Ishq Mein Mar Jawan Novel By Hifza Javed – Episode 23

0
عشق میں مرجاواں از حفضہ جاوید – قسط نمبر 23

–**–**–

تیمور نے انسہ کو کال کی اسے بتانے کیلئے کی اس کے والد نے انکار کردیا ہے شادی سے ان دونوں کو یہ بات پہلے سے ہی معلوم تھی کہ آفندی خان کبھی بھی شادی کے لئے ہاں نہیں کریں گے اسی لیے انسہ نے اس کے سامنے یہ اوپشن رکھی تھی کہ جس دن وہ شادی سے انکار کریں گے اسے وہ اپنا گھر چھوڑ دے گی اور پھر وہ دونوں شادی کریں گے۔ تیمور کے والد کو اس بات کا علم تھا کہ وہ انکار کریں گے اسی لئے انہوں نے ان دونوں کو اجازت دی گئی تھی یہ دونوں شادی کریں۔انسہ کمرے سے نکلتے ہوئے سہڑھیاں اتر کر اپنے والد کے کمرے میں آئی۔
” بابا مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے. “
” میں جانتا ہوں تم نے مجھ سے کیا بات کرنی ہے. آج تمہارے رشتے دار تمہارا رشتہ کرنے کے لیے آئے تھے مگر میں نے انکار کردیا تمہاری اگلے ہفتے شادی ہے اپنے آپ کو تیار کر لو. “
” معاف کیجیے گا باباجان مگر میں ایک بالغ لڑکی ہوں مجھے اپنی مرضی کی شادی کرنے کا حق دیا گیا ہے اور میں آپ کے بزنس پارٹنر سے ہرگز شادی نہیں کروں گی. “
” اپنی بہن کی طرح تم بھی میرے ہر فیصلے کے خلاف جاتی ہوں یہ بات یاد رکھنا کے اگر میرے خلاف جاکر تم نے کوئی فیصلہ کیا تو تم سے میرا رشتہ ہمیشہ کے لیے ٹوٹ جائے گا “
” کیسا رشتہ بابا جان. مجھے ایسے کھوکھلے رشتے کی ضرورت نہیں کہ آپ اپنی بیٹی کی نشانی کو اپنا نہیں مان رہے صرف اس ضد میں اس نے اس شخص سے شادی کی تھی جس سے آپ کو نفرت تھی۔ وہ آپ جیسا رشتہ نہیں بنانا چاہتی تھی جیسا آپ ہماری ماں کے ساتھ سلوک کرتے تھے. ان کو بھی اپنا پسند کرتے تھے نہ دادا نے زبردستی شادی کروائی تھی آپ کی جس کا بدلہ آپ نے ہم سے لیا. “
آفندی خان نہایت غصے میں اٹھے اور ایک طمانچہ اس کے چہرے پر مارا۔”
” تمہیں میں نے اس بات کا حق نہیں دیا کہ میری زندگی کے بارے میں سوال جواب کرو. جو معاملہ تھا وہ میرا اور تمہاری ماں کا تھا اس میں تم لوگوں کا عمل دخل ہرگز نہیں. تم اور تمہاری بہن ہمیشہ مجھے لوگوں کے سامنے ذلیل ہی کرواتے ہو۔ اس نے مر کر بھی مجھے لوگوں کے سامنے ذلیل ہی کروایا ہے. “
” ایسا نہیں ہے بابا جان اگر آپ کو یاد ہو تو جس شخص سے آپ اس کی شادی کرنا چاہتے تھے وہ شادی شدہ تھا اس کے دو بچے تھے. اپنے بزنس کو آگے بڑھانے کے لئے آپ اپنی بیٹیوں کی قربانی دیتے ہیں کیا یہ رشتہ ہے باپ کا اگر ایسا رشتہ ہے تو مجھے نہیں چاہیے باپ کا رشتہ. “
” وہ اس کو اچھی زندگی دیتا ایک گھر دیتا ایسے اس کی بچی یوں پرائے گھر میں نہ ذلیل ہو رہی ہوتی اس کے اپنے ہوتے جو اس کو سنبھال لیتے۔”
” اب بھی اس کو اس کے اپنے ہی سنبھال رہے ہیں آپ کیا سمجھتے ہیں کہ وہ اپنوں کے درمیان نہیں. وہ پرایا شخص جس کا اس سے کوئی تعلق نہیں اس کو اپنی اولاد کی طرح چاہتا ہے اور آپ اس کے نانا ہونے کے باوجود ایک دشمن سے بھی برا سلوک کر رہے ہیں. مگر آپ سمجھ لیجئے کہ میں اسے ہرگز اکیلا نہیں چھوڑوں گی. “
” کیا کروگی تم اب ہاں۔”
” میں آپ کی یہ شان و شوکت چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے جا رہی ہوں. آج ہی میں اس شخص سے شادی کر لوں گی یہ بات آپ بھی سن لیں۔”
اس کی بات پر آفندی خان نے نظر اٹھا کر غور سے اسے دیکھا یہ ان کی وہ بیٹی تھی جس نے آج تک کبھی ان کے خلاف جاکر کوئی بات نہیں کی تھی. جس دن اس کی بہن کی وفات ہوئی تھی اس دن بھی اسے یہاں سے جانے نہیں دیا گیا تھا اور اس نے باپ کے ہر فیصلے کے آگے اپنا سر جھکا لیا۔ مگر آج وہ اپنی بیٹی کی آنکھوں میں ایک چمک دیکھ رہے تھے جو پہلے کبھی نہیں تھی.
” جو لوگ اپنے ماں باپ کو چھوڑ کے فیصلے کرتے ہیں ان کی زندگی کبھی بھی بہتر نہیں رہتی. ماں باپ کو چھوڑ کر فصیلے کرنے والے لوگ ہمیشہ رسوا ہوتے ہیں۔”
” تو ان ماں باپ کا کیا بابا جان جو اپنی ہی اولاد کو پیسوں کے ہوس بیچ دیتے ہیں آپ اپنی بیٹیوں کی شادی نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ انہیں پیسوں کے لیے بیچنا چاہتے تھے۔ آپ جانتے ہیں جس سے آپ میری شادی کروانا چاہتے ہیں ہر رات اس کے بستر پر ایک الگ لڑکی ہوتی ہے. آپ چاہتے ہیں کہ میں ایک ایسے شخص کے ساتھ زندگی گزار جس کی زندگی میں سوائے ایک شوپیس کی میری کوئی اہمیت نہ ہو۔ مجھے ایسے شخص کے ساتھ رہنے سے زیادہ موت منظور ہے. “
” آج تم اتنی بڑی ہوگی کہ مجھے میرے حقوق یاد کروانا شروع کر دو. میں نے ساری زندگی تمہیں پالا بڑا کیا اس کا صلہ تم مجھے ایسے دوں گی. “
” میں آپ سے بے انتہا محبت کرتی ہوں باباجان مگر آپ یہ بات رکھنا ہے اگر اولاد اپنے فرائض ادا نہیں کرتی تو گناہگار کہلاتی ہے. مگر جب ماں باپ اولاد کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں اور ان کے حقوق ادا نہیں کرتی تو وہ بھی گناہ گار کہلاتے ہیں. ان کے ساتھ بھی وہی معاملہ ہوگا جو اس شخص کے ساتھ ہوتا ہے جو اپنی ذمہ داریوں سے منہ پھیر لیتا ہے. ہمیشہ پیسہ اور دولت ہی اولاد کی ضروریات پوری نہیں کرتی اچھی تربیت اور ماں باپ کا ساتھ بھی بہت ضروری ہوتا ہے. ماں باپ کی ذمہ داری یہ نہیں ہوتی کہ اولاد کو صبح اٹھایا اسے کھلایا اسے تعلیم حاصل کرنے بھیجا اور اس کی اچھی جگہ شادی کردی. اولاد تو ماں باپ کا ساتھ جاتی ہے ماں باپ کی یہ ذمہ داری ہوتی ہیں کہ دیکھئے کہ اولاد کو کس وقت کس چیز کی ضرورت ہے۔ اولاد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کو سمجھیں ۔یاد رکھیں اولاد ویسا ہی ماں باپ کے ساتھ سلوک کرتی ہے جیسی اس کی تربیت ہوتی ہے۔ تو پھر بعد میں شکایت کیسی بابا جان. “
آفندی خان خاموشی سے اپنی بیٹی کو دیکھ رہے تھے.” یاد رکھو آج تم اس دہلیز سے قدم باہر نکالوں گی تو تمہارے لئے یہاں اب کوئی جگہ نہیں. “
” جگہ میرے لئے پہلے بھی نہیں تھی بابا جان. میں اس بات کو جانتی ہوں کہ آپ نے دوسری شادی کر رکھی ہے آج سے نہیں پورے پچیس سال پہلے سے. “
اس کی بات سنتے ہیں آفندی خان کا چہرہ زرد پڑ گیا.” حقیقت جان کر تعجب ہوا نا بابا جان. آپ کو معلوم ہے کہ میری معیشت کو جانتی تھی کہ ان کا حق روز آپ کسی عورت کو دیتے ہیں. آپ اپنی اولاد سے اس سے لاتعلق ہیں کہ آپ کے پاس تو پہلے سے ہی اولاد موجود تھی. آپ کو آپ کا بیٹا اور بیٹی مبارک ہو. میں جانتی ہوں کے آپ کا ایک جوان بیٹا اور ایک جوان بیٹی ہے جائیں انہیں اس گھر میں لے آئیے اب نہ زمانہ روکنے والا ہے اور نہ کوئی رسم۔”
” بند کرو اپنی بکواس اگر میں نے شادی کر رکھی ہے تو مجھے پورا حق بنتا تھا۔ ویسے تم میری اولاد ہو ویسے ہی وہ بھی میری اولاد ہیں . پوری دنیا کو اس بات کا علم ہے کہ وہ میری اولاد ہیں چھپا کر نہیں رکھا ہوا۔”
” ہاں جانتی ہوں سب کو ہی پتہ تھا بس ہمیں ہی نہیں بتایا گیا. خیر میداں باتیں نہیں کرنا چاہتی میں آپ کو یہ بتانے آئی تھی کہ میں جا رہی ہوں. آپ کے اس گھر سے کچھ نہیں لے کر جا رہی صرف اپنی ماں کی بہن کی چند تصویریں لے کر جا رہی ہوں۔ اور ہاں میری بہن جس کیلئے آپ اتنا بول رہے ہیں میری جگہ اس کی شادی اپنے بزنس پارٹنر سے کر دیجئے گا امید ہے اس کی ماں بہت خوش ہو گی شادی شدہ اور بچوں والی مرد پر قبضہ کر کے تو وہ بہت خوش رہیں اب اپنی بیٹی کو بھی کسی شادی شدہ آدمی سے بہاتے ہوئے بھی انہیں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا اور میں یہ بات جان چکی ہوں بابا جان کی آپ کا انتخاب کردہ شخص شادی شدہ ہے. اب اپنی لاڈلی بیٹی کی شادی اسے کریئے گا میرا اب گھر سے کوئی تعلق نہیں. “
انسہ یہ کہہ کر اپنے کمرے کی طرف چلی گئی جبکہ آفندی خان بے انتہا حیران تھے کہ ان کی زندگی کے اتنے اہم راز ان کی بیٹی کیسے جان گئی۔ ان کی شادی ان کے والد نے زبردستی اپنی بھانجی سے کروا دی تھی. یہ ان سے بالکل محبت نہیں کرتے تھے اپنی ایک یونیورسٹی فیلو سے انہوں نے شادی کر رکھی تھی. یہ اپنی بیوی سے بالکل اچھا سلوک نہیں کرتے تھے. ان سب کا اثر ان کی دونوں بیٹیوں پر ہوا. ان کی دوسری بیوی ہمیشہ ان کو پہلی بیوی کے پاس جانے نہیں دیتی تھی. مہینوں تک کے گھر سے غائب رہتے. ان کی پہلی بیوی کو اس بات کا علم ہوگیا کہ یہ شادی کرچکے ہیں مگر خاندان کی بنا پر وہ بہت مجبور تھی. انسہ اور اس کی بہن کو اس بات کا علم تھا مگر باپ کے سامنے کبھی ان کی بات کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ آخرکار ان کی والدہ کی وفات ہوگئی اور انسہ کی بہن نے اپنی پسند سے شادی کرلی کیوں کہ وہ اپنے باپ کی پسند کی شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اس کی وفات کے بعد انسہ اس دنیا میں بالکل اکیلی رہ گئی۔ وہ اس بات کو جانتی تھی کہ اگر اس کی شادی اپنے باپ کی پسند کے آدمی سے ہو بھی جاتی ہے تو وہ کبھی خوش نہیں رہ پائے گی کیونکہ اسے معلوم تھا کہ وہ شخص بھی پہلے سے شادی شدہ ہے اس نے چھپ کر ایک شادی کر رکھی ہے. اس کے باپ کو اس بات کا علم تھا مگر وہ ایک بھرم رکھے ہوئے تھے. انساں یہ بات جانتی تھی کہ ان کی ہائی سوسائٹی میں یہ بات بہت عام ہے کہ لڑکے چپ کر بہت سی شادیاں کر لیتے تھے خاندان کی جو لڑکی شادی ہو کر آتی تھی صرف وہی خاندانی بیوی کہلاتی تھی۔ باہر سے جتنی بھی لڑکیاں ہوتی تھی ان کو چھپا کر ہی رکھا جاتا تھا اور اگر کبھی وہ منظر عام پر بھی آجاتی تو خاندانی بیوی کا اتنا بھی حق نہیں تھا کہ وہ زبان کھول دیتی۔ کبھی بچوں کی بنا پر اسے مجبور کیا جاتا تو کبھی خاندان کی وجہ سے۔انسہ ایسی زندگی ہرگز نہیں چاہتی تھی اس لئے اس نے آج یہ انتہائی قدم اٹھا لیا تھا۔
__________________________________
تیمور اس وقت کمرے میں تھا اس کی گود میں عنایہ بیٹھی ہوئی تھی. سامنے نکاح خواں بیٹھے ہوئے تھے جبکہ شجاع خان اور چھوٹے بابا بھی یہاں پر تھے۔ ان کے ساتھ ہی بہت سارے لوگ بھی تھے. یہ تمام لوگ لا فارم سے یہاں پر آئے تھے کیونکہ تیمور نے سب کو بتایا تھا کہ آج اس کا نکاح ہے. مولوی صاحب نے نکاح پڑھانا شروع کیا.
شجاع خان مولوی کے ساتھ سارہ کے کمرے کی طرف گئے جہاں پر انہوں نے انسہ کو بٹھایا ہوا تھا۔
انسہ کے ہاتھ اس وقت کانپ رہے تھے اپنے باپ کے بغیر اس نے زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ لیا تھا یہ سوچ نہیں سکتی تھی کہ یہ اپنے گھر سے باہر قدم نکال سکتی ہے۔
” انسہ خان ولد آفندی دی خان کیا آپ کو تیمور خان ولد شجاع خان کے ساتھ تین کروڑ حق مہر کے ساتھ یہ نکاح قبول ہے. “
انسہ کا دل تیزی سے دھڑکنے شروع ہوگیا وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ جس انسان کو وہ اپنا سب کچھ مان رہی ہے کیا وہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کرے گا. وہ یہ بھی جانتی تھی کہ یہ شادی محض انہوں نے ایک بچی کی وجہ سے کی ہے. اس کے آگے ایسا مستقبل تھا جس میں کوئی روشنی نہیں تھی. پیچھے کی ساری کشتیاں جلا کر آئی تھی اور آگے کی زندگی کا اسے بالکل علم نہیں تھا.شجاع خان نے اس کے سر پر بڑی شفقت سے ہاتھ رکھا. یہ ہوش کی دنیا میں آئی اور مولوی صاحب کو جواب دیا.
” قبول ہے – – – – – “
مولوی صاحب نے اس کے آگے نکاح نامہ رکھا جس پر اس نے سائن کیے۔
مولوی کمرے سے باہر نکلا تو شجاع خان تھوڑی دیر کیلئے انسہ کے پاس بیٹھے۔
” میرا بچہ آج سے تم میری بیٹی ہو. جس طرح سے میں اپنی بیٹی انابیہ سے محبت کرتا ہوں اسی طریقے سے میں تم سے بھی محبت کروں گا. جانتا ہوں آج تم اپنے والد کی کمی بہت زیادہ محسوس کر رہی ہو تمہیں بالکل بھی ڈرنے کی ضرورت نہیں تم مجھے اپنا باپ ہی سمجھو۔ بلکہ سمجھنے کی ضرورت نہیں میں تمہارا باپ ہی ہوں۔ میں سمجھوں گا کہ میری ایک بیٹی اگر راست ہو کر گئی ہے تو خدا نے اس کی جگہ مجھے ایک اور بیٹی عطا کی ہے. میں نہیں جانتا تمہاری اور تیمور کے درمیان کیا بات ہوئی ہے. مگر ایک بات تمہاری لیے جانا بہت ضروری ہے کہ آج کے بعد ہمارے گھر میں ہر چیز کی ذمہ دار تم ہو گی. اس گھر کی ہر ذمہ داری تمہاری ہے تم آج سے اس گھر کی مالک ہو۔ اگر تیمور کی والدہ زندہ ہوتی تو وہ تم سے یہ سب باتیں کرتی مگر میں آج ان کی جگہ یہ فرض ہو رہا ہوں. تمہیں اس گھر میں آنا بہت زیادہ مبارک ہو میری بچی. “
” شکریہ انکل. “
” انکل نہیں بابا جان کہو بیٹا. میں نے صرف تمہیں بیٹی مانا ہی نہیں بیٹی سمجھتا بھی ہوں۔”
یہ انسہ کے سر پر ہاتھ پھیر کر کمرے سے نکل گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد تیمور عنایہ اور سارہ کمرے میں آئے. ان کے ساتھ دادی جان اور تیمور کی چھوٹی امی بھی تھی.
” بابا کیا یہ میری ماما ہیں آج سے۔”
عنایہ نے انسہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا.” جی بیٹا یہ آج سے آپ کی ماما ہیں۔ آپ جانتی ہیں کہ آپ کی ماما کی بہن ہیں یہ۔”
اس نے انسہ کی گود میں اسے بٹھاتے ہوئے اسے بتایا.” یہ میری آنٹی بھی ہے بابا جان. “
” بالکل میں آپ کی ماما کی بہن ہوں آپ کو پتہ ہے انہوں نے مجھے آپ کے پاس آپ کی حفاظت کے لیے بھیجا ہے. اسے میں اور آپ کے بابا جان آپ سے بہت زیادہ محبت کریں گے. “
” سچ میں میری سویٹ ماما. “
اس نے انسہ کے گلے میں باہیں ڈالی۔” جی بالکل میرا بچہ میں ہی ہوں آپ کی ماما آج سے۔” تیمور یہ مکمل منظر دے کے بے انتہا خوش ہوا۔سارہ نے عنایہ کو انسہ کی گود سے لیا۔دادی جان اور چھوٹی امی ان لوگوں کے پاس آئیں.” تم دونوں کی شادی اتنی جلدی ہوئی کہ ہمیں ایک تیاری کا موقع ہی نہیں ملا۔ سب سے زیادہ ناراض تو انابیہ ہوگی کہ اسے اس بات کا علم ہی نہیں کہ اس کے لالہ کی شادی ہوگئی۔”
دادی نے اپنے ہاتھ سے کنگن اتارے اور انسہ کے ہاتھ میں پہنائے۔” یہ ہمارے خاندانی کنگن ہیں یہ ہم اپنی بہو کو دیتے ہیں۔ ایک ایک ہم نے اپنے بیٹوں کی بیویوں کو دیا تھا. یہ دونوں اب تمہارے ہیں کیونکہ تمہیں ہمارے گھر کی اکلوتی بہو. “
انہوں نے انسہ کے سر پر پیار دیا۔” میرا بچہ تم بالکل بھی اپنے آپکو اکیلا محسوس مت کرو مجھے اپنی ماں ہی سمجھنا. اپنی بہن کے مرجانے کے بعد میں نے بھی اس کی اولاد کو ہمیشہ بچوں کی طرح ہی سمجھا ہے. تم بھی بہت خوش قسمت ہو گی تمہیں اپنی بہن کی اولاد کو پالنے کا موقع مل رہا ہے. “
چھوٹی امی نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اس کے ہاتھ میں خوبصورت تحفہ پکڑایا جو سونے کا سیٹ تھا.” بیٹا یہ میں نے اپنی بہو کے لیے رکھا تھا کیونکہ میری اولاد میں بیٹا نہیں ہے اس لیے میں نے تیمور کو ہی اپنا بیٹا مانا ہے۔ یہ دو سیٹ مجھے شادی میں ملے تھے ایک میں نے اپنی بیٹی کے لیے رکھا ہے اور ایک بیٹے کیلئے. اب تم آ گئی ہونا تو یہ تمہارا ہے. “
چھوٹی امی نے اسے سیٹ پکڑایا۔
سارہ نے اپنی ماں کی طرف دیکھا اور اونچی آواز میں کہا۔” میرا خیال ہے اب ہمیں بھابھی کو انکی کمرے میں چھوڑ دینا چاہیے. وہ بہت زیادہ تھک گئی ہوں گی۔آج عنایا میرے پاس سوئے گی اس کو اچھی اچھی کہانیاں سناؤ گی میں. “
سارہ نے عنایہ کو اٹھایا ۔تیمور اس کی بات پر اپنی بیوی انسہ کی طرف دیکھنے لگ گیا۔ اس نے سرخ رنگ کا لہنگا پہنا ہوا تھا جو اس کیلئے خاص طور پر تیمور نے لیا تھا۔ گلے میں تیمور کا ہی دیا ہوا سونے کا سیٹ اس نے پہن رکھا تھا. اسے گھر میں ہی سارہ نے تیار کیا تھا۔ دو دن بعد ان کا ولیمہ شجاع خان نے اناؤنس کر دیا تھا۔
” میں جا رہا ہوں سارہ تم اپنی بھابھی کو کمرے تک چھوڑ آؤ۔”
تیمور نے اس سے نظریں چرائی اور باہر جانے لگا جب سارا نے اسے روک لیا۔
” ایسے کیسے آپ جا رہے ہیں میں نے ابھی تو آپ سے نیگ ہی نہیں لیا۔” تمہارا نیگ تمہارے کمرے میں موجود ہے اپنی ڈریسنگ کی دراز میں چیک کرو۔ انابیہ کے لئے بھی میں نے تمہاری ہی طرح کا سیٹ لیا ہے جب وہ آئے گی تو اسے دینا ہے. “
سارہ خوشی سے اپنے ڈریسنگ ٹیبل کی طرف گئی اور دراز میں سے سیٹ نکالا. ” شکریہ میرے پیارے بھائی آپ دنیا کے سب سے پیارے بھائی ہیں. “
سارہ نے خوشی سے چہک کر کہا۔ چھوٹی امی اور دادی انسہ کو اس کے کمرے کی طرف لے گئی۔
_________________________________
آنے والے لمحات کے ڈر سے انسہ کا دل بے کانپ رہا تھا۔ یہ نہیں جانتی تھی کہ تیمور کا رویہ اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے. معاشرے میں اس عورت کی کوئی عزت اور حیثیت نہیں ہوتی جس کی شادی میں اس کے ماں باپ شامل نہ ہوں۔ کمرے کا دروازہ کھلا اور تیمور اندر آیا. اس نے انسہ کے آنے سے پہلے ہی پورے کمرے کو لال گلاب کی پتیوں سے سجا دیا تھا۔
یہ چلتا ہوا بیڈ کے قریب آیا اور بیٹھ گیا. اس وقت یہ سفید رنگ سادہ سے شلوار قمیض میں ملبوس تھا.انسہ نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا یہ ایک وجاہت سے بھرپور مرد تھا۔ 6 فٹ قد کے ساتھ اس کی کالی آنکھیں اور سفید چہرہ اسے بہت زیادہ خوبصورت بناتے تھے. اس نے بیٹھتے ہی انسہ کا کانپتا ہوا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔
” میں جاتا ہوں تم بہت زیادہ گھبرا رہی ہوں تمہیں بالکل بھی گھبرانے کی ضرورت نہیں. “
اس نے نرمی سے انسہ کے ہاتھ سہلانا شروع کردئے اور پھر خود ہی بات شروع کی۔
” تمہارا مقصد شادی کرنی کا جو بھی ہوں مگر میں نے تمہیں پہلے دن ہی یہ بات باور کروا دی تھی کہ میں کبھی اس لڑکی سے شادی نہ کرتا جسے میں پسند نہ کرتا. تم یہ بات سمجھ چکی ہوگی کہ میں نے تم سے شادی اپنی بیٹی کیلئے کی ہے مگر تم غلط ہو. اپنی بیٹی کے لیے میں بہت ساری مائیں لا سکتا تھا مگر تم جیسی نہیں. اگر میری بات کی جائے تو تمہیں پہلی نظر میں دیکھتے ہی اس بات کا احساس ہوا کہ میری زندگی بہت اکیلی ہے مجھے کسی ساتھ کی ضرورت ہے۔ میرے نزدیک کسی بھی رشتے میں محبت سے زیادہ عزت ضروری ہوتی ہے. اگر آپ کسی کی عزت کرتے ہیں تو میرے نزدیک وہی محبت اور عشق ہے. تمہیں کبھی یہ بات میری طرف سے سننے کو نہیں ملے گی کہ تم نے مجھ سے شادی کیسے کی. ہم اپنے بچوں کو یہی داستان سنایا کریں گے کہ ہماری شادی پسند کی ہے. میں تمہیں ہرگز نہیں کہوں گا کہ تم میرے گھر والوں کا خیال رکھو. میں ایک روایتی شوہر نہیں بننا چاہتا. میں تمہیں بس اتنا ہی کہوں گا. ہمیشہ اس بات پر عمل کرو.
do good and have good
تم جتنا کسی کے ساتھ اچھا رویہ رکھو گی اتنا ہی لوگ تم سے متاثر ہوں گے. رہی میری بات تو تم میری بیوی ہو۔ آج کے بعد تمہاری ہر ذمہ داری میری اور میری ہر ذمہ داری تمہاری . “
اس کا لہجہ اتنا عمدہ اور خوبصورت تھا کہ انسہ دیکھتی ہی رہ گئی۔” پتہ ہے لوگ کہتے ہیں کہ میں ایک بہت ظالم سا انسان ہوں. مگر تمہیں دیکھ کے احساس ہوا کہ میرے دل میں ایک نرم گوشہ ہے. میں ایک وکیل ہوں ہوسکتا ہے کہ کبھی کبھی تمہارے سامنے اپنی وکالت کرنا شروع کر دوں۔———— مگر یہ تم پر منحصر ہے کہ تم کیسی جج بنتی ہوں اور میری باتیں سنتی ہو۔ میں تم سے آج یہ وعدہ کرتا ہوں کہ تمہارے ساتھ کبھی بھی بے وفائی نہیں کروں گا ہمیشہ تمہیں ہی اپنا مانوں گا۔”
تیمور اس کے قریب آیا اور اس کا چہرہ اپنے ہاتھ کی مدد سے اوپر کیا” تم جانتی ہو تم بہت خوبصورت ہو مگر اس بات سے انجان ہو. “
انسہ اس کی بات پر جی جان سے کانپ گئی اور تھوڑا سا پیچھے ہوئی۔
تیمور نے اسے پکڑ کر نزدیک کرلیا. اس کی کمر میں ایک ہاتھ ڈالے ایک ہاتھ سے اس کا سر تھامے اس نے اس کا چہرہ قریب کیا.
” میں کسی ناول کا ہیرو نہیں جو اپنی بیوی کو خود سے دور کروں۔ تمہارے قریب آنا میرا حق ہے جب تک تمہارے قریب نہیں آؤں گی تو مجھے کیسے جان ہوگی. “
تیمور اس کے لبوں پر جھکا اور ایک شوخ جسارت کی. مقابل کا تو جیسے سانس ہی بند ہوگیا۔
” آپ میری بات——–“
” آپ میری بات سنیں اور مجھے اس سے کو نبھانے کے لیے وقت دیں یہی کہنا چاہتی ہونا. ڈارلنگ ایک بات یاد رکھو تم کبھی بھی اس رشتے کے لئے ہاں نہ کرتیں اگر تم تیار نہ ہوتی۔ میرے لیے تم بہت اہم ہو اور اب تمہیں یہ بات سمجھنی ہے کہ تم میرے لیے کتنی اہم ہو. “
” میں آپ سے کچھ کہنا چاہتی ہوں تیمور میں آپ کے حق سے بالکل انکار نہیں کرتی. آپ کا تقریبا نہ مجھے بالکل بھی برا نہیں لگ رہا. میں آپ سے کچھ بات کہنا چاہتی ہوں میری بات سن لیں. “
” کیوں نہیں آپ کا حق بنتا ہے ہم سے ہر بات کہنا اور منوانا. “
ان دونوں کے چہرے ابھی بھی بہت قریب تھے” آپ کبھی زندگی میں مجھے اس بات کا طعنہ نہیں دیں گے کہ میں نے اپنے والد کو چھوڑ کر آپ سے شادی کی. آپ جانتے ہیں کہ میں اپنی بہن کی بیٹی کو نہیں چھوڑ سکتی تھی جس کی بدولت میں نے اپنے باپ کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا. “
” آپ میری بات سننے اور سمجھنے کی زندگی میں کبھی ہم اس بات کو دوبارہ نہیں دہرائیں گے کہ آپ نے اپنے والد کو چھوڑا ہے. رہی بات آپ کو طعنہ دینے کی تو جس دن میں یہ کام کرو اسی نہیں مجھے درست کرنے کیلئے آپ اپنا حق استعمال کر لیجئے گا۔”
” تیمور آپ کبھی مجھ سے بے وفائی مت کرییے گا. آپ جب مجھے اپنا سب کچھ دیں گے تو میں بھی آپ سے اتنی ہی محبت کروں گی۔ جیسے آپ کے نزدیک عزت بہت بڑی چیز ہے ویسے ہی میرے نزدیک بھی عزت بہت بڑی چیز ہے. “
تیمور نے اسے آگے بڑھ کر اپنے سینے سے لگایا.” ہم آج کی رات سب کچھ بھول کر صرف اس بات کو یاد رکھیں گے کہ آپ میری بیوی ہیں اور میں آپ کا شوہر۔ آج کے بعد ہمارے درمیان صرف یہی رشتے ہوں گے. میں آپ کا دوست بھی ہوں آپ کا محافظ بھی اور آپ سے محبت کرنے والا بھی “
تیمور نے آگے بڑھ کر جلتی ہوئی لائٹ آف کر دی. ان دونوں نے ایک نئے رشتے کی شروعات کی جس کا مستقبل یہ نہیں جانتے تھے. بس ایک بات کا اعتبار تھا وہ تھی وفاداری.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: