Ishq Mein Mar Jawan Novel By Hifza Javed – Episode 20

0
عشق میں مرجاواں از حفضہ جاوید – قسط نمبر 20

–**–**–

جبار اینڈ انابیہ سپیشل
سعد انابیہ کو لے کر گھوڑوں کے اصطبل سے نکل آیا اور اب ان کا رخ تربیت گاہ کے تلوار خانے کی طرف تھا یہ انابیہ کے لیے ایک خوبصورت قسم کی تلوار کا انتخاب کرنے والا تھا جس سے وہ اسے تلواربازی سکھا سکے یہاں کی شہزادیوں کو تلواربازی اس مقصد کے لیے سکھائی جاتی کہ جب ضرورت پڑے تو وہ اپنی حفاظت کر پائیں.
” یہاں پر جنگیں بھی ہوئیں ہیں کیا. “
” بہت بار شہزادی اور میں نے بھی بہت سی جنگوں میں حصہ لیا ہے. “
” کیا تم مجھے اتنا بتا سکتے ہو کہ تمہارے شہزادے کی عمر کیا ہے. “
” تیس سال وہ انسانوں جیسی عمر ہی پاتے ہیں۔ ویسے انسان کم عمر پاتے ہیں ویسے یہ بھی کم ہیں عمر کے ہوتے ہیں. کچھ خاص نسل کے جن ہیں یہاں پر جن کی عمر زیادہ ہوتی ہے۔ شہزادی یہ تلوار کیسے رہے گی آپ کے لیے۔”
ایک خوبصورت سلور رنگ کی تلوار اس نے انابیہ کے سامنے رکھیں. انابیہ نے اس کی دھار دیکھی تو اس کے ہاتھ سے فورا خون نکلنا شروع ہو گیا اس کی دھار بے انتہا تیز تھی۔
” ارے شہزادی آرام سے یہ تلوار بہت تیز ہوتی ہے۔ ایک عام چاقو سے اس کی دھار کافی تیز ہے. آپ اس سے تلوار بازی نہیں سیکھی گئی اک اور تلوار سے سیکھیں گے جس کی دھار تھوڑی کم ہے. تاکہ اگر آپ کو لگ بھی جائے تو آپ زخمی نہ ہوں۔”
انابیہ کے ہاتھ سے نکلتے ہوئے خون کے لیے تاج فورا سے کپڑا لے آئی اور اس کے ہاتھ پر رکھا۔
” شہزادی شہزادے بہت غصہ کریں گے جب وہ آپ کا زخم دیکھیں گے تو. “
” تاج کچھ سیکھتے ہوئے چوٹ تو لگ ہی جاتی ہے اس میں غصہ کرنے والی کیا بات ہے۔”
انابیہ نے اپنے ہاتھ کپڑے سے باندھا اور سعد سے کہا کہ وہ اس کو سیکھانا شروع کرے۔
” آئیے شہزادی ہم یہاں سے شروع کریں گے دیکھیے تلوار کو ایسے پکڑا جاتا ہے اس سمت سے۔”
سعد نے اس کے ہاتھ میں تلوار پکڑائی اور سامنے کی طرف کر کے دکھائی کہ ایسے پکڑا جاتا ہے۔ اب سعد ایسا احساس کو ہاتھ سے بتا رہا تھا کہ اس کو کیسے چلاتے ہیں. انابیہ کے لیے اس کو اٹھانا ہی بہت زیادہ بھاری ہو رہا تھا کیونکہ اس کا وزن کافی تھا.
” شہزادی آہستہ آہستہ اس کو کھومیئے اور دیکھیے آپ کے ہاتھ کی گرفت نہ زیادہ سخت ہو اور نہ زیادہ کمزور. “
سعد خود اپنی تلوار لے کر اس کے سامنے آیا۔ اس نے انابیہ کا ہاتھ اوپر کیا اور اپنی تلوار سامنے رکھی۔ ان دونوں کو آپس میں جوڑا اور بتایا کہ جب سامنے والا ایسے تلوار مارے تو ایسے کرنا چاہیے۔
” سعد مجھے تو سیکھنے میں کافی وقت لگ جائے گا. ہماری دنیا میں تلوار بازی اب نہیں سیکھی جاتی بہت کم ایسے لوگ ہوتے ہیں جنہیں تلوار چلانا آتی ہے. “
” فکر رہیے شہزادی آپ کو میں ایک ماہ میں سکھا دوں گا۔ ویسے اگر شہزادے اور سکھائیں تو آپ کو پندرہ دن بھی نہ لگیں۔”
” ہمارے بارے میں بات ہو رہی ہے یہاں پر. “
جبار آگیا. اس کے ساتھ ہارون بھی تھا. انابیہ نے اسے دیکھا تو فورا پیچھے ہوئی جبکہ تاج اور سعد نے جھک کر اسے سلام کیا۔
” شہزادے شہزادی کی تربیت شروع کر دی ہے ہم نے. ان کا گھوڑا بھی ان کو دکھایا ہم نے اور اب ان کی تلوار ان کو دکھائی ہے۔”
” اچھی بات ہے مجھے امید ہے کہ تم انہیں بہت اچھا سیکھاو گے. ابھی کے لئے تم لوگ سب جاؤ میں خود انہیں تھوڑا سا سیکھانا چاہتا ہوں۔”
اس کا حکم پاتے ہی سب لوگ چلے گئے جبکہ ہارون جبار کی خوبصورت تلوار لے آیا. یہ ہیرے سے بنی ہوئی تھی.” جبار یہ کتنی چمک رہی ہے۔”
انابیہ نے اشتیاق سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
” کیوں کہ میری جان یہ ہیرے کی بنی ہوئی ہے. یہ نیلے شہزادے کی خصوصی تلوار ہے اس کو کوئی اور اٹھا نہیں سکتا۔ آپ جانتی ہیں جب اس کو استعمال کیا جاتا ہے تو اس میں سے نیلے رنگ کی روشنی نکلتی ہے. “
” انٹرسٹنگ بہت دلچسپ ہے یہ۔”
” جی ہاں بہت زیادہ دلچسپ ہے اور بھی مزا آئے گا جب ہم آپ کو خود سکھائیں گے. “
انابیہ ابھی اس کی بات پوری طرح سمجھ نہیں پائی تھی کہ جبار نے اس کا بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔” اسے تھامیے. “
” بہت بھاری ہے شہزادے ہم سے نہیں اٹھائی جارہی. “
انابیہ اس کی قربت کی وجہ سے پریشان تھی۔ کیوں کہ اس کی پشت جبار کی سینے سے لگی ہوئی تھی۔ جبکہ جبار نے ایک ہاتھ اسکی کمر کے اردگرد لپیٹا ہوا تھا اور ایک ہاتھ سے اس کا ہاتھ تھام رکھا جس میں تلوار اٹھا لی تھی۔
” سامنے کی طرف دیکھیں میری جان. آپ ہمیں کمرے میں بھی گھور سکتی ہیں بہت زیادہ وقت ہوگا۔”
انابیہ اس کی بات پر شرمندہ ہوگئی اور نظریں جھکا لیں۔
اسے اپنے کام کے لوں پر جبار کے دانت محسوس ہوئے جس سے جبار نے اسے ہلکا سا کاٹا۔” جبار مت کریں ایسا. “
” اب تو ایسا ہوگا ہم آپ کو سیکھائیں گے تو معاوضہ تو لیں گے۔”
انابیہ نے اسے اس کی طرف دیکھا جس پر جبار نے آگے بڑھ کر اس کی آنکھیں چوم لیں.” آپ غصے میں اتنی حسین لگتی ہیں کہ ہمیشہ شک پڑ جاتا ہے کہ آپ ایسے زیادہ حسین ہیں یا ہنستے ہوئے۔”
انابیہ نے اس کی بات پر چہرہ نیچے کرلیا جبکہ جبار نے اپنی دوسرے ہاتھ سے اس کا چہرہ اوپر کیا اور سامنے دیکھنے کو کہا۔
” دیکھیے دشمن ہمیشہ پیچھے سے وار کرتا۔
ہے. تلوار بازی کی سب سے اہم مشق میں یہ بات شامل ہوتی ہے کہ آپ کو سامنے دیکھنے سے پہلے آوازوں کو سنا ہوتا ہے. آپ کو آواز جس سمت سے آرہی ہوتی ہے تلوار کا حملہ وہیں سے ہوتا ہے۔”
جبار نے تلوار سامنے کی اور اسے بتایا کہ ایسے مارنی ہے ہمیشہ بات یاد رکھیں کبھی بھی پہلے نہیں مارنا. جب کوئی آپ کی طرف آئے تو پہلے دیکھنا ہے کہ وہ کتنا طاقتور ہے پھر آپ نے سوچ کر اس پر وار کرنا ہے۔”
” آپ کو کتنی اچھی تلوار بازی آتی ہے شہزادے. “
” کیوں کہ ہم بچپن سے سیکھ رہے ہیں میری جان. آپ کے آباواجداد کو بھی بہت بہترین تلواربازی آتی تھی. آپ کی دنیا بدل چکی ہے ورنہ ہم سے اچھی تلوار بازی آپ کے آباواجداد کرتے تھے۔”
جبار اسے دیکھانے کے ساتھ ساتھ شراتیں کرکے تنگ بھی کر رہا تھا۔جبار نے تلوار سامنے پڑے میز پر رکھی اور رخ انابیہ کی طرف کیا جو کافی تھک گئی تھی۔یہ اس کی طرف آیا اور اس کے کندھے پر ہونٹ رکھے۔” تھک گئی ہیں آپ بہت زیادہ. “
” بالکل میں بہت زیادہ تھک گئی ہوں اتنی دیر سے یہاں پر موجود ہوں۔”
” ٹھیک ہے آپ گھر جائیے ہم آرہے ہیں ۔پھر ہم مل کر کھانا کھائیں گے سب گھر والوں کے ساتھ.”
تاج آئی اور انابیہ کو لے کر چلی گئی جبکہ جبار سعد کے پاس تھوڑی دیر کے لیئے رک گیا۔
” سعد ہمیں یقین ہے کہ تم اپنی شہزادی کی حفاظت بھی کرو گے اور انہیں بہت جلد ہی ان کی حفاظت کرنا سکھا دو گے“
” جی میرے شہزادے میں جانتا ہوں کے ان کی حفاظت کتنی ضروری ہے. “
” تم جانتے ہو نا جب سے ان کے آنے کی خبر ہر طرف پھیلی ہے ان کی جان کتنی خطرے میں آچکی ہے۔ تم ان کو اس دنیا کے اصول آہستہ آہستہ سیکھاؤ۔ ان کو بتاؤ کہ اس دنیا کے لوگ کتنے اچھے ہیں اور ساتھ یہ بھی بتاؤ کہ اس دنیا میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن سے انہیں بچ کر رہنا ہے۔”
” جی شہزادے . وہ آپ سے متعلق کافی سوال کر رہی تھی. انہیں ابھی بھی اس دنیا کے بارے میں بہت ساری باتیں نہیں پتا . وہ جاننا چاہتی تھی مگر میں نے ان کو اتنی تفصیل نہیں بتائی. “
” ابھی وہ انہیں نہیں آئی ہیں تم سے ایسے ہی سوال کریں گے تمہیں پتہ ہونا چاہئے کہ ان کو کیسے ہینڈل کرنا ہے۔ ہم نے تمہیں ان کی اسی میں داری اس لیے دی ہے کہ ہم جانتے ہیں تم بھی انسان ہو اور تم انہیں بہتر سمجھتے ہو۔ تمہارے پاس وہ اپنے آپ کو محفوظ سمجھیں گی. “
” جی شہزادے. “
” ہم اب چلتے ہیں ہمیں تھوڑا سا کام ہے. “
ہارون جبار کے ساتھ ساتھ ہی چل رہا تھا.
” شہزادے آپ کو کیا لگتا ہے کہ شہزادی اس دنیا میں ایڈجسٹ ہو جائیں گی۔”
” وہ ایڈجسٹ ہو جائیگی تم جانتے ہو انہیں ابھی یہ بات نہیں پتا کہ ہم ان کی سوچ پڑھ سکتے ہیں. “
” کیا آپ نے انہیں ابھی تک نہیں بتایا. “
” بالکل بھی نہیں اور تم جانتے ہو ہم اتنا مزہ آتا ہے انہیں تنگ کرنے میں. جب وہ جو سوچ رہی ہوتی ہیں ہم بولتے ہیں تو وہ حیران ہو جاتی ہیں. سچ میں وہ اتنی معصوم ہیں کہ انہوں نے سوچ لیا ہے کہ وہ ہماری دنیا کو اپنا لیں گی اور پھر ہماری دنیا کو جانے گی. ہمیں بہت زیادہ خوشی ہوئی کہ کم سے کم انہوں نے ہمیں اپنا ماننا تو شروع کیا۔”
” شہزادے آپ سے ایک بات کرنا چاہتا ہوں میں. “
” ہمیں معلوم تھا کہ تمہیں کوئی بات پریشان کر رہی ہے۔ بولو کیا بات کرنی ہے ہارون۔”
” شہزادے آپ جانتے ہیں کہ ہم ان کی دنیا میں بہت عرصہ رہ چکے ہیں۔ ان کی ایک کزن ہے ان کی چچازاد بہن – – – – – -سارہ—— آپ جانتے ہیں نہ کہ ہم انہیں پسند کرتے ہیں.”
” ارے ہاں تم نے مجھے بتایا تھا. اس بارے میں تم اپنی شہزادی سے بات کرو. شہزادی کو تو ہم لے آئے تھے مگر ان کی بہن کو یہاں لانا بہت مشکل ہوگا۔ وہ شاید اس دنیا میں نہ رہ پائے شہزادی تو اپنے نشان کی بدولت بھی یہاں پر رہی ہیں مگر شاید وہ نہ رہ پائے. “
” میں رکھ لوں گا شہزادے میں کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دونگا. شہزادی کی ذمہ داریاں اور ہیں جبکہ وہ ایک عام انسان کی طرح یہاں پر رہ پائے گی. “
” ٹھیک ہے اس دفعہ تمہاری شہزادی اپنے بابا سے ملنے جائیں گے تم بھی ساتھ چلے جانا اور دیکھ لینا کہ وہ تم سے شادی کرنا چاہتی ہے یا نہیں. “
” شکریہ میرے شہزادے۔”
_________________________________
محل میں دوپہر کے کھانے کا وقت ہوگیا تھا. انابیہ نماز پڑھ کر ابھی نیچے آئی تھی. دادی سے اس کی ملاقات ہوئی ان کے ساتھ ہی گوہر اپنی چھوٹی بیٹی کو لے کر بیٹھی ہوئی تھی.” کہاں غائب ہو گئی تھی تم لڑکی کل سے تمہیں نہیں دیکھا. “
گوہر نے اس سے سوال کیا. “گوہر ہم کل بستی میں چلے گئے تھے رات وہاں ہی گزاری ہے. “
” اچھا تم نے بستی کے لوگوں سے ملاقات کی کیسے لگے اچھے ہیں نا. “
” جی بہت اچھے ہیں. “
” بیٹا تمہیں بہت زیادہ مسئلہ تو نہیں ہو رہا. اگر کوئی بات ہے تو ہم سے آکر پوچھو ہم تمہارے اپنے ہی ہیں. “
اس مے جبار کی دادی کی طرف دیکھا ان کو دیکھ کر اسے اپنی دادی جان یاد آجاتی تھی۔” آپ جانتی ہیں دادی آپ کو دیکھ کر مجھے اپنی دادی جان یاد آجاتی ہیں۔”
” تو بیٹا تم بھی مجھے دادی ہی سمجھو میں وہی ہوں بس فرق اتنا ہے کہ وہ اس دنیا میں ہیں اور میں اس دنیا میں۔”
دادی نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا. انابیہ کو یہاں آ کر بہت زیادہ اپنائیت کا احساس ہو رہا تھا.” گوہر آپ کی بیٹی کتنی پیاری ہے آپ کی بڑی بیٹی نظر نہیں آرہی. “
” اپنی دادی امی کے ساتھ گئی ہوئی ہے سیر کے لیے. ابھی آ جائے گی. “
انابیہ نے گوہر کی بیٹی لے کر اپنی گود میں پکڑا یہ بہت پیاری تھی ۔
” کتنی پیاری ہے نا یہ گوہر مجھے بچے بہت زیادہ پسند ہیں. آپ جانتی ہیں میں بھیا کو ہمیشہ کہا کرتی تھیں کہ جب آپ کی بیٹی یا بیٹا ہوگا تو میں اسے خود پالوں گی. “
اس نے چھوٹی بچی کے منہ پر بہت زیادہ پیار دیے. بچی اس کے پیار دینے سے سہم گئی اور رونا شروع ہوگی.” ارے تھوڑا سا رحم کر جاو بہت چھوٹی ہے ابھی۔ مجھے تو لگتا ہے دادی جان یہ اپنے بچوں کو بھی ایسے ہی تنگ کیا کرے گی۔”
ان کی بات پر انابیہ نے شرم سے سر جھکا لیا.” بس ہمیں تو جبار کے بچوں کا انتظار ہے. بڑے ہی پیارے ہوں گے دونوں ماں باپ جو اتنے پیارے ہیں“
ان سب باتوں میں انابیہ کے کان لال ہوگئے تھے۔ پیچھے کھڑا ہوا جبار ان کی باتوں پر ہنسا اور انابیہ کے پاس آکر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
” شہزادی ہمارے بچے جلدی آ جائیں گے پھر آپ ان سے ڈھیر سارا کھیلے گا کوئی آپ کو منع نہیں کرے گا. “
اس بات پر دادی اور گوہر ہنسنا شروع ہوگی.” اچھا بس کرو بچی کو تنگ نہیں کرو کھانا لگ گیا ہے تمھارے بابا اور بھائی بھی آئے ہیں آج کھانے کیلئے. “
سب لوگ اٹھ کر کھانے کے لئے چلے گئے. فرش پر بیٹھے ہوئے انابیی کو ایسے ہی لگ رہا تھا جیسے کسی پرانے دور کے محل میں بیٹھی ہوئی ہے۔
سردار اور بڑے شہزادے آئے. ملکہ اپنی پوتی کے ساتھ باہر گھومنے گئی ہوئی تھی جس کی بدولت آج وہ کھانے پر موجود نہیں تھی.” کیسی ہے ہماری بیٹی. یہاں پر اچھا تو لگ رہا ہے نہ تمہیں کسی چیز کی کمی تو نہیں. “ہے
انابیہ سے بہت پیار سے بڑے سردار نے پوچھا.” میں بالکل ٹھیک ہوں سردار مجھے کوئی مسئلہ نہیں. “
” میرا بچا ہم آپ کے بابا ہیں اس لیے جیسے جبار ہمیں بابا بلاتا ہے تم بھی ہمیں بابا ہی بلایا کرو۔”
” ویسے باباجان ہمیں امید ہے کہ ہماری چھوٹی بہن کو یہاں ایڈجسٹ ہونے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا. سنا ہے کل جبار نے اس کو پوری بستی گھمایا اور سب سے ملوایا. بابا آپ کو کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی نہ بستی کے لوگوں سے ڈر تو نہیں لگا. “
” نہیں……. “
” آپ ہمیں لالہ بلا سکتی ہیں. “
” نہیں لالہ ہمارے ساتھ جبار تھے اس لیے ہمیں ڈر نہیں لگا۔”
کھانا بہت زیادہ خوشگوار ماحول میں کھایا گیا آج انابیہ کو احساس ہوا کہ یہ لوگ اتنے برے نہیں ہیں جتنا وہ ان کو سمجھتی ہے۔ مگر اسے اس دنیا کی حقیقت جاننی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: