Ishq Mein Mar Jawan Novel By Hifza Javed – Episode 8

0
عشق میں مرجاواں از حفضہ جاوید – قسط نمبر 8

–**–**–

جبار انابیہ کو لیئے اس کے آبائی گھر آیا۔ارمان نے ماموں کو سیدھا یہاں ہی آنے کا بولا تھا وہ چاہتا تھا کہ وہ یہاں آیئں اور اس کے ساتھ مل کر انابیہ کو ڈھونڈیں، کیونکہ وہ فون پر انہیں اتنی بڑی بات نہیں بتا سکتا تھا۔جبار اسے لیئے جیسے ہی گھر کے دروازے کے باہر آیا انابیہ نے اس سے ہاتھ چھڑانا چاہا۔
“شہزادی ایسا مت کریں۔آپ اچھے سے جانتی ہیں کہ اب آپ یہاں مہمان کی حیثیت سے آئیں ہیں۔ آپ یہاں اب انکی بیٹی نہیں ہماری بیوی بن کر آئی ہیں. اگر آپ یہ بات کریں گی کہ یہاں آکر ہمارے ساتھ نہیں جانا تو یہ بات یاد رکھیے کہ ہم آپ کو پھر بھی ساتھ لے جائیں گے اور پھر یہاں کبھی نہیں لائیں گے. “
انابیہ نے شکوہ گناہ نظروں سے اسے دیکھا اور اس کا پکڑا ہوا ہاتھ جھٹکا.” ہم نے آپ کو بہت ظالم پایا ہے جبار۔ کیا آپ کو پتا ہے کہ ہم اپنے والدین سے کتنی محبت کرتے ہیں خصوصا اپنے بھائی سے. ہماری والدہ کا جب انتقال ہوا تو ہمارے بھائی نے ہمیں خود باپ کی طرح پیار دیا ہے. ہم کیسے ان لوگوں کو آخری بار دیکھیں اور انہیں بھول جائیں۔”
جبار نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھاما اور بڑے ہی پیار بھرے انداز میں کہا.” ہم آپ کو صرف اتنا کہہ رہے ہیں کہ آپ نے ہمارے ساتھ واپس جانا ہے۔ آپ جب چاہیں یہاں آکر ان لوگوں سے مل سکتی ہیں مگر ہمیشہ کے لئے یہاں نہیں رہ سکتی. “
یہ انابیہ کو تھامے اس گھر کی طرف آیا جو ایک حویلی نما گھر تھا.
گارڈ نے دروازہ کھولا اور یہ لوگ اندر گئے.
ان کے آنے سے پانچ منٹ پہلے ہی تیمور اور اس کے والد، چھوٹے بابا کے ساتھ یہاں آئے تھے۔ جبار اس کا ہاتھ تھا میں آگے لے کر آیا جبکہ سامنے ہی ارمان کھڑا ہوا تھا وہ بات وہی کرنے والا تھا.
” بابا بھیا………………………. “
سب لوگ پیچھے کی طرف بڑھے جہاں دروازے میں جبار اور انابیہ کھڑے تھے.
” انابیہ میری بیٹی تم وہاں کیا کر رہی ہو. “
انابیہ نے جبار کا ہاتھ چھوڑا اور اپنے باپ کی طرف آئی ۔وہ فورا کے سینے سے لگ گئی۔
” کون ہو تم . ہماری بہن تمہارے ساتھ کیا کر رہی ہے “
تیمور اپنی بہن کی حالت اس کے کپڑے دیکھ کر پریشان ہو گیا وہ پرانے زمانے کی شہزادی لگ رہی تھی اور اتنی خوبصورت کہ وہ اسے پہچان ہی نہیں پایا۔
” اپنے والد سے پوچھئے وہ ہمیں بہتر طریقے سے جانتے ہیں ہم آپ کے سردار میر عبدالجبار خان ہیں. ہم آپ کی بہن کے شوہر ہیں. “
” میر عبدالجبار خان – – – – – – – – – – – – – “
ارمان سمیت گھر میں کھڑے سب لوگ شدت سے پریشان ہوگئے. انابیہ کی پھوپھی بھی یہاں آچکی تھی.
” بھائی صاحب کون ہیں یہ ۔یہ انابیہ کو اپنا شوہر کیوں بتا رہے ہیں.”
چھوٹے بابا نے جا سے سوال کیا تو وہ نظریں چُرا گئے اور انابیہ کی طرف دیکھا جو انکی بازو کی حلقے میں تھی. انابیہ کے نیلے نشان سے اس وقت اتنی زیادہ گرمائش نکل رہی تھی کہ وہ اس کے ساتھ کھڑے محسوس کر رہے تھے جیسے آگ کے ساتھ کھڑے ہوں۔
انابیہ کو بالکل بھی تکلیف محسوس نہیں ہورہی تھی. جب سے جبار اسے اپنی دنیا میں لے کر گیا تھا اسے اس نشان میں تکلیف ہونا ختم ہوگئی تھی۔ مگر یہاں کھڑے لوگوں کو اس کے نشان کی آگ ضرور محسوس ہو رہی تھی.
” ہمارے میر ابراہیم کے پوتے ہیں یہ. “
یہ سنتے ہی چھوٹے بابا فورا جبار کے پاس گئے اور اس کا ہاتھ تھام کر اپنی آنکھوں سے لگایا.
” آپ سے مل کر بے انتہا خوشی ہوئی ہمیں.
آپ کے دادا جان ہمیں بہت عزیز تھے۔”
عناب اپنے چھوٹے بابا کو دیکھ رہی تھی جو جبار کو بے انتہا عزت دے رہے تھے۔
” بابا یہ نہ جانے مجھے کس دنیا میں لے گئے انہوں نے مجھ سے زبردستی نکاح کیا اور کہتے ہیں کہ ہمارا نکاح بچپن میں ہوگیا تھا. ان کی دنیا کے لوگ بہت عجیب سے ہیں بابا ہمارے انسانوں جیسے نہیں.”
سب اس کی بات پر حیران ہو رہے تھے جبکہ جبار فورا انابیہ کے پاس آیا وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کے لوگوں کے بارے میں یہ لوگ جانے.
” ہم نے آپ سے کیا کہا تھا کہ ہمارے لوگوں کے بارے میں کسی کو کچھ نہیں کہنا. آپ کیا چاہتی ہیں کہ ہم آپ کو ابھی کے ابھی یہاں سے لے جائیں۔”
” بابا دیکھیں یہ ہمیں ایسے ہی دھمکیاں دے رہے تھے وہاں بھی۔”
” انابیہ یہ سچ کہہ رہے ہیں تمہارا نکاح ان کے ساتھ بچپن میں ہو گیا تھا. مگر ہم تمہیں ان سے خلع دلوانا چاہتے ہیں ۔ہم نہیں چاہتے کہ تم ان کے ساتھ جاؤ. تم بلوچستان کیوں آئی آخر ۔ہم نے منع کیا تھا نہ تمہیں۔
تمہیں یہ بات معلوم ہونی چاہیے تھی کہ ہم تمہیں کسی وجہ سے منع کرتے تھے بیٹا. “
” سسر صاحب آپ جانتے ہیں کہ خلع تو ممکن نہیں۔آپ کی بیٹی کا نشان اب اپنا کام کر چکا ہے۔یہ اب اس جگہ زیادہ نہیں رہ سکتی ۔یہ اب یہاں سانس نہیں لے پائے گی۔میں بھی اپنی دنیا میں زندہ نہیں رہ پائوں گا ،اگر یہ ہم سے الگ ہوئی۔اب ہم دونوں کی زندگی جڑی ہے۔میری دنیا ہی اب آپ کی بیٹی کی دنیا ہے۔”
جبار کی بات پر سب لوگوں کو خاموش ہوگئے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ کیسی باتیں کر رہا ہے
” یہ کیسی باتیں کر رہا ہے بابا اس کو بتا دیجیے کہ انابیہ کا بھائی ابھی زندہ ہے میں اپنی بہن کو کبھی اس کے ساتھ جانے نہیں دوں گا.”
تیمور انابیہ کے پاس آیا اور اسے اپنے بازو کے حلقے میں لیا جبکہ جبار یہ دیکھتے ہی شدید غصہ میں آیا اس کے غصے سے انابیہ کے نیلے نشان سے شدید آگ نکلی. تیمور جو اس کے ساتھ کھڑا تھا یہ برداشت نہیں کرسکا ۔مگر انابیہ کو کوئی فرق نہیں پڑا۔
” کیا کیا ہے تم نے میری بہن کے ساتھ کہ ہم اس کے پاس کھڑے بھی نہیں ہو پا رہے. انابیہ تمہیں کیا اس نشان سے گرمی محسوس نہیں ہورہی آگ لگی ہوئی ہے تمہارے پاس. “
” نہیں بھیا پہلے یہ بہت درد کرتا تھا اب بلکل بھی درد نہیں ہو رہا۔”
” اسے اب بلکل درد محسوس نہیں ہوگا کیونکہ اس کا شہزادہ اس کے پاس ہے. مگر جو اسے مجھ سے الگ کرنے کی کوشش کرے گا وہ زندہ نہیں رہے گا یہ بات یاد رکھو.”
” تم ہوتے کون ہو میری بہن کی زندگی کا فیصلہ کرنے والے. “
” یہ بات تو تم سے سسر صاحب سے پوچھو جو اس کو بیماری میں ہمارے مزار پر لائے تھے. اس وقت ان کے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا یہ ہمارے بارے میں اچھے طریقے سے جانتے تھے مگر پھر بھی یہ رسک لے کر ہمارے پاس آئے. انہیں دادا نے اس دن بتا دیا تھا کہ ان کی بیٹی بہت خاص ہے یہ ہماری ہے. جس دن یہ پیدا ہوئی تھی ہمارے دادا نے اپنے قبیلے میں یہ بات پھیلا دی تھی کہ ایک سردارنی پیدا ہوئی ہے جو ان کے سردار کی ہے مگر ہمیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ وہ تمہارے گھر پیدا ہوئی ہے.
تین سال بعد یہ سے لے کر ہمارے مزار آئے تو پوچھو کیا میرے دادا نے اس کے لیے دعا نہیں کی تھی. اس دن اگر یہاں سے ہمارے مزار پر نہ لاتے تو یہ بھی زندہ نہ رہتی اور میں بھی۔”
” میں ان سب باتوں پر اعتبار نہیں کرتا. بابا اب شخص کو سمجھا دیجئے کہ ہم اپنی بہن ہرگز سے نہیں دیں گے. “
شجاع خان اپنی بیٹی کی طرف دیکھ رہے تھے اور اسکی آنکھیں تو اس وقت نیلی تھی مگر گہری نیلی تھی.
” کیا چاہتے ہو جبار تم ہم سے . “
” سسر صاحب آپ بس انابیہ کو ہمیں دے دیجئے ہمیشہ کے لئے ۔ہم وعدہ کرتے ہیں اسے کوئی تکلیف نہیں ہوگی. ہم اسے ہر ماہ آپ سے دو یا تین بار ملوانے لائیں گے آپ ہمارے گھر آ سکتے ہیں ہمارے لوگ آپ کو لینے آ جایا کریں گے۔ یہ مت سوچیے گا کہ آپ کبھی ہمیں الگ کرسکتے ہیں آپ ہمارے قبیلے کے رسم و رواج سے واقف ہیں. “
” بابا میں نے ان کی دنیا میں نہیں جانا“
” ماموں جان آپ دیکھ لیجئے انابیہ راضی نہیں ہیں ہم ہرگز شخص کے ساتھ اسے نہیں بھیجیں گے۔”
ارمان نے جیسے ہی یہ بات کہی جبار نے اس کی طرف دیکھا اور اپنا ہاتھ اس کے سامنے کیا جس سے روشنی نکلی اور ارمان کا کندھا ایسا پکڑنے ہوا کہ پھر ہل نہ سکا ۔
” ہمیں اپنی باتوں میں کسی کی مداخلت پسند نہیں لڑکے. تم جو بھی ہو اپنی حد میں رہو. ہم آپ سب لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ ہم شہزادی کو صرف ملوانے لائے ہیں اگر آپ راضی نہیں ہوتے تو آپ شہزادی کو ساری زندگی دیکھ نہیں پائیں گے.”
” نہیں سردار ہم اپنی بیٹی کو آپ کے ساتھ بھیج دیں گے. ہماری ایک خواہش ہے کہ ہم اپنی بیٹی کو خود رخصت کریں اس کی دھوم دھام سے شادی کریں. ہماری ایک ہی بیٹی ہے آپ اس بات سے واقف ہیں اور بہت منتوں مرادوں سے مانگی ہوئی. “
” بابا کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ۔”
تیمور ان کی بات پر چیخ کر بولا جب شجاع خان نے اپنا ہاتھ اوپر کرکے اسے روک دیا۔” ہم نے فیصلہ دے دیا ہے تیمور. “
” آپ نے بہت اچھا فیصلہ کیا ہے سسر صاحب ہمیں یہی امید تھی۔ کیا چاہتے ہیں آپ کیسے شادی ہو. “
انابیا چپ چاپ اپنے باپ کو دیکھ رہی تھی جو بڑے آرام سے فیصلہ سنا رہا تھا اس نے کبھی اپنے باپ کو اتنی جلدی میں فیصلہ لیتے ہوئے نہیں دیکھا تھا.
“ہم اپنی بیٹی کو خود رخصت کرنا چاہتے ہیں تم انہیں یہاں چھوڑ جاؤ اور چار دن بعد بارات لے آنا. “
” معاف کیجیے گا مگر اب ہم انہیں یہاں نہیں چھوڑیں گے. آپ شادی کی تیاری کر لیجئے ۔ہم چار دن بعد انہیں یہاں لے آئیں گے۔ آپ اپنی مرضی سے انہیں رخصت کر دیجئے گا ۔ تب تک یہ ہمارے پاس ہی محل میں رہیں گے۔ رخصتی کے آگلے دن ہی ہم یمہ رکھ دیتے ہیں ویسے بھی ہم آپ کو ولیمے پر ہی بلانے آئے تھے۔” یہ کیسی رخصتی ہے جس میں دلہن پہلے ہی دلہے کے گھر میں ہو۔ سب لوگ یہ سوچ کر پریشان ہو رہے تھے.
” آپ سب پریشان مت ہوں ہمارے ہاں یہ رسم ہے کہ جب نکاح ہوتا ہے تو لڑکی کو اپنے گھر لے جاتے ہیں. ہمارے ہاں آپ کی دنیا کی طرح رسومات نہیں ہوتی. صرف نکاح ہوتا ہے اور اس سے اگلے دن ولیمہ ۔ اکثر اوقات بچپن میں ہی دلہن کو اپنے گھر لے جایا جاتا ہے. “
” بابا آپ اس کی بات سن رہے ہیں۔ یہ کتنی عجیب باتیں کرتا ہے آپ کیسے میری بہن کو اسے دے سکتے ہیں.”
” تیمور یہ ہماری سب سے بڑی غلطی تھی ہماری بیٹی کا بچپن کا نکاح۔ تم اگر اپنی بہن کو ان سے لینا چاہو گے تو وہ زندہ نہیں رہے گی۔ اس کو جانے دو. “
” نہیں بابا آپ ایسا نہیں کر سکتے. مجھے خود سے دور مت کیجئے. “
شجاع بیٹی کی طرف آئے اور اسے اپنے سینے سے لگا لیا اور بے تحاشہ پیار کیا.” تم اب بھی ہماری بیٹی ہوں مگر تم اگر یہاں رہوں گی تو زندہ نہیں رہ پاؤگی. ہم مجبور ہیں بیٹا ہم جوان بیٹی کی زندہ لاش نہیں دیکھ سکتے “
یہ کہتے ہیں شجاع فورا اسے خود سے الگ کر گئے پیچھے ارمان اپنا کندھا میں کھڑا تھا.” بہت شکریہ آپ کا اپنی بیٹی ہمیں سونپنے کے لئے۔ ہم دوبارہ ملنے آئیں گے چار دن بعد.” یہ کہتے ہی جبار اس کی طرف بڑھا اور اسے اپنے بازو کے حلقے میں لیا.
” اجازت دیجئے ہمیں سب. اللہ حافظ. “
” آپ ایسا نہیں کر سکتے . بابا میری بات سنیے، بھیا میں نے نہیں جانا.” انابیہ اس کا ہاتھ چھڑوا رہی تھی جبکہ تیمور اسے اپنی طرف کھینچ رہا تھا ۔دونوں بہن بھائی رو رہے تھے. ارمان کے کندھے پر شجاع نے اپنا سر رکھا ہوا تھا وہ بھی رو رہے تھے مگر بیٹی کو نہیں دیکھ رہے تھے۔
” بھیا بھیا روک لیں اسے”
تیمور کے ہاتھ ایک جگہ پر رک گئے وہ ہل نہیں پا رہا تھا.” معاف کیجیے گا سالے صاحب ہمارے جانے کا وقت ہو چکا ہے“
یہ کہتے ہیں جبار بجلی کی تیزی سے انابیہ کو لے کر باہر نکل گیا.
ان کے جاتے ہی دادی کمرے سے نکلی وہ سوئی ہوئی تھی انہیں نہیں معلوم تھا کہ انابیہ آئی تھی.
” مجھے میری انابیہ کی آواز آئی تھی کہاں ہے وہ جلدی سے بلائو اسے۔”
چھوٹے بابا ماں کی طرف بڑھے اور انہیں تھام لیا۔
” ماں میر جبار اسے اپنے ساتھ لے گیا ہے بھیا نے اسے بھی جانے دیا۔
” شجاع کیا کیا تم نے. تم نے میں میروں کے سردار کو اسے سونپ دیا. تم نہیں جانتے وہ اسے اپنی دنیا میں لے گئے ہوں گے۔”
شجاع ان کے پاس آئے ۔”ماں میر ابراہیم نے مجھے کہہ دیا تھا اسی وقت کہ اب تمہاری بیٹی ہماری ہے۔وہ اگر میرے پوتے سے دور ہوئی تو زندہ نہیں رہ پائے گی اور میرا پوتا بھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر ہم اسے جبار کو نہیں دیں گے تو وہ لوگ اسے لینے آ جائیں گے. اگر آج میں اسے جانے نہ دیتا تو ساری زندگی شاید اس کی شکل نہ دیکھ پاتا. “
” کیوں کیا تھا تم نے اس کا نکاح . میں پوچھتی ہوں آخر کیا ہوگیا تھا ایسا. ہائے ہماری بچی ،معصوم بچی نہ جانے کہاں ہے۔”
__________________________________
جبار انابیہ کو لیئے مزار میں آیا۔وہ اس وقت شاک کی کیفیت میں تھی۔اسے نہیں پتا چلا کہ کب یہ اس دنیا میں آئی۔جبار نے ہارون کو اشارہ کیا جو ان کے اس دنیا میں آتے ہی سامنے کھڑا تھا.
” گھوڑا لائو میرا فورا۔ محل کی طرف جائیں گے تمہاری شہزادی کی طبیعت ٹھیک نہیں۔”
انابیہ اس کے ساتھ بلکل بے حس و حرکت کھڑی ہوئی تھی۔ ہارون کلے رنگ کا خوبصورت ترین گھوڑا لے کر آیا۔
اس کے آتے ہی جبار نے انابیہ کو اٹھایا اور اس پر بٹھایا۔” شہزادی اب ہم محل جا رہے ہیں ہمیں امید ہے کہ آپ اپنا شہزادی ہونے کا فرض نبھائیں گی“
جبار نے گھوڑا دوڑا دیا اور یہ لوگ محل کی طرف ایک نئی منزل کی طرف چل دیے.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: