Ishq Mein Mar Jawan Novel By Hifza Javed – Last Episode 30

0
عشق میں مرجاواں از حفضہ جاوید – آخری قسط نمبر 30

–**–**–

انابیہ دادی کے ساتھ یہ ان سے سارا کی رشتے کے بارے میں بات کرنا چاہتی تھی.
” دادی میں آپ سے سارا آپی کے رشتے کی بات کرنے آئی ہوں ۔آج میرے یہاں آنے کا ایک خصوصی مقصد یہ بھی تھا کہ میں سارا آپی کے بارے میں آپ سے بات کروں۔ آپ جانتی ہی ہوں گی ہارون کو جو آپ کے پاس ہمارے پر پیغام لے کر آتا ہے“
دادی نے اسے تیکھی نظروں سے دیکھا اور پھر بولیں.”کیوں اس کا یہاں کیا مقصد تم کیا چاہتی ہو ہم سب سب بتاؤ. “
” دادی میں چاہتی ہوں کے آپ ان کی شادی سارا آپی سےکردیں.”
” ہاں تمہیں پٹیاں پڑھا کر بھیجیں ہوں گی نہ تمہارے خاندان نے ۔ظاہری سے بات ہے ہمارے خاندان کی ایک لڑکی لے کر جا چکے ہیں تو اب دوسری بھی چاہیے ہوگی. “
” ایسا نہیں ہے وہ میرا خاندان ہے اور بہت اچھا ہے ۔آپ جان نہیں سکتی کہ وہ لوگ مجھ پر جان لٹاتے ہیں. ہارون بھائی یہاں آپ سب کے ساتھ رہیں گے۔ ان کا یہاں اپنا گھر ہے۔ آپ اس بارے میں پریشان مت ہوں کہ سارا آپی آپ سے دور جائیں گی۔”
دادی کی بات سن کر اس نے جواب دیا.” ہمیں کیا معلوم کہ ہماری بیٹی کو لے جائیں اور پھر کہیں کہ یہ آپ سے مل نہیں سکتی جیسے تمہارے بارے میں کہا تھا. “
” دادی ایسا نہیں ہے۔ کیا میں آپ لوگوں سے ملنے کے لیے نہیں آتی. آتی ہوں نہ میں بھی آپ لوگوں سے ملنے کے لیے۔ میں اپنی دنیا میں بہت زیادہ خوش ہوں اور میں آپ کو یقین دلاتی ہوں کہ سارا آپی بھی ہارون بھائی کے ساتھ بہت خوش رہیں گی “
” لڑکی دیکھو ہمیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ ہارون کتنا اچھا ہے اور نہیں. پہلے ہی ان کو اپنی ایک بیٹی دے چکے ہیں اب دوبارہ دوسری بیٹی نہیں دیں گے. “
یہ لوگ بات ہی کر رہے تھے کہ چھوٹے بابا کمرے میں داخل ہوئے.” شکر ہے چھوٹے بابا آپ آگئے میں نے آپ سے بات کرنی ہے۔ دیکھیں دادی ہماری بات ہی نہیں سن رہی. “
” بولو بیٹا ایسی کیا بات ہے جو تم نے کرنی ہے. “
” چھوٹے بابا میں چاہتی ہوں کے آپ سارا آپی کی شادی ہارون بھائی سے کر دیں۔ آپ ان کے بارے میں جانتے تو ہے نا وہ ہمارے پیغامات زیادہ تر یہاں پر لاتے ہیں“
“بیٹا ہم ان لوگوں کو جانتے نہیں پہلی بات یہ ہے اور پھر وہ تمہیں نا جانے کہاں لے گئے ہیں جس کا ہمیں علم ہی نہیں. “
” آپ لوگ کیوں نہیں سمجھ رہے کہ میں اپنی دنیا میں بہت زیادہ خوش ہوں. ہارون بھائی یہاں پر ہی آپ سب لوگوں کے ساتھ رہیں گے ۔ان کا یہاں اپنا گھر ہے بلوچستان میں. ان کی طرف سے میں ہر ذمہ داری لینے کے لیے تیار ہوں آج میں ان کی بہن بن کر آئی ہوں اور مجھے واپس خالی ہاتھ مت بھیجئے گا میں بہت امید سے آئی ہوں۔”
” بیٹا تم اچھے طریقے سے جانتی ہو کہ تمہاری بات تو بچپن سے طے تھی مگر ہم اپنی بیٹی کو جانتے سمجھتے ہوئے کیسے ایک آگ میں پھینک دیں. “
” تھوڑے بابا میں آگ میں نہیں ہوں بہت زیادہ خوش ہوں اپنے گھر میں. آپ کو نظر نہیں آرہا میرا ایک چھوٹا بچہ ہے جو بہت زیادہ لاڈلا ہے اپنے پورے خاندان کا. اگر آپ لوگ نہ کرتے ہیں تو ہارون بھائی کے لیے لڑکیوں کی کمی نہیں ہے مگر سارا آپی کو ہارون بھائی جیسا انسان دوبارہ کبھی نہیں ملے گا. “
” باقی کیا گارنٹی ہے بیٹا کہ وہ اس کو کہیں اور نہیں لے جائیں گے. پتا ہے شادی کے بعد وہ اس کو ہم سے ملنے ہی نہ دی“
” میں ہر چیز کی ذمہ داری اٹھاتی ہوں . ہارون بھائی میرے اپنے بھائی جیسے ہیں اور آج یہاں پر میں سارا آپ کی کزن نہیں بلکہ ہارون بھائی کی بہن ہوں. آپ چاہے مجھ سے قسم بھی لے لیں تو میں دینے کے لیے تیار ہوں کہ وہ کبھی بھی ان کو ہمارے ساتھ نہیں لے کر جائیں گے. یہاں بلوچستان میں ہی وہ آپ لوگوں کے ساتھ رہیں گے اگر آپ مان جائیں تو. “
” دیکھو ہم منع کر چکے ہیں تم مان کیوں نہیں رہی. “
” مجھے امید ہے چھوٹے بابا کے آپ یہ بات سوچیں گے. مجھے نامید مت کرئیے گا میں جانے سے پہلے آپ کی طرف سے ہاں کا جواب لے کر جاؤں گی. “
انابیہ جا چکی تھی جبکہ چھوٹے بابا سوچنے لگ گئے تھے. انابیہ جانتی تھی کہ کس طریقے سے اس نے گھر والوں کو بنایا تھا ۔دادئ صاحب تو انکار کر رہی تھی مگر اس نے اپنے بابا اور چھوٹے بابا کو ہر طریقے سے مطمئن کیا کہ سارا کی ذمہ داری اس کی اپنی ہے. بہت کوششوں کے بعد یہ لوگ مانے.
تیمور کے ساتھ بیٹھا ہوا ہارون اس وقت بہت زیادہ نرود ہورہا تھا۔ اپنی دنیا میں تو یہ لوگ ایک دوسرے سے گھل مل جاتے تھے مگر یہاں اس دنیا کے انسانوں میں بہت زیادہ سوچ سمجھ کر بات کرنی پڑتی تھی. جبار نے ہارون کو یہ بات جب بتائی کہ اگر وہ سارا سے شادی کرنا چاہتا ہے تو اسے انسانوں کی دنیا میں رہنا ہوگا اس لمحے ہارون سوچ میں پڑ گیا جبار نے اس کو ایک ہی بات کہی کہ وہ چاہتا ہے تو انسانوں کی دنیا میں جا سکتا ہے. ہارون کے ماں باپ اور خاندان تو نہیں تھا اس لیے اس نے انسانوں کی دنیا میں جانا قبول کرلیا. ہارون انسانوں کی دنیا میں ہی رہتا آیا تھا مگر ان سے بہت دور دور ہی رہا تھا. انابیہ جب تعلیم حاصل کر رہی تھی تو اس کے ساتھ ہی ہارون نے بھی یونیورسٹی میں ایڈمیشن لیا تھا۔ اس لئے ہارون کے پاس یونیورسٹی کی ڈگری بھی تھی اور یہاں لیا ہوا ایک گھر بھی. اسلام آباد میں ہارون نے تعلیم حاصل کی جبکہ بلوچستان میں اس نے اپنا گھر بنایا.
” شکر ہے آپ نے منا لیا سب کو. “جبار عمر کو اٹھائے ہوئے انابیہ سے مخاطب ہوا جو اس وقت لاونج میں بیٹھے ہوئے ہارون کو سب سے باتیں کرتے ہوئے دیکھ رہی تھی.” آپ جانتے ہیں میں ایک شہزادی ہوں اور شہزادی اپنی بات منوانے کا ہنر جانتی ہے. “
” ہم سے بہتر یہ بات کون جان سکتا ہے جتنی باتیں آپ ہم سے منواتی ہیں کوئی اور اتنی جرات کر ہی نہیں سکتا کہ وہ ہم سے بات بھی کرے. “
” شہزادے آپ اگر ہماری بات نہ مانیں تو انجام کے ذمہ دار بھی آپ خود ہی ہوتے ہیں یاد ہے نہ۔”
جبار اس کی بات سن کے ہنسنے لگ گیا اسے وہ وقت بھی یاد آگیا جس لمحے وہ انابیہ کی بات نہیں مانتا تھا اسی لمحے نیلی شہزادی اپنا روپ دکھاتی تھی۔ انابیہ جبار سے اپنی بات منوانے کا فن رکھتی تھی.
” انابیہ آپ جانتی ہیں کہ صبح سے ہی عمر کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہے. “
” جانتی ہوں جبار اور صبح سے ہی میرا شہزادہ بہت زیادہ بے چین ہے. بھیا کہہ رہے تھے کسی ڈاکٹر کے پاس لے جائیں مگر میں نے روک دیا. یہاں کے ڈاکٹر اس کا علاج نہیں کر سکتے جبار آپ جانتے ہیں نہ. “
” بالکل میں جانتا ہوں مگر آپ کو معلوم ہے اس کو یہ بے چینی کیوں ہے. “
” نہیں جبار آپ بتائیے کہ میرا بیٹا اتنا بے چین کیوں ہے. “
” یہ اپنی شہزادی کو اس دنیا میں تلاش کرتا ہے. جب ہمارا عمر پیدا ہوا تھا انابیہ میں نے آپ کو ایک بات نہیں بتائی. ہم بہت جلد انسانوں کی دنیا میں آنے والے ہیں۔ ہمارا بیٹا چار سو سال بعد پیدا ہوا ہے تو اپنے ساتھ یہ ایک ایسی طاقت لایا ہے جو آج تک کوئی شہزادہ نہیں لایا تھا. یہ ہمارے درمیان اور انسانوں کے درمیان بنی ہوئی دیوار کو گرانے والا ہے. آپ جانتی ہیں آتے چار سو سال پہلے شہزادی نے جو دیوار بنائی تھی وہ عمر گرا دے گا. ہمارے جتنے بھی لوگ انسان نہیں ہیں وہ لوگ واپس اپنی دنیا چلے جائیں گے اور وہ لوگ اس قید سے آزاد ہونگے. “
انابیہ نے حیرانی سے جبار کو دیکھا پھر شاک کے عالم میں بولی.” یعنی آپ کے کہنے کا مطلب ہے کہ عمر اور ہم سب اس دنیا میں رہیں گے. “
” بالکل ہم انسانوں کی دنیا میں آنے والے ہیں. ہماری تمام اولادیں اب انسان ہی پیدا ہوں گی۔ کیونکہ ہمارا عمر اب ہمارے قبیلے کو واپس انسانوں کی دنیا میں لائے گا. “
” آپ کو یہ بات معلوم تھی اور ہمیں بتانے کی زحمت نہیں کی جبار شہزادے۔ کب ہم لوگ واپس اس دنیا میں آئیں گے مجھے وہ وقت بتائے. یہاں پر ہم کیسے رہیں گے لوگ تو آپ کو جانتے ہی نہیں. اپنی دنیا میں تو آپ ایک شہزادے ہیں مگر یہاں کیا پہچان ہوگی آپ کی. اور کیا یہاں پر ہمارے بچے بھی انسانوں کے طور پر رہ پائیں گے. “
” ہمارے یہاں پر میرے خاندان کی پہچان ہے. اگر ہم اپنی دنیا میں رہتے تھے تو انسانوں کی دنیا میں ہم نے اپنی ایک خاص پہچان بنا رکھی ہے. ہم نے یہاں پر ایک خاندان کے ساتھ اپنا تعلق بنایا ہے. جتنے امیر ہم وہاں پر ہیں اتنے ہی دولت ہمارے پاس یہاں بھی ہیں. ہم یہاں پر میر خاندان کے نام سے مشہور ہیں لوگ مجھے جانتے ہیں مگر میر جبار کے نام سے شہزادے جبار کے نام سے نہیں. لوگوں کی نظر میں ہم کسی دوسرے ملک میں آباد ہیں اور اب ہم بہت جلد اپنے ملک میں واپس آنے والے ہیں. “
” آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں. “
” ہم یہ کہنا چاہ رہے ہیں شہزادی کہ ہمارا بیٹا ہمارے قبیلے کے اوپر سے تمام مشکلات کا خاتمہ کر دے گا ہمارے آنے والی ہر اولاد انسان ہی ہوگی. “
انابیہ یہ بات سن کر بہت زیادہ مطمئن ہوئی اور جبار کے سینے سے لگ گئی اس وقت اسے جتنا سکون مل رہا تھا زندگی میں اسے کبھی محسوس نہیں ہوا تھا. انابیہ نے جھک کر عمر کے سر پر پیار دیا اور وہ نیند میں کسمایا اسے بالکل پسند نہ آیا کہ ماں نے اسے نیند میں جگا دیا.” میرا بیٹا میرا شہزادہ اتنا اچھا ہے دیکھو. تمہیں معلوم ہے تمہاری وجہ سے تمہاری ماما واپس اپنی دنیا میں آئیں گی. “
جبار نے انابیہ کو خوش پایا۔ وہ اس کے چہرے پر واضح خوشی دیکھ رہا تھا.” آپ کو ایک بات سن کر بہت دکھ ہو گا میری شہزادی. “
” کس بات پر جبار شہزادے. “
” ہمارا بیٹا بہت سال تڑپنے والا ہے اپنی شہزادی کے لیے.. یہ آپ کے سامنے تڑپے گا اور آپ کچھ نہیں کر پائیں گی. اس کی ہونے والی شہزادی بہت زیادہ خاص ہے. عمر کی زندگی کا ہر غم انابیہ آپ اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے بعد آپ اس کی خوشی بھی دیکھیں گی مگر بہت دیر سے. “
” کیوں شہزادے ہمارا بیٹا ہی کیوں تمام غم اٹھائے۔“
” کیونکہ یہ سبز نشان رکھنے والا شہزادہ ہے. ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے اس کو ملی گئی طاقت کی قیمت اس کا تڑپنا ہے. یہاں پر اس دنیا میں اس کے پاس طاقت تو ہو گی مگر یہ مکمل انسان ہوگا. ہر چیز ہونے کے باوجود بھی یہ اپنی شہزادی کو مقررہ وقت پر ڈھونڈے گا. اس کی روح اپنی شہزادی سے جڑ چکی ہے. ہماری بہو کا ہر غم یہ اپنے دل پر برداشت کرے گا مگر اسے سہارا نہیں دے پائے گا.”
انابیہ نے اپنے بیٹے طرف دیکھا جو مستقبل میں ظالم سردار بننے والا تھا جس کے سائے سے بھی لوگ کانپ جاتے۔
_______________________________
تیمور اپنے آفس بیٹھا ہوا اپنے کیس پر کام کر رہا تھا . اسی لمحے اس کے آفس کا دروازہ کھلا اور اندر آنے والی انسہ تھی۔ انسہ کے ساتھ دس سالہ عنایہ جبکہ عنایہ کا ہاتھ تھامے پانچ سالہ عرش بھی تھی. انسہ نے اپنی گود میں تین سال کی بیٹی اٹھا رکھی تھی جس کا نام حورین تھا ۔
تیمور نے نظر اٹھا کر سامنے دیکھا تو اس کے چہرے پر شاندار مسکراہٹ پھیل گئی.
“زہ نصیب آج کیسے آفس میں آنا ہو گیا ہماری شہزادیوں کا. “
” آپ کی شہزادیوں نے گھر میں ادھم مچا رکھا تھا کہ بابا کیوں نہیں آرہے واپس. بندہ ٹائم ہی دیکھ لیتا ہے رات کے نو بج رہے ہیں اور آپ اب تک گھر نہیں آئے. کیا آپ اپنی بیٹیوں کو نہیں جانتے دو منٹ بھی آپ کے بغیر نہیں گزراتی. “
تیمور انسہ کے غصہ والا چہرہ دیکھ رہا تھا اور ہنس رہا تھا. اس نے جھک کر پہلے عنایہ کے سر پر پیار دیا پھر عرش کو پیار کیا. اس کے بعد آگے بڑھ کر حورین کو اٹھا لیا .
” سو سوری سوری انسہ تم جانتی ہو نا کہ کتنا اہم کیس ہے جس پر میں کام کر رہا ہوں. مجھے وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا. “
” آپ کو وقت گزرنے کا کبھی معلوم بھی ہوا ہے. میں نے شاپنگ پر جانا تھا ساری شام آپ کا انتظار کرتی رہی مگر محترم کو فرصت ہی نہیں“
” بیوی بچوں کے سامنے ہی مت شروع ہو جایا کرو کچھ خیال کر لیا کرو اب بڑی ہو رہی ہیں یہ. “
” جیسے آپ بڑا خیال کرتے ہیں مسٹر تیمور خان. آپ بھی تو ان کے سامنے ہی شروع ہو جاتے ہیں“انسہ کی معنی خیز بات پر تیمور کا قہقہ بلند ہوا جبکہ عنایہ ان دونوں کو دیکھ رہی تھی اس کے چہرے پر حیرانی تھی کہ ماما بابا آپس میں ایسی کیا بات کر رہے ہیں.
” تیمور ذرا تھوڑا سا بے ہیو کر لیا کریں عنایی دیکھ رہی ہے آپ کو. “
” انابیہ بڑی ہو گئی ہے کیا کریں. سوچ رہا ہوں اب سے ہی اپنی بیٹیوں کیلئے لڑکے دیکھنا شروع کر لوں. جب یہ بڑی ہوجائیں گی تو انہیں خود سے بلکل دقر نہیں رکھوں گا بلکہ گھر داماد لے کر آؤں گا. “
” بہت اچھی سوچ ہے آپ کی مسٹر تیمور اب گھر چلیں سب انتظار کر رہے ہیں. بابا کو میں بتا کر آئی تھی ۔وہ کہہ رہے تھے کہ تیمور جب گھر آئے گا تو تم سب کے ساتھ مل کر ہی ڈنر کروں گا. تیمور سارا کہہ رہی تھی کہ بھابی آپ میرے ساتھ کی شاپنگ کیلئے جائیں تو کیا میں اس کے ساتھ کل شاپنگ کے لیے چلی جاؤں. “
” یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے وہ میری بہن ہے آپ جب چاہے جا سکتی ہیں. “
سارا کی شادی کو 4 سال ہو چکے تھے. خدا نے اسے دو بیٹے عطا کئے تھے. وعدے کے مطابق یہ اسی دنیا میں رہ رہی تھی ۔ہارون نے سے بے انتہا خوش رکھا تھا اور یہ تقریبا روز ہی اپنے ماں باپ سے ملنے جاتی. دادی صاحب کے انتقال کو دو سال گزر چکے تھے. شجاع خان نے بچوں کے لئے ایک یتیم خانہ کھول رکھا تھا جہاں پر وہ اپنا زیادہ تر وقت گزارتے تھے.
تیمور نے اپنی بیٹیوں کو اٹھایا اور گھر کی طرف بڑھ گیا۔ زندگی میں تیمور نے ایک ہی بات سیکھی تھی کہ اس کی زندگی اپنی بیٹیوں اور اپنی بیوی کے لئے ہے. تیمور اپنی بیٹیوں سے بے انتہا محبت کرتا تھا خصوصا عنایہ سے. عنایہ سے اس کی محبت دیکھ کر انسہ کو کبھی بھی اپنا فیصلہ برا نہیں لگا. انسہ کے والد ایک سال پہلے انتقال کر گئے تھے۔ انسہ کی سوتیلی ماں نے اس کے والد کے جانے سے پہلے تمام جائیداد اپنے نام لکھوا لی تھی مگر آفندی خان مرنے سے پہلے بیٹی کو وہ گھر جہاں انہوں نے اپنی بیٹی اور اپنی پہلی بیوی کے ساتھ بہت گزارا تھا انسہ کے نام کر گئے تھے. کچھ بزنس کے شیر بھی انسہ کو جاتے وقت وہ دے گئے تھے. اپنی زندگی میں تو وہ انسان سے محبت نہ کر پائے مگر جاتے ہوئے وہ تلافی کرنے کی ایک چھوٹی سی کوشش کر گئے انسہ ساری زندگی اس دکھ میں رہی کہ کاش اس کے ماں باپ آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرتے ۔ ان کا خاندان ایک عام خاندان کی طرح ہوتا.
__________________________________
پانچ سال کے عمر کو گوہر نے اٹھا رکھا تھا. گوہر کی بیٹی آبگینے عمر کے ساتھ کھیل رہی تھیں.
” امی ماما کہاں پر ہیں۔ وہ ابھی تک گھر کیوں نہیں آئی. “
عمر نے گوہر سے سوال کیا عمر شروع سے ہی گوہر کو امی جبکہ اپنی ماں یعنی انابیہ کو ماما کہتا تھا.
” بیٹا آپ جانتے ہیں نہ کہ بابا کو باہر جانا تھا آج لوگوں سے ملیں کے لئیے اس لئے وہ آپ کی ماما کو ساتھ لے کر گئے ہیں. “
” امی جان میں نے بھی اپنے گھوڑے پر سواری کرنی تھی مگر مجھے سعد انکل نے کہا کہ ابھی سواری نہیں کرنی آپ بہت چھوٹے ہیں “
” آپ کے انکل بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے بیٹا آپ ابھی بہت زیادہ چھوٹے ہیں. اگر آپ گر گئے تو پھر ہمارا کیا ہوگا. “
” دیکھیے گا امی ایک دن میں آپ سب کو بہت اچھی گھوڑسواری کر کے دکھاؤں گا. عون کہاں پر ہے دادی جان کہہ رہی تھی کہ اس کو مت جگانا مگر میں اس کے ساتھ کھیلنا چاہتا ہوں. “
” وہ کمرے میں ہوگا دیکھو آپ کی ماما اس کو تاج کے پاس چھوڑ کر گئی تھی۔”
عمر فورا اپنی تائی کی گود سے اترا اور اپنے والد کی خواب گاہ کی طرف بھاگا.خواب گاہ میں آتے ہی یہ بیڈ کی طرف گیا جہاں سویا ہوا اس کا تین سالہ بھائی تھا۔
” عون دیکھو ماما باہر گئی ہوئی ہیں ہم دونوں کھیلتے ہیں یہاں۔”
تاج جو ان کے لیے دودھ دینے کے لئے گئی تھی فورا بھاگتی ہوئی آئی.” میرے پیارے شہزادے آپ نے چھوٹے شہزادے کو کیوں جگا دیا وہ اب پورے محل کو سر پر سوار کرلیں گے آپ جانتے ہیں نہ کہ وہ کتنا زیادہ روتے ہیں. “
” تاج آنٹی پتا نہیں ماما نے اس کو سمجھایا کیوں نہیں کہ چھوٹے بچے روتے نہیں. دیکھیں میں تو کبھی بھی نہیں روت مگر یہ بتا نہیں کیوں روتا ہے. عمیر بھی تو ہے وہ تو کبھی نہیں رویا. “
تاج عمر کے منہ بنانے پر ہنسنا شروع ہوگئی عمر پورے محل کا لاڈلا تھا مگر اسے اپنے دونوں چھوٹے بھائی بہت عزیز تھے. عون تین سال کا تھا جبکہ عمیر ایک سال کا۔ عون بہت زیادہ ضدی اور چڑ چڑا تھا جبکہ عمیر اس کے مقابلے میں ایک خاموش بچہ تھا.
جبار اور انابیہ خواب گاہ میں داخل ہوئے سامنے ہیں عمر کو کھیلتے ہوئے دیکھ کر ان دونوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھر گئی عمر ان دونوں کو بے انتہا عزیز تھا.
” بابا جان آپ لوگ آگئے میں کب سے انتظار کر رہا ہوں ۔دیکھیے نہ میرا بھائی اٹھ ہی نہیں رہا“عمر بھاگتے ہوئے جبار کے گلے سے لگا اور عون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا.” جبار نے اسے اٹھایا اور پیار کیا.
” ابھی بہت چھوٹا ہے نہ عمر اس لیے سویا رہتا ہے ہر وقت اسے تنگ مت کیا کرو. “
عمر نے اپنی بازو ماں کی طرف پھیلائیں کے اسے اٹھائے مگر جبار نے اسے روک دیا.انابیہ امید سے تھی . جبار اسے بچوں کو اٹھانے نہیں دیتا تھا کہ انابیہ کو کوئی تکلیف نہ ہو۔” عمر کتنی دفعہ کہا ہے کہ ماما کو تنگ مت کیا کرو ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔”
” سوری بابا اب تنگ نہیں کروں گا کیا میں اب باہر چلا جاؤں ۔ تائی امی کے پاس اور آبگینے آپی کے پاس. “
” ٹھیک ہے آرام سے جانا اور انہیں تنگ بالکل مت کرنا. “جبار نے عمر کو گود سے اتارا اور وہ بھاگتے ہوئے اپنی تائی امی کے پاس چلاگیا. جبار انابیہ کو تھامے ہوئے بیڈ پر لایا اور لٹا دیا.” بہت زیادہ تھک گئی ہیں میری جان. “
” بہت زیادہ شہزادے۔ آج تو آپ نے بہت لمبا چکر لگوایا اپنے گھوڑے کا سچ میں مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ میں ابھی گھوڑے پر بیٹھی ہوں. “
” مجھے اچھا لگتا ہے جب آپ ہمارے ساتھ ہمارے گھوڑے پر سواری کرتی ہیں شہزادی. “
جبار کو عجیب سی بے چینی ہونا شروع ہوگئی یہ فورا انابیہ کے پاس سے اٹھ کر باہر بالکنی میں گیا اور دروازہ کھولا. ہر طرف عجیب سی روشنی پھیلنا شروع ہو گئی تھی۔ جبار کو سمجھ آنا شروع ہوگیا کہ کچھ تبدیلی آنے والی ہے.یہ فورا کمرے کی طرف واپس گیا اور انابیہ کے پاس بیٹھ کر اسے خوشخبری سنائی.” ہم انسانوں کی دنیا میں جانے والے ہیں انابیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_______________________________
آج میرے ناول عشق میں مر جاواں کا اختتام ہوگیا ہے. مجھے بے انتہا خوشی ہے کہ میرے اس ناول کو آپ لوگوں نے بہت زیادہ پسند کیا. میں سب سے پہلے اپنی پیاری بہن سدرہ کا بہت زیادہ شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے میرے ناول کو پڑھا اور سراہا. ان کے پڑھنے سے مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں نے کامیابی حاصل کر لی ہے ۔اس کے بعد ان تمام لوگوں کا شکریہ جنہوں نے میرے ناول کو پڑھا اور اختتام تک ساتھ دیا مجھے امید نہیں تھی کہ میں یہ ناول مکمل کر پاؤں گی مگر آپ سب کے حوصلے سے ہی میں نے اس کو اختتام تک پہنچایا ہے. آپ لوگ مجھے آگے بھی اسی طرح سپورٹ کرتے رہیں ۔ناول کے اختتام پر مجھے اپنا پسندیدہ ناول کا کوئی سین بتائیں اور یہ بھی بتائیے کہ آپ کو کس کردار کا کونسا ڈائیلاگ یاد ہے. میرا اپنا سب سے زیادہ پسندیدہ کردار تیمورخان تھا جس کو لکھتے ہوئے مجھے بے انتہا مزا آیا. امید ہے آپ لوگ میرے آنے والے ناول کے لئے منتظر رہیں گے. آپ لوگوں سے جلد ہی ملاقات ہوگی آپ کی مصنف حفضہ جاوید۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: