Ishq Mein Mar Jawan Novel By Hifza Javed – Episode 6

0
عشق میں مرجاواں از حفضہ جاوید – قسط نمبر 6

–**–**–

انابیہ بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی۔اسے سفید رنگ کی مخملی پوشاک پہنائی گئی تھی۔اس کے اردگرد نیلے رنگ کی خوبصورت سی مخمل کی ہی چادر تھی۔جبار چلتا ہوا اس کے پاس پایا۔بیڈ پر یہ سہمی ہوئی بیٹھی تھی۔جبار اس کے نزدیک آیا اور اس کے پاس آتے ہی اسے کچھ نہیں کہا۔بس اسے اٹھایا اور اپنی بانہوں میں اٹھا لیا۔انابیہ اس وقت اتنی ڈر چکی تھی کہ اس کا روم روم کانپ رہا تھا۔جبار اسے لیئے باہر آیا اور کمرے کے باہر بنی بالکونی میں کھڑا ہوا۔اس نے آنکھیں بند کی تو اس کے سفید رنگ کے پر نکل آئے۔انابیہ تو بلکل بے ہوش ہو چکی تھی.اس کا اندر تک ایسا کانپ گیا کہ اسے ایسا لگا کہ اسے اگلا سانس نہیں آئے گا۔جبار اسی تھامے بالکونی کے قریب آیا اور چھلانگ لگا دی۔انابیہ کی چیخیں سنے والی تھی۔ جبار اسے لئے جوں ہی اڑا انابیہ نے آنکھیں سختی سے بند کر لیں وہ نہیں جانتی تھی کہ مستقبل میں کیا کرنے والا ہے اور آخری کونسی مخلوق ہے۔
” آنکھیں کھولیں شہزادی دیکھیں دنیا بہت حسین بے حد پیاری۔”
انابیہ نے آنکھیں کھولی تو اس کے سامنے سرسبزوشاداب درخت ہی درخت تھے ۔دات بہت گہری ہو چکی تھی اسی خاطر چاند کی چاندنی واضح تھی جب جبار نے اسے اوپر لے جانے کے لیے اپنے پر پھیلائے ۔ یہ اسے لیے اور اوپر آگیا۔
” مجھے نیچے اتارو میں تمھارے ساتھ نہیں جاؤں گی یہ مجھے کہاں لے کر جا رہے ہو. “
جبار اسے لیے اور اوپر چلا گیا انابیہ کی چیخیں سننے والی تھی جبار اسے بالکل درختوں کے وسط میں لے آیا انابیہ نے ڈرتے ہوئے آنکھیں کھولیں تو اسے اپنے سامنے جبار کے پر نظر آئے جو اس کے اردگرد پھیلے ہوئے تھے وہ نیلے اور سفید رنگ کے تھے اس وقت شدید سردی تھی ہر طرف برف باری تھی اور ہر چیز کو برف میں ڈھکا ہوا تھا درخت بھی برف میں سفید ہی لگ رہے تھے.
” یہ ہماری ریاست ہے شہزادی. یہ میرا گھر ہے . آپ اپنی ریاست دیکھیں۔ جہاں تک آپ کی نظر جائے گی وہاں تک ہماری ریاست کی حد ہے. “
جبار نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھ سے اونچا کیا. انابیہ کی نظر جہاں تک جا رہی تھی وہاں تک پر تھی اور گھر برف سے ڈھکے ہوئے نظر آرہے تھے. پورا شہر روشنیوں میں جگمگا رہا تھا جبکہ ان گھروں کے وسط میں ایک خوبصورت محل تھا جو ان سب سے اونچا تھا اور سب سے خوبصورتی سے سجایا گیا تھا.
” یہ شہر آج آپ کی وجہ سے سجا ہے اور اسے میرے لوگوں نے خاص طور پر سجایا ہے وہ دہکھیں ہمارا خان محل ۔”
انابیہ نے سامنے ان سب گھروں میں سب سے خوبصورت یہ محل سجا دیکھا اسے یہ محل بہت خوبصورت نظر آیا مگر جہاں پر یہ اس وقت جبار کے پردوں میں چھپی ہوئی تھی وہاں اس کا دل بہت زیادہ خوف سے کانپ رہا تھا انابیہ نے جبار کے سینے میں سر چھپا لیا۔
” آپ کو پسند آیا میں نے بہت سال اس لمحے بارے میں سوچا ہے جہاں میں آپ کو اپنے پروں میں چھپا کر یہاں لاؤنگا”
” شہزادے پلیز نیچے اتاریں مجھے۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔”
جبار نے اس کی بات کو اگنور کیا۔
” اب آپ کو اپنے لوگوں سے ملنا ہے جو آپ کا بے تابی سے انتظار کر رہے ہیں۔ جبار اسے لیے آگے کی طرف آیا اور ایک سرسبز و شاداب جگہ پر اترا جہاں بے تحاشہ روشنی بھی مگر نیلی۔
انابیہ نے اردگرد دیکھا جبار نے پر اس کے اردگرد سے نہیں ہٹائے کیونکہ بہت سخت سردی تھی اور جب جبار کے پر پر انابیہ کے اردگرد اسے سخت سردی سے بچا رہے تھے.
انابیہ کا جسم سردی سے کانپ رہا تھا۔ سامنے ہی سفید رنگ کا پنجرہ تھا جہاں سے دو بھوری آنکھیں اسے گھور رہی تھی۔ جبار نے اپنے ہاتھ کو سامنے کیا جس سے روشنی نکلی اور پنجرہ کھل گیا ایک شیر چلتے ہوئے ان کے سامنے آکر کھڑا ہوا ۔انابیہ کی آنکھیں خوف سے پھٹ گئ۔
” شیر——–“
انابیہ جبار کے ساتھ بلکل ایسے لگ گئی جیسے ایک چھوٹا بچہ خوف سے ماں کی آغوش میں چھپ جاتا ہے۔
“شیر تمہاری شہزادی ڈر رہی ہیں۔”
” شہزادی ہم سے مت ڈریں ہم تو آپ کے غلام ہیں۔”
انابیہ کو سمجھ نہیں آئی کہ اسے یہ آواز کہاں سے آرہی ہے۔ اس نے سامنے دیکھا تو اسے اپنا وہم لگا کہ شاید اس کے کان بجنا شروع ہو گئے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد پھر سے آواز آئی۔
” یہ ہم ہی شہزادی غوری شیر داد آپ کے غلام ۔”
اس کے ساتھ ہی شیر نے اپنا روپ بدلہ اور ایک انسان اس کے سامنے آگیا۔ یہ شخص بے انتہا خوبصورت تھا مگر جبار سے کم۔ یہ انابیہ کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھا اور جھک کر سلام کیا.
“شہزادی کو ان کے غلام شیرداد کا سلام۔آپ کا غلام آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔”
جبار نے اپنے پر انابیہ کے اردگرد سے ہٹائے. وہ چاہتا تھا کہ انابیہ خود آگے بڑھے اور شیرداد سے ملے مگر انابیہ کے پیر یہیں پر جم چکے تھے۔ اس کی آنکھوں میں بے انتہا خوف آچکا تھا یہ بالکل بے ہوش ہونے کے قریب تھی ۔انابیہ نے غوری کے پیروں کی طرف دیکھا جس کے پیروں کی چار چار انگلیاں تھیں اور اس کے پیروں پر شیر جیسی کھال تھی۔
“شیرو شہزادی ڈر رہی ہیں۔”
غوری فورا فرش سے کھڑا ہوا۔اس کے پیچھے سے پانچ چھ لوگ نکلے جن کے پیر بھی ایسے ہی تھے انابیہ یہ دیکھتے ہی خوف سے چیخنے لگ گئی اور اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا جبار اس کے قریب نہیں آیا بلکہ وہ اسے یہ بات بتانا چاہتا تھا کہ یہ لوگ بھی اسی کے ہیں.
” شہزادی ملیے ان لوگوں سے. ایک ریاست ہماری وہ ہے جہاں ہم رہتے ہیں اور ایک ریاست ہماری یہ ہے. یہ بھی میرے لوگ ہیں. “
انابیہ نے ایک نظر ان لوگوں کی طرف دیکھا اور ایک نظر جبار کو۔ اس کی آنکھیں جواب دے گئی اور یہ گرنے ہی لگی تھی جب جبار نے اسے تھام لیا۔
“تم سب کی شہزادی کو بہت وقت ہے ابھی تم سب کو سمجھنے میں۔ان کو لے جا رہا ہوں میں ۔اگلی ملاقات دربار میں ہوگی۔”
جبار اسے تھامے اڑا ۔یہ انابیہ کو لیئے محل واپس آیا اور آتے ہی اپنے کمرے میں چلا گیا۔اس نے انابیہ کو بیڈ پر لٹایا۔
“میری جان میری شہزادی۔کل میں آپ کو آپ کے والد سے مل وانے لے جائوں گا۔وہ بہت ظالم ہیں میں نے آپ کو کئی بار ان سے مانگا۔وہ انکار کر گئے ۔اب آپ میری دسترس میں ہیں اور وہ اب یا تو با خوشی ہماری شادی پر راضی ہوں گے یا ساری زندگی آپ کو دیکھنے کے لیئے ترس جائیں گے۔”
جبار اٹھا اور اس کی دوسری طرف لیٹ گیا۔انابیہ پر کمبل آڑھا کر اس نے اسے اپنی بانہوں میں تھام لیا۔
__________________________________
ارمان بے یقینی سے نانی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا. دوپہر سے رات ہوگئی تھی. یہ ہزار بار مزار کے اندر گیا مگر انابیہ کا کہیں نام و نشان نہیں تھا ۔یہ بے انتہا پریشان تھا اس نے اس بات کی لوگوں سے چھان بین کی کہ یہاں کوئی لڑکی آئی تھی مگر کسی نے جواب نہ دیا یہ سوچ نہیں سکتا تھا کہ انابیہ اس کے سامنے سیٹھیوں پر چڑ کر گئی اور پھر غائب ہوگئی.
” نانی آپ مجھے سچائی کیوں نہیں بتاتی اس کا کیا تعلق ہے اس مزار سے. آپ لوگ اسے بلوچستان کیوں نہیں آنے دیتے تھے اور خصوصا آپ نے اسے مزار پر جانے سے کیوں روکا تھا. بتا دیجئے مجھے سچائی ورنہ ہم اسے کھو دیں گے. “
ارمان تھک ہار کر نانی کی محنت کرنے لگا. اس کی نانی اس وقت بے تحاشہ رو رہی تھی شاید وہ جان چکی تھی کہ انابیہ کبھی بھی ان کے پاس دوبارہ واپس نہیں آسکتی۔
” اس کے باپ سے پوچھنا. اس نے بچپن میں ہی میرے قبیلے کے سردار سے اس کا نکاح کر دیا تھا ہم نہیں جانتے کہ میر سردار کہاں رہتا ہے اور وہ ہمیشہ مجھے ایک ہی بات کہتا تھا کہ اماں اگر میں مر بھی جاؤں تو میری بیٹی کو کبھی بلوچستان مت جانے دینا اور خصوصا میرے قبیلے کے مزار پر.
ساری زندگی آمنہ اپنی بیٹی کو بچاتی رہی اور تم لوگوں کی ایک غلطی اسے ہم سے ہمیشہ دور لے گئی. “
سارہ پانی کی بوتل لیئے گاڑی کے اندر آئی۔اس کے سامنے ہی اس کی بہن جیسی کزن غائب ہوئی تھی۔یہ اور ارمان بنا کچھ کھائے پیئے اسے ڈھونڈ رہے تھے۔
” نانی آپ یہ سب باتیں اتنی آسانی سے کیسے کہہ سکتی ہیں ماموں جان اتنی بڑی غلطی کیسے کر سکتے ہیں وہ کسی انجان شخص سے اس کا نکاح کیسے کر سکتے ہیں“
” وہ انجان نہیں میر کی قبیلے کا سردار ہے تمہارے علاقے کا سردار کیا تم اسے نہیں جانتے. “
” سردار میر عبدالجبار خان. وہ شخص اس کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ وہ ایک جن ہے۔کوئی اس کی فیملی کا ٹھانا نہیں جانتا۔لوگ اس کے نام سے کانپ جانتے ہیں۔ماموں کیسے اتنی بڑی غلطی کر سکتے ہیں۔”
“یہ اس کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی ۔جو وہ ساری زندگی سدھارنے کی کوشش کرتا رہا ہے مگر وہ کیا کرسکتا ہے وہ اس کا نکاح بچپن میں ہی اس سے کرچکا تھا “
” ارمان تم ماموں کو کال کرو اور انہیں بتاؤ کہ وہ یہاں پہنچے ۔کم سے کم وہ ان کے کسی ٹھکانے کو تو جانتے ہوں گے۔”
” میں کرتا ہوں انہیں کال کے وہ جلد از جلد یہاں پہنچے اور انابیہ کو ہمارے ساتھ تلاش کریں. “
__________________________________
تیمور اس وقت عنایہ کی کیرٹیکر کے ساتھ کھڑا ہوا تھا ۔یہ بچی ساڑھے تین سال کی تھی اس کے ماں باپ کا قتل ہوا تھا جن کا کیس تیمور نے لیا ہوا تھا اس بچی کے گھر والے اس کو جائیداد کی وجہ سے مار دینا چاہتے تھے اور وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ وہ اسے اپنے پاس رکھیں اور اس کے ذریعے اس کی جائیداد کو حاصل کریں.
” سر آپ مجھے وہ پیپر دکھا دیں جس سے عدالت میں آپ کو سنایا کی کسٹڈی دے دی ہے. “
اس عورت نے عنایہ کو اس کے حوالے کرنے سے انکار کردیا تیمور نے اپنے بیگ میں سے پیپر نکالے اور اس کے سامنے دیئے.
” نے اس بچی کی کسٹڈی کے لئے اپلائی کیا ہے میڈم اور مجھے اس کی کسٹڈی مل چکی ہے اب یہ میری بیٹی ہے تو برائے مہربانی مجھے اسے سونپ دیجئے۔ “
کاغذات بہت پکے تھے اسی خاطر کیرٹیکر جاکر عنایہ کو کمرے سے لے آئی۔
عنایہ ایک حساس بچی تھی یہ جوں ہی باہر آئی۔ اس نے تیمور کو دیکھا تو فورا اس کے پاس آ گئی.
” انکل آپ میرے بابا کو لے آئے ہیں کیا میں نے آپ سے کہا تھا نہ کہ آپ جب دوبارہ آئے تو میرے بابا کو کہیے گا کہ میں انہیں بہت یاد کر رہی ہوں. “
تیمور آگے بڑھا اور عنایہ کو اپنی گود میں اٹھا لیا.” میرا بےبی میں نے آپ کے بابا سے بات کی ہے وہ کہہ رہی ہیں کہ آج سے تیمور ہیں میری بیٹی کے بابا ہیں۔آپ جانتی ہیں نہ کہ وہ کہاں پر ہیں۔ وہ جنت میں ہیں اور وہاں سے وہ آپ کے لئے تحفہ بھیجا کریں گے مگر وہ اسے اب دوبارہ واپس نہیں آ سکتے.”
” نہیں انکل میں نے ان کے پاس جانا ہے. “
” بیٹا میں نے آپ کو بتایا تھا نا کہ میں آپ کا کیرٹیکر ہوں اب آپ میرے ساتھ ہی رہیں گی. آپ کے بابا اب جنت میں ہے آپ کی ماما کے ساتھ وہ نہیں آ سکتے۔ کیا آپ اپنے تیمور بابا کے ساتھ نہیں جاؤگے. “
” آپ پہلے پرومس کریں آپ مجھے میرے بابا کے تحفے دیں گے“
” پکا والا پرومس میرا بچہ. “
عنایا اس کے ساتھ جانے کے لئے تیار ہوگئی اور اب تیمور نے اس کا سامان لیا . ابا سے ائیرپورٹ جانا تھا جہاں اس کے والد اس کا انتظار کر رہے تھے.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: