Ishq Mein Mar Jawan Novel By Hifza Javed – Episode 28

0
عشق میں مرجاواں از حفضہ جاوید – قسط نمبر 28

–**–**–

انابیہ ملکہ کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی جب تاج بھاگتی ہوئی آئی اس کی سانس پھولی ہوئی تھی جبکہ پورے محل میں ایک شور سا برپا ہوا تھا.
” کیا ہو گیا ہے تمہیں تو میں اتنی تیزی سے کیوں آ رہی ہوں سب ٹھیک تو ہے نہ“
” بی بی صاحبہ محل کے سب دروازے کھل چکے ہیں اور باہر دیکھیں تو ہر طرف روشنی سبز ہوچکی ہے۔”
” ملکہ اس کی بات سن کر فورا اٹھ گئی کیونکہ محل میں ہر طرف شور برپا ہوا تھا ان کا رخ سیڑھیوں کی طرف سارا جہاں سے یہ نیلے محل کی حصے کی طرف گئی.محل کے کسی سے اوپر سبز محل شروع ہوتا تھا جہاں کے دروازے کھل چکے تھے اور نیلی روشنی آنا شروع ہوگئی تھی ملکہ سمجھ گئی تھی کہ ان کے خاندان میں سبز شہزادہ یا سبز شہزادی آنے والی ہے۔ ابھی یہ یہاں کھڑی تھی کہ تاج دوبارہ آئی اور ان کے گوش گزار کیا۔”بی بی صاحبہ چلیں ہماری شہزادی کی طبیعت خراب ہوچکی ہے وقت آچکا ہے سبز شہزادے کے اس دنیا میں آنے کا۔”
ملکہ اس کی بات سن کر فوراً نیچے کی طرف گئی جہاں پر انابیہ بیٹھی ہوئی تھی اور دادی جان اس کے ساتھ ہی تھی.
” نوکروں کو بھیجو فورا سے جبار شہزادے کو بلائیں۔”
سردارنی نے حکم دیا تو نوکر بھاگنا شروع ہوگئے۔اس لمحےمحل میں افراتفری مچی ہوئی تھی اور انابیہ کا چہرہ ذرد پڑا ہوا تھا ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ گر جائے گی۔
تھوڑی سی دیر میں جبار آگیا تھا اس نے آتے ہی انابیہ کو اٹھایا اور اپنے کمرے کی طرف چلا گیا تھا۔ اس کے پیچھے گوہر بھاگی اور ملکہ بھی ان کے ساتھ ہی تھی جبکہ محل کے تمام لوگ دروازے کے پاس کھڑے ہوئے انتظار کر رہے تھے کہ کب انہیں اس بات کی خوشخبری ملے کہ پورے چار سو سال بعد ان کے ہاں سبز شہزادے یا شہزادی کی پیدائش ہوگی۔
جبار نے درد سے ٹرپتی ہوئی انابیہ کا ہاتھ تھاما ہوا تھا۔انابیہ کی حالت اس وقت بے تحاشہ خراب تھی اور جبار کے دل کی دھڑکن بھی بے تحاشا تیز تھی اسے اسی بات کا ڈر تھا کہ کہیں انابیہ کو کچھ ہونا جائے۔
صبر آزما انتظار کے بعد انہیں اس بات کی خوش خبری ملی کہ ان کے ہاں آنے والا شہزادہ سبز ہے اور وہ پورے چار سو سال بعد پیدا ہوا ہے۔ ان کے پورے محل میں گھڑیال کی آواز بجنا شروع ہوگئی جبکہ سردار جو باہر کھڑے تھے انہوں نے عثمان شہزادے کی طرف دیکھا اور ایک ہی بات کہی.” شہزادے کی ملکہ پیدا ہوچکی ہے. وہ بھی اسی کی طرح سبز شہزادی ہے مگر وہ مکمل انسان ہے اس کے پاس کوئی طاقت نہیں اور اسے اس بات کا علم بھی نہیں. اس دفعہ وہ مختلف خاندان سے پیدا ہوئی ہے. ہم نہ تو اس خاندان کو جانتے ہیں اور نہ ہم نے کبھی اس کو دیکھا ہے۔ مگر وہ اپنے شہزادے کے ساتھ ہی اس دنیا میں آئی ہے.”
جبار کمرے سے باہر نکلا تو اس کے ہاتھ میں خوبصورت بچہ تھا جس کی آنکھیں ہیزل گرین رنگ کی تھی۔ سردار فورا اس کی طرف آئے جبکہ دادی صاحب نے اسے دیکھتے ہی پہچان لیا کہ یہ بہت زیادہ طاقتور بچہ ہے آج تک اس پورے قبیلے میں اس سے زیادہ طاقت والا کوئی نہیں تھا۔
جبار اپنے بیٹے کو دیکھ رہا تھا جب اس کے ماتھے پر ہاتھ لگانے کے بعد اسے احساس ہوا کہ اس کے پاس کیا طاقت ہے. اس لمحے جبار بہت زیادہ ہنسا کیونکہ اس نے مستقبل دیکھ لیا تھا کہ اس کے ملکہ کیسی ہوگی۔
” لاو اسے ہمیں دو کتنا خوبصورت ہے یہ۔”
سردار نے اس سے فورا شہزادہ لیا اور اس کے ماتھے پر پیار دیا شہزادے نے اپنی آنکھیں کھولی تو اس کی آنکھوں میں ایک خوبصورت قسم کی چمک تھی۔ اس کو دیکھتے ہی سردار مسکرانا شروع ہوگئے اور جبار کو کہا۔” تم جانتے ہو یہ گھڑیال بج گئے ہیں تمہارے بیٹے کے ساتھ ہی اس کی ملکہ پیدا ہوئی ہے ایک ہی وقت میں۔”
” میں جان چکا ہوں بابا جان اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ اس وقت کہاں پر ہے مگر میں کبھی بھی وقت سے پہلے اس کے پاس جا نہیں پاؤں گا. میرے بیٹے کو اسے خود تلاش کرنا ہے ان دونوں کی منزل ایک ہے مگر ان کی تلاش بہت لمبی ہے وہ لڑکی بہت زیادہ مشکلات کے بعد اس تک پہنچے گی اور یہ بہت زیادہ مشکل کے بعد اس کو تلاش کر پائے گا۔”
جبار نے اپنی بیٹے کے گال سہلائے جو اپنے باپ کو دیکھتے ہی رونا شروع ہوگیا جیسے یہ حرکت دو کو پسند نہ آئی ہو۔
” جاؤ جبار تمہارے لوگ محل کے باہر انتظار کر رہے ہیں انہیں بھی اپنا شہزادہ دیکھنا ہے۔”
سردار نے جب ان کو کہا تو یہ واپس کمرے کی طرف گیا جہاں پر انابیہ اب آرام سے لیٹی ہوئی تھی
” ہم اپنے شہزادے کو لوگوں کے سامنے لے کر جا رہے ہیں. آپ کو بھی اپنا فرض نبھانا ہے اور اپنے لوگوں کو دکھانا ہے کہ آپ ٹھیک ہیں۔ تھوڑی دیر کے لئے آپ کو میرے ساتھ محل کی بالکنی میں آنا ہوگا ہمیں کھڑے ہو کر لوگوں کو اپنا بیٹا دکھانا ہے. “
انابیہ جو اپنے بیٹے کی پیدائش کی وجہ سے بہت زیادہ کمزور حالت میں تھی اس کی بات سن کر ہنسنا شروع ہوگئی اور اپنے ہاتھ آگے کیے کہ جبار اسے اٹھا لے۔ جبار نے اپنا بیٹا اس کی گود میں دیا اور اسے اپنی باہوں میں اٹھایا. تاج فورا ان کی طرف آئی اور انابیہ کے اوپر مکمل طور پر کمبل دے دیا جس سے یہ چھپ گئی۔ انابیہ نے اپنے آپ کو ڈوپتے سے ڈھکا جسے ہمیشہ یہ خود کو ڈھکتی تھی. جبار اسے لیے محل کی بڑی بالکونی کی طرف آیا ان کے پیچھے سردار عثمان شہزادے ملکہ داری جان اور گوہر تھی.سب کے چہرے پر بے تحاشا خوشی تھی جبکہ انابیہ کو اس وقت تکلیف دی تھی مگر وہ یہ لمحہ گوا نہیں چاہتی تھی وہ چاہتی تھی کہ اپنے لوگوں کے ساتھ یہ لمحہ جیئے کیونکہ ان کے لوگوں کو بہت زیادہ انتظار تھا کہ محل میں کب خوشی آئے گی۔
جبار نے انابیہ کو اوپر کیا تو لوگوں میں ہر طرف شور پڑگیا کیونکہ انابیہ اس وقت بالکل ٹھیک تھی اور سب کو اعتبار ہو گیا ان کی شہزادی بالکل ٹھیک ہیں۔ انابیہ نے اپنے ہاتھ میں اٹھایا ہوا بیٹا اوپر کیا ۔ سب لوگوں نے دیکھا اور ہر طرف ایک سرگوشیاں شروع ہوگئی کہ یہ جو دکھایا جارہا ہے شہزادہ ہے یا شہزادی۔
” میرے پیارے لوگو تم سب کو مبارک ہو ہمارے ہاں شہزادہ پیدا ہوا ہے ہمارا شیر ہمارا سبز نشان والا شہزادہ۔ آج پورے چار سو سال بعد ہمارے خاندان میں سبز نشان والا شہزادہ پیدا ہوا ہے یہ اسی ملکہ کے ہاں پیدا ہوتا ہے جو بہت زیادہ طاقتور ہوتی ہے.
تم لوگوں تمہارے شہزادے عمر جبار خان کی پیدائش مبارک ہو. “
جبار نے یہ کہا تو ہر طرف میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کسی کے ہاتھ میں پھولوں کے گلدستے تو کسی نے پھولوں کی پتیاں ان کی طرف پھینکنا شروع کر دیں. انابیہ یہ دیکھ کر بہت خوش ہو رہی تھی مگر اس نے جبار کی کان میں سرگوشی کی۔
” شہزادے ہم سے اب اور زیادہ یہاں پر کھڑا نہیں ہوا جاتا. آپ ہمیں واپس خوابگاہ میں لے جائے کیونکہ ہم اور زیادہ یہاں کھڑے نہیں ہو پائیں گے. “
” بالکل میری شہزادی ہم آپ کو لے جاتے ہیں ابھی“
ہہ کہتے ہی جبار واپس مڑا۔ اس کے ہاتھ سے شہزادے کو سردار نے لے لیا جاتا ہے یہ انابیہ کو لئے کمرے میں چلا گیا . شہزاد عثمان اور گوہر نے تیلیوں میں سے سونے کے سکے لوگوں کی طرف پھینکے یہ ان کے لئے ایک تحفہ تھا کہ ان کے ہاں شہزادہ پیدا ہوا ہے.
انابیہ کو کمبل میں لٹانےکےبعد جبار اس کے پاس بیٹھا۔” آپ کا بہت بہت شکریہ شہزادی ہمیں اتنی بڑی خوشی دینے کے لئے آپ نے آج ہمارے محفل کو رونق بخشی ہے۔ آپ جانتی ہیں آپ نے ایک بہت زیادہ طاقتور شہزادہ پیدا کیا ہے اور آپ کے بیٹے کے لئے اس کی ملکہ بھی چن لی گئی ہے۔”
” آپ کو کیسے پتہ چل گیا ابھی تو وہ بیچارا اس دنیا میں آیا ہے اس کی ملکہ بھی آگئی. “
جبار نے ہنستے ہوئے جھک کر اس کی پیشانی پر اپنے پیار کی مہر ثبت کی یہ بہت زیادہ عقیدت لمس تھا جسے محسوس کرکے انابیہ کے اندر تک سکون پھیل گیا.
” میری شہزادی مجھے معلوم ہوگیا ہے کہ میرے بیٹے کیلئے ملکہ چنی گئی ہے وہ بہت زیادہ خوبصورت تو نہیں مگر بہت زیادہ نیک سیرت بچی ہوگی اس نے زندگی میں بہت زیادہ مشکلات دیکھی ہوگی اور جب وہ میرے شہزادے کے پاس آئے گی اس کے ہر دکھ کا مداوا ہو جائے گا مگر ایک وقت پر. آپ جانتی ہیں آپ کے بیٹے نے ابھی بہت زیادہ تڑپنا ہے اسے پانے کے لیے. “
” یہ تو زیادتی ہے نہ میرے شہزادے میرا بیٹا کیوں تڑپے آپ بتا دیجئے کہ وہ کہاں پر ہے ہم اسے یہی لے آئیں گے. “
” اپنے اصول نہیں توڑتے جیسے آپ کے لئے ہم نے 21 سال انتظار کیا وہ بھی مقرر مدت تک انتظار کرے گا. “
” ویسے بہت زیادہ زیادتی ہے میرے بچے کے ساتھ چلیں چھوڑ دیتے ہیں اس بات کو یہ بات تو بہت آگے کی ہے۔ یہ بات بتائیے کہ آپ نے نام پہلے ہی سوچ لیا تھا آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا کہ آپ کو معلوم تھا کہ ہمارے ہاں شہزادہ پیدا ہوگا“
” جی ہاں بالکل مجھے اس بات کا علم تھا کہ ہمارے ہاں شہزادہ ہی پیدا ہوگا اور میں نے اس دن سے ہی اپنے آپ سے اس بات کا وعدہ کیا تھا کہ اپنے شہزادے کا نام عمر رکھوں گا اگر ہمارا ایک اور بیٹا ہوا تو آپ اس کا نام آپ رکھ لیجیئے گا۔”
انابیہ نے اس کی بات پر اسے مکا مارا جو جبار کو بالکل بھی نہیں لگا مگر انابیہ کو اس سے بہت زیادہ تکلیف ہوئی۔
” ہم نے ابھی آپ کو ایک تحفہ دیا ہے اور آپ دوبارہ ہم سے فرمائش کر رہے ہیں۔”
جبار اس کی بات پر ہنسنے لگ گیا اور اس کا ہاتھ تھام کر اپنے لبوں سے لگایا.” ظاہر سی بات ہے ہمارا بیٹا بھی تو اکیلا ہو جائے گا نہ اس کے لیے بھی تو ایک بھائی ہونا چاہیے یا ایک چھوٹی سی بہن. “
انابیہ اس کی بات سن کر ہنسنے لگ گئی اور ان کے لئے زندگی کا یہ ایک بھرپور لمحہ تھا.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: