Ishq Mein Mar Jawan Novel By Hifza Javed – Episode 24

0
عشق میں مرجاواں از حفضہ جاوید – قسط نمبر 24

–**–**–

جبار اینڈ انابیہ سپیشل لانگ ایپی
20 دن بعد
انابیہ یہاں پر بہت زیادہ اداس ہو چکی تھی اسے معلوم نہیں تھا کہ جنگ کا ختم ہوگی. سعد اور گوہر نے اسے بتایا تھا کہ کبھی کبھی جنگوں کو چھ ماہ لگ جاتے ہیں. اسے یہاں آکر اپنی دنیا کی بہت زیادہ یاد آرہی تھی.. اس وقت بھی یہ سعد کے ساتھ تربیتی جگہ پر سعد کے ساتھ تھی وہ اسے سکھانا چاہ رہا تھا تلوار بازی کہ یہ جلد ہی سیکھ جائے۔
” شہزادی تلوار بازی پر دھیان دیجئے آپ نے کل کی مشق میں بھی اتنا زیادہ دھیان نہیں دیا. “
” میرا دل نہیں کر رہا آج سیکھنے کے لئے مجھے اپنی دنیا بہت یاد آ رہی ہے۔”
” کوئی بات نہیں شہزادی آپ اس دنیا کو ہی اپنا سمجھ لیجئے. “
” میں کیسے اس دنیا کو اپنا جان لوں یہاں تو کوئی میرا اپنا نہیں. شہزادے میرے شوہر ہیں مگر ان کے بارے میں مجھے علم ہی نہیں کہ وہ کہاں پر ہیں. آپ سب لوگ بھی یہی کہتے ہیں کہ نہ جانے وہ کس لمحے واپس آئیں گے. “
” شہزادی وہ آپ کی خاطر ہیں جنگ لڑنے کے لیے گئے ہیں اپنی جان داؤ پر لگا کر وہ صرف اور صرف آپ کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں. “
” میرے پاس ایسا کچھ خاص ہے ہی نہیں جس کی بدولت میرے لیے لڑائی کی جائے. مجھے سمجھ نہیں آتی کہ سب لوگ آپس میں کیوں لڑ رہے ہیں. “
” شہزادی کبھی اپنے اندر جھانک کر دیکھے گا آپ میں جتنی طاقت ہے شاید اپنی شہزادے میں بھی نہیں۔ آپ جانتی ہیں یہ تلوار بازی آپ کے آگے کوئی چیز نہیں اگر آپ اپنی اصلی پہچان کو جان جائیں تو میں آپ کی اگے دو منٹ میں سیر ہو سکتا ہوں۔”
” میرے ساتھ ایسے مذاق مت کیا کرو مجھے تو اتنی مشکل سے تلوار چلانا آئی ہے. “
ابھی یہ بات کر ہی رہے تھے کہ انابیہ نے اپنا سر پکڑ لیا اور اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی۔ اس کی آنکھوں نے اپنا نیلا رنگ بدل دیا اور جبار کی طرح کا سلور رنگ آگیا۔ یہ دیکھتے ہی سعد اپنی جگہ سے پیچھے ہو گیا۔ شاید وہ جان چکا تھا کہ انابیہ بدل چکی ہے. انابیہ شاید اپنے ایموشن کو کنٹرول کرنا نہیں جانتی تھی اس وقت وہ شدید غصے میں تھی جس کی بدولت اس کے اندر یہ طاقت آگئی۔
” تم کہتے ہو نہ کے میری تلوار بازی بہت اچھی ہے تو آجاؤ میرے ساتھ تلوار بازی کا ایک مقابلہ کرو. “
اس کی آواز بھی بالکل بدلی ہوئی تھی.
” شہزادی میں آپ کے ساتھ مقابلہ نہیں کر سکتا“
” ڈر گئے ہو تم میری حکم عدولی کروگے اپنی شہزادی کی. “
سعد فورا گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور سرجھکا لیا۔” میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتا شہزادی مگر اس وقت آپ اپنے ہوش و حواس میں نہیں ہیں۔”
” میں اپنے پورے ہوش و حواس میں ہوں. اٹھاو اپنی تلوار اور میرے سامنے۔”
انابیہ نے نیچے پڑی ہوئی تلوار اٹھائی اور تلوار کی نوک اس کی گردن کے نیچے رکھی۔ اس وقت یہ کسی فوج کی جنرنل لگ رہی تھی۔سعد کھڑا ہوا اور نیچے پڑی ہوئی اپنی تلوار اٹھائی.
” شہزادی – – – – – – “
انابیہ نے اس کی طرف غصے سے دیکھا اور اپنی تلوار سے اس پر وار کرنا شروع کیا. مگر انابیہ جب وار کرتی تو ایسے نہ کرتی کہ یہ زخمی ہوتا یا اسے چوٹ لگتی۔
دور کھڑے ہوئے کچھ سپاہی بھی یہ منظر دیکھ رہے تھے وہ سوچ نہیں سکتے تھے کہ شہزادی کا یہ روپ بھی انہیں دیکھنے کو ملے گا. انابیہ جس طریقے سے تلوار بازی کر رہی تھی اسے دیکھ کر سعد بھی ڈر گیا تھا۔
اس کے وار میں اتنی طاقت ہوتی تھی کہ جب سعد اپنی تلوار سے روکتا تو اس کے بازو میں طاقت نہ رہتی اور ایسے لگتا جیسے اس کے بازوؤں ابھی بدن سے الگ ہو جائیں گے۔
” کیسا لگا اب کیا میری تلوار بازی ٹھیک ہے۔”
” شہزادی آپ ایسی تلوار بازی سے پوری فوج کو شکست دے سکتی ہیں. آپ شاید جانتی نہیں کہ اس وقت آپ اپنے اصلی روپ میں نہیں ہیں. آپ اس وقت نیلی شہزادی بن چکی ہیں۔ نیلی شہزادی کا روپ دھار لیں گی آپ بہت جلد اور ہم سب آپ کا وہ روپ دیکھیں گے۔”
اس کی بات پر انابیہ قہقہ کہ لگا کر ہنسی اور اس وقت اس پر وار کیا جیسے سعد نے روک لیا۔ انابیہ کی دربار میں سے سلور رنگ کی روشنی نکلی جس نے سعد کی تلوار کو توڑ دیا۔” آئندہ مجھے غصہ دلانے کی کوشش مت کرنا آج تو بھی صرف سبق سکھایا ہے پھر تمہیں چھوڑوں گی نہیں یہ بات یاد رکھنا. “تب سپاہی یہ دیکھ کر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی ہو کہ وہ جان چکے تھے کہ ان کی شہزادی اس وقت کس روپ میں ہے اور اگر وہ انہیں تنگ کریں گے یا غصہ دلائیں گے تو اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے.
” مجھے معاف کر دیجیے شہزادی آیئندہ آپ کو کبھی غصہ نہیں دلاؤں گا . “
یہ بات کرتے ہیں انابیہ کی آنکھیں دوبارہ نیلی ہوگئی مگر وہ اپنے ہوش و حواس برقرار نہ رکھ پائیں اور اس سے پہلے وہ زمین پر کرتی سعد نے اسے تھام لیا۔
” سپاہی فورا جاؤ اور طبیب کو بلاکر لاؤ. “
یہ اسے اٹھائے اندر محل کی طرف چلا گیا جہاں پر سب نے انابیہ کی ایسی حالت دیکھی تو اس کی طرف دوڑے چلے آئے۔
” شہزادی کو کیا ہوگیا ایسے کیوں ملکہ اس کی طرف آئی اور اس سے سوالات شروع کردیے. سعد نے سامنے پڑے ہوئے صوفے پر اسے لٹایا اور چادر منگوائی.” میری والدہ کا آپ جانتی ہیں ہم نے سب نے باہر کیا دیکھا. “
” کیا دیکھا تم سب نے. “
” نیلی شہزادی کا اصلی روپ. آپ جانتی ہیں کہ میں ان سے بات کر رہا تھا تو ان کے اندر نیلی شہزادی کا روپ آگیا. وہ اتنا خطرناک ہے کہ آپ لوگ سوچ نہیں سکتے ان کی تلوار کے ایک وار کو میرے لیے قابو کرنا بہت مشکل تھا۔ شہزاد یہاں پر موجود نہیں ہے اور اگر انہوں نے مکمل طور پر نئی شہزادی کا روپ دھار لیا تو ہمارے لئے قابو کرنا بہت مشکل ہو جائے گا. آپ جانتی ہیں جب تک میری شہزادی کا شہزادہ اس کے پاس نہ ہو اسے کوئی قابو کر نہیں سکتا. “
ملکہ نے یہ سنا تو فورا انابیہ کی طرف آئیں اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرا. اس کی پیشانی پر ہاتھ لگانے سے انہیں محسوس ہوا کہ تپتا ہوا کوئلہ اٹھا لیا ہے۔”سعد یہ تو بہت زیادہ گڑ بڑ ہوگئی ہے اگر شہزادے یہاں نہ ہوئے تو ہم انہیں کیسے قابو کریں گے۔ شہزادے کا یہاں ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ جب تک یہ ابھی تک تو قابو کرنا نہیں سیکھیں گی یہ مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہوں گی. بخار میں تپ رہی ہیں یہ جو کسی طبیب کو بلاؤ۔”
سعد کا حکم پاتے ہی فورا باہر نکل گیا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس وقت انہیں کیا کرنا چاہئیے. یا تو یہ شہزادے کو پیغام بھجوا دیتی کہ وہ فورا جائو کہ اب وہ وقت دور نہیں کہ شہزادی اپنا اس روپ دھار لیں گی اور اس روپ کے بعد انہیں قابو کرنا ان کے بس کی ہی بات ہے کسی اور کے نہیں.
دادی صاحب اور گوہر انابیہ کے سر پر پٹیاں رکھ رہی تھی جب کہ اس کا بخار اترنے کا نام نہیں لے رہا تھا.
” کیا کریں گے بڑی بہو اگر یہ بہتر نہ ہوئی تو. “
ملکہ جو ان کے سامنے ہی بیٹھی ہوئی تھیں ان کے اپنے ہاتھ پاؤں پھولے ہوئے تھے۔ انابیہ کی طبیعت خاصی خراب تھی اور اور طبیب نے جو انہیں خبر دی اس سے یہ اور زیادہ پریشان ہوگئی۔ طبیب کے مطابق انابیہ کو بخار ایسا ہے جو اترنے میں بہت وقت لگائے گا. طبیب کے مطابق یہ موسمی بخار نہیں ہے اور نہ ہی ایسا جس کے لیے کوئی دوائی تجویز کی جائے.
” سردادنی ہم کیا کریں گے آپ بتائیے اگر یہ بہتر نہ ہوئی تو ہم ان کی حفاظت کیسے کریں گے شہزادے کو جواب دہ ہیں ہم۔”
” بڑی بہو تم فورا جبار کو پیغام بھیجو کہ وہ یہاں پر آجائے اسے پہلے کے حالات ہمارے قابو سے باہر ہو جائیں. “
یہ لوگ بات ہی کر رہی تھی کہ انابیہ نے اپنی آنکھیں کھولیں اس کی آنکھیں نیلی تھی۔ ملکہ فورا آئی اور سب سے پہلے اس کی آنکھیں دیکھیں تو انہیں تھوڑا سا سکون ہوا۔” آپ ٹھیک ہیں میری شہزادی۔”
” جی ملکہ ہم بالکل ٹھیک ہیں ۔ہمیں کیا ہوا تھا میں کچھ یاد نہیں۔”
کچھ نہیں ہوا تھا آپ کی طبیعت تھوڑی خراب تھی. اب آپ بالکل ٹھیک ہیں آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے. “
ملکہ نے اس کی پیشانی پر ہاتھ پھیرا اور جھک کر پیار دیا۔
” خدا سے دعا ہے کہ آپ جلد ہی ٹھیک ہوجائے ہمیں کچھ امور نمٹانے ہیں ہم آتے ہیں. “
ملکہ کا دخ باہر کی طرف تھا یہ جلد از جلد سعد سے ملنا چاہتی تھی۔
” سپاہی فورا جاو اور سعد کو بلاکر لاؤ۔”
سپاہی حکم پاتے ہی فورا باہر نکلا اور تھوڑی دیر بعد اندر آتے ہوئے سعد نظر آیا۔
” ملکہ آپ نے ہمیں یاد کیا۔”
” فورا شہزادے کو پیغام بھیجو کہ اب حالات ہمارے قابو سے باہر ہو رہے ہیں۔ وہ جلد از جلد شہزادی کے پاس پہنچے اس سے پہلے کہ وہ نیلی شہزادی بن جایئں۔ آپ جانتے ہیں کہ جب وہ اپنے اسی روپ میں آئیں گے سب سے پہلے وہ جس انسان کو دیکھنا چاہیں گی وہ ان کے اپنے شہزادے ہیں۔”
” ملکہ خبر ملی ہے کہ وہاں پر بھی حالات بہت زیادہ خراب ہیں۔ ہم نے آپ کے کہنے سے پہلے ہی وہاں پر سپاہی روانہ کردیئے ہیں تو شہزادے کو ہمارا پیغام دے دیں گے۔”
” سعد تم کچھ ایسی تیاری کرلو کہ اگر حالات بگڑ جائیں تو ہم شہزادی کو قابو کر پائیں۔”
” جی میری ملکہ میں تیاری کرکے رکھوں گا کہ اگر حالات ہمارے ہاتھ سے نکل جائیں تو ہم شہزادی کو کیسے قابو کریں گے۔”
________________________________
جبار کے سامنے اس وقت ایک نقشہ کھلا ہوا تھا .عثمان اس کے سامنے بیٹھا ہوا تھا یہ لوگ اس بات پر بحث کر رہے تھے کہ کہاں سے حملہ آوروں کو روکنا ہے کیونکہ انہیں معلوم ہوچکا تھا کہ آج شام ہی حملہ آور ان پر حملہ کر دیں گے۔
یہ بھی بات ہی کر رہے تھے کہ جبار کے نشان میں سے نیلی روشنی اورسلور روشنی مکس ہو کر نکلی۔ اس لمحے جبار کو شدت سے تکلیف ہوئی جس نے اس کے پورے وجود کو ہلا دیا۔
” انابیہ اس نے نیلی شہزادی کا روپ دھار لیا ہے لالہ۔”
جبار کےنشان نے اسے اتنا شدید تنگ کیا کہ اس نے اپنے نشان پر ہاتھ رکھ لیا۔
” اس وقت اس موقع پر وہ کیسے شہزادی کا روپ دھار سکتی ہے تمہیں معلوم ہے نا کہ تمہارا اس کے ساتھ ہونا بہت ضروری ہے. اگر تم اس کے ساتھ نہ ہوئے تو اس کی جان کو شدید خطرہ ہوگا“
” لالہ حملہ ہونے والا ہے میں کیسے سب کچھ چھوڑ کر چلا جاؤں. وہ شدید تکلیف میں ہے مجھے احساس ہو رہا ہے. “
” تم جاؤ جبار میں ہوں یہاں پر. “
” نہیں لالہ میں کبھی بھی اپنی ذمہ داری سے منہ نہیں پھیر سکتا۔”
یہ کہتے ہیں جبار نے اپنی آنکھیں بند کیں اس کی آنکھوں نے سلور رنگ بدلہ.” وہ اب دو تین دنوں تک شہزادی کا روپ دھار نہیں سکے گی۔ میں نے کوشش کی ہے لالہ کے وہ میرے قابو میں رہے. “
” جبار تم جانتے ہو اسے قابو کرنے کے لیے تمہیں کتنی طاقت چاہیے۔”
” لالہ میرے پہنچنے تک وہ شہزادی کا روپ نہیں لے پائے گی. ہمیں آج ہی ان حملہ آوروں سے نمٹنا ہے. “
” ٹھیک ہے تم فورا سے نکلو میں بابا کو اعتراف کرتا ہوں۔”
جتنی تکلیف جبار کو اپنے نشان سے ہورہی تھی اتنی ہی تکلیف انابیہ کو بھی تھی۔ وہ محسوس کر سکتا تھا کہ اس وقت وہ آگ کی طرح تپ رہی ہے اور اسے سخت بخار ہے۔
” بس میری جان تھوڑا سا انتظار میں آپ کے پاس آنے والا ہوں. “
________________________________
سعد محل میں بھاگتا ہوا آیا ملکہ اور گوہر دونوں اکٹھی بیٹھی ہوئی تھی۔
” ملک فورا چکیئے اور سب عورتوں کو لے کر محل کے نیچے چلی جائیے حملہ ہو چکا ہے محل پہ۔”
” بہو تم فورا جاؤ اور اپنی بچیوں کو لوگ اور نیچے کی طرف نکل جاؤ۔تاج فورا جاو اور دادی صاحب کو لے کر ان کے ساتھ انابیہ کو بھی لے آنا وہ سو رہی تھی۔”
یہ فورا صاحب کے ساتھ باہر کی طرف نکل گئی جہاں سے سب کو انہوں نے نیچے محل میں بنے ایک تہ خانے کی طرف جانے کے لیے کہا۔
تاج انابیہ کے کمرے میں آئی تو یہ گہری ان میں سو رہی تھی تاج نے فورا اس کی سائیڈ پر پڑی ہوئی چادر اٹھائی اور اسے جگانے کے لیے آئی.
” میری شہزادی اٹھ جائیے محل پر حملہ ہو چکا ہے ہمیں فوراً یہاں سے نکلنا ہے۔”
تاج اسے مسلسل جگا رہی تھی مگر وہ ہل نہیں رہی تھی۔” میری پیاری شہزادی جلدی اٹھیے ہمارے پاس وقت بہت کم ہے۔”
انابیہ نے اسی لمحے آنکھیں کھولیں اور اس کی آنکھیں دیکھتے ہی تاج فورا سے پیچھے کی طرف بھاگی۔” رک جاؤ وہاں پر ہی تم۔”
” نیلی شہزادی آپ آچکی ہیں آپ نے ابھی تو نہیں آنا تھا۔”
” کیوں میرے آنے نہ آنے پر تم نے پابندی لگائی ہوئی ہے. ہم کسی حملے سے نہیں ڈرتے سب عورتوں کو کہہ دو کہ تہ خانے میں چلی جائیں ہم خود مقابلہ کرسکتے ہیں. “
” میری پیاری شہزادی شہزادے نہیں ہے آپ کے ساتھ ابھی آپ کو نقصان ہو سکتا ہے. آپ نیچے آجائے جب شہزادے آجائیں گے تو آپ پھر آجائیے گا۔”
” تم سب کا مسئلہ کیا ہے تم سب لوگ مجھے حکم دینا جانتے ہو کیا. کیا تم لوگ نہیں جانتے میں نیلے شہزادے جبار خان کی بیوی ہوں۔ میرے لئے انتہائی شرم کی بات ہوگی کہ اگر میں اس لمحے نیچے چلی جاؤں۔ جاؤ فورا سے نکلو یہاں سے۔”
اس کی زوردار آواز سے تاج ڈر گئی اور فورا بھاگ گئی. نیلی شہزادی سے کوئی امید نہیں تھی وہ اسے اٹھا کر پٹاخ دیتی۔
انابیہ کا رخ باہر کی طرف تھا جہاں پر گھوڑوں پر سوار بہت سے فوجی لڑ رہے تھے۔سعد کی نظر اس کی طرف پڑی ۔ملکہ کو جب خبر ہوئی کے میری شہزادی واپس آ چکی ہیں تو وہ فورا باہر کی طرف نکلیں.
دشمن سپاہیوں کی نظر انابیہ کی طرف پڑھ چکی تھی ان کا مقصد ہی انابیہ کو یہاں سے اٹھانا تھا انہیں لگا کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے ہیں.
” وہ رہی نیلی شہزادی ہمیں فوراً انہیں اٹھانا ہے۔”
ایک سپاہی نے کہا اور انابیہ کی طرف بڑھنا شروع ہوگیا جو بڑے غور سے ان سب کو دیکھ رہی تھی جیسے یہاں کوئی تماشا ہو رہا ہو۔
سعد کا دل بہت زور سے دھڑکنا شروع ہوگیا وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ آگے کیا کرنے والی ہے کیوں کہ نیلی شہزادی جب بھی آئی تھی ہر طرف تباہی مچی تھی. انہیں صرف ایک ہی چیز قابو کرسکتی تھی ان کے شہزادے کی محبت۔ ہیں آنے والی ہر نیلی شہزادے اور نیلی شہزادی کی نشانی تھی کہ جب تک وہ دونوں ساتھ نہ ہوتے ان کی طاقت مکمل نہ ہوتی۔
سپاہی جوں ہی انابیہ کی طرف آیا انابیہ اس کی طرف بڑھی ۔ملکہ انابیہ کو روکنے کے لیے آگے آ رہی تھی مگر انابیہ کے اگلے قدم سے وہ چیخ کر پیچھے ہوئی۔
انابیہ سپاہی کے پاس گئی اور اس کا گلا اپنے ہاتھوں سے پکڑا اور اسے پٹخ دیا۔
” ذرا سے لوگوں کو قابو نہیں کر سکتے تم لوگ کیسی فوج ہے یہ.”
سعد کی طرف دیکھتے ہوئے یہ ہنسی جیسے ان کا مذاق اڑا رہی ہو۔” میرے نیلے شہزادے کہاں پر ہیں مجھے بتاؤ۔”
” شہزادی وہ جنگ پر گئے ہوئے ہیں. آپ ایسی کوئی بات مت کریں جس سے آپ کو تکلیف ہو آپ جائیے اندر۔”
انابیہ نے اپنی طرف بڑھتے ہوئے سپاہیوں کو ایک نظر دیکھا.
” اگر تم سب کو اپنی جان پیاری ہے تو پیچھے ہٹ جاؤ تم لوگ جانتے نہیں کہ نیلی شہزادی کیا ہے۔ چاہتے ہو کہ تمھارے بچے یتیم نہ ہوں تو فوراً پیچھے ہو جاؤ۔”
” ہم جانتے ہیں آپ ابھی تک نہیں شہزادی نہیں بنی آپ انسان ہی ہیں. “
” میں تو انسان ہوں مگر میرا شہزادہ تو انسان نہیں. افسوس – – – – – – تم لوگ میری حقیقت جان نہیں پائے. “
یہ کہتے ہی انابیہ آگے بڑھی اور سعد کے ہاتھ سے تلوار لے لی۔” میرے لوگ وہ پیچھے ہٹ جاؤں میں نہیں چاہتی کہ تم لوگوں کو کوئی نقصان ہو. یہ جنگ میری ہے مجھے خود لڑنی ہے ہٹ جاو پیچھے۔”
تمام سپاہی پیچھے ہونا شروع ہو گئے جبکہ دشمن سپاہی اس کے سامنے آنے لگے۔
اس نے تلوار سے انہیں مارنا شروع کیا.
“سعد شہزادے کو بلاو ہم شہزادی کو قابو نہیں کر پائیں گے۔”
” میری ملکہ ہم نہیں روک سکتے انہیں۔ شہزادی کبھی بھی اپنے لوگوں کو نقصان نہیں پہنچائیں گی وہ صرف دشمن سے ہی لڑتی ہیں۔”
یہ لوگ دیکھ ہی رہے تھے کہ انابیہ کے بازو پر ایک تلوار کا وار ہوا. اس کا بازو اچھاخاصا زخمی ہوگیا یہ دیکھتے ہی ملکہ اس کی طرف جانے لگی مگر سعد نے انہیں پکڑ لیا۔” ملکہ شہزادے آچکے ہیں۔”
سعد میں آسمان کی طرف اشارہ کیا جہاں سے اڑتا ہوا جبار آ رہا تھا۔ پیچھے سے بہت سے گھوڑوں کی آوازیں آ رہی تھیں یعنی کہ بہت سی فوج ان کی مدد کیلئے آچکی تھی.
ملکہ خاموشی سے یہ منظر دیکھ رہی تھی جب وہ نیچے اترا تو انابیہ نے اس کی طرف دیکھا. دونوں کی آنکھیں اس وقت سلور رنگ کی تھی.” میری شہزادی کو میرا سلام. “
انابیہ اسکی بات پر دل کھول کر ہنسی.
” بہت انتظار کروایا میری جان مجھے. تم دیکھ رہے ہو میں اپنی حفاظت کرنا خود جانتی ہوں میرے شہزادے. “
جبار آہستہ آہستہ اس کی طرف آ رہا تھا.
” میں نے دیکھا ہے میری جان میری شہزادی. میری جان تو بہت زیادہ بہادر ہے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا. “
انابیہ اسی کی طرف دیکھ رہی تھی پھر ہنستے ہوئے اس نے اپنا بازو اوپر کیا اور اس کی بازو سے روشنی نکلی جو اس نے جبار کی طرف غصے سے پھینکی۔
ملکہ یہ دیکھتے ہی آگے آنے لگی مگر سعد نے یہ کہہ کر روک دیا۔” ملکہ آپ انہیں روک نہیں پائیں گی اب شہزادے ہیں انہیں اپنا بنائیں گے. وہ کسی کی بات نہیں سن سکتی اب صرف شہزادے گی۔”
اس روشنی سے جبار کو شدید تکلیف ہوئی وہ ایک پل کیلئے پیچھے ہو گیا اور درد سے آنکھیں بند کر لیں.” یہ تمہاری سزا ہے مجھے انتظار کروانے کے لیے. “
” انتظار ہم نے نہیں انتظار تو آپ نے کروایا ہے. آپ تو یہ پہچان ہی نہیں پائی کہ آپ کے پاس کیا طاقت ہے “
” تم نے مجھے پہچان کروائی ہیں نہیں تو مجھے بتا سکتے تھے نہ کہ میری پہچان کیا ہے. “
جبار آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھا جس کے ہاتھ میں تلوار تھی جس پر خون لگا ہوا تھا۔” میری جان ہم نے ہر دن آپ کا انتظار کیا ہے آپ جانتی تو ہے ہماری طرف آئیے اپنے شہزادے کے پاس ہمارے سینے سے لگ جائیے۔”
انابیہ ہںسنے لگ گئی اور اپنی تلوار پھینک دی. یہ بھاگتی ہوئی آئی اور جبار کے گلے لگ گئی. جبار نے اس کو اپنی باہوں میں چھپا لیا اور اپنے پر اس کے اردگرد پھیلا دیے.” مجھے چھوڑ کر مت جایا کرو تمہارے بغیر میں نہیں رہ سکتی میرے شہزادے. “
” میں بھی نہیں رہ سکتا میری جان. “
اسی لمحے انابیہ کے وجود کو شدید قسم کے جھٹکے لگے اور جبار سمجھ گیا کہ وہ اسے قابو کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے. انابیہ اس کی طرف دیکھ کر ہنس رہی تھی ساتھ ہی اس کی آنکھوں نے رنگ بدلا اور اسی کی باہوں میں جھول گئی.
“سعد تم سب سنبھالو سردار ز ہیں وہ آ رہے ہیں۔والدہ فورا کسی طبیب کو بلائیے اور آپ سب لوگ اندر جایئے۔”
_________________________________
باہر سب کچھ سمیٹا جا رہا تھا دشمنوں کو پکڑ لیا گیا تھا. سردار کو جنگ میں کافی چوٹ آئی تھی جس کی بدولت انہیں طبیب دیکھ رہا تھا وہ اب ٹھیک تھے.
انابیہ کمرے میں لیٹی ہوئی تھی جبکہ اس کے پاد جبار بیٹھا ہوا تھا اس کا ایک ہاتھ انابیہ کے سر پر تھا اور دوسرا ہاتھ انابیہ کے پیٹ پر.
” میں نہیں جانتا تھا کہ آپ اتنی جلدی آجائیں گی. مجھے تو یہ لگا کہ آپ کو بھی پہچان جاننے میں ابھی کافی وقت ہے ایسے ہی تو نہیں میں کہتا تھا کہ آپ چنی گئی ہیں میرے لئے 21 سال پہلے سے۔ آپ میں نیلی شہزادی کی ہر وہ خصوصیت ہے جو پچھلی آنے والی ہر شہزادی میں تھی۔ اب تو ہمارے ہاں اولاد بھی آنے والی ہے. میں سوچ نہیں سکتا تھا کہ شادی کے ڈیڑھ ماہ بعد ہی ہمیں یہ خوشخبری سننے کو ملے گی. آپ جلدی سے آنکھیں کھول لیجئے تاکہ میں آپ کو یہ خبر سنا دو اور مجھے یقین ہے کہ آپ اپنی طاقت پر قابو پانا سیکھ گئی ہیں. “
جبار نے جھک کر اس کے پیٹ پر ایک پیار دیا اور پھر اس کا رخ باہر کی طرف تھا۔
اس کا رخ کردار کی خواب گاہ کی طرف تھا جہاں پر شہزادے عثمان گوہر اور دادی کھڑے ہوئے تھے. ملکہ اپنے شوہر کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی جنھوں نے ان کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا جیسے تسلی دے رہے ہوں کہ مجھے کچھ نہیں ہوا۔” مبارک ہو آپ سب کو ہمارے ہاں نیا مہمان آنے والا ہے۔”
” تمہارا کہنے کا مطلب ہے کہ انابیہ امید سے ہے۔”
” بالکل آپ لوگ یہ بات جان نہیں سکے لیکن مجھے پتا چل گیا. وہ بہت جلدی اپنی طاقت پہچان گئی اس کی وجہ یہ ہماری اولاد تھی. آپ جانتے ہیں وہ میری اولاد ہے تو اس کی ماں کیسے طاقت ور نہ ہو۔”
” بہت مبارک ہو میرے بیٹے مگر کیسی ہے شہزادی اب. “
” وہ بالکل ٹھیک ہے اور بالکل ٹھیک ہی رہے گی کیونکہ اب میں اس کے پاس ہوں۔”
” مبارک ہو جبار. یہ تو ہماری جنگ جیتنے کے لیے بہت بڑا تحفہ ہے. “
” خیر مبارک لالہ مجھے بھی امید نہیں تھی کہ میں واپس آؤں گا تو مجھے اتنا بڑا تحفہ ملے گا. “
تاج اسی لمحے کمرے میں آئی.” میرے پیارے شہزادے، شہزادی کو ہوش آ چکا ہے اور وہ صرف آپ کا نام پکار رہی ہیں۔”
جبار اس کی بات سنتے ہی کمرے سے باہر چلا گیا اس کا رخ اپنے کمرے کی طرف ہے یہ نہیں جانتا تھا کہ انابیہ کیا کرے گی وہ اپنی طاقت پر قابو پانا سیکھ چکی ہے یا نہیں ورنہ اس کی جان کو بھی خطرہ لاحق تھا.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: