Ishq Mein Mar Jawan Novel By Hifza Javed – Episode 18

0
عشق میں مرجاواں از حفضہ جاوید – قسط نمبر 18

–**–**–

انابیہ کو کمرے میں لا کر جبار اس کے سامنے گھٹنے کے بل بیٹھا ۔اس کے پیروں سے خون نکل رہا تھا۔
“کیا ضرورت تھی یوں اٹھ کر باہر جانے گی جب معلوم تھا کہ آپ یہاں سے باہر نہیں جاسکتی۔ آپ چاہتی ہیں کہ ہم سچ میں آپ کو قید کریں تو آپ کی خواہش ہم پوری کر دیتے ہیں اب آپ اس محل سے ہمارے بغیر کہیں نہیں جا سکتی. “
” ہم پہلے بھی آپ کی اجازت کے بغیر کہیں نہیں جا پاتے تھے ہمیں یہاں آئے ایک ہفتہ ہی ہوا ہے اور ہم جان چکے ہیں کہ یہ ہم کو ملکہ نہیں بلکہ قیدی ہیں ۔”
جبار نے اس کے پیر اپنے گھٹنے پر رکھے ہوئے تھے اور ان پر یہ عجیب سے پتوں سے بنی ہوئی کوئی دوائی لگا رہا تھا۔ جس سے انابیہ کو اور زیادہ تکلیف ہو رہی تھی مگر اس کے زخم ختم ہونا شروع ہوگئے تھے. انابیہ غور سے اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی جو اپنے کام میں اتنا زیادہ مصروف تھا کہ اس نے ایک نظر اٹھا کر بھی اس کی طرف نہیں دیکھا۔
” ہمیں اپنے گھر جانا ہے آپ ہمیں ہمارے گھر چھوڑ دیجئے. “
جبار نے اس کا پیر زمین پر رکھا اور خود اس کے مقابل آکر بیٹھ گیا۔
” میری ایک بار کی کہی ہوئی بات آپ کو بالکل بھی سمجھ نہیں آتی. آپ کو شہزادی کے اصول سیکھانے ہوں گے کہ ایک شہزادی کے اصولوں میں یہ بات آتی ہے کہ شہزادہ جو بات کہہ دے وہ پتھر کی لکیر ہے۔”
انابیہ نے چڑ کر اپنا منہ موڑ لیا اور غصے سے کہا۔” نہ میں آپ کو اپنا شہزادہ مانتی ہوں اور نہ شوہر۔ اصولوں کی بات تو پھر مجھ پر لاگو ہی نہیں ہوتی.”
جبار نے اس کا چہرہ اپنی طرف موڑااور سامنے شیشے پر پڑے تاج کی طرف دیکھنے لگ گیا جو اس کے ہاتھ کے اشارے سے ہی انابیہ کے سر پر خود بخود آگیا.
” کوئی بھی ایسی بات کرنے سے پہلے سوچ لیجئے گا کہ آپ نے عہد لیا ہے اور اب اپنا عہد ہرگز نہیں توڑ سکتی.”
انبیاء نے یہ تاج اپنے سر سے اتارنا چاہا مگر نہیں اتار پائی” کوشش بھی مت کریے یہ اب آپ کا ہی ہے کیونکہ یہ آپ کی روح سے جڑ چکا ہے۔”
اس نے آنکھیں بند کی اور اگلے ہی لمحے تاج اس کے سامنے دروازے سے نمودار ہوئی.
” شہزادے اور شہزادی کو میرا سلام مجھے یاد کیا تھا شہزادے آپ نے“
” آج کے بعد تمہاری شہزادی میری اجازت کے بغیر محل کے باہر قدم بھی نہیں رکھیں گی۔ ان پر پابندی ہے یہ کہیں بھی ہماری اجازت کے بغیر یا ہمارے بنا نہیں جائیں گی. “
” پہلے ہم بڑا کون سے آزاد ہیں جو آپ ہم پر پابندی لگا کے احسان کر رہے ہیں۔”
تاج انابیہ کی چلتی ہوئی زبان دیکھ رہی تھی جو شہزادے کے ساتھ ایسے باتیں کر رہی تھی جیسے شہزادے سے کوئی خوف نہیں آتا. تاج نے شہزادے کا اصل روپ دیکھا ہوا تھا اور وہ جانتی تھی جب شہزادے کو غصہ آتا ہے تو وہ اگلے بندے کا کیا حال کر دیتے ہیں۔
“تاج تم ذرا باہر جاؤ تمہاری شہزادی کی عقل ٹھکانے لگانی ہے ہم نے. “
تاج پورا باہر نکل گئی جبکہ جبار نے انابیہ کو اپنی باہوں میں اٹھایا اور کلاس ڈور سے بالکونی کی طرف آ گیا۔ اس نے آنکھیں بند کیں تو اس کا اصل روپ آگیا. انابیہ نے ڈر کر اپنی آنکھیں بند کر لیں. جبار اسے لیے اپنے پروں سمیت اڑ گیا.
انابیہ کی تو آنکھیں کھولنے کی بھی ہمت نہیں ہورہی تھی۔
” آنکھیں کھولیں اور یہ حقیقت دیکھیں۔ میری حقیقت یہی ہے اور اب آپ کو اسی حقیقت کے ساتھ زندہ رہنا ہے. “
یہ اسی لیے اور بلندی پر چلا گیا اور انابیہ کو لگ رہا تھا کہ یہ جیسے بادلوں کو چھونے والے ہیں.
” پلیز نیچے لے کر جائے مجھے آئیندہ کے بعد میں ایسا کچھ نہیں کروں گی۔”
” ابھی نہیں آج کا سارا دن آپ اپنے لوگوں کے درمیان گزاریں گی. ہم آج کی رات اپنی لوگوں کے درمیان رہیں گے تاکہ آپ کو علم ہو کہ اب ہم سے زیادہ آپ کی زندگی میں کوئی اہم نہیں۔”
انابیہ کو لیئے یہ بستی کی طرف آیا۔اس سے آگے لوگوں کے گھر تھے۔یہ اسے لیئے نیچے اترا ۔اس کے اترتے ہی کچھ عجیب سی شکل والا انسان ان کے سامنے آیا۔
“شہزادے اور شہزادی کو میر سلام ۔آپ نے آج یہاں آکر ہمیشہ عزت بخش دی۔”
” وعلیکم اسلام جاؤ اور جا کر ایک اچھا سا کمرہ تیار اچھا سا کمرہ تیار کرو آج شہزادی اور ہم یہاں پر ہی رکیں گے۔”
غلام حکم پاتے ہی نکل گیا۔یہاں آس پاس بہت عجیب سے لوگ تھی۔ایک عجیب سا آدمی نما بندہ جو بونا تھا ان کے پاس سے گزرا۔یہ ایک جن تھا۔انابیہ نے اسے غور سے دیکھا تو اس آدمی نے انابیہ کی طرف دیکھا۔اس آدمی کے دانتوں پر لگا خون انابیہ کو نظر آیا ۔اس کے ہاتھ میں گوشت کے کچے ٹکڑے تھے جو یہ کھا رہا تھا۔
انابیہ نے جبار کے کندھے کو اور مضبوطی سے تھام لیا۔اسے الٹی آنے لگ گئی تھی۔
“جبار پلیز مجھے یہاں نہیں رہنا۔یہ لوگ گتنے عجیب ہیں۔مجھے وحشت ہو رہی ہے۔”
“نہیں شہزادی آج آپ ان لوگوں کو دیکھیں گی تو آپ کو احساس ہوگا کہ آپ نے اب ان سب کے ساتھ ہی رہنا ہے۔”
انابیہ نے اس کے ہاتھوں کو مضبوطی سے پکڑ لیا ۔اسے اس وقت بس ان لوگوں میں یہ ہی اپنا لگا۔حلانکہ عام حالات میں انابیہ اس کے ساتھ کبھی ایسے چپک کر کھڑی نہ ہوتی۔انابیہ کو ساتھ ہی لگائے یہ آگے کی طرف لے جانے لگا۔ہر طرف عجیب سے لوگ تھے۔ایک کو تو دیکھ کر انابیہ اپنا سر ہی جبار کے سینے سے نہیں اٹھا رہی تھی۔اس عورت کی ٹانگیں نہیں تھی اور یہ بہت مزے سے آدھی ہوا میں تھی۔
“جبار ————–“
“جی جان جبار۔”
“میرا دل حلق میں آگیا ہے۔اگر تھوڑی دیر یہاں رکے تو میں آپ کو پتا رہی ہوں مجھے کچھ ہو جائے گا۔”
جبار نے اس کر چہرہ سامنے گیا اور اس کی آنکھوں کو چوما۔
“جب میں آپ کو قبول ہوں میرے پاس آپ کی جان محفوظ ہے تو پھر یہ لوگ بھی اپنے ہیں۔”
ابھی یہ بات ہی کر رہے تھے کے ایک شیر جنگھارتا ہوا ان کے قریب آگیا۔انابیہ کو ایک پل کے لیئے ایسا لگا جیسے اس کا دل نکل گیا ہے۔شیر نے روپ بدلا اور اس کے سامنے غوری آگیا۔اس کی آواز سے پتا چلتا تھا کہ سخت پریشانی میں ہے۔
“شہزادے اور شہزادی کو میرا سلام .شہزادے میں محل گیا تھا تو خبر ہوئی آپ بستی میں ہیں۔ہمارے سب سے وفادار جن کی بیوہ کو اس وقت شدید تکلیف ہے۔انسانی دنیا سے کوئی عالم اس کی طاقت کی وجہ سے اسے قابو کرنا چاہتا ہے۔”
انابیہ جبار کے سینے سے لگے ہوئے یہ سب باتیں س رہی تھی۔جبار نے بہت غصے بھری حالت میں جواب دیا۔
“اس عالم کے پاس جاو اور اسے ایسا سیکھا کر آنا کہ اس کی دوبارہ ہمت نہ ہو یہ کرنے گی۔وہ اپنے مفاد کے لیئے میرے معصوم لوگوں کو استعمال کرتے ہیں۔اپنے ہی لوگوں کو نقصان پہنچانے کے لیئے وہ شیطانی کاموں کا سہرا لیتے ہیں۔وہ انسانیت کی توہین کرتے ہیں۔”
“جیسا حکم میرے شہزادے۔شہزادے کیا آپ اور شہزادی کیا آج بستی میں رات گزاریں گے۔”
آج ہم یہاں ہی رکیں گے یہ سچ ہے۔غوری تم جاو اور اگر میری ضرورت پڑی تو مجھے پتا دینا۔”
غوری پھر سے شیر بن گیا جبکہ انابیہ کو اب گوفت ہو رہی تھی ۔وہ جبار سے جان چھڑوانا چاہ رہی تھی مگر آج کے دن یہ بری طرح جبار کے ساتھ پھنس گئی تھی۔اوپر سے ان کی باتیں جو اس کی سمجھ سے باہر تھی۔انابیہ اس وقت خاموشی سے ساری بات سن رہی تھی جبکہ پاس گزرنے والے بندے ان کے آگے جھک کر جا رہے تھے۔ان کے روپ دیکھ کر ہی اس کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ لوگ حقیقت میں کیا روپ رکھتے ہیں۔
________________________________
تیمور اس وقت اپنے والد کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا .یہ اپنی کل کی کارستانی باپ کو پتا رہا تھا۔اس کے والد شجاع بہت نرم دل انسان تھے۔وہ سمجھ نہیں پائے کہ ان کے جان عزیز بیٹے نے یہ فیصلہ کیوں کیا ہے۔وہ اپنے بیٹے کی فطرت سے بھی واقف تھے کہ یہ کسی کو تکلیف نہیں دے سکتا مگر یوں اس کے اچانک فصیلے نے انہیں حیران کر دیا تھا۔یہ جانتے تھے کہ ان کا بیٹا لڑکیوں کے چکروں میں نہیں پڑتا۔ مگر اتنی جلدی کسی لڑکی سے شادی کا فیصلہ انہیں حیران کر گیا۔
“بیٹا کیا تم سچ میں اس لڑکی کو اپنا رہے ہو۔تم جانتے ہو کے شادی کوئی گڑیا گڈی کا کھیل نہیں۔تم سوچ کو کہیں ایسا نہ ہو کہ بچی کی زندگی خراب ہو جائے۔”
“بابا آپ جانتے ہو کہ میں اپنی زندگی میں فصیلے بہت سوچ سمجھ کر لیئے ہیں۔ اس سے شادی عنایہ کے لیئے بہترین ثابت ہوگی اور اس کو بھی بہت خواہش ہے کہ وہ۔اپنی بھانجی کے ساتھ رہے۔”
“بیٹا یہ تو ایک سودا ہوا نہ ۔شادی میں سودا نہیں ہوتا۔تم کبھی خوش نہیں رہ نہیں پاو گے ۔”
“بابا وہ میری بیوی ہوگی اور آپ جانتے ہیں کہ میں خود سے جڑے رشتے کی کس قدر حفاظت کرتا ہوں اور انہیں کتنی عزت دیتا ہوں وہ تو پھر میری بیوی ہوگی میری شریک سفر اور میری ساتھی. “
” اگر وہ انکار کر گئی تو پھر تم کیا کرو گے تم جانتے ہو یہ اس کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ تمہیں ہاں کرتی ہے کہ نہیں“
” آپ کیا سمجھتے ہیں کہ آپ کا بیٹا ایسے ہی کوئی بات کر دیتا ہے. میں اچھے طریقے سے اس کی آنکھیں پڑھ کر بتا سکتا تھا کہ وہ اسی وقت ہاں کر دیتی مگر اسے سوچنے کے لئے کچھ وقت چاہیے تھا ۔ اس کے والد ضرور اس رشتے کی مخالفت کریں گے مگر میں انہیں اپنے طریقے سے ہینڈل کر لونگا۔”
” ٹھیک ہے تم بیٹھو میں نے جا کر کیس پر کام کرنا ہے. “
شجاع خان یہ کہہ کر اٹھ گئے۔ تیمور کھڑکی کے پاس اپنی کافی کا مگ لے کر کھڑا ہوگیا ۔کل نہ جانے اسے کیا ہوگیا کہ اس لڑکے کی معصوم شکل دیکھ کر یہ برداشت نہ کر پایا۔ اس کا اس سے شادی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا مگر اس کے چہرے کی معصومیت دے کر اس کے دل میں ایک ہلچل مچی اور اس نے فورا ہی اسے پرپوز کر دیا یہ اچھے سے جانتا تھا کہ وہ کبھی نہیں کرے گی –
_________________________________
انسہ اس وقت اپنے کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی اسے اپنی زندگی کا سب سے مشکل فیصلہ لینا تھا۔ یہ جانتی تھی کہ اس کے والد اس کی شادی اپنے پارٹنر سے کروانا چاہتے ہیں جو عمر میں اس سے 15 سال بڑا ہے اور یہ اسے پسند بھی نہیں کرتی۔ یہ جانتی تھی کہ یہ صرف ایک ڈیل ہے بابا اس کی بڑی بہن کی شادی بھی ایسے ہی ایک آدمی سے کرنا چاہتے تھے جس کی بدولت وہ اپنے باپ کو چھوڑ کر چلی گئی. ان کی والدہ کو فوت ہوئے بہت سال ہو چکے تھے جس کی بدولت ان کے والد ان پر دھیان نہیں دیتے تھے بلکہ ان کیلئے بیٹیاں ایسے ہی تھی جیسے گھر میں رہنے والے کوئی بے کار چیزیں جنہیں ضرورت کے وقت ہی بلایا جائے۔
” میں کیا کروں آپی بھی جا چکی ہیں اور اگر میں نے اپنی بھانجی کو نہ اپنایا تو نہ جانے وہ شخص مستقبل میں اس کے ساتھ کیسا سلوک کرے گا یا وہ جس عورت سے شادی کرے گا وہ اس کے ساتھ کیسا سلوک کرے گی. آپ بھی مجھ سے کتنی محبت کرتی تھی امی جان کے بعد انہوں نے میرا کتنا خیال رکھا اگر میں ان کی بیٹی کو تنہا چھوڑ دوں گی تو وہ مجھ سے حساب ضرور لیں گی۔”
اس کے ذہن میں بار بار تیمور کا چہرہ آ رہا تھا وہ اس کے بارے میں بہتر طریقے سے جانتی تھی یہ اس کا کردار بالکل شفاف شیشے کی طرح ہیں آج تک اس کے کردار پر کسی نے کیچڑ اچھالنے کی ہمت نہیں کی تھی. شخص کو اس کے باپ نے اس کیلئے منتخب کیا تھا وہ تمام برائیاں رکھتا تھا. ہائی سوسائٹی میں رہنے والا ہر مرد ایک جیسا ہی تھا۔ وہ مجھ سے شادی صرف اپنی بیٹی کے لئے کر رہا ہے تو میں بھی اپنی بھانجی کے لیے اس سے شادی کروں گی. اگر بابا نہ بھی مانے تو میں ان کو بتائے بغیر ہی شادی کر لوں گی میں اپنی بھانجی کا مستقبل داؤ پر نہیں لگا سکتی. “
اس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور یہی اس کا آخری فیصلہ تھا کہ اس نے اپنی بھانجی کو ماں کا پیار دینا ہے.
__________________________________
ان ابا اور جبار اس وقت دونوں کھانے کی ٹیبل پر بیٹھے ہوئے تھے. انابیہ کیلئے جبار نے اس کی پسندیدہ ڈش منگوائی تھی۔
کوشش کی طرف دیکھتے ہوئے انابیہ نے جبار کو پکارا” کیا آپ بھی کچا گوشت کھاتے ہیں شہزادے. “
” نہیں میری جان ہم انسانوں جیسا ہیں کھانا کھاتے ہیں ہم ذرا اپنے لوگوں سے تھوڑے سے مختلف ہیں. آپ پریشان مت ہوں وہ جو بھی کھائیں وہ ان کی خوراک ہے. “
” مجھے اس ڈش کو دیکھ کر ہی وہ شخص یاد آ رہا ہے. “
جبار اس کے قریب آیا اور پلیٹ میں گوشت نکال لیا.” میں آپ کو اپنے ہاتھوں سے کھلاونگا تو آپ کو کچھ بھی یاد نہیں آئے گا“
جبار اس وقت اپنی انسانی روپ میں تھا جس کی وجہ سے انابیہ خاموشی سے بیٹھی ہوئی تھی۔
اس کے منہ میں نوالہ ڈالتے ہوئے جبار خود بھی ساتھ ساتھ کھا رہا تھا.” ایک بات پوچھوں آپ سے شہزادے. “
” پوچھیے میری پیاری شہزادی آپ کو اجازت دینے کی ضرورت نہیں۔”
” آپ انسانوں سے اتنی نفرت کیوں کرتے ہیں میں بھی تو ایک انسان ہوں مستقبل میں اگر کہ ہماری کوئی اولاد انسان پیدا ہوئی تو کیا آپ اسے بھی نفرت کریں گے. “
جب ارض کی بات پر ہنسا ایسے جیسے اس نے کوئی بچوں والی بات کر دی ہے.” کیا آپ اس شخص سے نفرت کرتے ہیں جو کسی جرم کرنے والے کا رشتہ دار ہو“
” نہیں شہزادے اس کا کیا قصور ہم اس کو کیوں سزا دیں۔”
” بالکل ایسے ہی ہم بھی تمام انسانوں سے نفرت نہیں کرتے آپ جانتی ہیں آپ کی دنیا میں بہت سے ایسے انسان ہیں جن کی بدولت ہماری دنیا کے لوگوں کو کتنی تکلیف ہوئی ہے۔”
” ہمیں آج تک ایک بات سمجھ نہیں آئی ہمیں قدرت اجازت نہیں دیتی کسی دوسری مخلوق سے شادی کرنے کی تو پھر آپ کی اور میری شادی کیسے ممکن ہوئی. میں آج تک سمجھ نہیں پائی کہ اگر آپ انسان نہیں ہے تو میں آپ سے کیسے شادی کر سکتی ہوں۔”
” آپ جانتی ہیں آپ چوتھی شہزادی ہیں ہماری دنیا کی جو انسان ہیں۔ یہاں سب ہی لوگ دوسری دنیا کی نہیں ہیں آپ کبھی غور کریں تو آپ کو آپ جیسے انسان بھی ملیں گے جو آپ کی نسل سے ہی ہیں۔”
انابیہ کا کھانا کھاتا ہوا ہاتھ رک گیا” آپ کہنا چاہتے ہیں میرے علاوہ بھی یہاں پر انسان ہیں. “
“انسان نہیں ان کی پوری آبادی ہے آپ کو نہیں تلاش کرنا ہے جس دن آپ انہیں تلاش کر جائیں گی اس سے آپ کو پتہ چل جائے گا کہ ہم انسانی شہزادی سے شادی کیوں کرتے ہیں. “
” جبار شہزادے پلیز ہمیں بتا دیجئے نا کہ کیا بات ہے. ہمیں انسانوں سے ملنا ہے پلیز. “
” یہی تو بات ہے آپ نے خود فرق پہچاننا ہے۔”
” آپ کو معلوم ہے شہزادے اب بالکل بھی اچھے نہیں ہیں.”
جبار نے اس کی بات پر اس کا روٹھا ہوا چہرا دیکھا اور پھر آگے بڑھ کر اس کی پیشانی پر بوسہ دیا.” ہم کبھی آپ کے لئے برے نہیں ہو سکتے. مگر اب اگر کبھی دوبارہ آپ نے بھاگنے کی کوشش کی تو یاد رکھیے گا کہ ابھی ہم نے صرف پابندی لگائی ہے پھر ہم آپ کو کمرے میں بند کر دیں گے اور آپ کسی کو نہیں دیکھ پائیں گی.”
” کیا آپ سچ میں ایسا کر سکتے ہیں وہ بھی میرے ساتھ اپنی محبت کے ساتھ. “
بر نے اس کا چہرہ اپنے نزدیک کیا اس کی سانسوں کی تپش انابیہ اپنے چہرے پر محسوس کر سکتی تھی۔” یقین جانیے شہزادی آپ کو خود تک محدود کرنے کے لئے ہم کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں. آپ کو ہم سے ہر طریقے کی امید ہونی چاہیے . “
انابیہ نے اس کا چہرہ دیکھا جو بالکل سنجیدہ تھا وہ جان چکی تھی کہ یہاں سے فرار کا کوئی راستہ نہیں ہے۔
__________________________________
جبار اس وقت سو رہا تھا جبکہ انابیہ کو نیند نہیں آ رہی تھی جبار نےاسےکمرہ سے تھام رکھا تھا اور انابیہ کی پشت جبار کے سینے سے لگی ہوئی تھی جبار نے وجود کی گرمائش یہ محسوس کر سکتی تھی جو عام انسانوں سے بہت زیادہ تھی. یہ رات درمیان کا وقت تھا تھوڑی دیر بعد جب باہر اٹھ کر تہجد کی نماز پڑھی تھی اسے معلوم تھا. بہت بار اس نے انابیہ کو بھی ساتھ اٹھا کر تحجد کی نماز پڑھائی تھی۔ یہ دنیا انابیہ کیلئے ایک معما بنتی جا رہی تھی جسے حل کرنا اس کے بس کی بات نہیں تھی ۔نہ یہ یہاں سے جا سکتی تھی اور نہ ہی اسے اس کی دنیا کا کچھ علم تھا۔ سب کچھ یہ صرف ایک ہی انسان سے جان سکتی تھی جو اس کے ساتھ سویا ہوا تھا اس کا شوہر. آپ اس کے پاس ایک ہی حل تھا کہ اس سب کو قبول کرے اور ان کے راز جانے. اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اب وہ جبار کو شکایت کا موقع نہیں دے گی مگر وہ آہستہ آہستہ اس کی دنیا کے بارے میں جان جائے گی.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: