Ishq Mein Mar Jawan Novel By Hifza Javed – Episode 9

0
عشق میں مرجاواں از حفضہ جاوید – قسط نمبر 9

–**–**–

عنایہ اس وقت سارہ کے پاس تھی جو کمرے میں خاموشی سے بیٹھی ہوئی تھی۔اس وقت گھر میں کافی سناٹا تھا۔ہر فرد یہ بات سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ کیا ہوا ہے۔
“آنٹی بابا انکل کہاں ہے ۔وہ آ کیوں نہیں رہے۔”
“بیٹا وہ اس وقت باہر ہیں۔میں ہوں نہ آپ کے ساتھ آپ کی پھوپھو۔”
“آپ میری پھوپھی جان کیسے ہوئی۔”
“وہ ایسے کہ میں آپ کے بابا کی بہن ہوں۔اس لیئے آپ کی پھوپھی جان ہوں۔”
“مگر بابا انکل تو کہہ رہے تھے کہ انابیہ پھوپھی ہی میری پھوپھی خان ہیں۔”
“جی میرا بچا وہ بھی ہیں اور میں بھی۔آپ کے بابا کی دو بہنیں ہیں۔”
تیمور اتنے میں دروازے سے اندر آگیا۔
“شکریہ سارہ اسے رکھنے کے لیئے۔میں کافی پریشان تھا اسی خاطر اس پر دھیان نہیں دے پایا۔”
“اٹ از اوکے بھیا ۔یہ ہماری ہی بچی ہے اب تو اس کا خیال رکھنا بھی ہمارا فرض ہے۔آپ کے لیئے کھانا لگائوں۔”
“بابا انکل پتا ہے میں نے بھی کھانا نہیں کھایا۔آپ۔کا ویٹ کیا میں نے۔”
“میری شہزادی نے میرا ویٹ کیا ۔اب تو ہم کھانا ضرور کھائیں گے اپنی بیٹی کے ساتھ۔سارہ جائو اور کھانا لا کر دو ہمیں۔”
سارہ اس کی بات سنتے ہی اٹھ گئی۔تیمور کا دل بلکل بھی کچھ کھانے کو نہیں کر رہا تھا ،مگر عنایہ کی وجہ سے اسے کھانا پڑا۔
________________________________
انسہ اس وقت اپنے وکیل کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی ۔اس وقت اسے یہ بات سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اس کی اکلوتی بھانجی کہاں ہے اور کس حال میں ہے۔اپنے والد سے لڑ کر یہ لندن آئی تھی۔یہاں آکر اسے پتا چلا کہ اس کی عزیز جان بہن اب اس دنیا میں نہیں۔اس کہ بہنوئی بھی وفات پا چکے تھے۔اس کی بھانجی کا کوئی پتا نہیں تھا کہ وہ کہاں پر ہے۔اس کی بہن نے اپنی پسند سے شادی کی۔یہ ایک جانے مانے بزنس مین کی بیٹی تھی۔اس کے باپ نےاپنی بیٹی سے نہ کوئی رابطہ رکھا اور نہ خاندان میں کسی کو رکھنے دیا۔انسہ کو نیوز سے یہ بات پتا چلی کہ اس کے بہنوئی اور بہن انکار کر چکے ہیں۔اس کو یہ بھی علم ہوا کہ کچھ ٹائم پہلے ایک لائر اس کی بھانجی کو ایڈاپٹ کر کے لے گیا ہے۔اس وقت اسے صرف اس لائر کا پتا لگانا تھا جو اس کی بھانجی کو لے کر گیا تھا۔
“آپ جلدی پتا کروائیں انکل وہ کہاں ہے۔میری بہن کی اکلوتی نشانی اس کے پاس ہے ۔مجھے اس کے پاس جلد از جلد جانا ہے۔”
“انسہ بیٹا یہ اتنا آسان نہیں۔تم یہاں کے قانون سے واقف ہو ۔ “
“میں قانون سے واقف ہوں ۔جس شخص کا میری بھانجی ے کوئی تعلق نہیں وہ کیسے اس کا ولی بن سکتا ہے۔یہ بات یہاں کے قانون میں ہی ہے کہ بچے کا ولی ہی اسے لے جا سکتا ہے ۔میں اس کی خالہ ہوں ،میرا اس سے خون کا رشتہ ہے۔وہ شخص کیسے اسے ہم سے دور کر سکتا ہے۔”
“بیٹا جس وقت اس کی کسٹدی کا مسئلہ تھا اس وقت آپ یہاں تھی ہی نہیں۔اس وقت اسے سہارا اور حفاظت چاہیے تھی۔تیمور خان جانا مانا بیرسٹر ہے اور اس کے والد کی بھی لا فرم ہے ۔اس لیئے قانون نے عنایہ کے والد کی فیملی کو اسے دینے کے بجائے تیمور خان کو دے دیا۔”
“انکل میں پاکستان اس کے پاس جائوں گی۔اسے کہوں گی کہ میری بھانجی مجھے لٹا دے۔مجھے امید ہے وہ میری بات مانے گا۔”
“تم کوشش کر لو بیٹا ۔اگر وہ مانتا ہے تو ٹھیک پے۔اگر نہیں تو جو قانونی مدد میں تمہاری کر سکا کروں گا۔
__________________________________
جبار انابیہ کو گھڑے سے اتار کر محل میں لے گیا۔اس وقت انابیہ کو جو غم تھا وہ اچھے سے جانتا تھا۔وہ اپنی دنیا کھو چکی اور جب کوئی انسان اپنی دنیا کھو دیتا ہے تو اس سے بڑا غم اس کے لیئے زندگی میں کوئی ہو نہیں سکتا۔
انابیہ کو کمرے میں لے جاکر اس نے بیڈ پر بٹھا دیا۔خود یہ اپنے کپڑے تبدیل کرنے چلا گیا۔اس وقت انابیہ کا دل کر رہا تھا کہ وہ چیخنے اور چلائے مگر اس میں اتنی سکت باقی نہیں تھی کہ وہ کچھ کہتی۔جبار آرام دی شلوار قمیض پہن کر باہر آیا۔اس نے انابیہ کو وہیں بیٹھا دیکھا جہاں یہ اسے چھوڑ کر گیا تھا۔
“شہزادی۔۔۔۔۔۔۔۔”
یہ گھٹنوں کے بل بیٹھا اور اسے پکارا۔اس کے پاوں سے جوتا اتارنے کے بعد یہ اس کے ڈوپتے کی طرف آیا اور اسے اتار دیا۔
“ہمیں ہاتھ مت لگایئں۔آپ ایک انتہائی ظالم انسان ہیں جسے انسانیت کی کوئی قدر نہیں۔آپ کو کیا درد نہیں ہوتا ۔میں نے اپنی دنیا چھوڑ دی کیا آپ کو یہ درد نظر نہیں آتا۔”
جبار اس کے ساتھ ہی بیڈ پر بیٹھا اور اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں تھام لیا۔
“ہم سمجھتے ہیں آپ کا غم۔اس غم سے بڑا کیا کوئی غم ہے کہ آپ کو نہ صرف اپنے چھوڑنے پڑیں ،بلکہ اپنی دنیا بھی۔مگر ہم کیا کریں وہ ماہ و سال جو ہمارے آپ کے بغیر گزرے ہم کیسے وہ دوبارہ سہیں۔شہزادی ہم اتنے مضبوط نہیں کے اب یہ دوری مزید برداشت کر سکیں۔آپ نہیں جانتی کہ ہم نے آپ کو پانے کیلئے کتنی دعائیں کی ہیں.”
” نہیں ہم آپ کو بالکل بھی نہیں چاہتے. کوئی کسی کو کیسے جا سکتا ہے جب وہ انسان اسے اس کے ماں باپ اور بہن بھائیوں سے دور کر دے“
” آپ کے باپ نے ہی بچپن میں ہمارا نکاح کروایا تھا. میرا نہیں خیال کہ اس کے بعد کوئی بھی جواز بنتا ہے کہ آپ ہمیں الزام نے کہ ہم نے آپ کو قید کیا ہے۔ وہ انسان کو بچپن سے معلوم ہو کہ وہ کسی سے منسوب ہے تو ظاہری سے بات ہے کہ اسی سے محبت کرے گا۔ یہ آپ کی غلطی نہیں ہے آپ کے والد نے آپ کو نہیں بتایا ورنہ شاید آج آپ بھی ہم سے محبت کرتی ہوں . آپ ہم سے محبت کریں گے ہم اس بات کا مکمل یقین ہے. نہیں ہماری دنیا کی بات تو آپ اسے پہچان جائیں گی مگر آپ کو ہمیں وعدہ بھی دینا ہوگا کہ جب ہم یہاں سے باہر جائیں گے تو آپ ہماری دنیا کا ذکر کسی سے نہیں کریں گی“
انابیہ نے اس کی طرف دیکھا پھر ایک امید سے کہا۔” تو کیا آپ پھر مجھے میرے والدین سے ملنے دیں گے“
” بالکل ہم آپ کو ہر مہینے ان سے ملوانے دو یا تین مرتبہ لے کر جایا کریں گے. “
اس نے انابیہ کے چہرے کو تھاما اور اس کے ماتھے پر پیار دیا.” چلیں آپ تھوڑی دیر کے لئے آرام کرنے پر ہم محل دیکھیں گے اور آپ
کچھ وقت والدہ اور دادی کے ساتھ گزار لیجئے گا. “
یہاں سے چھوڑ کر اٹھا اور آ کر بستر پر لیٹ گیا.”آجائیے یہاں لیٹ جائیں شہزادی ۔آپ بہتر محسوس کریں گی آرام کر کے۔یقین کریں میں آپ کو بلکل تنگ نہیں کروں گا۔”
انابیہ جو بیڈ کے کنارے پر بیٹھی تھی اس کی بات سن کر پیچھے مڑی۔
“مجھے آپ سے ڈر بھی نہیں لگتا۔”
اس کے جواب پر جبار اپنی ہنسی کر بولا کہ .
” کیا واقعی آپ کو مجھ سے کوئی ڈر نہیں لگتا. “
” بالکل بھی نہیں……. “”
اس کا جواب سنتے ہیں جب پڑھنے اپنا ہاتھ سامنے کیا اور اس کے سامنے پڑا ہوا گلدان ہوا میں گیا اور زمین پر نیچے گر گیا۔ مگر گلدان نہ ٹوٹا اور نہ اسے کچھ نقصان ہوا.
” آپ ہمیں کیوں تنگ کر رہے ہیں ایسا مت کریے۔”
” آپ نے خود ہی کہا تھا کہ آپ کو ڈر نہیں لگتا. دیکھ لیجیے ہم اس کے علاوہ اور بہت کچھ کر سکتے ہیں. “
جبار نے یہ کہتے ہی اپنی آنکھوں سے کچھ کیا جس سے کمرے کی ان ہوئی لائٹ بند ہوگئی۔” یقین جانیے شہزادی ہمیں اندھیرا بے حد پسند ہے اور امید ہے کہ آپ کو بھی اندھیرا اچھا لگے گا. “
” لائٹ آن کریں اب ہم اس وقت مذاق کے موڈ میں بھی کوئی نہیں. “
” تو کس نے کہہ دیا کہ ہم مذاق کے موڈ میں ہیں آئیے اور آ کر سو جائیے تھوڑی دیر کے لئے۔”
” ہم بلکل بھی نہیں آئیں گے۔”
جبار اس کی بات سن کر ہنسا اور اپنی جگہ سے اٹھ گیا۔اس کا رخ انابیہ کی طرف تبا۔یہ اس کے پاس آیا اور اسے اٹھا لیا۔
“چھوڑ دیں ہیں آپ ۔”
“اب ہم آپ کو نہیں چھوڑ سکتے ۔اس لیئے بہتر ہے کہ آپ ضد مت کیا کریں ۔ہم جب کوئی بات کریں تو مان جایا کریں۔اسی میں آپ کی اور ہماری بھلائی ہے۔”
جبار اسی لیئے بستر پر آیا اور لیٹا دیا۔اسے لحاف میں لیٹا کر یہ بھی اس کے ساتھ ہی لیٹ گیا۔انابیہ کو اپنے سینے سے لگا کر اس نے آنکھیں بند کی ۔اسی لمحے انابیہ نے سوال کیا۔
“آپ کیا سچ میں جن ہیں۔اگر آپ جن ہی تو آپ کو یہ بات پتا ہونی چاہیے کہ ایک جن اور انسان کی شادی ممکن نہیں ۔آپ مجھے ایسے قید کر کے نہیں رکھ سکتے۔یہ قدرت کے قانون کے خلاف ہے۔”
جبار نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا اور ہنس کر کہا۔
“ہم شہزادے ہیں شہزادی۔قدرت کے قانون سے واقف۔اس لیئے اپنے نھنے سے دماغ پر زیادہ زور مت دیں ۔سب ٹھیک ہو جائے گا۔جب آپ اس دنیا میں آچکی ہیں تو اس دنیا کے قانون بھی سکیھ جائیں گی۔ابھی سو جائیں۔ہماری شناخت آپ خود پہچانیں گی ۔”
جبار نے یہ کہہ کر اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھا ۔اس کا مطلب تھا کہ اب سو جائو۔”
__________________________________
موسم بہت خوبصورت تھا برفباری اپنی شدت اختیار کر چکی تھی. کمرے میں جلتا ہوا آتشدان اسے پرحدت بنا رہا تھا۔ یہ شام کا وقت تھا انابیہ کی آنکھ کھلی تو اس نے دیکھا کہ جب بارش کے ساتھ ہی سویا ہوا ہے۔ اسے جبار کا ہاتھ اپنی کمر سے ہٹھایا اور اٹھ گئی۔
یہ جیسے ہی نیچے فرش پر قدم رکھنے لگی تو اس نے نیچے دیکھا کہ اس کے پیروں کے پاس ہی نرم گرم جوتے پڑے ہوئے ہیں۔ یہ اس وقت بھی اسی سفید پوشاک میں تھی جو اسنے صبح زیب تن کی تھی. یہ جوتے پہن کر چلتی ہوئی کھڑکی تک آئیں جہاں سے باہر گرتی ہوئی برفباری بے انتہا خوبصورت لگ رہی تھی. اس میں شیشے کی ایک گلاس ونڈو کھولی اور باہر ہاتھ کرکے برفباری محسوس کرنے لگی. گلاس ونڈو کے سامنے کی کلاس کا ڈور تھا جہاں سے باہر بالکنی کا راستہ لگتا تھا.
یہ چلتی ہوئی بالکونی کی طرف آئیں تو اس میں پہلی دفعہ بالکنی کو غور سے دیکھا. یہ بے انتہا خوبصورت تھی یہاں پر نیلے پھول لڑیوں کی صورت میں ہر جگہ پھیلے ہوئے تھے. حیرت کی بات یہ تھی کہ نیلے پو
ھول بالکل تروتازہ تھے ایسے جیسے ابھی ابھی نئے نکلے ہوں۔ اس نے نیچے کی طرف دیکھا تو یہ محل زمین سے بہت زیادہ اونچائی پر تھا اس کے سامنے ہی خوبصورت بہتا ہوا دریا تھا. اس نے پہلی بار زندگی میں کوئی منظر دیکھا تھا کیونکہ سامنے دریا کے اردگرد نیلے رنگ کے درخت اور پھول تھے۔ اس کے دماغ میں سب سے پہلی چیز یہی آئی کہ یہاں پر ہر چیز نیلی کیوں ہے. اس کے ہاتھ پر نشان بھی نیلا ہے. اس کی آنکھیں بھی نیلی ہوگئی تھی جبکہ اس کے شوہر کی آنکھیں بھی نیلی ہیں اور اس کے ہاتھ پر بھی نیلا نشان ہے. یہاں بھی ان سب باتوں میں گم تھی کہ اسے سامنے اڑتا ہوا سفید پروں والا ایک انسان نظر آیا.
اسے دیکھ کر اس کی بے ساختہ چیخ نکل گئی. اس وقت اس نے مخملی چادر اپنے اردگرد لپیٹی ہوئی تھی.
” سلام شہزادی. آپ سردی میں یہاں کیا کر رہی ہیں. شہزادے آپ کو دیکھیں گے تو بہت زیادہ غصہ کریں گے کیونکہ یہ برفباری آپ کے لئے بہت سخت ہے. “
” تم کون ہو اور مجھ سے ایسے باتیں کیوں کر رہے ہو “
” میں آپ کا غلام ہوں. میرا نام نواز خان ہے میں آپ کے اور شہزادے کے اسے کی طرف خصوصی طور پر حفاظت کی ذمہ داری انجام دیتا ہوں. میری شہذادی آپ اندر چلی جائیے ۔اس وقت بہت تیز برفباری ہورہی ہے آپ بیمار ہو جائیں گی۔” یہ بات کر ہی رہا تھا کہ پیچھے سے جب جبار آیا۔
” سلام میرے شہزادے. “
” سلام نواز. تمہاری شہزادی بالکل ٹھیک ہیں۔ اب تم جا سکتے ہو.” نواز حکم پاتے ہی سر کو جھکا کر چلا گیا.
” شہزادی آپ کو کیا برفباری پسند آئی. “
” یہ برف باری بہت مختلف ہے ایسا نہیں کہ ہمارے ہاں برفباری نہیں ہوتی مگر ہم برفباری دیکھنے کے لیے زیادہ تر دوسرے علاقے مری جایا کرتے تھے یا سوات. ہمارے ہاں زیادہ تر گرمی ہی رہتی تھی۔”
جب بار آیا اور اسے پیچھے سے تھام کر اپنے سینے سے لگا لیا. انابیہ کی پشت جبار کے سینے کے ساتھ لگی ہوئی تھی وہ وہاں سے اسے لیئے بالکنی میں آگے بلر کی طرف آیا جہاں اس نے ہاتھ تکائی اور انابیہ کو بھی کھڑا کیا۔
جبار نے اپنے ہاتھ کا اشارہ سامنے کیا اور اپنے ہاتھ کو آسمان پر پھیلایا جس سے برفباری خوبصورتی سے انابیہ کی طرف آئیں اور آرام آرام سے نیچے گرنا شروع ہوگئی.” یہ آپ نے کیسے کیا بس ہم اپنی شہزادی کے لئے کچھ بھی کر سکتے ہیں یہ آپ کے لیے تحفہ ہے. “
یہ کہنے کے ساتھ ہیں جب پڑھنے دوبارہ اپنا ہاتھ کیا اور برفباری کی جگہ نیلے پھولوں کی بارش انابیہ پر آکر ہوئی. سرخ پوشاک میں کھڑی آنا بالکل شہزادی لگ رہی تھی جبکہ اس کے ساتھ کھڑا جبار بلکل شہزادہ.
” میں ایک خواب کے طلسم میں ہوں میں جانتی ہوں جب میں اٹھوں گی تو سب بدل جائے گا۔”
” یہ خواب نہیں حقیقت ہے میری شہزادی آپ بہت جلد اس بات کو قبول کر لیں گی۔”
انابیہ یہ نہیں جانتی تھی کہ جسے یہ خوب سمجھ رہی ہے وہ ایک حقیقت ہے۔ اس خواب کی حقیقت کا مستقبل کیا تھا یہ آنے والا وقت ہی بتانے والا تھا.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: