Ishq Mein Mar Jawan Novel By Hifza Javed – Episode 2

0
عشق میں مرجاواں از حفضہ جاوید – قسط نمبر 2

–**–**–

میری اجازت کے بغیر کاپی پیست مت کریں
انابیہ اس وقت اپنے بھیا کے ساتھ بیٹھی ہوئی انابیہ بیٹھی ہوئی کوئی ناول پڑھ رہی تھی جبکہ تیمور اپنے کسی کیس پر کام کر رہا تھا۔ آج تیمور جلدی ہی گھر آ گیا تھا جب بھی اسے جلدی چھٹی ہوتی تو یہ کوشش کرتا کہ زیادہ سے زیادہ وقت انابیہ کے ساتھ گزارے۔
” عناب کیا پڑھ رہی ہو. “
” بھیا کچھ بھی نہیں، بیوٹی اینڈ بیسٹ پڑھ رہی ہوں۔”
” یہ افسانوی باتیں مت پڑھا کرو تم جانتی ہو کے یہ دماغ پر اچھا اثر نہیں کرتی۔ کوئی انفارمیشن والی چیز پڑھ لیا کرو جس نے تمہیں فائدہ ہو. “
” بھیا بس ایسے ہی آج دل کیا کہ کوئی ناول پڑھ لوں۔”
ابھی یہ بات کر رہی تھی کہ اس کا نیلا نشان چمکنے لگ گیا۔ تیمور بھی اس کی طرف متوجہ ہو گیا کیونکہ اس کے نیلے نشان سے روشنی نکلنے لگی.” بھیا یہ بہت درد کر رہا ہے دیکھیں نہ۔”
تیمور فورا سے اٹھا اور گیلا کپڑا لے کر آیا۔
اس میں جو ہی نشان پر گیلا کپڑا رکھا وہ شدید گرم ہو گیا۔” عناب اس میں تو آگ لگی ہوئی ہے. “
” ایسا کیوں ہوتا ہے آپ بتائیں نہ میں انسانوں سے مختلف کیوں ہوں۔”
” ایسا کچھ بھی نہیں ہے یہ صرف اور صرف تمہارا وہم ہے. بچپن میں تم سخت بیمار ہو گئی تھی تم یہ بات جانتی ہو . اس بعد بات تمہاری آنکھوں کا رنگ بھی بدل گیا اور تمہارے ہاتھوں پر یہ نشان آگیا۔”
” بھیا آپ کو پتہ ہے مجھے اکثر لوگ کہا کرتے تھے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اس کے ساتھ کوئی جن رہتا ہے. میرے نزدیک جب بھی کوئی آنے کی کوشش کرتا ہے اسے ضرور نقصان ہو جاتا تھا. بھیا آپ جاتے ہیں اسی وجہ سے کتنے لوگ مجھ سے دوستی نہیں کرتے۔”
” یہ سب فضول باتیں ہیں جو تم ناول اور پڑھ کر اپنے دماغ میں بٹھا لیتی ہو۔ جلد ہی تم ایک رپورٹر بن جاؤں گی پھر دیکھنا لوگ تمہارے اردگرد کیسے آتے ہیں۔”
تیمور اس کے نشان پر بار بار پانی سے گیلا ہوا کپڑا رکھ رہا تھا مگر انابیہ کو اور تکلیف ہو رہی تھی۔ اسے یہ تکلیف بچبن سے ہوا کرتی تھی جب بھی اس یہ تکلیف ہوتی اسے ایسا محسوس ہوتا کہ اس کی کلائی ہاتھ سے کٹ رہی ہے۔
__________________________________
نیلی آنکھوں والا شہزادہ اس وقت اپنے گھوڑے کو بھگا رہا تھا. گھوڑے کی رفتار اس قدر تیزی کے دیکھنے والا انسان اسے برداشت نہ کر پائے. اسدے جوہی گھوڑا روکا اس کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی گھوڑے کی نیل سے اس کی کلائی پر پریشان پڑگیا۔
اسے ذرا سی تکلیف ہوئی مگر یہ جانتا تھا کہ اس کی شہزادی کو اس سے زیادہ تکلیف ہوگی.
” ٹائیگر تم یہ بات جانتے ہو کہ یہ تکلیف صرف مجھے نہیں ہوتی تمہاری شہزادی کو بھی ہوتی ہے. ذرا احتیاط کیا کرو جب تم رک جاتے ہو تو. “
یہ گھوڑے سے اترا اور سامنے لگے بڑے سے پنجرے کی طرف گیا. اس میں درمیان میں بیٹھا ہوا بڑا سا شیر اسے دیکھتے ہی اس کی طرف آیا۔
” شیرو کیسے ہو تم. “
یہ پنجرے کا دروازہ کھولتے ہی اندر چلا گیا۔ شیر فورا اس کی طرف آیا اور اپنا سر جھکا کر اس کا استقبال کیا.
” میں جانتا ہوں تم بہت خوش ہو آج۔ آج 21 سال بعد تم جانتے ہو مجھے اس بات کا یقین ہو چکا ہے کہ تمہاری شہزادی بہت جلد میرے پاس آنے والی ہیں. کل میں ان سے ملا تھا تم جانتے ہو وہ اتنی کمزور ہوچکی ہیں اپنا بالکل خیال نہیں رکھتی. یہاں پر آئیں گی تو انہیں میں کوئی کام نہیں کرنے دوں گا. ویسے بھی وہ کام کیا کریں گی ان کا تو صرف اور صرف کام حکم چلانا ہے. وہ ناصرف ہمارے دل کی ملکہ ہیں بلکہ ہماری لوگوں کی بھی ۔”
شیرو دھاڑا جس کا مطلب تھا کہ اسے اپنے مالک کی بات سمجھ آ چکی ہے.
ہارون ایک گارڈ کے ساتھ اس کے پاس آیا. اسے اس شیر سے بڑا ہی ڈر لگتا تھا اسی خاطر وہ پنجرے کے باہر ہی کھڑا رہا۔
” سردار آپ کو بڑے سردار نے یاد کیا ہے. “
” ابھی ہارون. “
” جی سردار وہ آپ کے منتظر ہے آپ جانتے ہیں کہ دربار لگ چکا ہے اور انہوں نے آپ سے کوئی خاص معاملہ شیئر کرنا ہے. “
” ٹھیک ہے میں آتا ہوں تم لوگ جاؤ. “
یہ شیرو کی طرف بڑھا اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔” شیرو اب میں تم سے تبھی ملنے آؤں گا جب میری ملکہ میرے ساتھ ہوں گی۔”
شیرو اس کے آگے پھر جھکا اور یہ باہر نکل گیا اور پنجرہ بند کر دیا۔
یہ اپنے گھوڑے کے اوپر بیٹھا اور اس کا رخ محل کی طرف کردیا.
__________________________________
محل میں آتے ہیں بہت سارے لوگ اس کے آگے جھکے. یہ مغرورانہ چال چلتے ہوئے دربار کی طرف جانے لگا. اس وقت یہ خوبصورت سفید رنگ کے کلف والے کرتے میں ملبوس تھا. میری آنکھیں سفید رنگ کو مات دیتی تھی۔
” سب لوگ کھڑے ہو جائیں شہزادے آچکے ہیں۔”
اس کے باپ کے ساتھ والی خالی جگہ پر کھڑے دربار نے اس کے آتے ہی سامنے بیٹھے لوگوں کو یہ الفاظ کہے تو سب لوگ کھڑے ہوگئے.
” بیٹھ جائیے سب۔”
یہ ہاتھوں کا اشارہ کر کے اپنے باپ کی طرف آیا اور نہ سر جھکا یا پھر اپنے باپ کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گیا.
” کیسا ہے ہمارا بیٹا. “
” بالکل ٹھیک باباجان. آپ نے ہمیں یاد فرمایا ہے تو ضرور کوئی اہم ہی کام ہوگا ہمیں حکم کیجے. “
” آج تم جانتے ہو کہ ہمارے محل کی شہزادی کو یہاں سے گئے پورے اکیس سال ہو چکے ہیں. وقت آچکا ہے کہ تم ان کو واپس لے کر آؤ. ہمیں اس محل میں اب تمہارے بچوں کو دیکھنا ہے. اب تو وہ ماشاءاللہ سے بہت بڑی ہو چکی ہیں. اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھا لیں گی۔ تم جانتے ہو کہ اگر وہ یہاں نہ آنا بھی چاہیں تو تم انہیں لے کر آؤ گے وہ اس محل کی شہزادی ہیں. ان کا رشتہ تم سے آج سے نہیں پوری 21سال سے ہے. “
” جی بابا آپ پریشان مت ہوں. پہلے کیا گیا وعدہ ہمیں یاد ہے بہت اچھے سے. جب ہم نے انھیں پہلی بار اپنی گود میں اٹھایا تھا تو ہمیں اسی دن احساس ہو گیا تھا کہ ان کے علاوہ ہماری زندگی میں کوئی آیا آ ہی نہیں سکتا۔ ہماری نئی نئی شہزادی جب ہمارے پہلو میں بیٹھیں گی تو دنیا دیکھے گی۔ ہم بہت جلد انہیں لینے کے لیے جا رہے ہیں. “
” بہت خوب ہمارے شہزادے. تمہارے لوگ تم سے اپنے کچھ مسائل حل کروانا چاہتے ہیں اپنی ذمہ داری نبھاؤ. “
” میرے لوگ سر آنکھوں پر بابا۔ ان کا جو بھی مسئلہ ہے مجھے بتائیں میں اپنی جان لگا کر بھی اسے حل کروں گا. “
شہزادہ اپنے لوگوں کی طرف مڑا۔ اس کے لوگ اس سے بہت محبت کرتے تھے یہ ایک رحم دل شہزادہ تھا مگر جب یہ ظلم کرنے پر آتا یا کسی ظالم کو سزا دینی ہوتی تو دنیا کانپ جاتی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: