Ishq Mein Mar Jawan Novel By Hifza Javed – Episode 25

0
عشق میں مرجاواں از حفضہ جاوید – قسط نمبر 25

–**–**–

اک لفظ عشق کے بارے میں کیا کہیں
کبھی برسے ہم پہ یہ مینا کی صورت
تو کبھی برسے ہم پے یہ ٹھنڈی برف کی مانند
کبھی روح کو اس کا تپتے صحرا جیسا
تو کبھی روپ ہو اس کا ٹھنڈی برف جیسا
کہتے ہیں ملے یہ نصیب سے کسی کسی کو
نہ دے قسمت ہر کسی کو ہی خوشی
کہ وفادار دل ہی اس کا حقدار ہے
انسہ اس وقت عنایہ کو سکول کے لئے تیار کر رہی تھی ساتھ ساتھ ملازمہ سے صبح کے ناشتے کا بھی کام کروا رہی تھی۔ تیمور اس کی شادی کو پورا ایک ماہ ہوچکا تھا اس نے ایک ماہ میں تیمور کی پوری فیملی اور تیمور کا بے تحاشہ خیال رکھا تھا اور عنایی کو اس نے اپنی بیٹی سے بڑھ کر پیار دیا تھا جبکہ تیمور نے بھی اسے بے انتہا پیار دیا تھا ایسا محسوس نہیں ہوتا تھا کہ ان کی شادی کن حالات میں ہوئی ہے.
“انسہ کہاں پرہو جلدی سے آو میرا کوٹ نہیں مل رہا۔”
” بی بی جی آپ کو صاحب بھی بلا رہی ہیں آپ جانتی ہیں کہ سبحان کو آپ کے بغیر کوئی چیز نہیں ملتی. “
ملازم اسے دیکھ کر ہنسنا شروع ہوگئی کہ صبح صبح تیمور کمرے سے زور سے آوازیں لگاتا کہ یہ واپس کمرے میں آجائے..
” ماما آپ جائیے میں پھوپھو کوجگانے جارہی ہوں وہ اٹھ جائیں پھر ہم لوگ اکٹھے جائیں گے۔”
یہ آگے بڑھی اور عنایہ کے سر پر پیار دیا پھر اس کا رخ اپنے کمرے کی طرف تھا۔
تیمور اپنے گلے میں ٹائی پہنے کھڑا ہوا تھا جبکہ کوٹ اس کے ہاتھ میں اٹھایا ہوا تھا.انسہ کیسے ہیں کمرے میں داخل ہوئی اسے اچھا خاصا غصہ آیا کہ اسے بار بار کمرے میں چکر لگانا پڑتا ہے.
” حد ہے ویسے تیمور کبھی کبھی آپ بالکل بچوں والا بی ہیو کرتے ہیں آپ کو پتہ ہے آپ کی بیٹی کو ناشتہ کروا رہی تھی میں.”
” کبھی مت معصوم پر بھی دھیان دے دیا کرو. “
انسہ بیڈ سے کپڑے اٹھا کر باسکٹ میں رکھتی ہوئی بولی۔” سارا سارا دن آپ کی فرمائشیں پوری کرتے ہی گزر جاتا ہے کبھی یہ بنادو کبھی وہ کر دو ۔میری یہ چیز نہیں مل رہی کبھی وہ نہیں مل رہی. مجھے تو لگتا ہے میرے آنے سے پہلے آپ کی کوئی چیز ترتیب میں نہیں تھی. “
تیمور اس کے پاس آیا اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔” وہ کیا ہے نہ مسز کے آپ کے آنے سے پہلے کوئی ایسا اپنا نہیں تھا جس سے میں کام کرنے کا کہتا. ہاں میری بہنیں تھیں مگر اب بھائی اپنی وہ کام تو ان سے نہیں کروا سکتا جو بیوی سے کروا سکتا ہے. آپ کی ذمہ داری ہے میرا خیال رکھنا اور مجھے بہت خوشی ہوتی ہے جب آپ سارا دن میرے کاموں میں مصروف رہیں. “
” یہ کوئی بات نہ ہوئی آپ ہمیشہ ایسے ہی کرتے ہیں۔ اگر آپ نے زیادہ تنگ کیا تو میں بابا کو شکایت لگا دوں گی۔”
” ایک بار نہیں ہزار بار شکایت لگایئں وہ تو یہی کہیں گے کہ ہاں بیٹا ہماری بہو کو اور تنگ کرو. “
تیمور نے اسے کمر سے تھاما اور سینے سے لگایا۔”شرم کریں آپ کی بیٹی کبھی بھی کمرے میں آجائے گی”
“تو کیا وہ بھی تو دیکھے کے بابا کتنا پیار کرتے ہیں ماما سے۔”
یہ کہتے ہی تیمور اس پر جھکا اسی لمحے دروازہ کھلا۔آنے والی اور کوئی نہیں عنایہ تھی۔تیمور فورا سے پیچھے ہوا اور عنایہ کی طرف موڑا ۔ وہ کمر پر ہاتھ رکھے کھڑی ہوئی تھی جیسے ابھی لڑنا شروع کر دی گی۔
” بابا آپ کو پتہ ہے نا کہ ماں کے بغیر میں تیار نہیں ہوتی پھر بھی آپ نے انہیں بلا لیا۔”
” بیٹا میں بھی تمہاری ماں کے بغیر تیار نہیں ہو سکتا نہ جیسے وہ تمہیں یونیفارم پہناتی ہیں “
ناشتہ کرواتی ہیں ویسے وہ مجھے بھی ناشتہ کرواتی ہیں.”انسہ نے اسے اچھی خاصی گھووری سے نوازہ کیوں کہ اب بڑی ہو چکی تھی اور وہ سب باتیں سمجھتی تھی۔” جی نہیں آپ بہت بڑے ہو چکی ہیں مجھے میری ماما چاہیں واپس کریں۔”
انسہ ان دونوں لڑائی دیکھ کر ہنسنا شروع ہوگئی. کچھ لمحے کے لیے اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی اور اس نے اپنی زندگی کے بارے میں سوچا کہ شاید اگر یہ اپنی بھانجی کی زندگی میں نہ آتی تو آج اس کی جگہ کوئی اور عورت ہوتی اور وہ کبھی بھی اس کی بھانجی سے اس طرح محبت نہ کرتی جیسے یہ کرتی ہے.
” چلو دونوں لڑنا بند کریں اور نیچے چلیں ناشتہ کرتے ہیں اکٹھے۔”
انسہ دونوں کا ہاتھ تھام کر نیچے کی طرف لے آئی.
______________________________
جبار انابیہ کے پاس کمرے کی طرف آیا تو اسے انابیہ بیڈ پر بیٹھی ہوئی ملی جس کے ہاتھوں میں اس وقت اپنا نیلے رنگ کا تاج اٹھایا ہوا تھا جو اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا.
” میری جان اٹھ گئی۔ درد تو نہیں ہے نا بازو پر چوٹ لگی تھی. “
” جبار مجھے ایک بات بتائیں آپ نے مجھ سے یہ حقیقت کیوں چھپائی کہ میرے پاس یہ طاقت ہے. “
” کیسی طاقت میری جان. “
”میرے نیلے نشان سے نیلے رنگ کی روشنی نکلتی ہے اگر میں کسی کی طرف یہ پھینکوں تو انسان زخمی ہو جاتا ہے۔ میری آنکھیں بھی آپ کی طرح سلور رنگ کی ہو جاتی ہے اور میں تلوار بازی اتنی اچھی کیسے کر لیتی ہو. “
” وہ اس لئے میری جان کی جب آپ پیدا ہوئی تھی تو آپ یہ طاقت لے کر پیدا ہوئی تھی۔”
یہ چلتے ہوئے آیا اور انابیہ کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھا.” میری جان آپ کو معلوم ہے کہ آپ ایک انسان ہیں مگر آپ کے پاس یہ طاقت ہماری وجہ سے ہے کیوں کہ جب آپ پیدا ہونے والی تھی تو ہماری قسمت ساتھ جڑ چکی تھی۔ آپ جانتی ہیں کہ میں کون ہوں اور ہمارا کیا تعلق ہے آپ سے. “
” نہیں مگر میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتی ہوں کہ مجھے اتنا عجیب محسوس کیوں ہو رہا ہے جیسے میری جسم میں کوئی تبدیلی ہوئی ہے. “
انابیہ جب سے اٹھی تھی اسے ایک عجیب سی بے چینی ہورہی تھی اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے یہ بہت زیادہ مضبوط ہوچکی ہے کچھ ایسی بات جو اسے سمجھ نہیں آرہی تھی.
”وک اس لیئے میری جان کے آپ کے پاس ہماری آنے والی اولاد ہے. “
اس کی بات سن کر انابیہ دو منٹ کیلئے بالکل خاموش ہوگئی۔” آپ کہنا چاہ رہے ہیں کہ میرے پاس آپ کی اولاد ہے یعنی ہم———-“
” یعنی ہم والدین کے عہدے پر فائز ہونے والے ہیں. آپ جانتی ہیں ہمارا بچہ بہت زیادہ طاقتور ہے جس کی وجہ سے اس نے آتے ہی آپ کے اندر آپ بھی طاقت کو جگا دیا۔”
انابیہ جبار کا ہاتھ تھام کر ہو خوف ذدہ سے انداز میں بولی۔ وہ جن ہوگا کیا۔ میں تو انسان ہوں. “
” وہ آپ کی طرح ایک انسان بھی ہوگا اور ہماری طرح ایک جن بھی۔ آپ جاننا چاہتی ہیں کہ ہماری پہچان کیا ہے ہم ایک انسان سے کیوں شادی کرتے ہیں اور کیا آب یہ بھی جاننا چاہیں گی کہ ہمارے ہاں نیلے اور سبز نشان کا کیا چکر ہے“
” آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ہم جاننا نہیں چاہتے کہ ہم جس شخص کے ساتھ رہ رہے ہیں اس کی پہچان کیا ہے۔”
” تو پھر آج جان لیجئے کہ ہم کون ہیں اور آپ ہمارے لئے کیوں چنی گئی۔”
جبار اس کا ہاتھ تھام کر محل کے ایک بند دروازے کی طرف لے آیا ۔یہ دروازہ بہت مضبوط تھا اور اس دروازے میں سے روشنی نکل رہی تھی۔جبار نے اس روشنی پر اپنا ہاتھ رکھا تو دروازہ کھلتا چلا گیا اور اندر ایک بے تحاشہ بڑا کمرہ تھا.
” یہ کونسی جگہ ہے شہزادے آپ مجھے کہاں لائے ہیں۔”
جبار خاموشی کے ساتھ اس کا ہاتھ تھامے آگے بڑھ رہا تھا جبکہ انابیہ اردگرد لگی ہوئی خوبصورت شہزادے اور شہزادیوں کی تصویریں دیکھ رہی تھی. کسی تصویر میں نیلی آنکھوں والی شہزادی ہوتی تو کسی تصویر میں پرپل رنگ کی آنکھ والی شہزادی بھی پائی گئی. یہ سب شہزادیاں بے انتہا خوبصورت تھی اور ان کے ساتھ کھڑے ہوئے انکے شہزادے بھی ان کی ٹکر کے تھے۔
جبار اسے تھامے ہوئے بہت پرانی تصویر کے آگے لے کر آیا جس کے اندر ایک دروازہ سا تھا تصویر ایسے تھی کہ دروازہ بنا ہوا تھا اور اس کو کھولنے سے اندر بنی ہوئی تصویر کا پتہ چلتا تھا.
” اپنا ہاتھ آگے رکھیں یہ کھل جائے گا۔”
جبار نے انابیہ کا ہاتھ اٹھا کر اس تصویر پر رکھا جس سے ایک دروازہ کھلتا گیا حالانکہ یہ تصویر کے اندر تھا مگر تصویر سائیڈ پر ہوتی گئی جس کے اندر مختلف قسم کی چیزیں دکھائی گئی تھی۔ جیسے خوبصورت لوگ مگر وہ سارے ایک جگہ ہیں کھڑے ہوئے تھے اور معلوم ہو رہا تھا کہ وہ زندہ نہیں ہیں۔
انابیہ ابھی یہ دیکھ رہی تھی کہ اس کے سامنے گھوڑے پر ایک خوبصورت شہزادہ آیا جس کا چہرہ یہ دیکھ نہ پائی۔ یہ جگہ اس نے پہچان لی تھی یہ وہی مزار تھا جہاں سے یہ اس دنیا میں لائی گئی تھی مگر جس جگہ کی یہ تصویر تھی وہ تو بلوچستان میں تھا اس دنیا کا نہیں تھا.
” جبار یہ تو وہی مزار ہے جہاں پر ہم لوگ ملے تھے. “
” بالکل آپ دیکھتی جائیے آگے کیا ہوتا ہے. “
یہ خوبصورت شہزادہ گھوڑے سے اتر گیا اور چلتا ہوا مزار کے اندر چلا گیا یہاں بنی ہوئی سیڑھیاں بالکل ویسے ہی تھی جیسے اب وہاں پر موجود تھی مگر ان کو نئی شکل دے دی گئی تھی۔
شہزادہ جوں ہی مزار کے اندر گیا وہاں پر بیٹھ کر اس نے دعا کی۔ اس وقت شہزادے نے ایسا لباس پہن رکھا تھا جیسے پرانے دور کے شہزادے پہنا کرتے تھے انابیہ یہ دیکھ کر پہچان گئی۔
شہزادے نے جیسے ہی اپنے سامنے دیکھا اس کے سامنے ایک خوبصورت لڑکی بیٹھی ہوئی تھی۔ جس نے اپنے بالوں کو ڈوپٹے سے ڈھکا ہوا تھا مگر پھر بھی اس کے بہت سے بال باہر آرہے تھے۔ انابیہ ان دونوں کا چہرہ نہیں دیکھ پا رہی تھی اسی لیے وہ جبار کی طرف مڑی۔” ان دونوں کا چہرہ واضح کیوں نہیں ہے شہزادے. “
” کیوں کہ اس تصویر کو بنانے والے نے انہیں دیکھا تو تھا مگر اسے اتنی بہترین مصوری نہیں آتی تھی جس کی بدولت اس نے صرف اس وقت ہونے والے واقعات ہی بنائے وہ چہرے نہیں بنا سکتا تھا. یہ آج سے کئی سال پہلے کی بات ہے. شاید چار سو سال پہلے.”
” یعنی کہ سولہویں صدی. “
” بالکل یہ سولہویں صدی کی ہی بات ہے لیکن ہمیں اس کا سال نہیں پتا۔”
انابیہ نے غور سے دیکھا تو یہ شہزادہ اس لڑکی کی طرف بڑھا اور اس کا چہرہ اور ہاتھ سے اوپر کیا. بنانے والے نے تصویر کے نیچے اب کچھ لفظ بھی لکھے تھے جو آگے آگے ہو رہے تھے. ایسا لگ رہا تھا کہ یہ کوئی ٹی وی سکرین ہے مگر یہ جادو کی مدد سے بنائی گئی تصویر تھی. الفاظ میں یہ بات لکھی گئی تھی کہ اس شہزادے کو یہ شہزادی پہلی نظر میں ہی بھا گئی۔ دونوں بے تحاشہ خوبصورت تھے اور اس وقت یہ جس علاقے کے شہزادہ شہزادی تھے وہ آپس میں ایک دوسرے کے دشمن تھے.
” جبار کیا یہ شہزادہ جن تھا. “
” نہیں یہ بھی انسان تھا اور شہزادی بھی انسان تھی.آگے دیکھتی جایئے شہزادی آپ کو حقیقت کا علم ہوجائے گا. “
یہ شہزادی شہزادے کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی یہ اکٹھے ہی اس مزار سے نکلے۔ انابیہ محسوس کر سکتی تھی کہ ان دونوں میں کوئی بات ہوئی ہے مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ مصور نے نیچے کیا بات لکھی ہے۔
” آپ جانتی ہیں مصور نے یہاں کیا لکھا ہے۔”
” نہیں شہزادے مجھے یہ زبان سمجھ نہیں آرہی۔”
” میں آپ کو بتاتا ہوں کہ یہ کیا لکھا ہوا ہے. شہزادے نے شہزادی سے اپنی پسند کا اظہار کیا مگر شہزادی نے صاف صاف کہہ دیا کہ تم سے ہمارا کوئی تعلق نہیں تم جس قبیلے سے تعلق رکھتے ہوں وہ ہمارے والد کا دشمن ہے.”
” پھر کیا ہوا ان کے ساتھ. “
” مصور آگے یہ لکھتا ہے کہ شہزادے کو شہزادی پسند تھی شہزادی کو حاصل کرنے کی خاطر اس نے جنگ کرنے کا فیصلہ کیا. “
” یعنی کہ اس دور میں جنگ ہوئی تھی ان کی مگر ہم تاریخ میں ان کے بارے میں کچھ نہیں پڑھتے. “
” کیوں کہ یہ کسی ایسے قبیلے سے تعلق نہیں رکھتے تھے جس کے بارے میں تاریخ لکھی جائے. یہ بہت عام سے قبیلے سے تعلق رکھتے تھے اور جس علاقے سے یہ لوگ تعلق رکھتے تھے وہاں کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے تھے. آپ جانتی ہیں شہزادے اپنی فوج کے ساتھ شہزادی کو لینے ان کے محل گئے۔ محل میں جاتے ہی انہیں اس بات کا علم ہوا کہ شہزادی کی شادی ہورہی ہے وہ فورا سے اس شادی کو روکنا چاہتے تھے.”
یہ سب تصویریں انابیہ مصور کی بنائی ہوئی دیکھ رہی تھی مگر اسے جبار کی زبانی یہ سب کو سمجھا آرہا تھا۔
” پھر جب یہ محل کے اندر پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ شہزادی جس شخص کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہے اس سے اس کا نکاح ہو چکا ہے. “
انابیہ نے غور سے دیکھا تو وہ شخص بے انتہا کا خوبصورت لگ رہا تھا صرف اس کا چہرہ دھندلا تھا مگر اس کی وجود سے ہی پتہ چل رہا تھا کہ وہ کتنا خوبصورت ہے۔
” آپ جانتی ہیں کہ یہ بیٹھا ہوا شخص کون ہے. “
” نہیں جبار یہ کون ہے مجھے تو نہیں معلوم. “
” ہماری قبیلے کے سب سے پہلے سردار ہمارے سبز نشان والے شہزادے. مگر اس وقت یہ انسان ہیں۔”
” کیا مطلب آپ تو کہتے ہیں کہ آپ جن ذادے ہیں تو یہ انسان کیسے ہوئے۔”
جبار ہنسا اور سامنے کی طرف اشارہ کیا جہاں پر انابیہ کو ایک جنگ ہوتی ہوئی نظر آرہی تھی. نیلے نشان والے شہزادے کی لڑائی مزار والے شہزادے سے ہوئی. دونوں میں اس وقت اچھی خاصی لڑائی ہو رہی تھی اور شہزادی خاموشی سے یہ سب دیکھ رہی تھی. دیکھتے ہی دیکھتے مصار والے شہزادے نے ہمارے شہزادے کو اچھا خاصا نقصان پہنچا دیا. اسی لمحے شہزادی آگے آئی۔ دونوں شہزادوں کے درمیان کھڑی ہوگئی اور اس وقت انہوں نے اپنا روپ بدلا۔”
جبار اسے بتا رہا تھا جبکہ انابیہ تصویر میں دیکھ رہی تھی کہ شہزادی نے جیسے یہ روپ بدلا اس کے سبز رنگ کے پر نکل آئے ہیں. دونوں شہزادے اپنی جگہ پر حیران رہ گئے مگر شہزادی نے اپنے شوہر کا ہاتھ تھاما اور مزار والے شہزادے کے آگے آ کر کہا.” ہماری تمہاری قسمت کبھی ساتھ مل نہیں سکتی اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم انسان نہیں ہیں۔ ہم نے جس شخص کو اپنے لئے چنا ہے وہ تم نہیں ہمارے پیارے شہزادے ہیں۔”
” شہزادے کیا مطلب کہ آپ کے قبیلے کی شروعات اس لیے ہوئی تھی کہ آپ کی شہزادی جن زادی تھی.” یہ شہزادی کے الفاظ ہیں سن لیجئے. ہم اس دنیا میں بہت سالوں سے رہ رہے ہیں یہاں پر ہمیں انسان کا روپ لینا پڑا. یہاں آ کر ہمیں اس شخص سے محبت ہوئی اور اس کی خاطر ہم نے اپنی دنیا کو چھوڑ دیا ہم نے انسان بننا قبول کیا. ہم نے اپنی دنیا چھوڑی اپنے لوگ چھوڑے اور تم جانتے ہو اس کی بدولت انہوں نے ہمیں کیا دیا. “
جبار مصور کے لکھے ہوئے الفاظ انابیہ کو پتا رہا تھا” ہمیں اس کے بدلے ایک سزا ملی کہ ہمارے آنے والی اولاد نہ تو مکمل انسان ہوگی اور نہ مکمل جن زادہ. شہزادے سے ہم نے محبت کی اس کی سزا نہ صرف ہمیں ملی بلکہ شہزادے کو بھی جن کا کوئی قصور نہیں تھا. یہ نشان تم دیکھ رہے ہو نہ یہ نشان ہم دونوں کے بازو پر بن چکا ہے جس کی بدولت ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے ہمیشہ . میں اسے سزا نہیں کہوں گی مگر شاید ہمارے آنے والی اولاد کے لیے سزا بن جائے کہ جو بھی نشان والا شہزادہ شہزادی ہوگی وہ زندہ بھی ساتھ رہ پائیں گے اور مریں گے بھی ساتھ۔ ہماری آنے والی اولاد نے نشان والے شہزادے ہی صرف آدھے انسان اور آدھے جن ذادے ہوں گے باقی تمام اولادیں اپنے باپ کی طرح انسان ہوں گی۔ ہم اپنی دنیا کی شہزادی تھی اسی خاطر ہمارے ملازم ہمارے ساتھ دینے والے لوگوں کو بھی سزا ملی اور وہ بھی ہمارے ساتھ ہی اس دنیا میں آئے ہیں. ہمارے لئے ایک اور بھی سزا ہے کہ ہم اس دنیا میں نہیں رہ سکتے ہمارے لئے ایک الگ دنیا ہے۔ جو ہے تو اسی دنیا کا حصہ مگر انسان اسے دیکھ نہیں سکتے. “
انابیہ خاموشی سے یہ سب کچھ سن رہی تھی پھر اس نے جبار کی طرف دیکھ کر کہا۔” آپ کے سب گھر والے انسان ہیں . “
” بالکل میرے سب گھر والے انسان ہیں. مگر میں آدھا انسان اور آدھا جن زادہ ہوں۔”
انابیہ کا حیرت سے منہ کھلا رہ گیا اس نے جبار سے اگلا سوال پوچھا.” آپ لوگ انسانوں کے ساتھ کیوں نہیں رہ سکتے آپ ان کے ساتھ شامل ہو سکتے ہیں نا. “
” آپ شہزادی کے الفاظ سنئے وہ کہتی تھی کہ انسانوں کی دنیا بہت ظالم ہے. انسان بن کر انہیں احساس ہوا کہ یہ انسان طاقت کی خاطر کچھ بھی کر سکتے ہیں. وہ چاہتی تو اپنی دنیا کو انسانوں کی دنیا میں شامل کر سکتی تھی. بس ایک دروازہ ہے جس سے ہم ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ اس دروازے کو بند کرنے والی ہماری شہزادی تھی. اسے کھولنے والے ہمارے شہزادے شہزادی ہو سکتے ہیں مگر آج تک ہم نے اس دروازے کو انسانوں کیلئے نہیں کھولا. آپ کی دنیا کے بہت سارے انسانوں نے ہمارے ہاں کے لوگوں کو بہت تکلیف پہنچائی ہے شہزادی. اسی لئے ہمارے قبیلے کی بڑی شہزادی نے اس دروازہ کبھی کھولنے کی اجازت نہیں دی تھی صرف ضرورت پڑنے پر ہم اس دنیا میں جاتے ہیں. “
” جبار ان شہزادے کا کیا ہوا تھا جنہیں آپ کی شہزادی نے جنا تھا۔”
” آپ جانتی ہیں کہ اس کے اندر ایک راز ہے کہ آپ ہمارے لئے کیوں چنی گئی. “
” کیسا راز مجھے بتائیے۔”
” مزار والے شہزادے نے ان دونوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ کبھی ان کا راز کسی کو نہیں بتائیں گے. آپ جانتی ہیں بدلے میں ہمارے ہاں سے ایک وعدہ ہوا تھا. مزار والے شہزادے کے ہاں سے ہی ہمارے ہاں کے آنے والے نشان والے شہزادے کی شادی کی جائے گی. اسی لئے ہماری نسلوں میں کئی دفعہ آپ کے خاندان سے ہی ایک لڑکی آئی ہے جس نے ہمارے شہزادے کے ساتھ حکومت کی۔ آپ جانتی ہیں کہ آپ کے والد کا خاندان ہمارا مرید کیوں تھا. “
انابیہ خاموشی سے حیرت لئے اس کی سب باتیں سن رہی تھی.” کیوں کہ ان کے آباؤ اجداد بھی ہمارے راز سے واقف تھے مگر آنے والی نسلوں کو اس راض سے ناواقف رکھا گیا۔ آپ آنے والی شہزادی بہت سالوں بعد پیدا ہوئی ہیں۔ یہ آپ کے آباواجداد کے ساتھ کیا ہوا وعدہ تھا کہ آپ ہمارے ساتھ ہیں. آپ پیدا ہی نیلا نشان لے کر ہوئی تھی مگر اس نے اپنے مخصوص وقت پر آپ کو مجھ سے ملایا. اسے آپ ہمارے لئے سزا سمجھیں یا جو بھی مگر جب تک آپ زندہ ہیں ہم بھی زندہ ہیں. جس دن ہم دونوں میں سے کوئی ایک اس دنیا سے گیا ہم دونوں زندہ نہیں رہ پائیں گے. ہمارے سبز نشان والی شہزادی نے اپنے لئے یہی سزا منتخب کی تھی یہ ان کی آنے والی نسل میں سے جو شہزادہ نشان والا ہوگا وہ اپنی شہزادی کے ساتھ ہی زندہ رہ پائے گا. ہماری شہزادی بھی اپنی شہزادے کے ساتھ ہی زندہ رہی اور اگلے آنے والی ہر شہزادی بھی اپنے شہزادے کے ساتھ ہی زندہ رہی.۔”
” مگر یہ طاقت جو میرے پاس آئی ہے یہ کیوں ہے. “
” یہ اس لیے ہے کہ ہماری شہزادی نے یہ طاقت اپنی آنے والی ہر بہو کو دی تھی. اس میں آپ بھی شامل ہیں مگر جب آپ اس کا غلط استعمال کریں گےگی تو یہ آپ پر ہی بھاری پڑے گی۔ اور ہم انسانوں کی دنیا میں نہیں بس سکتے کیوں کہ آپ کے ہاں کچھ انسان خاص ہوتے ہیں اور اگر وہ ہمیں پہچان لیں تو پھر ہمارے لوگ زندہ نہیں رہ پاتے. “
” ہمارے آنے والی اولاد———“
” میں سمجھ سکتا ہوں کہ آپ کیا پوچھنا چاہ رہی ہیں. وہ انسان ہوگی یا جن. اس بات کا تو ہمیں بھی علم نہیں. مگر ہم اتنا کہہ سکتے ہیں کہ ہماری ایک اولاد ضرور جن ذادہ یا جن ذادی ہوگی۔ میری شہزادی آپ یہ بات سمجھ لیجئے کہ میں ایک انسان ہی ہو بس ہمارے پاس کچھ خاص طاقت ہے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں. ہم آپ کو کبھی آپ کی دنیا میں جانے سے نہیں روکیں گے مگر آپ نے عہد دیا ہے آپ ہماری دنیا کا راز کسی کو نہیں بتائیں گی. “
” میں یہ دنیا کا راز نہیں بتاؤں گی اسی کو میں جانتی ہوں کہ ہمارے ہاں انسان طاقت کی خاطر کچھ بھی کر سکتے ہیں. مگر ہمارے آنے والی اولاد – – – – – “
” کیا پوچھنا چاہتی ہیں آپ ہم سے ہماری جان. “
” میں انسان ہوں اگر میں اسے پیدا نہ کر پائی تو۔”
” وہ آپ کی سوچ سے بھی زیادہ طاقتور ہوگا آپ بے فکر رہیں وہ میری اولاد ہے. چلئے آئے آپ کو سب شہزادی شہزادیوں سے ملواتا ہوں ان میں سے کچھ آپ کے آباؤ اجداد سے تعلق رکھتے ہیں. “
جبار اس کو اپنے سہارے پر آگے لے جاتا گیا اور تصویروں سے سب شہزادے شہزادیوں کے بارے میں بتاتا گیا اور انابیہ کی بات بھی جان گئی کہ یہ سو سال بعد آنے والی شہزادی ہے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: