Ishq Mein Mar Jawan Novel By Hifza Javed – Episode 21

0
عشق میں مرجاواں از حفضہ جاوید – قسط نمبر 21

–**–**–

میری اجازت کے بغیر کاپی پیست مت کریں
انابیہ کی آنکھ جبار کے اٹھانے سے کھولی جبار اسے تھوڑی دیر کے لئے باہر واک پر لے کر جانا چاہتا تھا۔ آج برفباری نہیں ہو رہی تھی۔ یہ رات بہت دیر سے سوئی تھی اس لئے صبح دیر سے ہی اٹھی۔ جبار نے اسے فورا واشروم بھیجا کہ جائے اور فریش ہو کر آئے۔ انابیہ سوئے ہوئے ہیں واپس آئی اسے شدید نیند آئی ہوئی تھی۔
جبار نے اسے بیڈ پر بٹھایا.” ناشتہ مانگتا ہوں آپ کے لیے. “
یہ اس کی بات سننے کے بجائے دوبارہ بیڈ پر سوگئی۔ جبار نے اسے دوبارہ اٹھا دیا۔
” شہزادی مجھے آپ کے ساتھ واک پر جانا ہے پھر میں نے کچھ کام بھی کرنے ہے. “
” آپ چلے جائیں شام کو چلے جائیں گے ہم واک کے لئے. مجھے سخت نیند آئی ہوئی ہے میرے پاس اٹھنے کی ہمت نہیں. “
” میں خود اٹھا کر لے جاؤں گا آپ کو اگر آپ کے پاس رہنے کی ہمت نہیں. کچھ بہت خاص آپ کو دکھانا ہے . لالہ نے بھی آپ کو بلایا ہے انہوں نے بات کرنی ہے آپ سے۔”
” جبار پلیز کل چلے جائیں گے نا۔”
جبار نے اسے اٹھا کر اپنے کندھے کے ساتھ لگایا.” لالہ کا حکم ہم ٹال نہیں سکتے جلدی کریں بہت ضروری کام ہے آپ سمجھ جائیں گی. “
اس نے روٹی کا نوالہ بنا کر انابیہ کے منہ میں ڈالا.” آپ جانتے ہیں گھر میں اگر میں لیٹ جگہ کرتی تھی تو بھیا نے مجھے کبھی نہیں اٹھایا تھا. وہ لوگ میری نیند کا بہت زیادہ دھیان رکھا کرتے تھے . مگر یہاں پر تو مئں جب سے آئی ہوں مجھے صحیح سے نیند نصیب ہی نہیں ہوئی۔”
انابیہ نے برے منہ بناتے ہوئے کھانا شروع کیا” واپس آکر آپ جتنی مرضی دیر کے لیے سو جائیے گا ہمارا ابھی جانا بہت ضروری ہے۔”
انابیہ کو زبردستی ناشتہ کروانے کے بعد اس نے تاج کو بلایا جس نے انابیہ کو تیار کیا۔
ہلکے جامنی رنگ کا فراک جو اس کے پیروں تک آتا تھا اسے بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔ ہاتھوں میں خوبصورت ہیرے کے کنگن اس نے پہن رکھے تھے جبکہ سر پر اپنا خصوصی تاج اور حجاب کر رکھا تھا.
” چلیے شہزادی ہم پہلے ہی دیر کر چکے ہیں۔”۔ جبار اس کا ہاتھ پکڑے اسے خواب گاہ سے باہر لایا.
گوہر بھی ان کا انتظار کر رہی تھی وہ بھی ان کے ساتھ ہی جا رہی تھی.” گوہر جلدی چلیے لالہ کب سے انتظار کر رہے ہیں۔”
انابیہ ان کے پیچھے ہی نکلی۔ باہر جاکر اس نے دیکھا کہ کل والا گھوڑا کھڑا ہوا تھا اس کے ساتھ جبار کے کالے رنگ کا گھوڑا اورگوہر کے لیے سفید رنگ کا گھوڑا تھا۔
” جلدی چلے آپ لوگ بہت دیر ہوگئی ہے کوئی بہت اہم کام پڑ گیا ہے لالہ کو. “
” شہزادے میں نے کبھی گھوڑے پر اکیلے سفر نہیں کیا۔”
” پریشان مت ہو میرا گھوڑا کو کبھی نقصان نہیں پہنچ جائے گا. “
” شہزادی آپ کا غلام آپ کو کبھی گرنے نہیں دے گا مجھ پر بیٹھ جائیے.”
گھوڑے کی آواز انابیہ اور جبار دونوں کو آئی۔”سن لیا آپ نے جلدی سے بیٹھ جائیں ہمیں نکلنا ہے بستی کے لیے۔”
یہ لوگ اپنے سفر کی طرف روانہ ہوگئے انابیہ کا گھوڑا گوہر کے ساتھ ساتھ تھا کیونکہ اسے نہیں پتا تھا کہ کس راستے کی طرف جانا ہے۔ جبکہ جبار کا گھوڑا بہت تیز تھا اس کے ساتھ ان کے گھوڑے آہستہ چل رہے تھے۔
یہ لوگ ایسی جگہ پر پہنچے جہاں پر بہت سے لوگ تلواریں لیے ہوئے کھڑے تھے. “خدا خیر کرے کہیں سے حملہ تو نہیں ہوگیا. “
گوہر اتری اور ساتھ ہی انابیہ کو بھی اترنے میں مدد کی.” گوہر آپ ایسا کیوں کہہ رہی ہیں کون حملہ کریگا۔”
” ہمارے ہاں قبیلے میں کچھ غدار لوگ بھی ہیں جنہوں نے ایک ریاست بنا لی ہے. وہ غداری کرتے ہیں تو ہمیں اس کا جواب دینا ہوتا ہے۔ اس دفعہ ان کا ہدف تم ہو کیونکہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ تمہارے پاس کتنی طاقت ہے. “
” میرے پاس کوئی خاص طاقت نہیں گوہر. “
” میری جان اس وقت جبار سے تمہیں جو طاقت ملی ہے وہ تم جان نہیں سکتی. وہ ایک خصوصی وقت پر تمہیں پتا چلے گا جب تمہیں اس کی ضرورت پڑے گی. وہ اتنی خاص طاقت ہے کہ تم جب اسے استعمال کروں گی تو سامنے والا بچ نہیں پائے گا. “
” گوہر میں تو انسان ہوں تو میں کیسے طاقت رکھتی ہوں. “
” میری جان تمہیں تمہارے شوہر نے یہ طاقت دی ہے. تمہارا تاج نیلا ہوچکا ہے اس کی یہ نشانی ہے کہ تمہارے پاس وہ طاقت آ چکی ہے۔”
میرعثمان ان کا انتظار کر رہے تھے یہ لوگ کمرے کے اندر داخل ہوئے جہاں پر میرعثمان کے ساتھ سعد اور ایک اور انسان کھڑا ہوا تھا۔” شکر ہے تم لوگ جلدی ہی پہنچ گئے مجھے بہت ضروری بات کرنی ہے تم سب سے بیٹھو. “
” لالہ کہیں غدار قبیلوں نے تو کوئی کام نہیں کیا۔”
” ایسا ہی ہوا ہے جبار اور اس مرتبہ بہت شدید ہوا ہے. وہ لوگ مغربی علاقے سے ہم پر حملہ کرنے آرہے ہیں ہمیں تیار رہنا ہوگا. ان کا مقصد شہزادی انابیا کو یہاں سے لے جانا ہے. تم جانتے ہو کہ وہ انسانوں کے کتنے بڑے دشمن ہیں اور شہزادی انابیہ کے پاس جو طاقت ہے وہ اسے حاصل کرنا چاہتے ہیں.”
” ہم ایسا کبھی بھی نہیں ہونے دیں گے لالہ ہم اپنی شہزادی کی حفاظت کرنا جانتے ہیں. “
” ہمیں معلوم ہے چھوٹے شہزادے کہ تم بہتر طریقے سے اپنی شہزادی کی حفاظت کرو گے ۔مگر یہاں مسئلہ کچھ اور درپیش ہوتا ہے۔ جب وہ یہاں پر آئیں گے تو ہم تو ان سے لڑ رہے ہونگے شہزادی کو حفاظت کی بہت ضرورت ہے. تم جانتے ہو کہ شہزادی ابھی اپنی حفاظت کرنے کے قابل نہیں ہوئی اور اپنی طاقت کو یہ پہچانتی نہیں. تمہاری بھابھی کو یہاں پر بلانے کا یہ مقصد تھا کہ کل سے ہم لوگ ان کے حملے کو روکنے کے لیے تیاری کر رہی ہیں. تمہاری بھابھی بہت ماہر ہیں تلوار بازی اور نیزا بازی میں. انابیہ کوہر پر آپ گوہر کے ساتھ رہنا ہے۔ غدار ضرور محل پر حملہ کرنے کے لیے آئیں گے. اس مقصد کے لیے ہم نے محل کی ذمہ داری سعد کو دے دی ہے۔ شہزادی اب آپ کو خود اپنے کان اور آنکھیں کھلی رکھنی ہیں۔ آپ نے اپنے اردگرد پہچانا ہے کہ کوئی کس مقصد سے آپ کے قریب آرہا ہے. “
” لالا یہ بات تو ٹھیک ہے مگر آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ انابیہ ہمارے لوگوں کے بارے میں ابھی اتنا نہیں جانتی۔”
” والدہ اور تمہاری بھابھی اس کو سب سکھا دیں گے. سعد کی ذمہ داری میں نے لگا دی ہے کہ وہ شہزادی کی حفاظت کے لیے کسی بھی حد تک چلا جائے۔ اس دفعہ ہم نے ان لوگوں کو ختم کرنا ہے ورنہ ہمارے لئے مستقنل میں بہت زیادہ پریشانی ہو سکتی ہے۔”
” یعنی ہمیں آج رات ہی نکلنا ہوگا “
” بالکل ٹھیک سمجھا تم نے جبار۔ واپس محل جاؤ اور بابا کو خبر کر دو. محل میں بابا اور یہ سب لوگ ہوں گے. ہمیں امید ہے کہ سب ٹھیک رہے گا. تم لوگ اب جا سکتے ہو میں نے تمہاری بھابھی سے کچھ بات کرنی ہے. “
” جیسا آپ کا حکم میرے لالہ۔”
انابیہ خاموش بیٹھی ہوئی تھی اسے تو معلوم ہی نہیں ہوا کہ یہ لوگ کیا بات کر رہے ہیں ۔اس کا سر چکرا رہا تھا کہ یہ کیسے دنیا میں آگئی ہے جہاں پر یہ سب بھی ہوتا ہے۔ اسے یہ خوابوں کی دنیا لگتی تھی جیسے ایک فیری ٹیل جہاں پر اس کی زندگی بہت آسان ہے۔ مگر ایسا نہیں تھا یہاں پر آ کر اس کی زندگی بہت مشکل ہو چکی تھی. سعد اس کو بالکل ٹھیک کہتا تھا کہ شہزادی آپ پر ڈبل ذمہ داریاں ہیں۔__________________________________
عثمان اس وقت اپنی بیوی کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے وہ اپنی بیوی سے اتنی ہی محبت کرتے تھے جتنی جبار انابیہ سے.” شہزادے سب ٹھیک تو ہے نہ آپ ہماری طرف ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں. “
” آپ جانتی ہیں نہ ہماری ذمہ داری ہم بڑے شہزادے ہیں ہر چیز کے لیے ہمیں سب سے پہلے آگے ہونا پڑتا ہے. “
” بالکل میرے شہزادے میں جانتی ہوں کہ آپ کی ذمہ داری بہت زیادہ ہے۔ مگر جبار بھی تو ہے آپ کے ساتھ وہ بھی تو آپ کی ہر ذمہ داری بانٹتا ہے۔”
” ہمیں معلوم ہے کہ وہ بھی ہے ہمارے ساتھ مگر ہمارے پاس اس جیسی طاقت اور نیلا نشان نہیں۔ اس کا نشان اس کی حفاظت کرتا ہے مگر ہم اس جیسی طاقت نہیں رکھتے اس لئے ہم آپ کو آج ایک بات صاف بتا نہیں ہے کہ ہو سکتا ہے ہم واپس نہ آئیں۔”
” کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ شہزادے آپ نے اتنی دفعہ غداروں کو ٹھکانے لگایا ہے. آپ نے کبھی ایسی بات نہیں کی تو آج ایسی بات کیوں کر رہے ہیں۔”
” وہ اس لیے کہ اس دفعہ وہ لوگ اکٹھے ہوکر ایک قبیلہ بن کر آ رہے ہیں. ہم جانتے ہیں کہ ہمارے پاس طاقت تو ہے مگر زندگی کا کچھ پتہ نہیں. اگر ہم واپس نہ آئے تو ہماری بیٹیوں کی بہت حفاظت کریے گا۔ ہمیں اپنے جانے کے بعد اس بات کی امید ہے کہ جب انہیں اپنی اولاد سے زیادہ بڑھ کر جاتا ہے مگر آپ اپنے آپ کو سنبھالیں گی ہمارے بعد۔”
گوہر کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور انہوں نے شہزادے عثمان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا۔
” شہزادے ایسی باتیں مت کریں آپ کے سوا ہمارا ہے ہی کون. “
شہزادے آسمان اپنی کرسی سے اٹھ کر آئے اور ان کی طرف بڑھے. انہیں اٹھا کر اپنے سینے سے لگایا” آپ بڑی شہزادی ہیں اس لئے ہم آپ کو ہر چیز سے آگاہ کر رہے ہیں۔ آپ کو ایک شہزادی کی ذمہ داری معلوم ہے نا. حالات جیسے بھی ہوں آپ کو اپنی اولاد اور اپنے لوگوں کے لئے کھڑا ہونا ہے. آپ کا دکھ لوگوں کے دکھ سے زیادہ بڑا نہیں. “
” شہزادے ہم سے اتنی بڑی بات مت کہیے ہم اتنے بھی مضبوط نہیں۔”
” ہم نے آپ کو آگاہ کر دیا ہے میری جان. اب آپ لوگ محل واپس جائیں ہم نے وہ اسی تیاری کرنی ہے. “
شہزادے عثمان نے ان کی پیشانی پر بوسہ دیا انہیں جانے کے لیے تیار کیا۔ گوہر باہر آئی تو یہ رو رہی تھی۔” کیا ہوگیا گوہر آپ رو کیوں رہی ہیں. “
” کچھ نہیں میری جان ہمارے لئے فرض ہماری خوشیوں سے زیادہ بڑا ہے. کیونکہ ہماری خوشیاں صرف ہماری ہی مگر ہم بہت سے لوگوں کی خوشیوں کا سبب ہیں. ہمیں ان حالات میں اب مضبوط رہنا ہے ہمیں ہرحال کے لیے تیار ہونا ہے. چلو جلدی سے محل چلیں وہاں بھی بہت سی تیاری باقی ہے۔”
جبار پیچھے سے آیا اور ان کو گھوڑوں پر سوار ہونے کا کہا۔ اس دوران جبار اور انابیہ کی کوئی بات نہ ہوئی. یہ لوگ سیدھا محل کی طرف چلے گئے.
_________________________________
شجاع خان اپنی والدہ اور اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ رشتے کے لیے افندی خان کے گھر آئے تھے. اس وقت یہ لوگ گھر کے ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہوئے تھے جب آفندی خان ان کے سامنے آئے۔
” السلام علیکم آپ لوگ کافی دیر سے آ کر بیٹھے ہیں مجھے یہ بتایا سرونٹ نے۔”
آفندی خان ان سے ہاتھ ملا کر ملے اور سامنے ہی صوفے پر بیٹھ گئے۔
” جی آپ کو شاید انسہ بیٹی نہیں بتایا ہو کہ ہم آج بہت خاص مقصد کے لیے آئے ہیں۔”
” جی اسے ذکر تو کیا تھا مگر اتنی تفصیل سے نہیں۔”
” دیکھے بھائی صاحب ہم بات کو زیادہ لمبا نہیں کریں گے. ہم آپ کی بیٹی کا رشتہ اپنے بیٹے کیلئے چاہتے ہیں. آپ ہمارے بیٹے کو تو جانتی ہیں ہماری لا فرم ہے اور میرے بعد جائیداد کا وارث میرا بیٹا ہی ہے۔ اس وقت وہ پورے پاکستان میں مشہور زمانہ بیرسٹر ہے. آپ کی بیٹی ہمارے بیٹے کے ساتھ بہت زیادہ خوش رہے گی. “
” معاف کیجیے گا خان صاحب آپ نے آنے میں دے کر بھی ہم اپنی بیٹی کا رشتہ بہت سالوں سے اپنے بزنس پارٹنر سے طے کر چکے ہیں. اب تو ماشاء اللہ سے شادی ہونے والی ہے. “
شجاع خان نے اسے کسی ایسی ہی جواب کی امید لگا رکھی تھی اس لئے وہ بڑے تحمل سے بولے.” بچے گزرے کو پسند کرتے ہیں اور میں کافی اچھی انڈرسٹینڈنگ ہے آپ سمجھ رہے ہیں نہ. پھر آپ کی نواسی ماشاللہ سے اب میری پوتی ہے۔ دونوں بچوں کا فیصلہ ہے کہ وہ عنایہ کا مستقبل بھی سوار لیں گے اور اپنی زندگی بھی۔”
” معاف کرے گا بھائی صاحب وہ بچے ہیں ان کو اپنی زندگی کا علم نہیں۔ جب ہماری بیٹی اس گھر سے گئی تھی تو ہم نے اسے سارے تعلق توڑ دیے تھے. اس کی بیٹی سے ہمارا کوئی تعلق نہیں کہ میری بیٹی اس کی زندگی سنوارنے کیلئے شادی کرے۔ آپ ہمارے گھر آئے ہمیں بہت زیادہ خوشی ہوئی. مگر ہم معذرت خواہ ہیں ہم آپ کو رشتہ نہیں دے سکتے. “
” مجھے لگتا ہے آپ کو سوچ لینا چاہیے آفندی صاحب۔”
شجاع خان کے چھوٹے بھائی نے انہیں کہا.”
میں سوچ سمجھ کر ہی فیصلہ دیتا ہوں. آپ لوگ بیٹھیے چائے پیجیئے مجھے کام ہے. آپ سب سے مل کر اچھا لگا. “
یہ یہاں سے اٹھ کر چلے گئے تو پیچھے شجاع خان اور ان کے بھائی خاموشی سے بیٹھ گئے وہ جانتے تھے کہ یہ شخص کبھی ہاں نہیں کرے گا. اب آگے انسہ کیا کرنے والی تھی۔ یہ سب تو قسمت کا ہی فیصلہ تھا.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: