Ishq Mein Mar Jawan Novel By Hifza Javed – Episode 17

0
عشق میں مرجاواں از حفضہ جاوید – قسط نمبر 17

–**–**–

تیمور کمرے میں بیٹھا اپنی فائل سٹڈی کر رہا تھا ۔اسے موبائل پر کال آئی۔آج بھی ایک انجانے نمبر سے کال تھی۔اس کو یہی لگا کہ انابیہ کی کال ہے۔
“تیمور خان۔”
“یس آئی ایم تیمور خان۔”
“میں ساجد آفندی خان بات کر رہا ہوں۔تم مجھ سے واقف تو ہوگے نہ۔”
تیمور نے کرسی سے ٹیک لگائی۔
“آپ کو کون نہیں جانتا محترم۔بولیئے کوئی دھمکی رہ گئی تھی جو آپ مجھے دینا چاہتے ہیں۔”
“میں تمہیں کوئی دھمکی نہیں دے رہا۔میرا مقصد صرف اتنا ہے کہ اس بچی کو خود تک محدود رکھو۔یہ جو کیس کا ڈرامہ لگا ہوا ہے اسے ختم کرو۔ مجھے وہ بچی نہیں چاہیے۔تم اسے رکھ لو۔میری بیٹی کو اس س سے دور کرو ۔وہ جذباتی ہے اسے نہیں معلوم کہ وہ بہت زیادہ جذباتی ہے وہ اس بات کو نہیں جانتی کسی کی برائی اولاد کو پالنا بہت زیادہ مشکل کام ہے اسی خاطر میں تمہیں یہ بات کہہ رہا ہوں کہ اب تم نے اس بچی کی ذمہ داری بھی ہے تو پوری طرح سے نبھاؤ . ہمیں اس بچی سے کوئی غرض نہیں اس کی ماں سے ہمارا تعلق اسے دن ٹوٹ گیا تھا جس دن وہ ہمارے گھر کی دہلیز پار کرکے اس کے باپ کے ساتھ چلی گئی تھی۔”
” آپ کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ میں نے آپ کی بیٹی کو نہیں کہا کہ وہ مجھ پر کیس کریں یا میری بچی کو لینے کے لئے آئے. آپ کی بیٹی خود ہی مجھ پر کیس کر چکی ہے اس لیے میرے ساتھ مت ایسی باتیں کریں اپنی بیٹی کو پہلے اپنے کنٹرول میں کریے. “
” وہ تو میں اچھے سے کر ہی لوں گا مگر تم سے ایک گزارش یہ ہے کہ اب اس بچی کو اپنے پاس ہی رکھو ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں۔”
” بے فکر رہیے خاندان اتنی عزت رکھتا ہے کہ اپنی بچیوں کی ذمہ داری اٹھا سکے. امید ہے آپ مجھے دوبارہ کال نہیں کریں گے. “
یہ کہہ کر تیمور نے فون بند کر دیا اس کا دماغ خراب ہو رہا تھا کہ باپ کچھ اور کہتا ہے بیٹی کچھ اور کہتی ہے۔ اب اس نے ان دونوں کو ٹھکانے لگانا تھا اس نے یہ بات سوچ لی تھی۔
________________________________
انابیہ کی آنکھ صبح کھلی تو اس کے ساتھ جبار نہیں تھا ۔یہ کمرے میں اکیلی تھی جبکہ کلاس ڈور سے پردہ ہٹا ہوا تھا اور باہر کے منظر سے یہ پتہ چل رہا تھا کہ صبح ہوچکی ہے۔
اس نے اپنے اوپر سے کمبل ہٹایا اور واش روم کی طرف چلی گئی . کمرے میں اس وقت آتشدان جل رہا تھا جبار یہ آتشدان جلا کر گیا تھا وہ جانتا تھا کہ جب انابیہ اٹھے گی تو خاصی سردی ہو گی۔
واش روم سے نکلنے کے بعد انابیہ نے ہلکا پھلکا سا سفید رنگ کا ایک فراک پہنا جو اس کے پاؤں تک جا رہا تھا. دروازہ کھٹکھٹایا گیا تاج دروازے پر تھی۔
” آجاؤ اندر. “
” شہزادی کو انکی غلام کا سلام. شہزادے کہہ کر گئے تھے کہ آپ دیر سے اٹھیں گی تو آپ کو ناشتہ کروا دیا جائے اس کے بعد آپ کو محل گھمایا جائے اور لوگوں سے ملوایا جائے.”
تمہارے شہزادے اس وقت کہاں پر ہے کیا وہ خود محل میں نہیں ہیں۔”
” نہیں شہزادی وہ تو فجر کی نماز پڑھنے کے بعد ہی باہر اپنے کاموں کے لیے نکل جاتے ہیں. بہت کم وہ لوگ گھر میں ناشتہ کرتے ہیں جس میں سردار اور بڑے شہزادے بھی شامل ہیں۔”
” صبح صبح کسی کی دھلائی کرنی ہوتی ہے جو وہ نکل جاتے ہیں۔”
” نہیں شہزادی جی صبح فجر کی نماز کے بعد یہاں پر دربار لگتا ہے جس میں لوگ آکر اپنے مسائل بتاتے ہیں اور ہمارے شہزادے ان کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں یہ ہمارے ہاں کا اصول ہے بہت سالوں سے۔”
” اچھا ایسا کرو مجھے ناشتہ کمرے میں ہی لادو میرا باہر جانے کا دل نہیں کر رہا. میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے سر میں بہت زیادہ درد ہے. “
” آپ کہیں تو میں آپ کا سر دبا دوں شہزادی۔”
” نہیں بس مجھے ناشتہ لادو میں ناشتہ کر کے تھوڑی دیر اور آرام کرنا چاہتی ہوں. “
تاج حکم پاتے ہی کمرے سے باہر نکل گئی انابیہ کی طبیعت سچ میں ٹھیک نہیں تھی اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کے سر میں کوئی ہتھوڑے برسا رہا ہے۔ انابیہ دروازے کی طرف آئی جو باہر بالکونی کی طرف کھلتا تھا۔ اس نے جیسے ہی دروازہ کھولا تیز ہوا کا جھونکا اس سے ٹکرا کر گیا. اس وقت اس نے ایک مخملی سفید رنگ کی فراک پہن رکھی تھی اس کے علاوہ اس کے پاس کوئی سویٹر یا شال نہیں تھی۔ یہاں کا ماحول بڑا عجیب سا تھا باہر برفباری ہورہی تھی اور آسمان اس وقت ہلکا ہلکا نیلا اور بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا. انابیہ کو ہمیشہ سے یہ سرد موسم بہت ہی زیادہ پسند تھا اسے اس سرد موسم میں ننگے پیر ٹھنڈے فرش پر چلنے کا بے انتہا شوق تھا اور اکثر اس نے اپنا یہ شوق پورا بھی کیا جس کی وجہ سے یہ شدید بیمار بھی ہوئی.
یہ جیسے ہی بالکنی کے پاس آئی اور نیچے دیکھنے لگی تو پروں کے ساتھ اڑتا ہوا نواز اس کے سامنے آیا.
” میری شہزادی آپ کو میرا سلام. آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہے تو ہمیں بتا دیجیے ہم آپ کے سامنے حاضر کر دیتے ہیں. “
” ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں ہمیں کچھ پل کی تنہائی چاہیے تم جاسکتے ہو یہاں سے. “
” جیسا حکم میری شہزادی مگر یہاں پر بہت زیادہ سردی ہے آپ انسان اسے برداشت نہیں کرسکتے آپ برائے مہربانی اندر چلی جایئے۔”
” ہم نے کہا نہ کہ ہمیں کچھ دیر کے لئے تنہائی چاہیے جاؤ یہاں سے اور دوبارہ مت آنا. “
نواز حکم پاتے ہی یہاں سے چلا گیا جبکہ انابیہ باہر طرف دیکھنا شروع ہو گئی اس کی نظر سامنے نیلے سمندر پر تھی اور اس کا یہی دل کیا کہ یہ وہاں پر جائے اور سمندر میں پاؤں رکھ کر بیٹھ جائے۔
کمرے کا دروازہ کھلا اور اندر آنے والی اس کی ساس تھی۔ ان کا انداز بے انتہا خوبصورت اور شاہانہ تھا اس وقت وہ خوبصورت گولڈن رنگ کے لمبے مخملی فراک میں ملبوس تھی جس کے اوپر گولڈں رنگ کی موٹی چادر کر رکھی تھی جس سے انہیں بالکل سردی نہیں لگ رہی تھی۔
” شہزادی آپ اتنی سردی میں باہر کیا کر رہی ہیں آجائیے اندر بیٹا۔”
انہوں نے گلاس ڈور کے پاس کھڑے ہوئے انابیہ کو آواز دی.
” ہم کچھ دیر یہاں پر رہنا چاہتے ہیں ملکہ۔ ہمارا دل اندر بہت زیادہ اداس ہے۔”
ملکہ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے اس کے پاس آئی اور اس کا ہاتھ تھام کر اسے اندر کی طرف لائیں اور دروازہ بند کر دیا.
” آپ یہ سردی برداشت نہیں کر پائیں گی. “
” اگر آپ لوگ یہ بات جانتے تھے کہ ہم اس دنیا کی سردی برداشت نہیں کر سکتے تو ہمیں یہاں پر لائیں ہیں کیوں اگر ہم یہاں کا موسم برداشت نہیں کر سکتے تو ان لوگوں کے ساتھ کیسے رہیں گے. ہماری ایک دنیا ہے وہ اس دنیا سے بالکل مختلف ہے۔آپ جان لیجئے کہ ہم انسان ہیں اور ہم اتنی جلدی کسی کے ساتھ کھلتے ملتے نہیں ۔ خصوصا وہ لوگ جو ہمارے انسانوں جیسے نہ ہوں۔”
ملکہ نے اسے بیڈ پر بٹھایا اور بڑے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا وہ سمجھ سکتی تھی کہ اس وقت اس کے دل پر کیا گزر رہی ہے.” میرا بچہ اب تم ہماری شہزادی ہو .تمہیں سمجھنا ہوگا کہ یہی تمہاری دنیا ہے.”
انہوں نے اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا تو انابیہ کے بے اختیار آنسو نکلے اور یہ ان کے سینے سے لگ کر رونا شروع ہوگی.
” ہم کیسے ان سب کو اپنا مان لیں. ہمیں ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک بند کتاب ہے جو کھل چکی ہے. جس کو کچھ دیر بعد بند کر دیا جائے گا اور یہ ایک خواب ہوا میں تحلیل ہو جائے گا. “
ملکہ اس کی کیفیت سمجھ گئی اور اسے بڑے پیار سے سمجھانا شروع کیا.
” میرا بچہ تمہیں سمجھنا ہوگا کہ جبار تمہارا شوہر ہے۔ تم اگر اسے انسان دیکھوں گی تو وہ تمہارے لئے انسان ہی ہے وہ تمہیں کبھی نقصان نہیں ہمارے ہاں ایک بہت غلط اصول رکھ دیا گیا ہے کہ ہمارے ہاں آنے والے نیلے یا سبز رنگ کے نشان والے شہزادے کی شہزادی ہمیشہ انسان ہی ہوتی ہے. ایسا یہاں تین یا چار مرتبہ ہی ہوا ہے کہ کوئی انسان اس دنیا میں آیا ہے. “
” آپ کو یہ سب معلوم ہے تو پھر آپ لوگ مجھے یہاں پر کیوں لائی میں اپنی دنیا میں وہ خوش تھی اپنے والدین اور اپنے بھائی کے ساتھ. “
” میرے سسر میر ابراہیم وہ جو پیسہ کرتے تھے وہ پتھر پر لکیر سمجھا جاتا تھا. انہوں نے تمہیں دیکھتے ہی کہہ دیا تھا کہ تم ہماری شہزادی ہو اس لئے ہم تمہیں اب کبھی واپس نہیں بھیج سکتے. تمہاری قسمت بچپن سے ہی اس کے ساتھ جڑی ہوئی ہے میرا بچہ. ابھی تو تمہیں صرف اس کو دیکھ کر ڈر لگتا ہے کل کو جب تم اس کی اولاد پیدا کرو گی تب کیا ہوگا“
ان کی بات سن کر انابیہ کا جسم کانپ گیا وہ یہ سوچ نہیں سکتی تھی کہ وہ ایک انسان ہوتے ہوئے ایک ایسی مخلوق پیدا کرے کی جس کی اصلیت وہ خود بھی صیح سے نہیں جانتی۔
” تمہیں معلوم ہے وہ تمہارے ساتھ رہا ہے ہو سکتا ہے کہ تم اب اس کے اولاد کی ماں بننے انابیہ ان کی بات سن کر بہت زیادہ خوفزدہ ہوگئی یہ سچ تھا کہ جبار کے ساتھ رہتے ہوئے اس نے یہ بات سوچی ہی نہیں تھی کہ ان کی اولاد بھی ہو سکتی ہے۔
” نہیں ہم ان کی اولاد کو پیدا نہیں کریں گے ہم ایک ایسی اولاد کو پیدا نہیں کریں گے جس کی شناخت کے بارے میں ہمیں علم نہ ہو. یہ قدرت کا قانون نہیں کہ میں انسان ہوں اور بچہ غیر مرئی مخلوق. “
” ہم غیر مرئی مخلوق نہیں ہم خاص ہیں میرا بیٹا تم یہ بہت جلد جان جاؤ گی. تم چاہو نا چاہوں تمہیں اس کی اولاد کو پیدا کرنا ہے. تمہارے نصیب میں اس کی اولاد کو پیدا کرنا لکھ دیا گیا ہے. “
” ایسا مت کہئے ملکہ ہم اس رشتے کو نہیں مان رہے تو ہم ان کی اولاد کو کیسے اس دنیا میں لائیں گے۔”
ملکہ نے اسے خود سے الگ کیا اور اس کی آنکھیں صاف کیں اور سر پر پیار دیا۔
” جتنی جلدی تم سب کو اپنا مان لوں گی اتنی ہی جلدی تمہارے لیے انہیں قبول کرنا آسان ہوگا. ہمارے لوگ بہت معصوم ہیں جب تم ان سے محبت کرو گی وہ تم سے اس سے گئی گنا زیادہ محبت کریں گے۔ تم اپنی صحت پر دھیان دو بس. تاج ناشتہ لا رہی ہے وہ تمہیں تیار کرے گی۔ پھر تم تھوڑی دیر کے لئے باہر باغ میں جانا اور گھوم لینا۔”
ملکہ اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اٹھ گئی. انابیہ سمجھ چکی تھی کہ ان سب لوگوں کی سوچ ایک ہی ہے ان سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں.
__________________________________
تیمور اور سب گھروالے واپس شہر آچکے تھے. تیمور دادی جان کی کمرے میں بیٹھا ہوا تھا وہ بہت زیادہ پریشان تھی کہ اس نے ایک بچی گود لی ہے تو اب یہ شادی کیسے کرے گا۔ کوئی بھی لڑکی اس کے ساتھ شادی کرنے سے پہلے ہزار بار سوچے گی کہ اس نے ایک پرائی بچی گود لی ہوئی ہے۔
” تم باپ بیٹا کبھی میری بات نہ ماننا ۔اپنی بیٹی کو تو ہم لوگ عجیب دنیا میں بھیج چکے ہیں۔ اب کیا خیال ہے تمہارا کب شادی کر رہے ہو۔”
” میری پیاری دادی جان جب مجھے شادی کرنی ہوگی تو فورا کر لوں گا یہ بھی نہیں دیکھوں گا کہ آپ لوگ رضامند ہیں یا نہیں. لیکن مجھے ایسی حورپری ملتی ہی نہیں جو میرے معیار پر اترے. “
” ہاں ہاں تیری معیار پر تو کوئی بہت خاص لڑکی اترے گی۔ دنیا کی ساری لڑکیاں تو گھاس کھانے گئی ہوئی ہے نہ جو ان میں سے کوئی تیرے معیار کی نہیں. اب تو ایک بچی کا باپ بھی ہے کوئی لڑکی تجھے کیسے قبول کرے گی اس کے ساتھ. “
” جس نے قبول کرنا ہوگا نہ وہ دس بچوں کے ساتھ بھی کر لے گی دادی جان۔ میں آپ سے ایک بات آج ایک بات کلیئر کر دیتا ہوں کہ میری بیٹی کے سامنے بار بار اسے مت جتائیے کہ میں نے اسے گود لیا ہے وہ میری بیٹی ہے اور میری ہی رہے گی۔”
” ہاں تو ہم نے بڑا کہا کہ وہ تمہاری بیٹی نہیں ہے. ہمارا تو بس اتنا مدح ہے کہ آپ شادی کر لو. “
” بے فکر رہیں دادی جان آپ یہ خواہش جلد ہی پوری کر دوں گا۔”
تیمور یہ کہہ کر کمرے سے باہر نکل آیا اور اس کا رخ عنایہ کے کمرے کی طرف تھا جہاں سے اسے کسی جانے مانے نفوس کی آواز آرہی تھی۔
یہ جب اس کے کمرے کے باہر کھڑا ہوا تو اسے اندر عنایہ کے نزدیک بیٹھی ہوئی انسہ نظر آئی۔ بے تحاشا رو رہی تھی آج پہلی بار اس نے کسی لڑکی کو ایسے روتے ہوئے دیکھا تھا. آنکھوں سے کاجل پھیل چکا تھا جبکہ اپنے ہاتھ کو تھوڑی کے نیچے رکھے ہوئے یہ اپنی بھانجی کو دیکھ رہی تھی. اس کے چہرے پر ایک دکھ تھا جس کا اندازہ بخوبی تیمور لگا سکتا تھا.
” زہ نصیب تو آپ یہاں بھی ہمارے پیچھے آ گئی. “
انسہ نے اپنے آنسو صاف کیے اور فرش سے اٹھی۔” ایم سوری مسٹر خان مجھ سے رہا نہیں گیا تو میں اپنی بہن کی آخری نشانی سے ملنے آگئی۔”
اس وقت اس کے چہرے پر جو تحریر رقم بھی اسے دیکھ کر تیمور خاموش ہوگیا.
” بابا یہ آنٹی کہہ رہی ہیں کہ یہ میری ماں کی سسٹر ہیں. “
انسہ باہر چلی گئی جب کہ عنایا تیمور کی انگلی پکڑ کر اسے بتانے لگی.” جی بیٹا یہ آپ کی آنی ہے میں آرہا ہوں ان سے بات کرکے آپ بیٹھو میں آتا ہوں تھوڑی دیر میں. “
تیمور اس کے پیچھے گیا جو ان کے لیونگ روم میں آ گئی اور اس وقت اس کی آنکھوں سے زارو قطار آنسو نکل رہے تھے۔
تیمور اس کے سامنے آیا تو اس نے بڑی کر بھری نگاہوں سے اسے دیکھا اور بہت نمی والی آواز میں کہا.” میں نے اپنا کیس واپس لیا ہے آپ بھی جیتے اور میرے والد بھی جیت گئے. میری بہن مجھ سے کتنا عرصہ دور رہیں میری جان تھی وہ اور اب اس کی بیٹی بھی مجھ سے ہمیشہ دور ہی رہے گی۔ اپنے خون کو کسی پرائے انسان کے پاس پلتے ہوئے دیکھنا سب سے بڑی اذیت ہے میرے لیے۔”
اس وقت یہ اتنی معصوم لگ رہی تھی کہ تیمور کا نظریں ہٹانا مشکل ہوگیا۔
” یقین جانیے میں نے آپ کو نہیں روکا آپ کی بھانجی سے ملنے کے لیے.”
” وہ میرے پاس تو نہیں مجھے کیا معلوم کہ آپ میرے بعد اس کے ساتھ کیسا سلوک کریں گے. “
اس وقت نہ جانے ایسا کیا ہوا کہ تیمور کے منہ سے یہ لفظ نکل گیا.” کیا آپ اس کے پاس ہمیشہ رہنا چاہتی ہیں. “
” کیوں نہیں وہ تو میری جان ہے میری بہن کی اکلوتی نشانی. “
” تو شادی کر لیجئے مجھ سے آپ سے بہتر ماں اس کیلئے ہو ہی نہیں سکتی۔”
یہ اتنا اچانک ہوا کہ نہ تیمور کو سمجھایا کہ وہ کیا بھول گیا ہے اور نہ اس کے سامنے کھڑی لڑکی کو پتہ چلا کہ اس نے کیا بولا.
” آپ کیا کہہ رہے ہیں مسٹر شاہ آپ کو علم ہے. “
” بالکل علم ہے مس آفندی. وکالت کے شعبے سے تعلق ہے میرا میں کبھی بھی ایسی بات نہیں کرتا جو میرے خسارے میں ہوں. شادی تو میں نے کرنی ہے لیکن جو لڑکی آئی شاید وہ آپ کی بھانجی کے لیے بہتر ماں ثابت نہ ہوسکے. آپ سے شادی کرکے مجھے بیوی بھی مل جائے گی اور آپ کی بھانجی کو ایک بہترین ماں۔”
انسہ نے اپنے آنسو صاف کیے.
are you taking advantage of my misery mr khan۔”
“offcourse not miss afandi ۔
ہم دونوں کا فائدہ اس میں چھپا ہوا ہے اگر آپ سمجھنا چاہیں تو. “
دونوں نفوس اس وقت بالکل خاموش ہوگئے تھے کیونکہ وہ نہیں جانتے تھے کہ انہیں کیا جواب دینا ہے.
” میں آپ سے کبھی محبت نہیں کر پاؤں گی آپ یہ بات سن لیجئے. میں نے کبھی اپنے شوہر کے طور پر آپ جیسا انسان آئیڈیل نہیں بنایا. “
” بے فکر رہیے آپ بھی میری آئیڈیل کے نزدیک نہیں ہے مگر اپنی بچے کی اچھی تربیت کے لئے میں کچھ بھی کر سکتا ہوں چاہے وہ میں دشمن کی بیٹی کو ہی کیوں نہ اپنانا ہو۔ آپ کے پاس سوچنے کے لئے وقت ہے . جائیے آرام سے سوچیئےاور پھر مجھے جواب دیجیے۔”
” آپ کو کیا لگتا ہے کہ میں آپ کو کیا جواب دوں گی. “
” اگر آپ سمجھدار ہوئی تو کبھی انکار نہیں کریں گی میری آپ کو نصیحت بھی یہی ہے کہ وقت کی نزاکت کو سمجھئے. “
”کھیل کھیلنا آپ نے بہت اچھے سے سیکھا ہے مسٹر خان۔”
تیمور نیچے جھکا اور اس کے چہرے کے قریب جاکر بولا” اس کے علاوہ بھی ہم نے بہت کچھ اچھے سے سیکھا ہے اگر آپ جان پائیں تو۔ چلتا ہوں مس آفندی پھر ملاقات ہوتی ہے۔”
تیمور اپنی بات کر چلا گیا جب کہ انسہ اس وقت گہری سوچ میں تھی۔ اسے ایک مشکل ترین فیصلہ لینا تھا۔وہ جانتی تھی کہ اس کے فیصلے کا اثر اس کی بھانجی پر ہی پڑے گا. “
__________________________________
انابیہ اس وقت تاج کے ساتھ باغ میں ٹہل رہی تھی۔ اسے تاج نے بہت خوبصورت طریقے سے تیار کیا تھا جیسے یہ بالکل دلہن ہو۔
” تاج تم ایسا کرو میرے لیے کچھ کھانے کو لے آؤ دوپہر کو بھی میں نے بہت کم کھانا کھایا تھا. “
” شہزادی آپ کا حکم میں ابھی جاتی ہوں اور لے آتی ہوں. شام ہونے والی ہے سردی بڑھ رہی ہے آپ اپنے اوپر ایک اور چادر لے لیجیے“
” ٹھیک ہے تم جاؤ میں یہاں پر ہی ہوں میرے اور بھی ملازم ہیں وہ میرا دھیان رکھ لیں گے. “
جیسا حکم شہزادی ہم ابھی واپس آتے ہیں. “
تاج کے جاتے ہی اس نے اردگرد دیکھا یہ جس حصہ میں تھی وہاں پر گارڈ نہیں تھے۔ اس نے دیکھا یہاں پر ایک بہت بڑا خوبصورت سا دروازہ باہر کی طرف نکلتا تھا۔ اسے یہ اندازہ ہوگیا کہ اس سے باہر جانے کا راستہ ہے۔ اس نے اپنی ملازمہ کو اندر پانی لینے بھیج دیا اور خود تیز قدم اٹھاتی ہوئی اس دروازے تک آئی. سورج غروب ہونے والا تھا اس کو امید تھی کہ یہ اس جگہ پر پہنچ جائے گی جہاں سے یہ لوگ مزار پر پہنچ جاتے ہیں اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ کس طرح جبار اسے اپنی دنیا میں لے آتا ہے مگر اسے امید تھی کہ یہ کوئی نہ کوئی راستہ ڈھونڈ لی گی۔ باہر نکلتے ہی سرد ہوا نے اس کا استقبال کیا اس نے اپنے اوپر کی ہوئی چادر بھی نیچے پھینک دی کیونکہ اسے بہت دور بھاگنا تھا. واہ کا حصہ محل کے بالکل پیچھے کی طرف تھا جس کی بدولت یہاں پر بالکل خاموشی تھی کارڈ کچھ دیر پہلے ہی یہاں سے اپنی ڈیوٹی ختم کر گیا تھا اور اب اس کی جگہ پر دوسرے گارڈ نے آنا تھا اس کے آنے سے پہلے ہی انابیہ یہاں سے فرار ہو چکی تھی۔
__________________________________
انابیہ اس وقت دلہن کے لباس میں تھی. یہ اتنی خوبصورت لگ رہی تھی کہ کوئی اسے دیکھ کر یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ انسان ہے یا پری۔ اس وقت یہ شہزادی کے روپ میں تھی اس نے جو زیور پہن رکھا تھا وہ اتنا بھاری تھا کہ اس کی کلائیاں اور گردن درد کر رہی تھی. اس نے پیروں میں سونے کی پائل پہن رکھی تھی. یہ جوں جوں اونچے درختوں کے پاس سے بھاگ رہی تھی تب تب اس کی پائل آواز دے رہی تھی.
” نہیں وہ مجھے نہیں پکڑ سکتا مجھے یہاں سے جانا ہے. میں ہرگز اس شخص کے پاس دوبارہ نہیں جاؤں گی. “
یہ جیسے جیسے راستہ طے کر رہی تھی ویسے ویسے اس کے پاؤں زخمی ہو رہے تھے.
گھوڑوں کی چاپ اسے سنائی دی. یہ گھوڑوں کی چاپ اس کے لئے زندگی کی نوید نہیں بلکہ موت کی آواز تھی.
” میں اس شخص کے پاس دوبارہ نہیں جانا چاہتی میں اس کی بیوی نہیں ہوں۔ وہ مجھے اپنی حسین دنیا میں قید کر لے گا. نہیں بننا چاہتی میں اس کی شہزادی. “
یہ اور تیز بھاگنے لگی اس کا ڈوپٹہ درخت کے اندر اٹکا اور اتر گیا. خوبصورت سنہری بال کھل کر بکھر گئے۔ اس کا ڈوپٹہ شانوں پر آگیا. گھوڑوں کی چاپ اور تیز ہوگی.
یہ جوں ہی یہ اونچے پتھر سے نیچے آئی اسے زوردار چوٹ لگی اور یہ وہیں پر گر گئی.
پیچھے سے ایک خوبصورت کالے رنگ کا گھوڑا اس کے پاس آ کر رکا اور یہ جانتی تھی کہ اس گھوڑے سے کون اترے گا.
” یہاں پر کیوں آگئی آپ میری جان. کتنے پریشان ہوگئے ہیں ہم اور ہمارے لوگ. ہماری جان نکل گئی ہے آپ کو اس حالت میں دیکھ کے. “
جبار کے قدوقامت کو دیکھ کر ہی اسے خوف آرہا تھا. یہ سوچ نہیں سکتی تھی کہ یہ اس شخص کے ساتھ اس کی بیوی بن کے رہتی ہے. اس کے وجود سے اس کا وحشی پن ظاہر ہوتا تھا. اس کی آنکھیں اس وقت اندھیرے میں بھی چمک رہی تھی.
” نہیں شہزادے میں آپ کے ساتھ ہرگز نہیں جاؤں گی. میرا آپ سے کوئی تعلق نہیں میرا آپ کی دنیا سے کوئی تعلق نہیں. میں ایک عام انسان ہوں جب کہ آپ ایک بادشاہ. “
” آپ جانتی ہیں اس بادشاہ کی ایک ہی ملکہ ہے انابیہ خان”
” نہیں میں اس کی ملکہ نہیں میں کسی کی ملکہ نہیں میں صرف اور صرف انابیہ شجاع خان ہوں۔”
جبار اس کے پاس آیا اور اسے اپنی باہوں میں اٹھا لیا ایسے جیسے اس کا وزن ہی نہیں اور یہ ایک روئی کی مانند گڑیا ہو.
” دیکھو مجھ پر یہ ظلم مت کرو میں تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتی. “
” یہ فیصلہ آج سے اکیس سال پہلے ہوچکا ہے میری جان. اب اگر تم مجھ سے بھاگنا بھی چاہو گی تو تم نہیں بھاگ سکتی۔” تمہاری قسمت مجھ سے جڑ چکی ہے تمہاری روح تمہارا وجود میرا ہے. “
جبار کی گرفت نہ زیادہ سختی اور نہ زیادہ مضبوط مگر انابیہ اس کی گرفت سے باہر نہیں آ سکی۔ اسے لئے جبار گھوڑے پر بیٹھا ہوا محل کی جانب بڑھ گیا جب کہ اس کے کان میں اس نے مدھم سی سرگوشی کی.
” ہم میں آپ کو کہا تھا نہ کہ ہم آپ کو اپنے پاس رکھنے کے لئے اپنی محبت کے زندان میں قید بھی کر سکتے ہیں. اب ہم آپ کو حقیقت میں اپنی محبت کے زندان میں قید کر لیں گے شہزادی۔” اس کی گھمبیر آواز نے انابیہ کا روم روم ہلا دیا وہ نہیں جانتی تھی کہ اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے. اس کا شوہر اس کے ساتھ اب کیا سلوک کرے گا. “

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: