Ishq Mein Mar Jawan Novel By Hifza Javed – Episode 26

0
عشق میں مرجاواں از حفضہ جاوید – قسط نمبر 26

–**–**–

انسہ دادی کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی ۔ان کے سر میں تیل لگا کر اس نے ان کے سر کی مالش کی۔ یہ ان لوگوں کے ساتھ بہت زیادہ ایڈج ہو چکی تھی دادی اس سے ایسی محبت کرتی تھی جیسے یہ سارہ اور انابیہ سے کرتی تھی.
” بیٹا اب تم جاؤ اور جا کر تھوڑی دیر کے لئے ریسٹ کرلو صبح سے لگی ہوئی ہو سارے گھر کے کام کرنے ۔ سچ میں تمہارے بغیر تو گھر کی ایک چیز بھی نہیں چل سکتی. “
انسہ نے اس گھر کی ہر ایک چیز سنبھال لی تھی وہ گھر کا بہت زیادہ دھیان رکھتی تھی. اب جبکہ یہ خود تخلیق کے مراحل سے گزر رہی تھی اس کے باوجود بھی یہ گھر پردھیان دیتی تھی. گھر کا ہر فرد اس سے بہت زیادہ محبت کرتا تھا کسی نے اسے محسوس ہی نہیں ہونے دیا کہ اس کی شادی کیسے ہوئی تھی۔ اس کے والد نے اس سے دوبارہ رابطہ نہیں کیا۔ اس نے بھی ان سے رابطہ نہیں کیا. تیمور کو خود کے لیے اس نے بہت زیادہ مختلف پایا ۔یہ ایسا ہی ایک شوہر چاہتی تھی جو ہائی سوسائٹی کے لڑکوں سے بالکل مختلف ہو. یہ ہائی سوسائٹی کا عالمیہ تھا کہ دھوم دھام سے شادی کرنے کے بعد بھی لڑکوں نے چھپ کر شادیاں کر رکھی ہوتی تھیں اور جب بیویوں پر یہ بات آشکار ہوتی تو انہیں بولنے کا حق بھی نہ دیا جاتا. تیمور اور مردوں سے بالکل مختلف تھا اس نے دیکھ لیا تھا کہ جیسے شجاع خان اپنی بیوی کے مرنے کے بعد بھی ان کی یاد میں زندہ ہیں ایسے ہی تیمور بھی انہی کا بیٹا ہے اس کی تربیت بھی انہوں نے بے تحاشہ خوبصورت انداز سے کی تھی۔ وہ اپنی بیوی اور اپنے بچوں کے معاملے میں بے انتہا سینسٹیو انسان تھا. نہ وہ خود زیادتی کرتا اور نہ کسی کی زیادتی برداشت کرتا. اس کے نزدیک دل میں ہر انسان کا ایک گوشہ الگ تھا ۔بیوی کی حقوق الگ تھے اور ماں باپ کے حقوق الگ. چوٹی امی ان کے پاس آکر بیٹھیں۔
” ارے انابیہ بیٹا تم صبح سے باہر بیٹھے بیٹھے تھک گئی ہوگی۔ جاؤ اپنے کمرے میں جا کر آرام کرو. عنایہ کو سارہ اپنی ساتھ کسی فنکشن پر لے کر گئی ہے۔ اس کے لیے پریشان مت ہونا ۔تم سو رہی تھی تو اسے تیار کرکے میں نے سارہ کے ساتھ بھیج دیا.”
گھر کا ہر فرد عنایہ کے ساتھ ایسے ہی بھی بےہیو کرتا جیسے وہ تیمور کی حقیقی بیٹی ہو. کسی نے آج تک دوبارہ اپنے منہ سے یہ لفظ نہ نکالا تھا کہ عنایہ کو گود لیا گیا ہے. چھوٹی امی بھی اسے بہت زیادہ محبت کرتی تھی وہ تیمور کو اپنا بیٹا مانتی تھیں اسی خاطر انسہ کو ہمیشہ انہوں نے اپنی بیٹی ہی مانا.
” امی عنایہ آپ سب کو بہت زیادہ تنگ کرتی ہے میں جانتی ہوں۔ آجکل میں اس پر زیادہ دھیان نہیں دے پاتی. ضدی ہوتی جارہی ہے تیمور نے اس کو بہت زیادہ ضدی بنا دیا ہے بات نہیں مانتی بالکل بھی. “
” بیٹا وہ بچی ہے ضد نہیں کرے گی تو اور کیا کرے گی. ویسے بھی تیمور تو اسے ایسے ہی محبت کرتا ہے جیسے اپنی بہن انابیہ سے کرتا تھا“
” امی انابیہ کب واپس آئی گی۔ میں اسے ملنا چاہتی ہوں وہ تو ہماری شادی میں بھی نہیں آئی. بابا کہہ رہے تھے کہ اس کی طرف سے اطلاع آئی ہے کہ وہ کچھ عرصے تک نہیں آ پائے گی. مجھے سارہ بتا رہی تھی کہ وہ پریگننٹ ہے. “
” ہاں بیٹا یہ سچ بات ہے. اس کے ہاں سے ان کا ملازم ہارون آیا تھا وہ یہی بتا رہا تھا کہ اس کے شوہر نے پیغام بھجوایا ہے کہ اسے سفر کرنے سے منع کیا گیا ہے جس کی وجہ سے وہ یہاں نہیں آسکتی. “
” وہ کہاں رہتی ہے آپ لوگوں نے مجھے کبھی اس کے بارے میں نہیں بتایا کہ وہ کس ملک میں ہے. “
اس بات پر چھوٹی امی اور دادی خاموش ہوگئی۔ یہ لوگ یہاں کسی کو بھی نہیں بتاتے تھے کہ انابیہ کہاں گئی ہے.” بیٹا بس وہ یہاں سے بہت زیادہ دور رہتی ہے. آنے جانے میں دو دن لگ جاتے ہیں اسی لئے کم ہی آتی ہے اور ویسے بھی اب تو اس کی طبیعت کافی خراب ہے۔ اسی لئے لالہ نے منع کردیا کہ وہ کچھ عرصے تک کے لئے نہ آئے۔”
” مگر امی وہ ایسی بھی کس جگہ پر رہتی ہے کہ جہاں سے آنا ممکن نہیں. ہمارے ہاتھ سے بھی کوئی اسے ملنے نہیں جاتا کیا آپ لوگوں سے ناراض ہیں۔ “
“بالکل بھی نہیں کس نے کہا کہ میں اپنی بہن سے ناراض ہوں میں تو انتظار کر رہا ہوں کہ وہ جلدی سے آئے اور میں اس کو بتاؤں کہ وہ پھوپھی بننے والی ہے۔”
یہ تیمور تھا جو ابھی عدالت سے واپس آیا تھا آج کی بہت اہم کیس کیلئے گیا ہوا تھا. اس نے سب کو سلام کیا اور پھر اپنی عزیزہ جان بیوی کی طرف دیکھا جو اس وقت اس کی دادی کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی. تیمور نے کبھی کسی لڑکی کا خاکہ اپنے دماغ میں نہیں بنایا تھا شادی کے بعد اسے احساس ہوا کہ اس کی بیوی بے انتہا اچھی انسان ہیں. رفتہ رفتہ اس کے ساتھوقت گزارتے ہوئے اسے احساس ہوا کہ انسہ اس کی عادت بنتی جا رہی ہے اور عادت محبت سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے. اب تو یہ ایک لمحہ بھی اسے خود سے دور نہیں کرتا تھا۔ یہ جان نہیں سکتا تھا وہ کبھی کسی لڑکی سے اتنی محبت کر سکتا ہے۔ یہ اس کی زندگی میں آنے والی چوتھی لڑکی تھی. سب سے پہلے یہ اپنی ماں سے بہت محبت کرتا تھا۔ پھر اپنی بہن سے. پھر اس نے عنایہ کو اپنی بیٹی مانا اور اس کے بعد اس کی بیوی نے ایسی جگہ اس کے دل میں بنائی کہ کوئی انسان اب دوبارہ اس کے دل میں جگہ بنا ہی نہیں سکتا تھا. اس نے انسہ کی طرف دیکھا جس کا چہرہ چمک رہا تھا ۔مامتا کا نور اس کے چہرے پر بہت خوبصورت لگتا تھا. اس کو تخلیق کے مراحل سے گزرتے ہوئے چھ ماہ ہوگئے تھے. اس نے بہت کوشش کی کہ یہ جان سکے کہ اس کے ہاں بیٹا ہے یا بیٹی ۔مگر تیمور نے یہ کہہ کر منع کردیا کہ سرپرائز اچھی چیز ہے. مگر تیمور کی بے انتہا خواہش تھی کہ ان کے ہاں بیٹی پیدا ہو۔یہ چاہتا تھا کہ یہ اپنی بیٹی کا نام انابیہ رکھیں، کیونکہ یہ اپنی بہن سے بیٹیوں کی طرح ہی محبت کرتا تھا اور اب اس کی خواہش تھی کہ اس کے ہاں دوسری بیٹی ہو. اس بات پر ہمیشہ اس کی اور انسہ کی لڑائی ہوجاتی کیونکہ وہ چاہتی تھی کہ اس کے ہاں بیٹا پیدا ہو مگر یہ ہمیشہ یہی کہہ دیتا کہ اسے بیٹی ہی چاہیے. انسہ ایک وفا شعار بیوی تھی اس نے کبھی نہ اس سے ضد کی اور نہ کبھی شکایت. اس کے باہر کے معاملات میں نہ اس نے کبھی دخلاندازی کی اور نہ پوچھا کہ آپ کی باہر کی زندگی کیسی ہے. مگر وہ اس سے یہ بات ضرور پوچھتی کہ آپ کا دن کیسا گزرا ،آپ کے ساتھ لوگ کیسے ہیں اور آپ کو میری کسی مدد کی ضرورت تو نہیں. اسے جب بھی سکون چاہیے ہوتا تو اس کی بیوی ہمیشہ اس کے پاس ہوتی. کبھی کیس پر کام کرتے ہوئے اگر یہ صوفے پر ہی سو جاتا تو انسہ کی عادت تھی کہ یہ اس کو سیدھا کرکے لٹاتی اور اس کے ساتھ ہی لیٹ جاتی یہ ہمیشہ اسے ڈانتا تھا کہ ایسا کرنے سے یہ گر سکتی ہے۔ مگر وہ ہمیشہ یہی کہتی کہ آپ کے بغیر مجھے نیند نہیں آتی. جب کبھی اسے کسی چیز کی ضرورت ہوتی تو وہ بن مانگے ہی سامنے آجاتی. ان دنوں میں تیمور کو احساس ہوا کہ عورت تو بہت نرم اور نازک چیز ہے جسے جتنا خوش رکھا جائے وہ آپ کے ساتھ اتنے ہی اچھے طریقے سے پیش آتی ہے. انسہ بہت زیادہ حساس جذبات کی مالک انسان تھی۔ یہ جانتا تھا کہ ذرا سی سختی اسے شدید نقصان پہنچا سکتی ہے ۔اس لیے آج تک اونچی آواز میں اس نے انسہ سے کبھی بات نہیں کی تھی۔
” ارے آپ آگئے میں آپ کا ہی انتظار کر رہی تھی آپ نے کہا تھا نا کے آپ آج لانچ گھر پہ کریں گے. “
” جی ہاں بلکل اور آج میں ڈنر بھی اپنی پیاری بیوی کے ساتھ ہی کروں گا۔”
وہ تو اب روز ہی کرتے ہیں . میں جانتی ہوں کے آپ کا کوئی اور پلان ہے. “
” بالکل صحیح اندازہ لگایا آپ نے ہمارے ساتھ رہتے رہتے تیز ہوتی جا رہی ہیں ہماری بیگم. آج ہم لوگ باہر ڈنر کے لیے جائیں گے۔ عنایہ کو آج ہم تھوڑی دیر کیلئے گھر والوں کے پاس چھوڑ کر جائیں گے. “
” آپ جانتے ہیں نہ آپ کی بیٹی بہت تیز ہے اسے معلوم ہوگیا تو واویلا مچا دی گئی کے مجھے اکیلا چھوڑ گئے ہیں. “
” یار اس کو بھی لے کر جائیں گے۔ اس کا وقت الگ ہوتا ہے اور ہمارا وقت الگ ہوتا ہے کیوں دادی صاحب. بچوں کے لئے الگ وقت ہوتا ہے نہ اور بیوی کے لئے الگ. “
” ہائے ہائے اب ایسی باتیں مجھ بوڑھی سے پوچھے گا ت۔و شرم نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی تجھ میں. میرا پوتا میں تو سوچ نہیں سکتی تھی اتنا بےشرم واقع ہوگا ہر وقت بچی کو تنگ کرتا رہتا ہے۔”
انہوں نے انسہ کو ساتھ لگایا تو انسہ نے ہنس کر تیمور کو انگوٹھا دکھایا جس پر ساتھ بیٹھی ہوئی چھوٹی امی بھی ہنسنا شروع ہوگی.
” آنا تو کمرے میں ہی ہے نہ بیگم پھر دیکھئے گا. “
تیمور نے اٹھ کر جاتے ہوئے اسے سرگوشی میں کہا. انسہ بھی ہنسنا شروع ہوگی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ یہ بھی اس کا محبت جتانے کا ایک طریقہ ہے.
_________________________________
نیا کو سلانے کے بعد اندھا کمرے میں آ گئی تھی. رات کے ساڑھے سات بج رہے تھے مرنے ابھی ابھی لیپ ٹاپ ٹیبل پر رکھا تھا اور یہ سونے کی تیاری کر رہا تھا. انسہ نے دودھ کا گلاس ٹیبل پر رکھا اور واش روم میں چلی گئی. یہ واپس آئی تو اس کی آنکھوں سے تھکن صاف واضح ہورہی تھی ۔ڈنر کے بعد یہ لوگ جلدی ہی گھر آگئے تھے کیونکہ انسہ کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی تھی اسی لیے تیمور اسے جلدی ہی گھر لے آیا تھا.
” یہاں آؤ میری جان کیا تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں آنکھیں کتنی زیادہ سوجی ہوئی ہیں. “
” کچھ نہیں آج بس نیند نہیں آرہی۔ نیند پوری نہیں ہوئی. “
” اسی لئے کہتا ہوں نہ کے سارا سارا دن کام مت کیا کرو۔ کون کہتا ہے تمہیں کام کرنے کو گھر میں ہزار نوکر ہیں۔”
” نوکر اور مالک میں بہت زیادہ فرق ہوتا ہے تیمور ۔جو کا ممالک کےکرنے والا ہوتا ہے وہ نوکر کو نہیں کرنا چاہیے. “
تیمور نے اسے اپنے ساتھ بیڈ پر بٹھایا اور اپنے حصار میں لیا.” تم یاد کر رہی ہو نا کسی کو مجھے تمہاری آنکھیں دیکھ کر یہ پتا چل گیا ہے۔ مجھے بتاؤ میری جان کسے یاد کر رہی ہو. “
” پتہ نہیں کیوں مگر آج میرا دل اپنے والد کے لئے بہت زیادہ گھبرا رہا ہے۔ دل کر رہا ہے کہ میں ان سے ملوں جاکر. “
” تو میری جان روکا کس نے ہے۔ تم مجھے بتاتی میں تمہیں آج ہی ان سے ملوانے لے جاتا. “
” تیمور میں ان سے کیسے ملوں۔ اب جب میں اس گھر میں رہنا شروع ہوئی ہو تو مجھے معلوم ہوا ہے کہ انسانی رشتے کتنے اہم ہوتے ہیں. ہمارے والد نے ہمیں کبھی محبت نہیں دی ان کے نزدیک صرف پیسہ ہی سب کچھ تھا۔ جب ماں کو پتہ چلا کہ انہوں نے دوسری شادی کر رکھی ہے تو اس وقت انہیں جتنی تکلیف ہوئی وہ میں بیان نہیں کر سکتی. عورت اپنی زندگی میں سب کچھ برداشت کر سکتی ہے مگر شراکت داری اس کے لئے ایک ایسے زہر کی مانند ہے جو اسے کھا جاتا ہے. اوپر سے ظلم یہ بھی تھا کہ انہیں اس بات کو بولنے کا حق ہی نہیں دیا ۔نہ شکایت کرنے حق کہ ان کا حق روز ان کی سوتن کھاتی ہے.”
” سب کو بھول جائو۔ تمہیں صرف اتنا یاد رکھنا ہے کہ تمہارا تعلق اس گھر سے ہے. اب تو ہمارے ہاں ایک ننھا مہمان آئے گا تم بالکل بھول جاؤ گی اپنی پرانی زندگی. “
” پرانی زندگی کو اپنے دماغ سے کھرچ کر پھینکنا بہت مشکل ہے. میں جب بھی آگے بڑھنے کی کوشش کرتی ہوں تو مجھے میری ماں یاد آ جاتی ہے. راتوں دروازے پر کھڑی ہو کر انتظار کرنے والی. وہ بہت عرصے بعد واپس آیا کرتے تھے تو وہ ان کے پیچھے پھرا کرتی تھی کہ وہ انہیں اہمیت دیں. اب ایک نظر محبت کی ان پر نہیں ڈالی۔ مجھے آج بھی یاد آتا ہے وہ ہم سے چھپ کر رات تو رویا کرتی تھی. “
انسہ کی زندگی کا یہ بہت بڑا حصہ تھا اور تیمور نے بہت کوشش کی تھی کہ وہ اس کی زندگی کا یہ حصہ ختم کر پائے” ہم جانتے ہیں کہ ہم پیچھے کے وقت کو کبھی تبدیل نہیں کرسکتے. مگر ہم اتنا تو کر سکتے ہیں نہ کہ ہم اپنے آنے والے وقت کو سوار سکیں. ہماری ایک زندگی ہے ہماری ایک بیٹی ہے. ہمارا ایک گھر ہے ہم نے یہ کوشش کرنی ہے کہ کبھی ہمارا گھر ایسا نہ بنے کہ کل ہماری اولاد کسی کو یہ کہانی سنائے کہ میرے گھر میں میرے ماں باپ کا رویہ ایک دوسرے کے ساتھ ایسا تھا. “
تیمور نے اس کے آنسو اپنے ہونٹوں سے چنے۔” آنسووں کی قیمت بے مول ہوتی ہے انہیں ایسے ضائع نہیں کرنا چاہیے. “. انسہ نے اپنا سر اس کے فراق سینے پر ٹکایا۔
” آپ ایک بہت زیادہ اچھے انسان ہیں تیمور۔ آپ سے مل کر مجھے اس بات کا اندازہ ہوا کہ مرد بھی ایک عورت کے ساتھ وفا کر سکتا ہے. “
” ضروری نہیں کہ ہم جس ماحول میں رہتے ہو وہاں جو چیز دیکھی ہو وہی ہمیں مستقبل میں بھی ملے. مرد ہمیشہ وفا شعار ہوتا ہے وہ بہت سارے رشتے نبھاتا ہے کبھی باپ بن کر کبھی بھائی تو کبھی بیٹا. بس حالات ہمیں مجبور کر دیتے ہیں یا کبھی گمراہی ہمارے راستے میں یاد آتی ہے. اور جس انسان کے پاس تم جیسا ساتھی ہو ساتھ ہوگا وہ کبھی گمراہ نہیں ہوگا. “
انسہ نے چہرہ اٹھا کر اسے ہنستی آنکھوں سے دیکھا وہ سمجھ گیا تھا کہ انسہ کو اس کی یہ بات بہت زیادہ پسند آئی ہے. اسی لمحہ دروازہ کھلا اور ان کی بیٹی اندر داخل ہوئی جو اس وقت آفت کا پرکالہ لگ رہی تھی. انسہ ایسے ہی تیمور کے سینے سے لگی رہی.” ماما آپ مجھے چھوڑ کر یہاں بابا کے پاس آ گئی. “
” تمہیں بالکل بھی چین نہیں میری بیٹی مجھے تو لگتا ہے کہ میرے بچے ہی مجھے کمرے سے باہر کردیں گے چلو آؤ تم بھی میرے پاس آ جاؤ. “
عنایہ نے باپ کی بات سنی تواس چلتی ہوئی بیڈ پر آئی.” میری پیاری شہزادی آپ کو معلوم ہے نہ کہ آپ کا بہن بھائی آنے والا ہے“
”جی بابا وہ ماما کے ٹمی میں ہے۔”
انسہ نے تیمور کو آنکھیں دیکھائی کیونکہ وہ ہی اس کع ایسی باتیں سیکھاتا تھا۔
“”اس لیئے ماما کو تنگ مت کیا کرو ۔”
“سوری بابا میں اب ماما کو بلکل تنگ نہیں کروں گی۔”
یہ تیمور کے بازو کے حلقے میں تھی۔ایک طرف انسہ اور دوسری طرف عنایہ۔یہ تیمور کی مکمل فیملی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: