Ishq Mein Mar Jawan Novel By Hifza Javed – Episode 19

0
عشق میں مرجاواں از حفضہ جاوید – قسط نمبر 19

–**–**–

انسہ اس وقت اپنے باپ کے ساتھ سامنے بیٹھی ہوئی تھی آج اسے اپنے باپ کو اپنی زندگی کا ایک اہم فصیلہ سنانا تھا کہ وہ ان کی پسند کیے ہوئے آدمی سے شادی نہیں کرے گی۔ اس نے انہیں تیمور کے بارے میں بتانا تھا کہ اس نے تیمور سے شادی کرنی ہے۔
” بابا جان مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے. “
” مجھے بھی تم سے بہت اہم بات کرنی ہے تمہاری شادی کی متعلق. میں چاہ رہا ہوں کہ تمہاری شادی جلدازجلد اگلے آنے والے مہینے میں کردوں. “
” میں یہ شادی نہیں کرنا چاہتی بابا آپ یہ بات جانتے ہیں کہ مجھے وہ شخص ہرگز پسند نہیں۔”
” کیا برائی ہے اس میں آخر امیر ہے اس کے پاس ہر چیز ہے تمہیں دنیا کی ہر وہ چیز دے گا جس کی خواہش کرو گی. “
” عزت نہیں دے گا جو سب سے بڑی چیز ہوتی ہے ان مادی چیزوں کی خواہش نہیں مجھے. آپ جانتے ہیں اس شخص میں ہائی سوسائٹی کی ہر برائی موجود ہے۔ “
” یہ اتنی بڑی بات نہیں تم جانتی ہو ہمارے سرکل میں زیادہ تر آدمی ایسے ہی ہوتے ہیں۔”
اس کے والد غصے میں آگئے وہ پہلے ہی اپنی ایک بیٹی کو کھو چکے تھے اس کی ضد کی وجہ سے اور اب اپنی دوسری بیٹی کو نہیں کھونا چاہتے تھے۔
” کیا چاہتی ہو پھر تم آخر کیا کروں۔ میں تمہارے ساتھ۔”
” آپ بیرسٹر تیمور خان کو جانتے ہیں نا میں ان سے شادی کرنا چاہتی ہوں. انہوں نے مجھے پروپوز کیا ہے اور میں انہیں ہاں کرنے والی ہوں. “
آفندی خان شدید غصے میں آگئے اور اپنے سامنے پڑا ہوا گلاس اٹھا کر فرش پر مارا۔
” میں جانتا تو وہ بیرسٹر کوئی نہ کوئی گیم ضرور کھیل رہا ہے آخر اس کا مقصد یہی تھا. “
” ان کا ایسا کوئی مقصد نہیں ہے میں خود ان سے شادی کرنا چاہتی ہوں. آپ جانتے ہیں میں اپنی بھانجی کو کسی ایرے غیر انسان کے گھر پر پلتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی۔”
” میں نے تمہیں شروع کے دن ہی کہہ دیا تھا کہ میرا اس بچی سے کوئی تعلق نہیں. اس کے باپ کی وجہ سے میری بیٹی مجھے چھوڑ کر گئی تھی.”
” اتنے بےحس کیسے ہو سکتے ہیں آپ وہ آپ کا اپنا ہی خون ہے آپ کی اپنی بیٹی کی اکلوتی نشانی. خیر میں نے آپ کو بتانا تھا میں بتا چکی ہوں۔ اگر آپ ہاں نہیں کریں گے تو میں بھی آپی کی طرح خود ہی شادی کر لوں گی۔”
” اسی دن کے لیے تم لوگوں کو بڑا کیا تھا میں نے کہ آخر کار مجھے چھوڑ جاؤ اور میری حکم عدولی کرو۔”
” آپ نے کبھی ہم پر دھیان دیا ہوتا بابا جان تو آج یہ سب کچھ نہ ہوتا. آپ نے کبھی دھیان دیا کہ آپ کی بیٹیوں کو آپ بھی سخت ضرورت ہے بس ہر وقت بزنس. “
” یہ سب کچھ میں نے تم لوگوں کی عیش و عشرت کے لئے ہیں کیا ہے کہ تم لوگ ایک بہترین اور مکمل زندگی گزار پاؤ. “
” یقین کیجیے باباجان انسان غربت میں تو رہ سکتا ہے مگر رشتوں کے بغیر نہیں. میں ہاں کر رہی ہو وہ ہمارے گھر رشتہ لائیں گے آپ نے کرنی ہے تو ٹھیک ہے ورنہ مجھ سے گلہ مت کریئے گا۔”
انسہ اپنی بات ختم کر کے یہاں رکی نہیں اور اٹھ کر چلی گئی . اس کے والد بہت شدید غصے میں تھے وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی بیٹی ان کے خلاف جائے.
__________________________________
انابیہ اس وقت ملکہ کے ساتھ محل میں بیٹھی ہوئی تھی۔ صبح یہ اور جبار جلدی ہی واپس آگئے تھے۔ اس کے بعد جبار نے اپنی والدہ کو کہا تھا کہ انابیہ کو شہزادی کے اصول سکھانا شروع کر دیئے جائیں۔
” بیٹا آج ہم تمہیں تربیت گاہ لے کر جائیں گے۔ تمہیں اپنی حفاظت کرنا سیکھنی ہوگی۔ ہو سکتا ہے کہ کبھی کوئی ایسا موقع آئے کہ تمہارے گارڈ تمہارے ساتھ نہ ہوں۔ اس وقت تمہیں اپنی حفاظت خود کرنی ہے۔”
ملکہ اسے لیے محل کے پچھلے حصے کی طرف آ رہی تھی. جہاں پر ایک تربیت گاہ بنی ہوئی تھی. گارڈ اکثر یہاں پر پریکٹس کرتے تھے۔ اس کے علاوہ یہاں پر گھوڑے بھی تھے جن پر بیٹھ کر گھوڑسواری سکھائی جاتی تھی۔
ایک انسان کے سامنے آیا جس نے ہاتھ میں تلوار اٹھا رکھی تھی.
” ملکہ اور شہزادی کو میرا سلام ۔آج تربیت گاہ کیسے آنا ہو گیا آپ لوگوں کا۔”
” وعلیکم السلام سعد. تمہاری شہزادی کو تربیت کی ضرورت ہے تمہاری شہزادی اور حکم دے کر گئے ہیں کہ تمہاری شہزادی کو آہستہ آہستہ گھڑسواری اور تلوار بازی سکھائی جائے تاکہ کبھی مستقبل میں انہیں ضرورت پڑے تو یہ اپنی حفاظت کر سکیں. تم انسان ہو اور تم سے بہتر انہیں کوئی سکھا نہیں سکتا. “
انابیہ کی خوشی کی انتہا نہیں رہی وہ سامنے کھڑے انسان کو اوپر سے لے کر نیچے تک دیکھ رہی تھی اسے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ یہ بھی اس کی طرح ایک انسان ہے.
” ہمارے لئے شرف عزت ہوگا اپنی شہزادی کو تربیت دینا. شہزادی آپ کو جان کر خوشی ہوگی کہ میں بھی ایک انسان ہوں میرا نام سعد خان ہے میں یہاں بہت عرصے سے رہا ہوں میرا پورا خاندان ہمارے شہزادے کا غلام ہے. “
” کیا تم نے بھی انسانوں کی دنیا دیکھی ہے جیسے میں وہاں سے آئی ہوں۔”
سعد اس کی بات پر ہنسا.” نہیں میری پیاری شہزادی میں یہاں پر ہی پیدا ہوا ہو انسانی دنیا سے میرا کوئی تعلق نہیں میرے آباؤاجداد بہت عرصہ پہلے ہی انسانی دنیا چھوڑ آئے تھے“
” یعنی تم نہیں جانتے کہ انسانی دنیا میں انسان کیسے رہتے ہیں“
” نہیں میری شہزادی اور مجھے جاننے کی ضرورت بھی نہیں . کیونکہ یہی میرا گھر ہے اور یہی میرے لوگ. آپ بھی بہت جلدی ان لوگوں کو اپنا ماننے لگ جائیں گے.یقین کیجیئے محسوس نہیں ہوتا کہ ہم اور یہ الگ ہیں۔”
ملکہ سعد کی بات پر ہنسی اور اپنے پیچھے کھڑی تاج کو پاس بلایا۔
” ہم شہزادی کو چھوڑ کر جارہے ہیں تم دیکھنا ان کو کسی چیز کی ضرورت نہ پڑے اور دوپہر کے وقت انہیں واپس لے آنا. “
” جیسا حکم ملکہ۔”
ملکہ کر چلی گئی جب کہ انابیہ کو تو یہ خوشی ہورہی تھی کہ وہ ایک انسان سے مل رہی ہے. سعد عام انسانوں سے کافی لمبا تھا اس کا قد 6 فٹ دو انچ تھا۔ قدوقامت میں یہ کافی مضبوط تھا اور ہاتھ میں تلوار اٹھائے ہوئے انابیہ کو یہی گمان ہوا کہ یہ پرانے دور کا کوئی جرنل ہے۔
” سعد آپ کتنے عرصے سے یہاں کام کر رہے ہیں. “
” ہم یہاں کام نہیں کرتے ہم یہاں شہزادے کی فوج کا حصہ ہیں. ہم ان کی فوج کے جرنل ہیں. ہمارے ساتھ ان کی مخلوق کے جنرل بھی ہیں لیکن انسانوں کے لئے ہم ہیں جنرل ہیں۔”
” کیا کبھی ان سے ڈر نہیں لگا یہ لوگ مار بھی دیتے ہونگے تم لوگوں کو۔”
” ہرگز نہیں شہزادی ہم لوگ آپس میں بھائیوں کی طرح رہتے ہیں ہم نے کبھی ایک دوسرے پر ہاتھ نہیں اٹھایا. مگر جو ہمارا دشمن ہوتا ہے ہم اس کو کبھی نہیں چھوڑتے. پھر چاہے وہ انسان ہو یا جن زادہ. “
” آپ سے ایک بات پوچھوں سعد۔”
” حکم کیجیے شہزادی آپ کو اجازت کی ضرورت نہیں ہے ہم آپ کے غلام ہیں آپ کچھ بھی پوچھ سکتی ہیں. “
” آپ کے شہزادے کس نسل سے تعلق رکھتے ہیں. “
” ہم آپ کو زیادہ نہیں بتا سکتے لیکن ہم اتنا ہی کہیں گے کہ وہ انسان بھی ہیں اور سردار جن بھی۔ اگر آپ انہیں انسان دیکھیں تو وہ انسان ہیں اور اگر آپ انہیں جن ذادے کے طور پر دیکھیں گی تو وہ ایک جن ذادے ہیں۔”
” تم لوگوں میں سے مجھے کوئی بھی ان کی مکمل پہچان نہیں بتاتا مجھے خود ہی پتہ کرنی پڑے گی. خیر مجھے اتنا تو بتاؤ ہی سکتے ہو نہ کہ یہاں پر تلوار بازی کیوں سیکھی جاتی ہے ہماری دنیا میں تو یہ سب کچھ ختم ہو چکا ہے. “
” ہم اس دنیا میں آپ کی دنیا سے بہت الگ ہیں شہزادی۔ یہاں پر جنگیں لڑی جاتی ہیں مگر گھوڑوں پر اور تلواروں سے. “
” اگر یہاں پر جنوں کی مخلوق آباد ہے تو کیا وہ جادو استعمال نہیں کرتے. “
” نہیں شہزادی وہ صرف سردار خاندان کو اجازت ہے استعمال کرنے کی وہ بھی بہت خصوصی موقعوں پر۔ یہاں پر اگر ہم وہ استعمال کریں گے تو ہمیں سخت سزا ہوتی ہے. ہاں اگر شہزادے حکم دیں تو ہم استعمال کرسکتے ہیں۔”
سعد اسے لے کر گھوڑوں کے اصطبل کے پاس آیا جہاں بے انتہا اور نایاب گھوڑے تھے۔
” شہزادی آپ کے لئے شہزادے نے ایک خوبصورت گھوڑے کا تحفہ بھیجا ہے. “
انابیہ نے گھوڑا دیکھا بے انتہا خوبصورت تھا اس کا رنگ براؤن اور اس کا قد بھی کافی بڑا تھا.
” ہمارے ہاں بہت خوش قسمت شہزادی ہوتی ہے جس کو شہزادے گھوڑے کا تحفہ دیتے ہیں۔ آپ بہت خوش قسمت ہیں کہ شہزادے نے آپ کے لئے اپنا گھوڑا منتخب کیا ہے۔”
انابیہ گھوڑے پر ہاتھ پھیر رہی تھی اور اس کی بات پر پیچھے مری۔” یہ ان کا گھوڑا تھا کیا. “
” کی شہزادی ان کا گھوڑا تھا مگر آپ کی آمد سے پہلے انہوں نے اپنے لئے نیا کالا گھوڑا پسند کیا اور اپنا گھوڑا آپ کو تحفے میں دے دیا. یہ اپنا پیار جتانے کا ایک طریقہ ہے۔ یہ گھوڑا بہت خاص ہے اور آپ کی بہت مدد کرے گا. “
” اس کا کوئی نام رکھا ہے تم لوگوں نے. “
” اس کو نام کی ضرورت نہیں آپ دیکھیے ابھی یہ ایک ایسی بات کرے گا کہ شاید آپ پر جائیں. “
” کیوں یہ خاص کیوں ہے. “
اسی لمحے گھوڑا اضطبل سے نکل کر انابیہ کے سامنے آیا اور سر جھکا کر کھڑا ہوا ۔
” شہزادی کو ان کے غلام کا سلام. “
انابیی کی شکل دیکھنے والی تھی جبکہ سعد ہنسنے لگ گیا۔” یہ آپ کی زبان سمجھ سکتا ہے اس نے یہ بہت خاص ہے اور آپ اس کی زبان سمجھ پائیں گی. مگر صرف شاہی خاندان کے لوگ ہیں اسے سمجھ پاتے ہیں مجھے اب پتہ نہیں چلا کہ اس نے کیا بات کی ہے. “
” یہ کیسی دنیا ہے سعد آپ لوگوں نے مجھے یہاں پھنسا ہی دیا ہے۔”
” یہ بہت خوبصورت دنیا ہے اور بہت جلدی آپ کو بھی اس دنیا سے بہت زیادہ لگاؤ ہو جائے گا۔”
_________________________________
انسہ تیمور سے ملنے کے لیے ان کے پاس آئی اس وقت شجاع خان بھی آفس میں موجود تھے آج انسہ نے ان سے بھی ملاقات کرنی تھی۔
اس کے اندر آتے ہی تیمور اپنی کرسی سے اٹھا اور اسے سلام کیا. انسہ نے سلام کا جواب دیا۔شجاع خان جو اس کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے بھی کھڑے ہو کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
” ہم آپ کا ہی انتظار کر رہے تھے بیٹا ہمیں تیمور نے پرسوں ہوئی ساری بات کے بارے میں بتا دیا ہے . ہم آپ سے آج خود بات کرنا چاہتے تھے. ہم سمجھتے ہیں کہ ایسی خاص باتوں میں بڑے لوگوں کا ہونا بہت زیادہ ضروری ہے. “
” بالکل انکل میں یہ سمجھتی ہوں کہ جب تک بڑوں کا ہاتھ آپ کے سر پر نہ ہوں تو آپ کوئی فیصلہ نہیں لے سکتے۔ میں آج یہاں پر مسٹر خان کو ان کے پرپوزل کا جواب دینے آئی ہوں۔”
اس کی بات پر تیمور کے کان کھڑے ہوگئے اسے بڑی بے تابی سے انتظار تھا کہ یہ ہاں کرے گی یا نہ۔
” آپ کو میں نے سوچنے کے لئے وقت دیا تھا. امید ہے آپ نے وہی فیصلہ کیا ہوگا جو ہم دونوں کے حق میں بہتر ہے. “
” بلکل مسٹر خان میں نے وہی فیصلہ کیا ہے جس کے ساتھ بہت ساری زندگی جڑ چکی ہیں۔ میری بھانجی آپ کے پاس ہے اور اس کی حفاظت کے لیے میں کچھ بھی کر سکتی ہوں. میں آپ سے شادی کرنے کے لیے تیار ہوں . آپ ہمارے گھر پروپوزل لے کر آئیں اور میرے والد سے بات کیجئے.”
شجاع خان کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی وہ جان چکے تھے کہ ان کا بیٹا جو بات کرتا ہے بہت سوچ سمجھ کر کرتا ہے.” مجھے بہت خوشی ہوئی کہ آپ نے میری بیٹی کے بارے میں سوچا. آپ بے فکر رہیے میں اور بابا جان دادی کے ساتھ کل ہی آپ کے گھر آئیں گے۔”
تیمور نے بال ختم کی تو شجاع خان نے بات شروع کی۔” بیٹا کیا آپ نے اپنے والد سے پہلے بات کر لی ہے کہ ہم آپ کے گھر پر پروپوزل لے کر آنا چاہتے ہیں۔”
” جی انکل میں نے ان کو آگاہ کر دیا تھا۔ آپ لوگوں کو ایک بات سمجھ نہیں ہوگی کہ وہ تھوڑے سے سخت ہیں. وہ شاید اس شادی کے لئے نا مانے مگر میں ہاں کر چکی ہوں. مجھے امید ہے کہ اگر وہ نہ بھی مانیں تو آپ لوگ میرا ساتھ دیں گے. “
دونوں باپ بیٹا اس کی بات پر بہت زیادہ حیران ہوئے.” آپ کہنا چاہ رہی ہیں بیٹا کے آپ اپنے والد کے خلاف جاکر یہ شادی کریں گی. “
” بالکل انکل انہوں نے آپی کی زندگی برباد کر دی اور اب میں ان کی بیٹی کی زندگی ہرگز برباد نہیں ہونے دوں گی۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ میں اپنی بہن کی اکلوتی نشانی کو ہرگز نہیں چھوڑ سکتی. ان کے نزدیک وہ ان کی بیٹی کی اولاد نہیں بلکہ عرش کی اولاد ہے جس کی وجہ سے ان کی بیٹی نے انہیں چھوڑا۔ میں نہیں چاہتی کہ انکی انا کی خاطر میں ایک اور زندگی برباد کروں۔”
” ہم آپ کے والد کو منانے کی پوری کوشش کریں گے بیٹا پھر جو فیصلہ ہوگا وہ دیکھا جائے گا. “
” تھینک یو انکل مجھے سمجھنے کے لئے. “
اس ساری بات میں تیمور خاموش ہو کر بیٹھا ہوا تھا.شجاع خان ان دونوں کو اکیلے میں بات کرنے کا وقت دینا چاہتے تھے اس لیئے ان کے درمیان سے اٹھ گئے ۔
“انسہ ایک سوال پوچھنا چاہتا چاہتا ہوں کہ کیا آپ نے دل سے ہاں کی ہے اس شادی کے لیے۔”۔
تیمور اس کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا جیسے وہ اس کا چہرہ پڑھنا چاہتا ہوں.
” جی ہاں میں نے بہت سوچ سمجھ کر ہاکی ہے آپ بے فکر رہیں آپ کو ایسا محسوس نہیں ہوگا کہ یہ شادی ہم صرف عنایہ کی وجہ سے کر رہے ہیں. “
” مجھے خوشی ہوئی آپ کے خیالات جان کر اور آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ ہم یہ شادی کر رہے ہیں اور یہ ایک پراپر شادی ہی ہوگی۔ شادی جن حالات میں مرضی ہو مگر ہم ساری رسمیں نبھائیں گے. اور سب سے بڑی بات میں نے سوچ سمجھ پر آپ کو شریک حیات کے طور پر قبول کیا ہے اور ساری زندگی کے لیے کیا ہے یہ رشتہ ارضی نہیں ۔”
” مجھے معلوم ہے اور آپ کو شکایت کا کوئی موقع نہیں ملے گا. “

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: