارے نزدیک تو آ سکتے ہیں مگر ہمارے دل میں جگہ نہیں بنا پائیں گے کیوں کہ ہم آپ کو ایک وحشی روپ کے ساتھ کبھی قبول نہیں کریں گے۔”
” آپ نے ہمیں اپنا شوہر مان لیا ہمارے لیے یہی بہت ہے اگر آپ کو ہم سے محبت نہ بھی ہوئی تو ہماری محبت ہمیں مکمل کردے گی ہمیں اس بات کا یقین ہے. “
یہ کہہ کر جبار اس کی شفا گردن پر جھکا اور اپنی پیار کی مہر ثبت کی۔ رات آہستہ آہستہ گزر رہی تھی جبکہ جبار انابیہ پر مکمل طور پر حاوی ہو چکا تھا۔
_________________________________
تیمور اور سارہ اس وقت دونوں لاونچ میں بیٹھے ہوئے تھے اس وقت عنایہ کے سکول کے بارے میں ڈسکشن ہو رہی تھی کہ عنایہ کو کون سے سکول میں بھیجا جائے۔
” بھیا انابیہ کے جانے سے گھر کتنا اکیلا ہو گیا ہے نا ایسا لگ رہا ہے کہ وہ کبھی یہاں واپس نہیں آئے گی. “
ایسا مت کہو وہ واپس آئے گی مجھے پورا یقین ہے اور وہ بہت خوش تھی تم جانتی ہو میں نے اس کی آنکھ میں ایک چمک دیکھی تھی اس لئے میں نے اسے کچھ بھی ایسا نہیں کہا جس کی وجہ سے وہ ہمارے لئے پریشان ہو. “
” سب کچھ کتنا اچانک ہوا ہے نہ بھیّا ہمیں سوچنے کا موقع بھی نہیں ملا. “
” بس زندگی ایسی ہی ہے دو پل میں گزر جاتی ہے اور ہم نادان انسان اس کو گزارنے کیلئے کتنے منصوبے بنا دیتے ہیں. “
عنایہ بھاگتے ہوئے آئیں اور تیمور کی گود میں بیٹھ گئی.” انکل بابا مجھے نیند نہیں آرہی تھی آپ مجھے کہانی سنانے نہیں آئے نا. “
” میری بیٹی ابھی تک سوئی نہیں۔ سوری بابا بیزی تھے اسی لئے وہ آپ کو کہانی سنانے نہیں آ سکے مگر ابھی وہ اپنی پرنسز کو کہانی سنانے آ رہی ہیں۔”
عنایہ کو اس نے اپنی گود میں اٹھایا اسی لمحے اس کا فون جو ٹیبل پر پڑا تھا بچ گیا. کال ایک انجان نمبر سے آ رہی تھی جس کے بارے میں یہ نہیں جانتا تھا.
” ہیلو.. “
آگے سے ایک لڑکی کی آواز آئی.” اسلام علیکم میں انسہ بات کر رہی ہوں انایہ کی خالا. “
” وعلیکم السلام آپ نے میرے نمبر پر کیوں کال کی وہ بھی اتنی رات گئے. “میں آپ سے یہ کہنا چاہ رہی ہو کہ میں نے کورٹ میں کیس دائر کردیا ہے میری اور آپ کی ملاقات آنے والے ہفتے میں ہوگی یہ بات یاد رکھے گا مسٹر خان کے اپنی بھانجی کو میں آپ سے لے کر رہوں گی.”
” او تو محترمہ نے اس لئے اتنی رات گئے مجھے کال کی تو میں آپ کو ایک بات بتاتا چلوں کہ جس کے خلاف اپنے کیس کیا ہے وہ اس وقت سب سے بڑا بیرسٹر ہے یہ بات یاد رکھ لیجئے۔ اس بچی کی آپ بات کر رہی ہیں اسے میں نے اپنی بیٹی بنا کر اپنے گھر میں جگہ دی ہے. ہمارے خاندان میں اپنی بیٹیوں کی حفاظت کیلئے اپنی جان بھی قربان کر دی جاتی ہے. اپنی بیٹی کے لیے صرف ایک ہی کیس لڑنا ہے وہ میرے لئے بالکل مشکل نہیں“
” بہت گھمنڈ ہے نہ آپ کو مسٹر خان آپ کا یہ گھمنڈ میں نے توڑ نہ دیا تم میرا نام بھی انسہ آفندی خان نہیں۔”
تو مس انسہ آفندی خان اب یہ بات سن لیجئے کہ میری ملاقات آپ سے کورٹ میں ہوگی تو آپ کو میرے بارے میں اچھے سے علم ہو جائے گا. ابھی میں اپنی بیٹی کو کہانی سنانے جا رہا ہوں مجھے امید ہے آپ میرا وقت ضائع نہیں کریں گی. “
یہ کہتے ساتھ ہی اس نے کال بند کر دی.
” عجیب لڑکی ہے اس نے تو تنگ کر کر رکھا ہوا ہے جب میری بیٹی کو اس کی ضرورت تھی تب یہ نہیں آئی اور اب آ رہی ہے میں ہرگز اسے جیتنے نہیں دوں گا. “
” بھیا یہ آپ کے لیے مسئلہ بنائیں گی بعد میں۔”
“ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا تم اپنے بھائی کو نہیں جانتی میں جاکر اسے سلاتا ہوں تم بھی جا کر سو جاؤں اس کو تو میں خود ہی دیکھ لوں گا. “
یہ کہہ کر تیمور اپنے کمرے کی طرف چلا گیا. یہ لوگ نہیں جانتے تھے کہ قسمت دور کھڑی ان پر مسکرا رہی ہے کہ اس کے کھیل بڑے ہیں نرالے ہوتے ہیں.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: