Ishq Mein Mar Jawan Novel By Hifza Javed – Episode 4

0
عشق میں مرجاواں از حفضہ جاوید – قسط نمبر 4

–**–**–

انابیہ اس وقت دلہن کے لباس میں تھی. یہ اتنی خوبصورت لگ رہی تھی کہ کوئی اسے دیکھ کر یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ انسان ہے یا پری۔ اس وقت یہ شہزادی کے روپ میں تھی اس نے جو زیور پہن رکھا تھا وہ اتنا بھاری تھا کہ اس کی کلائیاں اور گردن درد کر رہی تھی. اس نے پیروں میں سونے کی پائل پہن رکھی تھی. یہ جوں جوں اونچے درختوں کے پاس سے بھاگ رہی تھی تب تب اس کی پائل آواز دے رہی تھی.
” نہیں وہ مجھے نہیں پکڑ سکتا مجھے یہاں سے جانا ہے. میں ہرگز اس شخص کے پاس دوبارہ نہیں جاؤں گی. “
یہ جیسے جیسے راستہ طے کر رہی تھی ویسے ویسے اس کے پاؤں زخمی ہو رہے تھے.
گھوڑوں کی چاپ اسے سنائی دی. یہ گھوڑوں کی چاپ اس کے لئے زندگی کی نوید نہیں بلکہ موت کی آواز تھی.
” میں اس شخص کے پاس دوبارہ نہیں جانا چاہتی میں اس کی بیوی نہیں ہوں۔ وہ مجھے اپنی حسین دنیا میں قید کر لے گا. نہیں بننا چاہتی میں اس کی شہزادی. “
یہ اور تیز بھاگنے لگی اس کا ڈوپٹہ درخت کے اندر اٹکا اور اتر گیا. خوبصورت سنہری بال کھل کر بکھر گئے۔ اس کا ڈوپٹہ شانوں پر آگیا. گھوڑوں کی چاپ اور تیز ہوگی.
یہ جوں ہی یہ اونچے پتھر سے نیچے آئی اسے زوردار چوٹ لگی اور یہ وہیں پر گر گئی.
پیچھے سے ایک خوبصورت کالے رنگ کا گھوڑا اس کے پاس آ کر رکا اور یہ جانتی تھی کہ اس گھوڑے سے کون اترے گا.
” یہاں پر کیوں آگئی آپ میری جان. کتنے پریشان ہوگئے ہیں ہم اور ہمارے لوگ. ہماری جان نکل گئی ہے آپ کو اس حالت میں دیکھ کے. “
اس شخص کے قدوقامت کو دیکھ کر ہی اسے خوف آرہا تھا. یہ سوچ نہیں سکتی تھی کہ یہ اس شخص کے ساتھ اس کی بیوی بن کے رہتی ہے. اس کے وجود سے اس کا وحشی پن ظاہر ہوتا تھا. اس کی آنکھیں اس وقت اندھیرے میں بھی چمک رہی تھی.
” نہیں سردار میں آپ کے ساتھ ہرگز نہیں جاؤں گی. میرا آپ سے کوئی تعلق نہیں میرا آپ کی دنیا سے کوئی تعلق نہیں. میں ایک عام انسان ہوں جب کہ آپ ایک بادشاہ. “
” آپ جانتی ہیں اس بادشاہ کی ایک ہی ملکہ ہے انابیہ خان”
” نہیں میں اس کی ملکہ نہیں میں کسی کی ملکہ نہیں میں صرف اور صرف انابیہ شجاع خان ہوں۔”
یہ شخص اس کے پاس آیا اور اسے اپنی باہوں میں اٹھا لیا ایسے جیسے اس کا وزن ہی نہیں اور یہ ایک روئی کی مانند گڑیا ہو.
” دیکھو مجھ پر یہ ظلم مت کرو میں تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتی. “
” یہ فیصلہ آج سے اکیس سال پہلے ہوچکا ہے میری جان. اب اگر تم مجھ سے بھاگنا بھی چاہو گی تو تم نہیں بھاگ سکتی۔” تمہاری قسمت مجھ سے جڑ چکی ہے تمہاری روح تمہارا وجود میرا ہے. “
اس شخص کی گرفت نہ زیادہ سختی اور نہ زیادہ مضبوط مگر انابیہ اس کی گرفت سے باہر نہیں آ سکی۔
اس شخص نے اسے اپنے ساتھ گھوڑے پر بٹھایا اور اسے کمر سے تھام کر اپنے ساتھ لگا لیا. اس کی پشت اس شخص کے سینے سے لگ رہی تھی. اس وقت اس علاقے میں شام ہو چکی تھی اور بے تحاشہ سردی تھی۔
محل کے قریب آتے ہی اس شخص نے اسے گھوڑے سے اتارا. اس کا چہرہ دیکھنے سے پہلے ہی انابیہ کی آنکھ کھل گئی.
انابیہ اس اس کا چہرہ پسینے سے تر تھا .
” کیسا خواب تھا یہ ایسا لگتا ہے جیسے میں اس جگہ پر پہلے رہ چکی ہوں یا میرے ساتھ وہ سب کچھ ہونے والا ہے۔” انابیہ سوچ رہی تھی کہ اس کے پیچھے کھڑا شخص ہںسنے لگ گیا. انابیہ نے پاس پڑا پانی پیا. اکثر رات کو ایسے ہوتا تھا کہ یہ سوئے ہوئے اتنی گہری نیند میں چلی جاتی کہ اسے یاد ہی نہیں رہتا کہ یہ کب سوئی تھی. یہ سب کچھ اس کے ساتھ آج سے نہیں بچپن سے ہو رہا تھا. یہ اکثر اوقات رات کو خواب میں ڈر جایا کرتی تھی مگر اسے صبح اٹھ کر نہ وہ خواب یاد رہتا اور رات۔ ابھی بھی یہ ایسے ہی دوبارہ بستر پر لیٹ گئی.
” امید ہے اچھی نیند آجائے گی. “
یہ جیسے ہی لیٹی اس کی آنکھیں بند ہو گئی اور اسے کسی چیز کا ہوش نہیں رہا اس کے پیچھے کھڑا شخص آگے آیا اور اس کے ساتھ بستر پر بیٹھ گیا اس کے ہاتھ سے ابھی بھی نیلی روشنی نکل رہی تھی. یہ ہمیشہ اس لیے بھی روشنی سے ہوش و حواس سے بیگانہ کر دیتا تھا.
” میری شہزادی دو دن بعد آپ کو میرے پاس آنا ہے. “
نیلے شہزادے نے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرا.” عبدالجبار خان کی بیوی انابیہ جبارخان کتنی خوبصورت ہے. میں سوچ نہیں سکتا کہ میری شہزادی اتنی خوبصورت ہو سکتی ہیں. ہمارے بچے کتنے خوبصورت ہوں گے میری شہزادی. آپ جانتی ہیں میں نے محل میں پوری تیاری کر رکھی ہے اپنے بچوں کے لئے. “
جبار نے اس کے ہاتھ تھامے اور اپنی آنکھوں سے لگائے۔
” آپ کے بڑے ہونے کا انتظار کیا ہم نے بہت انتظار کیا آپ جانتی ہیں چھوٹی سی تھی آپ . ہم آپ سے ملنے آیا کرتے تھے. آپ ہمیں دیکھ کر بھاگ جایا کرتی تھیں اور ہم آپ کا پیچھا کیا کرتے تھے. “جبار نے اس کے ہاتھ اپنی آنکھوں سے لگائے.
” آپ کے والد سمجھتے ہیں کہ آپ کو ہم سے چھین لیں گے. بہت غلط سوچتی ہیں شاید وہ اپنا وعدہ بھول چکے ہیں مگر ہمیں اپنا وعدہ یاد ہے. عبدالجبار خان کی بیوی انابیہ جبارخان۔ کتنا خوبصورت احساس ہے نا یہ آپ کو اپنے نام سے بلانا. آپ تو بچپن سے ہمارے نام سے منسوب ہے آپ تو بچپن سے ہماری محرم ہیں۔ ہم چاہتے تو ہم آپ کو بہت پہلے ہی یہاں سے لے جاتے مگر ہم
وعدے نہیں توڑتے۔ ہم جا رہے ہیں شہزادی اب آپ نے آنا ہے ہمارے پاس. آپ کا گھر آپ کا منتظر ہے پھر ملاقات ہوگی. “
جبار اٹھ گیا اور انابیہ کے سر پر آخری بار ہاتھ پھیرا. یہ جیسے آیا تھا ویسے ہی چلا گیا.
__________________________________
انابیہ اس وقت باپ اور بھائی کے ساتھ دروازے پر کھڑی تھی۔یہ لوگ اس بچی کو لینے ترکی جا رہے تھے جسے تیمور نے ایڈاپٹ کرنے کا سوچا تھا۔
“انابیہ کہیں باہر نہیں جانا اور اپنا بہت دھیان رکھنا۔ کہیں باہر نہیں جانا اور کسی سے بات بھی مت کرنا زیادہ. “
” بابا اب تو پریشان ہوتے ہیں میں بالکل ٹھیک رہوں گی چھوٹے بابا ہیں نہ ہمارے پاس۔”
” مجھے بتانا یاد نہیں رہا کہ تمہارے چھوٹے بابا جارہے ہیں ہمارے ساتھ ہی۔ البتہ تمہاری چھوٹی ماما کو گائوں جانا پڑا ہے کسی کام سے اس لیے تم اور سارہ نام اپنی دادی کے ساتھ اکیلے ہو گے۔”
یہ سنتے ہی انابیہ بہت زیادہ خوش ہوں گی کیونکہ اسے ڈر تھا کہ چھوٹے بابا انہیں بلوچستان جانے سے روک نہ لیں۔
” چھوٹی تم نے اپنا بہت خیال رکھنا ہے واپسی پر میرے ساتھ تمہاری بھتیجی بھی ہوگی۔”
” مجھے انتظار رہے گا بھیا آپ جلدی آئیے گا۔”
__________________________________
ارمان اور انابیہ دونوں گاڑی کے پاس کھڑے ہوئے تھے. انابیہ کے ہاتھ میں بیگ تھی جو یہ اپنے ساتھ لے کر جا رہی تھی اس کا ارادہ اپنی پھوپھی کے گھر رہنے کا تھا.سارہ دادی کو باہر لا رہی تھی اب ان کا مقصد دادی کو سمجھانا تھا کہ یہ لوگ بلوچستان کیوں جا رہے ہیں ۔
” کہاں جا رہے ہو تم لوگ میں نے منع بھی کیا تھا کہ کہیں نہیں جانا۔”
” نانی گھر میں کوئی ایجنسی ہوگئی ہے مورے نے آپ کو فورا بلایا ہے۔ ہمیں فورا جانا ہوگا اس لئے میں آپ کو لے کر جارہا ہوں تو لڑکیوں کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتا. “
” انابیہ کو ہم وہاں نہیں لے کر جائیں گے. “
” نانی ہم اسے اکیلا بھی تو نہیں چھوڑ سکتے پیچھے کوئی بھی نہیں ہے۔ آپ پریشان کیوں ہوتی ہیں میں ہونا آپ لوگوں کے ساتھ کچھ بھی نہیں ہوگا. “
” دادی جان اب میں اتنی بڑی ہوچکی ہوں کہ میں اپنی حفاظت خود کر سکتی ہوں۔ آپ بالکل بھی پریشان مت ہوں پھوپھی نے ہمیں آج ہی پہنچنے کے لئے کہا ہے. “
دادی پریشان ہوگی وہ سمجھ نہیں سکی کہ اس وقت ان کو کیا جواب دیں.
” ٹھیک ہے مگر انابیہ تم مجھے چھوڑ کر مت جانا. ہم جہاں بھی جائیں گے تم میرے ساتھ ہی رہنا۔”
__________________________________
کوئٹہ ایئرپورٹ پر یہ لوگ اترے اور اپنا سامان لے کر باہر آئے.
” انابیہ تم نانی جان کو لے کر گاڑی میں بیٹھو ہم آرہے ہیں۔سارہ تم میرے ساتھ آؤ تم سے کچھ بات کرنی ہے. “
سارہ اور ارمان بات کرنے کی غرض سے ایئرپورٹ کے اندر چلے گئے جبکہ انابیہ کو کوئٹہ میں اترتے ہی کچھ عجیب سا احساس ہونا شروع ہوگیا جیسے اس کا اس جگہ سے بہت گہرا تعلق ہے. یہاں کی فضا ہی اسے اپنا اندر چیرتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی یہ پہلی بار کوئٹہ آ رہی تھی اسے یاد تھا کہ اس کی والدہ بتایا کرتی تھیں کہ جب یہ بہت چھوٹی تھی تو یہ آخری بار کوئٹہ آئی تھی شاید جب یہ بیمار تھی تبھی کوئٹہ سے شہر چلے گئے تھے یہ لوگ۔
” نانی جان کتنا خوبصورت ہے ہمارا علاقہ. “
ارمان پیچھے سے آیا اور اپنی نانی کے کندھے کے اردگرد بازو پھیلایا۔
” ہاں میں بھی بہت عرصے بعد یہاں پر آ رہی ہوں کافی عرصہ ہوگیا یہاں آئے ہوئے. “
” دادی اب ہم کچھ عرصہ یہاں پر رہ کر ہی جائیں گے. “
سارہ گاڑی میں بیھٹے ہوئے دادی کو بول رہی تھی جبکہ انابیہ بالکل خاموش ہو چکی تھی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس کے کیسے جذبات ہیں اس جگہ پر آکر۔
_________________________________
عناب اور ارمان فرنٹ سیٹ پر بیٹھے ہوئے تھے. ارمان جوں ہی زیارت کے علاقے میں داخل ہوا انابیہ کے دل کے اندر بے چینی بے تحاشہ بڑھ گئی.
” کیا ہوگیا ہے تمہیں تم اتنی زیادہ بے چین کیوں ہوں۔”
سارہ نے انابیہ کے چہرے پر پریشانی دیکھی تو اس سے پوچھ ہی لیا۔
” پتہ نہیں یہاں پر آکر مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے اس شہر سے میرا بہت گہرا تعلق ہے حالانکہ میں اس شہر کی ہی ہوں مگر ایسا لگ رہا ہے جیسے یہاں میرا کوئی اپنا رہتا ہے.”
” وہم ہے تمہارا بیٹا کچھ بھی نہیں ہے ایسا. ارمان جلدازجلد ہمیں گھر پہنچاؤ. “
دادی نے ارمان کو کہا جبکہ ارمان نے گاڑی روک دی۔
” انابیہ پیرسائیں کا مزار آیا ہے ہم یہاں حاضری دیئے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے. ہم انہیں بہت معتبر سمجھتے ہیں تم بھی اترو اور سارہ تم بھی اترو۔”
دادی نے یہ بات سنی تو ان کے چہرے پر بے تحاشہ پریشانی آگئی۔
” ارمان بیٹا میں تم سے کیا کہہ رہی ہوں کے سیدھا گھر چلو۔”
” نانی جان آپ بھی جانتی ہیں کہ ہم یہاں حاضری دیئے بغیر آگے نہیں جاتے. لڑکیاں پہلی بار آئی ہیں تو انہیں یہاں لے کر آنا چاہیے. “
ارمان یہ بات کر رہا تھا جبکہ انابیا گاڑی سے نکل کر مزار کی سیڑھیوں پر چڑھنا شروع ہوگئی۔
” ارمان اسے روک لو اسے مت جانے دینا ورنہ وہ ہم سے ہمیشہ کے لئے چھین لی جائے گی. “
” کیا ہوگیا ہے دادی جان آپ ایسا کیوں کہہ رہی ہیں. “
” تم لوگ ابھی بچے ہو تم لوگ وہ بات نہیں جانتے جو میں جانتی ہوں. جاؤ اور فورا روکو اسے اگر وہ مزار کے اندر چلی گئی تو وہ ہماری نہیں رہے گی۔”
ارمان نے دادی کی بات سنی تو سامنے سیڑھیاں چڑھتی انابیہ پر نظر پڑی. وہ ایسے اوپر جا رہی تھی جیسے وہ اپنے ہوش و حواس میں نہ ہو.
” عناب رک جاؤ اوپر مت جاؤ۔”
ارمان اس کے پیچھے بھاگا مگر انابیا نے اس کی ایک بات نہ سنی اور مزار کے اندر چلی گئی.
یہ جیسے ہی مزار کے اندر گئی اس پر پھولوں کی بےتحاشا بارش ہوئی. اسے سمجھ نہیں آئی کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے جب اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو پیچھے کوئی دنیا نہیں تھی جسے یہ چھوڑ کر آئی تھی۔ آگے روشنی ہی روشنی تھی اسے سمجھ نہیں آئی کہ یہ کہاں آ گئی ہے.
” بابا بابا کہاں ہیں آپ. “
یہ مزار کے احاطے میں آگئی اور بھاگنے لگی۔ یہ جو ہیں آگے بڑھیں اسے ایک شخص بیٹھا ہوا نظر آیا. وہ دعا کر رہا تھا اس کے ہاتھ اس کی آنکھوں پر تھے. انابیہ کے نیلے نشان میں سخت تکلیف ہونا شروع ہوگئی اور اس کے اندر سے نیلی روشنی نکلنے لگی.
درد کی شدت سے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور یہ اونچی آواز سے رونے لگ گئی.
” کون ہو تم اور یہ میرے ساتھ کیا ہوا ہے. “
سامنے بیٹھے شخص نے جو ہی اپنی آنکھوں سے ہاتھ ہٹائے انابیہ ڈر کے مارے پیچھے بھاگی۔
اس شخص کی گہری نیلی آنکھیں بالکل انابیہ جیسی تھی. اس کے ہاتھ پر نیلا نشان بھی روشنی نکال رہا تھا.
” کون ہو تم.؟”
” تمہارا محرم تمہارا شوہر. سردار عبدالجبار خان. تمہیں یہاں آنا تھا یہ ہمارا وعدہ تھا. آج وہ وعدہ پورا ہوا اب تم مکمل طور پر میری دسترس میں ہو. “
جبار زمین سے اٹھا اور انابیہ کی طرف آنے لگا.
اس کا قد ساڑھے چھ فٹ تھا. جسم کسی وحشی کی طرح چوڑا اس کے بازو اس کے سفید کرتے سے بھی باہر جھانک رہے تھے۔
سرخ و سفید رنگت پر نیلی آنکھیں بہت خوبصورت لگتی تھی. بال ماتھے پر آئے ہوئے تھے جبکہ یہ بڑے شان سے انابیہ کی طرف آ رہا تھا.
” مجھے جانا ہے. “
یہ پیچھے کی طرف بھاگ گئی مگر جن سیڑھیوم سے یہ آئی تھی وہ وہاں پر نہیں تھی۔
” تمہارا ہر راستہ مجھ تک جاتا ہے اب تمہاری زندگی کے باقی تمام راستے بند ہو چکے ہیں. “
انابیہ کو باہر نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہ آیا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ کیسے اتنی تیزی میں مزار کی سیڑھیاں چڑھ گئی اور اندر آ گئی. جبار اس کی طرف آنے لگا
“میری نانور(دلہن) فرار کا اب کوئی راستہ نہیں. اب تم صرف میری ہو تمہیں میرے پاس رہنا ہے. “
” نہیں ایسا نہیں ہو سکتا. میں تمہیں نہیں جانتی اور یہ میں کس جگہ پر آگئی ہوں۔”
یہ انابیہ کے قریب آیا اور اسے اپنی باہوں میں اٹھا لیا. انابیہ کے نشان سے نکلتی روشنی نے اس کے درد میں شدت کا اضافہ کردیا. اس وحشی سے جان چھڑانے کے لئے انابیہ پوری کوشش کررہی تھی مگر ایسا لگ رہا تھا کہ یہ انسان نہیں ہے.
” کوشش کا کوئی فائدہ نہیں شہزادیاں باپ اپنے گھر آ چکی ہیں. “
مزار کے پچھلے راستے سے یہاں سے ایسے ہی اٹھائے نکل گیا. اس نے پچھلی سیڑھیاں جیسے ہی طے کی نیچے لوگوں کا ہجوم تھا۔ انابیہ پر پھولوں کی بارش ہوئی مگر نیلے پھولوں کی. جبار خان نے اپنے اوپر کی ہوئی چادر اس کے اردگرد پھیلا دیں. درد کی شدت سے یہ اپنے حواس کھو رہی تھی.
” مجھے جانے دو میرا تمہاری دنیا سے کوئی تعلق نہیں۔”
” آپ کا تعلق ہماری دنیا سے شروع سے ہے اور ہم بھی انسان ہیں آپ ہی کی طرح۔ جب آپ اپنے حواس میں ہوں گی تو ہماری حقیقت جان جائینگی۔”
جبار نے اس کی پیشانی چومی اور اس کی آنکھوں پر ایک ہاتھ رکھا جس سے انابیہ اپنے ہوش و حواس سے بیگانہ ہوگئی۔
” زندہ اور سلامت رہے ہمارے شہزادے اور شہزادی. “
لوگوں کے شعور میں سے یہاں سے لیے درخت کے پاس آیا جہاں سے ہارون نے اس کا بندھا ہوا گھوڑا کھولا اور یہ اسے لیے گھوڑے پر بیٹھ گیا۔
” بہت جلد آپ اپنے محل میں ہوں گی ہماری منزل پر۔”
انابیہ کو اپنی باہوں میں چھپائے اس نے گھوڑا دوڑا دیا. لوگوں نے ان پر جاتے جاتے بھی بے تحاشہ پھینکے.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: