Ishq Mein Mar Jawan Novel By Hifza Javed – Episode 29

0
عشق میں مرجاواں از حفضہ جاوید – قسط نمبر 29

–**–**–

انابابیہ اس وقت عمر کو سلا رہی تھی جب جبار اس کے پاس آیا. انابیہ کا سوا مہینہ پورا ہو چکا تھا اور اس خوشی کے موقع پر پورے محلے میں تقریب منعقد کی گئی تھی جسے بہت شاندار طریقے سے منایا گیا اور اب تھک ہار کر انابیہ کمرے میں آئی عمر صبح سے رو رہا تھا کبھی ایک کے ہاتھ میں اور کبھی دوسرے کے ہاتھ میں. آخرکار انابیہ نے اسے سلایا اور خود بھی کمرے میں آرام کرنے کے لئے آگئی. جبار اس کے پاس آکر بیٹھا اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرا
” تھک گئی ہو میری جان آج تو بہت لمبا دن تھا سب لوگ پوچھ رہے تھے کہ عمر شہزادے کو کب ہم لوگوں سے ملوانے کے لیے باہر لے کر جائیں گے. “
” ابھی تو بہت چھوٹا ہے یہ شہزادے جب بڑا ہو جائے گا تو پھر روز لے جائیے گا اپنے لوگوں سے ملوانے کے لیے. آپ سے ایک بات پوچھنی ہے کیا میں اپنے والدین کے گھر جا سکتی ہوں آپ ب جانتے ہیں کہ میں پورے ایک سال سے نہیں گئی وہ لوگ بھی پریشان ہوتے ہوں گے ہارون بتا رہا تھا کہ بابا بار بار پوچھتے ہیں کہ میری بیٹی بیمار تو نہیں“
” بالکل کیوں نہیں ہم آپ کو آج ہی لے جاتے ہیں بلکہ ہم نے وہاں کچھ کام بھی کرنا ہے۔ عمر کو تیار کر لیں اس کا کچھ سامان رکھ لیں ۔ہم دو دن ہی رہیں گے پھر واپس آجائیں گے. “
” شہزادے مجھے بہت خوشی ہوئی کہ آپ نے میرا مان رکھا ۔اچھا ایک بات بتائیے کہ آپ نے مجھ سے ہارون بھائی کے متعلق کیا بات کرنی تھی. “
” انابیہ میری جان وہ آپ کی بہن سے شادی کرنا چاہتا ہے آپ کی بہن سارہ سے. “
یہ بات سن کر انابیہ پہلے تو بہت زیادہ حیران ہوئی پھر سرگوشی نما انداز میں پوچھا.” کیا وہ انسان ہیں مطلب ہارون بھائی انسان ہیں کہ جن اور انہیں سارا آپی کہاں پر پسند آگئی “
” جب اسے ہم نے تمہاری حفاظت کے لیے تعینات کیا تھا وہاں پر ہی اس نے تمہاری کزن کو دیکھا اور پسند کر لیا. ہارون مکمل طور پر ایک انسان ہے اس کے ماں باپ بچپن میں ہی گزر گئے جس کی بدولت اسے میرے والد نے پالا ہے وہ میرے دل کے بڑا قریب ہے بچپن سے ہم تقریبا ایک ساتھ رہیں ہیں اسی لیے میں نے انابیہ تمہاری ذمہ داری اسے دی تھی اور اس نے بخوبی اپنی ذمہ داری نبھائی ہے. “
” شہزادے آپ جانتے ہیں کہ میرے گھر والے آپ کو اپنی ایک بیٹی تو دے چکے ہیں دوسری کبھی نہیں دیں گے۔ اس سے بڑی بات انہوں نے مجھ سے دوری تو برداشت کر لی مگر وہ سارا سے دوری برداشت نہیں کر پائیں گے. “
” جس طرح آپ ان سے ملنے کے لیے جاتی ہیں ویسے ہی سارا بھی ان سے ملنے کے لیے جاتی رہا کرے گی. “
” نہیں شہزادے میں ہرگز نہیں چاہتی کہ یہاں پر آکر جتنی مشکلات کا سامنا مجھے کرنا پڑا ہے وہ میری بہن کو بھی کرنا پڑے. میں ایک شہزادے کی بیوی ہوں جس کی بدولت میرے لئے یہاں رہنا آسان ہے
مگر سارا آپی کیلئے یہاں رہنا بہت مشکل ہو جائے گا. میں بہت زیادہ مضبوط اعصاب کی مالک ہوں مگر میری آپی کبھی بھی یہاں گزارہ نہیں کرسکتی. ہاں اگر ہارون بھائی ہماری دنیا میں ہمیشہ کے لیے چلے جائیں تو شاید سارا ان کے پاس رہ لیں. “
” ایسی بات نہیں ہے وہ سارہ سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے اور جس طریقے سے میں آپ کو محبت دیتا ہوں اس سے کہیں زیادہ محبت وہ اس کو دے گا. “
” آپ ہارون بھائی سے ایک دفعہ بات کرلیں اگر وہ اس بات کی حامی بھرتے ہیں کہ وہ ہماری دنیا میں رہیں گے تم میں رشتے کی بات بابا جان سے کروں گی. لیکن اگر ہارون بھائی انکار کر دیتے ہیں تو پھر میں اس معاملے میں آپ لوگوں کی کوئی مدد نہیں کر سکتی. “
یہ لوگ بات ہی کر رہے تھے کہ عمر نے کلا پھاڑ کر رونا شروع کردیا جبار کی نظر عمر پر پڑی تو اس نے فورا عمر کو اٹھایا” شہزادہ بہت پیارا ہے نہ انابیہ یہ دیکھو اس کی ہیزل گرین آنکھیں بالکل ویسی ہی ہیں جیسی تمہاری تھی بچپن میں. “
” جی بالکل اور میری ہیزل گرین آنکھیں آپ کی وجہ سے رنگ بدل کر نیلی ہوگئی. “
” عمر کی شہزادی کی آنکھیں کالے اور براؤن رنگ کی ہیں جب وہ اس کے پاس آئے گی تو اپنی انکھوں کا رنگ بدل کر ہیزل گرین کرلے گی۔”
” عجیب ہی حرکتیں ہیں ویسے آپ لوگوں کی میں جا رہی ہوں اب تیار ہونے آپ اپنے صاحبزادے کو دیکھ لیجئے گا ہر انابیہ کمرے میں سے نکل ڈریسنگ روم کی طرف گئی جہاں پر جا کر اس نے اپنے والدین سے ملنے کے لئے تیاری شروع کردی بہت زیادہ بیتاب تھی کیونکہ پچھلے ایک سال سے اس کی ملاقات اپنے والد سے نہیں ہوتی تھی اس نے ان کہ یہ ہمیشہ خط میں پیغام بھیجا کہ اپنی بیٹی کے لیے دعا کریں کہ وہ صحت یاب رہے وہ میں بالکل ٹھیک ہوں میں آپ سے جلد ملنے آؤنگی یہاں پر کچھ ایسے مسائل ہیں جن کو میری مدد درپیش ہے جس کی بدولت میں آپ کے پاس نہیں آسکتی. اس کا پیغام ہمیشہ ہارون لے کر جاتا اور جب بھی واپس آتا تو یہی کہتا کہ آپ کے والد شہزادی بہت زیادہ پریشان تھے وہ ایک ہی سوال کرتے ہیں کہ میری بیٹی کو کوئی تکلیف تو نہیں وہاں اسے کوئی کچھ کہتا تو نہیں.
_______________________________
پورے گھر میں لائٹیں لگ چکی تھی. سارا ہرطرف ڈیکوریشن چیک کر رہی تھی آج تیمور کی بیٹی کا حقیقہ تھا ۔خدا نے تیمور کو پیاری سی بیٹی عطا کی تھی جو بےحد بے حد صورت تھی. اس موقع پر سب لوگ انابیہ کوبہت زیادہ مس کر رہے تھے مگر شجاع خان نے یہی کہہ دیا کہ جب اس نے آنا ہوگا تو وہ آ جائے گی۔ تم لوگ عقیقے کو ڈیلے مت کرو. عقیقہ کی تاریخ رکھ دی گئی اور آج جمعہ کے دن تیمور کی بیٹی عرش کا عقیقہ تھا سارا ساری تیاری دیکھ کر کمرے میں تیار ہونے کیلئے گئی۔
انابیہ آج پورے ایک سال بعد اپنے گھر اپنی دنیا میں آئی تھی۔اس کے ہاتھ میں اٹھایا ہوا خوبصورت بچہ بے انتہا پیارا اور کیوٹ تھا۔جبار نے انسانی دنیا میں آنا تھا ۔اسی لیئے جبار انابیہ کو بھی ساتھ لایا۔انابیہ لے ہاتھ سے اپنا بچہ لینے کے بعد اس نے دروازے سے اندر قدم رکھا اندر ایسا لگ رہا تھا جیسے یہاں کوئی فنکشن ہو رہا ہو۔جبار اس کے پیچھے تھا جبکہ یہ آگے تھی۔
” بابا جان کہاں پر ہے آپ جلدی سے آ جائیے۔ دیکھئے آپ سے ملنے آپ کے لئے آپ کی بیٹی آئی ہے. “
تھوڑی دیر میں کمروں سے سب لوگ نکل آئے تھے ایسا لگ رہا تھا جیسے گھر میں بہت بڑا فنکشن ہو رہا ہے جس کی بدولت سب لوگ کمروں میں تیار ہو رہے تھے. سب سے پہلے تیمور نکلا جس نے انابیہ کو دیکھا تو فورا اس کی طرف آیا۔
“انابیہ میری گڑیا آئی ہے۔میری شہزادی آج پورے ایک سال بعد گھر آئی ہے۔”
تیمور اسے سینے سے لگائے کتنی دیر کھڑا رہا۔پھر اس کی نظر پیچھے کھڑے جبار پر پڑی۔
جبار کے ہاتھ میں بچے کو دیکھ کر اسے احساس ہوا کہ وقت بدل گیا ہے اس کی گڑیا اب ماں بن چکی ہے۔یہ بہت فخر سے بچے کو لینے آگے آیا۔” یہ تمہارا بیٹا ہے کیا انابیہ کتنا خوبصورت ہے یہ. “
” بھائی یہ میرا بیٹا ہے عمر جبارخان جس کی وجہ سے میں یہاں انہیں پائی. میری طبیعت کافی زیادہ خراب تھی اس لیے جبار نے یہ کہہ دیا کہ جب عمر پیدا ہوگا تو ہم آپ لوگوں سے ملنے کیلئے آجائیں گے. “شجاع خان کمرے سے آئے اور بیٹی کو دیکھتے ہی اس کی طرف بڑھے. پورے ایک سال بعد انہوں نے اپنی لاڈلی بیٹی کو دیکھا تھا. انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ انابیہ کس حال میں ہے اور کیسے رہ رہی ہے. اگر انابیہ آس پاس کسی علاقے میں بیاہی ہوتی تو انہیں اتنی زیادہ فکر نہ ہوتی. مگر یہ تو اس بات کو بھی نہیں جانتے تھے کہ انابیہ کس دنیا میں رہ رہی ہے اور وہاں کے لوگ کیسے ہیں. انہوں نے فورا بیٹی کو میں سینے سے لگایا. انابیہ نے بھی ان کو دیکھتے ہی رونا شروع کردیا دونوں کافی دیر تک روتے رہے پھر ایک دوسرے سے الگ ہوئے
” میرا بچہ ٹھیک ہے نہ پورے ایک سال بعد اپنی شہزادی کی شکل دیکھ رہا ہوں میں. “
” میں بالکل ٹھیک ہوں بابا جان آپ کو پتہ ہے ایک سرپرائز لائی ہوں۔”
یہ کہہ کر انابیہ نے جبار سے اپنا بیٹا لیا اور اپنے باپ کی گود میں دیا” دیکھ لیجئے بابا یہ ہے آپ کا نواسا عمر جبارخان
” تمہارا یہ سرپرائز ہے اور تمہیں معلوم ہے کہ میری بھی ایک بیٹی ہے. “
” عنایہ کی بات کر رہے ہیں بھائی آپ میں اس سے مل چکی ہوں”
” نہیں میری جان میں اپنی دوسری بیٹی کی بات کر رہا ہوں. تمہارے یہاں سے جانے کے بعد میں نے انسہ سے شادی کرلی اور ہماری ایک بیٹی ہے آج اس کا عقیقہ ہے اسے پیدا ہوئے دس دن ہوئے ہیں ابھی. “.
“آپکی شادی ہوگئی بھیا میں نے آپ کی شادی مس کردیں “انابیہ کی آواز بھی بہت زیادہ جذبات تھے۔” مجھے معلوم تھا جب ہماری انابیی آئے گی تو ایسے ہی شکوہ کرے گی اس نے اپنے اکلوتے بھائی کی شادی مس کر دیں. مگر ہم کیا کرتے ہم نے تمہارے لیے پیغام بھجوانا چاہا مگر تمہارا بندہ یہاں پر موجود نہیں تھا جو پیغام لے کر جاتا” میں ناراض نہیں ہوں بھائی مجھے تو اس بات پر حیرت ہو رہی ہے کہ میرے پیچھے اتنا سب کچھ ہو گیا مجھے اس بات کا علم نہیں ہے۔ سب کی زندگی بدل گئی تو ہے جیسے میری بدل گئی. جانتے ہیں میرا عمر پورے سوا ماہ کا ہو چکا ہے. “
” میرا بچہ تم ٹھیک تو ہو ناں اس کی پیدائش پر تمہیں کوئی مسائل تو نہیں ہوئے “
“بالکل نہیں بابا جان جبار میرا بہت زیادہ خیال رکھتے ہیں اور جبار کے گھر والے مجھ سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں جب عمر پیدا ہوا تو مجھے محسوس ہی نہیں ہوا کہ آپ لوگ میرے پاس موجود نہیں. دادی صاحب کہاں پر ہیں۔ میں سب سے ملنا چاہتی ہوں اور مجھے میری بھابھی سے بھی ملوایا آخر ان کو بھی تو پتہ چلے ان کی نیند آئی ہے. “
جبار خاموشی سے اپنی بیوی کی تمام حرکتیں دیکھ رہا تھا وہ اس وقت چھوٹے بچوں کی طرح لگ رہی تھی ۔جسے کوئی من پسند چیز دے دی گئی ہو. انسہ کمرے سے نکل کر آئی اسے دیکھتے ہی انابیہ اس کی طرف آئی۔اس کے ہاتھ میں عرش تیمور خان تھی” آپ بھابھی ہیں نہ میری انسہ تیمورخان. “
” ارے یہ تو انابیہ ہیں۔ میں نے آپ کی تصویریں دیکھی تھی کیسی ہیں آپ “
اسے دیکھتے ہی انسہ اس کے گلے لگ گیئں۔ “میں بالکل ٹھیک ہوں بھائی جان اور مجھے دیں میری بھتیجی میں دیکھو تو سہی کیسی ہے. “انسہ نے اس کی گود میں اپنی دس دن کی بیٹی ڈالی۔ یہ بچی بھی بہت زیادہ خوبصورت تھی. جبار سب سے ملا.
” ہم بہت زیادہ پریشان ہوگئے تھے جبارخان کے نہ جانے اب ہم سے ہماری بیٹی کو بھی ملوانے لائیں گے یا نہیں. “
” دیکھیے ہم نے وعدہ کیا تھا تو ہم آپ سے انابیی کو کیوں نہ ملوانے لاتے . مگر ہم صرف دو دن کے لیے آئے ہیں اور ہمیں یہاں سے جلد ہی جانا ہے “
” اتنی جلدی آ ج تو تم لوگ آئے ہو اور جانے کی باتیں کر رہے ہو . “
” وہ کیا ہے نہ تیمور کے ہم لوگ اتنی دیر دنیا میں نہیں رہ سکتے. ہمارا بیٹا بھی ابھی بہت چھوٹا ہے اسے اپنی دنیا میں ہی رہنا چاہیے ورنہ یہاں پر اسے تکلیف ہو سکتی ہے انکل میں آپ لوگوں سے وعدہ نہیں کرتا اتنا ضرور کہوں گا کہ اسے لازمی یہاں پر دوبارہ لاؤنگا. آپ لوگ آرام سے اس کے ساتھ دو دن گزاریں مجھے نکلنا ہے میرا کوئی ضروری کام ہے. “
یہ کہہ کر جبار انابیہ کی طرف گیا جو اپنی بھابھی سے باتیں کر رہی تھی” میری شہزادی مجھے نکلنا ہے آپ آرام سے دو دن اپنے والدین کے ساتھ رہیں۔ پھر میں آپ کو لینے کے لئے آ جاؤں گا. “
” ٹھیک ہے شہزادے آپ جائیے میں آرام سے اپنے گھر والوں کے ساتھ رہوں گی. “جبار نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کندھے سے لگایا اور پھر اللہ حافظ کرتا ہوا نکل گیا.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: