Ishq Mein Mar Jawan Novel By Hifza Javed – Episode 7

0
عشق میں مرجاواں از حفضہ جاوید – قسط نمبر 7

–**–**–

میری اجازت کے بغیر کاپی پیست مت کریں
انابیہ کی آنکھ جوں ہی کھلی اسے اپنے ساتھ کسی انسان کے ہونے کا احساس ہوا اسے محسوس ہوا کہ یہ کسی کے وجود کے ساتھ لگی ہوئی ہے اور کسی نے اس کے آس پاس بازو بہت آرام سے پھیلا رکھے ہیں جبکہ سر کسی کے کندھے پر تھا۔اس نے سر اس کے کندھے سے اٹھا کر دیکھا تو جبار کی ڈاڑھی اسے نظر آئی۔جبار بے انتہا خوبصورت تھا اور اس کے ساتھ کھڑا ہوا کوئی دیو قامت ہی لگتا۔انابیہ نے اس کے ہاتھ اپنے آس پاس سے ہٹانے چاہے مگر یہ بالکل بھی انہیں ہلانا سکی۔
” شہزادی آپ کو یہ بات پتہ ہونی چاہیے کہ جب تک ہم نہیں اٹھیں گے آپ نہیں اٹھ سکتی۔”
جبار نے آنکھیں کھولیں اور اس کی طرف دیکھا جو بہت زیادہ تذبذب کے عالم میں تھی . وہ سوچ نہیں سکتی تھی کہ ایک دن میں اس کے ساتھ کتنا بڑا حادثہ ہو چکا ہے یہ اپنے گھر سے بہت دور آ چکی ہے اور اسے یہ بھی نہیں معلوم کہ اس کا شوہر انسان ہے یا جن.
” زیادہ سوچئے مت ۔میں جو بھی ہوں آپ کو جلدی ہی معلوم ہو جائے گا ہم نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ ہم آج آپ کو آپ کے والد کے گھر لے کر جائیں گے۔ ہم ان سے بات کرنا چاہتے ہیں کہ وہ بہت عزت سے یہ شادی قبول کرلیں اور یہ بھی کہ آپ ہماری بیوی ہیں ورنہ آپ کبھی ان سے مل نہیں پائیں گی دوبارہ. “
” یہ کوئی زور زبردستی ہے پہلے تو آپ ہمیں یہ بتا دیجئے کہ کیا ہم اپنی دنیا میں ہیں یا نہیں. “
” آپ اپنی دنیا میں ہی ہیں۔ مگر ہماری ریاست بالکل الگ ہے. ہم اپنے لوگوں کو ان سب لوگوں سے ملوانا نہیں چاہتے۔ ہمارے لوگ بہت معصوم ہیں اور ہم نہیں چاہتے کہ لوگ ان کا غلط فائدہ اٹھائیں.”
یہ اٹھا اور انابیہ کو بھی اپنے ساتھ ہی اٹھایا. انابیہ نے کمرے میں اردگرد نظر دوڑائی جہاں تک اس کی نظر جا رہی تھی، اسی ہی کی تصویریں لگی ہوئی تھی۔
” آپ کو کمرہ تو پسند آیا نہ شہزادی. ہم نے آپ کی پسند کی مناسبت سے ہی یہ کمرہ تیار کیا ہے . اب سے نہیں بہت سالوں سے“
” ہم آپ کو نہیں جانتے اس سے خاطر ہم آپ کو بار بار کہہ رہے ہیں کہ ہم اس قسم کی باتوں سے کوئی غرض نہیں. ہمیں تو یہ بات بھی معلوم نہیں کہ آپ یہ بات سچی کہہ رہے ہیں کہ ہمارا نکاح بچپن میں ہوا تھا.”
” آپ کو حقیقت آپ کے والد سے مل کر معلوم ہو جائے گی. اٹھے نیچے سب آپ کا ناشتے پر انتظار کر رہی ہیں وہ سب اپنی میر شہزادی سے ملنا چاہتے ہیں. آپ کی خاص ملازمہ آپ کے پاس آنے والی ہے اسے دیکھ کر ڈر مت جائیے گا. اگر آپ اپنے لوگوں سے ڈر جائیں گی تو ان کا دل ٹوٹ جائے گا وہ آج سے نہیں بہت سالوں سے آپ کا انتظار کر رہے ہیں. “
” مجھ سے کیا چاہتے ہیں آپ کے میں ان جنوں کی دنیا میں رہوں۔”
” یہ لوگ آپ کے لوگ ہیں اب آپ کو یہ بات سمجھنی ہے یہ آپ کو کبھی نقصان نہیں پہنچائیں گے یہ انسانیت کے دوست ہیں . ہم آپ کو حقیقت سے آگاہ کریں گے تب تک آپ ان کے ساتھ بہت اچھا رویہ رکھیں. “
جبار اس کے بعد سے اٹھا اور باتھ روم کی طرف چلا گیا. انابیہ بہت پریشانی میں بیڈ پر بیٹھی تھی کہ کمرے کا دروازہ کھلا اور خوبصورت لڑکی اندر آئی۔
” شہزادی کو انکی غلام تاج کا سلام۔”
اس لڑکی نے سر پر ڈوپٹہ حجاب کے صورت میں اوڑھ رکھا تھا۔ اس کے کپڑے نیلے رنگ کی پوشاک پر مشتمل تھے جبکہ اس کے پیروں پر نظر پڑتے ہی انابیہ کا دل چاہا کہ زور زور سے چیخے.
اس کے پیروں میں بھی چار انگلیاں تھیں جبکہ یہ بالکل انسان لگتی تھی. انابیہ نے جبار کے پیر دیکھے تھے وہ پورے پانچ انگلیوں والے تھے۔
” شہزادی جی ہم سے ڈریے مت. آپ جانتی ہیں جب لے ہمارے سردار نے ہمیں چنا کہ ہم آپ کی حفاظت کریں ،آپ کی خدمت کریں تو ہمیں لگا کہ ہماری زندگی کا مقصد پورا ہوگیا. “
انابیہ نئی نظر اس کی طرف کی یہ بہت ہی زیادہ احترام سے بول رہی تھی. واش روم کا دروازہ کھلا اور جبار اندر سے نکاح اس نے اس وقت سفید رنگ کے پوشاک نما کپڑے پہن رکھے تھے. انابیہ کواسے دیکھ کر گمان ہوا کہ یہ کتاب والا شہزادہ ہے جو بچپن میں کہانیاں یہ اپنے والدین سے سنتے تھے.
” تاج اپنی شہزادی کو تیار کرو۔ آج ان کا اس گھر میں پہلا ناشتہ ہے۔ پھر باہر جانا اور سب سے کہہ دینا کہ شہزادی کی پسند کا کھانا بنائیں انہیں جو کھانا پسند ہے وہی آج ہمارے دسترخوان کی زینت ہو. “
” جیسا حکم میرے شہزادے“
جبار یہ کہہ کر انابیہ کے قریب آیا اور اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور پیار سے اسے مخاطب کیا.
” ہم دربار میں جارہے ہیں اور اٹھ جائیے ان۔ آپ کو تیار ہونے میں وقت لگے گا. اپنا خیال رکھیے گا۔ آپ کو والدہ اور دادی جان سے مل کر بے انتہا خوشی ہوگی. وہ کل رات ہی آپ سے ملنا چاہتے تھیں، مگر ہم نے ان سب کو روک دیا کہ ابھی آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں. ان سے ملیے گا اور خوشی سے ملے گا ٹھیک ہے ہم آپ سے ناشتے پر ملتے ہیں. “
جبار یہ کہہ کر انابیہ کے قریب آیا اور اس کی پیشانی چومی۔پھر اس کا رخ باہر کی طرف تھا۔تاج انابیہ کے پاس آئی اور اسے اٹھایا۔انابیہ جب بالوں والے پورشن کی طرف آئی تو یہ بے انتہا حیران ہوئی کیونکہ یہاں بالکل سب کے سب لباس شاہی طرز کے تھے جو پرانے دور میں شہزادیاں پہنا کرتی تھیں یا شہزادے . ایک پورشن کی طرف ماڈرن کپڑے تھے.
”شہزادی آپ کیا پہننا پسند کریں گی۔”
تاج مے سر جھکا کر ہی سوال کیا۔
“جو بھی دے دو مجھے۔میں جلد از جلد اپنے بابا اور بھائی سے ملنا چاہتی ہوں۔”
“شہزادی آپ کی پہچان یہ پوشاک ہے۔ہم یہ سفید پوشاک آپ کے لیئے نکال دیں۔”
“نکال دو۔”
انابیہ یہ کہہ کر باتھ روم میں گھس گئی۔
__________________________________
انابیہ کے بال چوٹیا کی صورت میں بندھنے کے بعد تاج نے اس کے سراپے پر آخری نگاہ ڈالی۔یہ بے تحاشہ خوبصورت لگ رہی تھی۔سفید پوشاک مخملی تھی جبکہ اس کے اردگرد سفید بڑی سی چادر تھی۔سر پر پیارا سا خوبصورت حجاب تھا جبکہ ہاتھوں میں اسے خوبصورت ہیرے کے کنگن اور انگوٹھیاں پہنائی ۔ اس کے پیروں میں جھک کر تاج نے خوبصورت پائل پہنائی جس کے ساتھ ہیرے کی لڑیاں تھی جو اس کے پاؤں میں انگوٹھیوں کی صورت میں جاتی تھی. آرام دہ نرم سا کھوسہ وہ لائی اور اسے پہنایا۔
” شہزادی آپ تیار ہے باہر آجائیے سب آپ کے منتظر ہیں. “
تاج نے اسے اٹھایا اور اسے لیے باہر آگئی. اس کے کمرے کا دروازہ خوبصورت لکڑی کا بنا ہوا تھا . جو بہت بڑا تھا مگر اس کا رنگ بھی سفید اور نیلا تھا.
یہ جیسے ہی باہر آئی اسے بہت ساری ملازمائیں کام کرتی ہوئی نظر آئیں اور تقریبا سب ہی نے سفید رنگ کی پوشاکیں پہن رکھی تھی شاید یہ ان کا خاص لباس تھا. اس کا کمرا نیچے والے پورشن میں تھا. یہ باہر آئے تو اسے محل نظر آیا چاندنی جیسا چمکتا ہوا خوبصورت محل. اس محل میں ایسا لگتا تھا جیسے شیشے کا کام ہوا ہے. فرش پیچھے کی طرح چمک رہے تھے جبکہ ماربل کے خوبصورت سفید اور نیلے پتھر سے ہر جگہ کا ہوا تھا. اس محل کو دیکھ کر اس کو پرانے دور کے محل یاد آئے جن میں ایسے ہی خوبصورتی سے کام کروایا جاتا تھا.
” شہزادی آپ کو شہزادہ خود پورا محل گھمائیں گے ابھی آپ کو ہم کھانے والے کمرے کی طرف لے کر جا یہ لوگ جو ہیں اس کمرے کمرے میں داخل ہوتے ہی انابیہ نے دیکھا کہ یہاں بہت سارے افراد بیٹھے ہوئے ہیں لیکن سب لوگ نیچے بیٹھے ہوئے تھے اور یہاں پر تکیے پیچھے کی طرف لگے ہوئے تھے جبکہ آگے ناشتہ پڑا ہوا تھا اس نے وہ لڑکی بھی دیکھی جو اسے نکاح کیلئے راضی کرنے آئی تھی وہ ایک خوبصورت نوجوان کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی.
جبار پیچھے سے آیا اور تاجک کو بولا.” تم اب جا سکتی ہوں تاج جب تمہاری ضرورت ہوگی ہم تمہیں بلا لیں گے. “
” جیسا حکم شہزادے. “
” آئیے ہماری شہزادی۔ ہم آپ کا تعارف کروائیں سب سے ۔سب آپ کا بہت دیر سے انتظار کر رہے ہیں. “
جبار اس کا ہاتھ تھامے اسے نیچے بٹھاتے ہوئے بولا۔
” یہ ہماری دادی ہیں تو سامنے بیٹھی ہیں. انہیں سردارنی کہا جاتا ہے. “
جبار نے تعارف کروایا تو دادی جان اٹھ کر آئی اور اسے گلے لگا کر پیار دیا۔
” بچا یہ بہت پیاری ہے ہمیں امید تھی کی اتنی ہی خوبصورت اور ہمارے شہزادے کے قابل ہوگی. ہم کل رات ہی تم سے ملنے آ جاتے بچہ مگر جبار نے منع کیا تھا کہ تم سو رہی ہو.”
” دادی جان اب آپ اس سے روز ہی ملا کریں. یہ میری والدہ ہیں ان سے ملو. “
جبار نے ساتھ بیٹھی ہوئی خاتون کی طرف اشارہ کیا.” گھر میں آنا مبارک ہو ہماری شہزادی ہم آپ کا استقبال دوبارہ سے کریں گے. جبار آپ کو جلدی ہی لے آیا ورنہ ہم نے بہت زیادہ استقبال کی تیاریاں کرنی تھی اب ہم جب آپ کا ولیمہ ہو گا تب ہی آپ کا دوبارہ استقبال کریں گے. “
” آپ جو مرضی کر لیجیے گا والدہ. انابیہ یہ رہے میرے والد میر ابوبکر ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے میرے بڑے لالہ ہیں میر عثمان خان. اور یہ جو تم سے نکاح والے دن ملنے آئی تھی میری بھابھی جان ہے جنہیں ہم گوہر(بڑی بہن) کہتے ہیں۔ ان کے ساتھ ہی ان کی سات سالہ بیٹی ہے ہماری چھوٹی سی شہزادی آبگینے۔ ہماری ایک اور بھتیجی بھی ہے آیت تم اس سے ملو گی تو بہت خوش ہوگی چھوٹی سی ہے۔ یہ میرا خاندان ہے. “
” خوش آمدید ہماری شہزادی. ہمیں آپ کا بہت انتظار تھا ہمیں خوشی ہے کہ ہمیں ہماری دوسری بیٹی آپ کی صورت ملی ہے. “
” باباجان کا شکریہ ادا کرے میری شہزادی ہم انہیں سردار کہتے ہیں یہ ہمارے بادشاہ ہیں. “
” انابیہ ہمیں بہت خوشی ہے کہ تم آخر کار ہمارے خاندان میں آہی گی ہمیں ہمارا بھائی دل و جان سے عزیز ہے اور اب تم بھی ہمیں اسی طرح عزیز ہو جیسے ہمیں ہماری بیٹیاں. “
یہ جبار کے بھائی تھے.” خوش آمدید انابیہ میری اور تمہاری ملاقات ہوچکی ہے اب تو تم جان چکی ہوں کے میں تمہاری بڑی بھابھی اور گوہر ہوں مجھے امید ہے میں تمہیں بہت کچھ سیکھائوں گی اور تم سیکھو گی۔ کیوں کہ تم ہماری شہزادی ہو، ہمارے پیارے شہزادے عبدالجبار کی بیوی.”
جبار نے انابیہ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا بلکہ وہ اس وقت بہت زیادہ گھبرا رہی تھی” کس بات سے آپ کے اپنے ہی آپ کو جو بھی مسئلہ ہوگا یہ آپ کا ہر مسئلہ حل کریں گے. کہ آپ کا بالکل ایسے ہی خیال رکھیں گے جیسے آپ اس گھر کی بیٹی ہیں. آپ اس گھر کی بہو ہی نہیں اس خاندان کے وارث کی بیوی ہیں. سو سال بعد نیلے نشان والی شہزادی آپ ہی یہ بات یاد رکھیں. یہاں سب ہمارے بڑے آپ کے حکم کے پابند نہیں البتہ یہاں کے شہزادے اور شہزادیاں آپ کے حکم کے پابند ہیں. آپ پر سردار، میری والدہ ملکہ اور میری دادی سرردانی کا حکم ماننا فرض ہے اور آپ کو کوئی حکم دے تو آپ بے شک نہ مانے آپ سے کوئی شکایت نہیں کرے گا.”
” جبار تم نے آتے ہی بچی کو ڈرانا شروع کردیا میرا خیال ہے ہم کھانا شروع کر دیں تو بہتر ہے. “
” جیسا آپ کا حکم دادی جان ناشتہ شروع کریں. “
ناشتہ بےانتہا خاموشی سے کھایا گیا .انابیہ کو ان سب کو دیکھ کر ایسے ہی لگ رہا تھا جیسے یہ کسی پرانے زمانے کے محل میں بیٹھی ہے اور یہ پرانے زمانے کے لوگ ہیں مگر یہ نیا زمانہ تھا لیکن لوگ پرانے تھے.
ناشتے کے فورا بعد ہی سردار اٹھ گئے اور ان کے ساتھ ہی بڑے شہزادے بھی اٹھ گئے.
” والدہ ہم شہزادی کو لے کر ان کے والد کے پاس جارہے ہیں. ہم چاہتے ہیں یہ اپنے والد سے مل لیں تاکہ ان کو بھی کوئی شکایت نہ رہے۔”
” اچھی بات ہے شہزادے آپ انہیں ولیمہ کی دعوت بھی دے آئیے گا . ہمارے لوگ انہیں ولیمے والے دن ان کے گھر سے لے آئیں گے انہیں بتائے گا کہ ہم ان کی شہزادی کا بہت اچھے سے خیال رکھیں گے. “
” میری والدہ مجھے اجازت دیجئے. “
” اجازت ہے اب آپ جا سکتے ہیں اور آپ کو بھی شہزادی. “
انہوں نے جبار کے سر پر بھی ہاتھ پھیرا اور انابیہ کے سر پر بھی. “
” چلئے شہزادی ہم آپ کو آپ کے گھر لے جائیں. “
_________________________________
جبار اسی لیے اسی جگہ پر آیا جہاں سے اسے اس محل میں لے کر آیا تھا یعنی کے مزار۔ انابیہ بڑے غور سے اس جگہ کو دیکھ رہی تھی یہاں سے ہی اس کی دنیا کھوئی تھی. وہ اس بات کو نوٹ کررہی تھی کہ یہ لوگ ایک ہی زمین پر تھے مگر جس جگہ یہ کھڑی تھی وہ اس کی دنیا سے بالکل الگ تھی. ان کا زمانہ بہت زیادہ ماڈرن ہو چکا تھا لیکن اس جگہ پر ایسا کچھ بھی نہیں تھا. یہاں کے لوگ بھی پرانے دور کی طرح رہے تھے مگر بہت اچھے تھے اور ان کے پاس زندگی کی ہر سہولت تھی.
” آپ سوچ رہی ہوں گی نہ کہ ہماری دنیا آپ کی دنیا سے الگ کیسی ہے۔ زیادہ مت سوچیے ہم اپنی دنیا میں ہی ہیں بس میں نے اپنے لوگوں کو آپ کی ظالم دنیا سے الگ رکھا ہے. میں نہیں چاہتا کہ میرے معصوم لوگوں کا اس دنیا کے لوگ فائدہ اٹھائیں۔”
” میری دنیا کے لوگ ہرگز ظلم نہیں ہیں بلکہ آپ کی دنیا ظالم ہے۔”
” نہیں میری شہزادی اگر آپ اپنی دنیا کے لوگوں کی حقیقت جان جائیں تو آپ کو ان سے نفرت ہوجائے۔ مگر ہم یہ نہیں کہتے کہ سب انسان ہیں اچھے نہیں ہوتے. یہ انسان کی فطرت ہے کہ یا تو وہ اچھے راستے کی طرف جاتا ہے یا برے راستے کی طرف. میں نے وہاں بہت سے اچھے لوگ بھی پائے ہیں. اسی خاطر تو آپ ہمیں انعام میں ملی. “
” ہم آپ کے لیے انعام ہیں شہزادے ،کوئی تحفہ۔”
” ارے نہیں آپ تو جانتی ہیں نہ کہ جو لوگ نیک ہوتے ہیں ان کو نیک لوگ ملتے ہیں. میں نے زندگی میں اپنا کردار بہت صاف اور شفاف رکھا ہے. مجھے خدا سے امید تھی کہ مجھے نیک بیوی ملے گی آپ جانتی ہیں نہ کہ زندگی میں نیک بیوی سب سے بڑا انعام ہوتا ہے. آپ کی صورت خدا نے مجھے جو تحفہ دیا ہے میں اس کا شکر کیسے ادا کروں میں یہ سوچتا ہوں. میں ہر پر اس کا شکر ادا کرتا ہوں کہ میرے لوگوں کیلئے آپ جیسی ملکہ کو چنا گیا اور میرے لئے آپ جیسی بیوی کو. بہت جلدی آپ بہت سی راز جان جائینگی مگر ہر راز کو کھلنے میں ایک وقت ہے۔”
جبار نے اس کا ہاتھ تھاما اور اپنے پر پھیلائے.
” یہ آپ کے پر کیسے نکل آتے ہیں اور یہ ہمیشہ آپ کے ساتھ نہیں رہتے. “
” نہیں شہزادی جب ہم چاہتے ہیں یہ نکل کر آتے ہیں. ہمیں وہاں جانے کے لیے ان پروں کی ضرورت ہے. “
اس کے ساتھ ہی جبار نے اپنے پر انابیہ کے اردگرد بھلائی جسے انابیہ کو آس پاس کی کچھ سمجھ نہ آئی۔
جبار نے اپنے پر اس کے پاس سے ہٹائے تو یہ لوگ مزار میں کھڑے تھے جہاں سے انابیہ اس کی دنیا میں گئی تھی.
” میں اپنے گھر آگئی سچ میں. “
” پھر تھوڑی دیر کے لئے ہم وہ اپنی دنیا میں چلے جائیں گے آپ کو یہاں اب نہیں رہنا. اب اگر آپ اس دنیا میں رہیں گی تو آپ کا نیلا نشان آپ کو یہاں رہنے نہیں دے گا. “
انابیہ نے اپنا نیلا نشان دیکھا جو در تو نہیں کر رہا تھا مگر اس وقت اس نے سے شدید گرمی نکل رہی تھی.” اب آپ ہمارے دنیا کا حصہ ہیں یہاں آپ تھوڑی دیر کے لئے ہی آ سکتی ہیں. “
امابیہ کی آنکھوں سے آنسو آنا شروع ہوگئے یعنی اس نے اس کی قید کا سارا انتظام کر رکھا تھا۔
” چلئے شہزادی ہم آپ کو آپ کے والدین کے گھر لیکر جائیں جو یہاں بلوچستان میں ہے. آپ کے والد اور بھائی یہاں پر ہی آئیں گے“

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: