Ishq Mein Mar Jawan Novel By Hifza Javed – Episode 27

0
عشق میں مرجاواں از حفضہ جاوید – قسط نمبر 27

–**–**–

انابیہ ملکہ اور سردار کے ساتھ محل سے باہر آئی ہوئی تھی۔۔ جبار کو محل سے گئے ہوئے برے تین دن ہو گئے تھے یہ اپنی لالہ کے ساتھ کسی ضروری کام سے دوسرے شہر گیا ہوا تھا . دوسرے قبیلے سے انہوں نے کوئی بات کرنی تھی جس کی بدولت یہ انابیہ سے تین دن سے نہیں ملا تھا اور ان تین دن میں انابیہ نے اسے جتنا یاد کیا شاید ہی کبھی کیا ہو۔
” بچی تمہیں زیادہ پریشان کیوں ہو کیا کچھ ہوا ہے. “
سردار نے اسے پریشان دیکھ کر سوال پوچھا تو اس نے نہ میں سر ہلایا.” پھر کیا ہوا ہے ہمارے بچے کو۔ طبیعت تو خراب نہیں ہے نا ہم گھر بھجوا دیتے ہیں اگر آپ یہاں بیٹھ نہیں سکتے ہمارے ساتھ تو. “
” نہیں بابا ایسا کچھ نہیں ہے بس ویسے ہی دل کر رہا تھا کہ تھوڑی دیر کے لئے جبار آجائیں. “
ملکہ اس کی بات سن کر ہنسنا شروع ہو گئی وہ سمجھ گئی تھی کہ اسے جبار کی یاد آ رہی ہے.
” پھر آپ اسے پیغام بھجوا دو نہ میرا بچہ وہ فورا آجائے گا. “
” والدہ ہم نے ان کو پیغام بھجوایا تھا مگر انہوں نے ہمیں آگے سے پیغام بھیجا ہے کہ کوئی بہت زیادہ ضروری کام ہے جسے پورا کر کے ہی آئیں گے ہیں ۔وہ کہہ رہے تھے کہ جب گھر واپس آئیں گے تو پورا ہفتہ وہ کوئی کام نہیں کریں گے آرام سے ہمارے پاس ہی رہیں گے“
” ہاں ملکہ عثمان کہہ رہا تھا جبار نے مجھ سے ایک ہفتہ تمام کاموں سے چھٹی مانگی ہے وہ چاہتا ہے کہ وہ تھوڑا سا عرصہ انابیہ کے ساتھ گزارے. “
سردار نے اپنی بیوی کی طرف دیکھ کر مطلع کیا. ” یہ تو بہت اچھی بات ہے کہ وہ کچھ عرصہ انابیہ کو وقت دینا چاہ رہا ہے جب سے وہ لوگ جنگ سے واپس آئے ہیں بہت سے ایسے امور ہیں جن کو نمٹانے کے لئے انہیں بہت دفعہ گھر سے جانا پڑا ہے. “
” بس کیا کریں ملکہ ذمہ داری ہی کچھ ایسی ہی۔ ہمارے دونوں بیٹے بہت قابل ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ وہ بہت اچھے سے اپنے لوگوں کی ہر ضرورت پوری کریں گے.”
” بابا اور والدہ کیا ہم تھوڑی دیر کے لئے لوگوں کے بیچ چلے جائیں۔”
” کیوں نہیں آپ جائیے ہم غوری کو بھیج دیتے ہیں وہ آپ کے ساتھ ہی رہے گا. “
انہوں نے حکم دیا تو غوری فورا ہی حاضر ہوگیا ۔وہ اپنی شیر والی حالت میں تھا جس کو بدل کر وہ انسان والے روپ میں آیا. انابیہ بڑے سخت سے اٹھی اور اس کے ساتھ چلتے ہوئے اپنے لوگوں کی گلیوں میں سے گزرنا شروع ہوگئی۔ جہاں لوگ کھڑے ہو کر اسے سلام کرتے اور یہ انہیں دیکھ کر مسکراتی ۔ایک وقت تھا کہ جب یہ اس دنیا میں آئی تھی تو یہاں کے لوگوں سے اسے وحشت ہوتی تھی۔ اسے آج تک وہ رات نہیں بھولی تھی جس میں جبار اسے ان لوگوں کے درمیان لایا تھا . اس دن انابیہ کو ان لوگوں سے بے انتہا وحشت ہوئی تھی اور انابیہ نے بار بار جبار کو یہی بات کہی تھی کہ اس نے واپس جانا ہے . اس دن جبار نے یہی بات کہی تھی کہ جن لوگوں سے ابھی آپ نفرت کر رہی ہیں ایک وقت آئے گا آپ انہیں لوگوں سے محبت بھی کرنے لگ جائیں گے اور مجھے یقین ہے کہ آپ بہت جلد اپنے لوگوں کے ساتھ عام انسانوں والا رویہ اختیار کرلیں گی۔ ابھی آپ اپنے لوگوں سے ڈر ہی ہیں مگر جب آپ ان کی اچھائی جانیں کی تو یہ آپ کو اپنوں سے بھی بڑھ کر لگیں گے. انابیہ کو یہ بات سچ لگ رہی تھی۔ یہ جیسے جیسے لوگوں کے قریب جارہی تھی ایسے اسے پتہ چل رہا تھا کہ یہ لوگ کتنے مخلص ہیں ۔اپنا گھر بار چھوڑ کر چھوڑ کر یہ صرف اور صرف اس کے لئے جنگ لڑنے گئے تھے. اگر کبھی انابیہ کو ان کی ضرورت پڑتی تو یہ اس کی ایک آواز پر دوڑے چلے آتے. انہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ ان کی ملکہ ایک جن ذادی ہے یا انسان.
” غوری مجھے یہاں پر ایک سمندر ہے وہاں جانا ہے. تم جانتے ہو ہمارے گھر کے سامنے جو سمندر ہے وہ یہاں تک پھیلا ہوا ہے مجھے وہ دیکھنا ہے کہ اس کی حد کتنی ہے. “
” میری پیاری شہزادی آپ کا حکم ہے تو ہم آپ کو لے جاتے ہیں مگر شہزاد نے منع کیا ہوا ہے کہ آپ کو ایسی کسی جگہ پر نہیں لے کر جانا جہاں پر آپ کو خطرہ ہو“
غوری کی بات پر انابیہ کو غصہ آیا اور اس کی آنکھوں نے رنگ بدل لیا غوری فورا پیچھے ہو گیا.” تم لوگوں کو کتنی مرتبہ سمجھانا پڑے گا کہ میں اپنی حفاظت خود کر سکتی ہوں نیلی شہزادی کو کسی کی حفاظت کی ضرورت نہیں وہ اتنی طاقت رکھتی ہیں کہ تم جیسے سو لوگوں کو مات دے دیں۔ اور اگر شہزادے کے حکم کی بات ہے تو تمہیں اس بات کا علم ہونا چاہئے کہ جو ان کا حکم ہے وہی میرا حکم ہوتا ہے. اور اس طریقے سے اگر میں تمہیں کوئی حکم دوں تو وہ مانابی تم پر اتنا ہی لازم ہے جتنا شہزادے کا حکم ماننا. “
” میری شہزادی آپ جانتی ہیں نہ کہ ہمیں اپنے شہزادے کے آگے جواب دہ ہونا ہوتا ہے آپ اگر حکم دیں گی تو ہم مان لیں گے مگر شہزاد نے جب واپس آئیں گے تو ہمیں سخت سزا ملے گی. “
” تمہیں اس بات کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہم نے تمہیں جو حکم دیا ہے اس کی تعمیل کرو. ہمارا دل کر رہا ہے کہ ہم اس وقت سمندر کے پاس جائیں. “
” ٹھیک ہے میری شہزادی جیسا آپ کا حکم میں آپ کا گھوڑا لے آتا ہوں. “
” رہنے دو میرا پیارا گھوڑا خود چل کر آئے گا. “
انابیہ نے اپنے ہاتھ کو آگے کیا جس سے روشنی نکلی اور تھوڑی دیر بعد ہی اس کا گھوڑا چلتا ہوا اس کے پاس آکر کھڑا ہوں.
” دیکھا میں نے کہا تھا نہ تھوڑی دیر میں آجائے گا. “یہ کہتے ہیں انابیہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئی. جب سے اس کے اندر نیلی شہزادی کی طاقت آ گئی تھی یہ گھوڑا اتنا تیز دوڑآتی تھی کہ جبار کو ڈر لگتا تھا یہ گر نہ جائے. شہزادی اتنی تیز تلوار بازی کرتی تھی کوئی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا حتہ کہ جبار کو بھی اس کا مقابلہ کرنے کے لئے خود کو تیار کرنا پڑتا تھا. جبار جب بھی گھوڑ سواری کے لئے نکلتا تو جبار خاموشی سے جاتا کہ انابیہ کو معلوم نہ ہو کیوں کہ اگر اسے علم پڑ جاتا تو یہ ساتھ چل پڑتی. جبار جب سے جنگ سے واپس آیا تھا انابیہ بہت زیادہ سینسٹیو ہوگئی تھی وہ ہر بات بات پر اسے تنگ کرتی تھی.
اس وقت یہ سمندر کے اردگرد گھوم رہی تھی اس نے اپنے پیروں سے جوتا اتار رکھا تھا جبکہ یہاں سردی بدستور قائم تھی اس کے باوجود اسے اپنا خیال نہیں تھا یہ بہت مزے سے گیلی مٹی پر چل رہی تھی. اگر جبار اسے دیکھ لیتا تو کئی دنوں تک اس کا کمرے سے نکلنا ہی بند کر دیتا.
” کتنی عجیب ہے نہ زندگی ہمیں یہاں اس دنیا میں آئے ہوئے پورے سات ماہ ہو چکے ہیں جس دن ہم اس دنیا میں آئے تھے اس دن ہمیں لگا تھا کہ ہم شاید اپنی دنیا کو بھول جائیں گے۔ مگر ہم اپنی دنیا کو کبھی نہیں بھولیں گے. وہ بھولنے والی دنیا ہی نہیں مگر یہاں بھی لوگ بہت زیادہ اچھے ہیں. جبار کو ہم نے اس لئے اپنایا ہے کہ وہ انسان بھی ہیں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ بہت زیادہ اچھے اور مخلص انسان ہیں. میں نے اب اس بات کو قبول کر لیا ہے کہ ان کے پاس بہت ساری طاقت ہے جسے وہ اچھائی کے لئے استعمال کرتے ہیں. کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک خواب ہے اور جب میں جاگوں کی تو یہ سب کچھ ختم ہوجائے گا۔ مگر دن بدن مجھے اس بات کا احساس ہوتا جا رہا ہے کہ یہ خواب نہیں بلکہ حقیقت ہے اور مجھے اسی حقیقت میں جینا ہے ۔یہ انسان کا المیہ ہے کہ وہ حقیقت میں جی نہیں سکتا اگر وہ جلد ہی حقیقت کو اپنا لے تو بہت سے مسائل حل ہو جاتے ہیں. “
سورج آہستہ آہستہ غروب ہو رہا تھا ۔انابیہ کو یہاں آئے کافی دیر ہوگئی تھی۔ اس کے باوجود اس کا یہاں سے جانے کا دل نہیں کر رہا تھا.” گھر میں سب کیسے ہوں گے۔ ہارون نے بتایا تھا کہ بھیا نے شادی کرلی ہے کیا وہ لوگ مجھے یاد کرتے ہونگے. مجھے ابھی بھی یاد ہے والدہ کہا کرتی تھیں کہ ہم تمہاری شادی جلدی نہیں کریں گے تو تم ہمارے پاس ہی رہو گی. بابا کیسے میرے بغیر رہتے ہو ں گے۔”
یہ سوچ ہی رہی تھی کہ اسے اڑنے کی آواز آئی. یہ یہاں جب سے آئی تھی اسے یہ آواز جانی پہچانی لگنا شروع ہو گئی تھی کیونکہ یہاں بہت سے لوگ پر رکھتے تھے اور اڑتے تھے. کبھی کبھار یہ ملکہ کے ساتھ بیٹھ کر ہنسا کرتی تھی کہ ان سب لوگوں کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ یہ کسی افسانوی دنیا میں ہے یا کوئی مووی دیکھ رہی ہے.
” آپ نے ہمارا حکم نہیں مانا اور اپنا خیال نہیں رکھا. “
جانی پہچانی آواز پر یہ پیچھے مڑی تو جبار اس کے سامنے کھڑا تھا اپنے پر پھیلائے اپنی پوری وضاحت کے ساتھ. اسے دیکھتے ہی انابیہ کی آنکھوں نے رنگ بدلا اور یہ اسے سے منہ پھیر گئی.” آپ غصہ ہیں ہم سے ہم جانتے ہیں ہم نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ جلدی واپس آجائیں گے. زیادہ ہی دیر ہوگئی ہے لگتا ہے. “
” زیادہ دیر نہیں ہوئی بس اتنی سی بات ہے کہ آپ کو اپنی بیوی کا خیال نہیں ہے. آپ کو اس بات کا علم نہیں کہ آپ پیچھے کسی انسان کو چھوڑ کر گئے ہیں جس کا خیال رکھنا آپ کا فرض ہے. “
” کام سے گئے تھے اور یقین جانیے لالہ ابھی تک وہیں پر ہیں لیکن ہم انہیں چھوڑ کر آگئے ہیں صرف آپ کی وجہ سے. “
انابیہ نے غصے سے اپنے اوپر کی ہوئی سفید چادر کو اپنے اوپر اور زیادہ پھیلایا.” اچھا غصہ مت کریں نہ ہمارے پاس آجائے اتنے دن ہو گئے ہیں ہم نے آپ کو محسوس نہیں کیا“
” ہم کیوں آئیں آپ ہمیشہ ایسا ہی کرتے ہیں ہمیں چھوڑ جاتے ہیں اور پھر کتنے دنوں بعد آتے ہیں. ہماری دنیا میں شوہر ایسے بیویوں کو چھوڑ کر نہیں جایا کرتے. “
” وہ بیویاں تو بھی تو صرف انسان کی بیویاں ہوتی ہیں۔ آپ تو ایسے انسان کی بیوی ہیں جس پر دہری ذمہ داریاں ہیں. “
جبار آہستہ آہستہ چلتا ہوا اس کی طرف آنے لگا جب کہ یہ غصے سے پیچھے ہو رہی تھی. اس کی آنکھوں میں شدید غصہ تھا اور جبار جانتا تھا کہ اس کا اگلا رد عمل کیا ہونے والا ہے. اس نے اپنے نشان سے اس کی طرف روشنی پھینکی جسے دیکھتے ہی جبار سائیڈ پر ہو گیا۔ کیونکہ اسے معلوم ہوگیا تھا کہ غصے میں انابیہ ہمیشہ ہی ایسا کرتی ہے. جبار نے اس کی طرف دیکھ کر ہنس کر کندھے اچکائے کے دیکھ لیں آپ کا وار جوک گیا۔ عناب ہنستی ہوئی اس کی طرف بھاگی اور پیچھے پانی کی لہر کی طرف اشارہ کیا جس سے زوردار نہ جبار کی طرف آئی اور یہ نیچے کی طرف گیا مگر پیچھے کی طرف. عناب ہنستے ہوئے اس کی طرف آئی اور اسے نیچے گرے ہوئے دیکھا.
جبار نیچے کچی مٹی پر بیٹھے ہوئے اسے دیکھ کر ہنس رہا تھا وہ جانتا تھا کہ ابھی بہت دیر تک اپنا غصہ نکالنے گی اوراس لمحے شاعری اسے زخمی بھی کردے مگر اسے کوئی پروا نہیں تھی وہ جانتا تھا کہ جس حالت حالت میں یہ ہے اسے سب سے زیادہ ضرورت جبار کی ہے مگر جبار پر اور بھی بہت سی ذمہ داریاں تھی جیسے اسے لازمی پورا کرنا تھا اسی خاطر کبھی کبھی اسے ان ابا کو چھوڑ کر جانا پڑتا.
” آپ مجھے کبھی ہرا نہیں سکتے شہزادے یہ جان لیں. اگر میں ہوں تو آپ کی طاقت ہے ہم دونوں ہی ایک دوسرے کی طاقت ہے ورنہ ہم دونوں کچھ نہیں. “یہ کہتے ہی انابیہ نیچے بیٹھ گئی ۔جبار نے اپنے پر اس کے نیچے رکھے کہ اے اسے گیلی مٹی گیلا نہ کر جائے یا اس کے کپڑے گندے نہ ہو جبار کے کاروں نے اسے پورے طریقے سے ڈھانپ لیا تھا.یہ لیٹ گئی اور جبار کے سینے سے لگ گئی۔جبار نے پر اردگرد پھیلا دہئے۔یہ دونوں سب سے چھپ گئے تھے۔
“جبار میں نے اور بے بی نے آپ کو بہت مس کیا۔میں اکثر بہت زیادہ ڈر جاتی ہوں ۔مجھے تمہاری ضرورت ہوتی ہے ۔مجھے تمہارے سینے پر سر رکھ کر سونے کی عادت ہے۔میرے بچے کو تم بہت یاد آتے ہو۔مجھے بہت بے چینی تھی۔”
انابیہ اس کے سینے سے لگی رونے لگ گئی تھی۔
“میری جان میرا جہان آپ ایسے کیوں رو رہی ہیں ۔ہم نے آپ کو بتایا تھا نہ کہ ہم دونوں پر بہت سی زمہ داریاں ہیں ۔انابیہ آپ کو سمجھنا چاہیے کہ آپ ہمارے لیئے کتنی اہم ہیں۔اگر آپ ایسا کریں گی انابیہ تو ہمارا کیا ہوگا۔”
انابیہ کی طرف دیکھتے ہوئے یہ اس کے چمکتے ہوئے چہرے پر جھکا۔انابیہ کے خوبصورت چہرے پر جا بجا اپنے پیار کی مہر ثبت کرنے کے بعد اس کی نظر اس کے ہونٹوں پر پڑی۔یہ ان پر جھکا۔اس کے لمس میں شدد تھی۔انابیہ نے اس کے کرتے کو سختی سے تھاما ہوا تھا۔یہ انابیہ سے دور ہوا تو اس کے چہرے پر حیا کے رنگ دیکھ کر اس کے دل میں ہلچل مچ گئی۔اس نے انابیہ کو شدد سے خود میں سمویا۔اس می نظر انابیہ کے سراپے کی طرف پڑی ۔انابیہ کا سراپا اب بھاری ہوگیا تھا۔جبار بے اختیار جھکا اور اپنے ہونٹوں کا لمس اس کے ماتھے پر چھوڑا۔”میرا بچا وہ ٹھیک ہے نہ۔جبار نے جھک کر انابیہ کے پیٹ پر ہاتھ رکھا اور پھر چوما۔”آپ کا بچہ بلکل ٹھیک ہے ۔جبار مجھے لگتا ہے وہ آپ جیسا ہی ہوگا۔”
جبار اس کی بات پر ہنسا اور اسے سینے سے لگاتے ہوئے بولا۔”وہ جیسا بھی ہو بس اچھا ہو۔ہمارے بچے نے ہماری زندگی مکمل کر دی ہے۔”
جبار اسے لیئے اٹھا۔جبار کے پروں کو ہاتھ لگاتے ہوئے انابیہ نے فرمائش کی۔” مجھے آپ کے ساتھ آج واپس نہ آنا اڑ کر ہی جانا ہے“
” آپ کی حالت نہیں کہ آپ ایسے گزر جائیں. “
” کیا آپ کو شک ہے آپ ہمیں گرا دیں گے“
” بالکل بھی نہیں چلی آئی ہے پھر ہم آپ کو لے کر جاتے ہیں. “
جبار میں اسے اٹھایا اور اپنے پر اس کے اردگرد پھیلائے اور وہ اڑ گیا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: