Ishq Zard Rang Maiel Novel by Rose Marie – Episode 11

0

عشق ذرد رنگ مائل از روز میری – قسط نمبر 11

–**–**–

 

“نین تارا یہ تو تم نے بہت اچھا کیا جو یہاں چلی آئی جب سے مجھے تمھاری تائی نے بتایا ہے کہ انہوں نے تمھیں گھر سے نکال دیا میرا دل تمھارے لیئے بہت پریشان تھا۔۔۔ نجانے کیسے لوگ ہیں ذرا لحاظ نہیں انہیں کسی کا گھر کی دیکھی بھالی لڑکی جو انکے سامنے پروان چڑھی اسی پہ اعتبار نہیں ۔۔۔ پتہ نہیں کیا اول فول بول رہی تھیں وہ تمھارے بارے میں”۔ کشور کے روم میں وہ اسکے سامنے افسردہ بیٹھی تھی جب کشور نے کانوں کو ہاتھ لگائے۔
“مجھے کسی بات کا کوئی دکھ نہیں خالہ بس ہے تو صرف اس بات کا کہ احتشام نے میرے کردار پہ شک کیا ۔۔۔ انہوں نے میری بات تک سننا ضروری نہیں سمجھا ۔۔۔ غلط فہمی کی پٹی آنکھوں پہ باندھ کر انہوں نے مجھے ذلت کے ساتھ اس گھر سے نکال باہر کیا ۔۔۔ انہیں تو یہ تک احساس نہیں ہوا کہ اس پہر میں کہاں جاوں گی؟؟ کس کے در پہ پناہ لوں گی؟؟ میرا تو انکے علاوہ کوئی ہے بھی نہیں”۔ رات بھر رونے کی بدولت اب اسکا گلا بیٹھ چکا تھا۔
“نین تارا تم خود کو ہلکان مت کرو ایسے انسان کے بارے میں کیوں سوچ رہی ہو جس نے تمھاری قدر نہیں کی؟۔۔۔ چلو شاباش اٹھ کے فریش ہو جاو تم نے رات سے کچھ نہیں کھایا میں تمھارے کھانے کیلیئے کچھ لے آوں”۔ اسے تنبیہ کرتے وہ بیڈ سے اٹھی۔
“نہیں خالہ جان میرا بالکل بھی دل نہیں چاہ رہا آپ یہاں میرے پاس بیٹھیں”۔ نین تارا نے اسکا ہاتھ پکڑتے اسے جانے سے روکا۔
“نین تارا جینے کیلیئے ہوا پانی کیساتھ ساتھ خوراک بھی ضروری ہوتی ہے ۔۔۔ ضد نہیں کرتے تم بیٹھو میں بس ابھی آئی”۔ نین تارا کی جانب پلٹتے ہی اسنے کہا پھر روم سے نکل گئی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
شام کے پانچ بج رہے تھے احتشام ڈیوٹی سے واپس آ کر صحن میں ہاتھوں سے سر تھامے بیٹھا تھا جب نازلی اسکے قریب آئی۔
“احتشام بھائی بی جان آپکو بلا رہی ہیں”۔
“ٹھیک ہے تم جاو”۔ اثبات میں سر ہلاتی نازلی وہاں سے رخصت ہوئی تب احتشام بھی چیئر سے اٹھتا قدسیہ بیگم کے روم کی جانب بڑھا۔
“بی جان آپ نے مجھے یاد کیا؟؟”۔ ہلکے قدم اٹھاتا وہ قدسیہ بیگم کے قریب پہنچا۔
“ہاں احتشام بیٹھو”۔ اپنے سامنے بیڈ پہ اشارہ کرتے قدسیہ بیگم بیڈ کی ٹیک چھوڑتے سیدھی ہوئیں۔
احتشام اسی لمحے کا منتظر تھا کہ کب قدسیہ بیگم اس سے ہم کلام ہوں۔
“احتشام میں نہیں جانتی کہ کل شام تم نے کس بنیاد پہ نین تارا کو اس گھر سے نکالا۔۔۔۔ اللہ کی اللہ ہی جانتا ہے۔۔۔۔ دیکھو احتشام پرانے وقتوں میں اگر کوئی بادشاہ اپنی رعایا کے حق غلط فیصلہ سناتا تھا تو رعایا کی نظروں میں وہ گنہگار ٹھہرتا تھا ہر ایک کی زبان سے اسکے لیئے کبھی بھی دعا نہیں نکلی ۔۔۔۔ اعلی منصب پہ فائز انسان ہرگز اس چیز کا محاذ نہیں کہ وہ غلط فیصلہ کرے”۔ قدسیہ بیگم نے سنجیدگی سے بات کا آغاز کیا۔
“لیکن بی جان نین تارا ۔۔۔۔۔۔”۔
“میری بات ابھی مکمل نہیں ہوئی احتشام”۔ جونہی احتشام نے زبان کو حرکت دی قدسیہ بیگم نے اسے ٹوک دیا تھا۔
“جی بی جان؟؟”۔ بولتے ہی وہ دوبارہ سے سر جھکا گیا۔
“کسی بے گناہ کے حق لیا گیا غلط فیصلہ ہمارے مردہ ضمیر ہونے کی نشانی ہے ایک باضمیر انسان قطعا ایسی کوتاہی نہیں کرتا کہ ایسے لوگوں کے حق غلط فیصلہ سنائے جو اسکے عزیز ہوں ۔۔۔۔ میں حقیقت سے باخبر نہیں بغیر حقیقت سے روشناس ہوئے میرا دل اس بات کو ماننے سے ابھی تک انحراف ہے کہ نین تارا کبھی بھی ایسا کر سکتی ہے ۔۔۔۔ اپنے دل سے پوچھو کیا یہ رضا مند ہے نین تارا کو قصور ماننے کیلئے؟؟؟”۔ ہاتھ بڑھاتے قدسیہ بیگم نے احتشام کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“اے میرے رب تو ہی بتا مجھے اتنی بڑی سزا کیوں مل رہی ہے؟؟ میرے ساتھ ہی یہ سب آخر کیوں؟؟ ۔۔۔۔ پہلے میری ماں مجھے چھوڑ کر چلی گئی پھر میرے بابا کا دست شفقت میرے سر سے اٹھا لیا گیا ۔۔۔ میں نے اپنی پہلی اولاد کھو دی اور اب میرا شوہر میرا منہ تک دیکھنا نہیں چاہتا۔۔۔۔ آخر کس جرم کی سزا مجھے مل رہی ہے؟؟ کیا میں تمام عمر یونہی مصائب سے الجھتی رہوں گی؟؟”۔ اپنے روم میں تہجد سے فارغ البالی وہ جائے نماز پہ بیٹھی آنسوؤں کے سہارے اپنے دکھ کو دھونے میں لگی تھی۔۔۔ اسکی آنکھوں سے بہنے والے موتی مسلسل اسکے دامن پہ گر کر اسے بھگو رہے تھے۔
“ایسا کیوں ہوتا ہے جس کے سر پہ والدین کا سایہ نا ہو اسکے کندھوں پہ مصائب کی گٹھری رکھ دی جاتی ہے؟؟ ۔۔۔۔۔ جس انسان کو میرے سر کا سائبان بنایا گیا تھا اسی نے میرے سر سے چھت چھین کے دربدر ٹھوکروں کی نذر کر دیا”۔ تا ہنوز آنکھیں مینچے وہ اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے میں لگی تھی۔
“میرے رستے ہوئے زخم گواہی دیں گے
راہ وفا میں چوٹ کتنی ہم نے کھائی ہے
یہ تو دل و جان سے عزیز ہیں ہمیں
ان زخموں سے پرانی شناسائی ہے
شیوہ ہے اسکا بیوفائی کیوں نا کرتا روز
زمانے میں نام ہی جس کا ہر جائی ہے”
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“پتہ نہیں یہ بلال دو دن سے یونیورسٹی کیوں نہیں آ رہا؟؟ اوپر سے اسکا فون بھی بند جا رہا ہے۔۔۔ اسکے دماغ میں آخر چل کیا رہا ہے؟؟”۔ کلاسز آف ہونے کے بعد وہ پر سوچ انداز میں اپنے قدم یونی گیٹ کی جانب رکھ رہی تھی۔
“اسنے آج تک ایسا کبھی نہیں کیا کہ بنا اطلاع دیئے یوں غیر حاضر ہوا ہو پھر اب اسے کیا مسئلہ ہے؟؟؟ ۔۔۔۔ مجھے تو اب بہت گھبراہٹ ہو رہی ہے”۔ ذہن پہ دباو ڈالتے وہ اپنی دھن میں چلتی جا رہی تھی۔
“شمون تمھیں بلال کی کوئی خیر خبر ہے؟؟ مطلب وہ کہاں ہے؟؟ اسکا فون کیوں آف ہے؟؟ وہ دو دن سے یونیورسٹی کیوں نہیں آ رہا؟؟ ۔۔۔ یا اس سے ریلیٹڈ کچھ بھی؟؟”۔ یونی گیٹ کی بائیں جانب کھڑا شمون اسکی توجہ کا مرکز بنا جس پہ وہ قدم اٹھاتی اسکے قریب آئی۔
“نہیں میں اسکے بارے میں کچھ نہیں جانتا ۔۔۔ میری بھی اس سے کافی دنوں سے بات نہیں ہوئی”۔ نفی کرتے اسنے مزید کہا۔
“اچھا ٹھیک ہے اگر وہ تمھیں ملا تو اسے بول دینا کہ روہینہ سے ضرور بات کر لے”۔ اسے تنبیہ کرتے وہ رکشے میں گھر کی جانب روانہ ہوئی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“سر ریڈ کے دوران کی تمام ڈیٹیلز اس فائل میں موجود ہیں پلیز آپ دیکھ لیں”۔ احتشام کے کیبن میں سعد اسکے سامنے تشریف فرما تھا اسی دوران سعد نے ہاتھ میں پکڑی فائل احتشام کی جانب بڑھائی۔
“یہ تو میں دیکھ لوں گا سعد مجھے بتاو کہ سیٹھ رفیق نیازی کی طرف لیگل نوٹس بھجوایا یا نہیں؟”۔ فائل پکڑتے اسنے مزید کہا۔
“جی سر وہ تو کورٹ کی جانب سے بھجوا دیا گیا ہے ممکن ہے آج مل جائے”۔ “ہاں” میں سر ہلاتے سعد نے جوابا کہا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“نین تارا ۔۔۔۔۔ نین تارا اٹھو ۔۔۔۔ یا اللہ اسے کیا ہو گیا ہے؟؟”۔ نین تارا کے روم میں داخل ہوتے اسکی نظر فرش پہ پڑی جہاں نین تارا کا وجود بے حس و حرکت پڑا تھا۔ “مبشر ۔۔۔۔ مبشر جلدی آو ۔۔۔ پتہ نہیں نین تارا کو کیا ہو گیا ہے؟”۔ نین تارا کا سر اپنی گود میں رکھتے وہ چلائی جس پہ مبشر برق صفت روم میں وارد ہوا۔
نین تارا کو بانہوں میں لیتے اسنے بیڈ کا رخ کیا ۔۔۔ اسکو بیڈ پہ لٹاتے مبشر نے اسکی نبض چیک کی۔۔۔ بے یقینی میں اسنے اپنی تسلی کیلیئے دوبارہ نین تارا کی نبض کی جانچ کی جس پہ کشور حیران ہوئی۔
“کیا ہوا ہے مبشر؟؟۔۔۔ نین تارا ٹھیک تو ہے نا؟؟”۔ اسکی حالت دیکھ کشور کا کلیجہ منہ کو آ گیا تھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ڈور بیل بجنے پہ گارڈ نے گیٹ کھولا جہاں انجان صورت کا آدمی ہاتھ میں خاکی لفافہ لیئے منتظر کھڑا تھا۔
“جی کیا کام ہے؟؟”۔ گارڈ نے مختصرا کہا۔
“سیٹھ رفیق نیازی کا گھر یہی ہے؟؟”۔ انجان شخص نے تحقیق کی۔
“جی یہی ہے کیوں کیا کام ہے؟؟”۔
“یہ کورٹ کی جانب سے انکے لیئے نوٹس ہے۔۔۔ انہیں یاد سے دے دینا”۔ لفافہ گارڈ کو دیتے وہ شخص رخصت ہوا تب گیٹ بند کرتے گارڈ گھر کی اندرونی جانب بڑھا۔
“صاحب یہ آپکے لیئے”۔ گارڈ سیدھا رفیق نیازی کے روم تک آیا جہاں وہ ہاتھ میں فون پکڑے اس پہ لگا تھا۔
“ٹھیک ہے تم جاو”۔ گارڈ کے ہاتھ سے لفافہ پکڑتے اسنے کہا۔
فون سائیڈ پہ رکھتے رفیق نے لفافے کو چیڑ پھاڑا جہاں کورٹ کی جانب سے آیا نوٹس اسکے چودہ طبق روشن کر گیا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“بلال کا نمبر مستقل بند جا رہا ہے یہ آخر کہاں غائب ہے؟؟؟۔۔۔۔ مجھے تو بہت ڈر لگ رہا ہے”۔ ڈنر کے بعد وہ اپنے روم میں بیٹھی بارہا بلال کا نمبر ڈائل کرنے میں لگی تھی ساتھ ہی اسکے دل میں ہزار طرح کے وسوسے بھی جنم لینے لگے تھے۔
اس وقت وہ عجیب تذبذب کا شکار تھی۔۔۔ اچانک سے خیال آتے وہ فورا سے اٹھتے وارڈ روب کی جانب بڑھی تھوڑی دیر کی تلاشی کے بعد اسکی نظر فائل پہ پڑی ،،،، اسکا مضطرب دل جیسے کچھ پل کیلئے پرسکون ہوا مگر دل کی بالمضاعف دھڑکنیں ہنوز بد گمانیوں سے الجھی تھیں۔
ہاتھوں میں فائل لیئے وہ بیڈ کی جانب آئی ۔۔۔ وہ فائل جس پہ اس نے گزشتہ سال سرسری نگاہ ڈالی تھی آج اسنے باریک بینی سے دیکھنا شروع کی۔۔۔۔ جہاں اسکی آنکھیں بلال کی جانب سے ملے تحفے کو دیکھ کر چمک رہی تھیں وہیں فائل کے آخری ورق پہ لکھے لفظ کو دیکھتے اسکی آنکھیں ڈر سے پھیل گئی تھیں۔۔۔ اسکا ساکت بدن خوف سے کانپنے لگا تھا۔۔۔ ہاتھوں کی کپکپاہٹ کے باعث فائل اسکے ہاتھوں سے گرتے زمین بوس ہو چکی تھی۔
چہرے پہ نمایاں خوف دور کرتے اسنے خود کو پرسکون کیا پھر لبوں پہ مسکراہٹ سجانے کا دکھاوا کرنا شروع کیا مگر بے سود۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“یہ تم نے اچھا نہیں کیا روہینہ ۔۔۔ کیا قصور تھا اس بے گناہ کا جو یوں اسکی عزت سر بازار اچھال دی ۔۔۔ اس گھر کی عزت تھی وہ ۔۔۔۔ اسکے کردار پہ جو بد نما دھبا تم نے لگایا ہے اسکا ازالہ تمھیں ہر صورت کرنا ہو گا”۔ اسکے کانوں میں اسکے ضمیر کی آوازیں واشگاف رقص کرنے لگیں تھیں جس سے اسکے خوف و ہراس میں مزید اضافہ ہوا۔
“نہیں میں نے کچھ نہیں کیا ۔۔۔۔ میں معافی مانگ لوں گی نین تارا سے۔۔۔۔ نین تارا بہت اچھی ہے وہ یقینا مجھے معاف کر دے گی و۔۔۔۔ وہ بہت اچھ ۔۔۔ اچھی ہے۔۔۔ وہ مجھ ۔۔۔ مجھے معاف کر دے۔۔۔۔”۔ کانوں پہ ہاتھ رکھتے اسنے سر جھکا کے آنکھیں بند کر لیں تھیں۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
جہاں تک نظروں کی رسائی تھی وہاں تک اندھیرے کا راج تھا ۔۔۔ خاموش ۔۔۔ کھا جانے والا اندھیرا۔۔۔۔ گھپ تاریکی۔
اس اندھیرے سے صرف ایک آواز آ رہی تھی ۔۔۔۔۔ دل کو چیڑ دینے والی آہ آتشبار۔
اندھیرے کی آغوش میں بیٹھا وہ انسان گھٹنوں میں سر دیئے دیوانہ وار رو رہا تھا ۔۔۔۔ اپنے کیئے پہ نادم اس انسان کا وجود پوری طرح جل تھل تھا ۔۔۔۔ اسکی آنکھوں سے مستقل بہنے والے بے رنگ موتیوں سے نم۔۔۔ اسکی آواز عرش تک پہنچنے کی دیر تھی آسمان سے چاندنی نما سفید روشنی برف کی مانند اسکے بدن کو ڈھانپ گئی جس سے اسکے رونے میں قدرے قلت ہوئی۔
بے رنگ موتیوں سے غسل شدہ چہرہ اسنے آنکھوں میں حسرت لیئے آسمان کی جانب اٹھایا۔۔۔۔ چہرہ اٹھانے کی دیر تھی تاریکی پہ روشنی غالب آ گئی تھی۔
الخبیثت للخبیثین والخبیثون للخبیثت والطیبت للطیبین والطیبون للطیبت اولئک مبرءون مما یقولون لھم مغفرت ورزق کریم
“ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کیلیئے اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کیلیئے اور پاک عورتیں پاک مردوں کیلیئے اور پاک مرد پاک عورتوں کیلیئے۔ یہ (پاک لوگ) ان ( بد گویوں) کی باتوں سے بری ہیں (اور) انکے لیئے بخشش اور نیک روزی ہے”
آسمان پہ عربی سنہری حروف دھیرے سے گولائی میں گھومنے لگے تھے جس سے اسکی الجھنیں سلجھ گئی تھیں۔
آنکھوں سے جاری پھوار اب تھم گئی تھی۔
ایک چیخ کیساتھ ہی وہ نیند سے بیدار ہوا۔۔۔۔ اسکا تکیہ مسلسل رونے کے باعث اب مکمل بھیگ چکا تھا۔
الصلوہ خیر من النوم
موذن نے اپنی آواز کی کشش سے اسے اپنی طرف راغب کیا جس سے وہ بیڈ چھوڑتا واش روم کی جانب بڑھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“اب تو خدا نے تمھاری آنکھوں سے یہ پٹی بھی ہٹا دی کہ نین تارا کبھی بھی تمھاری ہو سکتی ہے ۔۔۔ تم برائے مہربانی اپنا نہیں تو اس بوڑھی ماں پہ ترس کھاو اور فریال سے شادی کیلیئے ہاں کر دو آخر کب تک یوں رہو گے؟؟ میری سانسوں کی بھی کوئی خبر نہیں”۔ کچن میں کشور مبشر کے سامنے ناشتے کی اشیا رکھتے اسے آمادہ کرنے میں لگی تھی۔
“امی نین تارا شادی شدہ ہے اسکی میری نظر میں کوئی وقعت نہیں ۔۔۔ احتشام نے اسے گھر سے نکال دیا ہے یہ بات اہمیت کی حامل ہے۔۔۔۔ مجھے پختہ یقین ہے کہ نین تارا اب کبھی بھی احتشام کی طرف رجوع نہیں کرے گی بلفرض ایسا نا بھی ہوا تو میں اسے زبردستی ایسا کرنے پہ مجبور کروں گا مگر پلیز آپ فریال کا ذکر بارہا میرے سامنے مت کیا کریں”۔ بریڈ پہ جام لگاتے مبشر نے کوفت سے کہا۔
“تم یہ بات شاید بھلا بیٹھے ہو مبشر کہ نین تارا امید سے ہے۔۔۔۔ وہ کچھ ہی عرصے میں احتشام کے بچے کی ماں بن جائے گی پھر کیا کرو گے؟؟ “۔ ہاتھ میں چائے کی پیالیاں لیئے کشور اس طرف آئی۔
اسی لمحے نین تارا کچن کی سرحد تک آئی جہاں کشور کی بات اسکی سماعتوں میں گھنٹی کی مانند بجی جس پہ اسنے اپنے قدم وہیں ساکت کر لیئے۔
“تو کیا ہوا امی؟؟ آپ بھی یہ بھول رہی ہیں کہ وہ بچہ ابھی اس دنیا میں آیا نہیں ہے”۔ زبان کا نفی استعمال کرتے اسنے سلائس کا بائٹ لیا۔
“لوگ ویسا نہیں ہوتے جیسا ہم انہیں سمجھ لیتے ہیں ۔۔۔ اپنوں پہ اعتبار کا سنگین نتیجہ میں پہلے ہی بھگت چکی ہوں اب اور نہیں ۔۔۔۔ مجھے ابھی یہاں سے جانا ہو گا میرا یہاں مزید رہنا خطرے سے خالی نہیں”۔ بغیر آواز کیئے نین تارا عجلت میں روم کی جانب بڑھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“تم سے جتنا کہا گیا ہے اتنا کرو ۔۔۔ لوگوں کی پرواہ کرنے کی ضرورت نہیں”۔ فون کان کے ساتھ لگائے وہ کال سننے میں محو تھا جب دروازے پہ سعد آ کھڑا ہوا ۔۔۔۔ سعد کو اندر آنے کا اشارہ کرتے وہ سیدھا ہوا جبکہ سعد آہستگی سے چلتا احتشام کے قریب آیا۔
“غلطی ناقابل تلافی ہو گی یاد رکھنا۔۔۔۔۔۔ ہاں سعد کہو؟؟”۔ کالر کو سختی سے سرزنش کرتے احتشام نے کال کاٹ کر فون سائیڈ پہ رکھا پھر اپنی پوری توجہ سعد کی جانب مبذول کی۔
“سر ایک اہم مسئلہ آپکے گوش گزار کرنا تھا اسلیئے وقت کی تاخیر مناسب نہیں سمجھی”۔ پس و پیش اسنے بات کی ابتدا کی۔
“کیا مسئلہ ہے؟۔۔۔ ذرا کھل کر بتاو؟”۔ احتشام نے سعد کی بات پہ پوری طرح کان دھرتے کہا۔
“سر شالیمار گیسٹ ہاؤس کے کاغذات مل گئے ہیں ۔۔۔ جیسا ہم سوچ رہے تھے ایسا بالکل نہیں ہے نتیجہ اسکے برعکس ہے ۔۔ ان فیکٹ سنگین ہے”۔ سعد نے اسے معاملے سے آگاہ کرنا شروع کیا۔
“کیا مطلب ہے اس بات کا؟؟”۔
“سر گیسٹ ہاؤس سیٹھ رفیق نیازی کے نام نہیں بلکہ اسکا اصل مالک کوئی اور ہے”۔ احتشام وارفتہ چیئر سے اٹھتے سعد کے قریب آیا۔
“کون ہے وہ؟؟؟ ۔۔۔۔۔۔ میری بات کا جواب دو سعد کون ہے اس فساد کی جڑ؟؟”۔ سعد کی مہر خاموشی اسے مزید اندیشوں کے طوفان کی عنایت کر گئی۔
“روہینہ واجد”۔ سعد نے دو حرفی کہا۔
“وٹ؟؟ ۔۔۔۔ آر یو آوٹ آف یور سنسز؟؟”۔ احتشام آپے سے باہر ہوا۔
“نو سر”۔ سعد نے سنجیدگی سے کہا۔ ” سر یہ میں اپنی جانب سے نہیں کہہ رہا ان ڈاکومنٹس میں صاف صاف درج ہے کہ اس گیسٹ ہاؤس کی لیگلی اتھارٹی مس روہینہ کے پاس ہے جو گزشتہ سال انہیں دی گئی تھی”۔
سعد کے ہاتھوں سے فائل پکڑتے احتشام نے چشم گزار کیا پھر بجلی سی پھرتی دکھاتا کیبن سے نکل گیا تھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“اے میرے خدا ۔۔۔ ستیا ناس تیرا روہینہ یہ کیا کر دیا تو نے؟”۔ روہینہ نے تمام واقعہ ممتاز کی حس سامعہ کے پار کیا جس پہ وہ سر پکڑے بیٹھ گئی تھی۔
“ماما مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی ۔۔۔۔ میں آئیندہ ایسا نہیں کروں گی پلیز آپ مجھے بھائی سے بچا لیں”۔ ممتاز کے سامنے بیٹھے روہینہ نے ممتاز کے سامنے ہاتھ جوڑے۔
“روہینہ ۔۔۔۔۔ روہینہ ۔۔۔ کہاں ہو تم؟ باہر آو”۔ احتشام کی بھڑکیلی مدھم آواز کانوں تک پہنچتے ہی وہ بدک کے اٹھ کھڑی ہوئی۔
“ماما احتشام بھائی آ گئے ہیں ۔۔۔ وہ مجھے مار ڈالیں گے”۔ بھیگی پلکوں اور نم چہرے سے اسنے ممتاز کی جانب التجائیہ نظریں اٹھائیں۔
“کچھ نہیں کہے گا تم ڈرو نہیں۔۔۔۔ اگر تم اسکے سامنے نہیں گئی تو اسکا غصہ اور بھی بڑھ جائے گا بہتر ہے تم میرے ساتھ چلو۔۔۔ میں احتشام سے خود بات کروں گی”۔ اسکا ہاتھ پکڑتے ممتاز دروازے کی جانب بڑھی۔
“نہیں ماما پلیز مجھے چھوڑ دیں ۔۔۔ احتشام بھائی مجھے مار دیں گے”۔ ہزار التجاوں کے باوجود ممتاز نے اسکی ایک نا سنی۔
“میں تمھاری جان نکال لوں گا”۔ غصے میں بولتا احتشام روہینہ کی جانب بڑھا جو ڈرے سہمے وجود کو ممتاز کی پشت پہ چھپائے ہوئے تھی۔
“کیا ہوا احتشام بیٹا تم غصے میں کیوں ہو؟؟”۔ ممتاز نے بات سنبھالنے کی ہر ممکن کوشش کی۔
“یہ تو آپ اپنی اس صاحبزادی سے پوچھیں کہ کیا گل کھلائے ہیں اسنے”۔ احتشام کا غصہ اب آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگا تھا۔
“بیٹا یہ تم کس لہجے میں بات کر رہے ہو اپنی بہن سے؟؟”۔ ممتاز نے تلخی سے کہا۔
“بہن نہیں آستین کا سانپ ہے یہ جس نے میری خوشیوں کو تو ڈسا ہی ہے ساتھ ہی اپنے زہر کے اثرات میری زندگی پہ تا زیست چھوڑ دیئے ہیں ۔۔۔ ایسی تربیت کی ہے آپ نے اسکی؟؟”۔ دل کی بھڑاس نکالتے وہ ممتاز کے قریب ہوا۔ “ایک گھٹیا انسان کے ہاتھوں میری عزت کو سستے داموں فروخت کیا ہے اسنے ۔۔۔۔۔ نین تارا کو آپ نے ہمیشہ اسی بات کا طعنہ دیا کہ بھگوڑی ماں کی بیٹی نیک کیسے ہو سکتی ہے؟ آپ کا سایہ تو اسکے سر پہ تھا نا پھر آپکی تربیت میں کھوٹ کیوں؟؟؟”۔ ممتاز کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے احتشام نے انگلی کے اشارے سے قہر برسا جس سے ممتاز شاکڈ ہو گئی تھی۔
“اسکی مناسبت سے آپ نے اسکے شوہر کو بیٹے کا درجہ دے دینا تھا چاہے وہ جیسا بھی ہوتا مگر میری مناسبت سے آپ نے میری بیوی کو بیٹی کا درجہ نہیں دیا ۔۔۔۔ ارے بیٹی کیا آپ نے تو اسے دل سے بہو تک تسلیم نہیں کیا ۔۔۔۔ آپ سے کیا گلا؟؟ جب میں خود اتنا ناقص العقل ٹھہرا کہ اپنی بیوی کے سر سے چادر کھینچ کر اسے بھرے بازار میں رسوائی کا مجسمہ بنا کے چھوڑ دیا ہے”۔ اسکی بے بسی اب آنسوؤں کا روپ اوڑھے زور پکڑ چکی تھی ۔۔۔۔ اسکی ہمت جواب دینے لگی تھی۔۔۔ انصاری ہاوس کے صحن میں وہ شکستہ زخموں سے چور کھڑا تھا۔ ” اسنے میری خوشیوں کا خون کیا ہے ۔۔۔ میں اسے جان سے مار دوں گا”۔ بولتے ہی اسنے جیب سے ریوالور نکالا جس پہ ممتاز کے ساتھ ساتھ روہینہ کے پیروں تلے سے زمین کھسکی۔
روہینہ کی جانب ریوالور کا رخ کرتے اسنے جونہی ٹریگر پہ انگلی رکھی واجد نے اسکے قریب آتے ریوالور کا منہ آسمان کی جانب کیا جس سے فائر ہوا میں ہوا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“کیا ہوا مبشر نین تارا ملی؟؟”۔ مضطرب سانسیں خارج کرتے اسنے بے چین نگاہ گیٹ پہ جمائیں تھیں جہاں سے مبشر داخل ہوا تب کشور تیزی میں اسکے قریب آئی۔
“نہیں”۔ مبشر نے تاسف سے کہا۔
“یہ سب تمھاری وجہ سے ہوا ہے ۔۔۔ نا تم ایسی باتیں کرتے نا نین تارا سنتی اور نا ہی گھر چھوڑ کر جاتی ۔۔۔۔ نجانے نین تارا کہاں چلی گئی ہے؟؟ میرے خدا اسکی حفاظت فرما”۔ مبشر کو کوستے اسنے اپنے قدم گھر کی اندرونی جانب رکھنا شروع کیئے۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“یہ کیا کر رہے تھے تم؟؟ ۔۔۔۔ روہینہ اور تم بہن بھائی ہو احتشام ۔۔۔ تم ایسے اسکی جان کیسے لے سکتے ہو؟؟”۔ احتشام کے ہاتھوں سے ریوالور پکڑتے واجد نے سرد مہری سے کام لیا۔
“کیا مجھے آپکو بھی اسکی وضاحت دینی ہو گی؟؟”۔ نم افسردہ آنکھیں واجد کی جانب اٹھاتے احتشام نے کہا۔
“میں جانتا ہوں احتشام تمھارے ساتھ جو کچھ بھی ہوا اسکے بعد تم کسی پہ بھی اعتبار کرنا نہیں چاہو گے مگر تم کوئی معمولی باشندے نہیں اس شہر کے نگہبان اور محافظ ہو تمھارا ہر غلط قدم تمھیں موت کے منہ میں بھی دھکیل سکتا ہے”۔ واجد نے اسے جیسے آگاہ کیا۔
“اتنا کچھ ہونے کے باوجود بھی آپ مجھے موت کا ڈراوا کیسے دے سکتے ہیں پاپا؟؟؟۔۔۔۔۔ مجھے تب ڈر نہیں لگا جب نین تارا کو خود سے دور کیا تھا ۔۔۔۔ مجھے تب ڈر نہیں لگا جب میں نے اس پہ گھناؤنی الزام تراشی کی تھی ۔۔۔۔ مجھے تب ڈر نہیں لگا جب اسکی آنکھوں میں میری وجہ سے آنسو تھے ۔۔۔۔ مجھے تب ڈر نہیں لگا جب میں نے اسے دربدر کیا تھا۔۔۔۔ میں اتنا سنگ دل پہلے تو نہیں تھا پاپا میں بہت خوش تھا اپنی زندگی میں مگر اسنے ۔۔۔۔۔۔ اسنے میرے آشیانے کو جلا کر راکھ کر دیا پاپا”۔ احتشام گھٹنوں کے بل زمین پہ بیٹھتا چلا گیا تھا۔
“تف ہے مجھ پہ جو صحیح غلط کی پہچان نا کر سکا ۔۔۔ کیا ایسے ہوتے ہیں محافظ؟؟ ایسے ہوتے ہیں پیار کرنے والے؟؟”۔ اسکے آنسوؤں نے رخسار کا دامن چھوڑتے اب فرش کا رخ کیا۔ ” مر گئی ہے میرے لیئے یہ ۔۔۔ کوئی بہن نہیں ہے میری”۔ احتشام کے برابر پنجوں کے بل فرش پہ بیٹھتے واجد نے اسکے بائیں شانے پہ ہاتھ رکھا جبکہ ممتاز نے روہینہ کو گلے لگایا جو زار و قطار رو رہی تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“کہاں جاوں میں؟؟ کس کی چوکھٹ پہ؟؟ ۔۔ کس کے دروازے پہ دستک دوں؟؟ کون میری پکار سنے گا؟ ۔۔۔ میری تو کچھ سمجھ نہیں آرہا ۔۔۔ یا اللہ پاک تو ہی میری مدد فرما”۔ اسنے بائیں ہاتھ سے چادر کی مدد سے چہرہ ڈھانپ رکھا تھا اور دائیں ہاتھ میں بیگ پکڑے فٹ پاتھ پہ ہلکے قدم رکھ رہی تھی۔

 

Read More:  Aaqa e Jinnat By Irving Karchmar Translated by Muhammad Monsoor – Episode 1

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: