Ishq Mein Mar Jawan Novel By Hifza Javed – Episode 22

0
عشق میں مرجاواں از حفضہ جاوید – قسط نمبر 22

–**–**–

اے عشق کی گلیوں کے بے تاج بادشاہ
کیوں ٹھونڈٹے ہو تم اپنے محبوب کو ان بے چراغ راہوں میں
کبھی دیکھ لو اپنا قلب تو معلوم ہو تمہیں
تمہارا دل چراغ عشق ہے
انابیہ اس وقت گوہر اور ملکہ کے ساتھ بہت پریشان بیٹھی ہوئی تھی۔ہر طرف اچانک ایک افراتفری مچ گئی تھی۔انابیہ کے لیئے یہ سب نیا تھا مگر ان سب لوگوں کے لیئے نہیں۔یہ کوئی پہلی جنگ نہیں تھی جو ہو رہی تھی۔مگر اس جنگ کا ہدف شہزادی انابیہ تھی جو کود نہیں جانتی تھی کہ وہ کتنی اہم ہے۔جبار ان کے قریب آکر بیٹھا ۔
“انابیہ آپ خواب گاہ میں جائیں۔ہم وہاں آکر آپ سے ملتے ہیں۔ہم کچھ دیر والدہ کے ساتھ بات کرنا چاہتے ہیں۔گوہر آپ بچیوں کو ان کے نانا کے پاس آج ہی چھوڑ دیں۔یہ ہمارے خاندان کی اگلی نسل ہیں۔باغی انہیں بھی نقصان پہنچانا چاہیں گے۔آپ فورا جائیں۔”
جبار نے انابیہ اور گوہر دونوں کو بھیج دیا۔بڑی سردارنی یعنی کہ دادی صاحب اس وقت اپنی خواب گاہ میں تھی۔جبار اپنی والدہ کو کچھ اہم باتوں سے آگاہ کرنا چاہتا تھا۔عثمان نے حالات قابو سے باہر ہونے پر انہیں بلا لیا تھا کیونکہ وہ اکیلے حالات قابو نہیں کر پا رہا تھا اس لیے اس نے سردار کو بھی پاس بلا لیا جبار تھوڑی دیر میں نکلنے والا تھا.
” میری جان کیا ہوا ہے تم نے مجھ سے کیا بات کرنی ہے. “
” والدہ آپ کو بتانا ہے کہ اس دفعہ حملہ بہت شدید ہوا ہے. آپ کو ہر چیز کے لئے تیار رہنا ہے آپ سمجھ رہی ہیں نہ۔”
” کیا کہنا چاہتے ہو تم کھل کے بات کرو مجھ سے شہزادے. “
” وہاں پر بہت سارے غدار آپس میں مل چکے ہیں ان میں بہت سارے انسان بھی شامل ہیں. شہزادی کی اپنی دنیا سے بہت سارے غدار ان لوگوں کے ساتھ شامل ہوگئے ہیں اور وہ ہم لوگوں کو برباد کرنے کیلئے پیش پیش ہیں.اس لیئے ہم ایک مکمل فوج کے ساتھ جارہے ہیں۔اس دفعہ ایک مکمل جنگ ہوگی۔ہم نہیں جانتے کہ ہم میں سے کون واپس آئے گا کے نہیں۔”
“تو کیا سردار بھی جنگ میں شامل ہوں گے۔”
“بلکل اور یہاں محل میں میں سعد کو چھوڑ کر جارہا ہوں۔اب محل آپ کے حوالے ہے۔یہاں کا ہر فیصلہ اب آپ نے لینا ہے۔”
“تم نے انابیہ کو تمام حالات سے آگاہ کیا ہے کیا۔”
“ابھی نہیں والدہ ۔میں جارہا ہوں اس کے پاس ۔پھر آپ اور لوگ تیار ہوں مجھے اور باقی فوج کو آپ کی دعائیں کی ضرورت ہے۔”
“ٹھیک ہے تم لوگ جانے کی تیاری کرو اور اپنی شہزادی سے مل لو۔”
جبار ان کے پاس سے اٹھ کر چلا گیا محل میں ہر طرف افراتفری مچی ہوئی تھی ہر کوئی اس بات سے پریشان تھا کہ اتنے اچانک جنگ کیسے ہو سکتی ہے۔
_________________________________
جبار کا رخ اپنے کمرے کی طرف تھا۔ وہ اچھے طریقے سے جانتا تھا کہ انابیہ کے لیے یہ سب کچھ بہت نیا ہے۔ یہ کمرے میں داخل ہوا تو انابیہ کے پاس تاج بیٹھی ہوئی تھی جو اسے کچھ بتا رہی تھی۔
” تخلیہ…. “
جبار نے تاج کو کہا وہ فورا اٹھ کر باہر نکل گئی۔
” شہزادی آپ ٹھیک تو ہے نہ آپ بہت زیادہ پریشان لگ رہی ہیں. “
” یہ کیسی جنگ کا ذکر ہو رہا ہے یہاں پر جبار۔ میں نے کبھی زندگی میں ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی میں بہت زیادہ پریشان ہو چکی ہوں آپ ایسی باتیں کیوں رہے ہیں۔”
” وہ اس لیے یہ ہماری دنیا کا اصول ہیں. جب آپ پر کوئی حملہ آور ہوتا ہے تو آپ کو بھی جواب دینا ہوتا ہے. ہم کبھی جنگ میں پہل نہیں کرتے لیکن جب ہم پر جنگ مسلط کر دی جاتی ہے تو ہم ضرور لڑتے ہیں. آپ کی دنیا کا بھی یہی اصول ہے. “
” ہماری دنیا کا بھی یہی اصول ہے مگر آپ کے لالہ کیا کہہ رہے تھے کہ ہماری وجہ سے کیوں جنگ ہورہی ہے. ہم نے تو کسی کا کچھ نہیں بگاڑا نہ ہمارا کسی سے ایسا کوئی تعلق ہے. “
جبار گھٹنوں کے بل اس کے پاس بیٹھا اور اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لیا۔” آپ کا اس میں کوئی قصور نہیں بس آپ اپنی طاقت سے لاعلم ہیں۔ جس دن آپ کو اپنی طاقت کا اندازہ ہو جائے گا اس دن آپ کو علم ہو جائے گا کہ آپ کے لیے جنگ کیوں ہو رہی ہے. “
” کیا میری وجہ سے معصوم لوگ مارے جائیں گے یہ تو زیادتی ہے ان کے ساتھ. “
” اسی لئے تو ہم کہتے ہیں کہ آپ کے لوگ آپ کی ایک آواز پر آپ کے آگے جان پیش کر دیتے ہیں. تو پھر آپ کا بھی حق بنتا ہے کہ آپ انہیں وفاداری دیں۔ آج وہاں جنگ کے میدان میں ہزاروں لوگ صرف اس امید پر لڑنے جارہے ہیں ان کی شہزادی ان کے لئے بہت کچھ کرنے والی ہے مستقبل میں. جنگ پر جانا آسان نہیں اپنے بچوں کو چھوڑ کر. کتنی ہی ایسی عورتیں ہیں جو بیوہ ہو جائیگی۔ کتنے ہی ایسے بچے ہیں جو یتیم ہو جائیں گے اور بہنیں اپنے بھائیوں سے محروم. مائیں اپنے بیٹوں کو اس امید پر بھیجیں گی کہ تم اگر مر بھی گئے تو تم اپنی شہزادی کے لئے جان دوگے. “
” یہ لوگ ہم سے اتنی محبت کیوں کرتے ہیں انہوں نے تو ہمیں دیکھا بھی نہیں. “
جب نے اس کے ہاتھ اپنے لبوں سے لگائے اور بہت پیار سے کہا
” ہم نے آپ کو کہا تھا کہ 21 سال پہلے سے یہ لوگ آپ کے منتظر ہیں. انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں تھی کہ آپ کیسے دیتی ہیں انہیں بس ایک ہی بات کا علم تھا کہ ان کی ایک شہزادی ہیں جنہیں انہوں نے اپنانا ہے. وہ آئیں گی اور ان کی سلطنت کو سوار دیں گی۔”
جبر نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا ہوا تھا جب انابیہ نے سوال کیا.” کیا آپ بھی جنگ میں جا رہے ہیں آپ بھی ہم سے الگ ہو جائیں گے۔”
انابیہ نے اس پر اتنی خوبصورتی سے سوال کیا کہ جب وہ اٹھا اور اس کے پاس بیٹھ کر اسے اپنے سینے سے لگا لیا.” جی میری جان مجھے جانا ہے لازمی آپ کو معلوم ہے کہ ہم شہزادی ہیں اور ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی فوج میں سب سے آگے رہیں۔ یہاں محل میں ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ حملہ کریں آپ کو ہر طریقے سے خود کو مضبوط کرنا ہے. جب آپ پر کوئی مصیبت آئے گی تو آپ نے صرف ہمیں یاد کرنا ہے. اس پل آپ کو اپنے رب پر بھروسہ ہونا چاہیے۔ جب آپ کا یقین پختہ اور ایمان کامل ہوگا تو آپ کے آگے آنے والا ہر مسئلہ خود بہت حل ہوجائے گا۔”
انابیہ نے اس کے سینے سے لگے ہوئے ہی اس سے سوال کیا اس کا ایک ہاتھ جبار کے دھڑکتے دل کے ساتھ تھا۔” تو کیا آپ کو مکمل یقین ہے کہ آپ یہ جنگ جیت جائیں گے۔”
” بالکل ہمیں مکمل یقین ہے کہ ہم یہ جنگ جیت جائیں گے کیونکہ اس میں آپ کا ساتھ ہمارے پاس ہے. آپ ابھی ہماری فوج کو رخصت کرنے کے لیے ہمارے ساتھ آئیں گی آپ نے ان کا حوصلہ اپنے لفظوں سے بڑھانا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ آپ انہیں بہت محبت سے انہیں اس سفر پر روانہ کریں گی۔”
“اگر آپ کو کچھ ہوگیا تو ہمارا مستقبل کیا ہوگا ہمارا تو یہاں کوئی اپنا نہیں ہم کیا کریں گے جبار۔”
جبار نے اسے خود سے الگ کیا اور آگے بڑھ کر اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔” آپ ہمیں خود جنگ کی لیے بھیجیں گی اور ہمارا انتظار کریں گی۔ اگر ہم اس جنگ میں ہار بھی جائے یا واپس نہ آئیں تو اب آپ کی ذمہ داری ہے کہ ہمارے لوگوں کیلئے آپ نے زندہ رہنا ہے. ہم آپ سے اس بات کا عہد لیے جاتے ہیں کہ ہم واپس آیا نہ آئے مگر آپ نے لوگوں کے لئے ہمیشہ کھڑے رہنا ہے . “
“ہم میں اتنی ہمت نہیں۔ہم پہلے ہی اپنی دنیا چھوڑ کر آپ کے پاس آئے ہیں اور آپ ایسی باتیں کرکے ہمارا دل دکھا رہے ہیں۔”
” ہم آپ کا دل ہرگز نہیں دکھا رہے میری جان. آپ نے جب شہزادی ہونے کا عہد لیا تھا تو اس کے ساتھ ہمارے اوپر آنے والی ہر مصیبت کو ہمارے ساتھ کھڑے ہوکر نپٹانے کا وعدہ کیا تھا. اس عہد کے تحت اب آپ ہمارے ہونے نہ ہونے کو دیکھے بغیر ہمارے لوگوں کیلئے کھڑی ہوں گی۔”
” جبار آپ مت جائیں ہم بہت زیادہ اکیلے ہو جائیں گے. ہمیں بہت زیادہ تکلیف ہوگی کہ ہماری وجہ سے بہت سارے لوگ مصیبت میں ہیں۔”
جبار نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھاما۔
” میری جان میری شہزادی میری زندگی. ایک بات ہمیشہ کے لئے یاد رکھیں کہ اب آپ ایک عام انسان نہیں. آپ شاید جانتی نہیں کہ اب آپ ایک انسان نہیں اب آپ ایک شہزادے کی بیوی ہیں. “
” میں اب ایک جن ذادے کی بیوی ہوں آپ ساتھ اس کو بھی شامل کرلیں۔”
” یہ تو آپ کو بعد میں پتہ چلے گا کہ ہم جن ذادے ہیں کہ انسان۔ آپ نے اپنے اندر کی طاقت کو پہچانا ہے آپ بہت مضبوط ہیں آنے والی ہر مصیبت کو آپ فیس کر سکتی ہیں میری جان۔ یہ جو نیلا نشان ہے نہ یہ بہت وجوہات کی وجہ سے ایک لڑکی کے ہاتھ پر آتا ہے۔ یہ آپ کے ہاتھ پر آیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ بہت زیادہ خاص ہیں. “
” شہزادے آپ نکلنے والے ہیں. “
” جی ہیں ہم جانے والے ہیں چلیں اٹھائیے جائیے ہمارا لباس لے کر آئیے۔”
اس نے مدہم سے انابیہ کے لب چومے اور بہت دیر اپنی پیشانی اس کی پیشانی سے لگائے رکھی۔
انابیہ اٹھی اور جبار کا جنگی لباس لے آئی۔جبار کو تلوار تم آتے ہوئے یہ جبار کی طرف دیکھ رہی تھی جس نے اس وقت مکمل طور پر جنگی لباس پہنا ہوا تھا.
” شہزادے آپ آپ جانتے ہیں ہمیں آپ کو دیکھ کر یوں گمان ہوتا ہے جیسے ہم کسی پرانے دور کی ملکہ ہیں جو اپنے بادشاہ کو جنگ پر بھیج رہی ہیں۔ ہمارے ہاں زیادہ تر فلموں میں ہی ایسے کردار باقی رہ گئے تھے۔”
” میری جان یہ فلمی دنیا نہیں حقیقت ہے. اور حقیقی شہزادی ہیں آپ۔”
جبار نے آخری دفعہ خود کو آئینے میں دیکھا اور انابیہ کا ہاتھ تھام کر محل کے وسط میں لے آیا۔ ملکہ دی جان اور گوہر اپنے بچوں کے ساتھ کھڑی ہوئی تھی۔ بہت سارے ملازم بھی ان کے پیچھے کھڑے ہوئے تھے جو شہزادے کو جنگ پر بھیجنے کے لیئے آئے تھے۔ جبار باری باری سب سے ملا.
” والدہ آجائے آپ بھی باہر ہم نکلنے والے ہیں سب کو اللہ حافظ کردیجیئے. “
گھر کی تمام عورتیں باہر ای محل کے دروازے کے آگے سعد کھڑا ہوا تھا۔ جبار نے انابیہ کا ہاتھ پکڑا اور اسے آگے لایا۔
” اپنے لوگوں کو تسلی دیجئے کہ آپ ان کے خاندانوں کو اپنی جان اور اپنے گھر والوں سے بھی آگے رکھیں گی۔ اپنے لوگوں کو یہ تسلی دیجئے کہ اگر وہ اپنے گھر والوں کو آپ کی خاطر چھوڑ کر جارہے ہیں تو آپ ان کی محافظ ہیں. ہمارے محل کی باقی عورتوں کے پاس کو وہ طاقت نہیں جو آپ کے پاس ہے۔ یہ تب ہی تسلی میں ہوں گے جب آپ آکر انہیں تسلی دیں گی۔”
جبار نے انابیہ کے کان میں سرگوشی کی اور اسے اپنی فوج کے سامنے لے کر آیا جو اسے دیکھتے ہیں اپنے گھٹنوں کے بل گر سکے اور اسے بہت عزت سے نوازا.سعد پیچھے ہی کھڑا تھا۔ اس لمحے انابیہ کو احساس ہوا کہ اس پر کتنی بڑی بھاری ذمہ داری ہے. اب اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ جو بھی مخلوق ہیں یہ اس کے لئے لڑ رہے ہیں۔ اب یہ ان کے معاملے میں جواب دے ہے۔
انابیہ کا ہاتھ چھوڑ کر جبار پیچھے ہو گیا۔
” میرے لوگو مجھے آج معلوم ہوا کہ تم لوگ اپنے گھر والوں کو چھوڑ کر میرے لیے جا رہے ہو. میری ایسا کبھی نہیں چاہا تھا کہ میری ذات سے کسی کو تکلیف پہنچے۔ مگر آپ جب ہم پر جنگ مسلط کر دی گئی ہے تو ہمیں اس کا جواب دینا ہے. میرا تم سب سے ایک عہد ہے کہ تم سب کا خاندان آج سے میرا خاندان ہے۔ تم لوگ چاہے جو بھی مخلوق ہو آج سے تم میرے گھر والے ہو۔ تمہارے بچے میرے بچے ہیں اور تمہاری بہنیں میری بہنیں. تمہاری مائیں میری اپنی ماں جیسی ہیں۔ تم لوگ بے فکر ہو کر جاؤ تم لوگوں کے گھر والے اب میرے ہیں۔ جب تک یہ ساتھ باقی رہے گی تم لوگوں کیلئے ہمیشہ کام کرتی رہوں گی. “
” شہزادی زندہ اور سلامت رہیں. “
ہر طرف شور گونج گیا۔ انابیہ کو یہ گمان ہوا کہ یہ سب حقیقت نہیں مگر یہ سب حقیقت ہی تھا. ساری فوج اپنے اپنے گھوڑوں پر سوار ہو رہی تھی۔
ملکہ سب بچوں کے ساتھ اندر جا چکی تھی۔جبار انابیہ کی طرف موڑا ۔
” شکریہ میری شہزادی آج آپ نے یہ بات ثابت کر دی کہ آپ ہمارے لوگوں سے کتنی مخلص ہیں۔ اپنا بہت سارا خیال رکھیے گا ہم جب واپس آئیں گے تو آپ کو ڈھیر سارا پیار کریں گے. “
جبار اس کے قریب آیا اور اسے خود میں سمو لیا۔ بہت دیر تک اسی طرح کھڑے رہنے کے بعد جبار نے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔
” فی امان اللہ میری شہزادی.”
” خدا آپ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے شہزادے. “
جبار کا ہاتھ انابیہ کے ہاتھ سے الگ ہو گیا .
آج حقیقت میں انابیہ نے اس دنیا کو اپنا مان لیا تھا.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: