Ishq Mein Mar Jawan Novel By Hifza Javed – Episode 3

0
عشق میں مرجاواں از حفضہ جاوید – قسط نمبر 3

–**–**–

میری اجازت کے بغیر کاپی پیست مت کریں
شجاع خان اس وقت انابیہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے. دونوں باپ بیٹی بہت اہم بات پر بحث کر رہے تھے. انابیہ اپنے باپ کو یہ بتا رہی تھی کہ ارمان واپس آنے والا ہے اور وہ اس کے ساتھ اپنے علاقے زیارت جانا چاہتی ہے. ارمان اسکی پھوپھی کا بیٹا تھا. اس کی پھوپی بلوچستان زیارت میں رہتی تھی۔
” انابیہ ہم نے آپ سے کتنی مرتبہ کہا ہے کہ وہاں جانے کی ضد مت کیا کریں وہاں پر اب ہمارا کوئی باقی نہیں. “
” آپ ایسے کیسے کہہ سکتے ہیں بابا جان ہم بلوچستان کے ہیں۔ آپ یہ بات جانتے ہیں ہم یہاں آ کر بس گئے ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنے صوبے کو بھول جائیں۔ مجھے اپنا علاقہ دیکھنے کا بہت شوق ہے میں جب بھی آپ سے کہتی ہوں آپ بات کو ٹال جاتے ہیں. “
شجاع اس کی بات کو جلدی ختم کرنا چاہتے تھے۔وہ انابیہ کی اس بات کو ہمیشہ ہی ٹال دیتے انابیہ بچپن سے اپنے علاقے میں نہیں گئی تھی جبکہ اس کے والد اور تیمور ہر دوسرے مہینے وہاں جایا کرتے تھے.
” مجھے نہیں پتہ بابا میں نے وہاں جانا ہے. “
” میرا بیٹا آپ بہت ضدی ہوگئی ہیں۔ آپ کی والدہ کے بعد آپ کو سنبھالنا ہمارے لیے انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔”
” بابا ہم صرف آپ سے یہ بات کہہ رہی ہے کہ ہم زیارت جانا چاہتے ہیں. دادی جان ہمیں بتاتی ہیں وہاں کے بارے میں. وہ ہمیں یہ بھی بتا رہی تھی کہ وہاں پر جو خانوں کو خاندان آباد ہے وہ ہمارے علاقے میں پچھلے ہزار سال سے حکومت کر رہے ہیں. “
” تمہیں اس سب سے کچھ لینا دینا نہیں ہونا چاہیے اور بیٹا ارمان آئے گا تو میں خود اس سے بات کر لوں گا کہ فضول قسم کی باتیں تمہارے ساتھ مت کیا کرے. “
” بابا میں آپ سے بات نہیں کروں گی آپ میری کوئی بات نہیں مانتے. “
” بابا کی گڑیا ایسے ناراض نہیں ہوتے کبھی کبھی والدین جو بات کہتے ہیں وہ آپ کی بھلائی کے لیے ہوتی ہے. “
” پھر آپ مجھ سے وعدہ کرے کہ آپ خود مجھے زیارت لے کر جائیں گے. “
” ٹھیک ہے میری شہزادی ہم آپ کو زیارت لے کر جائیں گے. “
__________________________________
اپنے کزن کا انتظار کر رہی تھی اس کے ساتھ ہی سارہ کھڑی تھی۔ لینڈ کروزر ان کے کار پورچ میں آکر رکی. اندر سے نکلنے والا شخص انابیہ کا بہترین دوست تھا۔
” بھیا آپ آ گئے آخر کار. “
سارہ اس کی طرف کی جبکہ ارمان کا دیھان انابیہ کی طرف تھا جو پیچھے ہاتھ کیے اسے بڑے غور سے دیکھ رہی تھی۔
” آخرکار میں آ ہی گیا تم جانتی ہو کہ میں کتنا مصروف رہتا ہوں. ہماری عناب کیسی ہے اس کا موڈ کیوں آف ہے۔”
” بھیا آپ تو جانتے ہیں کہ اس نے آپ سے پچھلے ماہ بھی کہا تھا کہ آپ یہاں چکر لگائیں مگر آپ کو وقت نہیں ملا اس لئے اس نے مجھ سے کہا تھا کہ اس دفعہ جب ارمان بھیا آئیں گے تو یہ ان سے بات نہیں کرے گی. “
ارمان ہنستے ہوئے انابیہ کی طرف آیا.
” کیسے بات نہیں کرے گی جب یہ دیکھے گی کہ میں اس کے لیے کتنا کچھ لے کر آیا ہوں۔”
انابیہ اس کی بات سن کر فورا اس کی طرف آئی.” کیا لائے ہیں آپ میرے لیے بھیا۔”
” مورے نے تمہارے لیے خصوصا بلوچی کی لباس بھیجے ہیں۔ تمہیں بہت پسند ہیں نہ۔”
” تھینک یو بھیا آپ کو پتہ ہے میری یونیورسٹی میں فیر ویل پارٹی ہوگی میں نے سوچا تھا کہ اچھا سا بلوچی ڈریس پہنوں گی. “
” یہ تو بہت اچھی بات ہے پھر تمہارا مسئلہ حل ہوگیا. “
ارمان گاڑی کی طرف موڑا اور گاڑی میں سے ڈھیر سارے بیگ لے کر سارہ اور انابیہ کو پکڑائے۔
” میرے لئے بھی کچھ ہے یا آپ صرف اسی کے لئے لائے ہیں۔”
” تمہارے لئے بھی ہے میری بہن بہت کچھ. مجھے اندر جانے دینا ہے یا یہاں پر ہی کھڑے رکھنا ہے میں بڑا سفر طے کرکے آیا ہوں۔”
” سوری بھیا آجائیے اندر۔”
__________________________________
نیلی آنکھوں والا کے اجنبی ٹیبل پر بیٹھا ہوا تھا اس کے سامنے کلاس میں لیمن جوس پڑا ہوا تھا جبکہ اس کے اردگرد لوگ شراب سے مدہوش پڑے ہوئے تھے. یہ یہاں آج کسی خاص مقصد کے لیے آیا ہوا تھا بنوں ایسی جگہوں پر یہ کبھی نہیں آیا تھا یہ جانتا تھا کہ یہ جس قبیلے سے تعلق رکھتا ہے وہاں کے سردار ہونے کی حیثیت سے اسے ان سب برائیوں سے دور رہنا ہے اگر یہ اچھا انسان نہیں ہوگا تو اس سے اس کا مرتبہ چھین لیا جائے گا.
” ہائے بیوٹیفل آج یہاں کیسے آنا ہوا. “
ایک لڑکی جس کے کپڑے دیکھ کر ہی اسے کوفت ہو رہی تھی وہ اس کے پاس آئی اور اس کے شانوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی.
” برائے مہربانی مجھ سے بات نہ کی جائے تو بہتر ہے. “
” کیوں کیا تم کوئی دوسری دنیا کے مخلوق ہو. “
نیلی آنکھوں والا یہ شہزادہ ہنسا اس کی آنکھوں میں ایک خوفناک چمک آگئی.
” مجھے جو بھی سمجھ لو مگر جو میرے قریب آتا ہے وہ جل جاتا ہے یہ بات یاد رکھو. “
اس لڑکی نے بڑی بے باکی سے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرا.” مجھے آگ سے کھیلنے کا شوق ہے. “
” یہ وہ آگ نہیں جسے دیکھ کر انسان جل جائے کی آگ ایسی آگ ہے جو کسی کو لگ جائے تو وہ زندہ نہیں رہتا. اپنی آخری سانس گنتے ہوئے بھی وہ اپنی موت کو پکارتا ہے کہ اسے جلدی موت آجائے. “
وہ لڑکی اس کی باتیں سن کے تھوڑی خوفزدہ ہوگئی. پھر خود ہی اسے چھوڑ کر پیچھے چلی گئی. اچانک اس نیلی آنکھوں والے شہزادے کو محسوس ہوا کہ جس کام کے لیے یہاں آیا تھا وہ پورا ہونے والا ہے۔
یہ اپنی جگہ سے اٹھا اور اس bar کے پچھلے روم کی طرف چلا گیا۔ اندر سے ایک شخص نکل رہا تھا . لڑکی نے بھی شراب پی رکھی تھی اور اس نے بھی.
” ہیلو مسٹر کرمانی. “
یہ شخص اس نیلی آنکھوں والے شہزادے کی طرف مڑا اور پہچاننے کی کوشش کی.
” تم مجھے نہیں جانتے مگر میں تمہیں بہت اچھے سے جانتا ہوں. مجھے جاننے کی کوشش مت کرنا اگر تم مجھے جان گئے تو تمہاری موت بہت مشکل ہوگی. “
یہ کہنے کے ساتھ ہی اس نے مسٹر کرمانی کو بازو سے پکڑا اور اپنے ساتھ باہر کی طرف لے گیا. اس کی گرفت میں اتنی طاقت تھی کہ مسٹر کرمانی مضبوط مرد ہونے کے باوجود بھی اپنے آپ کو چھڑوانا سکے.
” آج تمہیں یاد آئے گا کہ معصوم لوگوں کی زندگی برباد کیسے کرتے ہیں. تم بہت آسانی سے لوگوں کو نوچ کھاتے تھے نا. آج میں تمہارا وہ حال کروں گا کہ تمہاری آنے والی سات نسلیں یاد رکھیں گی. “
اس شہزادے نے اس شخص کو بالوں سے پکڑا اور دیوار سے دے مارا. اس کے ایک ہی وار سے اس شخص کا سر خون سے بھر گیا۔
” تم جانتے ہو مجھے دھوکہ دینے والے لوگوں سے نفرت ہے. میرے قانون میں صرف دو چیزیں ہی پائی جاتی ہیں. وفاداری یا غداری. اور وفاداری کا انعام بہت اعلی ہوتا ہے جبکہ غداری کا انجام موت. “
اس شہزادے نے اس شخص کو اتنا مارا کہ اس کی آخری سانسیں بھی لینا مشکل ہوگیا.
اس شہزادے کا ساتھی بابر اس کے پاس آیا.
” کیا کرنا ہے اب اس کا میرے شہزادے. “
” اس نے جن معصوم لوگوں کو تڑپا کر مارا ہے انہی کے علاقے میں بیچ چوراہے پر اس کی لاش لٹکا دو. یہاں بڑے لوگوں کو ہی انصاف ملتا ہے معصوم لوگوں کو نہیں اور جب لوگ اس کی لاش دیکھیں گے تو انہیں احساس ہوگا کہ ان کا انجام بھی یہی ہو گا اگر وہ معصوم لوگوں کی زندگیاں نوچیں گے. اسے عبرت کا نشان بنا دو. اور اعلان کروا دوں کہ یہ سردار کا حکم ہے کہ میرے معصوم لوگوں کے ساتھ زیادتی کرنے والا سردار کے ہاتھوں ہی مرے گا. “
یہ کہتے ہیں یہ شہزادہ یہاں سے ہٹ گیا. آج یہ کوئی پہلا انسان نہیں تھا جسے اس نے انجام تک پہنچایا تھا.
__________________________________
تیمور اپنے والد کے ساتھ بیٹھا ہوا کیس ڈسکس کر رہا تھا.
” آپ جانتے ہیں یہ چھوٹی بچی ہے. اس کی عمر محض چار سال ہے. جس طریقے سے اس کے ماں باپ کا قتل ہوا ہے مجھے یقین ہے کہ اس کا قتل بھی ایسے ہی ہو جائے گا. بابا میں چاہتا ہوں اس بچی کو ایڈپٹ کرنا۔”
” بیٹا آپ جانتے ہیں کہ ابھی آپ کی شادی نہیں ہوئی. آپ کی آنے والی بیوی اگر اس بچی کو اپنی بیٹی نہ تسلیم کرے تو. “
” بابا کو اس کو بیٹی سے بڑھ کر پیار دے گی مجھے پورا یقین ہے. کسی تیم خانے میں پلنے سے بہتر ہے کہ یہ آپ کی پوتی اور میری بیٹی بن کر بڑی ہو۔ میں اس بچی کو اپنی بیٹی بنا رہا ہوں۔”
” یہ بہت مشکل فیصلہ ہے بیٹا اس کو ایسے ہی مت لو. اگر تم کسی بچی کی ذمہ داری لے رہے ہو تو اسے پورے دل سے نبھانا ہے. “
” آپ پریشان مت ہوں بابا میں اسے اپنی بیٹی ہی بنا کر رکھوں گا۔ بابا انابیہ آجکل بلوچستان جانے کی بہت ضد کر رہی ہے. آپ اسے جانے کی اجازت دے دی آپ جانتے ہیں کہ وہ بہت بار ہم سے اس بات کی خواہش کرچکی ہے کہ وہ ہمارا آبائی گھر دیکھنا چاہتی ہے. “
شجاع خان نے اس کی بات پر سر اٹھایا۔
” کون نہیں چاہے گا کہ اس کی اولاد اپنے آبائی گھر کو جانے اگر بیٹا کوئی وجہ ہے جس کی وجہ سے میں اسے منع کرتا ہوں. کچھ ہی عرصے میں تمہیں وہ وجہ بتا دوں گا. “
” مجھے امید ہے بابا کی اب جلد ہی بچپن کا وہ راز مجھے بتا دیں گے جس کی وجہ سے ہماری بچی کے ہاتھ پر نشان ہے. “
” میں تمہیں بتا دوں گا مجھے اب وہ بات یاد مت کراو۔”
شجاع خان کی آنکھوں میں وہ بات سوچ کر ہی خوف آ گیا تھا۔ مگر بیٹے کے سامنے وہ اپنا خوف ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے.
__________________________________
ہارون اپنے سردار کا انتظار کر رہا تھا یہ مزار میں کھڑا ہوا تھا جبکہ بہت سارے کارڈز بھی اس کے ارد گرد تھے۔
” ہارون سردار کو آنے میں کتنا وقت ہے. “
” بس آ ہی گئے ہیں سردار. “
نیلی آنکھوں والا شہزادہ چلتا ہوا مزار کے اندر آیا اس کے ہاتھ میں بڑی سی ایک خوبصورت چادر تھی.
” ہارون حکم دے دو اس پورے علاقے کو اس پورے مزار کو سجا دو تمہاری سردارنی آنے والی ہیں۔ جس دن وہ اس مزار میں قدم رکھیں گی وہ کبھی واپس نہیں جاسکے گی۔ ان کے ساتھ ہمارا 21 سال کا وعدہ پورا ہو جائے گا جس دن وہ اس مزار میں اپنا پہلا قدم رکھیں گی. تم سب لوگ جانتے ہو وہ کتنی جلدی یہاں آنے والی ہیں۔ ان کے استقبال کے لئے پورا شہر سجایا جائے اور جب وہ یہاں آئی تو ان کا استقبال پھولوں سے کیا جائے.
” سردار آپ انہیں کب لینے جا رہے ہیں۔”
” اس بار وہ ہم انہیں لینے نہیں جائیں گے وہ خود آئیں گی ہمارے پاس. بہت جلد.”
یہ بات کرتے ہیں اس شہزادے کی آنکھیں چمک اٹھیں.
__________________________________
انابیہ ارمان کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی.
” ارمان بھیا پلیز آپ مجھے بلوچستان لے جائیے نا۔”
” ان آپ تم یہ بات جانتی ہوں کہ ماموں جان کو نہیں پسند کے تم وہاں جاؤں. “
” بھیا آپ کو پتہ ہے بابا اور بھائی نے کچھ عرصے کےلیے باہر جانا ہے. ہمارے پاس پورے دو ہفتے ہوں گے میں پھوپھی سے ملنا چاہتی ہوں. پلیز آپ مجھے لے جائیے نہ کسی کو پتا نہیں چلے گا۔ دادی جان کو بھی ہم اپنے ساتھ ہی لے جائیں گے وہ کسی کو کیا بتائیں گی. “
” نانی جان نے اگر ماموں کو بتا دیا تو۔”
” آپ کہہ دیجئے گا کہ گاؤں میں کسی کی شادی ہے اس لیے ہم جا رہے ہیں. پھر وہ مجھے کبھی اکیلا نہیں چھوڑیں گی. “
” چھوٹے ماموں تو گھر میں ہی ہوں گے نا اگر انہوں نے یہ کہہ دیا کہ تم ان کے ساتھ اور خالہ جان کے ساتھ رک جاؤ تو. “
” کہیں گی کہ آپ کو گیرینٹی دیتی ہوں پلیز بھیا پلیز. “
ارمان اس کے چہرے پر خوشی لانے کے لئے کچھ بھی کر سکتا تھا ویسے بھی اس نے یہ بات سوچ لی تھی کہ اس دفعہ وہ اپنی ماں کو ماموں کے پاس لے کر آئے گا اور انابیہ کو ہمیشہ کے لئے بلوچستان اپنے ساتھ لے جائے گا۔
” ٹھیک ہے مگر پھر تم تیمور بھیا کو اس بات کی خبر مت ہونے دینا۔”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: