Ishq Mein Mar Jawan Novel By Hifza Javed – Episode 5

0
عشق میں مرجاواں از حفضہ جاوید – قسط نمبر 5

–**–**–

میری اجازت کے بغیر کاپی بیسٹ مت کریں
رات دھیرے دھیرے گہری ہو رہی تھی۔پورے خان محل میں روشنی تھی کیونکہ آج ان کی ملکہ آچکی تھی۔کمرے کے وسط میں پڑے بڑے سے بیڈ پر لیٹی نیلی شہزادے اپنے شہزادے کے ہوش اڑا رہی تھی۔اس کے بال آج شہزادے کی خواہش پر تکیے پر بکھرے ہوئے تھے اور سامنے کھڑینفیس سی عورت نے جبار کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“بہت پیارا ہے یہ۔جتنا سنا تھا اس سے کہیں زیادہ۔تم جانتے ہو تمہارے بچے بہت خوبصورت ہوں گے بالکل تم دونوں کی طرح۔”
جبار نے اپنی ماں کی طرف دیکھا۔
“والدہ آپ جان نہیں سکتی ہم آج زیادہ خوش ہیں ہم نے ان کا کتنا انتظار کیا ہے ۔ انہیں اس جگہ پر دیکھنے کے لئے ہم نے اپنے دن رات کنے ہیں آپ جانتی ہیں ہم کتنی راتیں یہ سوچ کر نہیں سوئے کہ کچھ عرصے بعد یہ ہمارے پاس ہوں گی۔”
” ہم جانتے ہیں آپ ان سے محبت نہیں عشق کرتے ہیں. یہ ہے بھی اسی قابل لیکن کیا یہ جب ہوش میں آئیں گی تو یہ اس دنیا کو قبول کر پائیں گی۔”
” والد یہ اس دنیا کا حصہ ہیں یہ چاہیں نہ چاہیں انہیں قبول کرنا ہے۔”
جبار نے اس پر دیا ہوا کمبل دوبارہ سیٹ کیا جیسے اسے سردی نہ لگ جائے۔ کمرے میں آتشدان دہک رہا تھا. باہر برفباری ہوئی تھی جبکہ اندر کا موسم بہت گرم تھا. انابیہ کو یہاں لاتے ہیں جب کمبل میں لٹا دیا اور اسے اضافی سویٹر بنا دی۔ وہ جانتا تھا کہ یہ اتنی سردی کی عادی نہیں ہے.
” تم اس کا خیال رکھو ہم تمہارے ولیمے کی تیاری دیکھ لیں. “
” جی والدہ . “
__________________________________
آمنہ اور شجاع اپنی تین سالہ بیٹی کو لے کر میر سایئں کے مزار پر آئے۔ یہ لوگ ان کے خاندانی مرید تھے۔ انابیہ شدید بیمار تھی. ان لوگوں نے ملک کا کوئی ڈاکٹر نہیں چھوڑا تھا مگر اسے کسی سے بھی آرام نہ آیا آخری حربہ اسے مزار پر لانا ہی تھا. یہ لوگ نہیں جانتے تھے کہ اسے یہاں لانا ان کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی ہے. انابیہ کو بہت منتوں اور مرادوں سے شجاع خان نے مانگا تھا. وہ اپنی بیٹی کی زندگی کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے تھے۔
میر ابراہیم بڑے آرام سے اپنے تخت پر بیٹھے ہوئے تھے.
” سلام میر سایئں”
شجاع نے آگے بڑھ کر میر سائیں کا ہاتھ چوما اور سلام کیا۔ آمنہ اس وقت مکمل نقاب میں تھی اور ان کے ہاتھ میں اپنی سوئی ہوئی بیٹی تھی.
” کیسے آنا ہوا تمہارا شجاع آج یہاں۔”
” سائیں میری چھوٹی سی بچی ہے یہ کہیں سے ٹھیک نہیں ہوئی. ڈاکٹر کہتے ہیں اسے کوئی بیماری نہیں مگر یہ بہتر نہیں ہو رہی. آپ دعا کیجئے نہ کہاں سے شفا ہو. “
میر سائیں نے آمنہ کی طرف دیکھا۔
انہیں اس بچی کو دیکھ کر عجیب سا احساس ہوا جیسے یہ اسے بہت عرصہ سے جانتے ہیں۔” اسے ہمارے پاس لاؤ. “
میر ابراہیم نے آمنہ سے بچی کو مانگا. شجاع اپنی بیٹی کو لے کر میر ابراہیم کے پاس گئے۔ میر ابراہیم نے بڑھ کر اس بچی کو اپنی گود میں اٹھا لیا.ان کی آنکھیں اس بچی کو دیکھ کر چمکنے لگ گئی۔
” شجاع تم جانتے ہو تمہاری بیٹی کون ہے. “
” سائیں ہماری بیٹی ہے ہم اتنا ہی جانتے ہیں۔”
” میر خان قبیلے کی شہزادی ہے یہ۔ میر خاندان کی آنے والے اگلے میرسردار کی ملکہ ہے یہ۔”
آمنہ اور شجاع دونوں میر ابراہیم کی بات سن کر بہت زیادہ ڈر گئے کیونکہ وہ اس قبیلے کے بارے میں جانتے تھے کہ ان کے بارے میں یہ بات مشہور تھی گی یہ لوگ انسان نہیں ہیں۔ ان کے خاندان میں بہت سے لڑکوں کے ہاتھوں پر نشان تھے . جو میر کی گدی پر بیٹھا اس کے ہاتھ پر خصوصا نیلا نشان ہوتا. کہا جاتا تھا کہ یہ لوگ جنات سے باتیں کر سکتے ہیں یا یہ لوگ خود ان کی مخلوق سے ہیں. مگر یہ لوگ انسان ہی تھے کیونکہ یہ جس طرح رہتے تھے وہ انسان ہی رہ سکتے تھے. آج تک کوئی ان کی باتوں کو جان نہیں پایا تھا.
“سائیں ہم عام انسان ہیں ہمارا اور آپ کا کیا مقابلہ۔”
میر ابراہیم کے ہاتھ میں بچی دے کر اب خود بھی یہ پچھتا رہے تھے مگر یہ لوگ میر ابراہیم کے ہاتھ سے اپنی بیٹی نہیں لے سکتے تھے.
“کرم نواز فورا آئو اور اپنے چھوٹے میر کو بلا کر لائو۔حویلی میں مٹھائی بانٹو اور سب کو بتا تو کہ ہم آج چھوٹے میر کا نکاح کر رہے ہیں۔”
یہ سنتے ہی آمنہ نے شجاع کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔
“شجاع میری بچی واپس لیں۔یہ بہت ظالم قبیلہ ہے ان کے علاوہ تو کوئی نام و نشان بھی نہیں ہے کہ یہ لوگ کہاں رہتے ہیں۔ صرف ان کا مزار یہاں ہے ہم تو ان کو صحیح طرح سے جانتے بھی نہیں. بےشک آپ کا خاندان ان کا خاندانی مرید ہے مگر ہم اپنی بیٹی ایسی کسی کے ہاتھ میں نہیں دے سکتے.”
ابراہیم آمنہ کی باتیں خاموشی سے سن رہے تھے۔” ڈرو نہیں. تمہاری بیٹی کو جو مقام حاصل ہوگا وہ ہمارے خاندان میں بہت کم لوگوں کو حاصل ہوتا ہے. یہ اپنی ایسی قسمت لکھوا کر آئی ہے کہ تم لوگ سوچ نہیں سکتے۔اگر اسے اس وقت ہی میر کی دسترس میں نہ دیا گیا تو اس کا بچ پانا بہت مشکل ہے۔میر بھی بہت دنوں سے بے چین ہے اب ہمیں اس کی وجہ سمجھ آئی ۔”
میر جبار یہاں داخل ہوا۔یہ آٹھ سال کا بچہ تھا۔میر ابراہیم کا پوتا۔اس کے ساتھ میر ابو بکر اسکے والد بھی آئے تھے۔
“بابا آپ نے یاد فرمایا ہے ہمیں”
“ہاں ابوبکر دیکھو اس بچی کو اس محل کی شہزادی کو۔اس کی قسمت تمہارے بیٹے سے جڑی ہوئی ہے۔”
ابوبکر نے اسے بابا سے لے کر تھاما۔انابیہ بے تحاشہ خوبصورت تھی۔اس کی سبز آنکھیں بلکل گڑیا جیسی تھی۔
“بابا یہ تو بہت پیاری ہے۔یہ شجاع کی بیٹی ہے۔بہت پیاری ہے شجاع یہ۔میر اسے دیکھو تمہارج گڑیا۔”
انہوں نے بچی میر جبار کی طرف بڑھائی جس نے اس جیسے ہی تھاما ایک نیلی روشنی انابیہ کی کلائی پر بنی اور اس کی آنکھیں رنگ بدل گئی۔یہ بہت دونوں سے بمشکل آنکھیں کھولتی تھی مگر آج اس نے پوری آنکھیں کھولی اور جبار کو دیکھا۔
“دیکھو شجاع اس کی قسمت ہمارے پوتے سے جڑ چکی ہے۔یہ آج سے تین سال پہلے ہی میرے پوتے کے نام ہو گئی تھی۔اس کی پیدائش کے وقت جبار سے رشتے اسی لمحے جڑ گیا تھا۔ تمہیں اب اپنی بیٹی ہمیں دینی ہے۔ ہم تمہیں یقین دلاتے ہیں کہ یہ ہمارے خاندان میں شہزادی بن کر رہے گی. اسے بے تحاشہ پیار دیا جائے گا. “
” سائیں بہت چھوٹی ہے یہ ہم پر مہربانی کیجئے ہم تو دعا کروانے آئے تھے. “
” اس کی آنکھیں بدل چکی ہے اب اب تم چاہو بھی تو ہم اسے واپس نہیں کر سکتے.
ہمارے قبیلے کا یہ اصول ہے کہ یہاں جو شہزادی نیلے رنگ کے نشان کے ساتھ پیدا ہوتی ہے یا شہزادہ جب اسے ہاتھ لگائے اور وہ نیلا نشان اس کی کلائی پر بن جائے تو اسے واپس نہیں کیا جاتا. تم جانتے ہو پورے سو سال بعد شہزادی پیدا ہوئی ہے. سو سال بعد کوئی نشان والا شہزادہ پیدا ہوا جو میرا جب پوتا تھا اور اب اس کی شہزادی انابیہ ہے۔”
آمنہ اس وقت بےتحاشا رو رہی تھی وہ جانتی تھی کہ اگر ان کی بیٹی کا نکاح جبارخان سے ہو گیا تو وہ کبھی بھی خوش نہیں رہ پائے گی. وہ تو یہ بات بھی نہیں جانتی تھی کہ جب بار انسان بھی ہے یا نہیں کیونکہ اس بچے کو دیکھ کر ہی نظر آتا تھا کہ یہ بچہ انسانوں کی طرح نہیں اس کی آنکھیں گہری نیلی تھی جو وقت آنے پر رنگ بدلا جاتی تھی اور اس کے نشان سے روشنی بھی نکلتی تھی.
” سائیں رحم کریں ہماری بیٹی پر بہت چھوٹی ہے یہ. “
” ہم صرف ابھی نکاح کر رہے ہیں رخصتی جب یہ بڑی ہو جائے گی تب کریں گے. تم پریشان مت ہو ہم اپنی بیٹی کا بہت خیال رکھیں گے. جبار تمہیں اپنی گڑیا پسند آئی. “
آٹھ سالہ عبدالجبار خان نے 3 سالہ انابیہ کو اٹھایا ہوا تھا یہ اپنے دادا کی طرف مڑا اور ہنسا.” یہ تو بہت پیاری ہے دادا جان کیا یہ میری گڑیا ہے۔”
” ہاں یہ تمہاری گڑیا ہے اب اسے تم سے کوئی چھین نہیں سکتا۔”
” سائیں ہماری بیٹیاں میں واپس کر دیجیئے ہم نہیں چاہتے کہ یہ اس قبیلے میں آئے اس کی پہچان ہی لوگ نہیں جانتے۔”
” آمنہ بیٹا تم نہیں جانتی ہم کون ہے اور ہم ہم لوگوں کو بھی نہیں بتاتے کہ ہم کون ہے مگر ہم تمہیں اس بات کی تسلی دیتے ہیں کہ تمہاری بیٹی کو یہاں کوئی نقصان نہیں ہوگا. جانتی ہو نشان والی ایک ہی شہزادی ہوتی ہے. صدیوں بعد پیدا ہونے والی یہ شہزادی راج کرتی ہے. لوگ اپنی زندگی اس کے قدموں میں بچھا دیتے ہیں اور سب سے زیادہ اس کا شوہر. “
” سائیں ہماری بیٹی ہے یہ اکلوتی ہے ہم آپ کے قبیلے کی سختیاں یہ برداشت نہیں کر پائے گی۔”
” تم کیوں پریشان ہوتے ہو شجاع۔”
میر ابوبکر نے انہیں حوصلہ دینا چاہا جبار ان کے پاس آیا اور بول پڑا.” میں وعدہ کرتا ہوں اپنی زندگی میں نہ کوئی تکلیف انہیں ہونے دوں گا۔ جب تک میری سانسیں چلتی رہیں گی تب تک ان کی خوشی میرے ساتھ رہے گی. میں وعدہ کرتا ہوں آج آپ سب کے سامنے کہ کبھی انہیں کسی تکلیف کے نزدیک بھی جانے نہیں دوں گا مگر خود سے دور بھی نہیں کروں گا۔”
اس کی بات پر سب لوگ حیران ہوگئے جبکہ انابیہ نے آنکھیں کھولی اور جبار کو دیکھا۔
“گڑیا میری ڈول۔”
آمنہ نے فورا آگے بڑھ کر اسے جبار سے لینا چاہا۔
“آمنہ بیٹا جو طے ہے وہ طے ہے ۔تم اسے جبار سے الگ نہیں کر سکتی کیونکہ یہ جبار کی ہے۔”
شجاع خان آگے آئے اور آمنہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
آمنہ تم چھوڑ دو ابھی جو ہورہا ہے وہ ہونے دو ہم بعد میں سب کچھ دیکھ لیں گے. “آمنہ پیچھے ہٹ گئیں جبکہ میر سائیں نے فورا حکم دیا کہ نکاح کا انتظام کیا جائے نکاح خواں آیا اور ان دونوں کا نکاح کردیا گیا یہ ایک ایسا تعلق تھا جس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے تھے.
نکاح کے فورا بعد آمنہ نے جبار کے ہاتھ سے اپنی بیٹی لے لی۔ آمنہ انابیہ کو لے کر فورا سب سے دور ہوگئی جبکہ شجاع اور میر سائیں کی بات ہوئی ۔جو بات طے ہوئی وہ انابیہ کا مستقبل طے کر گئی۔
__________________________________
تیمور اس وقت باپ سے انابیہ کے نکاح کے بارے میں سن رہا تھا اس بارے میں سنتے ہیں اسے سمجھ نہیں آیا کہ یہ اپنے باپ کو کیا کہے.
” آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں وہ بہت چھوٹی تھی اس وقت آپ نے ان کی بات کیوں مانی ۔ وہ کھلونا نہیں تھی جو آپ نے ان کے ہاتھ میں دے دیں آپ جانتے ہیں کہ اس بات کا کیا مطلب ہے. جس شخص کے بارے میں آپ بات کر رہے ہیں نہ وہ ملک کا کتنا بڑا آدمی ہے اور اس کے بارے میں آج تک کوئی جان نہیں پایا وہ کہاں رہتا ہے اس کا خاندان کیسا ہے. “
” بیٹا ہم یہ بات جانتے تھے اس وقت بھی کہ اس کے بارے میں یہ بات نہیں معلوم کہ وہ کہاں رہتے ہیں.آپ اچھے طریقے سے کہ وہ لوگ بہت زیادہ چھپے ہوئے لوگ ہیں۔”
” اب کی بار ہم دونوں واپس بلوچستان جائیں گے اور میں وہاں پر جا کر ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کروں گا میں چاہتا ہوں کے انابیہ کو طلاق ہو جائے۔”
” آپ ٹھیک کہ رہے ہیں ایسے رشتے کا کوئی فائدہ نہیں. یہاں سے جاتے ہیں میں خود اس کی خلا کا کیس دائر کروں گا۔”
__________________________________
انابیہ کو ہوش آ رہا تھا اسے اپنا سر بہت زیادہ بھاری محسوس ہو رہا تھا مگر اسے آج اپنے نشان میں تکلیف نہیں بلکہ عجیب سا احساس ہو رہا تھا.
جبار اس کے ساتھ ہی لیٹا ہوا تھا اور اس کا ایک ہاتھ انابیہ کے سر پر تھا جبکہ دوسرا ہاتھ انابیہ کے پیٹ پر تھا. انابیہ کو کوئی بھاری چیز اپنی پیٹھ پر محسوس ہوئی تو یہ اٹھنے کی کوشش کرنے لگی۔ اس نے جیسے ہی حرکت کی جبار جاگ گیا۔
” میری شہزادی جاگ گئی ہیں کیسی ہیں آپ. “
جبار نے انابیہ کو اٹھتے دیکھا تو اسے واپس لٹایس آیا اور اس کے اوپر جھکتے ہوئے اس سے پوچھا۔
انابیہ کو پہلے تو سمجھ نہیں آئی کہ یہ کہاں پر ہے اور یہ شخص کون ہے پھر اسے جب معلوم ہوا کہ یہ ایک اجنبی ہے تو اس نے زور دار چیخ ماری.
” اف شہزادی آپ کتنا شور کرتی ہیں. میں ہوں آپ کا شوہر. آپ مجھے نہیں جانتی مگر میں آپ کو بہت اچھے سے جانتا ہوں. میں جبار خان. “
انابیا لیٹے لیٹے ہی اس سے دور ہوئی اور چیختے ہوئے بولی.” کون ہو تم اور میں یہاں پر کیسے آئی۔:
” آپ میری بیوی ہیں ہمارا نکاح بہت پہلے بچپن میں ہوچکا ہے. “
” میرا کوئی نکاح نہیں ہوا کسی سے بھی۔ میں تمہیں نہیں جانتی اور یہ کیسی دنیا ہے جہاں تم مجھے لے آئے ہو. “
انابیہ نے اپنے اردگرد کمرے کی طرف دیکھا جہاں پر اس کی بے تحاشہ تصویریں تھیں. اس کمرے میں بیڈ شیٹ بھی تھی جبکہ پردے سفید اور نیلے تھے. فرش پر بچھی ہوئی کارپٹ بھی نیلے رنگ کی تھی۔
” میں نے کہا مجھے جانے دو میرا تم سے کوئی نکاح نہیں ہوا. “
” ٹھیک ہے اگر آپ کو ہمارے نکاح پر شک ہے تو ہم دوبارہ نکاح کر لیتے ہیں تاکہ آپ کو اعتبار ہو جائے. میں ابھی جاتا ہوں باہر اور سب کو کہتا ہوں کہ نکاح خواں بلائیں. “
یہ اس کی بات سن کر شدید خوفزدہ ہوگئی اور بیڈ سے لگ گئی۔
” میں ایسا ہرگز نہیں کروگی تم کون ہو میں تمہیں جانتی بھی نہیں. “
جبار اس کے نزدیک آیا اور اس کا ہاتھ تھام کر لبوں سے لگا لیا.” مجھ سے اب اور دوری برداشت نہیں ہوتی آپ سے شہزادی. آپ کے والد آپ کو ہمیں دینے سے انکار کرتے ہیں. وہ اپنا وعدہ بھول رہے ہیں جب کہ ہم اپنا وعدہ یاد ہے اب تین سال کی تھی جب آپ کو ہمارے پاس لایا گیا تھا اور ہمارا آپ سے نکاح ہوا تھا. ہمیں اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ آپ کو یاد ہے یا نہیں کہ ہمارا نکاح ہوا تھا. ہم آپ کو اپنی بیوی مانتے ہیں ہمارے لوگ اس بات کے گواہ ہیں کہ آپ ہماری بیوی ہیں. آپ کی تسلی کے لیئے ہم دوبارہ نکاح کرتے ہیں۔ ورنہ آپ ہماری بیوی ہیں ہمیں یہ سب کچھ کرنے کی ضرورت نہیں. “
” جھوٹ بولتے ہو تم . تم ایک وحشی انسان ہو . میں نے کہا نا مجھے نہیں یاد کہ ہمارا نکاح ہوا تھا. “
جبار نے اپنی کلائی آگے گی اور انابیہ کی کلائی بھی آگے گی۔ دونوں کی کلائی سے روشنی نکلی جو انابیہ کے ماتھے پر جا لگی۔
انابیہ کو بچپن کا منظر نظر آیا جہاں اس کی ماں باپ اسے میر کے پاس لے کر آئے تھے. جبار نے اسے سارا منظر دکھایا جس سے انابیہ کی چیخ نکل گئی” تم کون ہو تم انسان نہیں ہو۔”
” میں انسان ہی ہوں، مجھے دیکھو۔ میں تمہارا شوہر ہوں میں تمہیں آخری مرتبہ کہتا ہوں شہزادی کہ میں نکاح خواں بلا رہا ہوں تم دوبارہ نکاح کر لو اپنی تسلی کے لئے. اور ایک بات میں تم سے دوری ہرگز برداشت نہیں کروں گا ابھی بھابھی آئینگی وہ اور والدہ دادی جان کے ساتھ سب کچھ سمجھا دیں گی.”
جبار اسے چھوڑ کر اٹھ گیا جبکہ گئی ملازمائیں اندر آ گئی۔ ایک 30 سالہ لڑکی اندر آئی. اس کے ہاتھ میں ایک خوبصورت لال رنگ کا ڈوپٹا تھا. یہ بے انتہا خوبصورت تھی اور اس نے مہارانیوں جیسا لباس پہن رکھا تھا. اس کے سر پر خوبصورت حجاب تھا. یہ اندر ایتوان رابعہ کو روتے ہوئے پایا جبکہ ملازمائیں عناب کو چپ کروا رہی تھی.
” شہزادی آپ اتنا رو کیوں رہی ہیں۔”
اس نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔” کیا تم نہیں جانتی میں کیوں رو رہی ہو مجھے اغوا کیا گیا ہے اور جانے یہ کون سی دنیا ہے. “
” شہزادی آپ کا نکاح بچپن میں ہی جبار میر سے ہوگیا تھا اب اس کو بدل نہیں سکتی. آپ اگر نکاح دوبارہ نہیں بھی کریں گی تو اس سے ان کو یا کسی کو فرق نہیں پڑے گا کیونکہ سب اس بات کی گواہ ہے کہ آپ کا نکاح ہو چکا ہے. یقین جانیے میر جبار اب آپ سے دور نہیں رہیں گے. اس لیے بہتر ہے کہ آپ اپنی تسلی کے لئے دوبارہ نکاح نامہ سائن کر دیں. “
انابیہ نے نظر اٹھا کر اس لڑکی کو دیکھا اور روتے ہوئے کہا.” کیا تمہاری کوئی بیٹی نہیں یا تمہاری کوئی بہن نہیں جس کے ساتھ ایسا ہو تو تمہیں کیسا لگے گا“
” یقین کیجیے شہزادی اگر آپ سے زبردستی نکاح ہو رہا ہوتا جبار کا تو میں انہیں کبھی یہ نہ کرنے دیتیں مگر آپ ان کی بیوی ہیں اس لیئے ہم کچھ نہیں کرسکتے۔”
اس لڑکی نے اور بھی بہت سی باتیں کی جس سے یہ بہت زیادہ خوفزدہ ہوگئی اس لئے جب نکاح والے آئے تو اس نے مجبورا نکاح کے لئے ہاں بول دیا۔
جیسے ہی اس نے نکاح کے لیے ہاں بولا ہر طرف بہت زیادہ آتشبازی شروع ہوگی آتشبازی کی آوازیں اندر محل تک آ رہی تھی ملازم آئے اور یہ لڑکی جو اندر آئی تھی فورا باہر کی طرف گی تاکہ یہ آتشبازی دیکھ سکیں.
” مبارک ہو ہماری شہزادی اب مکمل طور پر ہماری ہیں۔”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: